Haya By Fakhra Waheed ep 4

Haya novel by Fakhra Waheed

رات کے سات بج رہے تھے،جب حمزہ کی کار کا ہارن سنائی دیا۔حمزہ اسکواڈ لاؤنج میں بیٹھا گپیں لگا رہے تھا۔ بی اماں کچن میں کھانا بنا رہی تھیں۔حمزہ کی ہدایت تھی کہ چھ بجے کے بعد بی اماں کے علاوہ کوئی بھی ملازم گھر پر نہ رہے اور گارڈ کو تو بطور خاص یہ حکم تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا جب کیسز کو انجام دینے وہ رات کے پچھلے پہر گھر سے نکلتا تھا، اس کی بھنک بھی کسی کو پڑے۔گارڈ کے نہ ہونے سے دروازہ کھولتے جو موت اس اسکواڈ کو پڑتی تھی اس کا حساب بھلاکس سے لیا جاتا۔ اس وقت بھی وہ ایک دوسرے کوہی گیٹ کھولنے کا کہہ رہے تھے۔
”جا دیکھ، نیولی ویڈ کپل آیا ہے باہر۔“ جب چند سیکنڈ کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلا تو شیری نے زویان کو اشارہ کیا۔
”یار میرا پاؤں سو یا ہوا ہے‘تو کھول آ پلیز۔“ بہانہ تیار تھا۔
”مجھے بھابھی سے شرم آتی ہے۔“ شیری نے نا قابل یقین بہانہ پیش کیا۔
”چلا جا بھائی نہیں ہے۔“ زویان نے منت کی۔
”نہیں‘میں غا لبا اکلوتا ہوں۔“ وہ اپنے فون پر جھک گیا۔
دوبارہ ہارن بجا،بی اماں کچن سے نمودار ہوئیں۔ ایک نظر لاؤنج میں بیٹھے بظاہر مصروف لوگوں پر ڈالی اور پھر اندرونی دروازے کی طرف بڑھیں، جس سے نکل کر ٹریک سے گزر کر گیٹ آتا تھا۔
”رکیں بی اماں! میں ہی دیکھتا ہوں۔ پورے گھر کی ذمہ داری شیری کے کندھوں پر ہے یہاں۔“ اپنے کندھے جھاڑتا، سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ چھوڑتا شیری مین گیٹ کی طرف لپکا۔
”جی آیا نوں، جی آیانوں۔“ حمزہ کے لاؤنج میں قدم رکھتے ہی سب نے کھڑے ہو کر بھابھی کو خوش آمدید کہا۔حمزہ اندر آیالیکن یہ کیا وہ تو اکیلا تھا۔ سب نے سر اٹھا اٹھا کر دیکھا کہ شاید وہ پیچھے کہیں ہو، مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔
”کیا بات ہے باس‘ بھابھی کو مارکیٹ ہی چھوڑ آئے ہیں کیا۔“شیری نے اپنے مخصوص سنجیدہ انداز میں غیر سنجیدہ بات کی۔
”تھوڑی دیر تک آ رہی ہے۔“ حمزہ نے اطمینان سے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا،علی اس کے ساتھ آکر بیٹھ گیاتھا۔
”کہاں ہے وہ؟“اس نے رازدارانہ انداز میں پوچھا۔
”بتا تو رہا ہوں آرہی ہے تھوڑی دیر تک۔“ حمزہ نے عام سے انداز میں کہا۔
”حمزہ…“علی نے اسے خفگی سے دیکھا تو وہ بھی زچ آ کر بولا۔
”یار وہیں ہے جہاں اسے ہونا چاہئیے۔“ کہہ کر اس نے کچن کے ریکٹینگل سے اندر دیکھا۔ ”بی اماں‘بھوک لگی ہے…..کھانا لگا دیں پلیز۔“ وہ علی کو جواب نہیں دینا چاہتا تھا تبھی مخاطب بدل دیا۔
”کہاں‘اس کے گھر؟“علی کو تشویش ہو رہی تھی۔
”نہیں‘اسکے سسرال۔“ وہ فون جیب سے نکالتا بے تاثر سا بولا اور پھر مخاطب بدل دیا۔
”اور زویان کیسا چل رہا ہے سب؟“ علی کا کچھ کہنے کے لیے کھلا منہ دوبارہ بند ہو گیا تھا،مگر اس کی آنکھیں اب بھی حمزہ کے چہرے پر ٹکی تھیں۔
”الحمدللہ سر‘آل ویل۔“ زویان نے علی کو دیکھتے ہوئے حمزہ کے سوال کا جواب دیا۔ حمزہ کے اس دوستانہ رویے کی ان کو عادت نہیں تھی۔وہ کام کی بات ہی کرتا تھا اور ان کو تو یہ بھی یاد نہیں تھا آخری بار کب وہ ان کے ساتھ یوں لاؤنج میں آ کر بیٹھا تھا۔ بی اماں کھانا لگا چکیں تو سب کھانے کی میز کے گرد آ بیٹھے۔ حمزہ نے سربراہی کرسی سنبھالی، علی اس کے دائیں طرف جبکہ شیری اور زویان بائیں طرف بیٹھے تھے۔ علی کی آنکھیں مسلسل حمزہ کا جائزہ لے رہی تھیں۔وہ کچھ زیادہ ہی فرینڈلی دکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ اس سے حیا کے بارے میں جاننا چاہتا تھا مگر وہ اس بارے میں بات کرنے کا موقع ہی نہیں دے رہا تھا۔
