Haya by Fakhra Waheed ep 21

Haya novel by Fakhra Waheed

سورج کی روشنی بالکنی سے اندر آ رہی تھی۔ وہ کروٹ لینے کو مڑی تو نظر ساتھ پڑے وجود پر پڑی۔ سفید ٹی شرٹ پہنے وہ بے سدھ سویا لگتا تھا۔ وہ کب آیا، کب سویا،حیا کو نہیں پتا تھا۔ حیا کہنیوں پر وزن ڈالتے ہوئے اٹھی، اور اس کے ماتھے پر آئے بالوں کو پیچھے کرنے لگی۔
”یو آر ویری ڈئیرسٹ ٹو می حمزہ۔“ اس کے بالکل پاس سرگوشی کر کے وہ اٹھنے لگی تو وہ بڑبڑایا۔
”میں سوتے ہوئے بھی سن سکتا ہوں۔“ حیا نے اپنے سر پر ہاتھ مارا اور پھر جی کڑا کر کے بولی۔ ”ہاں‘ تو اپنے شوہر سے ہی کہہ رہی ہوں‘روک سکتے ہو؟“وہ اس کے ماتھے پر جھکی۔ حمزہ نے چونک کر آنکھیں کھولیں وہ اب سیدھی ہو رہی تھی اور فاتحانہ نظریں حمزہ کی بھوری آنکھوں سے ملیں۔ لمحے کو دل تھما اور پھر شانے اچکاتی ہوئی کھڑی ہو گئی۔حمزہ نے ماتھے پر ہاتھ رکھتے خفگی سے اسے دیکھا۔
”تم کتنی دیدہ دلیر ہو گئی ہو۔“ اور وہ دروازے کی طرف جاتے ہوئے واپس مڑی تھی۔
”پولیس افسر کی بیوی ہوں‘ڈرتی نہیں ہوں کسی سے۔“ وہ مسکرا رہی تھی اور حمزہ نے ابرو اٹھائی۔ (واہ)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ ایک پانچ منزلہ بلڈنگ تھی۔ جس کے تیسرے فلور کے ایک فلیٹ میں وہ سب بیٹھے تھے۔ ایک صوفے پر ردابہ شیری اور حیا تھے جبکہ ساتھ والے پر حمزہ بیٹھا تھا۔حمزہ نے بلیو جینز پر کمانڈو شرٹ پہن رکھی تھی۔حیا کے ہزار اصرار پر بھی وہ اپنے لیے لایا گیا کرتا شلوار پہن کر نہیں آیا تھا۔ حیا نے گلابی ہلکے کام والے سوٹ پر گلابی دوپٹہ کندھے پر پھیلایا ہوا تھا۔اور بال ویسے ہی ڈھلک کر کمر پر گر رہے تھے۔ سامنے سمایا کے والدین، تین بھائی اور دو پھوپھو بیٹھی تھیں۔بیچ میز پر مٹھائی کی ٹوکریاں، گفٹ باسکٹ وغیرہ پڑے تھے۔
دروازے سے عنایا سمایا کو لے کر نمودار ہوئی، سمایا نے سلور رنگ کا لمبا فراک پہن رکھا تھا اور دوپٹہ نفاست سے سر پر سجا تھا۔پہلے وہ ردابہ سے ملی،اور حیا اپنی جگہ پر کھڑی ہو گئی، سمایا کو گلے لگایا، اور کان میں سرگوشی کی۔
”مبارک پیاری لڑکی۔“سمایا مسکراتے ہوئے اس سے الگ ہوئی تھی اور پھر حمزہ کی طرف سر جھکایا، اور ہونٹ ہلائے۔
”اسلام علیکم سر۔“ اس نے بھی آگے سے اسی طرح سر کو خم دیا تھا۔حیا اپنی جگہ چھوڑ کر ایک طرف ہو گئی اور سمایا کو شیری کے ساتھ بیٹھ دیاگیا تھا۔
صوفے کے پیچھے کھڑے شیروان نے شیری کے کان میں کچھ کہا اور شیری سے ہنسی روکنا مشکل ہو گیا تھا۔حمزہ نے پیچھے سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
”کنٹرول شیری۔”“شیری کے لیے صورتحال واقعی سنجیدہ نہیں تھی۔تو اس نے حمزہ کو نیچے ہونے کا اشارہ کیا، اور آہستہ سے بولا۔
”حمزہ بھائی مجھے بہت ہنسی آ رہی ہے۔“
”زبان دانتوں تلے دباؤ نہیں آئے گی۔“وہ دوبارہ کھڑا ہو گیا تھا۔
پھر شیری ردابہ کے کان میں بولا۔ ”ماسی‘ مجھے واش روم جانا ہے۔“ ردابہ نے اسے گھورا۔”چپ کر کے سیدھے ہو کر بیٹھ جاؤ۔“ شیری نے کچھ کہنا چاہا مگر وہ دوبارہ سمایا کی امی سے بات کرنے لگ گئیں۔ حمزہ جا کر حیا کے پاس پڑی خالی جگہ پر بیٹھ گیا تھا۔ حمزہ کو بیٹھتے دیکھ کر وہ بڑبڑائی تھی۔
”لوگ ایسے موقعوں پر شیروانی یا کرتے شلوار پہنتے ہیں۔ اور یہاں لوگ پتا نہیں کیا بن کر آ گئے ہیں۔“ ٹانگ پر ٹانگ جماتے ہوئے حمزہ نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
”میں یوں بھی اچھا لگ رہا ہوں۔“
”حمزہ!“ وہ افسردہ سی بولی۔ ”ہماری شادی بھی یوں ہوتی نا۔“حمزہ نے گردن سیدھی کر لی اور ایک ہاتھ حیا کی کمر میں ڈالا پھر سامنے دیکھتے ہوئے سر اس کی طرف جھکایا۔حیا نے شاک سے اسے دیکھا۔
”حمزہ سب دیکھ رہے ہیں۔“مگر وہ اتنا پاس ہو گیا کہ حمزہ کا سر اس کے سر کے بالکل قریب ہو گیا۔پھر اس نے سرگوشی کی۔ ”ہم اپنے بچوں کی شادی یوں کر لیں گے۔“حیا کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے، دل کی ایک دھڑکن مس ہوئی، گال گلابی پڑے اور اس نے نظریں گود پر جھکاتے سر اثبات میں ہلایا۔ پھر ہاتھ واپس نکالتے وہ آہستہ سے بولا۔ ”استغفراللہ!“
آواز حیا تک نہیں گئی تھی،وہ سمایا سے بات کر رہی تھی۔ رسم کے لیے ردابہ کھڑی ہو گئی تھی۔شیری نے ایک نظر سمایا کو دیکھا پھر حیا کو۔ حیا اسے ہی دیکھ رہی تھی اور شیری نے فوراً ہاتھ اٹھا کر ہلایا۔اور حمزہ نے وہیں سے اسے گھورا کہ سیدھے ہو کر بیٹھو، اور وہ بادل نا خواستہ منہ بنا کر بیٹھ گیا۔
ردابہ کے ساتھ اب حیا بھی کھڑی ہو گئی تھی۔دونوں نے سرخ دوپٹہ سمایا کے سر پر اڑایا۔پھر حیا نے ایک انگوٹھی شیری کو پکڑائی۔جو اسے سمایا کو پہنانی تھی۔اب شیری کی اپنی سٹی گم ہونے لگ گئی تھی۔ایک تو سب اسے دیکھ رہے تھے،بھئی کیا ہے؟وہی شیری ہوں جس سے ہزار بار مل چکے ہو‘وہ اندر ہی اندر کڑ رہا تھا۔
”ہاتھ آگے کرو بیٹا۔“ ردابہ نے سمایا کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اور سمایا نے تھوڑے توقف سے ہاتھ آگے کر دیا۔اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا، وہ ان سب کو جانتی تھی۔زیادہ وقت حمزہ کے گھر ہی گزارا تھا۔ شیری بہترین دوست تھا مگر یہ شادی کی نروسنیس تھی۔حیا نے اس کا دوسرا ہاتھ پکڑ کر دبایا۔ تا کہ برین ڈسٹریکٹ ہو جائے اور وہ بہتر محسوس کرے۔شیری کو اب پسینہ آ رہا تھا۔ٹشو سے ماتھا تھپکتے وہ حمزہ کو دیکھنے لگا اور حمزہ مزے سے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
”پہناؤ انگوٹھی۔“ ردابہ نے شیری کے بازو کو ہلایا اور وہ بے چارا معصومیت سے ہونٹ نکال کر انکی طرف دیکھنے لگا۔اور پھر سرگوشی کی۔ ”مجھے ڈر لگ رہا ہے۔“تبھی حمزہ اٹھ کر اس کے پیچھے آ چکا تھا اور اب اس کا کندھا ہاتھ سے دبا رہا تھا۔
”شیری‘یہ وہ ہی سمایا ہے میرے بھائی‘تیری بیسٹ فرینڈ۔“ وہ قدرے اونچا بولا اور سب ہنس دیے۔سمایا نے محض سر جھکایا اور شیری نے حمزہ کو گھورتے خفت سے سمایا کا ہاتھ پکڑا۔حیا انگوٹھی پکڑا کر سیدھی ہو گئی تھی۔سمایا کا دل برق رفتاری سے دوڑنے لگا۔ شیری کے اپنے ہاتھوں میں لغزش تھی۔ اور اللہ اللہ کر کے اس نے انگوٹھی سمایا کی انگلی میں تقریباً دھکیلی۔کلک کلک کئی تصویریں زویان نے کیمرہ میں اتاری۔اور سب نے ہاتھ اٹھا کر تالیاں بجائی۔
اب کہ عنایا نے انگوٹھی سمایا کو تھمائی۔سمایا نے پر شکوہ نظروں سے اسے دیکھا۔اپنے بیسٹ فرینڈ کے ساتھ یہ سب بہت آکورڈ لگ رہا تھا۔وہ دونوں پچھلے ایک ہفتے سے ایک دوسرے کو نظر انداز کر رہے تھے۔کم سے کم بات اور کم سے کم سامنا۔
