Haya novel by Fakhra Waheed ep 18

Haya novel by Fakhra Waheed

یہ تھانے کی پرانی مگر کشادہ عمارت تھی۔ابھی حمزہ گاڑی پارک کر کے اندر گیا تھا۔اس کے پیچھے اندر جاؤ تو پہلے ایک بڑا ہال نما کمرہ تھا جس میں تین مختلف جگہوں پر میز اور کرسیاں لگی تھیں۔اس سے آگے حوالات بنی تھیں۔تیسرے نمبر کے کمرے میں اندھیرا تھا اور مدھم بلب جل رہا تھا۔جس کے نیچے دو کرسیاں لگی تھیں۔ایک پر حمزہ ٹانگ پہ ٹانگ جمائے بیٹھا تھاجبکہ دوسری پر ایک آدمی عورتوں کے جوڑے میں ملبوس بیٹھا تھا۔وہ قدرے مضطرب نظر آ رہا تھا۔ اور اس کے پیچھے دو پولیس اہلکار کھڑے تھے۔پھر ایک تیسری کرسی تھی جسے پولیس اہلکاروں کے پیچھے یوں رکھا گیا تھا کہ اس پر بیٹھے شخص شکل واضح نہیں ہو رہی تھی۔
”نام کیا ہے تمہارا؟“حمزہ نے اپنے سامنے بیٹھے آدمی کو بغور دیکھا۔
”بی بی حاجن۔“وہ جھٹ مردانہ آواز میں بولا تو حمزہ کی بھنویں سکڑ آئیں۔
”اپنا اصل نام بتاؤ۔“آدمی خاموش رہا تو حمزہ نے اپنا سوال دوبارہ دہرایا مگر اب کہ اس کا لہجہ سخت تھا۔
”نام بتاؤ اپنا۔“
”حمزہ۔“ آدمی نے لب کھولے مگر حمزہ کے بدلتے تیور دیکھ کر فورا تصیح کی۔ ”صاحب‘یہ ہی میرا نام ہے۔“
”ہم دونوں جانتے ہیں کہ تم مرد ہو تو مردوں والا نام بتاؤ‘ یہ بی بی حاجن وغیرہ چھوڑ دو۔“آدمی کے حلق میں گلٹی ابھری لیکن وہ چپ رہا۔
”اوکے مت بتاؤ۔“ حمزہ اپنی کرسی پر پیچھے کو ہوا اور پیچھے اندھیرے میں بیٹھے شخص کو دیکھا تو جھٹ سے وہاں سے آواز آئی۔
”رشید نام ہے جی اس کا، سب شیدا شیدا کہتے ہیں۔فیصل آباد کا رہنے والا ہے۔ اس کے خاندان میں چار بہنیں ہیں‘اس کے علاوہ ایک بھائی اور اس کے امی ابوہیں۔ہور اس کی ایک بچی ہے۔ بیوی اس کے کرتوتوں کی وجہ سے بیٹی کی پیدائش کے بعد ہی ٹر گئی تھی۔“ وہ ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں اردو بول رہا تھا۔
”یار‘ تم لوگوں کو شرم بھی نہیں آتی؟ تمہا ری ماں نے بیٹا پیدا کیا تھا اور تم یہ خواجہ سرا بن کر گھوم رہے ہو۔ اگر اللہ واقعی تمہیں ان جیسا بنا دیتا تو؟“ حمزہ تلخی سے بولا اورپھر اندھیرے میں سے آواز ابھری۔
”تو صاحب اس کو پتا چلتا ہمارے کیا مسائل ہیں۔ اللہ نے ہمیں نہ مرد بنایاہے‘نہ عورت۔ اور لوگ ہمیں طرح طرح کے ناموں سے بلا کر مذاق اڑاتے ہیں اور باقی ان جیسے نقلی کھسروں نے ہمارا نام خراب کر رکھا ہے۔“ اس کی آواز رند ھ گئی اور حمزہ نے ہونٹ گول کرتے گہرا سانس خارج کیا۔
”بی بی حاجن..نہیں… رشید۔اپنے ہی بندوں کو ڈرگ دینا‘کچھ سمجھ نہیں آتا۔کیوں دیتے ہو ان کو ڈرگ؟“ وہ جاننا چاہتا تھا۔
”ہم تم لوگوں کی طرح نہیں ہیں‘جو اپنے ساتھیوں کو یوں ہی کھلاچھوڑ دیں اور وقت آنے پر وہ ہماری کمر میں چھورا گھونپ دیں۔ہونہہ۔“ اس نے ہاتھ ہوا اٹھا کر نخوت سے نیچے مارا۔اور حمزہ تلخی سے مسکرایا، وہ اب بھی عورتوں کی سی ادائیں دکھا رہا تھا۔
”یہ بتاؤ‘کچھ کو ڈرگ دینا کچھ کو نہ دینا کیا منطق ہے؟“ حمزہ سنجیدہ تھا۔بی بی حاجن جو کہ اب رشید تھی خاموش منہ بناتی رہی۔
”رشید۔“ حمزہ نے دونوں ہاتھ میز پر مارے۔”دوبارہ منہ سے نہیں پوچھوں گا۔“ وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے بولا مگر بی بی حاجن پر کوئی اثر نہیں ہوااور وہ لاپرواہی سے بولی۔
”کر لو جو کرنا ہے۔“ حمزہ نے گھٹنے پر رکھے اپنے ہاتھ کو جنبش دی اور چار مردانہ ہاتھوں نے بی بی حاجن کو بالوں سے پکڑ کر سامنے رکھے پانی میں ڈبویا،سانس بند ہونے سے وہ ہاتھ پاؤں مارنے لگی توحمزہ نے دوبارہ ہاتھ اٹھا کر رک جانے کا حکم دیا۔بی بی حاجن لمبے لمبے سانس لینے لگیں۔
”ان کے….ان کے پاس ہمارے….ہمارے…..راز ہوتے ہیں۔ان کو ڈرگ دیتے ہیں تا کہ اگر وہ بھاگنا بھی چاہیں تو….و..اس ڈرگ کی طلب میں…واپس ہمارے پاس آئیں۔کبھی ہمیں چھوڑ کر نہ جا سکیں۔“ وہ اکھڑتے سانس کے ساتھ طوطے کی طرح بولنے لگا تھا۔
”میرا دل چاہتا ہے تمہارے اندر بھی وہ ڈرگ گھولوں اور اتنی گھولوں کہ تم تڑپ تڑپ کر مر جاؤ۔میں تو یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ تم لوگوں کا دل نہیں کانپتا ایسے کام کر کے۔لیکن نہیں..نہیں۔“ وہ نفی میں گردن ہلاتا ہوا اپنی جگہ سے اٹھا‘گھوم کر حاجن بی بی کے پیچھے گیا۔اور یک دم بی بی حاجن کی آنکھیں پھٹ کر باہر آنے کو ہو گئیں۔باریک سی تار اس مرد نما عورت کی گردن پر تنگ ہوتی جا رہی تھی۔حمزہ پوری قوت سے اسے جکڑے ہوئے تھا۔بی بی حاجن کے منہ سے غوں غاں جیسی آوازیں نکل رہی تھیں۔وہ خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی اور جب اسے لگا کہ روح کا تعلق جسم سے منقطع ہونے والا ہے تو حمزہ نے اس کے ڈھیلے پڑتے جسم کو جھٹکے سے چھوڑا۔وہ توازن برقرار نہیں رکھ سکی اور اوندھے منہ فرش پر گر گئی‘اسکی سانس تھم گئی تھی۔کتنی دیر روح کا تعلق جسم سے بحال ہونے میں لگ گئی۔آنکھیں اٹھا کر حمزہ کو دیکھا جو دوبارہ پوری تمکنت سے اپنی کرسی پر براجمان تھا۔اس کی آنکھیں آگ برسا رہی تھیں پھر وہ نیچے جھکا بی بی حاجن کو گریبان سے پکڑا۔
