Haya By Fakhra Waheed ep 5

Haya novel by Fakhra Waheed

رات لمحہ بہ لمحہ سرک رہی تھی، حیا اوپر حمزہ کے کمرے میں چلی گئی تھی جبکہ علی اور حمزہ نیچے والے کمروں میں سے ایک میں رک گئے تھے۔
”یہ موت بھی زندگی کی عجیب حقیقت ہے۔ جن کے بغیر ہم جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ وہ ہمیں چھوڑ کر منوں مٹی تلے سو جاتے ہیں۔ ہمیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔“ بیڈکی پشت سے ٹیک لگائے، آنکھیں موندے وہ علی سے کہہ رہا تھا۔
”اب تو کیوں پریشان ہے۔“ علی پچھلے آدھے گھنٹے سے اس کی ایسی ہی باتیں سن رہا تھا۔
”علی‘کسی اپنے کا مرنا بہت تکلیف دیتا ہے، اور حیا کا تو وہ باپ تھا۔میں اسے کیسے بتاؤں جس باپ سے ملنے کی وہ آس لگائے بیٹھی ہے وہ اب نہیں رہا۔“
”حمزہ‘تو ڈر پوک تو نہیں تھا‘اب تجھے کیا ہو گیا ہے۔“
”مجھ سے یہ موت کی خبریں نہیں سنائی جاتی۔“ وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
”میں بتا دوں؟“علی نے اجازت طلب نظروں سے حمزہ کو دیکھا۔
”یا فریحہ سے کہہ دوں؟“جب حمزہ کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تو اسنے دوسری رائے دی۔
”نہیں…میں خود اسے بتاؤں گا۔“
”یہ ہی بہتر رہے گا۔“ علی نے اثبات میں سر ہلایاتھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صبح کا ایک بج رہا تھا۔ حیا اب تک سو رہی تھی۔ حمزہ ابھی باہر سے آیا تھااور علی فریحہ کو لینے گھر گیا تھا۔لڑکے مختلف کام نمٹاتے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ شیری سب کو اپنے سنجیدہ انداز میں چٹکلے سنا کر داد وصول کر رہا تھا۔
”سر اب تو بھابھی سے ملوا دیں۔“شیری نے حمزہ کو دیکھتے ہی ساتویں بار فرمائش کی۔
”بتایا تو سو رہی ہے۔“ حمزہ نے اب کے شیری کی ڈھٹائی پر اسے گھورا۔ وہ جب سے آیا تھا یہ ہی رٹ لگائے بیٹھا تھا۔ شیری سب کا لاڈلا ہونے کے ساتھ حمزہ کا چہیتا بھی تھا۔شیری کا اس دنیا میں کوئی نہیں تھا۔ ماں باپ تھے جو ایک حادثے میں وفات پا گئے تھے۔ وہ اکلوتا تھا۔ در بدر کی ٹھوکریں کھاتا ایک خطرناک گینگ کے ہتھے چڑ گیا تھا۔ ابھی اسے وہاں دو دن بمشکل ہوئے تھے کہ حمزہ اسکواڈ نے ائیریا پر ریڈ کروا دیا۔تفتیش میں واضح ہوا کہ شیری کو وہاں آئے محض دو دن ہوئے تھے۔ حمزہ نے آئی جی سے ریکویسٹ کر کے شیری کو اپنے زیر سایہ لے لیا۔ بقول شیری کے حمزہ نے انیس سالہ شیری کو اڈاپٹ کر لیاتھا۔ کیونکہ حمزہ کو شیری میں ایک قابل شخصیت دکھتی تھی۔ یہ بھی شیری کا ہی کہنا تھا۔
حمزہ کی شیری پر تمام تر عنایتوں کی وجہ سے سب اسے حمزہ کا بیٹا ہی گردانتے تھے۔گو کہ حمزہ اور شیری کی عمر میں چھ سات سال سے زیادہ کا فرق نہیں تھا۔ لیکن ذاتی اور پروفیشنل زندگی کے تجربات نے حمزہ کو واقعی وقت سے پہلے بڑا کر دیا تھا۔اس کی شخصیت میں سنجیدگی اور ٹھہراؤ آگیا تھا۔