اور اب وہ ایک ساتھ بیٹھے بھی دوسرے لوگوں کی طرف زیادہ متوجہ تھے۔ ”شیری ہاتھ آگے کرو۔“ حمزہ نے اسے پیچھے سے تاکید کی اور شیری نے ہاتھ آگے بڑھایا۔سمایا نے کانپتے ہاتھوں سے انگوٹھی شیری کی انگلی میں پہنائی۔پھر تصویریں بنی اور تالیاں گونجی۔
دعائے خیر کے لیے سب نے ہاتھ اٹھائے اور نئے جوڑے کے لیے دعائیں مانگ کر ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے۔ان دونوں کو تو بس اپنی اپنی دھڑکنیں سنائی دے رہی تھیں، ایک معرکہ تھا جو انہوں نے ابھی سر کیا تھا۔
”بہت مبارک شیری۔“ حمزہ نے سامنے آتے کہا اور شیری نے کھڑے ہو کر حمزہ کو گلے لگایا۔ ”پتا ہی نہیں چلا تم اتنے بڑے ہو گئے ہو۔“ حمزہ نے اسے اپنے بازؤں میں دبایا تھا۔ وہ اداس لگ رہا تھا۔ اور شیری نے اس سے الگ ہوتے ہوئے اسکا گال کو چوما تھا۔ اور حمزہ نے اسے گھورتے ہوئے دوبارہ گلے لگا لیاتھا۔ وہ اس سے الگ ہوا تو سمایا کے بھائی اس سے گلے مل رہے تھے۔ آخر میں شیروان نے اپنے بازو اس کے گرد باندھے۔
”بڑا افسوس ہوا تیری شادی کا سن کر‘اللہ تجھے صبر دے۔“اور شیری نے زور سے اسے دبایا۔“بکواس نہ کر۔“ اور پھر ہنستے ہوئے دونوں الگ ہوئے۔
”ویلکم ٹو دی فیملی سمایا!“ حمزہ نے سمایا کو مبارکباد دی، اور سمایا نے شرماتے ہوئے سر کو خم دیا۔کھانا لگ چکا تھا اور سب اب لاؤنج کی طرف جا رہے تھے۔پیچھے شیری،شیروان،حیا اور سمایا رہ گئے تھے۔تبھی حیا نے شیری کو بلایا جو شیروان کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہا تھا۔
”شیری‘تم بھی سمایا کو مبارکباد دے دو۔“ وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے بولی۔سمایا نے سر اٹھا کر حیا کو پر شکوہ نگاہوں سے دیکھا، اور شیری نے ہاتھ بالوں میں پھیرتے وہیں سے جملہ اچھالا۔
”میں گھر جا کر آرام سے مبارکباد دے دوں گا۔“ اس کے کان سرخ ہو رہے تھے تبھی وہ سمایا کی طرف دیکھے بغیر شیروان کی طرف مڑ گیا۔پھر حیا نے جو خبر دی شیری کرنٹ کھا کر مڑا تھا۔
”کس نے کہا آ پ سے میں جرمنی جا رہا ہوں؟“حیا نے شانے اچکائے۔”اووپس سوری! میرے منہ سے نکل گیا تھا۔“وہ سمایا کے ساتھ باہر نکل گئی تھی۔شیری ان کو جاتے دیکھتا رہا اور پھر سر جھٹک کر خود بھی ان پیچھے باہرآگیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حویلی نما گھر کے لاؤنج میں رونق لگی ہوئی تھی۔سب دوست مل بیٹھے تھے۔ انیقہ اور جنت بھی آگئی تھی ہاں بس سمایا اور عنایا نہیں تھی۔شیری زیر عتاب آیا ہوا تھا۔ وہ اس کا مزاق اڑا رہے تھے۔ ہنس رہے تھے،چھیڑ رہے تھے۔شیری فون ہاتھ میں لیے صوفے کے ایک سرے سے ٹیک لگائے خفگی سے ان کی باتیں سن رہا تھا۔شیروان، انیقہ اور جنت کو منگنی کی تقریب لہک لہک کر سنا رہا تھا۔
”تم لوگوں کو پتا ہے جب شیری‘سمایا کو انگوٹھی پہنا رہا تھا تو اس کے ہاتھ ایسے کانپ رہے تھے۔“ اس نے ہاتھ اٹھا کر دکھایا۔اور وہ دونوں بے ساختہ ہنستی چلی گئیں۔وہ اور بھی بہت کچھ بتا رہا تھا تبھی شیری کی برداشت جواب دے گئی تھی۔ اس نے ٹانگ سے ٹانگ اتاری اور ایک پیر شیروان کے منہ کے آگے کیا۔
”یہ لے مائیک میں بول۔“کچھ دیر خاموشی رہی۔شیری کی بات سمجھنے میں انکو پانچ سیکنڈ لگے اور پھر سب ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو کر ادھر ادھر گرنے لگے تھے۔ شیروان نے غصے سے اس کا پیر پرے دھکیلا۔مگر وہ خود بھی ضبط نہیں کر پایا اور بے اختیار ہنستا چلا گیا۔ ہنس ہنس کے ان کی آنکھوں سے پانی آنے لگ گیا تھا۔
شیری نے انگلی اٹھا کر شیروان کو تنبیہہ کی۔ ”آئندہ باپ سے پنگا مت لینا۔“ اور شیروان نے باپ کو پکڑا زویان اوپر چڑھا‘ اب وہ ان کے نیچے چیخ رہا تھا۔
”جاہلو! نیچے اترو‘ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی۔“ وہ اکیلا تھا مگر برابر لڑ رہا تھا۔تبھی حیا کمرے سے نکل کر سیڑھیاں اترنے لگی اور وہ دونوں اس کے اوپر سے اٹھے۔ شیری اب لمبے لمبے سانس لے رہا تھا۔ حیا اب ان کی طرف آ چکی تھی۔
”جنت تم زرا مسز ہارون کے ساتھ مختلف کاموں کی فہرست تیار کروا دو۔ فریحہ اور علی آ رہے ہیں میں انہیں اٹینڈ کر لوں۔“جنت کھڑی ہو گئی اور حیا کچن میں چلی گئی‘تبھی بیل ہوئی۔شیروان نے دروازہ کھولا۔علی اور فریحہ ہاتھ میں گفٹ لیے اندر آگئے۔
”مبارک بھئی‘ بہت بہت مبارک۔“وہ شیری کی طرف بڑھے اور شیری کھڑا ہو گیا۔علی نے اسے گلے لگایا۔
”تم بھی شہیدوں میں شامل ہونے جا رہے ہو۔“علی نے اس سے الگ ہوتے کہا اور فریحہ نے علی کے بازو پر ہاتھ مارا تو سب ہنس دیے۔
”بھئی گھر والے نظر نہیں آ رہے۔“ فریحہ پیچھے مڑی تو حیا کچن سے نکل رہی تھی۔ اس کے ہاتھ گیلے تھے جن کو وہ دوپٹے سے خشک کر رہی تھی۔
”اسلام علیکم! بہت ناراض ہیں ہم آپ سے۔“ فریحہ کے گال سے گال مس کرتے ہوئے وہ بولی۔ ”آئے کیوں نہیں آپ شیری کی منگنی کی رسم کے لیے؟“ وہ علی کی طرف مڑی۔
”سوری یار‘ہم دونوں علی کی فیملی کی طرف گئے ہوئے تھے۔“ فریحہ نے معذرت کی اور علی نے وعدہ کیا۔
”لیکن شادی میں ہم ضرور شرکت کریں گے۔“معذرت اور وعدہ دونوں قبول ہو گئے تھے۔
لڑکے صوفوں سے اٹھ کر نیچے قالین پر بیٹھ گئے تھے اور اب صوفے پر فریحہ اور علی بیٹھے تھے۔شیروان اب شیری کی منگنی کی داستان ان کو سنا رہا تھا۔اور شیری بار بار خفت سے اسے گھور رہا تھا۔ (کمینہ)
حیا جوس کے دو گلاس ان کو تھماتے خود بھی سنگل صوفہ پر بیٹھ گئی۔علی نے اوپر حیا کے کمرے کو دیکھا۔
”حمزہ نظر نہیں آ رہا۔“ فریحہ سے باتیں کرتی حیا یک دم رکی۔پھر علی کی نظروں کا تعاقب اپنے کمرے کے دروازے تک کیا۔
”آپ کے پاس ہی تو گئے تھے وہ‘کہہ رہے تھے کچھ کام ہے۔“حیا متذبذب سی بولی۔ علی نے چونک کر فریحہ کو دیکھا۔ وہ دونوں تو دو دن سے حمزہ سے نہیں ملے تھے۔شیری نے بھی چونک کر گردن موڑی۔حیا کو یوں خود کی طرف دیکھتے پا کرعلی سنبھلا۔
”ارے ہاں‘ بھول گیا میں……آیا تھا وہ۔“ علی نے انگوٹھے کے ناخن سے کنپٹی مسلی۔ پتا نہیں کیا کرتا پھرتا ہے۔وہ اب خود سے بڑ بڑا رہا تھا۔
حیا نے قالین پر بیٹھے شیری کو دیکھا جو اب اسے ہی دیکھ رہا تھا۔(میں نہیں کہتا تھا نظر رکھیں؟)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صبح کے چار بج رہے تھے۔ پب کی رنگینی عروج پر تھی۔شیشے کے دروازے کو دھکیل کر اندر جاؤ تو،بائیں طرف وہ آخری میز پر اسی لڑکی کے ساتھ بیٹھا تھا۔دونوں کی پشت دروازے کی طرف تھی۔ اب تم آگے چل کر اسی میز پر پڑی سامنے والی کرسی پر بیٹھ جاؤ تو دیکھو گے،کہ لڑکی نے نارنجی ساڑھی باندھ رکھی تھی،آنکھوں میں گہرا کاجل اور ہونٹوں پر گہری نارنجی لپ اسٹک تھی۔حمزہ نے کالی جینز پر گول گلے والی سفید ٹی شرٹ اور سفید بلیزر پہن رکھا تھا۔دو گلاس میز پر پڑے تھے ایک میں پیلا اور دوسرے میں کالا پانی تھا۔یعنی آم کا جوس اور الکوحل!