”ایک جھٹکے میں نہیں ماروں گا‘اپنے بھائی کے برباد ہونے والے ایک ایک لمحے کا حساب لوں گا۔اسی طرح تڑپاؤں گا جیسے وہ تڑپتا ہے۔آسانی سے مرنے نہیں دوں گا۔“ وہ کچھ بول نہیں پائی‘آواز ہی نہیں نکلتی تھی۔اسے دوبارہ نیچے گراتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا۔نیلے بلیزر کو کندھے سے جھاڑا گویا کوئی نا دیدہ سلوٹ ختم کی ہو۔اور لوہے کی سلاخوں کے ایک طرف بنے گیٹ سے باہر نکلا۔ اس کے پیچھے کمرے میں جلتا واحد بلب بجھا اور اندھیرے میں بیٹھا شخص بھی باہر آگیا، جہاں حمزہ اس کا منتظر تھا۔ وہ سولہ سترہ سال کا خواجہ سرا ہی تھا۔ اسے دیکھ کر کہنا مشکل تھا کہ یہ عورت نہیں ہے۔یہ اس کیس میں حمزہ کی خاص مخبری رہی تھی۔ رشید کب اپنے گھر جاتا ہے؟ کیا کرتا ہے؟ کون ہے؟ یہ پتا چلانے کا کام اسے ہی سونپا گیا تھا۔اس کی آنکھوں سے ہی شوخی ٹپک رہی تھی۔
”ہے تو یہ میرے علاقے کا‘پر بڑی انت مچا رکھی تھی اس زنانے نے۔“ وہ نفرت سے بولی،حمزہ نے جوابا سر ہلایا۔
”دھنک‘کیا کرتی ہو تم؟ناچتی وغیرہ؟“ حمزہ کچھ کہتے کہتے چپ ہو گیا۔
”نہیں نہیں حمزہ سر‘… اللہ نے مرد یا عورت نہیں بنایا پر دماغ دیا ہے، ہاتھ دیے ہیں….میں نے دس جماعتیں پڑھی ہیں اور اب میں کوئی ہنر سیکھنا چاہتی ہوں۔“ وہ پر جوش تھی۔
”ہنر سیکھنے کے لیے اسلام آباد بھیجوں [تو جاؤ گی؟“ دھنک نے فورا اثبات میں سر ہلایا۔
”چلو پھر جانے کی تیاری کرو۔“ حمزہ نے حتمی انداز میں کہا اور اس نے خوشی سے اپنا پراندہ پیچھے مارا۔
”حمزہ سر‘ایک بات کہوں؟“ وہ دونوں ایڑھیوں پر اوپر ہوتے ہوئے بولی۔حمزہ اسے سوالیہ نظرں سے دیکھا اور وہ جھٹ بولی۔
”آپ بہت اچھے ہیں، اگر میں لڑکی ہوتی نا تو آپ سے شادی کر لیتی۔“ وہ چھوٹے بچے کی طرح دونوں ہاتھوں کو تالی کے سے انداز میں مارتے ہوئے بولی اور حمزہ بے اختیار ہنسا۔ اس کے ہنسنے پر دھنک شرمندہ ہوئی۔
”خوش رہو۔“ حمزہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور آگے بڑھ گیا اوروہ پیچھے کھڑی مسکراتے ہوئے اسے دیکھتی رہی۔
اب حمزہ کا رخ وہ کمرہ تھا جہاں علی اور فریحہ دانی کے ساتھ اس کے منتظر تھے۔آج دانی کی قسمت کا فیصلہ بھی ہو جانا تھا۔خراماں خراماں چلتا وہ اس عقبی کمرے میں داخل ہوا۔علی اور فریحہ آپس میں باتیں کرنے میں مصروف تھے جب حمزہ کرسی کھینچ کر بیٹھا۔دانی ایک کونے میں بیٹھا خاموش تماشائی بنا ہوا تھا۔علی اور فریحہ حمزہ کو اتنے دن بعد یوں گھومتے پھرتے دیکھ کر خوش ہوئے تھے اور اب اس سے چائے کافی پوچھ رہے تھے۔
”اوہوں‘کچھ بھی نہیں۔بس ذرا گھر میں بور ہو رہا تھا تو ملنے چلا آیا۔“ایک نظر پیچھے بیٹھے دانی پر ڈالتے ہوئے‘وہ کسی بھی خاطر مدارت سے منع کر رہا تھا۔
”اور امید ہے رشید کو موت تک پہنچا کر تیری بوریت دور ہو گئی ہو گی۔“ علی نے طنزاً کہا۔اور حمزہ نے کندھے اچکائے۔
”شیری از ان پین‘آئی کینٹ ہیلپ مائی سیلف‘جوجیسا کرے گا وہ بھرے گا بھی۔“ اور فریحہ نے دفعتاً دانی کو دیکھا۔
”حمزہ‘ ڈاکٹر صباحت بہترین سائیکیٹرسٹ ہیں۔ان کے علاج سے شیری ضرور ٹھیک ہو جائے گا۔تم شیری کو ان سے ملنے کے لیے کنوینس کرو۔“ فریحہ پچھلے کئی دن سے حمزہ کو شیری کے علاج کے لیے ڈاکٹر صباحت کے پاس لے جانے کا مشورہ دے رہی تھی۔مگر شیری تو ڈاکٹر کے ذکر پر ہی پھٹ پڑتا تھا۔
”یار‘ وہ کسی کی نہیں سنتا۔ہی از آؤٹ آف مائی کنٹرول۔“یک دم وہ متفکر نظر آنے لگ گیا تھا۔
”ایسا ہی ہوتا ہے‘نشے کے عادی بچے ڈاکٹر وغیرہ سے یوں ہی بھاگتے ہیں۔تم فکر نہیں کرو‘وہ ٹھیک ہو جائے گا۔“حمزہ نے اثبات میں سر ہلایا اور علی نے موضوع بدلا۔
”خیر تو بتا حیا کیسی ہے؟“ پھر وہ کچھ سوچ کر دوبارہ بولا۔”آ ئی مین ‘حیا بھابھی’ کیسی ہیں؟“ فریحہ نے ہلکا سا قہقہہ لگایا گویا وہ کہانی جانتی ہے اور حمزہ نے گہرا سانس کھینچا اور آگے کو جھکا۔
”وہ بہت بدل گئی ہے۔“ پھر پیچھے کو ہوا دونوں ہاتھ باہم ملا کر سر کے نیچے رکھے۔”اور اس نے بی اماں کی بھی چھٹی کر دی۔“ اس نے دونوں کو باری باری دیکھا اور زور دے کر کہا۔
”پکی چھٹی‘وہ بھی مجھ سے پوچھے بغیر۔“ وہ ناگواری سے بولا علی اور فریحہ گردن پیچھے پھینک کر ہنسے۔
”حمزہ‘تم مانو یا نہ مانو بٹ دس لیڈی از یورز‘ٹرولی یورز۔“ حمزہ نے ناک سے مکھی اڑائی۔”واٹ ایور۔“
یکا یک حمزہ کرسی سے اٹھا اور پٹخنے سے کے انداز میں کرسی دانی کے سامنے رکھی۔وہ حمزہ کے انتظار میں اتنے دن سے یہاں بند تھا۔یہاں پہلے ہی اس کی کافی خاطر مدارت ہو چکی تھی جس کا واضح ثبوت اس کا نچلا ہونٹ تھا جو بری طرح پھٹا ہوا تھا اور بائیں آنکھ کے اوپر بھی زخم کا نشان تھا۔حمزہ اب کرسی پر آگے کو جھکا دونوں ہاتھوں کی انگلیا باہم ملائے ہوئے تھا۔
”کہو اپنی وضاحت میں کچھ۔“ اس کی آنکھیں دانی کے چہرے پر جمی تھیں۔دانی نے تھوک نگلا۔علی اور فریحہ کو دیکھا جو دوبارہ باتوں مین مگن ہو گئے تھے گویا باور کروایا ہو کہ وہ اس سب سے لا تعلق ہیں۔گویانہ کچھ دیکھا‘نہ کچھ سنا۔
”سر میں وضاحت دے سکتا ہوں۔“
”دو۔“اس نے دو ٹوک جواب دیا اورکرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے ٹانگ پر ٹانگ جما لی۔
”انہوں نے میری فیملی کے ذریعے مجھے بلیک میل کیا تھا…میرا بیٹا دو سال کا ہے سر۔“ وہ سانس لینے کو رکا۔