فریحہ بھی آچکی تھی۔ اور اب واقعی گھر میں شادی کا سماں لگ رہا تھا۔ سب لوگ ہال میں محفل جمائے بیٹھے تھے،جب حیا کمرے سے باہر نکلی۔ مگر اتنے لوگوں کو دیکھ کر وہ دوبارہ اندر چلی گئی۔ حمزہ نے اسیاوپر اپنے کمرے کے باہر کھڑا دیکھ لیا تھاتبھی وہ سیڑھیاں پھلانگتا اس کے پیچھے کمرے میں آیاتھا۔وہ صوفے پر بیٹھی کمرے کو ٹٹولتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
”سات بجے ریسیپشن ہے۔ اسی سلسلے میں سب آئے ہوئے ہیں۔ تم فریش ہو جاؤ‘وہ سب تم سے ملنا چاہتے ہیں۔ صبح سے تمہارا پوچھ رہے ہیں، پھر سیلون بھی جانا ہے۔“ حمزہ نے عام سے انداز میں کہا۔حیا پہلی بار میں حمزہ کی بات مان جائے ایسا کیسے ہو سکتا تھا۔ اس نے تبھی صاف انکار کر دیا۔
”میں ان کو نہیں جانتی، میں کسی سے نہیں ملوں گی۔“
”تو جان جاؤ گی۔ یہ ہی میری فیملی ہے حیا اور اب تمہاری بھی‘میں دو دن یہاں ہوتا ہوں چھ دن نہیں ہوتا۔ میرے بعد یہ ہی تمہارا خیال رکھیں گے۔“ حمزہ نے باہر بیٹھے لوگوں کا بہترین تعارف کروایا تھا۔
”کیوں مجھے ہر چیز کے لیے فورس کرتے ہو تم؟ تمہاری فیملی ہے تو تم ملو‘میں کسی سے نہیں ملوں گی‘ کوئی شو پیس نہیں ہوں میں۔“ وہ بات غلط سمت لے کر جا رہی تھی۔حمزہ بھی فضول اس سے پوچھنے کا تکلف کرتا تھا وہ آرام سے ایک بار کا کہا کب مانا کرتی تھی۔حمزہ دروازے سے آگے حیا کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا، حیا نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا، وہ جو تھوڑی دیر پہلے آرام سے اسے باہر چلنے کو کہہ رہا تھا اب چہرے پر ناگواری اور غصہ لیے کھڑا تھا۔
”کھڑی ہو..جلدی کھڑی ہو۔“ وہ چلایا۔باہر شور اتنا تھا کہ آواز کمرے سے باہر نہیں گئی تھی۔ اس کا غصہ ایساہی تھا وہ ایک منٹ میں آپے سے باہر ہو جاتا تھا۔
”اٹھتی ہو یا میں اٹھاؤں؟ ایک بار کا کہا تمہیں سمجھ نہیں آتا؟“ حیا پہلے بیٹھی رہی،مگر جب اس نے حمزہ کے تیور مزید بگڑتے دیکھے تو نہ چاہتے بھی کھڑی ہو گئی تھی‘ ناگواری اس کے چہرے سے عیاں تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی اب حمزہ ان کے سامنے اس کا مزید کوئی تماشہ بنائے۔اس کے کھڑے ہوتے ہی حمزہ نے اس کا ہاتھ پکڑا، اور اسے قریبا کھینچتا نیچے لاؤنج میں لے آیا۔دونوں کو دیکھ کر ایک منٹ مودبانہ خاموشی چھائی رہی اور پھر بیک وقت سکول کے بچوں کی طرح سب نے باآواز بلند سلام کیا۔
”اسلام م م م م م علیکم م مم مم‘ بھا ااا بھی ی ی ی ی۔“ حیا کو لگا وہ نرسری کلاس میں آگئی ہے جہاں ٹیچر کو دیکھتے ہی سب کورس میں سلام کرتے ہیں۔