حمزہ کے آگے ایک چھوٹی سی ڈائری تھی۔ جس کے کھلے ہوئے صفحے پر اس نے کچھ الفاظ گھسیٹ رکھے تھے۔آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں،مگر وہ بیٹھا تھا اور کاغذ پر سر جھکائے‘انگلیوں میں پنسل گھماتے ہوئے لڑکی کو بغور سن رہا تھا۔لڑکی کا ایک ہاتھ اس کے بازو پر دھرا تھا۔اور آنکھیں اس کے چہرے پر جمی تھیں. بولتے بولتے وہ چپ ہو گئی تو حمزہ نے سر اٹھایا۔
”اور؟“ لڑکی نے کندھے اچکائے۔
”بس۔“
”لیکن تم نے ابھی بتایا نہیں کہ وہ شِپ پاکستان سے کب نکلے گی اور کس پورٹ سے۔“ وہ اسے دیکھ رہا تھا جو اب مسکرا رہی تھی۔
”بتاؤں گی‘ وہ بھی بتاؤں گی…..پر آج نہیں۔“ اس نے اپنے ہاتھ کی گرفت اس کے بازو پر بڑھا دی، اور اس کی گردن کی طرف جھکی،ہونٹ سفید شرٹ سے مس ہوئے اور حمزہ نے اسے پیچھے دھکیلا۔
”تمہارا دماغ خراب ہے ارمینہ۔ میں شادی شدہ ہوں۔میری بیوی ہے جو سارا دن ساری رات میرا انتظار کرتی ہے اور میں یہاں‘یہاں تمہارے ساتھ بیٹھا رہتا ہوں۔“ نیند سے بوجھل آنکھوں کی سرخی اور بڑھ گئی تھی۔
”اپنے کام سے بیٹھتے ہو‘اپنے مطلب کے لیے آتے ہو۔“وہ غرائی۔اور حمزہ نے اسے گھور کر دیکھاتھا۔
”مجھے بتاؤ‘وہ شپ کب نکلے گی یہاں سے اور کس پورٹ سے۔“حمزہ نے اس کا ہاتھ اپنے بازو سے جھٹکااور وہ ناگن کی طرح بل کھاتی اٹھی۔
”میں تمہیں مفت میں کیوں اپنے لوگوں کی انفارمیشن دوں؟ کیوں دھوکہ دوں ان کو؟“
”اس کے بدلے میں تمہیں بھاری رقم دوں گا۔“
”پیسے مجھے وہ لوگ بھی دے رہے ہیں جن کو میں تمہارے لیے دھوکہ دے رہی ہوں۔“ وہ دونوں میز ہاتھ پر مارتے ہوئے جھکی اور انگلی حمزہ کی طرف اٹھائی۔
”مجھے اس فیور کے بدلے تم چاہئیے۔“اس کی آنکھوں میں پیار غصہ سب جھل مل کر رہا تھا۔حمزہ کے تنے تاثرات دیکھ کر وہ ٹھنڈی پڑگئی تھی اور دوبارہ کرسی پر بیٹھ کر حمزہ کا بازو پکڑ لیا۔ ” حمزہ‘آئی رئیلی لو یو۔تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں‘تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔“ حمزہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ شادی شدہ ناگن بولے جا رہی تھی۔
”تمہاری بیوی میرے سے زیادہ خوبصورت نہیں ہو گی، اور نہ ہی تمہیں مجھ سے زیادہ پیار کرتی ہو گی۔“ اس نے دونوں ہاتھوں کا پیالہ بنا کر حمزہ کے گالوں پر رکھا۔
”پلیز حمزہ‘مجھے اپنی زندگی میں آنے دو۔پلیز۔“تھوڑی دیر پہلے کاغصہ پھر ہو گیا تھا وہ اب منت کر رہی تھی۔
”تمہاری آواز سننے کو ترستی ہوں میں اور تمہیں دیکھتے ہی ہر غم بھول جاتا ہے۔ میں اپنے شوہر سے طلاق لے لوں گی، اگر نہیں بھی دے گا تو….“ اس نے ایک ہاتھ حمزہ کے بازو سے ہٹا کر ہوا میں مارا۔”تو میں یوں ہی تم سے شادی کر لوں گی۔“وہ اول فول بکے جا رہی تھی۔حمزہ کے جبڑے بھنچ گئے‘زبان دانتوں پر پھرنے لگی تھی۔یکا یک اس نے اپنے منہ پر رکھے ارمینہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
”تم ٹھیک کہتی ہو‘وہ تم سے زیادہ خوبصورت نہیں ہے۔ میں یوں ہی اس کے پیچھے تم جیسی خوبصورت لڑکی کو ٹھکرا رہا تھا۔“ اب وہ اس کے چہرے سے بال ہٹا رہا تھا۔یک دم ارمینہ کا چہرہ خوشی سے لال پڑنے لگا‘آنکھوں میں چمک در آئی تھی۔حمزہ نے جوس کا گلاس اٹھا کر ہونٹوں سے لگایا، اور پھر خالی گلاس میز پر رکھا۔
”ہم شادی کر لیں گے۔پھر چاہے تم اپنے شوہر سے طلاق لو یا نہیں۔“ اس کی آواز میں طنز تھا جو محبت میں اندھی ارمینہ کو نہیں دکھا۔
”آئی وانٹ ٹو میک دس میموریبل۔“اس نے ارمینہ کا ہاتھ تھاما اور اسے ڈانس فلور پر لے آیا۔یہاں رش تھا….میوزک لاؤڈ تھا۔کئی جوڑے بانہوں میں بانہیں ڈالے مگن تھے۔کسی کو کسی کی پرواہ نہیں تھی۔ارمینہ نے اپنے بازو حمزہ کی گردن میں ڈالے اور حمزہ نے اس کی پشت پر اپنے ہاتھ باندھے۔میوزک کی تیز بیٹ سے بے نیاز وہ ہلنے لگے۔حمزہ اس کے سر پر جھکا اور آہستہ سے سرگوشیاں کرنے لگا۔وہ بے یقینی سے اسے دیکھتی‘مسکراتی اور ہنس دیتی۔ چند منٹ یوں ہی گزر گئے۔پھر حمزہ نے آہستہ سے اس کے کان میں کہا۔
”شپ کب نکلے گی؟ کس پورٹ سے اور کہاں جائے گی؟“
ارمینہ نے اسی انداز میں سرگوشی کی۔ ” آج نہیں‘کل بتاؤں گی۔“ اور پھر بازو اس کی گردن سے نکال کر‘سر اس کے سینے پر رکھ دیا۔حمزہ نے ناگواری سے آنکھیں بند کیں، اور اندھیرے میں بیسمنٹ کا منظر ابھرا۔ وہ اس کے گلے لگی ہوئی تھی۔
”آئی لو یو۔“ اور وہ کہہ رہا تھا۔”استغفراللہ۔“ وہ ایک خوبصورت احساس تھا۔سانس تھم گئی تھی۔مگر اس لڑکی کو اپنے ساتھ جڑا دیکھ اسے گھن آ رہی تھی۔شاید وہ رشتہ پیارا تھا کہ اس سے جڑا ہر احساس بھی خوبصورت تھا۔حمزہ نے اسے بازؤں سے پکڑ کر خود سے الگ کیا۔ہونٹوں پر دوبارہ مسکراہٹ تھی۔
”میرے دماغ میں وہ اٹک چکا ہے۔میں چاہتا ہوں‘جب ہم دونوں ساتھ ہوں تو کوئی اور سوچ میرے دماغ میں نہ آئے۔[‘وہ پیار بھرے لہجے میں اس سے مخاطب تھا۔ارمینہ نے بال کان کے پیچھے اڑیستے ہوئے سر ہلایا۔اور اس کے کان کے قریب سر گوشی کی۔
”اس سومواررات دو بجے گوادر سے نکلے گی‘اور نیپال جائے گی۔“ وہ پیچھے ہوئی اور حمزہ نے مصنوعی تشکر سے اسے دیکھا۔اور دونوں ہاتھ ا سکے کندھے پر رکھ دیے۔
”میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔“ ارمینہ تو اس کو سننے کو ہمیشہ ہی بے تاب رہتی تھی۔اس نے فوراً گردن ہلائی۔اور حمزہ اس کے کندھے سے ہوتا کلائی تک آیا۔اور یہ ایک لمحہ تھا کہ اس نے اس کی کلائی مروڑ کر پیچھے کمر سے لگا دی۔وہ کراہی۔حمزہ نے درشت نظریں اس کی نظروں پر جمائی۔
