Haya novel by Fakhra Waheed ep 20

Haya novel by Fakhra Waheed

بھوربن کی پر شکوہ عمارت اپنی تمام طر رعنائی کے ساتھ کھڑی تھی۔وہیں ڈھلوان کے سبزے پر سمایا اور شیری گھاس پر بیٹھے تھے۔سمایا چوکڑی مارے بیٹھی تھی، جب کہ شیری ایک ٹانگ لمبی کیے اور دوسری کو اپنی سمت موڑے دونوں ہاتھ گھاس پر ٹکائے ہوا تھا۔ ان سے کچھ فاصلے پر عنایا اور زویان تصویریں بنوا رہے تھے جبکہ بے چارا شیروان اکیلا بیٹھا موبائل پر جھکا تھا۔
”شیری‘ اب آگے کیا سوچا ہے تم نے؟“ سمایا گھر سے دور یہاں حیا کا کردار نبھا رہی تھی۔ وہ شیری کو زیادہ سے زیادہ مصروف رکھنے کی کوشش کرتی تھی‘تا کہ اس کا دھیان دوسری چیزوں کی طرف کم جائے۔شیری کو سائیکیٹرسٹ کی ضرورت تھی مگر روزانہ کے مختلف موٹیویشنل لیکچر اس کی ول پاور بڑھاتے جا رہے تھے۔ وہ خود اس زہر سے دور ہوتا جا رہا تھا۔
”کیا کرنا ہے؟ واپس جائیں گے۔ بہت سے کیس ہیں ان کو دیکھیں گے۔“ وہ ایک ہاتھ ہوا میں اٹھاکر بولا۔
”کیرئیر کا بتاؤ؟“ سمایا نے گھاس کو زمین سے کھینچتے ہوئے پوچھا۔تو شیری قدرے حیرت سے سیدھا ہوا۔
”تو میری جان‘یہ کیرئیر نہیں ہے؟“سمایا نے اپنا فون والا ہاتھ اس کے بازو پر مارا۔”یہ چیپ لفظ مجھے مت بولا کرو۔“ اور وہ ہنسا۔”بھئی یہ محبت کا اظہار ہوتا ہے۔“
”ہاں تو اپنی محبت سے ہی کہنا۔“ وہ خفا ہو گئی تھی۔
تبھی شیروان وہاں آگیا اوربیٹھتے ہوئے خفت سے بولا تھا۔
”بندہ گھر پر اکیلا رہ لے‘ پر دو ایسے دوستوں کے ساتھ کبھی ٹرپ پر نہ آئے جن کی بندیاں ہوں۔خوار ہی ہوتا ہے‘کتے مجھے چھوڑ کر خود دفع ہو گئے ہیں۔“ وہ اچھا خاصا تپا ہوا تھا۔
”ویسے ایسی کون سی باتیں ہیں جو کپلز بیٹھ کر کرتے ہیں؟ اور ختم ہی نہیں ہوتی؟“وہ سننے کو ہمہ تنگوش ہوا۔
”بچے نہیں سنتے۔“شیری نے سنجیدہ سا دور آسمان پر دیکھتے ہوئے کہا۔
”بکواس نہیں کرو۔“سمایا ہنسی تھی۔”شیرو‘ایسا کچھ نہیں ہے، میں اور شیری اچھے دوست ہیں بس۔“
”ہاں ہاں‘ سارے کپلز پہلے یہ ہی کہتے ہیں۔“
”بائے دی وے‘یو گائز کین میک آ نائس کپل۔“ شیروان نے دونوں کو باری باری دیکھا اور موبائل پر جھک گیا۔سمایا نے گھور کر شیروان کے جھکے سر کو دیکھا۔
”میں نے یہ فیصلہ حمزہ بھائی پر چھوڑ رکھا ہے۔“وہ دوبارہ دونوں ہاتھ زمین پر ٹکا چکا تھا۔
”اور میں نے تم پر۔“ سمایا نے کہنا چاہا مگر بس مسکرا کر رہ گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دو بجے سے اب سات بجنے کو آئے تھے۔ حیا کمرے سے نہیں نکلی تھی، حمزہ تھانے سے ابھی واپس آیا تھا۔ حیا کچن میں نظر نہیں آئی تو وہ بھی اوپر آگیا۔وہ بیڈ پر منہ پر دوپٹہ لیے پڑی تھی۔حمزہ نے اسے دیکھا، پھر ڈریسنگ کے سامنے جا کر رسٹ واچ اتارنے لگا۔
”فریحہ ملی تھی‘کہہ رہی تھی رات کا کھانا ہم ان کی طرف کھائیں۔“ وہ سیف کھول کر اب شرٹس دیکھ رہا تھا۔
”جاگ رہی ہو؟“وہ پیچھے مڑا۔
”ہم آٹھ بجے تک نکلیں گے۔ تم دیکھ لو کپڑے وغیرہ‘ پھر پہنچنے میں بھی آدھ گھنٹا لگ ہی جائے گا۔“ ایک شرٹ اور جینز نکال کر اس نے بیڈ پر اچھالے‘حیا نہیں ہلی وہ متوحش سا ایک گٹھنابیڈ پر رکھ کر اس پر جھکا۔
”حیا؟“ وہ اس کے چہرے سے دوپٹہ ہٹا کر اس کا بازو ہلا رہا تھا۔حیا نے ڈر کر آنکھیں کھولی۔ مگر حمزہ کا ہاتھ وہیں رک گیا۔
”تمہیں تو بخار ہے۔“ اس کا جسم واقعی تپ رہا تھا۔ حمزہ نے بغور اس کے چہرے کا جائزہ لیا‘ چہرے پر آنسو خشک ہوئے پڑے تھے، اور آنکھیں سرخ متورم تھیں۔
”تم رو رہی تھی؟ مگر کیوں؟“ وہ ابھی بھی ویسے ہی جھکا ہوا تھا۔ حیا بیڈ کا سہارا لے کر اٹھی اور کراؤن سے ٹیک لگا لی۔ حمزہ بد ستور اسے دیکھ رہا تھا۔
”میں ٹھیک ہوں۔“ وہ بمشکل بول پائی، اور حمزہ نے اثبات میں سر ہلایا۔ ”نظرآ رہا ہے۔“ اس نے ڈریسنگ کے دراز میں پڑے فرسٹ ایڈ باکس سے ایک گولی نکال کر حیا کو تھمائی اور پھر سائیڈ ٹیبل پر پڑے جگ سے گلاس میں پانی انڈیلا تھا۔
”تم آرام کرو۔“ حیا نے گولی پانی کے ساتھ اندر اتاری اور گلاس واپس اسے پکڑایا۔
”میں فریحہ سے معذرت کر لوں گا کہ میری کونے میں پڑ کر نہ رونے والی بیوی‘ اب رو رو کر بخار میں تپ رہی ہے۔“ اس نے گلاس حیا کے ہاتھ سے تھاما اور بیڈ سے اترا۔
”آئی بڑی۔“ بخار میں تپتی حیا کے کانوں نے واضح سنا اوراسکے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے۔ (بد تمیز)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ چھوٹا سا چکور کمرہ تھا جو ثقلین مینشن کا ڈرائینگ روم کہلاتا تھا۔ حمزہ ہاتھ صوفے کی پشت پر پھیلائے[ ٹانگ پر ٹانگ دھرے، ٹی شرٹ اور اس پر بلیزر پہنے سامنے بیٹھے ثقلین کی بات سن رہا تھا۔ جو اس سے کسی فائرنگ سے ہونے والے حادثے کا تذکرہ کر رہا تھا۔حمزہ محض مسکرانے اور سر ہلانے پر اکتفا کر رہا تھا۔
”حمزہ‘ تم ہمارے دوست ہو لیکن کھنچے کھنچے رہتے ہو۔“ثقلین نے کباب کی ٹرے حمزہ کی طرف بڑھائی اور حمزہ نے ایک کباب اٹھاتے ہوئے شکریہ کہا۔
