Haya by Fakhra Waheed ep 22

Haya novel by Fakhra Waheed

آسمان کو سیاہ چادر اوڑھے کئی گھنٹے گزر چکے تھے۔ اندھیرے میں پاس پڑی کوئی چیز تو سجھائی نہ دیتی تھی مگر زمین سے میلوں دور سیاہ چادر پر چمکتا کانسی کا روشن تھال اور اس کے گرد لگے چھوٹے چھوٹے موتی اس چادر کا حسن بڑھا رہے تھے۔اور تو اور راوی کا پانی بھی اچک اچک کر اس تھال کو جا پہنچنے کے جتن کر رہا تھا۔۔ زمین والے چاند کی خوبصورتی سے متاثر نظر آ تے تھے جب کہ فلک پر جڑا یہ تھال زمین والوں پر رشک کر رہا تھا۔زمین پر جا بجا پھیلی روشنیوں میں ایک روشنی حمزہ کے گھر کے گیٹ کے بلب کی تھی۔ اندر لان تو تاریک پڑا تھا، چنبیلی کی مہک لان کو معطر کیے ہوا تھا اور باقی پھول اس کے سنگ پیار کے نغمے گنگنا رہے تھے،اور اس لان کے آخری حصے میں وہ اپنے پیر گھاس پر رکھے خود فرش پر بیٹھے تھے۔ حیا کا سر حمزہ کے کندھے سے لگا تھا، وہ اسے اپنے دیر سے آنے کی وضاحت دے رہا تھا اور حیا…وہ اس سے آج پھر گھر جلدی آ جانے کا کہہ رہی تھی۔
”رات کو کم از کم آ جایا کریں۔“ اس نے سر اٹھا کر حمزہ کو دیکھا۔
”پولیس افسر کی بیوی ہو اب یہ جدائیاں تو برداشت کرنا پڑیں گی۔“
”گھر سے باہر میری یاد نہیں آتی ہے؟“
”مصروف ہوتا ہوں۔“
”آ ئی مس یو۔“ حیا نے آہستہ سے کہا‘وہ خاموش رہا تھا۔
”مجھے یوں گھر میں اچھا محسوس نہیں ہوتا۔ سارا دن اکیلے میں یاتو وقت دیکھتی رہتی ہوں‘ یادروازہ۔“ وہ بے بسی سے بولی اور حمزہ نے اسے خود سے الگ کیا۔
اندھیرے میں وہ ایک دوسرے کے تاثرات تو نہ دیکھ سکتے تھے مگر حیا کے لہجے سے اسے خوف آیا تھا، رانیہ بھی تویوں ہی اس کا انتظار کرتی تھی۔حمزہ نے جھرجھری لی،حیا نے چونک کر اسے دیکھا۔وہ دونوں ہاتھ باہم ملائے سنجیدگی سے گھاس کو تک رہا تھا۔
”میرے سے جڑے لوگ بس انتظار کرتے ہی رہ جاتے ہیں۔ مجھے ان انتظار کرنے والوں سے خوف آتا ہے۔“ اس نے حمزہ کو کہتے سنا اور اسے لگا اس کا دل کسی نے مٹھی میں بھینچ لیا ہے۔
”میں تمہیں وہ وقت نہیں دے پاؤں گا‘جس کی تم حق دار ہو یا جو تم مجھ سے چاہتی ہو۔“ حیا کو لگا کوئی ان دیکھی بلا اس کے سینے پر آ بیٹھی ہے۔ وہ اس کے چہرے کا ایک رخ دیکھ سکتی تھی۔
”مجھ سے دور چلی جاؤ یار‘پلیز…..تم بھی سب کی طرح مجھے چھوڑ جاؤ گی۔ کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہے گا…میں ہمیشہ اکیلا رہا ہوں اور مجھے کسی کا انتظار‘کسی کے شکوے یا آنسو نہیں چاہئیے اور خون…“ وہ کہتے کہتے چپ ہو گیا تھا۔ اندھیرے میں بھی اس کے ماتھے پر چمکتا پسینا حیا نے دیکھا تھا۔ وہ ٹھیک طرح سے اس کے چہرے کے تاثرات نہیں دیکھ پا رہی تھی مگر اس کے لہجے کا کرب بھی اس سے چھپا نہیں تھا۔ اس کا اپنا دل سینے میں بری طرح پھڑ پھڑا رہا تھا، اس کا دل چاہا اسے چپ کروا دے مگر نہیں! کہنا ضروری تھا۔ حمزہ کے دل میں کیا تھا یہ جاننا ضروری تھا‘تو وہ بس اس کے چہرے کے ایک رخ پر نظریں جمائے اس کے منہ سے نکلتے ہر لفظ کو بغور سن رہی تھی۔ اور وہ اپنے ساتھ بیٹھی لڑکی کے جذبات سے بخوبی واقف تھا مگر اپنی زندگی کے معاملات بھی اس سے ڈھکے نہیں تھے۔ وہ نہ تو خود کسی بہت پرسکون زندگی کی توقع رکھتا تھا اور نہ حیا کو ایسی کوئی امید دلانا چاہتا تھا‘ تو وہ پھر اسے جانے کا کہہ رہا تھا۔
”آج نہیں تو کل تم روز روز کے اس انتظار سے تنگ آ ہی جاؤ گی‘ اور اگر تنگ نہ بھی آ ئی تو تم بھی رانیہ کی طرح….“ الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے۔ اور اس نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔ یہ کرب آج بھی اس کے سینے میں زندہ تھا۔ یا شاید اس نے اس تکلیف کو کبھی کم ہونے ہی نہیں دیا تھا۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ ایک دوسرے سے ملا کر ہونٹوں کے قریب لایا اور ایک ٹھنڈا سانس باہر خارج کیا۔ پھر کئی لمحے دونوں کے بیچ خاموشی حائل رہی اور وہ تب چونکا جب حیا اس کے پاس سے اٹھ کر اس کے سامنے ا ٓ بیٹھی۔ وہ اوپر فرش پر بیٹھا تھا اور حیا وہ دونوں گھٹنے لان کے گھاس سے ٹیک کر بیٹھ گئی تھی۔ حمزہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
”تم کیوں پریشان ہوتے ہو؟ اور کس نے کہا لوگ تمہیں چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں؟ تم تو سب کی جان کا ٹکڑا ہو یار۔ شیری تم سے والہانہ محبت کرتا ہے۔ ماسی اور ڈاکٹر ہارون تم پر جان نچھاور کرتے ہیں انیقہ حمزہ بھائی حمزہ بھائی کرتی نہیں تھکتی۔ اور میں….“ وہ یک دم چپ ہو گئی۔
”اور تم؟“ حمزہ نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اس کے آ خری دو الفاظ دہرائے۔ حیا نے اپنے ہونٹ بھنچے‘ساری ہمت مجتمع کی اور پھر اپنے جذبات کو زباں دینے کی کوشش کرنے لگی۔
”میں تمہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی اور کبھی بھی نہیں جاؤں گی۔“