”بتانا چاہتا ہوں کہ میری بیوی چہرے سے تم سے زیادہ خوبصورت چاہے نہ ہو‘لیکن دل اور دماغ دونوں کی خوبصورت ہے۔“ ارمینہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔وہ تو اس سے ابھی پیار بھری باتیں کر رہا تھا۔حمزہ نے ایک اور جھٹکا اس کے بازو کو دیا۔
”اور میں اس سے بہت پیار کرتا ہوں۔ اس دن سے جب اسے دیکھا۔ جب اسے اپنے لیے لڑتے دیکھا، اس کی آنکھوں کی تپش ہی بہت تھی میرے دل کو موم کرنے کے لیے۔“ وہ اس کی گرفت میں مچل رہی تھی،مگر حمزہ کو کوئی پرواہ نہیں تھی۔وہ ناخن تک اس کی کلائی میں دھنساتا جا رہا تھا۔شاید نشان بھی چھوٹ گئے ہوں،شاید سرخ مائع بھی نظر آنے لگ گیا ہو۔اسے پرواہ نہیں تھی۔نہ آنسوؤں کی،نہ زخموں کی۔اور یہ ہی فرق تھا حیا کو تکلیف دینے اور کسی اور کو تکلیف دینے میں۔وہاں پرواہ تھی تبھی گرفت اتنی رہتی کہ نہ نشان رہے نہ زخم آئے۔ارمینہ منمنائی۔
” یہ سب باتیں….دھوکہ دیا تم نے مجھے۔“حمزہ نے دفعتاً ہونٹ ایک طرف کھینچ کر اسے دیکھا۔
”ارمینہ تمہیں لگتا ہے میرے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ میں تمہیں حوالات میں پھینکوا دیتا؟ لیڈی پولیس تمہارا حشر نشر کر دیتی‘ اور تم طوطے کی طرح اپنی زبان کھول دیتی۔ ہے پاور میرے پاس۔ مگر جو کچھ تم نے مجھے اپنے اس پیار میں بتایا،وہ شاید اس طرح نہ بتاتی۔“ وہ مسکرا رہا تھا۔ ارمینہ اندر تک جل گئی تھی۔وہ اسے استعمال کر رہا تھا۔
” مجھے ترس آتا ہے تم جیسی لڑکیوں پر۔ہاں [ تم اچھی تھی پر اپنے لیے لڑی نہیں بلکہ….“ اس نے انگلی اٹھا کر پب میں موجود لوگوں کی طرف اشارہ کیا۔
” ان لوگوں کی طرح بن گئی۔ تم ان کو لڑکیاں دیتی ہو اسمگل کرنے کو…….تم لوگ اندھے ہو چکے ہو اس دنیا کے پیچھے۔“ وہ چپ ہو گیا‘وہ ارمینہ کو استعمال نہیں کرنا چاہتا تھا‘وہ خود ہرٹ تھا۔
”تم سب ایک جیسے ہو۔“وہ خود کو چھڑواتے ہوئے غرائی۔ تو حمزہ نے اس کا ہاتھ جھٹکے سے چھوڑدیا۔
”جو دو وہی لوٹ کر آتا ہے۔اور ہم سب تمہارے جیسے ہیں….دھوکے باز۔“ پھر اس کو وہیں کڑھتا چھوڑ کر‘ وہ لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔وہ آنکھوں میں آنسو لیے اسے باہر جاتے دیکھتی رہی۔
اب تم یہاں سے کئی میل دور حمزہ کے کمرے میں آجاؤ۔وہ ساری رات نہیں سوئی تھی۔کل صبح سے نکلا حمزہ اب تک نہیں آیا تھا۔یہ ا سکا معمول تھا کہ وہ دو تین بجے ہی آتا تھا مگر آج تو رات بھی گزر گئی تھی۔صبح کے سات بج رہے تھے۔دل میں وسوسے سر اٹھا رہے تھے۔شیری کے الفاظ بار بار سنائی دے رہے تھے۔وہ سر جھٹک کر مثبت سوچنے کی کوشش کرتی رہی۔نہیں اسے شک نہیں کرنا تھا۔سر درد سے بھاری ہو رہا تھا۔ وہ کافی لینے نیچے آگئی تھی جب دروازہ کھلا اوروہ سست قدم اٹھاتا اندر داخل ہوا۔وہ تھکا ہوا لگتا تھا، اسے دیکھ کر وہ رکی۔
”کافی بنا دوں؟ یا کھانا لگاؤں؟“ وہ عام سے انداز میں بولی گو کہ آنکھوں سے ساری رات کی بے خوابی عیاں تھی۔وہ اب اس کے روبرو کھڑا تھا۔وہ اس کے تاثرات جاننا چاہ رہی تھی۔ڈھونڈ رہی تھی کوئی تاثر جو کہے کہ وہ کسی لڑکی کے ساتھ نہیں تھا۔وہ اسے دھوکہ نہیں دے رہا۔اور پھر وہ ایک قدم آگے آیا۔ہونٹ اس کے ماتھے پر رکھے۔اور اسے اپنے کندھے سے لگایا،ایک بازو اس کے گرد لپیٹا اور ٹھوڑی اس کے سر پر رکھتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں۔وہ کھڑی رہی،سمجھنے کی کوشش کرتی رہی۔
” تم ٹھیک ہو۔“ مگر وہ چپ رہا۔ ہاں دل کی دھڑکن کا شور تھا جو اسے سنائی دے رہا تھا۔حیا نے ایک بازو اس کے گرد باندھ دیا اور سرگوشی کی۔”سب ٹھیک ہو جائے گا۔“
تھکن‘تکلیف دونوں کے مٹتے گئے۔پھر اس نے حیا کو خود سے الگ کیااور مسکرایا۔ ”پہلے کھانا کھاؤں گا‘پھر کافی۔“حیا کچن کی طرف چلی گئی اور وہ بلیزر اتارکرصوفے پر جا کر نیم دراز ہو گیا تھا۔حیا نے وہیں شیشے کی چھوٹی میز پر کھانا لگایا۔تبھی اس کی نظر حمزہ کی سفید شرٹ پر گئی‘جس کے کندھے پر نارنجی لپ اسٹک کا نشان تھا، اس کے گلے میں گلٹی ابھری۔حمزہ نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا۔ اور اس نشان کو دیکھتے ہی جھٹ ایک ہاتھ اس پر رکھا اور دوسرے ہاتھ کے ناخن سے ابرو کھرچنے لگا۔
”کلر لگ گیا تھا۔“ حیا نے فوراً سر ہلایا۔ ”دوبارہ نہیں دکھے گا۔“ اور پھر حیا کی مہربانی سے وہ شرٹ ہی کبھی دوبارہ نہیں دکھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اور بالآخر شیری کی شادی کا دن بھی آ ہی گیا تھا۔ صبح سے ہی گھر میں رونق لگ گئی تھی۔ جتنے بھی قریبی مہمان تھے وہ کل رات ہی آ پہنچے تھے اور باقیوں کے آنے کا سلسلہ جاری تھا۔
ردابہ کو آئے دو دن ہو گئے تھے اور ایک گھنٹے تک ڈاکٹر ہارون اور انیقہ کی آمد متوقع تھی۔ پورا سکواڈ تو گھر پر ہی تھا مگر نہیں تھا تو حمزہ نہیں تھا۔ آج اہم میٹنگ تھی جس کے سلسلے میں وہ کل رات سے مصروف تھا اور کل رات سے ہی غائب۔ حیا اسکو کوئی بیسیوں میسج کر چکی تھی مگر جواب ندارد…مہندی کا فنکشن شروع ہونے میں بس دو گھنٹے ہی تھے،ردابہ اور فریحہ، حیا کے ساتھ مل کر مختلف انتظامات دیکھ رہی تھی، علی لان میں سجاوٹ کے تمام تر انتظامات اپنی نگرانی میں کر وا رہا تھا اور بے چارہ شیری اس وقت زویان اور شیروان کے ہتھے چڑھا ہوا تھا، وہ ہر ممکن اسے زچ کررہے تھے۔ جبکہ شیری کے ہاتھ فون پر چل رہے تھے، وہ کتنی دیر سے حمزہ کو میسج کر رہا تھا، کم از کم آج تو اسے وقت پر گھر آجانا چاہئیے تھے۔