”کیا ہے نا ثقلین صاحب‘بندہ سیاست دانوں سے جتنا دور رہے بہتر ہے‘ورنہ یہ اپنے ساتھ آپ کو بھی ڈبو جاتے ہیں۔“ وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا،اور ثقلین نے قہقہہ لگایا۔
”سمارٹ بوائے ہاں۔“
”الحمدللہ۔“ کباب منہ میں رکھتے اس نے خدا کا شکر ادا کیا۔ثقلین نے مونچھوں کو تاؤ دیا۔
”پر یہ نقلی کھسروں کے گروہ کی خبر میں نے تمہیں دی تھی۔“ وہ بد ستور اپنی مونچھ ایک طرف سے گھما رہا تھا۔حمزہ نے چائے کا کپ میز پر رکھا اور دوبارہ ٹانگ پر ٹانگ جمائی۔
”جی اور یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ کرنے کے پیچھے آپ کے کون سے مفاد ہیں…..اور اس گروہ کے پیچھے کون ہے۔۔۔لیکن خیر میں ثبوت کے بغیر کچھ نہیں کہوں گا۔“ وہ اطمینان سے بولا تو ثقلین کی مسکراہٹ اور گہری ہو گئی۔”یہ جو تم ایک قدم آگے رہتے ہو نا یہ ہی تمہاری بات مجھے اچھی لگتی ہے۔“ حمزہ نے سر کو خم دیا۔ ”شکریہ۔“
”اب بتاؤ‘بی بی حاجن کو کب رہا کر رہے ہو؟“ ثقلین نے ایک اور ثابت کباب منہ میں رکھتے ہوئے پوچھا، اور حمزہ کی مسکراہٹ سمٹی۔
”اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔“
”میں فیصلہ کر رہا ہوں اسے چھوڑ دو۔“ثقلین نے کباب کی پلیٹ کی طرف اشارہ کرتے اطمینان سے کہا اور حمزہ کے چہرے پر مسکراہٹ واپس آئی۔
”تو یہ کام تھا جس کے لیے آپ اتنی جلدی مچا رہے تھے؟ مگر افسوس ثقلین صاحب‘اس کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔“ وہ اب مطمئن نظر آنے لگ گیا تھا۔
”اونہوں حمزہ‘مجھے کل صبح وہ آزاد چاہئیے‘ وہ بڑے کام کا بندہ ہے یا بندی ہے۔واٹ ایور۔“ثقلین نے ہوا میں ہاتھ مارا۔
”مجھے وہ کل صبح آزاد چاہئیے۔“ وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے آگے کو جھکا۔حمزہ نے صوفے کی پشت سے ہاتھ ہٹایا اور اسی کے انداز میں آگے جھکا۔
”میں بتا چکا ہوں اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔“
”کس کس کو مارو گے حمزہ؟“ثقلین مسکراتے ہوئے سیدھا ہوا۔حمزہ نے نا سمجھی کے عالم میں اسے دیکھا۔
”مطلب؟“
”مطلب واضح ہے بیٹا‘پہلے اپنی بیوی کو‘ پھر ماں باباور اب یہ تمہارا بھائی۔کس کس کو مارو گے؟“ وہ حمزہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولا،اسکے چہرے پر مسکراہٹ ہنوز بر قرار تھی۔ حمزہ کو لگا جیسے کسی نے اس کے سینے میں برچھی اتار دی ہو۔ وہ یک دم بہت سنجیدہ نظر آنے لگا تھا۔چہرے کا تناؤ بڑھ گیا تھا۔
”آپ مجھے دھمکی دے رہے ہیں؟“
”حقیقت بتا رہا ہوں۔اورتمہاری بیوی بہت معصوم ہے۔“ حمزہ کی انگلیاں صوفے کی پشت میں دھنستی چلی گئی۔ سر درد سے پھٹنے لگاتھا۔
”میں نے کسی کو نہیں مارا۔“ وہ بمشکل بول پایا اور ثقلین نے قہقہہ لگایا۔ ”آف کورس‘تم نے نہیں مارا مگر ذمہ دار تم ہو‘تمہاری فضول کی ضد نے ان کی جان لی۔“ وہ کرختگی سے بولا اور حمزہ کے گلے میں گلٹی ڈوب کر ابھری۔ آج اس نے خود کو قاتل نہیں سمجھا تھا‘نا اس نے خود سے اندازہ لگایا تھا۔ سامنے بیٹھاشخص اپنے ہوش و حواس میں اسے قاتل ہونے کا الزام دے رہا تھا۔ حمزہ نے دو انگلیوں سے کنپٹی کو سہلایا۔ماتھے پر کئی شکنیں بیک وقت ابھری تھیں۔
”ثقلین صاحب۔“ حمزہ اپنی جگہ کھڑا ہوا تھا، مگر اس سے پہلے ہی ثقلین بول پڑا۔
”مجھے بی بی حاجن کل تک باہر چاہئیے‘ورنہ انجام کے ذمہ دار ہمیشہ کی طرح تم خود ہو گے۔“ پھر وہ اپنی قمیص جھاڑتا رعونت سے اس کے سامنے کھڑا ہوا تھا۔
”قاتل۔“ آخری لفظ نے حمزہ کے کانوں میں سیسہ انڈیل دیا تھا۔اس کا خون کھولنے لگا تھا۔اس ایک دل چاہا وہ سب برباد کر دے‘ تہس نہس کر دے‘مگر یہ صحیح جگہ نہیں تھی‘ اسے گھر جانا تھا……ابھی۔ وہ لمبے ڈگ بھرتا باہر کھڑی اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ماضی پھر سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ ایک ایک کر کے اس کا سب کو کھونا‘ اس کا سانس اکھڑ رہا تھا۔ وہ سینے پر ہاتھ رکھے لمبے لمبے سانس لے رہا تھا۔اور اس کے کان بس ایک لفظ پر رک گئے تھے۔
قاتل….قاتل….قاتل!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ظہر میں ابھی وقت تھا۔ اس کی طبیعت سنبھلی ہوئی تھی۔وہ نیچے آئی‘کچن کا چکر لگایا وہاں باہر سے منگوائے کھانے کے ڈبے پڑے تھے۔ایسے ہی ڈبے اس کی میز پر اوپر کمرے میں بھی پڑے تھے جو یقیناً حمزہ اس کے لیے رکھ کر گیا تھا۔وہ اس کا خیال رکھ رہا تھا۔حیا مسکراتی لاؤنج میں آ کر بیٹھ گئی۔
حمزہ کو گیارہ بجے ثقلین کی طرف جانا تھا وہ جانتی تھی۔بھوک کا احساس بڑھنے لگا تو اپنے لیے ٹوسٹ بنانے وہ کچن میں آگئی۔
گھڑی کی سوئیاں آہستہ آہستہ فاصلہ طے کر رہی تھیں۔ بارہ سے ایک، ایک سے دو اور دو سے تین بج گئے تھے۔ حمزہ ابھی تک نہیں آیا تھا۔ ہاں وہ اکثر دیر سے ہی آتا تھا مگر وہ بور ہو رہی تھی تو انٹر کام اٹھا کر کان سے لگایا۔ دوسری طرف جمشید تھا۔