”بی اماں‘کھانا بہت اچھا ہے۔“حمزہ نے اتنے عرصے میں یہ پہلی بار کھانے کی تعریف کی تھی۔ آواز کچن میں کھڑی بی اماں تک نہیں پہنچی تھی۔
”اب آپ زیادہ ہی کہہ رہے ہیں حمزہ سر! یہ پھیکا کھانا آپ کو کیسے اچھا لگ سکتا ہے؟“ شیری نے منہ بنایا۔ اور یہ سچ بھی تھا۔ بی اماں کا تعلق پشاور کے ایک قصبے سے تھا۔ وہ ہلکا مصالحہ استعمال کرتی تھیں۔ تبھی جب پورا سکواڈجمع ہوتا،تو کھانا باہر سے منگوایا جاتا تھا۔حمزہ نے کندھے اچکائے اور دوبارہ پلیٹ پر جھک گیا۔علی کی تشویش اب غصے میں بدل رہی تھی۔
”حیا کہاں ہے؟“ وہ قریبا دانت پیستے ہوئے بولاتھا۔
”بتایا تو سسرال۔“حمزہ کے ماتھے پر سلوٹ ابھرے، مگر وہ دوبارہ پر سکون لہجے میں بولا اور اپنی پلیٹ پر جھک گیا۔
”سسرال مطلب‘ہمارے والا سسرال تو نہیں سر؟“ شیری کہاں چپ رہتا،اس سسرال لفظ سے جیل ہی سوجھی تھی۔زویان ہنس دیا جبکہ علی سنجیدہ رہا۔
”ہاں….یو آر انٹیلیجینٹ شیری۔“ حمزہ نے ہائی فائیو کے لیے ہاتھ بلند کیا اور دور سے ہی شیری نے ہاتھ مارا۔
”ایک منٹ۔“ میز پر سکتا چھا گیاتھا۔
”وہ جیل میں ہے؟“ علی نے بے یقینی سے حمزہ کو دیکھا‘زویان اور شیری خاموش رہے۔
”نہیں بس پولیس اسٹیشن۔“وہ اسی اطمینان سے بولا اور علی کا تو سر گھوم گیاتھا۔
”حمزہ تیرا دماغ تو خراب نہیں ہے۔ “
”مجھے نیند آرہی ہے۔“ وہ کھانا چھوڑ کر کھڑا ہو گیاتھا۔
”حمزہ۔“ علی نے کچھ کہنا چاہا‘مگر جب وہ نہیں رکا تو علی خاموش ہو گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رات تاریک سے تاریک ہوتی جا رہی تھی۔وہ اپنے کمرے سے ملحق بالکنی میں دونوں بازو سیلنگ پر ٹکائے دور آسمان میں ستاروں کو جلتے بجھتے دیکھ رہا تھا۔آج تین دن بعد وہ فرصت سے گزرے دنوں کے بارے میں سوچ رہا تھا اور پھر آج جس طرح وہ حیا کو جیل بھجوا آیا تھا تو اب حالات پر غور کرنا اور بھی ضروری ہو گیا تھا۔ وہ حیا کو یوں چھوڑ کر نہیں آنا چاہتا تھا مگر اس کے لاکھ سمجھانے کے باوجودحیا نے اسے شاپنگ مال میں سب کے سامنے ذلیل کروانا چاہا تھا، وہ کچھ بھی برداشت کرتا مگر بطور ایس پی اپنی بے عزتی کبھی نہ ہونے دیتا۔
وہ پہلے ہی حیا کو باہر نہیں لے جانا چاہتا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں حیا وہاں شور نہ مچا دئے۔ اگر ایسا ہوتا تو حمزہ کو حالات سنبھالنے مشکل ہو جاتے، مگر حیا نے جو کیا اس کی توقع حمزہ نہیں کر رہا تھا یا کہہ لیں اسے حیا سے اس بے وقوفی کی امید نہیں تھی۔ یہ تبھی کی بات ہے جب حمزہ شاپنگ مال میں کھڑا علی سے فون پر مہمانوں کے نام فائنل کر رہا تھا اور وہاں پولیس آگئی تھی۔حمزہ کے خلاف حیا کو حبس بے جا میں رکھنے اور زبردستی نکاح کرنے کی شکایت تھی۔اور اس سلسلے میں حیا نے مدد وہاں کے ایک سیلز مین سے لی تھی، اسی نے حیا کے کہنے پر پولیس کو کال کی تھی اور تھوڑی دیر میں ہی وہاں پولیس آ دھمکی تھی۔پولیس کو دیکھتے ہی حیا نے شور ڈال دیا تھا۔وہ چلا چلا کر پولیس کو سارا ماجرا سنا رہی تھی اور حمزہ کو رہ رہ کر حیا کی بیوقوفی پر رونا آرہا تھا۔ بلایا بھی تو کس کو؟