”شیری‘تو ہمیں چھوڑ کر چلا جائے گا؟“ کرسیاں لگ چکی تو شیروان اور زویان شیری کے پاس آ بیٹھے۔شیری نے فون سے سر ہٹایا اور خفگی سے شیروان کو دیکھا۔
”شادی کر رہا ہوں‘کوئی میری ڈولی نہیں اٹھ رہی۔“ شیری اس وقت جلا پڑا تھا۔اس پہلے کہ شیروان اور زویان اسے اور کچھ کہہ کر تپاتے حیا کو لان مین دیکھ کر شیری کھڑا ہو گیا۔
”رکو‘میں ابھی آتا۔“ اب اس کا رخ حیا کی طرف تھا۔
”آپ کال کیوں نہیں کرتی ہیں حمزہ بھائی کو؟ ان کو کوئی پرواہ نہیں ہے کہ ان کے بھائی کی شادی ہے۔ آج بھی ان کو کام ہی کرنے ہیں۔“ حیا نے تحمل سے اس کی بات سنی اور پھر بولی۔
”میں نے اتنی بار تو کال کی ہے.. وہ مصروف ہو گا تبھی نہیں اٹھا رہا۔“
”بھابھی‘ہم سے ضروری کیا ہے؟اور پھر ایسی بھی کیا مصروفیت کہ وہ رات رات بھر گھر نہیں آتے؟اب تو وہ اپنی نارمل ڈیوٹی کر رہے ہیں پھر؟“ وہ جھلا کر بولا اور پھر بغور حیا کو دیکھا۔
”وہ کل رات گھر نہیں آئے تھے نا؟“
”نہیں..“حیا نے ایک لفظی جواب دیا اور شیری قریبا چلایاتھا۔
”تو آپ پوچھتی کیوں نہیں ہیں ان سے؟“ حیا جانتی تھی وہ کیا کہنا چاہتا ہے مگر اس وقت وہ نہ اپنا موڈ خراب کرنا چاہتی تھی نہ شیری کا‘تبھی وہ جانے کو مڑی اور پیچھے گیٹ سے داخل ہوتی گاڑی کو دیکھ کر رک گئی۔ یہ حمزہ کی گاڑی تھی اور یقینا وہ آگیا تھا۔ اس سے پہلے کہ حمزہ گاڑی پارک کر کے نکلتا‘شیری نے اسے گیراج میں جا لیا تھااور حیا اندر چلی گئی۔ حمزہ نے اسے خود کو دیکھ کر مڑتے دیکھ لیا تھا۔
”آپ کو پتا ہے آج کیا ہے؟“ شیری منہ بنائے اس کے ساتھ لان کی طرف آرہا تھا۔
”آج میرے بھائی کی شادی ہے۔“ حمزہ نے شیری کے کندھے پر بازو ڈالتے ہوئے کہا اور شیری نے خفگی سے حمزہ کو دیکھا۔
”اپنے بھائی کی شادی میں یوں کون آتا ہے؟“
”ارے یار‘کام تھا ورنہ شیری میں تو بھائی کی جان ہے۔“ حمزہ نے گرفت اس کے کندھے پر مضبوط کی۔ اور انتہائی غصے میں بھی شیری سر جھٹکتے ہوئے مسکرایا۔ حمزہ نے جھوٹ تو نہیں کہا تھا واقعی شیری حمزہ کو اتنا ہی پیارا تھا جتنااس نے ابھی کہا تھا۔ اور پھر شیری کے شکوے دور کرتا وہ اندر چلا گیا۔لاؤنج میں کئی مہمان بیٹھے تھے وہ سب سے مل رہا تھا‘مگر نیند سے بوجھل آنکھیں اب بند ہوتی جا رہی تھیں۔ وہ کچھ دیر سونا چاہتا تھا‘ سوتا نہ سہی مگر کچھ دیر وہ آرام ضرور کرنا چاہتا تھا۔ اس نے ردابہ کے کان میں کچھ کہا اور خود سیڑھیاں چڑھتا اوپر آگیا۔ دروازہ کھولا [کمرہ خالی تھا اس نے بلیزر اتار کربیڈ پر پھینکا اور دھپ سے صوفے پر گر گیا۔اس نے بیٹھنے کو جان بوجھ کر صوفے کا انتخاب کیا تھا تا کہ بیڈ پر لیٹا وہ سو نہ جائے۔ مگر اڑتالیس گھنٹوں کاجاگا اب وہ بیٹھے بیٹھے سو رہا تھا۔ اسے اپنے آس پاس نقل و حرکت محسوس ہوئی[ کوئی کمرے میں تھا مگر اب اس کے لیے آنکھیں کھول کر دیکھنا بھی مشکل تھا۔
”بھابھی‘اٹھائیں انکو۔“ نیم غنودگی میں اسے شیری کی آواز سنائی دی۔ شیشے کے سامنے کھڑی حیا نے شیشے میں ہی حمزہ کا عکس دیکھا وہ واقعی ہی تھکا ہوا لگ رہا تھا۔
”سونے دو شیری‘تھوڑی دیربعدجگا دیتی ہوں۔“ وہ آنکھوں میں کاجل لگاتے ہوئے بولی اور شیری نے آنکھیں سکیڑی۔
”آپ دونوں کو کوئی پرواہ بھی ہے کہ آج میری شادی ہے؟“ وہ دونوں ہاتھ اب کمر پر دھرے کھڑا تھا۔
”تم تو جا کر تیار ہو جاؤ‘پھر میں اٹھا دیتی ہوں۔ تھکے ہوئے ہیں تمہارے بھائی۔“ اس نے مڑ کر شیری کو دیکھا، جو اب تک تیار نہیں ہوا تھا۔
”آپ پہلے ان کو اٹھائیں ورنہ میں خود اٹھا….بلکہ رکیں میں خود ہی اٹھا لیتا ہوں۔ آپ دونوں کے سر رہا تو آج تو میری شادی نہیں ہوتی۔“ وہ حمزہ کے سر پر جا کھڑا ہوا تھا۔ حیا نہیں چاہتی تھی کہ وہ حمزہ کو اٹھائے مگر شیری بھی اپنی جگہ سچا تھا‘ کسی بھی وقت سمایا کے گھر والے آنے کو تھے۔ پہلے نکاح ہونا تھا اور پھر مہندی۔ سو حیا خود دوبارہ شیشے کی طرف مڑ گئی۔ اور شیری حمزہ کو جگانے لگ گیا۔ حمزہ نے اس کے ہلانے پر چونک کر آنکھیں کھولیں اور پہلی نظر ہی سامنے کھڑی حیا پر پڑی وہ بال بنا رہی تھی۔
”بھائی‘ اٹھ جائیں اب‘فنکشن شروع ہونیوالا ہے۔“ حمزہ کے ساتھ صوفے پر ایک گھٹنہ رکھے وہ حمزہ کوہوش میں لا رہا تھا۔ حمزہ نے تھوڑاسا ہل کر دوبارہ آنکھیں موند لیں۔
”بھائی یار‘ اٹھ جائیں اب۔“ شیری نے ا سے دوبارہ ہلایا اور حمزہ نے دوبارہ آنکھیں کھولیں۔
”تھوڑا سا تو سونے دے یار‘میں آتا ہوں۔“
”آپ ابھی اٹھیں….آپ سے کون کہتا ہے ساری رات گھر سے باہر رہیں؟ میرا نہ سہی کم از کم بھابھی کا خیال کر لیا کریں۔ وہ ساری رات آپ کا انتظار کرتی رہتی ہیں۔“ جو بات حیا نہیں کہہ پائی تھی وہ شیری نے کہہ دی تھی، ادھر حیا اپنی جگہ گڑبڑائی تھی اور ادھر حمزہ نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا تھا مگر وہ شیشے کی طرف منہ کیے کھڑی تھی وہ اس کے تاثرات نہیں دیکھ پایا تھا۔
”اچھا یار‘اٹھ جاتا ہوں…“ حمزہ اپنی جگہ کھڑا ہوا اور شیری اس کے پیچھے ہی سیدھا ہوا۔ اب آپ دس منٹ میں نیچے آجائیں۔ شیری نے آگے ہو کر حمزہ کے گال کو چوما اور حمزہ نے مصنوعی غصے سے اسے گھورا۔
”شادی ہونے جا رہی ہے تمہاری…اب تو یہ فضول حرکتیں بند کر دو۔“ حمزہ اپنا گال صاف کر رہا تھا۔ شیری ہنسا۔