”جی سر۔“ آواز سنے بغیر وہ بولا اور پھر حیا کی آواز سن کر معذرت کرنے لگا۔
”سوری میڈم‘مجھے لگا سر ہیں۔“
”اٹس اوکے‘یہ بتاؤ حمزہ کب سے گیا ہوا ہے؟“ وہ صوفے پر نیم دراز تھی۔
”گیارہ بجے گئے تھے‘مگر بارہ بجے سے پہلے واپس آگئے تھے۔“ وہ سوچتے ہوئے بولا، اور حیا کا منہ حیرت سے کھل گیا۔
”پھر وہ باہر نہیں گیا؟“اسے جیسے تسلی نہیں ہوئی تھی۔
”نہیں۔“
”اوکے…ہاں ہاں سب ٹھیک ہے۔“وہ پریشان ہو گئی تھی۔پہلے شیری کے کمرے میں دیکھا وہ خالی تھا‘ پھر اوپر اسٹڈی روم میں دیکھ کر آئی۔ وہ وہاں بھی نہیں تھا۔
”کمال ہے۔“بڑبڑاتی ہوئی وہ نیچے آئی، اور پھر کسی خیال کے تحت بیسمنٹ کی طرف بڑھی۔ وہ بھی خالی تھا۔مگر وہ اترتی چلی گئی۔وہاں اندھیرا تھا۔ مگر اوپر سے آتی روشنی میں چیزیں صاف دکھ رہی تھیں۔ کانفرنس میز کے دوسری طرف نیچے اسے کسی وجود کا احساس ہوا تو وہ اس طرف چلی گئی۔ وہاں اندھیرے میں کرسی سے ٹیک لگائے،ایک ٹانگ لمبی پھیلائے دوسری کو اندر کو موڑے حمزہ بیٹھا تھا۔وہ اس کے سامنے دوزانو بیٹھ گئی۔
”حمزہ‘یہاں کیوں بیٹھے ہو؟“ وہ اندھیرے میں اس کے چہرے کے تاثرات ٹٹول رہی تھی۔حمزہ نے چونک کر آنکھیں کھولیں اور سر کرسی سے ہٹایا۔
”حیا‘میں قاتل نہیں ہوں۔“ اس کی آواز گیلی محسوس ہوتی تھی۔
”تم ایک بہت اچھے انسان ہو حمزہ‘کس نے کہا تم قاتل ہو؟“وہ کرب سے آگے ہوئی۔
”ثقلین کہتا ہے میں سب کو مار دیتا ہوں۔ میں نے رانیہ،ماں، بابا کو مارا اور اب…“ اس نے کرب سے آنکھیں بند کیں۔
”میں تمہیں بھی مار دوں گا۔“ ہمیشہ اس بات پر توڑ پھوڑ کر دینے والا حمزہ‘آج تکلیف کی انتہا پر بھی ساکت بیٹھا تھا‘اسکے بس ہونٹ ہلتے نظر آتے تھے۔آنکھوں کا کرب نظر آتا تھا۔حیا تڑپ کر تھوڑا اور آگے ہو گئی۔
”حمزہ‘میں تمہیں سننا چاہتی ہوں…..تم بولو…جو تمہارے دل میں ہے بولو پلیز۔“ اس نے بے ساختہ حمزہ کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا تھا۔اس کے ہاتھ بالکل ٹھنڈے تھے۔
”کچھ رہا ہی نہیں بولنے کو۔ رانیہ کو میں نے کھو دیا‘ماں بابا کو میں نے اپنی ضد کے آگے کھو دیا۔وہ نہیں چاہتے تھے میں واپس ڈیوٹی جوائن کروں۔رانیہ مجھے بلاتی رہی‘میرے پاس وقت نہیں تھا۔میرے پاس کسی کے لیے وقت نہیں تھا‘ اور آج ایک لمحے کو ان کو دیکھنے کے لیے میں ترستا ہوں۔“ اس کی آنکھوں میں نمی اتر رہی تھی۔ سینہ‘آنکھیں سب جل رہا تھا۔
”وہ تینوں مجھ سے ناراض ہیں‘ وہ مجھ سے بات نہیں کرتے۔“
”میں نے سب کو مار دیا حیا‘ میں نے سب کو مار دیا۔“ بیسمنٹ کی خاموشی میں اس کی دل سوز چیخ بلند ہوئی۔ اور حیا کو لگا اس کا دل کٹ گیا ہے۔وہ ٹوٹا پڑا تھا‘ بالکل بکھرا ہوا۔ ایک ایک ٹکڑا حیا اس کی آنکھوں میں کرچیوں کی طرح چبھتے دیکھ رہی تھی۔
”حمزہ۔“ حیا نے دونوں ہاتھ اس کے گالوں پر رکھے اور اس کی اپنی آنکھ سے آنسو گرنے لگے تھے۔
”تم نے کچھ نہیں کیا۔سب جھوٹ کہتے ہیں……رانیہ‘ماں‘بابا کو تم پر فخر ہے۔“ حمزہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔حیا نے فوراً تیز تیز گردن اثبات میں ہلائی۔
”ان کو اپنے حمزہ پر فخر ہے۔حمزہ نے اپنی خود غرضی کے پیچھے لاکھوں لوگوں کی جان داؤ پر نہیں لگائی۔“
”نہیں‘ ان کو مجھ سے نفرت ہے۔ سب مجھے ان کا قاتل سمجھتے ہیں۔“ آنسو اس کی آنکھ کے کونوں پر چمکنے لگے تھے۔
”میں نہیں سمجھتی۔“حیا نے پیچھے ہوتے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں دبایا۔حمزہ کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے۔
”ہاں حمزہ‘تم قاتل نہیں ہو۔تمہیں بس گلٹ ہے کہ تم ان کو وقت نہیں دے پائے‘اور گلٹ زہر ہے۔یہ انسان کو اندر سے مار دیتا ہے۔“ حمزہ نے نفی میں سر ہلایا مگر حیا بولتی گئی۔
”تم اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے انکو وقت نہیں دے سکے۔اگر تمہیں یہ گلٹ ہے تو نکل آؤ اس گلٹ سے یار‘ہم سب زندگی میں غلطی کرتے ہیں۔ غلطیوں سے پاک فیصلے خدا کے ہوتے ہیں‘انسانوں کے نہیں۔مگر بہتر وہ ہے جو ان غلطیوں کو تسلیم کر کے تصیح کر لے آئندہ خیال رکھے‘نا کہ اس روگ میں خود کو مار لے۔“
”ہم سب بہت بڑی بڑی غلطیاں کرتے ہیں۔لیکن یا تو مانتے نہیں یا پھر مان کر سوگ میں چلے جاتے ہیں۔ہم ان کو قبول نہیں کرتے‘ان کو صحیح کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔حمزہ معاف کر دو خود کو پلیز۔جو غلطی ہو گئی اب تک اس کے لیے خود کو معاف کر دو۔ تم خود کو معاف نہیں کرو گے تو کوئی نہیں کرے گا۔“
”یہ ہونا تھا۔ جس نے جب مرنا ہے وہ مر جائے گا حمزہ۔ جس کے ساتھ جب بگڑنی ہے بگڑے گی‘ تم کتنے بھی ذہین ہو‘اگرانجینئرنگ تمہاری فیلڈ نہیں ہے تو تم کامیاب نہیں ہو گے‘تم کتنا بھی پیار دو اگر اللہ نے وہ انسان تمہارے لیے نہیں چنا تو وہ کبھی تمہارا نہیں ہو گا۔ پھر بہانہ کچھ بھی بن جائے۔ہم ذمہ دار نہیں ہوتے۔“