”کیوں؟ میں نے تو تم پر بہت ظلم کیے ہیں نا۔ تم سے زبردستی نکاح کیا تھا‘ پھر کیوں رہنا چاہتی ہو میرے ساتھ؟“ حمزہ نے اس کی آنکھوں میں امڈتے جذبات کو اس کے منہ سے سننا چاہا اور وہ تھوڑی دیر کے لیے چپ بیٹھی اپنی انگلیاں مروڑتی رہی۔پھر وہ آ ہستہ سے بولی۔
”جس رات تم ہاسپٹل میں زندگی موت کی جنگ لڑ رہے تھے اور میں تمہارے سرہانے کھڑی تم سے لڑ رہی تھی، اسی رات میرے دل نے بھی میرا ساتھ چھوڑ دیا۔وہ لڑکا جو سب کو اس قدر پیارا تھا مجھے پتا ہی نہیں چلا کب میرا دل اس کو پیارا ہو گیا۔“ جذبات کا سمندر اس کی آنکھوں سے امڈ آنے کو تیار تھا۔
”تم جیسے سوچ رہی ہو زندگی ویسی نہیں ہو گی حیا۔“ حمزہ نے اسے حقیقت دکھائی۔
”جب کسی کا ساتھ چن لیا جائے‘ تو اس سے جڑا ہر اچھا برا سچ بھی ساتھ ہی چننا ہوتا ہے ا ور میں تمہیں چن چکی ہوں۔ صرف تمہارے اچھے میں نہیں تمہارے برے میں بھی میں تمہارے ساتھ کھڑی رہوں گی۔“وہ اداسی سے مسکرایا تھا۔حیا کے لیے اس سے نظریں ملانا محال ہو گیا تو وہ نظریں چرا گئی۔پھراسنے ایک لٹ اپنے چہرے سے کان کے پیچھے اڑیسی اور گھاس پر انگلیاں پھیرتے ہوئے دوبارہ بولی۔
”آپ وکٹم نہیں ہیں۔ اور نہ آپ ظالم ہیں۔ یوآر آ اسٹرونگ پولیس آفیسر اینڈ آئی ایم پراؤڈ آف یو۔ اینڈ آئی…“ اس نے سر اٹھا کر حمزہ کو دیکھا۔
”اینڈ آئی لو یو‘ آئی لو یو سو مچ..“ اور ساتھ ہی آنسو اس کی آنکھوں سے گرنے لگے۔
”ارے‘رو کیوں رہی ہو۔“ وہ اس کے یوں اچانک رونے سے پریشان ہو گیا تھا۔حیا نے نفی میں سر ہلایامگر آنسو اس کی آنکھوں سے بدستور گر رہے تھے۔
”یار‘رو نہیں تم۔ اچھا ادھرآ ؤ۔“ اس نے حیا کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے قریب کیا اور اپنے بازؤں میں سمیٹ لیا۔
”میں چاہتا ہوں تم میری وجہ سے خود کو اس رشتے میں باندھ کر مت رکھو۔ تم خوش رہواب۔“ اس کے سر پر ٹھوڑی ٹکائے وہ اس سے مخاطب تھا۔
”میری خوشی آپ کے پاس ہے۔“ اس کے منہ سے آپ ہی نکلا تھا اور وہ زیر لب مسکرایا تھا اور حیا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔وہ اب بھی مسکرا رہا تھا۔
”صرف پیار نہیں کرتی تم سے‘عزت بھی کرتی ہوں۔ میرے کوئی نیک اعمال ہی ہوں گے جو اللہ نے مجھے اتنا اچھا شوہر عطا کیا ہے۔“ وہ ا س کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ حمزہ نے ابرو اٹھائی۔
”بس کر ظالم‘میرا ہاضمہ اتنا اچھا نہیں ہے۔“ وہ ہنسی اور دوبارہ اس کے گلے لگ گئی۔
”کیا کرتی ہو تم سارا دن؟“ اس کے بالوں کو سہلاتے ہوئے‘ وہ آج پہلی بار اس کی مصروفیات پوچھ رہا تھا۔ حیا نے اس کے سینے سے سر اٹھایا اور خفگی سے اسے دیکھا۔
”تمہارا انتظار۔“ وہ دوبارہ تم پر آ گئی تھی۔
”تم دو ہفتے پہلے اسلام آباد گئی تھی نا کسی سیشن کے سلسلے میں؟“ حیا واپس پیچھے گھاس پر چوکڑی مار کر بیٹھ گئی۔ حیا کو یاد آیا،وہ اس کی زندگی کا پہلا سیشن تھا۔اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
”تم سرٹیفائیڈ ٹرینر ہو؟“
”ہاں‘ میں نے انسٹیٹیوٹ سے پروفیشنل سرٹیفکیٹ لیا ہے۔“ وہ ڈاکٹر ہارون کے انسٹییوٹ سے کیے جانے والے کورسز کی تفصیل بتانے لگی۔
”تم اگر چاہو تو باقاعدہ طور پر ٹرینر کی سروسز دینا شروع کر دو۔ جب کچھ آتا ہے تو ضائع کیوں کر رہی ہو اپنا ٹیلنٹ؟“
”لیکن مجھے اب تمہارے ساتھ ہی رہنا ہے۔ اسلام آباد نہیں جانا۔“وہ ضدی لہجے میں بولی۔
”ہاں تو تم فری لانسنگ کر سکتی ہو۔ بس ایک فیسبک اکاؤنٹ بناؤ‘ اپنا پیج بناؤ اور سروسز دو۔ اور جو ڈرائنگ روم کے ساتھ کمرہ ہے‘پورچ کے پاس‘تم اسے اپنا آفس بنا لو۔“ اس نے حیا کے تمام مسئلے چٹکیوں میں حل کر دیے تھے۔
”تمہاری فیسبک آئی ڈی ہے؟“وہ اس سے مزید پوچھ رہا تھا۔
”نہیں۔“
”اچھا اپنا فون لاؤ ادھر۔“ حمزہ نے اس کے ہاتھ سے فون پکڑا۔ فیس بک انسٹال کی اور اس کی آئی ڈی بنانے لگا۔
”تمہارا پورا نام کیا ہے؟“
”حیا حمزہ فیاض بیگ۔“ وہ جھٹ سے بولی اور حمزہ کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر سر ہلایا۔
”نائس نیم….“وقفہ دیا اور دوبارہ بولا۔ ”آف یور ہسبنڈ۔“حیا سر پیچھے گرا کر ہنسی تھی۔
”مائی ہسبنڈ از آلسو نائس۔“ حمزہ اس کے یوں برملا اظہار پر گڑبڑایا اور بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔ ”ٹڈی۔“
”کیا کہا تم نے؟“حیا کو لگا اس نے غلط سنا ہے۔
”کیا کہا ہے؟ کچھ بھی تو نہیں کہا۔“حمزہ نے فون ہاتھ میں ہلاتے ہوئے حیرت سے پوچھا۔
”تم نے مجھے ٹڈی کہا؟“
”خدا کا خوف کرو حیا۔“حمزہ نے اسے گھورا۔آدھی ناراضگی تو اپنا نام حمزہ کے منہ سن کر ہی ختم ہو گئی تھی‘تبھی وہ ماتھے پر مصنوعی بل لیے اسے دیکھتی رہی اور وہ اپنی مسکراہٹ دباتا اس سے پوچھ پوچھ کر اس کا فیسبک پروفائل مکمل کرتا رہا۔ جب وہ مکمل کر چکا تو اس نے سر اٹھایا وہ اب بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
”یہ تمہاری آئی ڈی اور پیج دونوں بن گئے۔“وہ اس کی خفگی کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا اور حیا نے اپنا فون اس کے ہاتھ سے لیا۔ حمزہ اب اپنے فون پرہاتھ چلا رہا تھا اور تبھی حیانو ٹیفکیشن آیاتھا۔