”آپ تو میرا پہلا پیار ہیں حمزہ بھائی۔“ اس نے حمزہ کا دوسرا گال چوما اور دروازے سے باہر بھاگ گیا۔ حمزہ نے بے بسی سے دانت پیسے۔حیا نے بمشکل اپنی ہنسی روکی۔ حمزہ نے خفگی سے حیا کی طرف دیکھا اور وہ دوبارہ سنجیدہ نظر آنے کی کوشش کرنے لگی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اسٹیج پر فریحہ دلہا دلہن کی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھی مہندی لگوا رہی تھی۔حیا اور حمزہ ابھی باہر آئے تھے۔ حیا نے سبز کامدار لہنگے پر پیلی کرتی پہن رکھی تھی جسے لہنگے کے اوپر اندر کو فولد کیا ہوا تھا، بال بلو ڈرائی کر کے دونوں طرف کندھے سے ڈھلک رہے تھے اور دوپٹہ کمر کے پیچھے دونوں بازؤں پر ڈال رکھا تھا۔ حمزہ نے پیلے کرتے پر بغیر بازؤں کے نارنجی واسکٹ پہن رکھی تھی۔بال ہمیشہ کی طرح بغیر کسی جیل کے ایک طرف سے ماتھے پر گرے ہوئے تھے۔گو کہ حیا حمزہ سے خفا تھی مگر اس کے باوجود اس کا ایک ہاتھ حمزہ کے بازو پر دھرا تھا۔ دونوں اسٹیج پر جا کھڑے ہوئے تو ہاتھ پر مہندی لگواتی فریحہ چہکی۔
”ما شا ء اللہ‘بہت خوبصورت لگ رہے ہو دونوں۔“
”یوں کہو ایک ساتھ بہت خوبصورت لگ رہے ہو۔“ اسٹیج پر آتی ردابہ بولی اور پھر پاس آکر اس نے حمزہ کا ماتھا چوما اور حیا کو گلے لگایا۔
”ہمیشہ ایک ساتھ رہو‘ہنستے مسکراتے رہو۔“ وہ دونوں کو دیکھ کر نہال ہوئے جا رہی تھیں۔ پھر ان کی نظر حیا کے ہاتھوں پر پڑی۔
”تم نے مہندی نہیں لگوائی؟“حیا نے اپنی خالی ہاتھوں کو دیکھا اور پھر حمزہ کو‘وہ سوالیہ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
”ٹائم ہی نہیں ملا۔“گو کہ مہندی نہ لگوانے کی وجہ اس کی حمزہ سے ناراضگی تھی مگر وہ صفائی سے جھوٹ بول گئی۔
”سمایا کی فیملی کو آنے میں تھوڑا وقت ہے…تم دوسری لڑکی کو بلا کر اس سے لگوا لو۔ “
”نہیں مسز ہارون‘بس یوں ہی ٹھیک ہے۔“ وہ حمزہ کے بازو پر ہاتھ دھرے اسے ہی نظر انداز کرتے ہوئے بولی تو ردابہ نے سپاٹ نظروں سے اسے دیکھا۔
”لگوا لو۔“ اب اس کے پاس چارہ نہیں تھا۔ آخر ساس کا حکم تھا تو نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ ردابہ مسکراتے ہوئے واپس چلی گئی جبکہ حمزہ پر سوچ نظروں سے اسے جاتا دیکھتا رہا۔ حیا جانے کو مڑی، حمزہ کو اپنے بازو سے اس کا ہاتھ سرکتا محسوس ہوا تووہ حیا کی طرف مڑااور اس کا بازو پکڑ کر روکا پھر مہندی لگانے والی کی طرف مڑا۔
”میری بیوی کے ہاتھ پر بہت اچھی سی مہندی لگانا۔“ اس نے حیا کی کمر میں ہاتھ ڈالا۔وہ اسے منانے کی کوشش کررہا تھا۔”اور ہاں۔“ اس نے فریحہ کو دیکھ کر اپنی مسکراہٹ دبائی‘پھر حیا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔
”اس مہندی پر اس کے شوہر کا نام لکھنا مت بھولنا۔“۔فریحہ نے قہقہہ لگایا تھامگر حیا ناراض تھی یہ بھی تو بتانا تھا تو اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے بولی۔
”میرا ہاتھ ہے‘جناب کا نیم پلیٹ نہیں۔“ اور کہہ کر وہ حمزہ سے الگ ہوکر اسٹیج سے اتر گئی۔ حمزہ کا ہاتھ بے اختیار اپنے بالوں میں گیا اور وہ ا سے جاتے دیکھتا رہا۔ تبھی علی وہاں آگیا اور حمزہ نے لمبا سانس خارج کرتے علی کو دیکھااور ڈرامائی انداز میں بولا۔
”کہو کوئی روٹھے تو کیسے منائیں؟“علی نے ایک بلند قہقہہ لگایا اور ایک ہاتھ حمزہ کے کندھے پر ڈال کر اسے جنجھوڑا۔
”آج تو مجھے شوہر شوہر لگ رہا ہے۔“ اور اس کی بات پر فریحہ اور حمزہ دونوں ہنسے تھے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اسٹیج سے اتر کر حیا ڈاکٹر ہاروں سے ملنے گئی تھی۔ وہ اسٹیج سے دو میز چھوڑ کر ایک میز کے گرد رکھی کرسی پر کچھ دوسرے رشتے داروں کے ساتھ بیٹھے تھے‘حیا کو دیکھ کر مسکرائے۔ دونوں کے درمیان استاد شاگرد کا رشتہ تھا اور اسی رشتے کے پیش نظر وہ بڑے احترام سے ان کے سامنے اسٹیج کی طرف پشت کر کے بیٹھ گئی۔
”کیسی ہے ہماری بیٹی؟“وہ حیا سے پوچھنے لگے‘ اب میز کے گرد سے باقی دو لوگ اٹھ چکے تھے۔
”میں ٹھیک ہوں سر‘ابھی مجھے انیقہ ملی تو پتا چلا کہ آپ آگئے ہیں۔“ وہ دیر سے ملنے آنے کی صفائی دے رہی تھی۔
”حمزہ پریشان تو نہیں کرتا تمہیں؟ تھوڑا ضدی ہے مگر بہت پیارا بچہ ہے وہ ہمارا۔“ ڈاکٹر ہارون اسٹیج پر کھڑے حمزہ کو دیکھ کر اداسی سے مسکرائے‘ حیا نے بھی مڑ کر حمزہ کو دیکھا وہ اب ردابہ سے بات کر رہا تھا۔
”اس نے مجھے کیا کہنا ہے سر‘وہ میرا بہت خیال رکھتا ہے۔“ اب اس خیال میں وہ ساری ساری رات گھر نہیں آتا‘اتنی تفصیل سے حیا نے نہیں بتایا۔ڈاکٹر ہارون نے سر ہلایا۔ پھر دونوں انسٹیٹیوٹ کی باتیں کرتے رہے۔ تبھی حیا نے پوچھا۔
”سر‘ حمزہ آپ سے ملا ہے؟“حیا کو یاد آیا وہ اور حمزہ ساتھ آئے تھے اور تب سے حمزہ اسٹیج پر ہی تھا۔ ڈاکٹر ہارون نے اسٹیج پر کھڑے حمزہ کو دیکھا‘ جانے وہ ردابہ سے کون سی باتیں کر رہا تھا جو ختم نہیں ہو رہی تھیں۔ جب ڈاکٹر ہارون کچھ نہیں بولے تو حیا نے مڑ کر حمزہ کو دیکھا اور پھر ڈاکٹرہارون کی طرف مڑی۔
”اسے پتا ہی نہیں ہو گا کہ آپ آگئے ہیں۔رکیں‘ میں اس کو بلا کر لاتی ہوں۔“ وہ ان کے جواب کا انتظار کیے بغیر اسٹیج کی طرف بڑھ گئی اور ڈاکٹر ہارون نے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے اپنے سے خفا بھتیجے کو دیکھا۔ جانے کب تک اسے ناراض رہنا ہے!