”ہم لوگوں کو معاف کرتے ہیں۔ لوگوں سے معافیاں مانگتے ہیں پر خود کو اپنی غلطیوں کے لیے معاف کیوں نہیں کرتے؟ کیوں ان کو روگ بنا کر زندگی عذاب کر لیتے ہیں۔ہم اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا اور خود کو معاف کرنا کب شروع کریں گے؟ تم آج ابھی خود کو اس تکلیف سے نکال لو۔میری جان‘ جو ہوا اس میں تمہاری غلطی نہیں تھی۔اب خود کو معاف کر دو۔“
”اور تم قاتل نہیں ہو۔سمجھے تم؟ تم قاتل نہیں ہو۔“ وہ اسے ہلا رہی تھی اور وہ اثبات میں سر ہلانے لگا۔
”وعدہ کرو خود کو معاف کرو گے؟ دوسروں کی معافی کے لیے پہلے خود اپنی غلطی کو تسلیم کر کے خود کو معاف کرنا ضروری ہے حمزہ۔تم ان کو وقت نہیں دے پائے‘آج اس غلطی کو معاف کر دو۔خود کو معاف کر دو۔ہاں؟“
”ہاں۔“ وہ اتنا ہی کہہ پایا۔حیا اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اپنے ساتھ کا احساس دلاتی رہی۔کتنی دیر وہ ہاتھوں میں ہاتھ لیے بیٹھے رہے۔پھر حیا کو حمزہ کی آواز سنائی دی۔
”کیا تم نے مجھے ‘ میری جان ‘ کہا تھا؟“ اسکی آنکھیں بند تھیں۔حیا نے زبان دانتوں میں دبائی اور مسکراہٹ چھپاتے بولی۔ ”مجھے یاد نہیں۔“ حمزہ نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور اپنی پھیلی ٹانگ سمیٹی۔
”نہیں…میں نے سنا تھا تم نے مجھے ‘ میری جان ‘ کہا تھا۔“ وہ ابرو اٹھائے اسے دیکھ رہا تھا۔
”تم ٹھیک ہو اب؟“حیا نے موضوع بدلنا چاہا اور حمزہ نے اثبات میں سر ہلاتے تیسری بار پوچھا۔ ”کیا تم نے مجھے میری جان کہا تھا؟“ حیا نے اس کے ہاتھ چھوڑ دیے‘اور چوکڑی مار کر اس کے سامنے بیٹھ گئی۔
”ہاں‘کہا تھا اور اب جب میں نے اپنی اتنی انرجی ویسٹ کی ہے بولنے میں،اور تم اچھا بھی محسوس کر رہے ہو تو انعام تو بنتا ہے، سو مسٹر حمزہ مے آئی ہگ یو؟“وہ سر شارتھی۔ اس کے انداز پر حمزہ کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے، اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اسے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔ وہ جی جان سے مسکرائی تھی۔ہاتھ تھاما اور گھٹنوں کے بل کھڑی ہوتی،دونوں بازو اس کے گلے میں ڈال کر اس کے گال سے گال مس کر دیا۔
”میں نہیں کہتا تھا تمہارا نام بے حیا ہونا چاہئیے۔“اس نے سرگوشی کی تھی۔حیا نے سر اس کے کندھے سے اٹھایا اور مصنوعی خفگی سے گھورتے ہوئے دوبارہ اس کے گلے لگ گئی۔اور ہلکی سی سرگوشی کی۔”آئی لو یو۔“
حمزہ نے دونوں بازو اس کے گرد باندھتے اتنی ہی احتیاط سے سرگوشی کی۔
”استغفراللہ۔“ حیا نے ہلکا سا قہقہہ لگایا، اور حمزہ نے اپنی گرفت اور مضبوط کر دی۔
”استغفراللہ۔“ ایک بار پھر آواز سنائی دی۔دونوں نے چونک کر ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر میز کے نیچے سے سیڑھیوں کی طرف دیکھا،آواز وہ پہچان چکے تھے۔حیا حمزہ سے الگ ہو کر کھڑی ہو گئی۔حمزہ نے اپنا ہاتھ ہوا میں اٹھایا تو حیا نے اس کا ہاتھ پکڑا اور وہ بھی کھڑا ہو گیا۔سامنے شیری کھڑا تھا اور ان کو کھڑا ہوتے دیکھتے ہی وہ مڑگیا۔
”میں نے کچھ نہیں دیکھا۔“ اس نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا۔ حیا،حمزہ نے نظروں کا تبادلہ کیا۔
”رک اوئے۔“ حمزہ نے اسے آواز دی، اور وہ واپس مڑے بغیر رک گیا۔اب دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے اس کے پیچھے کھڑے تھے،حیا کے گال گلابی پڑے ہوئے تھے۔
”میں نے نیا پرفیوم لیا تھا‘وہی دکھا رہا تھا کہ کیسا ہے۔“حمزہ نے حیا کی طرف دیکھ کر مسکراہٹ دبائی، اور حیا نے اس کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کر دی۔
”اوہ‘اچھا تو آپ لوگ پرفیوم پرفیوم کھیل رہے تھے۔“ وہ سر ہلاتے ہوئے واپس ان کی طرف مڑا۔
”میں نے بھی مال روڈ سے نیا پرفیوم لیا تھا‘حمزہ بھائی بتائیں کیسا ہے؟“ وہ اپنی شرٹ کندھے سے کھینچ کر آگے ہوا، اور حمزہ نے اسے گلے لگا تے ہوئے ہلکی سی سرگوشی کی۔
”شرم تو نہیں آتی شریف لوگوں کے گھر بغیر اجازت گھستے ہوئے۔“ اس نے شیری کو اپنی پوری قوت سے دبایا اور وہ کراہا۔ حمزہ نے گرفت ڈھیلی کی تو وہ بولا۔
”شریف لوگوں کو چاہئیے باہر کا دروازہ بند کر لیں۔“ حمزہ نے مسکراتے ہوئے اسے خود سے الگ کیا۔
”زبان چلنے لگ گئی ہے۔“ شیری نے سر کو خم دیا۔ ”الحمدللہ۔“
”بھائی سے ہی ملتے رہو گے؟ یا مجھے بھی بتاؤ گے کہ پراگرس کہاں تک پہنچی؟“وہ ان دونوں کی سرگوشیوں سے بے نیاز بولی تو شیری جھٹ بولا۔
”بھابھی‘ مجھے گھر سے بھیج کریہاں پراگرس ہی تو ہوئی ہے۔“ اس نے دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھا کر زمین کی طرف اشارہ کیا، اور حیا نے دوسرے ہاتھ سے حمزہ کا بازو تھاما۔
”استغفراللہ۔“
اور کتنے ماہ بعد اس گھر نے سب کو ایک ساتھ ہنستے ہوئے دیکھا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ صبح پورے پاکستان پر ایک جیسی اتری تھی۔وہی مصروف سڑکیں، وہی سورج، وہی گرمی۔ مگر حمزہ کے گھر میں یہ عام دنوں سے مختلف تھی۔ شیری واک کے لیے گیا ہوا تھا مگر… اکیلا!