”حمزہ فیاض بیگ نے آپکی دوستی کی گزارش قبول کر لی ہے۔“وہ حیا کی آئی ڈی سے خود کو فرینڈ ریکویسٹ بھیج کر اب قبول بھی کر چکا تھا۔ اور جب آپ کو کسی سے محبت ہو تو اس سے خفا رہنے کو بھی دل نہیں کرتا۔ اپنی آئی ڈی میں حمزہ کا نام دیکھ کر ا سکا موڈ ایک دم ٹھیک ہو گیا تھا تبھی وہ چہک کر بولی۔
”حمزہ‘چلو نا آئس کریم کھانے چلتے ہیں۔“ حمزہ نے اچنبھے سے اسے دیکھا۔
”کس خوشی میں؟“
”میں نے پہلی بار تم سے اپنی محبت کا اظہار کیا تو آئسکریم تو بنتی ہے۔“
”پہلی بار؟ مجھے لگا یہ تیسری بار ہے۔“ وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ حیا نے حیرانگی سے اسے دیکھا‘وہ پورچ میں کھڑی گاڑی کی طرف جا رہا تھا۔ حیا اس کے پیچھے آئی تھی۔
”تیسری بار کیسے؟“ حمزہ نے کندھے اچکائے۔
”بتاؤ نا‘تیسری بار کیسے۔“وہ بے تاب ہو رہی تھی۔
”تیسری بار اب‘دوسری بار بیسمنٹ میں اور پہلی بار۔۔۔۔“ وہ کہتے کہتے چپ ہو گیا مگر اس کی آنکھوں کی شرارت اور لبوں پر بکھری گہری مسکراہٹ نے حیا کا سسپنس اور بڑھا دیا تھا۔
”پہلی بار کب؟“
”کسی نے ہسپتال میں بھی مجھ سے کہا تھا کہ وہ مجھ سے بہت پیار کرتی ہے اور شاید میرا ہاتھ بھی….“ اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا اور حیا ڈھیٹ ہوئی تھی۔ اسے اچھی طرح یاد تھا وہ بے ہوش حمزہ کے سر پر کیا کیا بول کر آئی تھی اور کیسے اس کا ہاتھ چوم کر آئی تھی اور اس وقت وہ اسے باور کروا رہا تھا۔
”ویسے مجھے افسوس ہے تب میں کوئی جواب نہیں دے سکا۔“ وہ بیک وقت تاسف اور لا پرواہی سے بولا اور حیا نے دانت پیسے۔
”تمہاری یادداشت چلی ہی جاتی تو بہتر تھا۔“ جوابا حمزہ ہنسا تھا اور حیا نے منہ بنایا۔ ”تم برے ہو۔“
”تم سے زیادہ نہیں۔“ وہ بھی اسی رو میں بولا تو دونوں ہنس دیے۔ تبھی حمزہ کا فون بجا‘ اس نے فون کان سے لگا کر دوسری طرف کی بات سنی اور پھر فون بند کر دیا۔
”ہم کل چلیں آئسکریم کے لیے‘اٹس ویری ارجنٹ مجھے ابھی جانا ہو گا۔ان فیکٹ کل شام کو ڈنر کے لیے چلیں گے، کھانا مت بنانا۔“ معذرت خوانہ انداز میں کہتا وہ حیا کے جواب کا انتظار کیے بغیر گاڑی میں بیٹھ گیا اور چند سیکنڈز بعد حیا کی آنکھوں کے سامنے گاڑی گیٹ سے باہر نکل رہی تھی۔ جانے وہ وہاں کتنی دیر اور کھڑی گیٹ کو دیکھتی رہتی اگر اس کا فون نہ تھرتھراتا۔شیری کا میسج تھا۔
”بھائی گھر پر ہیں؟“ حیا نے ایک لفظی جواب دیا تھا۔
”نہیں۔“ اور آگے سے بے زاریت سے آنکھیں بند کیا ہوا ایمو جی بھیجا گیا تھا۔ حیا نے ایک گہری سانس خارج کی۔
”اب پولیس والے سے شادی کی ہے تو یہ سب تو برداشت کرنا پڑے گا نا۔ ”اپنے دل پر ہاتھ مارتے ہوئے وہ خود کو تسلی دے رہی تھی۔ شیری سے بات کرتے ہوئے وہ لان عبور کرتے عقبی دروازے کی طرف بڑھی، ایک بار پھر اس کا فون تھرتھرایا تھا۔ اسے ای میل موصول ہوئی تھی۔ اور ای میل کھولتے ہی حیا کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(سات سال بعد)
ویمن کالج کی پر شکوہ عمارت کے باہر وہ گاڑی کے پاس کھڑا تھا۔اس کے ساتھ ایک تین سال کا بچہ کھڑا تھا۔وہ دونوں ایک طرح سے ڈریسنگ کیے ہوئے تھے۔ کمانڈو شرٹ کے نیچے نیلی جینز۔ بس دونوں کے سائز میں فرق تھا۔
وہ پچھلے پندرہ منٹ سے بچے کو کہیں جانے کے لیے منا رہا تھا،مگر بچہ آگے سے مسلسل بحث کر رہا تھا۔ایک بار تو اس کا دل چاہا اسے دو تھپڑ لگائے، اٹھا کر گاڑی میں ڈالے اور قریبی آئس کریم پارلر سے اپنی فیورٹ آئس کریم کھا آئے۔ تب تک اس کی ماں بھی فری ہو جائے گی تو وہ کھانا کھانے ریسٹورنٹ چلے جائیں گے۔مگر اس کی ماں سے ہی تو ڈر لگتا تھا۔تو جینز کو زرا اوپر کرتے،وہ اس کے سامنے بیٹھ گیا تھا۔
”بابا کی جان نہیں ہو پھر؟ وی بوتھ ول ہیو فن‘ماما کو پتا بھی نہیں چلے گا۔“ وہ اب اسے نئے سرے سے منا رہا تھا۔
”نو۔“ بچے نے دو ٹوک جواب دیا اور ننھے بازؤں کو سینے پر باندھتے دوسری طرف دیکھنے لگ گیاتھا۔حمزہ تھوڑی دیر بیٹھا یوں ہی اسے دیکھتا رہا پھر بڑبڑایا۔
”ٹڈا۔“بچے نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا‘ہاتھ سینے سے ہٹا کر کمر پر رکھے۔
”یو تالڈ می ٹدا؟ (یو کالڈ می ٹڈا؟)“ شاید اسے باپ سے اس لفظ کی توقع نہیں تھی۔تو وہ اپنی بچگانہ توتلی زبانمیں بولا۔حمزہ نے ہلکے سے شانے اچکائے۔ ” ٹڈی کا بیٹا ٹڈا ہی ہوتا ہے۔“کہہ کر وہ کھڑا ہونے لگا تو بچے نے دونوں کانوں کو ہاتھ لگایا۔اور بچوں کی زبان میں بولا۔ ”استفراللہ (استغفراللہ)۔“
اب عمارت سے اندر جاؤ تو اس بچے کی ماں سیمینار ہال کے باہر راہداری میں پرنسپل کے ساتھ چلتی قدم ہال کی طرف بڑھا رہی تھی، جہاں سینکڑوں لڑکیاں اس انسپریشنل اسپیکر کی منتظر تھیں۔ وہ سفید شرٹ پر اورنج بلیزر پہنے ہوئی تھی۔ بالوں کو آگے سے اٹھا کر پیچھے اونچی پونی بنا رکھی تھی،جو اس کے چلنے سے ادھر ادھر جھول رہی تھی۔