حیا کی نشاندہی پر پولیس انسپکٹر حمزہ کی طرف آیا اور اسے دیکھتے ہی ہاتھ ماتھے تک لے جا کر سلیوٹ کیا۔
”اسلام علیکم سر‘کیسے ہیں آپ؟“ وہ اب ہاتھ ملا رہا تھا۔
”ہاں میں ٹھیک ہوں‘ تم سناؤ شجاع کیسے ہو؟ تمہاری انسپکٹر صاحبہ نہیں آئی؟“وہ سب انسپکٹر سے پوچھ رہا تھا۔
”جی سر وہ ذرا مصروف تھیں۔“
”اوہ‘ آل رائٹ۔“ وہ تو آپس میں حال احوال اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگ گئے تھے، حیا پیچھے کھڑی اس انتظار میں تھی کہ حمزہ کے خلاف کوئی ایکشن لیا جائے، حیا کو بحفاظت گھر بھجوایا جائے، مگر یہاں تو کچھ بھی ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا تھا، تبھی وہ چل کر ان دونوں کے پاس آگئی۔
”عجیب بات ہے سر‘آپ یہاں کھڑے اس سے باتیں کر رہے ہیں، اس آدمی نے میرے ساتھ زبردستی نکاح کیا ہے، مجھے قید میں رکھا ہوا ہے، آپ اس کو گرفتار کریں۔“ سب انسپکٹر شجاع حمزہ کے شفاف کیرئیر سے بخوبی واقف تھا تبھی اس نے اچنبھے سے حیا کو دیکھا۔ اور پھر حمزہ کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا۔
”انہوں نے آپ کوقید میں رکھا ہوا ہے؟“حیا نے فورا اثبات میں گردن ہلائی۔اور حمزہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر کھڑا ہو گیاتھا۔اب یہ اس کے لیے دلچسپ تھا۔
”کیا ہو گیا ہے بی بی‘یہ حمزہ صاحب ہیں‘ایس پی لاہور‘ ایس پی مطلب سپرٹنڈنٹ پولیس۔“ اس نے آخری دو الفاظ پر زور دیتے ہوئے حمزہ کا تعارف کروایا۔ جب حیا بضد رہی تو تفکر کی لکیریں اس کے ماتھے پر ابھریں اوروہ حمزہ کی طرف مڑا۔
”سر یہ لڑکی کہہ رہی ہے کہ…..“
”کون ہیں یہ؟“ حمزہ نے اجنبیت سے اس کی بات کاٹ دی۔ حیا کا منہ بے یقینی سے کھلا اور پھر کھلا ہی رہ گیا۔ یہ بندہ تو اس کو پہچاننے سے بھی انکاری تھا۔
”آپ ان کو نہیں جانتے؟“
”میں ان کو پہلی بار دیکھ رہا ہوں۔“ گو کہ حمزہ کے نکاح کی خبر شجاع سے بھی چھپی نہیں تھی مگر حمزہ سے بحث اپنے عہدے کی مناسبت سے وہ نہیں کر سکتا تھا۔ حیا نے حلق پھاڑ پھاڑ کر سب انسپکٹر کو دوبارہ اپنی روداد سنانا شروع کی تو حمزہ نے عادتا ایک ہاتھ کی انگلیاں بالوں میں ڈالی اور سر کھجاتے ہوئے سب انسپکٹر شجاع سے مخاطب ہوا۔
”آپ اس کو تھانے لیکر جائیں اور پوچھیں کس کے کہنے پر اس نے یہ کہانی گھڑی ہے۔“ وہ لا پرواہی سے کہہ رہا تھا اور اس نئی آفت پر حیا کے تمام اوسان خطا تھے، آنکھیں حیرت اور غم و غصے سے باہر آنے کو تھیں۔ وہ کچھ کہتی مگر لیڈی کانسٹیبل نے آگے بڑھ کر اس کا بازو تھام لیا۔حیا خونخوار آنکھوں سے حمزہ کو گھورتی رہی۔لیڈی کانسٹیبل اسے لے کر دروازے کی طرف بڑھی، حیا نے مڑ کر حمز ہ کو دیکھا کہ شایدوہ مذاق کر رہا ہو، شاید وہ اسے روک لے مگر وہ ہاتھ سینے پر باندھے اسے جاتے دیکھتا رہا۔ آج دوسری بار حیا نے غلط لوگوں سے توقع رکھی تھی۔
جب کانسٹیبل اسے لے کر دروازے سے غائب ہو گئی تو حمزہ نے کسی کا نمبر ملا کر فون کان سے لگایاتھا۔
”سنو‘یہ لڑکی آرہی ہے تھانے، ذرااس کا خیال رکھنا۔“
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سات بجے تک وہ بے وجہ سڑکوں پر گاڑی دوڑاتا رہا تھا۔جیل لڑکیوں کے لیے کتنی کٹھن ہے وہ بخوبی جانتا تھا،لیکن چاہتا تھاکہ ایک بار حیا کو اندازہ ہو، وہ اسے کس دلدل سے بچا کر لایا تھا۔ یہاں ہر کوئی دوسرے کو نوچ کھانا جانتا ہے۔ اس نے تو ہزار درجے بہتر عزت سے حیا کو اپنے گھر میں پناہ دے رکھی تھی۔