حمزہ کے کمرے میں جھانکو تو حمزہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا رسٹ واچ باندھ رہا تھا، اور زرا کی زرا نظر وہ پیچھے بیڈ پر سوئی پڑی حیا کو بھی دیکھ لیتا۔گھڑی باندھ کر وہ بلیزر نکالنے لگا۔ حیا نے کروٹ لی۔ نیم وا آنکھوں سے حمزہ کو دیکھا جو خود میں مگن تھا، اور مسکرا کر دوبارہ آنکھیں بند کر لیں۔
”مس حیا‘اگر آپ جاگ گئی ہیں تو اٹھ کر غریبوں کو ناشتہ کروا دیں [کچھ حساب چکانے جانا ہے۔“وہ حیا کی کھل کر بند ہوتی آنکھیں دیکھ چکا تھا۔
”مسز۔“ اس نے نیند میں تحصیح کی۔
”اوکے مسز حمزہ۔“وہ بیڈ سے اپنا والٹ اٹھانے جھکا اور حیا نے چہک کر آنکھیں کھولیں۔ ان آنکھوں میں حمزہ کے لیے بے انتہا پیار اور احترام تھا۔ تھوڑی دیر وہ یوں ہی جھکا رہا‘پھر اس نے حیا کے گال سے اپنا ہاتھ مس کیا۔
”ناشتہ بنا دو۔“ وہ دوبارہ کھڑا ہوا تو حیا بھی اٹھ بیٹھی۔
”شیری آیا تھا‘تمہیں واک کے لیے بلانے۔“
”اوہ‘پھر وہ نہیں گیا؟“
”گیا ہے…مگر اکیلا۔“ حمزہ نے خود پرپرفیوم چھڑکا۔
”آجاؤ نیچے‘ بھوک لگ رہی ہے۔“ وہ باہر کی طرف بڑھا اور حیا نے اثبات میں سر ہلایا۔تھوڑی دیر بعد وہ نیچے اتری تو حمزہ اور شیری کسی کرکٹ میچ پر تبصرہ کر رہے تھے۔
”تم نے مجھے کیوں نہیں اٹھایا واک کے لیے؟“بالوں کو جوڑے میں باندھتی وہ کچن کی طرف جا رہی تھی۔
”آپ سوئی ہوئی تھیں۔ غالباً آپ نے اپنی صبح دیر تک سوتے رہنے کی عادت نہیں بدلی۔“ وہ کہہ کر دوبارہ حمزہ کی طرف متوجہ ہو گیا اور حیا اس کے طنز پر مسکرائی اور کچن میں غائب ہو گئی۔ اسے حمزہ کے لیے سینڈوچ اور شیری کے لیے پراٹھے، آملیٹ اور کافی بنانی تھی۔ حمزہ اٹھ کر کچن ونڈو پر بازو ٹکائے کھڑا ہو گیا۔وہ کام کرتی رہی‘حمزہ ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا اور یہ تب ہی تھا جب اچانک شیری نے ریموٹ زمین پر پٹخا اورچلانا شروع کر دیا۔ حیا بد حواس سی کچن سے نکلی اور حمزہ پہلے ہی وہاں پہنچ چکا تھا۔شیری اس کے بازوؤں میں مچل رہا تھا۔
”مجھے وہ چاہئیے۔ مجھے دیں وہ ……مجھے وہ چاہئیےَ۔“
”شیری‘کیا ہو گیا ہے؟“ حیا اس کی طرف لپکی تو وہ غرایا۔ ”پیچھے رہیں مجھ سے۔ پہلے مجھے نقلی پاؤڈر دیتی رہی اب میرے بھائی کو بھی مجھ سے چھین لیا۔“وہ ہانپ رہا تھا۔
”شیری۔“ حمزہ نے اسے چپ کروانا چاہا۔ حیا کو سمجھ نہیں آیا یہ کیا ہو رہا ہے۔
”آپ تو رہنے دیں حمزہ بھائی‘مجھے گھر سے نکال کر آپ لوگ اپنی لائف پلان کرنے لگ گئے۔آپ نے اتنا نہیں سوچا میں ٹھیک نہیں ہوں۔“ اس نے صوفے پر رکھے کشن یکے بعد دیگرے زمین پر پٹخے۔ ”مجھے نہیں پتا..مجھے وہ چاہئیے۔“وہ چلایا اور حمزہ نے اسے کالر سے پکڑ کر ایک تھپڑ جڑا۔شیری نے ہاتھ گال پر رکھااور دو بار آنکھیں بند کر کے کھولیں۔
”کیا چاہئیے ہاں؟ بول کیا چاہئیے؟“حمزہ اس کو کالر سے پکڑ کر پوچھ رہا تھا، اور وہ معصومیت سے بولا۔
”مجھے جونئیر حمزہ چاہئیے۔جو مجھے شیری چاچو کہہ کر بلائے۔“ اس کا ہاتھ ابھی بھی گال پر تھا۔حیا نے بے یقینی سے اسے گھورا اور حمزہ کا دل چاہا وہ اسے دو تھپڑ اور لگائے۔
”جان نکل گئی تھی میری۔“ وہ اب دونوں ہاتھ کمر پر رکھے کھڑا تھا۔
”آپ لوگ مجھے اگنور کر رہے تھے۔ یوں نہیں چلے گا۔ اگر یوں ہی کرنا ہے تو مجھے نہیں پتا مجھے بھی میری بیوی چاہئیے۔“ وہ بچے کی طرح کشن گود میں دبائے‘ہاتھوں کا پیالہ بناکر‘ اس پرمنہ دھر کر بیٹھ گیا۔
”سمایا پسند ہے؟“ حمزہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ پھیلاتے پوچھا۔ ”ہاں؟“وہ یکدم بوکھلا گیا تھا۔
”آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں بھائی‘وہ میری دوست ہے بس۔“ وہ بے یقینی کی سی کیفیت میں بولا تو حمزہ نے اس کے کندھے سے ہاتھ ہٹایا۔
”اچھا چلو پھر میں ماسی سے انیقہ کے لیے بات کرتا ہوں۔“حمزہ کھڑا ہونے لگا اور شیری نے جھٹ اس کا ہاتھ پکڑا۔
”سمایا پسند ہے۔“ کچھ دیر پہلے کی ڈرامہ بازی غائب ہو گئی۔حمزہ نے گہرا سانس لیا اور کچن ونڈو سے حیا کو اشارہ کیا۔
حیا نے وہیں سے اس ڈرامے باز کو دیکھا اور سمایا کا نمبر ملایا۔اب وہ فون پر بول رہی تھی۔
”مس سمایا‘کیا آپ میری دیورانی بننا پسند کریں گی؟“
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ دوبارہ اسی بیٹھک میں بیٹھا تھا مگر اب کہ وہ با رعب لگ رہا تھا‘ اسکے چہرے پر اطمینان تھا۔