”ما شاء اللہ….ماشاء اللہ۔“حیا نے کسی کو کہتے سن اور پھر آواز کا تعاقب کرنے پر پتا چلا وہ اکیس بائیس سال کا حمزہ سے زیادہ صاف رنگت کا کلین شیو لڑکا تھا۔ حمزہ کو اپنی طرف دیکھتے پا کر وہ صوفہ پھلانگتا ان دونوں کے سامنے آکھڑا ہوا تھا۔اور اب حیا کے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا۔ اس نا گہانی آفت پر حیا ایک قدم پیچھے ہٹی۔
”ارے پیار دیں‘چھوٹے ہیں ہم۔“ اس نے سر تھوڑا اور جھکا لیا۔حیا نے سوالیہ نظروں سے حمزہ کو دیکھا۔ وہ ابھی اتنی بڈھی تو نہیں ہوئی تھی کہ اپنے سے دو تین سال چھوٹے لڑکوں کے سر پر ہاتھ رکھتی۔
”یہ شیری ہے۔“حمزہ نے اپنے ہاتھ میں تھاماحیا کا ہاتھ شیری کے سر پر رکھتے ہوئے اس کا تعارف کروایا۔
”شیری ی ی ی……شیری……شیری ی ی ی……شیری۔“ سب نے ردھم میں سر لگایا۔حیا کو ان کی دماغی حالت پر شک ہوا تھا۔تبھی فریحہ ہنستے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھی۔
”برا مت ماننا‘حمزہ کا لاڈلا ہے اور پھر سب سے چھوٹا ہے تو نا سمجھ ہے۔“ فریحہ نے شیری کے سر پر چپت رسید کی۔
”اور بد تمیز بھی ہے۔“ یہ شیروان تھا۔ شیری نے محض شیروان کو گھورنے پر اکتفا کیا‘ جبکہ باقی لوگ شیری کی شامت پر چہک رہے تھے۔
”ہائے‘ آئی ایم فریحہ‘نام تو سنا ہو گا۔“ فریحہ نے آگے بڑھ کر حیا کو گلے لگایا۔ اسے کیسے وہ بھول سکتی تھی‘ جیل میں جس طرح ہر دو منٹ بعد آکر فریحہ اسے ڈرا دھمکا رہی تھی‘اسے یاد تھا۔ حیا نے حمزہ کی طرف دیکھا۔
”علی کی وائف‘جس نے رات ہمارے لیے دروازہ کھولا تھا۔“ حمزہ نے اسے یاد کروایا اور حیا فریحہ کو دیکھ کر زبردستی مسکرائی تھی۔ (کمینی)
”جی اور آپ کے کھسم کی…میرا مطلب ہے آپکے شوہر نامدار کی دوست‘ اور جس تھانے میں آپ نے کل رات قیام کیا تھا اس کی ایس ایچ او۔“ حیا کے دل کی آواز سے بے خبر فریحہ اپنا مکمل تعارف کروا رہی تھی۔(کاش حیا بھی اسے قیام ہی کہہ سکتی مگر وہ ٹارچر تھا‘ ذہنی ٹارچر۔)
حیا اور حمزہ کے نکاح کی حقیقت اب سب جان چکے تھے اور حمزہ نے کون سا پردہ رکھا تھا؟جس طرح وہ اسے جیل بھجوا آیا تھا، اب کچھ چھپا رہا بھی نہیں تھا۔اور پھر حیا کے رات جیل میں رہنے اور وہاں ہوئے واقعات فریحہ نے چہک چہک کر سب کو بتائے تھے۔
”تم مجھ سے ناراض ہو گی۔ پر کیا کریں مجبوری ہے۔ باس کا حکم ہم نہیں ٹال سکتے۔“فریحہ نے جیسے اب اس کے دل کی آواز سن ہی لی تھی،تبھی اس جھینپتے ہوئے معذرت چاہی۔ وہ جیل والی تھانیدارنی سے بہت مختلف لگ رہی تھی۔ خوش مزاج اور بالکل مختلف لب و لہجے کی عام سی خاتون۔مگر پہلی ملاقات جس طرح سے ہوئی تھا حیا کو اب بھی وہ ایک آنکھ نہیں بھا رہی تھی۔
”پہلی ملاقات اچھے حالات میں نہیں ہوئی لیکن میں اتنی خوفناک نہیں جیسی جیل میں تم سے ملی۔“ فریحہ نے جیسے پھر اس کے دل کی آواز سن لی تھی،تبھی وہ تلخی کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔فریحہ دوبارہ حیا سے گلے ملی اور صوفے پر جا کر بیٹھ گئی۔ اب تعارف کا سلسلہ باقاعدہ شروع ہو گیا تھا۔