”حمزہ؟“ وہ سوچوں میں غرق تھا جب اسے کسی نے پیچھے سے پکارا۔ آنے والا علی تھا۔
”سویا نہیں تو ابھی تک۔“ حمزہ نے باہر آسمان پر دیکھتے اس سے پوچھا۔
”حمزہ کیوں کر رہا ہے تو یوں؟ اگر پولیس اسٹیشن ہی اسے بھجوانا تھا تو اسی دن بھجوا دیتا۔یوں گھر میں رکھنا، نکاح کرنا، ریسیپشن اور اب یہ جیل یہ۔ چل کیا رہا ہے تیرے دماغ میں؟“ وہ واقعی جاننا چاہتا تھا۔
”تجھے بھی لگتا ہے میں نے اس کے ساتھ غلط کیا؟“ اس کی ساری لاپرواہی اس وقت جھاگ ہو گئی تھی۔
”یار دیکھ میں پہلے اس نکاح کے حق میں نہیں تھا،۔تو نے نکاح کرنے میں جلدی کی،تجھے اس کی فکر تھی تو کسی شیلٹر ہوم بھجوا دیتا، پر نکاح؟ یار نکاح کرنے کی کیا ضرورت تھی؟“ وہ اب اس کے پاس کھڑا بول رہا تھا۔حمزہ خاموش رہا، کہتا بھی کیا یہ ایک ہی تو سوال تھا جس کا جواب اس کے اپنے پاس بھی نہیں تھا، سارے آپشن تھے مگر اس نے نکاح کیوں کیا؟ پھر اسے دور اپنے اندر سے آواز آتی سنائی دی۔
”حیا کو دیکھ کر مجھے رانیہ یاد آتی ہے۔جب میں نے اس طوائف خانے پر اسے چیختے چلاتے سنا، مجھے رانیہ کی چیخیں سنائی دے رہی تھی۔“ اس کی پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہوئے۔ اسے خود معلوم نہیں تھا اس نے یہ نکاح کیوں کیا؟ حیا پر ترس کھا کر…..اسے حیا میں رانیہ دکھتی تھی اس لیے یاپھر اپنا امیج بچانے کو؟ جب وہ تسلی بخش جواب نہ بنا پایا تو ماضی میں الجھتا چلا گیا۔
”میں رانیہ کو کیوں نہیں بچا پایا تھا علی؟ وہ کیوں مجھے چھوڑ کر چلی گئی تھی؟ وہ میرا انتظار نہیں کر سکتی تھی؟ بس ایک دن کی ہی تو بات تھی نا۔“ پچھلے تین دن سے جو وہ لاپرواہ بنا گھوم رہا تھا اب ماضی کے بھنور کی طرف لپک رہا تھا۔
”نہیں، نہیں۔“ وہ علی کی طرف مڑا۔
”وہ مجھے چھوڑ کر نہیں گئی تھی‘میں…میں اسے چھوڑ گیا تھا‘ سب میں اکیلا چھوڑ گیا۔“ آخری لفظ پر وہ چلایا۔علی نے اسے تھامنا چاہا مگر وہ بالکنی پر جھک گیا‘دونوں ہاتھوں کی انگلیاں اپنے بالوں دھنساتے وہ بڑبڑا رہا تھا۔
”میں نے….میں نے اسے مار دیا میں نے اپنی رانیہ کو مار دیا۔ میں برا ہوں، میں دھوکے باز ہوں..“ وہ عجیب سی کیفیت میں تھا۔ رو نہیں رہا تھا، آنسو نہیں گر رہے تھے مگر سانس اکھڑنے لگی تھی۔ وہ مضبوط اعصاب کا مالک تھا لیکن اس وقت وہ ہارا ہوا شخص تھا۔ ماضی سے ہارا ہوا‘ ؒخود کے فیصلوں سے ہارا ہوا۔
”میں قاتل ہوں؟“ اس نے زرا سا سر اٹھا کر علی سے پوچھا اور ایک دوست کا دل بری طرح تڑپا تھا۔
”نہ کر یار‘بہت ٹائم لگا ہے تجھے اس سب سے نکلنے میں‘ تودوبارہ وہ سب کیوں یاد کر رہا ہے۔“علی نے حمزہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
”میں اسے تنہا چھوڑ گیا تھا نا، وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے، بہت زیادہ نفرت۔ تبھی جب میں آیا تو وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔“ وہ جھکتے جھکتے زمین پر آبیٹھا۔ اس کی سانس اٹک رہی تھی، حلق میں آنسوؤں کا گو لہ اٹک گیا تھا، مگر ہمیشہ کی طرح ان آنسوؤں کو اندر ہی ختم ہو جانا تھا۔ حمزہ کی بگڑتی حالت دیکھ کر علی اسے اندر کمرے میں لے آیا۔جب وہ سنبھل چکا تو علی آہستہ سے بولا۔