”ثقلین صاحب‘انسان کتنا معصوم ہے نا۔اسے لگتا ہے کہ وہ ہمارے لیے جال بن رہا ہے‘لیکن اصل میں اللہ ہمارے لیے اس بندے کے زریعے رستہ بنارہا ہوتا ہے۔“ ثقلین کو سمجھ نہیں آئی وہ کیا کہنا چاہتا ہے پر حمزہ کا اشارہ ثقلین کی باتوں کی وجہ سے حیا کے ساتھ اس کے رشتے کی ابتدا کی طرف تھا، ثقلین بے زار نظر آتا تھا۔
”آپ کی حاجن بی بی عرف رشید کا ٹرائل کل شروع ہو جائے گا۔اور ہم کوشش کریں گے کہ معصوم لڑکیوں کے دھندے اور ڈرگ ڈیلنگ کے جرائم‘ قتل وغیرہ ملا کر دو بار پھانسی کی سزا تو ضرور ہو۔“ وہ مسکراتا ہوا کھڑا ہوا۔ثقلین نے کچھ کہنے کو لب کھولے تو حمزہ بولا۔
”اور ہاں میرے پاس آپکی ایک وڈیو ہے۔“ اس نے سوچنے کے انداز میں ناخن سے ابرو کھجائی۔
”غالباً کسی کلب کی وڈیو ہے۔“ وہ خود ہی سر ہلاتے ہوئے بولا۔ثقلین کے منہ پر ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا۔
”میں تمہیں…“وہ اعانت سے انگلی اٹھاتا ہوا آگے بڑھا اور حمزہ نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے۔
”اہاں…اہاں…سوچنا بھی نہیں….اس کی بہت سی کاپیز ہیں جو میں نے اپنے دوستوں، کالیگز،فیملی کو بانٹ دی ہیں اور ہدایت کی ہے کہ اگر مجھے اور میری فیملی کو کچھ ہوا،تو وہ وڈیو میڈیا کو دے دے۔“
”دین یو نو….عزت بھی جائے گی‘منسٹری بھی جائے گی۔ سو سٹے اوے فرام می اینڈ مائی فیملی(تو مجھ سے اور میری فیملی سے دور رہو)۔“
اس نے انگلی اٹھا کر تنبیہہ کی اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔ثقلین نے اپنا ویسٹ کوٹ اتار کر صوفے پرمارا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
باہر رات اتر رہی تھی۔ وہ ابھی تھانے سے آیا تھا اور بالکنی میں زمین پر دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا،جب حیا اسے کافی دینے آئی۔ اس کے ہاتھ سے کپ پکڑتے اس نے حیا کو دیکھا۔ وہ پہلے سے زیادہ تیار لگ رہی تھی۔
”کہیں جا رہی ہو؟“مگ لبوں سے لگاتے اس نے پوچھا اور حیا نے آنکھیں سکیڑی۔”میں نے کہاں جانا ہے؟“
”نہیں میرا مطلب اتنی تیار ہوئی ہوئی ہو۔“ اس نے شانے اچکائے اور حیا کا دل چاہا اس کی کافی میں منہ ڈبو دے۔ (بد تمیز)
”اصل میں نا……میرا ایک عدد شوہر ہے‘ہاں کافی زیادہ کھڑوس ہے پر کیا کروں بیوی ہوں تو اسکے حقوق تو پورے کرنے ہی ہوتے ہیں۔ تو سوچا تھوڑی تیار ہو جاؤں‘ تا کہ جب میرا تھکا ہارا شوپر گھر آئے تو خوبصورت بیوی کو دیکھ کر اس کی ساری تھکن دور ہو جائے۔“ وہ تو شروع ہی ہو گئی تھی اور حمزہ مگ کو دوبارہ لبوں سے لگاکر مسکرایا۔ اور پھر جب مگ ہٹایا تو وہ سنجیدہ تھا۔
”کتنا بولتی ہو تم۔“حیا نے اپنی مٹھیاں بھینچ کر بہت سا غصہ اپنے اندر اتارا۔
”آئی ہیٹ یو۔“ وہ پیر پٹختی کمرے میں چلی گئی تھی۔ حمزہ نے انگلی سے ماتھا کھجایا اور مسکراتے ہوئے ایک طرف پڑا اپنا فون اٹھایا۔فیس بک کھولی اور اسکرول کرنے لگا۔ ایک جگہ اس کا ہاتھ رک گیا تھا۔ آنکھیں بے یقینی سے پھیلی تھیں‘اسکرین پر شیری کا اسٹیٹس تھا۔
”ہیو یو گائز ایور پلیڈ پرفیوم پرفیوم؟ آئی لیرنٹ دس گیم فرام مائی بھائی۔دی گریٹ حمزہ بھائی۔
(کیا آپ لوگوں نے کبھی پرفیوم پرفیوم کھیلا ہے؟ میں نے یہ گیم اپنے بھائی سے سیکھی ہے، حمزہ بھائی سے)“ اور آگے ونک ایموجی تھا۔اور نیچے گیارہ کمنٹس نظر آرہے تھے.۔کافی کا مگ ایک طرف رکھتے اس نے کمنٹ سیکشن کھولا۔ سب سے پہلا کمنٹ انیقہ کا تھا۔
”مجھے یقین نہیں آتا کہ حمزہ بھائی کوئی گیم کھیلتے ہوں گے، وہ تھوڑے بورنگ سے ہیں۔“ آگے بندر نے منہ پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔ حمزہ نے اس پر اینگری ری ایکٹ کیا۔
نیچے شیری نے حمزہ کو مینشن کر رکھا تھا۔ ”حمزہ بھائی انیقہ کچھ کہہ رہی ہے۔“ اور بھی کمنٹس تھے مگر حمزہ نے پوسٹ کا اسکرین شاٹ لیا، اور شیری کو واٹس ایپ کیا۔
”یہ کیا ہے؟“ساتھ ہی اسکرین پر شیری کا جواب ابھرا۔”اسے اسٹیٹس کہتے ہیں حمزہ بھائی۔“ اور حمزہ دوسرے ہاتھ میں مگ اٹھاکر کھڑا ہو گیا تھا۔وہ اب وائس میسج بھیج رہا تھا۔
”ڈلیٹ کرو اسے ابھی۔“
”سوری بھائی‘شیری اپنے الفاظ کبھی واپس نہیں لیتا۔“ ساتھ ونک ایموجی تھا۔
”شیری‘یو ول ریگرٹ دس۔ُُ“حمزہ نے اسے ڈرانا چاہا۔
”بھائی‘ بھابھی کہتی ہیں پچھتاوے ہمیں اندر سے مار دیتے ہیں اس لیے اب میں پچھتاتا نہیں ہوں۔“’ وہ بھی ڈھیٹ بنا ہوا تھا۔
”اوکے سی یو سون میرے بھائی۔“اس نے آخری پیغام بھیجا اور نیٹ آف کر دیا۔