”وہ میرے بچے کو الٹا لٹکا کر نیچے پانی کے ٹینک میں بار بار ڈبوتے تھے۔سر میرا بچہ بس دو سال کا ہے۔وہ اسے مارتے نہیں تھے‘تکلیف دیتے تھے۔اس ذہنی ٹارچر نے مجھے توڑ دیا تھا۔“ اس کی آواز میں درد در آیا تھا۔
”اب کہاں ہے تمہاری فیملی؟“
“میں ان کو پیچھے گاؤں چھوڑ آیا ہوں۔“
”میں مجبور تھا…سر۔“ وہ دوبارہ معذرت کرنے لگا۔حمزہ صدمے اور افسوس سے گردن نفی میں ہلا رہا تھا۔
”تم ایک بار مجھ سے بات کر کے دیکھتے‘میں ان کو کہیں سے ڈھونڈ نکالتا اور زندہ سلامت تم تک لاتا۔“وہ تھوڑا آگے جھکا۔”تم نے اپنی فیملی کے بدلے میری فیملی کو مصیبت میں دھکیل دیا دانی۔“
”تم نے اپنی فیملی کے لیے میرے شیری کا سودا کر دیا۔“اب کہ وہ چیخاتھا۔فریحہ اور علی انجان بنے رہے۔ حمزہ کھڑا ہوا گھوم کر ایک مکہ اس کے منہ پر جڑا۔
”یہ مجھ پر بھروسہ نہ کرنے اور شیری کو مصیبت میں پھنسانے کے لیے۔“ پھر اسنے دانی کو گریبان سے پکڑ کر کھڑا کیا۔
”آئندہ میری فیملی کی حفاظت کرنا‘اور میں وعدہ کرتا ہوں مجھے اپنے خاندان کا محافظ پاؤ گے۔“ وہ اس کے کندھوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کے سلوٹ ٹھیک کر رہا تھا۔
”جانے دو اسے۔“ علی کو اشارہ کرتے ہوئے وہ خود باہر نکل گی۔فریحہ نے ٹھنڈی سانس باہر خارج کی۔
”شیری کی وجہ سے پریشان رہتا ہے۔ایسا کرو اسے کسی دن حیا کے ساتھ گھر پر بلا لو۔“علی کو بھی آئیڈیا پسند آیا تھا۔چلو مل بیٹھنے کا بہانہ ہی سہی!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رات سیاہ ہونے لگی تو حیا کا انتظار بھی بڑھنے لگا۔ابھی وہ لاؤنج میں بیٹھی بے ترتیب چینل بدل رہی تھی اور نظر کبھی کچن ونڈو کے اوپر لگے کلاک پر جاتی اور کبھی دروازے پر۔وہی بیویوں کے چھ بجے کے بعد والا انتظار!
جب وہ بیٹھے بیٹھے تھک گئی تو وہین صوفے پر نیم دراز ہو گئی تھی۔ابھی اسے لیٹے چند ثانیے گزرے تھے کہ دروازے کی چرچراہٹ سنائی دی۔اس نے منہ پر بازو رکھ لیا۔بھاری قدم لاؤنج کی طرف بڑھے۔بند آنکھوں کے ساتھ بھی اسے محسوس ہوا کوئی اس کے سر پر کھڑا ہے۔
”بی اماں کھانا لگا دیں۔“ اس کے پاس سے گزرتا وہ دوسرے صوفہ پر جا کر بیٹھ گیا۔حیا سے کوئی بھی کام ڈائریکٹ کہنے کے بجائے یہ نیا طریقہ اس نے ڈھونڈ نکالا تھا۔
”بی اماں گھر پر نہیں ہیں۔“ وہ منہ سے بازو ہٹائے بغیر بولی۔”تو جو ہے وہ لگا دے۔“وہ فون پر بٹن دباتے ہوئے کہہ رہا تھا۔حیا بادل نخواستہ اٹھی۔
”بی اماں یہ‘ بی اماں وہ۔انتظار میں کرتی ہوں اور…..“ وہ بولتے بولتے چپ ہوئی۔لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔سفید بلیزر اس پر واقعی جچتا تھا۔
”یہ بلیزر تم پر اچھا لگ رہا ہے۔“ وہ چوکڑی مارے صوفے پر بیٹھی تھی اور حمزہ سامنے سنگل صوفہ پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے اب اسے دیکھ رہا تھا۔ ”مس حیا۔“ اور ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ حیا اپنی توہین ہونے دے؟ اس نے فوراً بات اس کے ہونٹوں سے اچک لی تھی۔”کال می مسز۔“ اور وہ سر جھٹک کر دوبارہ گویا ہوا۔مگر اس بار مس،مسز کے تکلف کو چھوڑ دیا۔”میں ہمیشہ اچھا لگتا ہوں۔ان فیکٹ پانچ میں سے تین لڑکیاں تو ضرور مجھے مڑ کر دیکھتی ہیں۔“ وہ پر اسرار مسکراہٹ کے ساتھ بولا اور حیا نے ابرو اٹھائی۔
”دل کے بہلانے کو غالب خیال اچھا ہے۔“ (آیا بڑا پرستان کا شہزادہ۔ہونہہ)
یکا یک حمزہ کو شیری کا خیال آیا۔فون پر جھکا وہ اس کے کمرے کی طرف گیااور پھر ٹھٹھکا‘دروازہ کھلا تھا اور شیری وہاں نہیں تھا۔وہ انہی قدموں واپس لاؤنج میں آیا۔
”شیری کے کمرے کا دروازہ کس نے کھولا ہے؟“وہ حیا سے پوچھ رہا تھا جو کچن سے باؤل لیے باہر آئی تھی۔
”میں نے۔“ سپاٹ سے انداز میں کہتی وہ اب کھانے کی میز پر باؤل رکھ رہی تھی۔
” اگر اس نے خود کو کوئی نقصان پہنچایا یا ڈرگ لی‘ تو مجھے خود بھی نہیں پتا میں تمہارے ساتھ کیا کر بیٹھوں گا۔“ وہ انگلی اٹھائے اسے تنبیہہ کر رہا تھا۔مگر وہ اس کے لہجے کو نظر انداز کیے، سینے پر ہاتھ باندھے، اس کے سامنے آکر کھڑی ہو ئی تھی۔
”حمزہ‘اگر تم اسے یوں کمرے میں بند کرو گے‘اسے محسوس کرواؤ گے کہ وہ کتنا بے بس ہے‘تو بلیو می وہ کبھی اس نشے کے اثر سے باہر نہیں نکلے گا۔تمہارا یہ رویہ اسے احساس دلا رہا ہے کہ وہ کس قدر کمزور ہے خود کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔میرے سامنے جب تم اس پر چلاتے ہو،غصہ کرتے ہو،اسے لگے گا اس کی عزت نہیں ہے اور پتا ہے نشے کے عادی لوگوں میں کیا نہیں ہوتا؟“ وہ چپ رہا تو وہ آگے بولی۔”ان میں عزت نفس نہیں ہوتی۔ ان کی سیلف اسٹیم لو ہوتی ہے۔ان کو لگتا ہے کہ عزت تو ویسے ہماری نہیں ہے تو کیوں ہم اس سکون دینے والی چیز سے دور ہوں؟ حمزہ تمہارے رویے سے وہ اس ڈرگ کے اثر سے تو نہیں نکلے گا بلکہ مزید ڈہنی مریض بن جائے گا۔“ اپنی بات مکمل کر کے وہ دوبارہ کچن میں چلی گئی تھی۔حمزہ کے اعصاب ڈھیلے پڑے اور وہ قدم قدم چلتا سربراہی کرسی پر بیٹھا اور کہنیاں میز پر ٹکا کر سر ہاتھوں میں گرا لیا۔پچھتاوے سر اٹھائے اپنے بلوں سے نکل آئے تھے۔اس کی وجہ سے ہنستا کھیلتا شیری کس عذاب میں پڑ گیا تھا۔اسے شیری کو وہاں بھیجنا ہی نہیں چاہئیے تھا۔تاسف سا تاسف تھا۔پچھتاوا سا پچھتاوا۔