”حیا کے بھائی سال بعد ہی پاکستان آتے ہیں تو اب اس کے گھر پر کوئی نہیں ہے۔ اور جیسے میں تجھے بتا چکا اس کی ماں دو سال پہلے مر گئی تھی اور باپ بھی مر گیا۔“ آخری خبر واقعی تکلیف دہ تھی اور علی یہ خبر اسے پہلے بھی دے چکا تھا مگر نکاح کے چکر میں وہ بھول گیا تھا۔اب حمزہ کو حیا کے لیے برا لگنے لگا تھا۔
”میں حیا کو لے کر آتا ہوں۔ تم خیال کرنا اس کے والد کے انتقال کا اسے ابھی پتا نہ چلے۔“اس نے علی کو ہدایت کی اور گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر نکل گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تاریک کوٹھڑی نما جیل میں بیٹھے اسے کئی گھنٹے گزر گئے تھے۔ اس کوٹھڑی میں جانے کتنے مجرموں کے گناہوں اور کتنے بے گناہوں کے آنسوؤں کی بو رچی تھی۔سلاخوں کے پیچھے وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے دونوں ٹانگوں کے گرد بازؤں کا حلقہ بنائے بیٹھی تھی۔ جیل میں اسے چار گھنٹے ہونے کو تھے، ان چار گھنٹوں میں کوئی لمحہ ایسا نہیں تھا جس میں اس نے حمزہ کو بد دعا نہ دی ہو، وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اسے کوئی دن یوں جیل میں گزارنا پڑے گا۔ مردوں کا جیل میں جانا بہادری سمجھا جاتا ہوگا،لیکن کسی عورت کا رات جیل میں گزارنا کلنک سے کم نہیں ہے۔ اور یہ ہی کلنک حیا کو اپنے ماتھے پر لگا نظر آرہا تھا۔ اس کے علاوہ جیل میں دو عورتیں اور تھیں،جو شکل سے ہی خرانٹ لگ رہی تھیں۔ان کی نظریں برابر حیا کا جائزہ لے رہی تھیں۔
اور اب وہ دونوں بآواز بلند سر گوشیاں کر رہی تھیں۔
”کسی بڑے آدمی کو پھانسنے کے چکر میں تھی‘ دیکھو ذرا شکل سے کتنی معصوم لگتی ہے۔ “ حیا نے خود کو بازوؤں میں سمیٹتے ان عورتوں کو دیکھامگر وہ پرواہ کیے بغیر بولتی رہیں۔
”سوچ رہی ہو گی امیر آدمی ہے پیسے ویسے لے کر معاملہ رفع دفع کرانے کی کوشش کرے گا‘لیکن بے چاری۔“ ایک نے قہقہہ لگایا۔ ”خود ہی پھنس گئی۔“
”ویسے لڑکی مست ہے ہاں، اب پتا نہیں یہاں کس کے ہتھے لگے گی۔ آہااا!“ عورت نے ہنکارا بھرا۔ جیل میں گھٹن تھی، ہر سانس سولی پر تھا،اس نے ٹی وی پر بہت پروگرام دیکھ رکھے تھے جن میں جیل میں لڑکیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے وہ بخوبی واقف تھی۔ اور اب ان عورتوں کی باتیں……حیا نے جھرجھری لی۔ ہر آہٹ پر وہ اور سمٹ کر بیٹھ جاتی۔
”مجھے جس نے یہ اذیت دی، اللہ کرے وہ خود ایسی اذیت سے گزرے اپنی آنکھوں کے سامنے اسے تڑپتا دیکھوں۔“ حیا نے سسکیوں میں حمزہ کو بد دعا دی تھی۔الفاظ بہت سخت تھے‘لیکن اس وقت جس اذیت سے وہ گزر رہی تھی‘ اسے دعاؤں اور بد دعاؤں کے علاوہ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
”ہیلو‘تمہیں لینے آئے ہیں۔“ لیڈی افسر کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔حیا نے آس پاس دیکھا تو لیڈی افسر دوبارہ بولی۔
”تجھے ہی کہہ رہی ہوں‘ چل تجھے لینے آئے ہیں۔“ حیا کے گلے میں گلٹی ڈوب کر ابھری، اسے کون لینے آسکتا ہے؟سارے ڈراؤنے خیال ایک ساتھ اس کے دماغ میں آدھمکے تھے۔ حیا کے رونگٹے کھڑے ہونے لگے۔دل سینہ پھاڑ کر باہر آنے کو ہو گیا۔ ”میں کسی کے ساتھ نہیں جاؤں گی۔“ وہ بمشکل کہہ پائی۔
”تو کیا ساری زندگی جیل میں گزارے گی؟“ پولیس انسپکٹر تڑاخ سے بولی حیا اور سمٹ کر بیٹھ گئی تھی۔