”شیری ول ریگریٹ۔“ حمزہ نے کمرے میں جاتے ہوئے جیسے خود کو یاد کروایاتھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دوپہر کے دو بج رہے تھے۔ حمزہ ابھی ردابہ کو ائیرپورٹ سے پک کر کے لایا تھا۔ حیا نے اس کا دروازے پر ہی استقبال کیا تھا اور اب وہ کچن میں کھڑی کھانے کا انتظام کر رہی تھی حمزہ نے ا سے اچانک بلوایا تھا، اور وہ اب تک شیری کی شادی کی خبر سے لا علم تھی۔ جوس کا گلاس ختم کرتے ہوئے وہ حمزہ کی طرف مڑی۔
”ہاں بھئی اب بتاؤ‘ اتنی ایمرجنسی میں کیوں بلوایا مجھے؟“ پھر ردابہ نے کچن ونڈو سے حیا کو دیکھا جس کا رخ اسٹوو کی طرف تھا۔
”از دئیر اینی گڈ نیوز؟“وہ چہک کر بولی اور حمزہ نے مصنوعی غصے سے گھورا۔ ”استغفراللہ۔“ ردابہ نے قہقہہ لگایا‘اور حمزہ کے سر پر چپت رسید کی۔
”تنگ مت کرنا اس کو‘ شی از آ نائس لیڈی۔“ حمزہ نے آنکھیں گھمائی۔ ”کم آن ماسی‘آئی ایم آلسو آ گڈ مین۔“ وہ دونوں بازو ردابہ کے گلے کے گرد باندھ کر اس کے کندھے سے سر ٹکا کر بیٹھ گیاتھا۔ حیا نے کچن ونڈو سے ماسی‘بھانجے کا پیار دیکھا تو بے اختیار مسکرا دی۔ ردابہ اب اس کا گال تھپک رہی تھی۔
”بتاؤ پھر کیوں راتوں رات بلوا لیا؟“حمزہ سیدھا ہو گیا اور ردابہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔
”ماسی‘ میں جانتا ہوں آپ مجھ سے بہت پیار کرتی ہیں‘ اور شیری بھی آپکو بہت پیارا ہے۔ تبھی آپ شیری اور انیقہ کا عقد چاہتی تھیں۔“وہ رکا اور ایک نظر ردابہ کے چہرے پر ڈالی جو بغور اسے سن رہی تھی۔
”لیکن ماسی‘ جوڑے تو آسمانوں پر بنتے ہیں نا‘اللہ نے جس کو جس کے لیے لکھا ہے وہ ہی اسے ملے گا۔ جیسے دیکھیں نا اگر کچھ آپکا نہیں ہے تو پوری دنیا زور لگا لے وہ آپ کو نہیں ملے گا اور اگر کچھ آپکا ہے‘تو پوری دنیا آپ سے چھیننا چاہے وہ نہیں چھین سکتی۔ اسی طرح اگر اللہ نے انیقہ کو شیری کے لیے منتخب کیا ہوتا‘تو وہ ہی ہوتا مگر شیری سمایا کو پسند کرتا ہے۔“ وہ لب کاٹتے ہوئے ردابہ کے تاثرات دیکھنے کو رکا۔ وہاں کچھ ایسا نہیں تھاکہ وہ چپ رہتا‘تو آگے بولا۔
”اور میں نے آپکو اس رشتے کے سلسلے میں ہی بلایا ہے۔“وہ اپنے اور ردابہ کے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا، اور ردابہ اس کے جھکے چہرے کو۔
”کیا آپ رسم کے لیے شیری کی امی بن کر وہاں جائیں گی؟“وہ پریشان سا بولا، اور ردابہ نے اس کے گال پر ہاتھ رکھا۔
”کیوں نہیں جاؤں گی؟ میرے بچے ہو تم لوگ میں نہیں جاؤں گی تو کون جائے گا؟“ حمزہ متذبذب سا اسے دیکھنے لگا۔
”آپ اس بات سے خفا ہوئی ہیں؟“ردابہ نے ہاتھ ہٹایا۔
”ماسی کی جان‘ تمہیں کیوں لگتا ہے کہ میں خفا ہوں گی؟“ جان سے حمزہ کو کچھ یاد آیا‘ وہ مسکرانا چاہتا تھا،مگر اس وقت وہ اہم موضوع لے کر بیٹھا تھا تو سر جھٹکا۔
”شیری انیقہ سے شادی نہیں کرنا چاہتا تو آپ کو برا نہیں لگا؟“ اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھااور ردابہ نے گہری سانس اندر کھینچی۔
”حمزہ ایک نرس تھی برونی ویل۔ اس نے اپنی زندگی کے تیس پینتیس سال نرسنگ کی، اس کی ڈیوٹی آئی سی یو میں ہوتی تھی جہاں اس نے اپنے کیرئیر میں بے شمار لوگوں کو مرتے دیکھا۔ اور دیکھا کہ ہر بندہ کوئی نہ کوئی پچھتاوا لے کر مرا ہے۔ اس نے ان پچھتاووں کا بغور جائزہ لیا اور دیکھا کہ سب کہ پچھتاوے تقریباً ایک جیسے ہیں۔ریٹائرمنٹ کے بعد اس نے ایک کتاب لکھی فائیو ریگریٹس آف ڈائنگ (مرنے والوں کے پانچ پچھتاوے)۔ جس میں اس نے ان پچھتاوں کو پانچ کیٹگریز میں تقسیم کیا۔ اور تمہیں پتا ہے مرنے والوں کے پچھتاووں میں سب سے بڑا پچھتاوا کیا تھا؟“وہ رک کر اسے دیکھنے لگی، اور وہ بس سر ہلاتا رہا۔ تو وہ آگے بولی۔
”بچے‘ ان کا پچھتاوا تھا کہ ان کو اپنی زندگی ملی پر وہ اپنی زندگی جی کر نہیں گئے‘بلکہ انہوں نے دوسروں کے مطابق اپنی زندگی گزاری۔ والدین یہ چاہتے ہیں‘رشتے داروں کے مطابق کامیابی انجینیئرنگ میں ہے، دوست کہتے ہین بزنس ٹھیک ہے۔ مطلب وہ دوسروں کو خوش کرتے کرتے خود نا خوش مرے۔“
”میرا بچہ‘ جس کی زندگی ہے اسے اپنے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے۔ تا کہ مرتے وقت جب وہ پیچھے دیکھے تو افسردہ نہ ہو کہ یہ میں کیا کر کے گیا۔بلکہ جب وہ پیچھے مڑ کر دیکھے تو کہے میں دوبارہ بھی اگر پیدا ہوا تو ایسی ہی زندگی گزاروں گا۔ یہ ہی فیلڈ چنوں گا، یہ ہی دوست بناؤں گا اور اسی انسان سے شادی کروں گا۔“