اور چند منٹ بعد وہ حمزہ کو لے کر ڈاکٹر ہارون کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کی ناراضگی کو مد نظر رکھتے حمزہ نے اس سے نہیں پوچھا تھا کہ وہ اسے کہاں لے جا رہی ہے مگر اب ڈاکٹر ہارون کو سامنے دیکھ کر وہ رک گیا تھا۔
”آپ ڈاکٹر ہارون سے…“ کہتے کہتے وہ رکی۔ ”میرا مطلب اپنے خالو سے نہیں ملے؟“ ردابہ کو حمزہ کی ماسی اور پھر اسی رشتے سے ڈاکٹر ہارون کو اس کا خالو قرار دیتے ہوئے وہ چہک کر بولی تھی اور حمزہ نے آنکھیں گھما ئی۔ اور آہستہ سے بولا۔
”وہ میرے چاچو ہیں۔“ حیا کے لیے تو گویا یہ حیران کن تھا۔
”رئیلی؟“ اس نے حیرت سے حمزہ کو دیکھا اور پھر ڈاکٹر ہارون کو۔
”مطلب مسز ہارون کی یعنی تمہاری خالہ کی شادی تمہارے بابا کے چھوٹے بھائی یعنی تمہارے چاچو سے ہوئی ہے؟ واؤ۔“ وہ بچوں کی طرح رشتے نکال رہی تھی۔ا س سے وہ مزید کچھ کہتی مگر داکٹر ہارون بول پڑے۔
”کیسے ہو حمزہ۔“ حمزہ نے میز سے نظریں اٹھا کر سامنے بیٹھے اپنے چاچو کو دیکھا اور پھر سر ہلایا۔
”ٹھیک ہوں… بالکل ٹھیک ہوں۔“ لان کی روشنیوں میں اس کی آنکھوں کی خفگی ڈاکٹر ہارون پر روز اول کی طرح ہی عیاں تھی۔ وہ آج بھی اتنا ہی خفا تھا کہ جتنا پہلا دن۔ حیا اس کا بازو پکڑ کر آگے لے آئی۔
”حیا مجھے کچھ کام ہے۔“ حمزہ اپنا بازو چھڑاکرمڑنے لگا مگر حیا نے گرفت اور مضبوط کر دی۔
”اچھا نہیں لگتا آپ ان کو اکیلا چھوڑ کر جا رہے ہیں‘بیٹھیں کوئی بات کریں۔“ حمزہ تلخی سے مسکراتے ہوئے پیچھے پلٹا۔ مسکراہٹ کے پیچھے اس کی اپنی کہانی تھی۔ وہ ان کو اکیلا چھوڑ کر جا رہا ہے؟ تنہا تو وہ کر گئے تھے مجھے۔تب جب میرے پاس ان کے سوا کوئی نہیں تھا۔ اس کی مسکراہٹ غائب ہوئی اور اس کے لب ہلے۔
”ان کی مہربانی کہ یہ اپنی مصروفیات میں سے ہمارے لیے وقت نکال کر آئے اور مہربانی کہ اپنی فیملی کوبھی لے آئے۔“ ڈاکٹر ہارون کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزرا۔ حیا کو سمجھ نہیں آیا وہ یوں کیوں کہہ رہا ہے۔
”بھابھی یار‘میرے کھسے نہیں مل رہے۔“تبھی وہاں شیری آ دھمکاتھا۔
”وہیں تمہاری الماری میں نیچے پڑے ہیں۔“حیا نے چہرے پر آئی ایک لٹ کو کان کے پیچھے اڑیسا۔
”نہیں ہیں وہاں۔“
”شیری وہیں ہیں‘میں نے خودرکھے تھے۔“
”میں نے بھی دیکھا ہے وہاں نہیں ہیں۔“جب شیری کسی صورت مزید ڈھونڈنے پر راضی نہیں ہوا تو حیا حمزہ کا بازو چھوڑ کر شیری کو ڈانٹتے ہوئے اس کے پیچھے چل دی اور وہاں میز کے گرد وہ دونوں اکیلے رہ گئے تھے۔ حمزہ محض حیا کی وجہ سے وہاں کھڑا تھا‘ وہ چلی گئی تو وہ خود بھی جانے کو مڑا مگر ڈاکٹر ہارون کے اس کا نام پکارنے پر اس کے قدم زنجیر ہوئے تھے۔
”حمزہ‘کب تک ناراض رہو گے اپنے چاچو سے؟“ وہ رک گیا مگر مڑا نہیں۔
”بیٹھ کر میری بات سن لو۔“ آج موقع ملا تھا تو ڈاکٹرہارون اپنے بھتیجے کی خفگی دور کر دینا چاہتے تھے، حمزہ کی نظر اسٹیج پر پڑی، وہاں ردابہ کھڑی تھی، دونوں کی نظر ملی تو وہ مسکرائی اور انیقہ کی طرف پلٹ گئی۔جیسے چاچو بھتیجے کی پرائیویسی میں دخل اندازی نہ کرنا چاہتی ہو۔ حمزہ دو قدم چل کر ہارون کے سامنے حیا کی چھوڑی کرسی پر آ بیٹھا، مگر اس کی نظریں مسلسل میز پر جمی تھیں، وہ ڈاکٹر ہارون کو دیکھنے سے گریز کر رہا تھا۔ گزرے اذیت ناک دن دماغ میں روشن ہونے لگے تھے۔ کس طرح اسے تنہا کر دیا تھا ڈاکٹر ہارون نے ا ور کیسے سنگدلی سے کہہ گئے تھے کہ ان کا اپنا بھی گھر ہے۔ حمزہ کی آنکھیں مسلسل ادھر ادھر گھوم رہی تھیں۔
”تمہیں پتا ہے حمزہ‘میں گھر میں سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ لا پرواہ تھا‘ یا شاید سارے بچے ہی لاپرواہ ہوتے ہیں۔ میرے ابا ہر وقت مجھے ڈانٹتے رہتے تھے‘ چلاتے رہتے تھے۔ جب میں ان کے سامنے جاتا وہ مجھے سخت ست سنانا شروع کر دیتے۔۔۔ہا۔“ ڈاکٹر ہارون اداس ہنسی ہنسے۔ ”وہ میری فکر کرتے تھے۔[‘ ڈاکٹر ہارون کی نظریں حمزہ کے چہرے پر تھیں اور حمزہ کی میز پر پڑے اپنے ہاتھوں پر۔
”ایک دن کسی بات پرغصہ کرتے ہوئے انہوں نے مجھ پر ہاتھ اٹھا دیا۔ مجھے بہت برا لگا۔ وہ باپ تھے، اٹھا سکتے تھے ہاتھ‘ مگر میرا ایگو…۔میں نے ان سے بات کرنا بند کر دی۔“ حمزہ نے آس پاس گزرتے لوگوں کو دیکھا وہ اپنی خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ڈاکٹر ہارون بولتے جا رہے تھے۔
”چند ماہ بعد میں ماسٹرز کے لیے اسلام آباد آ گیا۔ مگر ان سے میری ناراضگی بد ستور قائم رہی۔ دل میں کسک بھی تھی کہ مجھے ان سے معافی مانگ لینی چاہئیے۔ہر بار گھر جاتے وقت ارادہ کرتا کہ اب کی بار جا کر ان کے گلے لگوں گا، معافی مانگوں گا، ان سے بات کروں گا مگر پھر ہمت ہی نہ ہوتی، ہمت ہوتی تو ایگو سامنے آ کھڑا ہوتا۔ بھلا میں کس چیز کی معافی مانگوں؟ انہوں نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا تھا، میں تو چلو اس لیے بات نہیں کرتا مگر وہ مجھ سے بات کیوں نہیں کرتے؟ اور پھر ایک دن اماں اور بھائی نے مجھے زبردستی ان کے سامنے بٹھا دیا، آہستہ آہستہ ہم بات کرنے لگے،ہمارا رشتہ تھوڑا بحال ہو گیا۔ میں دوبارہ اسلام آباد آگیا اور تب ایک دن مجھے بھائی کی کال آئی۔“ڈاکٹر ہارون نے آنکھیں جھپک کر دھندلاتی آنکھوں کو صاف کیا۔
”ابا نہیں رہے تھے حمزہ۔“ حمزہ نے دونوں ہونٹوں کو آپس میں دبایا مگر نظر اوپر نہ اٹھائی۔ اس کی ایک ٹانگ اب ہلنے لگی تھی۔
”میں اپنے ایگو میں ان کو کبھی سوری ہی نہ کہہ سکا۔ مجھے ان کے ساتھ یوں نہیں کرنا چاہئیے تھا۔ میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ یہ رشتے جن کو ہم فار گرانٹڈ لے لیتے ہیں یہ ہمیشہ ہمارے ساتھ نہیں رہتے، کوئی جیتے جی چھوڑ جاتا ہے اور کوئی مر کر۔“ ان کی آواز گلو گیر ہو گئی تھی۔ حمزہ کی ہلتی ٹانگ اور تیز ہو گئی تھی۔
”بیٹے‘ تین سال تو ہو چکے ہیں تمہیں مجھ سے خفا ہوئے۔ میں نے تو ہمیشہ تم سے بات کرنے کی کوشش کی مگر تم تو مجھے دیکھتے ہی منہ موڑ لیتے ہو۔میں نہیں چاہتا اب مزید تم میرے سے خفا رہو‘میں تم سے معافی مانگتا ہوں۔ سوری..“ ڈاکٹر ہارون نے آرام سے آخری لفظ کہا اور حمزہ کی نظریں بے اختیار ان کی طرف اٹھیں۔