”ک….ک…..کون لینے آیا ہے؟“ اس نے آنکھیں سکیڑ کر اندھیرے میں کھڑی انسپکٹر کو دیکھنے کی کوشش کی۔خوف سے اس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہو چکے تھے،اور خوف کے مارے بلڈ پریشر لو ہورہا تھا، سارا منظر دھندلانے لگا تھا۔اگر وہ دیوار سے ٹیک لگا کر نہ بیٹھی ہوتی تو اب تک گر جاتی۔
”کھسم آیا ہے تیرا۔“ فریحہ نے لاک کھولتے ہوئے کہا۔ شکل سے وہ اچھی خاصی تھی لیکن لہجہ اس کا ایسا ہی تھا بے ہودہ۔جیل کی سلاخوں کے پیچھے حیا کو ایک ہیولہ دکھائی دیا۔ اس کے حواس بحال ہو رہے تھے۔اس نے آنکھیں سکیڑی۔ ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس دونوں ہاتھ سینے پر باندھے چہرے پر مخصوص سکون لیے وہ حمزہ تھا۔ حیا کو اپنے تنے اعصاب ڈھیلے پڑتے محسوس ہوئے،وہ پتا نہیں کیا کیا سوچ چکی تھی، لیکن وہ حمزہ تھا اسے تسلی ہوئی۔ابھی کچھ لمحوں پہلے جو وہ اسے بد دعائیں دے رہی تھی اب خدا کا شکر ادا کر رہی تھی کہ وہ حمزہ ہی تھا۔لیکن آنکھوں میں حمزہ کے لیے ناگواری بدستور قائم تھی۔اور یہ ناگواری حمزہ سے بھی چھپی نہیں تھی۔ وہ حوالات سے باہر نکلی اور چپ چاپ حمزہ کے پیچھے کچھ فاصلے سے چلنے لگی۔ تھانے میں موجود عملہ الرٹ کھڑا ان کو دیکھتا رہا، حیا تو سر اٹھا کر ان کو دیکھ بھی نہ سکی۔وہ تھانے سے نکل کر باہر گاڑی میں آ بیٹھے،حیا جان بوجھ کر پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھی۔حمزہ نے بھی کچھ نہیں کہا کہ وہ پہلے ہی اس کے باپ کی موت کی وجہ سے تھوڑا نرم پڑا ہوا تھا۔ سفر خاموشی سے جاری رہا۔وہ سامنے سڑک پر اور حیا باہرپیچھے گزرتے درختوں، گھروں اور دکانوں کو دیکھتی رہی۔ گاڑی کے رکنے پر حیا نے گردن موڑی، یہ کسی ریسٹورنٹ کا پارکنگ ائیریا تھا۔ حمزہ نے اوپر شیشے میں حیا کا عکس دیکھا۔
”کھانا کھا لو پہلے، پھر گھر چلتے ہیں۔“ اس کا لہجہ پہلے سے نرم تھا۔ حیا نے اس کی بات کا جواب دیے بغیر منہ پھیر لیا۔ حمزہ تھوڑی دیر شیشے میں سے اسے دیکھتا رہا۔ اور پھر چابی اگنیشن سے نکالتے باہر آگیا۔ اب وہ حیا کی طرف کا دروازہ کھول رہا تھا۔
”باہر آؤ۔“ وہ تحکمانہ انداز میں بولا۔جب وہ باہر نہیں آئی تو حمزہ نے اس کا بازو پکڑ کر اسے باہر کی طرف کھینچا۔اب یہ بدتمیزی تھی،حیا بادل نخواستہ نیچے اتری۔
”حیا دیکھو۔“ حمزہ نے اس کا بازو نہیں چھوڑا تھا اور بغور اس کے چہرے کو دیکھنے لگا۔ رو رو کر اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں، وہ اسے اس کے باپ کی موت کا بتانا چاہتا تھالیکن سمھ نہیں آرہا تھا کیا کہے۔اسے جیل بھیجنے کے لیے معافی مانگے یا اس کے والد کی وفات کا بتا کر افسوس کرے۔حمزہ کو اس وقت وہ ایک کمزور لڑکی لگ رہی تھی۔جو اپنے باپ کی موت کا سن کر چیخ چیخ کر رو دے گی اور اسی ایک لمحے سے وہ ڈرتا تھا۔ اپنوں کے یوں چلے جانے کا دکھ وہ بخوبی سمجھتا تھا۔ وہ بھی ٹوٹ جائے گی جیسے وہ چار سال پہلے ٹوٹ گیا تھا۔ اسے سمیٹنے والے تھے لیکن جو خود اپنے آپ کو بمشکل سنبھالے ہوئے تھا وہ حیا کو نہ سمیٹ پاتا۔
”تمہیں بھوک لگی ہو گی‘ آؤ کھانا کھاتے ہیں۔“ اس نے بات بدل دی تھی۔حیا کا ہاتھ اب حمزہ کے ہاتھ میں تھا۔ وہ ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن اسکی گرفت مضبوط تھی۔وہ یوں ہی اس کا ہاتھ پکڑے ریسٹورنٹ میں داخل ہوا۔ ڈور پر کھڑے سیکیورٹی گارڈ نے پہلے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر حمزہ کو سلیوٹ کیا اور پھر آگے بڑھ کر کانچ کا دروازہ کھولا۔