اس نے ہال میں قدم رکھا،کچھ لڑکیاں کھڑی ہو گئیں،کچھ نے بیٹھے بیٹھے ہاتھ اوپر اٹھا کر تالیاں بجائی, سیٹیوں کی آواز آئی۔گویا سب اس کو جانتی ہوں۔احترام کے ساتھ اسے زمین سے چند انچ اونچے اسٹیج پر رکھی کرسیوں تک لے جایا گیا۔
بغیر کسی تاخیر کے پروگرام کا آغاز ہوا،اور اب کالج کی ہی ایک لڑکی اس موٹیویشنل اسپیکر کا تعارف کر وا رہی تھی۔
”ہماری مہمان کسی بھی تعارف کی محتاج نہیں ہیں، ہم سب ان کو جانتے ہیں۔آج سے تین سال پہلے وہ پہلی بار ہمارے کالج آئی تھیں۔آج پھر ہمیں ان کو سننے کا شرف مل رہا ہے۔ہماری مہمان انسانی نفسیات اور مینٹل ہیلتھ پر لکھی جانے والی دو کتابوں کی مصنفہ ہیں،اور مینٹل ہیلتھ پر لکھی گئی ان کی کتاب عالمی ایوارڈ کے لیے نامزد ہے۔“ہال میں تالیاں گونجی تو لڑکی چپ ہو گئی۔ مہمان خاتون نے سر کے خم سے سب کا شکریہ ادا کیا۔
”میں آپ سب کا وقت ضائع کیے بغیر اپنی مہمان سے گزارش کروں گی کہ وہ آئیں اور اپنے الفاظ سے ہمیں شفا یاب کر دیں۔آپ سب کی بھر پور تالیوں میں۔“ پھر لڑکی نے کرسی پر بیٹھی مہمان کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
”مسز حیا حمزہ فیاض بیگ۔“
حیا مسکراتی ہوئی کھڑی ہوئی۔اور اعتماد سے چلتی روسٹرم کے پیچھے جا کھڑی ہوئی۔مائیک سیدھا کیا اور ہال میں خاموشی چھاتی گئی۔ وہ مسکرا کر ہال میں بیٹھی لڑکیوں کو دیکھ رہی تھی۔ (ہاں پبلک اسپیکنگ کا پہلا نقطہ ہے کہ اپنے حاضرین پر مسکراتے ہوئے ایک گہری نظر ڈالی جائے،آتے ہی بولنا شروع نہ کیا جائے)
”اسلام علیکم حسیناؤ۔“ وہ اپنے حاضرین کے مطابق الفاظ کا چناؤ کر رہی تھی۔ ہال میں کھلکھلاہٹ ہوئی،تالیاں بجی۔ اور اونچی آواز میں سلام کا جواب آیا۔ اور کچھ سیکنڈ وقفے وقفے سے مختلف کونوں سے سلام کا جواب دیا جاتا رہا۔
”میں جب اپنے سامنے اتنی لڑکیوں کو دیکھتی ہوں تو مجھے عجیب سی مسرت ہوتی ہے۔ کیوں کہ میں جانتی ہوں میری یہ بات یہاں موجود چھ سو لڑکیوں تک نہیں بلکہ چھ سو نسلوں تک پہنچنے والی ہے۔“
”بیٹا اگر لڑکی سمجھدار ہو، تمیز دار ہو،ہمبل ہو تو نسلیں سمجھدار، تمیز دار اور ہمبل ہوتی ہیں۔آپ کہتے ہیں نا کہ لڑکی سسرال جا کر ان کے رنگ میں ڈھل جاتی ہے،میں کہتی ہوں لڑکی کے پاس اگر علم ہے اور دینے والا ہاتھ ہے، تو وہ سسرال والوں کو اپنے رنگ میں ڈھال سکتی ہے، بشرطیکہ وہ صبر سے کام لے۔“
”بیٹا تعلیم اگر آپ کا رہن سہن اور انداز نہیں بدلتی نا تو آپ جاہل ہیں۔تعلیم آپ کے اندر نور پیدا کرتی ہے اور نور کا مطلب ہے کہ پڑھے لکھے اور ان پڑھ کے انداز میں فرق ہو۔“
”بچے‘ ماں ہونا بہت بڑی ذمہ داری ہے، صرف بچوں کو پیدا کر کے پھینک نہیں دینا ہوتا کہ خود سیکھ لے گا۔میں جب ماں بنی تو تب مجھے احساس ہوا کہ یہ تو بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ایک بچے کی پوری زندگی اس بات پر منحصر ہے کہ آپ اس کی تربیت کیسی کرتے ہیں۔ یو آر شیپنگ آ لائف۔ میں نے میرے بیٹے کو پازیٹو بنانے کے لیے پہلے خود کو پازیٹو بنایا، اور یقین کریں میرے شوہر صاحب نے پوری کوشش کی کہ وہ اسے بگاڑ دیں۔“
ہال میں کھلکھلاہٹ ہوئی۔ اور وہ خود بھی مسکرانے لگ گئی۔
”میں نے صرف ارہاب کو نہیں پالا،اس کے ابا کو بھی نئے سرے سے سب سکھایا ہے۔ اور میرے شوہر نے مجھے سنا کیونکہ میرے پاس علم تھا شاید۔ اور میں امید کرتی ہوں اب جبکہ میں یہاں ہوں، تو وہ اپنے سارے بدلے میرے بچے سے نہ لے رہا ہو۔“کہہ کر وہ خود ہی ہنس دی۔
اب دوبارہ باہر آؤ تو ارہاب اب بھی اسے گھور رہا تھا اور حمزہ سوچوں میں گم نظر آتا تھا۔
ارہاب کی زبان سے استغفراللہ سن کر اسے تین سال پہلے کا وہ دن یاد آیا،جب ارہاب پیدا ہوا تھا۔ وہ ابھی کراچی سے آیا تھا اور سیدھا ہسپتال پہنچا تھا۔ حیا کے لیے پرائیویٹ روم پہلے ہی وہ لے چکا تھا۔ وہ اندر گیا تو حیا کی آنکھیں بند تھیں،وہ شاید سو رہی تھی۔حمزہ اس کے پاس پڑے اسٹول پر بیٹھ گیا تھا۔ اس نے ایک ہاتھ حیا کے ماتھے پر رکھا اور دوسرے میں اس کا ہاتھ لے کر ہونٹوں سے لگایا۔ ”سوری‘ میں یہاں نہیں تھا تمہارے پاس۔“ آہستہ سے بولتا وہ اس کے ماتھے پر جھکا، ماتھا چوما اور پھر سر اس کے سر سے لگائے یوں ہی بیٹھا رہا۔
”تم کافی دیدہ دلیر نہیں ہو گئے۔“ حیا نے بند آنکھوں سے کہا اور وہ محظوظ ہوتے ہوئے سیدھا ہوا۔حیا نے آنکھیں کھولیں۔تھوڑی دیر وہ حمزہ کے چہرے کے تاثرات سمجھنے کی کوشش کرتی رہی۔ وہ مسکرا رہا تھا،حیا نے اٹھنا چاہا تو وہ اسے سہارا دے کر پیچھے تکیہ سیٹ کرنے لگا۔حیا کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھا۔حیا کی آنکھوں میں آنسو اور ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ آنسو کونوں سے باہر آنے کو بے تاب تھے۔حمزہ نے آنسو انگلی سے صاف کیے۔ اور گردن دائیں بائیں ہلاتے رونے سے منع کیا۔اور اسٹول کھینچ کر اس کے اور پاس ہو گیا۔حیا کی دسترس میں آیا تو زرا آگے ہو کر اس نے اپنا سر حمزہ کے سینے سے لگا دیا۔ اور سارے ضبط ٹوٹ گئے۔ وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگ گئی تھی۔