میز پر پلیٹ رکھنے کی آواز سے اس نے سر اٹھایا۔وہ اب اس کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ چکی تھی اور چائینیز رائس پلیٹ میں ڈال رہی تھی۔
”پریشان ہونے کی بات نہیں ہے۔“آج پہلی بار وہ اسے سن رہا تھا،چاہے شیری کے لیے مگر سن تو رہا تھا نا۔تو اس نے بات آگے بڑھائی۔
”بس اسے یوں محسوس کرواؤ جیسے اسے کچھ ہوا ہی نہیں۔اسے حوصلہ دو۔یہ ازل کا غصہ گھر سے باہر چھوڑ کر آیا کرو۔اسے اس کا حمزہ بھائی دو جو اس کی سپورٹ رہا ہے۔“ کھانا سرو ہو چکا تھا مگر حمزہ سر جھکائے اس کی باتوں پر غور کر رہا تھا۔جب وہ کافی دیر یوں ہی بیٹھا رہا تو حیا ہلکے سے کنکھاری۔
”حمزہ سر‘آپ یہ تو نہیں چاہتے کہ میں یعنی حیا حمزہ فیاض بیگ اپنے ہاتھوں سے آپ کو کھانا کھلاؤں؟ اگر ایسا چاہتے ہیں تو سوری میں بہت تھک چکی ہو۔“ اس نے مصنوعی جمائی لی اور ہاتھ منہ کے آگے رکھا۔حمزہ نے ہلکے سے مسکراتے سر اٹھایا اور چھری کانٹا پہ ہاتھ سیٹ کیا۔
”تھینک یو۔“ چاولوں سے بھرا چمچ منہ میں رکھتے وہ ہلکا سا بولا۔اور حیا جی جان سے مسکرائی تھی۔
”سوری؟کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ یعنی کہ مکلم خود حمزہ فیاض بیگ میرے شکر گزار ہیں؟ اور مجھے آئس کریم کھلانے لے جانا چاہتے ہیں؟“ حیا نے اس کے ذرا سے شکریہ کو بڑھا چڑھا کر دہرایا۔اور حمزہ نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔”دل کے بہلانے کو غالب خیال اچھا ہے۔“
حیا گردن پیچھے پھینک کر ہنسی۔اور ہنستی چلی گئی۔حمزہ دوبارہ اپنی پلیٹ پر جھک گیا۔(عجیب)
جب کہ حیا دونوں کہنیاں میز پر ٹکائے،نظریں حمزہ پر جمائے،دل میں اس کے الفاظ دہراتی رہی۔
تھینک یو… تھینک یو!
اور اس تھینک یو کے لیے وہ شیری کی قرض دار ہو گئی تھی۔
……………………
فجر ہوئے چند ساعتیں گزری تھیں اور آہستہ آہستہ کالی چادر آسمان سے سرکنے لگی تھی۔وہ دونوں گھر کے مین گیٹ سے نکل کر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے خالی سڑک پر آگے بڑھ رہے تھے۔حیا سبز،سفید کڑھائی والی قمیص پہنے بالوں کو جوڑے میں باندھے اوپر اسٹالر لپیٹے ہوئے تھی جبکہ شیری نارنجی ڈریس شرٹ کے ساتھ دونوں ہاتھ جیبوں میں اڑیسے اس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔رفتار دونوں کی سست تھی کیوں کہ آج وہ یہاں واک نہیں بلکہ باتیں کرنے آئے تھے۔حیا اسے اپنے گھر،باپ اور بھائیوں کے بارے میں بتا رہی تھی اور بدلے میں وہ اپنی کہانی سنا رہا تھا۔اور اب شیری کی ڈرگ کی عادت زیر بحث تھی۔
”دوائیوں سے کوئی فرق محسوس ہوتا ہے؟“وہ عام سے انداز میں پوچھ رہی تھی‘بالکل ایک دوست کی طرح۔شیری نے کندھے اچکائے۔
”شاید ہاں‘شاید نہیں۔جب بھوک لگتی ہے تو جسم کی ڈرگ کی طلب بڑھ جاتی ہے۔آئی لوز کنٹرول۔“ وہ بے بسی سے بتا رہا تھا۔
”چلو کوئی نہیں‘ ہو جاؤ گے بہتر۔“ وہ اسے تسلی دے رہی تھی۔وہ زخمی سا مسکرایا۔
”حمزہ بھائی تو ناراض ہوں گے۔“
”اونہوں۔“ اس نے نفی میں گردن ہلائی۔”وہ پریشان ہے۔“
”میں کیا کروں بھابھی‘ یہ میرے کنٹرول میں نہیں ہےُُ‘میرے جسم میں سوئیاں چبھنے لگتی ہیں۔میں بے بس ہو جاتا ہوں۔“ وہ واقعی تکلیف میں لگ رہا تھا۔
”اور کیا لگتا ہے؟“ حیا اسے سننا چاہتی تھی تو پوچھتی گئی اور وہ سب بتاتا گیا۔سورج کی کرنیں افق سے نمودار ہونے لگیں،تو وہ واپسی کے لیے مڑ گئے آج اس نئے امتحان کا پہلا دن تھا۔ شیری ہلکا محسوس کر رہا تھا جبکہ حیا کے کندھوں پر بوجھ بڑھ گیا تھا۔اسے شیری کو اس عذاب سے نکالنا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ اپنے کمرے سے ملحق اسٹڈی روم میں بیٹھا علی کی بھیجی فائل،جس میں موجودہ کیس کی تفصیلات تھیں ان کو پڑھ رہا تھا۔جب اس کا فون بجا۔نظریں فائل پر جمائے اس نے ہاتھ بڑھایا اور پھر ایک نظر اسکرین کو دیکھا۔
ثقلین کالنگ۔
”اسلام علیکم ثقلین صاحب۔“ وہ اب ایک بازو میز پر پھیلائے دوسرے سے فون سن رہا تھا۔دوسری طرف سے حال احوال پوچھا گیا تو وہ مسکرا کر بولا۔
”میں بہتر ہوں اور جانتا ہوں آپ نے فون صرف میری خیریت پوچھنے کو نہیں کیا‘ تو مدعے پر آئیں۔“ اس کی مسکراہٹ بر قرار رہی۔
”ٹھیک ہے میں ایک دو دن تک چکر لگاتاہوں۔“
”اوکے‘اسلام علیکم۔“ اس نے فون کان سے ہٹا کر سامنے کیا۔استہزائیہ سر ہلایا اور ایک طرف میز پر ڈال دیا۔
”سمجھتے ہیں پولیس ان کی ملازم ہے۔“ دوبارہ فائل کھولتے وہ ہوئے بڑ بڑایا۔
اب حمزہ کے کمرے میں دیکھو تو حیا بہت سے کاغذ سامنے پھیلائے بیڈ پر بیٹھی تھی۔ہر کاغذ پر ایک الگ کہانی،الگ پوائنٹس نوٹ کیے گئے تھے۔وہ شیری کو اعتماد میں لے رہی تھی۔وہ پین دانتوں میں دبائے مختلف نکات پر غور کر رہی تھی جب کھانے کی ہلکی مہک اسے محسوس ہوئی،حمزہ نے ابھی لنچ کیا تھا اور شیری ویسے ہی کچھ نہیں کھاتا تھا۔وہ متجسس سی بال باندھتے باہر نکلی سیڑھیاں اتر کر کچن کے دروازے تک پہنچی تو خوشگوار حیرت سے شیری کو دیکھا وہ کھانا گرم کر چکا تھا اب پلیٹ میں نکال رہا تھا۔
”تم کھانا کھانے لگے ہو؟“ وہ واقعی حیران ہوئی تھی۔