”کیوں مجھے تنہا چھوڑ کر چلے گئے تھے آپ؟ آپ لوگوں کے سوا میرا تھا ہی کون؟“ وہ کسی چھوٹے بچے کی طرح شکوہ کر رہا تھا۔
”تم مجھے انیقہ سے بھی زیادہ پیارے ہو حمزہ۔“ جو بات ردابہ کے دل میں ہی تھی وہ آج ڈاکٹر ہارون کے ہونٹوں پر آ گئی تھی۔
”تم میرے بھائی کے بیٹے ہو۔ تمہیں یوں تنہا چھوڑ کر جاتے مجھے بھی بہت تکلیف ہوئی تھی لیکن اگر نہ چھوڑتا تو تمہیں ہمیشہ ردابہ کے پیچھے چھپ کر اپنے غموں سے بھاگنے کی عادت پڑ جاتی۔ میں تمہیں مضبوط دیکھنا چاہتا تھا۔“ حمزہ تو کب سے ڈاکٹر ہارون کے ساتھ یہ تلخی مٹا دینا چاہتا تھا مگر وہ ہی پہل کرنے کی جھجھک ہمیشہ اس کے قدم روک لیتی اور آج جب ڈاکٹر ہارون نے پہل کر ہی لی تھی تو وہ بھی سب کچھ بھول جانا چاہتا تھا‘تبھی اٹھ کر ہارون کے پاس رکھی کرسی پر جا بیٹھا۔
”پھر بھی آپکو نہیں جانا چاہئیے تھا۔ میں اکیلا رہ گیا تھا۔“
”بیٹے‘جن پودوں کو سیر بھر پانی دیا جاتا ہو‘ ان کی برابر نگہداشت کی جاتی ہو‘ وہ اوپر کو تو بڑھتے پھولتے ہیں لیکن ان کی جڑیں کھوکھلی ہوتی ہیں اور ذرا سی ہوا بھی ان کو اکھاڑ پھینکتی ہے۔ اگر جڑوں کو مضبوط کرنا ہو تو ان کو آدھی خوراک دی جائے‘تا کہ باقی آدھی کی تلاش میں وہ زمین میں نیچے تگ و دو کریں اور ان کی جڑیں زمین میں نیچے پھیلتی چلی جائیں‘ یہاں تک کہ بڑے سا بڑا طوفان بھی ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔“ حمزہ کو سمجھ تو آگیا تھا وہ کیا کہنا چاہتے ہیں،مگر پھر بھی ڈاکٹر ہارون نے وضاحت کر ہی دی۔
”اگر تمہیں ہم بہت زیادہ پیار دیے رکھتے‘ تو تم ہمیشہ کمزور رہتے اور ہماری غیر موجودگی میں چلنے والی ذرا سی بھی گرم ہوا تم برداشت نہ کر پاتے۔ جب ہم نے تم پر اپنے پیار کی ڈوزذرا سی کم کر دی تو تم نے ہاتھ پاؤں مارے‘تمہاری جڑیں مضبوطی پکڑنے لگ گئیں‘یہاں تک کہ ہمارے نہ ہونے کے باوجود تم کھڑے رہے۔کبھی کبھی زندہ رہنے کے لیے خود ہاتھ پاؤں مارنے پڑتے ہیں۔“ڈاکٹر ہارون اب اس کی کمر تھپک رہے تھے۔ اور حمزہ……حمزہ نے کھڑے رہنے کا نیا سبق سیکھ لیا تھا۔
”آئی ایم سوری چاچو‘آئی ایم ویری سوری۔“ وہ بیٹھے بیٹھے ہی ہارون کے گلے لگ گیا تھا۔ ڈاکٹر ہارون نے اس کی کمر کو دو بار تھپکایا۔
”بیٹے‘ یہ رشتے ہمیشہ ہمارے ساتھ نہیں رہتے ہیں جب ساری عمر ساتھ رہنا ہو تو کسی ایک کو پہل کرنی ہی پڑتی ہے اور یہ پہل بڑوں کو کر لینی چاہئیے۔ کیونکہ۔“ انہوں نے حمزہ کو خود سے الگ کرتے اس کے کندھے کو پکڑ کر دبایا اور مسکرائے۔
”بچے تو پھربچے ہی ہوتے ہیں‘خواہ جتنے بھی بڑے ہو جائیں۔“ حمزہ سر جھٹکتے مسکرایا۔ اور پھر ڈاکٹر ہارون کے بولنے سے پہلے اگلا جملہ کہا۔
”تو والدین کوچاہئیے کہ وہ بچوں سے مقابلہ بازی نہ کریں۔“ ڈاکٹر ہارون ہنسے۔ حمزہ بچپن سے یہ جملہ ہارون کو حمزہ کے باپ سے کہتے سنا کرتا تھا۔ دونوں کے درمیان کی تلخی ڈاکٹر ہارون کی ذرا سی پہل نے ختم کر دی تھی۔ اور اب وہ بیٹھے گزرے سالوں کا احوال ایک دوسرے کو سنا رہے تھے مگر یہ……یہ شیری کی شادی تھی اور شیری ان کو یاد دلانے آن پہنچا تھا۔
”نہیں‘آپ کا اور ماسی کا دل نہیں کرتا کہ بے چارے شیری کو بھی تھوڑا سا پیار دے دیں؟ میں بھی انسان ہوں۔“ وہ حمزہ کے سر پر کھڑا ہارون سے مخاطب تھا۔ ڈاکٹر ہارون کی مسکراہٹ گہری ہوئی اور حمزہ نے سر اٹھا کر شیری کو دیکھا وہ مکمل تیار تھا۔ حمزہ کے بر عکس اس نے سفید شلوار قمیص پر نارنجی واسکٹ پہن رکھی تھی۔
”افسوس شیری‘مگر تم سوتیلے ہو۔“ حمزہ نے کھڑے ہوتے ہوئے مصنوعی افسوس کیا۔شیری کی آنکھیں شرارت سے چمکی۔
”حمزہ سر‘ میری پہلی اور آخری محبت تو آپ ہی ہیں۔“ وہ حمزہ کے بازوں کے نیچے سے ہاتھ ڈالتے اب اس کے گلے لگا کھڑا تھا۔
”ڈرامے باز‘سیدھا کھڑا ہو۔“ حمزہ نے اسے خود سے الگ کیا اور اس کے بال خراب کرنے کو ہاتھ بڑھایا،مگر شیری نے فورا دونوں ہاتھ اٹھا دیے۔
”آج نہیں…. پلیز۔“ردابہ آکر کھڑی ہوئی تو ڈاکٹر ہارون بھی کھڑے ہو گئے اور اس کے پیچھے ہی حیا بھی آ ئی تھی۔
”حمزہ‘پتا کرو سمایا لوگ اب تک نہیں آئے۔“ حمزہ نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے فون نکالااور ایک طرف چلا گیا اور وہ لوگ پیچھے شیری کی کھنچائی کرنے لگے۔ اب شیری جواب دینے کے ساتھ ساتھ شرما بھی رہا تھا۔
”پانچ منٹ میں آ رہے ہیں۔“ حمزہ نے اطلاع دی اور شیری کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔ حمزہ نے ایک بار پھر اس کے بالوں کو خراب کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا اور شیری فورا پیچھے ہو گیا۔
”بھائی آج نہیں پلیز۔“سب کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔جانے کیوں حمزہ کو اپنا دل بھاری ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ شیری لڑکا تھا‘ اسے رخصت ہو کر کہیں جانا نہیں تھا مگر…شادی کے بعد فرق تو آ ہی جاتا ہے۔ اس نے اس خیال کو ذہن سے جھٹکا۔سب حمزہ کے احساسات سے انجان اسٹیج کی طرف جانے کو بڑھے‘ڈاکٹر ہارون دوبارہ بیٹھنے کو جھکے مگر حیا نے ان کو مخاطب کیا۔
”سر آپ بھی چلیں۔“مگر اس سے قبل کے ڈاکٹر ہارون جواب دیتے حمزہ بول پڑا۔
”یہ چاچو ہیں میرے’تو تم بھی چاچو کہو۔“ ردابہ اور ہارون مسکرائے جبکہ حیا بڑے ناز سے سر اٹھائے حمزہ کے پاس جا کھڑی ہوئی، ایک بازو حمزہ کے بازو میں ڈالا۔
” جو حکم ڈئیر حمزہ سر۔“ حمزہ سرسب کے سامنے اس کے یوں بازو پکڑنے پر سٹپٹائے ا ور سرگوشی کی۔
”کسی کا تو خیال کر لیا کرو۔“حیا نے اچنبھے سے اسے دیکھا اور پھرڈاکٹر ہارون کو۔
”سر..“ پھر اس نے زبان دانتوں تلے دبائی۔ ” آئی مین چاچو‘کیا میں اپنے شوہر کا بازو نہیں پکڑ سکتی؟“ حمزہ نے حیرت سے اسے دیکھا اور ڈاکٹر ہارون نے اپنی مسکراہٹ دبائی اور پھرردابہ کے پاس ا ٓ کھڑے ہوئے، ردابہ نے اپنا بازو ڈاکٹر ہارون کے بازو میں ڈالا اور پھر دونوں بیک وقت بولے۔
”بالکل پکڑ سکتی ہو۔“ حمزہ نے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے آنکھیں گھمائی اور ان کے ساتھ خود بھی ہنس دیا۔
اس گھر میں سب کو اپنے جذبات کا اظہار کرنا آٹا تھا‘ سوائے حمزہ کے!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!