حمزہ کی اپنی آنکھوں میں نمی اترنے لگی تھی۔مگر وہ بس اس کا سر تھپکتا رہا۔اور ٹھوڑی اس کے سر پر ٹکا دی۔ اللہ نے چار سال بعد ان کو اس اولاد کی نعمت سے نوازا تھا۔ چار سال شاید زیادہ نہیں تھے،مگر جب انسان کسی چیز کی طلب کرنے لگے تو ایک دن بھی پہاڑ بن جاتا ہے۔وہ بھی ایک دوسرے کو تسلیاں دے دے کر دن گزار رہے تھے۔حیا ڈپریشن کی طرف جانے لگ گئی تھی۔ اور حمزہ نے اسے ایک ماہ کے لیے ردابہ کے پاس بھیج دیا تھا، جہاں سے وہ بہت سی پازیٹویٹی لے کر آئی تھی۔حیا رو رو کر نڈھال ہو گئی تو اس کے سینے سے سر ہٹایا۔وہ اب سائڈ ٹیبل سے ٹشو لے کر اس کا چہرہ صاف کر رہا تھا،جو آنسوؤں سے تر تھا۔ ”اب مت رونا ہاں؟“حیا نے اثبات میں سر ہلایا اور حمزہ نے اس کے ماتھے کو چوما۔
”چلو اب ہیرو دکھا دو اور کتنا انتظار کروانا ہے؟“ کمرے میں ادھر ادھر دیکھتے وہ بے تابی سے بولا اور حیا نے مسکرا کر سر ہلایا۔”نرس گئی ہے۔“ تھوڑی دیر بعد نرس ہاتھ میں ایک ننھی سی جان کو پکڑے اندر آئی،اس کے ساتھ ایک سینئر ڈاکٹر بھی تھا جو عمر میں بھی خاصا تھا۔ نرس نے بچہ حمزہ کے ہاتھوں میں دیا۔ڈاکٹر نے بچے کی طرف انگلی سے اشارہ کیا۔
”لیجیے اپنا کارنامہ۔“ حمزہ نے آنکھیں سکیڑ کر ڈاکٹر کر دیکھا،پھر بچے کو اور حیا کی طرف دیکھ کر بولا۔” استغفراللہ۔“ ڈاکٹر اور نرس ایک ساتھ ہنسے تھے۔حمزہ نے بچے کو چوما اور حیا نے ہنستے ہوئے اس کے بازو پر ہاتھ مارا۔
تبھی اسے احساس ہوا کوئی اسے ہلا رہا ہے۔ اس نے چونک کر دیکھا ارہاب اس کی ٹانگ پکڑ کر ہلا رہا تھا۔
”وائے آر یو سمائلنگ؟“ وہ اب بھی غصے میں تھا۔ حمزہ دوبارہ اکڑوں بیٹھا۔ارہاب کو گلے لگایا اور پھر اس کا گال چوما۔
”بکز آئی لو یو۔“
اب دوبارہ اندر سیمینار ہال میں آ جاؤ۔ وہ کہہ رہی تھی۔
”لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں شادی کب کرنی چاہئیے،تو اس کا میں ایک جملے میں جواب دوں گی کہ جب آپ چاہے لڑکا ہو یا لڑکی جب وہ ذمہ دار ہو جائے،ذمہ داریاں اٹھانا سیکھ جائے تو اس کی شادی کرنی چاہئیے اس سے پہلے شادی کرنا زیادتی ہو گی، اس بندے کے ساتھ جس سے آپ اس غیر ذمہ دار کی شادی کروا رہے ہیں۔“
”ماں بچے کو برباد کر سکتی ہے۔میرے آفس میں ایک اولڈ کپل آیا کہ بچہ ہاتھ سے نکل گیا ہے،نشہ کرتا ہے،اتنا پیسہ ہے پر وہ گھر سے چوریاں کرتا ہے۔مار کٹائی کرتا ہے، میں نے ان کو تحمل سے سنا اور پھر معذرت کے ساتھ ان خاتون سے مخاطب ہوئی کہ میڈم یہ آپ کی غلطی ہے، آپ نے وقت پر اس کے باپ کو بتایا ہوتا اور وقت پر اس کے کان کھینچے گئے ہوتے تو آج یہ نہ ہوتا۔مگر مائیں پردے ڈالتی رہتی ہیں، سوچتی ہیں بھلا کر رہی ہیں بچے کا۔پر وہ اپنے بچے کے ساتھ زیادتی کر رہی ہوتی ہیں۔“
”ہم کیا کرتے ہیں بچہ بگڑ جائے تو ذمہ داری نہیں لیتے اللہ سے کہتے ہیں یا اللہ یہ تیرے بھروسے۔او بھئی‘اللہ نے آپ پر بھروسہ کیا تھا تبھی تو آپ کے پاس بھیجا۔ہاں آپ اللہ سے مدد ضرور مانگیں۔“
”پتا ہے ہماری بچیاں کیوں ساری زندگی مظلوم بن کر گزار دیتی ہیں؟ کیونکہ ان میں اتنی قابلیت ہی نہیں ہوتی کہ اپنے لیے اسٹینڈ لے سکیں۔پتا ہے ظالم شوہر نے گھر سے نکال دیا تو ماں باپ کو بوجھ اٹھانا پڑے گا،تو ساری زندگی ظلم سہتے گزار دیتی ہیں۔ بچے! اپنا کیرئر بنانا، خود مختار بننا پھر شادی کرنا۔ اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ آ پ دھونس جماتی رہو کہ میں خود مختار ہوں،تمہیں چھوڑ دوں گی۔ اونہوں! صبر تحمل سے اپنی شادی کو کامیاب بنائیں۔ اور صبر کریں برداشت نہیں، کیونکہ حکم صبر کا ہے۔“ ردابہ کے الفاظ دہراتے وہ اپنی مسکراہٹ چھپا نہیں سکی تھی۔تالیاں بجی تو وہ چونکی۔
”اب سب سے آج کی اہم بات۔ دیکھوبیٹا! دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، پہلے بکٹ اور دوسرے ڈائپر۔“ ڈائپر کے لفظ پر سرگوشیاں ہوئیں،کھلکھلاٹ سنائی دی۔
”بیٹا بکٹ وہ لوگ ہوتے ہیں جو آپکو انرجائز کرتے ہیں۔جن کے ساتھ ہونے سے آپ موٹیویٹ محسوس کرتے ہیں، اور ڈائپر وہ ہوتے ہیں جن کو آپ کچھ بتاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں تمہارے بس کی بات نہیں ہے۔ چاہے مذاق میں ہی، مگر وہ آپ کی اونچی سوچ کا مذاق اڑاتے ہیں۔آپ ان کے ساتھ لو محسوس کرتے ہیں یہ ڈائپر آپ کی انرجی چوس لیتے ہیں، اور بکٹ آپ کو انرجی سے بھر دیتے ہیں۔کوشش کریں آپ کی زندگی میں بکٹ ڈائپر سے زیادہ ہوں۔ اب دیکھ لیں آپکی زندگی میں بکٹ کون ہے اور ڈائپر کون ہے۔“ وہ چپ ہوئی اور ہال سے تم بکٹ، تم ڈائپر جیسی آوازیں آنے لگ گئی۔ کہیں سے قہقے بلند ہونے لگے۔پھر حیا نے اپنا فون اٹھا کر کانٹیکٹ لسٹ دکھا کر ایک نمبر ڈائل کیا،جب وہ اسکرین پر بڑا نظر آنے لگا،تو اس نے فون کو حاضرین کی طرف گھمایا۔ سامنے بیٹھے لوگوں نے دیکھا وہاں انگریزی میں ‘ مائی بکٹ’ لکھا تھا۔
”ہی از مائی ہسبنڈ۔“ اور پھر تالیاں بجی اور بجتی چلی گئیں۔تبھی کال پک ہو گئی۔ حیا نے مسکراہٹ دباتے فون کان سے لگایا۔دوسری طرف سے فوراً اواز آئی۔