”جی۔“ خاموش سا وہ سر جھکائے دو پلیٹیں ڈش میں رکھے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔حیا کو چند سیکنڈ لگے اس شاک سے نکلنے میں۔ابھی تو اس نے کاؤنسلنگ شروع بھی نہیں کی تھی۔اور شیری میں بدلاؤ آنے لگا تھا۔سر جھٹکتی، مسکراتی وہ دوبارہ اپنے کمرے کی طرف بڑھی‘ ابھی وہ آخری اسٹیپ پر تھی جب حمزہ کی اسٹڈی کا دروازہ کھلا اور وہ مصروف سا موبائل پر جھکا باہر آیا۔یہ خوشگوار نیوز حمزہ کو دینا ضروری تھی تو وہ رکی۔
”پتا ہے‘ شیری کھانا لے کر کمرے میں گیا ہے۔وہ بدل رہا ہے۔“حمزہ نے سر اٹھایا۔
”اچھی بات ہے۔“ اس نے اپنے کمرے کے دروازے کو اندر دھکیلا اور پھر برق رفتار سے واپس مڑا۔
”کیا کہا؟ شیری کھانا لے کر کمرے میں گیا ہے؟“
”ہاں اور…..“ وہ چہکتی ہوئی آگے بھی بتانا چاہتی تھی مگر حمزہ اس کی بات سنے بغیر نیچے کی طرف بھاگا۔حیا کو سمجھ نہیں آیا وہ خوش ہوا ہے یا پریشان۔
”شیری دروازہ کھولو۔“آج پھر وہ اس کا دروازہ بجا رہا تھا‘اندر سے کوئی جواب نہیں آیا۔
”شیری‘اگر تم نے کچھ لیا۔تو بلیو می دوبارہ کبھی تمہیں میری شکل دیکھنے کو نہیں ملے گی۔شیری…شیری….“ حیا ہکا بکا سیڑھیوں پر کھڑی تھی۔اندر مکمل خاموشی تھی۔
”شیری‘ دروازہ کھولو۔“ اب کہ وہ حلق کے بل چلایا۔دروازہ بند رہا۔تو اس نے دروازے کو اپنے کندھے سے دھکیلنا شروع کر دیا۔حیا اب اس کے پیچھے کھڑی تھی۔
”نہیں نہیں۔“وہ بڑبڑاتا ہوا پیچھے ہٹا۔اور پھر اپنے فون پر کوئی نمبر ملانے لگا، نمبر ملا کر اس نے پھر دروازے پر ہاتھ رکھ کر دھکیلا اور دروازہ کھلتا چلا گیا‘ اندر قدم رکھتے ہی دائیں طرف گردن گھماؤ تو وہاں شیری بیڈ پر اوندھے منہ پڑا تھا۔کھانے کے برتن میز پر پڑے تھے اور وہ خالی تھے۔حمزہ نے شیری کو پیچھے کالر سے پکڑ کر کھینچا،اس کی آنکھوں میں سرخ دھاریاں ابھری ہوئی تھیں۔
”کیوں کیا تم نے یہ شیری؟“ وہ دانتوں کو جکڑے رنج سے بولا تھا۔مگر شیری اس وقت ہوش میں نہیں تھا۔اس نے ذرا سی آنکھیں کھولیں‘دھندلا سا حمزہ کا سایہ نظر آیا اوراسکی آنکھیں دوبارہ بند ہو گئیں۔حیا دم سادھے دروازے میں کھڑی تھی۔اب حمزہ اس کی جیبیں چیک کر رہا تھا،وہاں کچھ نہیں تھ۔میز،میز کے دراز کہیں کچھ نیا نہیں تھا اور پھر حمزہ نے شیری کو بیڈ کے دوسری طرف دھکیلتے میٹرس اٹھایا نیچے دو سفید پڑیاں تھیں،جن میں سے ایک کھلی پڑی تھی۔اس نے دونوں پیکٹ مٹھی میں بھینچے۔ میٹرس اپنی پوری قوت سے بیڈ پہ مارا، اور قدم اٹھاتا دروازے کی طرف بڑھ گیا۔حیا نے اسے دیکھ کر نظریں جھکا لیں۔وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی شیری یہ کرے گا۔حمزہ اسے دیکھے بغیر ساتھ والے کمرے کی سیڑھیاں اترتا بیسمنٹ میں غائب ہو گیا۔تین لوگوں کو وہ پہلے ہی کھو چکا تھا اور آج شیری نے بھی موت کا رستہ چن لیا تھا۔آج وہ اس دن سے زیادہ نڈھال لگا تھا جب اسے گولیاں لگی تھیں۔بے انتہا تکلیف تھی جو حمزہ کو اپنے سینے میں محسوس ہو رہی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سورج تپ تپ کر اداس پڑنے لگا تو افق کی اوٹ میں منہ چھپانے لگا۔اس حویلی نما گھرکی دیواروں پر بھی اداسی یوں ہی پر پھیلائے بیٹھی تھی۔
سیڑھیاں اترتے بیسمنٹ میں جاؤ تو وہاں حمزہ کانفرنس میز کی سربراہی کرسی پر بیٹھا بال پوائنٹ انگلیوں میں گھماتا،ٹانگ پر ٹانگ جمائے دور کسی غیر مرعی نقطے کو گھور رہا تھا،آنکھیں سرخ تھیں۔چبھن آنکھوں سے لے کر سینے تک سرایت کر چکی تھی۔تکلیف سی تکلیف تھی۔سارے رشتے دیکھتے ہی دیکھتے اس کے ہاتھوں سے نکل گئے تھے۔کیا تھا جو وہ سب کو بچا پاتا۔سارے کاش، اگر اس کے چاروں طرف آ کھڑے ہوئے تھے۔کاش وہ رانیہ کے ان ڈراؤنے خوابوں کو سمجھ پاتا۔کاش وہ اپنی ماں کے اندیشوں کو سمجھ لیتا۔کاش اس دن وہ خود اس گاڑی میں نکلا ہوتا اور ایسا کچھ ہوتا ہی نہ اگر وہ پولیس جوائن ہی نہ کرتا۔اور کاش وہ شیری کو اپنے ساتھ کبھی کام کرواتا ہی نہ،اسے اپنی ٹیم کا حصہ ہی نہ بناتا،اسے اس مشن پر بھیجتا ہی نہ۔وہ ان سب کا مجرم تھا یہ خیال از سر خود تکلیف دہ تھا۔
”میں کیوں ہر بار ایک سی غلطی کرتا ہوں۔“ اس نے کہنیاں میز پر ٹکاتے سر ہاتھوں میں گرا لیا۔
اب زینے چڑھتے حمزہ کے کمرے میں جاؤ تو بیڈ کے دوسری طرف وہ جائے نماز بچھائے بیٹھی تھی۔عصر کی نماز پڑھ کر وہ اب ہاتھوں کو دعا کے لیے اٹھائے ہوئی تھی۔
”اے اللہ‘میں اتنی عقل مند نہیں ہوں کہ اپنا اس دنیا میں بھیجے جانے کا مقصد سمجھ سکوں، پلیز مجھ سے کوئی کام لے لے, ایسا کام جو میری اور مجھ سے جڑے لوگوں کی زندگی بدل لے۔پلیز اللہ جی‘بے شک آپ ہی ہیں جو اندھیرے میں روشنی دکھاتے ہیں۔“اس نے ہاتھ نہ پر پھیرے اور کھڑی ہو گئی‘بیڈ پر بکھرے کاغذ سمیٹے اور زینے اترتی لاؤنج میں آگئی تھی۔
وہاں ویسی ہی ویرانی چھائی تھی‘سر جھٹکتی وہ کچن کی طرف آئی۔فریج سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال کر پانی گلاس میں انڈیلا اور سلیب سے ٹیک لگاتے اپنے اندر اتارا۔ونڈو سے باہر نظر پڑی تو حمزہ کو بیرونی دروازے کی طرف جاتے دیکھا۔پھر ایک نظر شیری کے کمرے پر ڈالی،دروازہ اب بند تھا یا شاید لاک!