”مائی نیم از زویان۔“ فریحہ مل کر پیچھے ہوئی تو صوفے کے بازو پر بیٹھے زویان نے ہاتھ بلند کیا۔
”اینڈ آئی ایم ناٹ آ ٹیرارسٹ۔“ شیری نے بیچ میں ٹانگ اڑائی۔ سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
”دس از شیروان۔“ شیروان نے آخر میں اپنے تعارف کے لیے ہاتھ اٹھایا۔
”عمر چوبیس سال‘رنگ گورا‘ دماغی حالت ٹھیک نہیں۔‘دو دن سے لا پتہ ہے، جسے ملے خود ہی رکھ لے۔ ہمیں ضرورت نہیں۔“ فون پر جھکے شیری نے انتہائی سنجیدہ انداز میں شیروان کو لاپتہ قرار دیا تھا۔
”گدھا ہے تو۔“ شیروان بھڑکا تھا‘ لاؤنج قہقہوں سے گونجا۔ یہ لوگ واقعی حیا کو سیریس کیس لگے تھے۔ مگراس بار وہ چاہتے ہوئے بھی اپنی مسکراہٹ چھپا نہیں پائی تھی۔
”تھوڑی دیر تک ہم پارلر جا رہے ہیں‘تمہیں چھوڑ کر میں آ جاؤں گا‘ کچھ چیزیں ہیں جو مجھے یہاں دیکھنی ہیں۔ تم تیار ہو جانا پھر میں تمہیں لے آؤں گا۔“ جب سب اپنا تعارف کروا چکے تو حمزہ نے حیا کو اگلے دو گھنٹوں کا لائحہ عمل بتا یا۔
…………………….
حمزہ حیا کو پارلر ڈراپ کر کے گھر آگیا تھا۔ فریحہ نے پارلر کی اونر کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا۔ جب تک حیا کو گھرسے کوئی لینے نہ آئے وہ اسے جانے نہ دیں۔ گھر میں بھی سب تیاریاں مکمل تھی۔ فریحہ نے باقی کا کام سب لڑکوں میں بانٹ دیا تھا۔ کیٹرنگ کے لیے کی کمپنی سے رجوع کیا گیا تھا۔عنایا اور سمایا دونوں بہنیں حمزہ کی ہی آٹھ رکنی ٹیم کا حصہ تھیں۔ عنایا نے چھ ماہ قبل کیٹرنگ کا بزنس شروع کیا تھا،جس کا چارج بعد میں سمایا نے سنبھال لیا تھا، جبکہ سمایا چار سالہ سائیکالوجی کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد ایک ورکشاپ اٹینڈ کرنے اٹلی گئی ہوئی تھی۔
شیری اور تراب کو مہمانوں کے استقبال اور ان کی نشستوں تک لے جانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔زویان کو فوٹو گرافر کے فرائض سرانجام دینے تھے۔ ٹھیک سات بجے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ آدھے گھنٹے پہلے فریحہ حیا کو پارلر سے لے آئی تھی۔ حمزہ مہمانوں سے ملنے ملانے میں مصروف تھا جب علی اسے پکڑ کر اسٹیج پر لے گیا۔
”کیا کر رہا ہے تو؟“حمزہ اس اچانک آفت سے کنفیوز تھا۔ ”حیا آرہی ہے۔“علی نے سرگوشی کی۔
”ہاں تو مجھے کیوں یہاں لے آیا ہے۔“
”مجرا کروانے۔“ علی کو اندازہ نہیں تھا کہ حمزہ شادی کے معاملات میں اتنا اناڑی ہو گا۔
”یار تو حیا کو اسٹیج پر رسیو کرے گا۔“ علی نے وضاحت کی، حمزہ نے آنکھیں سکیڑی۔
”ایک دن میں بدل گئے ہو تم سب۔ مجھے تو کسی نے رسیو نہیں کیا تھا۔“
”دیکھ یار‘تو جان ہے اپنی۔ اور حیا ہماری جان کی جان ہے‘ تو اس کا اتنا بنتاہے۔“ علی نے حمزہ کو چھیڑا۔