”یہ اپنا پیس سنبھالو‘تب سے یہ مجھے اخلاقیات کے لیکچر دے رہا ہے۔“ وہ مصنوعی خفگی دکھا رہا تھا۔ فون مائیک کے پاس ہونے سے آواز پورے ہال میں گئی، اور سب نے جان دار قہقہے لگائے۔حیا نے مسکرا کے ہال کی طرف کندھے اچکائے۔اور پھر فون پر بولی۔”آئی ایم ان سیشن، ول بی دئیر ان تھرٹی منٹس۔“ اور بات سنے بغیر فون کاٹ دیا۔
”یہ سب بتانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ آپ اگر خوش اور کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہیں، تو اپنی زندگی کے بکٹس کا تعین کر لیں۔اگر آپ میں سے دس لڑکیاں بھی میری بات پر عمل کرتی ہیں تو میں سمجھوں گی میں نے دس نسلوں کی تربیت میں اپنا کردار ادا کر دیا۔“ لڑکیوں نے بھر پور انداز میں تالیاں بجائی اور ان شاء اللہ کہا۔
اب دوبارہ باپ بیٹے کی طرف آ جاؤ۔
”آئی لو یو ٹو بابا۔“ بچے نے اپنے ننھے بازو اس کی گردن میں ڈالے۔”چلو پھر آئس کریم کھانے چلتے ہیں۔“ حمزہ نے اسے خود سے الگ کیا اور انگلی پکڑ کر مڑا۔مگر بچہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا، حمزہ جھلا کر واپس مڑا بچے نے انگلی اٹھا کر دائیں بائیں ہلائی۔”ناٹ ود آؤٹ ماما۔“ اب حمزہ نے اسے گھورا اور جھک کر کندھے پر اٹھا لیا۔
”تمہاری ماما کو دیکھ لوں گا میں۔“ارہاب ہاتھ پاؤں مارتا رہا۔
”آئی ول ٹیل ماما۔“
”وہ آپ کو ڈانٹیں گی۔“
”شوٹے بچے ماما سے پوچھے بغیر کہیں نہیں جاتے۔“
وہ حمزہ کے سر پر ہاتھ مار رہا تھااور ماں کے سکھائے سبق دہرا رہا تھا۔حمزہ نے گاڑی کا دروازہ کھولا، ارہاب کو گود میں بٹھا کر ایک ہاتھ اس کے گرد لپیٹا۔وہ اب بھی اچھل رہا تھا۔اور دوسرے ہاتھ سے اگنیشن میں چابی گھمائی۔ اور گاڑی ارہاب کے شور کے ساتھ زن سے سڑک کی طرف بڑھ گئی۔
حیا ان دونوں سے انجان اب اسٹیج پر بیٹھی ٹیچرز کی طرف مڑی، اور ان کو مخاطب کیا۔ ”میڈم مار نہیں پیار۔“ کہہ کر وہ مسکرائی اور پھر آگے بولی۔
”اب اساتذہ ہاتھ سے نہیں زبان سے مارنے لگ گئے ہیں۔اور زبان سے لگے گھاؤ ان بچیوں کو ڈھیٹ اور ضدی بنا دیتے ہیں ان کی شخصیت تباہ کر دیتے ہیں۔تو اخلاق اچھا کر لیں یہ بچیاں آپکا احترام کرنا شروع کر دیں گی۔صرف ٹیچر مت بنیں وہ استاد بنیں،جن کا ذکر یہ کسی اسٹیج پر کھڑی ہو کر فخر سے کر سکیں۔“ پھر وہ ہال کی طرف مڑی۔
”اگر آپکی تعلیم آپ کو با اعتماد،کریٹو اور با کردار نہیں بنا رہی تو یقین کریں آپ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔اور بچے کردار صرف زنا،شراب نوشی اور جھوٹ بولنے سے خراب نہیں ہوتا یہ محض کردار کا ایک جز ہیں، اگر آپ امتحان میں چیِنگ کرتے ہیں۔اگر ٹیچر اپنا کام ایمانداری سے نہیں کرتا،اگر ایک انسان کا کام ہی سکھانا نہیں اور وہ ٹیچر بن جائے، یا ایک بندی جس کا کام سکھانا ہے اور وہ کچھ اور بن جائے، تو یقین کریں یہ ان طلبا اور ان مریضوں پر ظلم ہے۔آپ کے کردار پر سیاہی ہے۔“
”اور آخری بات! آپ اوریجنل ہیں، کاپی بننے کی کوشش مت کیا کریں۔خدارا اپنی زندگی کا مقصد ڈفائن کر لیں،ورنہ جانوروں اور ہم میں کوئی فرق نہیں۔“
”شکریہ مجھے برداشت کرنے کے لیے۔“ وہ اب اپنی کرسی کی طرف جا رہی تھی۔ٹیچرز نے کھڑے ہو کر اسے رسیو کیا۔لڑکیوں نے کھڑے ہو کر ہاتھ بلند کر کر کے تالیاں بجائی۔
تبھی اس کی ٹیم سے ایک بندے نے آ کر اس کے کان میں سر گوشی کی اور اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔آنکھوں میں نمی ابھرنے لگی،اور ووہ معذرت کرتی کھڑی ہو گئی۔ابھی لڑکیاں اس سے بات کرنا چاہتی تھی اپنے مسائل ڈسکس کرنا چاہتی تھی،مگر وہ اپنی چودہ رکنی ٹیم کے ساتھ لمبے لمبے قدم اٹھاتی باہر کی جانب بھاگی۔پیر کہیں رکھتی اور پڑ کہیں رہا تھا۔ آنکھوں سے آنسو لڑھکنے لگے تھے۔دماغ سائیں سائیں کرنے لگا تھا،آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا۔اس کی ٹیم کی لڑکیاں لڑکے اس کے پیچھے اور ساتھ بھاگ رہے تھے۔ اسے تسلی دے رہے تھے، مگر اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔تبھی اس نے اپنے ہینڈ بیگ سے اپنا فون نکالا لاسٹ ڈائیلڈ نمبر نکالا،اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔فون کان پر لگانے سے پہلے وہ گر گیا۔اس نے اٹھانے کی بھی زحمت نہیں کی بس پارکنگ کی طرف بھاگ رہی تھی۔گاڑی میں بیٹھ کر اس نے ڈرائیور کو گاڑی پاس میں موجود آئس کریم پارلر کی طرف لے جانے کو کہا۔ایک لڑکے نے حمزہ کا نمبر ملا کر فون اسے تھمایا، اور خود پیچھے بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں سے اب آنسو گرتے جا رہے تھے۔ دوسری طرف سے آواز آئی تو فوراً بولی۔
”ہیلو،ہیلو حمزہ‘ارہاب….حمزہ‘مجھے میرا ارہاب چاہئیے…حمزہ۔“وہ اب آواز سے رونے لگ گئی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