گہرا سانس باہر خارج کرتے ہوئے وہ اسٹوو کی طرف مڑی اور رات کے کھانے کی تیاری کرنے لگی۔
اپنے کمرے میں شیری اب بھی بے سدھ پڑا تھا، ڈرگ اس کے جسم میں سرایت کر چکی تھی اور عجیب تسکین تھی جو اس کے رگ و جاں میں اتری ہوئی تھی۔کسی چیز کا ہوش نہیں تھا بس سکون تھا بہت سکون۔مگر موت سے پہلے کا سکون!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پب کی باہر سے خستہ حال نظر آنے والی عمارت سر جھکائے رنگ برنگی دکانوں کے بیچ کھڑی تھی۔اندر وہ ہی مدہوشی کا عالم تھا، لڑکے لڑکیاں نشے میں دھت میزوں اور ڈانس فلور پر اپنی پر سکون دنیا میں مگن تھے۔وہ بھی ایک میز پر ٹانگیں لمبی کیے لیٹنے کے سے انداز میں بیٹھا تھا۔تبھی وہ ہی حسین لڑکی آنکھوں میں گہرا کاجل لگائے اس کے سامنے آ کر بیٹھ گئی۔
”پریشان لگتے ہو۔“ حمزہ کے میز پر دھرے ہاتھ پر اس نے اپنا ہاتھ رکھا۔اور وہ چونکا پھر زخمی سا مسکرایا۔
”ہوں‘سکون نہیں ہے۔سکون کے لیے آیا ہوں۔“ وہ اب سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا۔
”ابھی سکون لے آتے ہیں۔“ لڑکی نے ویٹر کو وی بنا کر دو ڈرنکس لانے کا اشارہ کیا اور خود دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر آگے کو جھکی۔وہ کچھ بول رہی تھی‘مگر حمزہ تو وہیں اٹکا تھا۔وہ دو سفید پڑیاں‘شیری کا مدہوش جسم۔اپنے بھائی کو یوں دیکھنا واقعی تکلیف دہ تھا!
لڑکی نے چٹکی بجائی‘تو وہ ہوش میں آیا۔میز پر کوک جیسا مشروب پڑا تھا۔حمزہ نے سوالیہ نظروں سے لڑکی کو دیکھا جو اپنا گلاس اب ہونٹوں سے لگا رہی تھی۔
”لو‘پر سکون ہو جاؤ گے‘ ہر پریشانی اور غم سے آزاد۔“ وہ مسکرائی۔ہاں ہر پریشانی سے آزادی ہی تو چاہئیے تھی۔حمزہ نے ہاتھ بڑھا کر گلاس تھاما۔اسے سامنے رکھ کر انگلیوں میں گھمانے لگا۔ یکا یک گلاس کے شیشے میں شیری بیڈ پر بے سدھ پڑا نظر آیا۔ پرسکون‘دنیا جہاں سے بے خبر۔وہ کتنی ہی دیر اس گلاس کو دیکھتا رہا اور پھر اس نے آہستہ سے گلاس کو اس کے منہ سے اٹھایا اور میز کی سائڈ پر چھوڑ دیا۔گلاس چکنا چور ہو گیا۔ لڑکی نے گھبرا کر اسے دیکھا جو اب چابیاں جیب میں ڈال کر کھڑا ہو رہا تھا۔لڑکی پھر کچھ کہہ رہی تھی وہ خفا نظر آتی تھی مگر حمزہ نہیں سن رہا تھا۔اس نے دو نوٹ جیب سے نکال کر میز پر رکھے اور باہر کی طرف بڑھا۔اس نے جان لیا تھا۔اسے سکون نہیں شیری چاہئیے تھا اور شاید اسی میں سکون تھا۔
اور سکون کب چیزوں سے بھاگنے میں ملتا ہے؟ یہ ان کے مستقل حل سے ملتا ہے۔غلط کو درست کرنے سے اور تکلیف دہ درست چیزوں کو قبول کرنے سے ملتا ہے!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس کا سن ہوا جسم اب اپنی پہلی سی کیفیت میں لوٹنے لگا تھاحواس بحال ہو رہے تھے۔وہ بیڈ پر اوندھے منہ پڑا تھاجب کسی نے دروازہ کھولا، اس نے کروٹ لی،آنکھوں کو مسلتے ہاتھ ہٹایا۔ دھندلا سا ہیولہ دکھائی دیا۔ وہ آنکھیں مسلتا اٹھ بیٹھا، اور آنکھیں سکیڑ کر دیکھا۔دماغ کو سامنے کھڑے انسان کو پہچاننے میں کچھ وقت لگا۔وہ حیا تھی۔
”سارا دن یہیں پڑے رہنا ہے اب؟ نہا کر فریش ہو جاؤ۔میں تمہارے لیے شیک بنا رہی ہوں۔“ سپاٹ سا کہتی وہ واپس چلی گئی۔ وہ گرتا پڑتا کھڑا ہوا اور سیف سے سیاہ شرٹ اٹھاتا واش روم میں گھس گیا۔پانچ منٹ بعد وہ باہر نکلا تو پہلے سے ترو تازہ محسوس ہوتا تھا۔
وہ باہر لاؤنج میں آیا، نظریں ادھر ادھر کسی کو ڈھونڈ رہی تھیں۔حیا نے گلاس کھانے کی میز پر رکھے تھے اور وہیں اس کا انتظار کر رہی تھی۔حیا کو دیکھ کر وہ سر جھٹکتا اس کے عین سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا اور اب شیک کو گھونٹ گھونٹ پی رہا تھا۔حیا کی نظریں اسی پر جمی تھیں۔اسے یوں اپنی طرف دیکھتے پا کر وہ نظریں چرا گیا۔
”حمزہ تمہیں لے کر بہت پریشان ہے‘شیری وہ بہت پریشان ہے۔“حیا نے ایک ایک لفظ پر زور دیا۔شیری نے سر جھٹکا۔ ”یہ میرے بس میں نہیں ہے اور۔“وہ آگے بھی وضاحت دیتا مگر حیا نے اس کی بات کاٹ دی۔
”کس کے بس میں ہے شیری؟“
”ہاں؟“وہ نا سمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
”میں پوچھ رہی ہوں‘تم کس کے بس میں ہو؟“ شیری خاموش رہا۔ ”کیا یہ ڈرگ تم سے زیادہ طاقت ور ہے؟“ وہ اب بھی خاموش تھامگر جس پر بیتے وہ زیادہ جانتا ہے کہ اس ڈرگ کی طلب کتنی تکلیف دہ ہے۔وہ اٹھ کر دوبارہ کمرے میں چلا گیا تھا۔
حیا کچھ دیر یوں ہی بیٹھی رہی۔پھر عشاء پڑھنے کمرے میں چلی گئی۔نماز پڑھ کر وہ کچن میں آئی اور رات کے کھانے کی تیاری کرنے لگی۔کھانا بن چکا تو وہ دوبارہ کمرے میں چلی گئی۔
نیچے بیسمنٹ میں جاؤ تو اب وہاں حمزہ،علی،سمایا اور شیروان موجود تھے۔عنایا اور زویان ایک کیس کے سلسلے میں شہر سے باہر تھے۔ سمایا ان کو موجودہ کچھ کیسز کے بارے میں بریف کر رہی تھی۔سمایا کی آواز کے باوجود وہاں عجیب سی خاموشی تھی اور پھر اس خاموشی کو شور نے توڑا۔ برتنوں کے شور نے۔ سیکنڈ کے دسویں حصے میں وہ پہچان سکتے تھے یہ شور کیسا ہے۔حمزہ فوراً زینے چڑھتا لاؤنج میں گیا اس کے پیچھے باقی لوگ بھی وہاں آ گئے۔حیا ابھی کمرے سے نکلی تھی اور اب سیڑھیاں اتر کر کچن مین ان سب کے پیچھے پہنچی۔منظر واضح تھا۔پورا کچن بکھرا پڑا تھا۔حمزہ دونوں ہاتھوں سے شیری کو جکڑے ہوا تھا۔پر شیری کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا۔