مینیجر حمزہ کو دیکھ کر اس کی طرف بڑھاتھا۔
”ایس پی صاحب۔“ اس نے دور سے ہی آواز لگائی اور نہایت گرمجوشی سے حمزہ کو ہاتھ ملایا۔
”کیسے ہیں آپ؟ بڑے عرصے بعد چکر لگایا اور علی صاحب نہیں آئے۔“ وہ ہمیشہ علی کے ساتھ آتا تھا تبھی حیا کو اس کے ساتھ دیکھ کر حیران ہواتھا۔
”ہاں یار‘کب تک علی کے ساتھ ہی پھرتا رہتا‘ اب میری بیوی آگئی ہے۔“ کہہ کر وہ ہنسا۔حیا نے پہلی بار حمزہ کو ہنستے دیکھا تھا،ہنستے ہوئے اس کی چھوٹی بھوری آنکھیں اور چھوٹی ہو جاتی تھیں۔اور اس کی شخصیت اور نکھر جاتی تھی۔ کیا کریں ایسی خوبصورتی کا جو کسی کو عزت دینا نہ جانتی ہو؟ حیا نے اس کے چہرے سے نظریں ہٹا لی تھیں۔
”اوہ‘ از شی یور وائف؟“ اس نے خوشگوار حیرت سے پوچھا۔
”مائی وائف۔۔۔حیا حمزہ فیاض بیگ۔“حمزہ نے حیا کے گرد بازو پھیلایا۔حیا نے گھور کر حمزہ کو دیکھا۔
”ہیلو میم‘ویلکم۔“ منیجر ادباً جھکا‘حیا زبردستی مسکرائی۔ حمزہ کا بازو اب بھی اس کے گرد تھا۔حیا کو اس کے خود کو چھونے سے کراہت محسوس ہو رہی تھی۔ بس ہاتھ لگانے کا بہانہ چاہئیے تھا اس کو‘اس نے دانت پیسے۔
”سر‘پلیز کم‘ہیو آ سیٹ۔“مینیجر دونوں کو کارنر پر پڑے میز کی طرف لے گیا۔ حمزہ حیا کا ہاتھ پکڑے اسے ٹیبل تک لے آیا۔ حیاکے کان کی لوئیں غصے سے تپنے لگی تھیں۔
”میں کل ہی بات کر رہا تھا‘ایس پی صاحب کو چکر لگائے کافی وقت ہو چکا ہے‘ اور دیکھیں آج آپ تشریف لے آئے۔“ مینیجر مسلسل مسرت کا اظہار کر رہا تھا۔
”حد ہے ایسے بھی کیا موتی جڑیں ہیں اس کو۔“ حیا نے خفگی سے حمزہ کو دیکھتے ہوئے سوچا۔
”میں ویٹر کو بھیجتا ہوں۔“ مینیجر نے حمزہ سے ہاتھ ملایا اور کاؤنٹر کے پیچھے غائب ہو گیا۔
منیجر کے جاتے ہی حیا کی نظروں کا زاویہ بدلا۔ وہ مسلسل حمزہ کو گھور رہی تھی۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ حیا کا دل باہر نکلنے کو تھا۔ اس کے پاس یقیناً کشش ثقل تھی۔ جو اس کا دل کھینچ رہی تھی۔ حمزہ بھی اس کی نظروں سے بے خبر نہیں تھا۔ حمزہ کا چہرہ اس کی نظروں کی تپش محسوس کر سکتاتھا۔
”ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟“حمزہ کی برداشت جواب دے گئی تھی۔
”یہ سب کیا تھا۔“حیا بگڑی۔
”کیا تھا؟“اس نے لا پرواہی سے کندھے اچکائے۔
”یہ یوں مجھے پکڑنا‘چھونا۔“حیا نے نہ صرف منہ بنایا بلکہ باقاعدہ ہاتھ سے اپنا کندھا جھاڑا۔
”پبلک میں لوگوں کو دکھانے کے لیے یوں کرنا پڑتا ہے۔“اس نے دونوں ہاتھ ہوا میں بلند کرتے ہوئے انگڑائی لی۔ اسے اس لڑکی کے لیے دکھ ہو رہا تھا‘جس کا باپ اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ گیا تھا تبھی وہ پہلے کی طرح اپنی من مانی نہیں کررہا تھا۔
”آئندہ مجھ سے پوچھے بغیر مجھے ہاتھ مت لگانا۔“حیا اس کی لا پرواہی پر آگ بگولا ہوئی تھی۔ حمزہ نے کندھے اچکائے۔
” اگر لگانے کی خواہش ہوتی تو تم سے اجازت لینے کی ضرورت نہ پڑتی۔“ نشتر تو اس نے خوب چلایا تھا مگر اب کہ مسکرا کر۔ حیا نے منہ بنا کر آنکھیں گھمائی۔ آج حمزہ کی اسے جیل بھیجنے والی حرکت کے بعد اس کی حمزہ کے لیے نفرت اور بڑھ گئی تھی‘مگرآج اسے یہ بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ حمزہ کے گھر کے علاوہ اور کہیں محفوظ نہیں ہے۔