گاڑی سڑک پر دوڑ رہی تھی۔حمزہ نے ارہاب کو ایک ہاتھ میں کس کر پکڑا ہوا تھا اور دوسرا ہاتھ اسٹیئیرنگ پر تھا۔ وقفے وقفے سے وہ ارہاب سے ہاتھ ہٹا کر گئیر پر رکھ لیتا۔ارہاب نے احتجاج بند کر دیا تھا مگر اپنی ماما کے نام سے اب تک اسے ڈرا رہا تھا۔
”بابا‘ماما ول سکولڈ اس(ماما ہمیں ڈانٹیں گی)“ وہ اسے انجام سے باخبر کرتا رہا، حمزہ کبھی سڑک پر دیکھتے مسکراتا اور کبھی جھک کر اس کا گال چوم لیتا۔
”بابا‘ وی شوڈ کال ماما ٹو، شی لو ایکسریم۔“ اس نے سر پیچھے گرا کر باپ کو دیکھا اور حمزہ نے منہ بنایا۔
”بیٹا کہیں تو ماما کو اکیلے رہنے دیا کرو‘وہ ہمیں دیکھ دیکھ کر تھک جاتی ہیں“۔ وہ سڑک پر دیکھتے بولا تو ارہاب تھوڑی دیر بات سمجھنے کی کوشش کرتا رہا۔
”ماما ہیٹ اس؟“ اس نے نتیجہ نکالا اور حمزہ نے ابرو اٹھا کر اسے دیکھا۔اور نظر دوبارہ سڑک پر جما دی۔
”بابا‘ماما ہیٹ اس؟“اس نے پھر پوچھا تو حمزہ نے موڑ کاٹتے الٹا اس سے سوال پوچھا۔
”یو ٹیل۔“
”شی لوز اس الاااااااااااٹ۔“ساتھ ہی اس نے بازو پھیلائے۔”…اتنا۔“اور حمزہ ہنسا۔” یس شی لو اس اتنا سارا۔“
”اور ہمارے ارہاب کو ماما سے زیادہ پیار ہے کہ بابا سے۔“ حمزہ نے عام سا سوال پوچھا اور ارہاب نے اوپر دیکھ کر آنکھیں گھمائیں۔
”آئی لو بوتھ۔“ اس نے تین انگلیاں اٹھائیں تو حمزہ نے مسکراتے ہوئے ایک انگلی بند کی۔
”دس از ٹو۔“وہ اب دو انگلیاں الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا۔اور پھر بڑبڑایا۔”یس! دس از ٹو۔“
”اوکے ناؤ چوز ون…….ماما یا بابا؟“
”دونوں۔“وہ اب اوپر اٹھ کر سڑک پر دوڑتی گاڑیاں دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔حمزہ نے بازو اس کے گرد باندھ لیا۔
”چوز ون۔“
”دونوں۔“ وہ بار بار کے سوال سے اب زچ آ رہا تھا. تو حمزہ سے پوچھا۔
”یو ٹیل ماما اور اہاب؟“اپنا نام اس نے ‘ ر ‘ کے بغیر لیا اور حمزہ نے فوراً کہا۔
” حیا۔“ ارہاب کی اٹھنے کی کوشش ڈھیلی پڑ گئی اور اس نے سر اٹھا کر ظالم باپ کو دیکھا۔پھر اس کا بازو خود سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگا۔ حمزہ مسکراہٹ دباتے آئس کریم پارلر کے سامنے گاڑی پارک کرنے کو جگہ دیکھ رہا تھا۔ارہاب کو اس نے ساتھ والی سیٹ پر بٹھایا اور وہ دونوں بازو سینے پر باندھ کر نچلا ہونٹ باہر نکالے اپنے جوتوں کو دیکھنے لگا۔حمزہ نے گاڑی ایک طرف لگائی،اور اس کی طرف مڑا۔
”آپ نے بھی تو ماما کو چوز کیا۔“ حمزہ اس کی ناراضگی دور کر رہا تھا۔اس نے بنے منہ کے ساتھ سر اٹھایا۔”آئی سیڈ دونوں۔“ ایک ہاتھ سینے سے ہٹا کر تین انگلیاں دکھائی اور حمزہ نے ایک اندر کر دی،مگر اس نے دوبارہ نکال لی تھی۔جو اظہار تھا کہ وہ ناراض ہے۔حمزہ اسے مناتا رہا مگر وہ کہاں مانتا تھا۔تبھی حمزہ نے اسے گود میں اٹھا کر اس کو اپنی ٹانگوں پر کھڑا کیا۔
” یار….تمہاری ماما نے اتنا پیارا ارہاب مجھے دیا ہے، اسی لیے تو میں اس سے پیار کرتا ہوں۔“ارہاب نے سر ہلایا،جیسے باپ کے پیار کی وجہ سمجھ آئی اور وہ منہ کھول کر ہنسا۔باپ کی گردن میں بازو ڈالے،اور منہ زرا سا کھول کر اس کا گال چومنے لگا۔ ہونٹ اس کے گال کے پاس لے کر جاتا،پھر پیچھے کرتا پھر گال پر رکھتا اور پھر ہنسنے لگ جاتا۔حمزہ نے اسے خود سے الگ کرتے اس کا گال چوما۔ اور اسے دوبارہ اس کی سیٹ پر بٹھایا۔
”میں آتا ہوں۔“ وہ باہر جانے لگا،تو ارہاب نے گاڑی کے شیشے پر ہاتھ مارا۔”اوپن اٹ۔“حمزہ نے کچھ سوچا ٹیک اوے سامنے ہی تھا اور رش بھی نہیں تھا زیادہ سے زیادہ پانچ‘سات منٹ ہی لگنے تھے،اور پھر بٹن دبا کر شیشہ کھول دیا۔دروازہ بند کرنے سے پہلے اس نے ارہاب کو تنبیہہ کی۔
” ماما کال کریں تو مت اٹھانا۔شی ول سکولڈ یو۔“بچے کو ماں سے ڈراتا وہ خود ٹیک اوے کی طرف چلا گیا۔
ٹیک اوے کی کھڑکی کے سامنے ایک لڑکا کھڑا اپنا آرڈر دے رہا تھا۔حمزہ نے مڑ کر گاڑی کی طرف دیکھا، ارہاب دوسری طرف شیشے سے باہر دیکھ کر ہاتھ ہلا رہا تھا۔حمزہ واپس ونڈو کی طرف مڑ گیا. لڑکا اب اپنا آرڈر رسیو کر رہا تھا۔ وہ ہٹا تو حمزہ نے دو الگ الگ فلیور کی آئسکریم بتائی۔تین، چار منٹ گزرے تو وہ گھڑی دیکھتے ارہاب کو دیکھنے کے لیے مڑا۔ اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔گاڑی میں ارہاب نظر نہیں آ رہا تھا۔گلے میں گلٹی ڈوب کر ابھری اور وہ گاڑی کی طرف بھاگا۔ پیچھے گو تھرو ونڈو پر کھڑے آدمی نے اسے آواز دی مگر وہ اب گاڑی کھول کر اندر دیکھ رہا تھا۔ وہ وہاں نہیں تھا۔حمزہ نے ایک ہاتھ کمر پر رکھا اور دوسرا ماتھے پر۔ اس کے کان دہکنے لگے تھے۔کہاں جا سکتا یے وہ. یا کون لے جا سکتا ہے۔اس کے دماغ میں جھماکے ہو رہے تھے۔دل کا ایک حصہ کسی نے مٹھی میں بھینچ لیا تھا۔
اس نے سیٹ سے اپنا فون اٹھایا،کسی کی کال نہیں تھی۔حیا! ہو سکتا ہے حیا نے کسی سے کہہ کر اسے منگوا لیا ہو۔ وہ اکثر یوں ہی کرتی تھی، مگر پہلے فون بھی تو کرتی تھی۔حمزہ نے لب کاٹتے حیا کا نمبر ملایا ساتھ ہی حیا کی تصویر بھی اسکرین پر ابھری۔مگر پھر اس نے کال کاٹ دی اور ایک اور نمبر ملایا۔یہ حیا کا ایونٹ آرگنائزر تھ۔سارم!