”وہ پیکٹ کہاں ہیں؟مجھے میرے پیکٹ دیں۔مجھے میرے پیکٹ چاہئیے۔“ وہ کبھی چیخنے لگتا،کبھی بے بسی سے منت کرنے لگتا۔
”شیری بس کر دے یار‘نہ کر یوں۔“ حمزہ اسے قابو کیے ہوئے تھا۔ ”آپ نے ہی لیا ہے وہ۔مجھے یاد ہے آپ آئے تھے‘مجھے میرا پیکٹ واپس چاہئیے۔“ وہ چلایا اور پھر یک دم ڈھیلا پڑھتا حمزہ کی طرف مڑا۔اس کے ہاتھوں کو تھامے وہ بے بسی سے منتیں کر رہا تھا۔”پلیز حمزہ بھائی‘ بس ایک بار….پلیز….میرا جسم ٹوٹ رہا ہے۔پلیز حمزہ بھائی ایک بار۔“ پھر وہ کچن ونڈو کے باہر کھڑی حیا کی طرف مڑا۔ ”بھابھی‘پلیز ان سے کہیں مجھے دے دے‘بس ایک بار۔“حمزہ ایک ہاتھ سے ماتھا پکڑے، آنکھیں سختی سے بند کیے کھڑا تھا۔سب کتنا بدل گیا تھا۔شیری کتنی اذیت میں تھا۔یوں ہی چیختا، منتیں کرتا وہ حمزہ کی طرف واپس مڑا اور حمزہ نے اسے بازؤوں سے تھام لیا۔
”بات سنو شیری‘میری بات سنو۔“
”تم ٹھیک ہو جاؤ گے‘ہم ڈاکٹر کے پاس جائیں گے[تم ٹھیک ہو جاؤ گے۔“ وہ اسے بازؤوں سے ہلاتے ہوئے کہہ رہا تھا۔مگر شیری کب کسی کی سن رہا تھا۔اس کی تکلیف بڑھ رہی تھی۔”نہیں بھائی….مجھے سوئیاں چبھ رہی ہیں۔میرا جسم نڈھال ہو رہا ہے۔بھائی‘ اگر آپ نے مجھے وہ نہیں دیا تو میں مر جاؤں گا۔“ پھر اس نے حمزہ کے ہاتھ اپنے بازؤوں سے جھٹکے۔
”مر جاؤں گا میں‘سنا آپ نے؟ اگر آپ نے مجھے وہ نہیں دیا تو میں مر جاؤں گا۔“ اور تب زناٹے دار تھپڑ شیری کے منہ پر پڑا اور وہ ہل کر رہ گیا۔علی نے آگے بڑھ کر حمزہ کو روکنا چاہا مگر حمزہ نے دور سے ہی ہاتھ اٹھا دیا۔
”بہت ہو گیا اس کا تماشہ‘ایسا بھی کیا ہو گیا جو یہ پاگل ہوا جا رہا ہے۔نشئی بن گیا ہے یہ۔میں نے یہ سب تو نہیں سکھایا تھا اس کو۔“ حیا یک ٹک ان کو دیکھتی رہی۔
”اسے اتنا لحاظ نہیں کہ میں کتنی تکلیف میں ہوں۔“ پھر اس نے انگلی شیری کی طرف اٹھائی۔
”اب اگر میں نے تمہارے منہ سے اس چیز کا نام بھی سنا‘تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔سمجھے تم؟“ آخری دو الفاظ پر وہ دھاڑا اور لمبے ڈگ بھرتا‘زینے پھلانگتا اپنے کمرے میں جا کر دروازہ زور سے بند کر دیا۔
وہ تھپڑ شیری کے منہ پر نہیں وہاں موجود لوگوں کے دلوں تک ضرب لگا کر گیا تھا۔جیسے سب تڑپ اٹھے تھے۔وہ آگے بڑھ کر شیری کو گلے لگانا چاہتے تھے،حوصلہ دینا چاہتے تھے۔ بہت کچھ تھا کہنے کو مگر الفاظ زبان تک نہ آتے تھے۔شیری ان سب کو نظر انداز کرتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔سب عجیب کشمکش میں تھے جب حیا نے ان کو مخاطب کیا۔
”کھانا کھا کر جائیے گا آپ لوگ۔“علی بمشکل مسکرایا۔
”مجھے فریحہ کو تھانے سے پک کرنا ہے‘میں چلتا ہوں۔“ حیا نے اثبات میں سر ہلایا اور اس کو دروازے تک چھوڑ کر آئی۔دروازہ بند کر کے حیا شیروان اور سمایا کی طرف متوجہ ہوئی جو اب تک کچن کے باہر ہی کھڑے تھے۔
”ہم بھی نکلتے ہیں بھابھی۔“وہ اکٹھے باہر آئے تھا۔
”لیکن مجھے تو شیری کے دوستوں سے بات کرنی تھی۔“ وہ سینے پر بازو باندھے ان کو دیکھ رہی تھی اور دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور کچھ کہے بغیر لاؤنج میں پڑے صوفوں پر بیٹھ گئے۔حیا حمزہ کا کھانا اس کے کمرے میں ہی دے آئی تھی،جانتی تھی اب وہ باہر نہیں آئے گا۔سمایا نے میز پر برتن لگائے اور اب وہ تینوں میز پر اس طرح سے بیٹھے تھے کہ ایک طرف حیا بیٹھی تھی اور اس کے سامنے شیروان اور سمایا ایک ساتھ بیٹھے تھے۔کھانے کے بیچ وہ اداھر ادھر کی باتیں کرتے رہے،حمزہ اور شیری کا کمرہ بد ستور بند رہا۔تبھی حیا نے سرسری شیری کا ذکر کیا۔
”تم لوگ اب شیری سے ملنے نہیں آتے۔“ وہ مسکراتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔کچھ سیکنڈ خاموشی رہی پھر شیروان بولا۔
”اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوتی تو ہم اسے ڈسٹرب نہیں کرتے۔“حیا نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔ ”ہوں۔“ سمایا چمچ پلیٹ میں رکھتے ہوئے ہچکچاتے ہوئے بولی۔
”بھابھی‘حمزہ سر…شیری کو ڈاکٹر کے پاس لے کر کیوں نہیں جاتے؟“ حیا نے اپنی پلیٹ چھوڑی دونوں بازو میز پر رکھتے ہاتھ باہم ملائے۔
”پتا ہے سمایا‘ ڈرگ اڈکشن کیوں ہوتی ہے؟“
”ڈرگ استعمال کرنے سے۔“وہ فوراً بولی۔حیا نے نفی میں سر ہلایا۔
”اونہوں‘ اڈکشن پر جو پہلی ریسرچ ہوئی تھی اس کے مطابق اڈکشن نشہ آور چیز کے استعمال سے ہی ہوتی ہے۔ہیروئین ہم سب نے نام سنا ہے۔اس کے 20 دن استعمال سے انسان کا جسم اس کا عادی ہو جاتا لیکن تمہیں پتا ہے جب کسی کی ہڈی ٹوٹتی ہے تو ہسپتال میں ایک دوا ان کو دی جاتی ہے Diamorphine۔پتا ہے یہ کیا ہے؟“ وہ چپ ہوئی اور سمایا جھٹ سے بولی۔”ڈرگ۔“حیا نے اثبات میں سر ہلایا۔کھانا تقریباً کھایا جا چکا تھا۔