”سر‘ کیا لیں گے آپ؟“ ویٹر آچکا تھا۔
”آپ کیا کھائیں گی؟“ حمزہ نے مینیو کارڈ پر نظر گھماتے ادب سے پوچھا۔ حیا نے پہلے اسے گھور کر دیکھا اورپھر ویٹر کو دیکھتے ہوئے بولی۔
”مجھے بھوک نہیں ہے۔“گو کہ حیا کو بہت بھوک لگ رہی تھی اور یہاں کھانے کی اشتہا انگیزخوشبو اس کی بھوک اور بڑھا رہی تھی لیکن وہ حمزہ کے کہنے پر کچھ نہیں کرنا چاہتی تھی۔حمزہ نے پاس کھڑے ویٹر کو دیکھااور زبردستی مسکراتے ہوئے آگے کو جھکا۔
”جان‘ ہم کھانا کھانے آئے ہیں تو بھوک کیسے نہیں لگی؟چلیں جلدی سے بتائیں آپ کیا کھائیں گی؟“ وہ مسکرا رہا تھا۔ اور وہ خود ہی جانتا تھا کہ اندر اس کا دل چاہ رہا تھا وہ اسے آنکھوں سے ہی کھا جائے۔ یہ سارا احترام تو ویٹر کی موجودگی کا تھا۔ اور اس کی آنکھوں کی خفگی حیا سے بھی چھپی نہیں تھی۔حیا ’جان‘ لفظ کے استعمال پر احتجاج کرنا چاہتی تھی،لیکن حمزہ کے انداز سے اسے لگا یہ بات ابھی دبا دینی چاہئیے،تبھی اس نے فرمانبردار بیوی کی طرح حمزہ کے ہاتھ سے مینیو کارد تھاما اور ایک دو ڈشز پر ہاتھ رکھتے کارڈ دوبارہ حمزہ کو دے دیا۔ وہ اپنا آرڈر نوٹ کروا رہا تھا۔آرڈر نوٹ کرواتے اس نے ایک بار مسکرا کر حیا کو دیکھا اور دوبارہ ویٹر سے بات کرنے لگا۔حیا کو حمزہ کا یوں اس کے ساتھ بے تکلف ہونا کھٹک رہا تھا۔وہ اتنا سویٹ تھا نہیں جتنا بن رہا تھا۔
کھانا کھاتے اور گھر واپس آنے تک صبح کے چار بج چکے تھے۔ گیٹ علی نے کھولا تھا۔ وہ حیا سے پہلی بار مل رہا تھا۔
”اسلام علیکم بھابھی۔“علی نے اپنائیت سے کہا۔ حیا نے بس مسکرانے پر اکتفا کیاتھا۔
”میں علی‘ حمزہ کا دوست ہوں۔“ اس نے مصنوعی خفگی سے حمزہ کو دیکھا۔
”میرے بارے میں تو ان صاحب نے آپکو بتایا نہیں ہو گا۔“اپنا تعارف کروانے کے بعد علی نے حمزہ سے شکوہ کیا۔
”بھول گیا۔“ حمزہ نے بالوں میں انگلیاں پھیرتے،معذرت چاہی۔
”نائس ٹو میٹ یو۔“حیا کو نیند آرہی تھی‘وہ دونوں کو وہیں چھوڑ کر اندر چلی گئی۔
” کیا بات ہے باس‘..ڈنر‘ ونر….ہاں۔“علی نے حمزہ کو چھیڑا۔
”ہاں تو؟ بھوک لگی تھی اسے۔ فریحہ نے جو اسے ڈرا کر وہاں رکھا ہوا تھا‘بے چاری۔“حمزہ نے بات کور کرنے کے لیے فریحہ کو بیچ میں گھسیٹا۔
”بتایا اس نے مجھے تو نے کیا کروایا اس سے۔ شرم تو نہیں آتی تجھے۔ میری معصوم بیوی کو ولن بنا دیا۔“ علی نے اس کے سینے پر مکا مارا۔
”جاہل انسان‘درد ہوتا ہے۔“ حمزہ نے اپنے سینے کو سہلایا۔
”میرے یار۔“علی نے حمزہ کو اپنے بازؤوں میں بھینچا۔ وہ تھوڑی دیر پہلے تک اس نکاح کو لے کر پریشان تھا۔ اب حیا سے مل کر قدرے مطمئن اور حمزہ کے لیے خوش تھا۔
”کیا ہو گیا ہے تجھے۔“حمزہ نے جواباً اپنے بازو اس کے گرد باندھے۔
”خوش ہے تیرا بھائی‘اور کیا ہونا ہے؟“وہ پیچھے ہوا۔
”تجھے کس نے بتایا ہم ڈنر کے لیے گئے تھے۔ تو نے میرے پیچھے بندے لگائے ہوئے ہیں؟“حمزہ نے مشکوک انداز میں علی کو دیکھا۔
”تجھے کیا لگا‘ تو مجھے چھوڑ کر اب بھابھی کو لے کر جائے گا تو مجھے پتا نہیں چلے گا؟ ہماری بھی کوئی پہنچ ہے بھئی۔“ علی نے اپنا کالر پکڑ کر کھینچا۔
حمزہ نے اس کے انداز پر بے ساختہ قہقہ لگایاتھا اور دونوں اندر چلے گئے۔

جاری ہے!

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!