”ہیلو سر۔“وہ خوش دلی سے بولا تو حمزہ نے قدرے سوچتے اس سے پوچا”ارہاب وہاں ہے؟ ‘“ اور اگلا جواب حمزہ کے سر پر پہاڑ بن کر ٹوٹا تھا۔
”نہیں سر۔“
”اوکے… اوکے۔“اس نے فون کاٹ دیا اور کہنا بھول گیا کہ حیا کو اس کال کے بارے میں مت بتانا۔اب وہ فون میں ارہاب کی تصویر کھولے وہاں گزرتے لوگوں کو دکھا رہا تھا۔
ادھر حیا رو رو کر بے حال ہو گئی تھی، اور بار بار ڈرائیور کو تیز چلانے کی تاکید کر رہی تھی، اسے رہ رہ کر وسوسے آ رہے تھے۔چاہے حمزہ پولیس کی نوکری سے ریٹائر ہو چکا تھا،مگر دشمنیاں تو موت تک پیچھا نہیں چھوڑتیں۔نہیں وہ ارہاب کو نہیں کھو سکتے تھے۔ گاڑی رکی تو اس نے چونک کر سر اٹھایا، وہ آئس کریم پارلر کے باہر تھے۔ سامنے حمزہ کی گاڑی کھڑی تھی وہ تیزی سے اپنی کار سے باہر نکلی اور اس کی گاڑی کی طرف لپکی۔گاڑی میں کوئی نہیں تھا، قدم قدم بھاری تھا۔ اس نے فون پر حمزہ کا نمبر ملایا جو پہلی کال کے ساتھ ہی اٹھا لیا گیا۔
” حمزہ! ارہاب ملا؟“دل نے کہیں دعا کی کہ وہ مل گیا ہو۔ دوسری طرف سے پر سکون جواب آیا۔
”نہیں۔“
”حمزہ‘مجھے میرا بچہ چاہئیے۔“ وہ دوبارہ رونے لگ گئی تھی۔لوگ رک رک کر اسے دیکھ رہے تھے۔ ایونٹ آرگنائزر اسے تسلی دے رہا تھا۔پھر سامنے آتے انسان کو دیکھ کر وہ ٹھٹھکی۔ اسکی آنکھوں میں بے پناہ حیرت در آئی تھی، جو جلد غصے میں بدل گئی۔وہ حمزہ تھا جو دونوں ہاتھوں میں آئسکریم پکڑے باری باری منہ سے لگا رہا تھا۔
”ارہاب مل گیا؟“وہ امید سے اس کی طرف لپکی. اور اس نے کندھے اچکائے۔
”بتایا تو نہیں۔“
”حمزہ تمہیں احساس بھی ہے کہ ہمارا بچہ کھو گیا ہے۔“ اس کو آرام سے آئسکریم کھاتے دیکھ کر وہ آنسوؤں کے ساتھ دبی دبی چلائی۔
”تم ہی تو کہتی ہو ہمیں پریشان نہیں ہونا چاہئیے،کیونکہ ہو گا تو وہی جو اللہ نے لکھا ہے۔“ آئسکریم زبان سے لگاتے وہ بولا اور حیا کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔
”یہ بھی کہتی ہوں کہ اللہ نے انسان کے ہاتھ میں کوشش رکھی ہے اور…..“ وہ کچھ اور بھی کہنا چاہتی تھی مگر اگلی آواز پر رک گئی. اور کرنٹ کھا کر آواز کی طرف مڑی۔
”ماما۔“ارہاب پیچھے کسی کی گود میں تھا۔وہ لپک کر اس کے پاس گئی۔اسے اپنی گود میں لیا اور بار بار اس کے گال چومنے لگی،آنسو آنکھوں سے گرتے جا رہے تھے۔پھر سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھا اور ماتھے پر شکنیں ابھری۔” شیری۔“ وہ واپس حمزہ کی طرف مڑی اور اس نے فوراً شانے اچکائے۔اور دوبارہ آئس کریم کھانے لگ گیا۔
شیری کا جسم پہلے سے بھرا ہوا تھا۔چہرے کی رونق کئی گنا بڑھ چکی تھی، اور چہرے پر حمزہ کی طرح ہی ہلکی داڑھی تھی،مگر حمزہ کی عمر کے ساتھ ہونے والی تبدیلیوں، میچیورٹی اور گندمی رنگ نے حمزہ کو زیادہ پر کشش بنا دیا تھا۔
وہ غصے سے بپھری شیری کو گھور رہی تھی، جو اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر معذرت کر رہا تھا۔
”میں ابھی پندرہ منٹ پہلے ائیرپورٹ سے آیا تھا۔ارہاب سے ملنے کا دل تھا تو حمزہ بھائی کو کال کی،فون ارہاب نے اٹھایا،اور بتایا کہ وہ آئسکریم کھانے آئے ہیں۔اینڈکس کو نہیں پتا حمزہ بھائی کو کہاں کی آئسکریم پسند ہے۔میں پاس ہی تھا تو آ گیا۔“شیری نے بڑی احتیاط سے سارا ملبہ حمزہ پر گرا دیا۔ارہاب آئسکریم کے نام پر ماں کے کندھے سے باپ کو دیکھنے لگا۔جو اب بھی آئسکریم کھا رہا تھا۔
”تو تم حمزہ سے پوچھ کر اسے نہیں لے جا سکتے تھے؟ تمہیں پتا نہیں کہ….“ا سکی بات ادھوری رہ گئی اور حمزہ آگے آیا۔
”مجھ سے پوچھتا؟ یہ اپنی کال کا ریکارڈ بھی مٹا چکا تھا،وہ تو میرے فون کے اسپائی کیمرہ نے اس کی تصویر چپکے سے لے لی۔“ وہ فون حیا کے پیچھے سے شیری کو دکھا رہا تھا،جس میں شیری کی تصویر تھی۔شیر نے ابرو اٹھائی۔(اسمارٹ ہاں)
حمزہ نے سر کو خم دیا۔(شکریہ)
حیا کا تو ان دونوں کے نان سیریس رویے پر دماغ گھوم گیا تھا۔” تم دونوں ایک جیسے ہو۔” وہ دبی دبی غرائی۔
شیری نے مسکراہٹ چھپاتے بالوں میں ہاتھ پھیرا،اور ارہاب نے دونوں بازو حمزہ کی طرف پھیلائے۔” بابا! ایکسریم….بابا! ایکسریم۔“ حمزہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اس کی ماں کو جب اب اسے ہی گھور رہی تھی۔
”یو جسٹ لو یور ماما….سو نو آئسکریم!“ وہ ٹشو سے ہاتھ صاف کر چکا تھا۔ماں کے ساتھ ساتھ اب ارہاب کو بھی تپ چڑھ چکی تھی۔
”سارم‘کالج سے کام نمٹا کر تم سب گھر چلے جانا۔آج کے لیے اتنا کافی ہے۔“ وہ ایونٹ آرگنائزر کو ہدایت دے کر حمزہ کی طرف مڑی۔
”اور تم گھر پہنچ کر ملو۔“وہ گاڑی کی طرف مڑی اور ارہاب نے ماں کے کندھے کے اوپر سے انگلی اٹھا کر ہلائی۔” وی ول سکولڈ یو۔“ اور یوں ہی غم سے اس کے حصے کی آئس کریم کھا جانے والے باپ کو دیکھتا، ماں کے ساتھ حمزہ کی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا۔
حمزہ نے آگے بڑھ کر شیری کو گلے لگایا۔جو کل رات ہمیشہ کے لیے جرمنی سے پاکستان آگیا تھا، اور آج دوپہر وہ لاہور سے اسلام آباد پہنچا تھا۔حمزہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا، اور شیری پچھلی سیٹ پر اور اس کے ساتھ ہی گاڑی زن سے آگے بڑھ گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آرگنائزر کو ہدایت دے کر حمزہ کی طرف مڑی۔
”اور تم گھر پہنچ کر ملو۔“وہ گاڑی کی طرف مڑی اور ارہاب نے ماں کے کندھے کے اوپر سے انگلی اٹھا کر ہلائی۔” وی ول سکولڈ یو۔“ اور یوں ہی غم سے اس کے حصے کی آئس کریم کھا جانے والے باپ کو دیکھتا، ماں کے ساتھ حمزہ کی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا۔
حمزہ نے آگے بڑھ کر شیری کو گلے لگایا۔جو کل رات ہمیشہ کے لیے جرمنی سے پاکستان آگیا تھا، اور آج دوپہر وہ لاہور سے اسلام آباد پہنچا تھا۔حمزہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا، اور شیری پچھلی سیٹ پر اور اس کے ساتھ ہی گاڑی زن سے آگے بڑھ گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!