”یہ ہیروئین کا دوسرا نام ہے اور یہ ہیروئین بازاروں اور گلیوں میں ملنے والی ہیروئین سے کئی گنا زیادہ پیور اور اسٹرونگ ہوتی ہے۔تو تم کیا کہتے ہو ہسپتال میں مہینوں علاج کے لیے پڑے رہنے والے لوگ اس ہیروئین کے عادی ہو جاتے ہوں گے؟“ اس نے دونوں کو باری باری دیکھا۔پھر پچھلی بات کو وہیں چھوڑا اور آگے بڑھی۔
”ویت نام کی جنگ میں فوجیوں کا ڈر بھگانے‘گھر والوں کی یاد مٹانے اور ان کی ہمت بڑھانے کے لیے انہیں ہیروئین دی جاتی تھی۔لوگ پریشان تھے کہ جب یہ لوگ جنگ سے واپس آئیں گے تو سب ہیروئین کے عادی ہو چکے ہوں گے۔مگر جب جنگ سے واپس آئے تو حیران کن طور پر ان میں سے کوئی بھی اس نشے کا عادی نہیں ہوا تھا بلکہ انہوں نے خوش حال زندگی گزاری۔اسی طرح ہسپتال میں پڑے مریض بھی اس پیور ہیروئین کے مہینوں استعمال کے باوجود اس کے عادی نہیں ہوتی ہے۔پتا ہے کیوں؟ کیونکہ انسان معاشرتی حیوان ہے۔اس کی فطرت ہے کہ یہ لوگوں سے بانڈ بناتا ہے۔یہ لوگ واپس اپنے گھروں کو لوٹ آتے ہیں جہاں ان کی فیملی دوست ان کے منتظر ہوتے ہیں۔اڈکشن کوئی کیمیکل یا پاؤڈر نہیں ہے یہ پنجرہ ہے۔جب تک ہم خوش ہوتے ہیں ہم لوگوں سے بانڈ بناتے ہیں مگر جب ہم زندگی میں کسی وجہ سے ناکام ہو جاتے ہیں،پریشان ہوتے ہیں تو ہم اس پنجرے میں آ جاتے ہیں اور اکیلا انسان پھر دوسری چیزوں کے ساتھ بانڈ بنا لیتا ہے پھر چاہے وہ موبائل ہو،سوشل میڈیا ہو،ناولز ہوں یا کوئی پاؤڈر یا کیمیکل ہو۔ہم ان چیزوں سے بانڈ بنا لیتے ہیں۔ان فیکٹ کچھ لوگ خود کو کٹ لگانے کے عادی ہوتے ہیں کیونکہ ان کا بانڈ بن جاتا ہے۔“ شیروان اور سمایا نے آخری بات پر جھرجھری لی۔حیا نے ان کو متوجہ کیا۔
”لیکن یہ اَن ہیلتھی بانڈ ہیں اور ان اَن ہیلتھی بانڈز کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہیلتھی بانڈ بنائیں۔اڈکشن کیمیکل سے نہیں بلکہ اچھے لوگوں کے آس پاس نہ ہونے کی وجہ سے ہو جاتی ہیں۔اینڈ یو نو 1950 کے بعد لوگوں کے ایورج قریبی دوستوں کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے۔جس وجہ سے ہماری اڈکشنز بڑھتی جا رہی ہیں اور ایک صدی سے ہم جو ڈرگ کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں،یہ جنگ ہی غلط ہے۔ہم نشے کے عادی لوگوں کو سوسائیٹی سے ہی باہر نکال کھڑا کرتے ہیں،ان کو جاب نہیں دیتے،وہ چوریاں کرنے لگ جاتے ہیں‘جیل چلے جاتے ہیں،وہ تو آگے جیل میں ہیں بھئی۔“ وہ خفا سی بولی۔
”ہمیں ایسے لوگوں کے ساتھ بانڈ بنانا ہے اور ریٹ پارک جیسا ماحول دینا ہے۔(ریٹ پارک ایک تجربہ ہے جس میں بہت سے چوہوں کو ایک جگہ بند کر دیا گیا اور وہاں گیندیں‘کھانا اور کھیلنے کے لیے مختلف چیزیں رکھی گئی اور ساتھ ہی نشہ آور اور سادہ پانی کی بوتلیں۔پہلے تجربے کے بر عکس چوہوں نے نشہ آوار پانی بس ایک دو بار ہ پیا۔عادی نہیں ہوئے)
وہ چپ ہوئی۔سمایا اور شیروان شرمندہ تھے۔
”تو شیری کے دوستو! کیا خیال ہے اب؟“ وہ زیر لب مسکراتی رہی۔اور سمایا شرمندہ سی کھڑی ہوئی اور میز کی دوسری طرف آ کر حیا کو گلے سے لگایا۔
”سوری بھابھی‘ہم نے شیری کو اکیلا چھوڑ دیا۔“ حیا کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔اس نے سمایا کو خود سے الگ کیا۔اور شیروان کی طرف متوجہ ہوئی جو کھڑا ہو چکا تھا۔”کل ہم شیری کے ساتھ کہیں باہر چلیں گے اور بالکل بھی اسے احساس نہیں ہونے دیں گے کہ وہ اکیلا ہے۔ان فیکٹ کل سب پرانے دوستوں کا ایک گیٹ ٹو گیدر کرتے ہیں‘کیا خیال ہے سمایا۔“ وہ پرجوش تھا۔سمایا اس کے ساتھ کل کا پلان ڈسکس کرنے لگ گئی اور حیا نے سکھ کا سانس لیا۔ایک مرحلہ سر ہو گیا تھا۔
اور جب تم چاہو اللہ تم سے کوئی کام لے تو وہ ضرور تمہارے دل میں ڈال دیتا ہے تمہارا مقصد اور تم کامیاب ہوتے چلے جاتے ہو۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حویلی نما گھر تاریکی میں ڈوب چکا تھا، دو کمرے جو اس گھر کے باشندوں کے استعمال میں تھے،ان کے دروازے بند تھے۔اس خاموشی میں کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی تھی۔آہٹ حمزہ کے کمرے کی طرف بڑھتی جا رہی تھی۔کوئی دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوا، اس کے قدم حمزہ کی طرف تھے۔وہ سینے کے بل سویا پڑا تھا۔سیاہ ہیولا اس کے اور قریب ہو گیا،سیف کا دروازہ خاموشی سے کھولا،چیزوں کو ٹٹولہ اور ایک نظر مڑ کر سوئے ہوئے حمزہ کو دیکھا۔وہاں مطلوبہ چیز نہیں ملی تو آہستہ سے ہاتھ حمزہ کے پاس پڑے سائیڈ ٹیبل کی طرف بڑھایا۔اوپر والی دراز میں کچھ کاغذ تھے۔مطلوبہ شے یہاں بھی نہیں تھی۔سیاہ ہیولہ جھک کر نچلی درز کو کھولنے کی کوشش کرنے لگا وہ لاکڈ تھی۔وہ پھرتی سے سیف کی طرف مڑا، چابیاں اٹھائی اور دراز کھولنے لگا۔پہلی دو چابیاں دراز میں نہیں لگی اور تیسری اندر ڈالتے ہی دراز کھل گیا۔ایک پر سکون سانس لیا گیا اور مطلوبہ شے کے لیے دراز میں ہاتھ مارا۔سفید پاؤڈر والے پیکٹ اب ہاتھ میں تھے۔دراز کو آرام سے بند کر کے ہیولہ دروازے سے باہر نکلا اور محتاط قدم چلتے کمرے سے دور چلا گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!