حیا نے کچن سے باہر دیکھا۔ردابہ کے ہاتھ اب بھی حمزہ کے ہاتھ میں تھے اور وہ جانتی تھی کیا باتیں ہو رہی ہیں۔آخر کو رات ہی تو اس نے حمزہ کو ہمت دی تھی کہ وہ ردابہ کو بلا کر سامنے بیٹھ کر بات کرے۔ ردابہ ابھی بھی بول رہی تھی۔
”حمزہ‘جب ہم نے کوئی سوٹ لینا ہوتا ہے تو ہم گھنٹوں لگا کر خریدتے ہیں۔ گھر لاتے ہیں، بچے کو دکھاتے ہیں، اسے پسند نہ آئے تو واپس کر آتے ہیں، یا کہتے ہیں کہ خود ساتھ آیا کرو پھر تمہیں پسند نہیں آتا۔سوٹ تو ایک بار[دو بار یا زیادہ سے زیادہ چند ماہ پہننا ہوتا ہے‘ پر بچے پارٹنر کے ساتھ ساری زندگی گزارنی ہوتی ہے۔اس کے لیے بھی بچے کو آگے کرنا چاہئیے کہ دیکھو تم اس کے ساتھ رہ بھی لو گے یا نہیں۔ لیکنہم اس کو بھی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ اور وہ لوگ بیوقوف ہوتے ہیں جو بچوں کے رشتوں کے پیچھے ناراضگیاں پال لیتے ہیں۔ تمہیں پتا ہے بڑے بوڑھے کہتے ہیں یہ نصیب کی بات ہوتی ہے‘ اس کو وجہ بنا کر اپنوں سے دور ہو جانا حماقت ہے۔اور ماسی کی جان۔“ ردابہ نے اس کا گال چٹکی میں بھرا۔
”میں احمق نہیں ہوں‘ اور نہ میں شیری کو ایسا کوئی پچھتاوا دینا چاہتی ہوں۔“ حمزہ نے سر ہلایا اور دوبارہ بازو ردابہ کی گردن میں ڈال کر اس کے سر سے سر جوڑ دیا۔
”تھینک یو سو مچ ماسی۔ میں بہت پریشان تھا اس بات کو لے کر اینڈ ناؤ آئی ایم ریلیکسڈ۔“ وہ ردابہ کا گال چوم رہا تھا۔
”آئی لو یو۔“ وہ دوبارہ اس کے کندھے تک نیچے کو سرک گیا۔
”آئی لو یو ٹو۔“ حیا نے شیشے کی میز پر ٹرے رکھتے ہوئے کہا۔ حمزہ نے ایک نظر ردابہ کو دیکھا اور پھر حیا کو۔ اور دل میں پورے ایمانی جذبے سے استغفار کہا تھا، اور پھر ردابہ کے کان میں بڑبڑایا۔
”آئی سیڈ دیٹ فار یو۔“ردابہ نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے حیا کو دیکھا۔جو اب ٹرے میں سے پلیٹیں نکال کر رکھ رہی تھی۔
”ویسے حمزہ‘یہ جو تم نے باتیں کی ابھی‘ یہ تمہاری بیوی نے تو تمہیں نہیں سکھائی؟“حیا نے مسکراہٹ دبائی اور حمزہ نے منہ بنایا۔ ”آپ کو لگتا ہے مجھے کچھ نہیں آتا؟“ وہ تو برا ہی مان گیا تھا۔ تبھی شیری بیرونی دروازے سے اندر داخل ہوا، اور ردابہ کو دیکھ کر چونکا۔
”ہیلو بیوٹیفل لیڈی‘واٹ آ پلیزنٹ سر پرائز ہاں۔[‘ وہ ردابہ کے گلے لگا اور ردابہ نے اس کے گال کو چوما۔
”کہاں سے آرہے ہو آوارہ گردیاں کر کے؟“ اب شیری کا کان ان کے ہاتھ میں تھا۔
”ارے ماسی یار‘درد ہو رہا ہے۔“ وہ اپنا کان چھڑوا رہا تھا۔”آپ سب کا صحیح ہے‘جس کا دل کرتا تھپڑ لگا دیتا ہے‘کان کھینچنے لگ جاتے ہے‘مجھے تو لگتا میں سوتیلا ہوں۔“وہ جذباتی تقریر کر کے ردابہ کے دوسرے طرف بیٹھ گیا تھا۔
”سوتیلے تو تم ہو۔“ حمزہ نے ردابہ کے اوپر سے ہاتھ گھما کر اس کے سر پر مارااور شیری نے اس کا ہاتھ پیچھے کیا۔ ردابہ کا حیرت سے منہ کھلاتھا۔”کس نے تھپڑ مارے ہیں تمہیں؟“شیری چپ ہو گیا۔ تو حمزہ موڈ میں سیدھا ہوا حیا دوسرے صوفہ پر بیٹھ گئی۔ ”میں بتاتا ہوں ماسی‘یہ کیا بتائے گا۔“ جواباشیری چلایاتھا۔ ”بھائی نہیں پلیز۔“
”حمزہ بتاؤ مجھے کیا کیا ہے اس نے۔“ ردابہ کو تشویش ہو رہی تھی۔ حمزہ نے دوبارہ منہ کھولا اور شیری چلایا۔
”بھائی‘آپ کو بھابھی کی قسم ہے۔“حمزہ نے اچنبھے سے اسے دیکھا اور حیا مصنوعی خفگی سے بولی۔
”ہاں تم مجھے مروا دو۔“ ردابہ اور شیری ایک ساتھ ہنسے تھے۔تبھی حمزہ کا فون بجا اور فون دیکھتے ہی اسکی رنگت ایک لمحے کو زائل ہوئی تھی،پھر وہ معذرت کرتا کھڑا ہو گیا۔ اس کا رخ اب سیڑھیوں کی طرف تھا۔ ردابہ بھی اٹھ کر کمرے میں چلی گئی۔ شیری نے آگے ہو کر حیا کے پاس سرگوشی کی۔ ”کسی لڑکی کا چکر ہے‘نظر رکھا کریں۔“احتیاط سے کہتا ہوا وہ سیدھا ہوا اور حیا جھٹ بولی تھی۔
”وہ ایسا نہیں ہے۔“
”انہوں نے آپ سے کہا کہ وہ آپ سے پیار کرتے ہیں؟“پھر وہ خودہی بولا۔ ”نہیں کہا ہو گا، آئی نو۔ُُ حیا کے دل میں وسوسے سر اٹھانے لگے مگر وہ شیری کو بھی جانتی تھی یہ لازمی اس کا کوئی پرینک ہی ہو گا۔تو وہ سنجیدگی سے بولی۔ ”تمیز کرو شیری۔“
”اوکے‘مرضی ہے آپکی۔“ شیری نے کندھے اچکائے۔ بھلا حمزہ کیوں کسی لڑکی کے چکر میں پڑھنے لگا؟حد ہے شیری کی بھی۔وہ سر جھٹک کر برتن سمیٹنے لگی۔رات کے کھانے پر اگلے ہفتے منگنی کی رسم کا فیصلہ ہوا تھا،اور حمزہ نے سمایا کے والد کی رضامندی لیتے ہوئے دن فائنل کر دیاتھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!