”خدا کا خوف کرو تم۔“ حمزہ نے اسے جواباً گھورا اور علی نے قہقہہ لگایا۔
”اچھا چل موڈ نہ خراب کر، کسی وقت تو خوش ہو جایا کر۔“ علی نے مصنوعی خفگی دکھائی۔ تبھی حمزہ کی نظر داخلی راستے سے آتی فریحہ اور اس کے ساتھ سر جھکائے چلتی حیا پر پڑی۔ سلور کرتی اور رائیل بلیو لہنگے میں وہ گریس فل لگ رہی تھی۔ حمزہ کو ایک منٹ کے لیے اپنا دل تھمتا محسوس ہوا۔
”شی از پریٹی۔“کسی نے حمزہ کے کان میں سرگوشی کی تھی۔
”ہاں۔“ بے دھیانی میں حمزہ کے منہ سے نکلا۔ اور کہتے ہی وہ بجلی کی سی تیزی سے پیچھے مڑا۔ پیچھے شیری تھا جو اب اپنی ہنسی روکنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔
”ہولڈ دی ہینڈ آف دی برائڈ۔“ اس سے پہلے کہ حمزہ کچھ کہتا، فریحہ کی ڈرامائی آواز پر وہ پیچھے مڑا۔ وہ شرارتی نظروں سے حمزہ کو دیکھ رہی تھی‘ یہاں سب اس وقت حمزہ کو چھیڑ رہے تھے۔حیا نے بے تاثر چہرے سے حمزہ کو دیکھا۔ بلیو پینٹ کوٹ پہنے وہ جینٹل مین لگ رہا تھا، مگر وہ جینٹل مین ہے نہیں، یہ حیا نے دل میں سوچا تھا۔ جینٹل مین نہ تو کسی سے زبردستی شادی کرتا ہے اور نہ ہی اس پر غصہ کرتا ہے، حیا نے منہ بسورا۔حمزہ نے اپنے ہونٹوں کو کھینچ کر خوبصورت مسکراہٹ حیا کی طرف اچھالی۔ اور ہاتھ آگے بڑھایا۔ اور یہ مسکراہٹ ہی تو تھی جس پر حیا کا دل اس بھوری آنکھوں والے کی طرف کھنچا چلا جاتا تھا۔
”کم آن بھابھی۔“ پیچھے سے شور سنائی دیا۔اور حیا نے اپنا ہاتھ اپنی مرضی سے حمزہ کے ہاتھ میں تھما دیا۔
”یاہووو۔“ ہر طرف ہوٹنگ اور تالیوں کی آواز تھی۔حیا اب حمزہ کے برابر کرسی پر بیٹھی تھی۔ دونوں کو اسٹیج پر چھوڑ کر سب لوگ اپنی اپنی نشستوں کی جانب بڑھے۔ مہمانوں سے ملنے ملانے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔ اب کہ وہ حیا کو اپنے مہمانوں سے متعارف کروا رہا تھا۔ وہ اس کے کالج میں اس کے ساتھ پڑھتی تھی‘ اور اب انہوں نے اس دوستی کو خوبصورت رشتے میں بدل دیا تھا‘یہ ہی کہانی وہ ہر مہمان کو سنا رہا تھا۔ حیا کا دایاں ہاتھ اب بھی حمزہ کے ہاتھ میں تھا۔
”اتنی بری بھی نہیں لگ رہی ہو۔“ حمزہ نے حیا کی طرف دیکھے بغیر سرگوشی کی۔ یہ تعریف تھی؟ حیا نے اچنبھے سے اسے دیکھا۔وہ اس کا ہاتھ چھوڑ کر دور حاضرین میں بیٹھے کسی مہمان کی طرف لپکا تھا۔حمزہ کا رویہ کل رات سے ایسا ہی تھا، وہ اسے پہلے کی طرح ٹارچر نہیں کر رہا تھا۔ اور یہ ہی بات حیا کوکھٹک رہی تھی، ایسا کیا ہے جو مجھے نہیں دکھ رہا؟ حیا نے پر سوچ نظروں سے حمزہ کو کسی مہمان سے بات کرتے دیکھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”ایسی زبردست تصویریں کلک کر کے لایا ہوں کہ بھائی کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکو گے۔“ زویان نے اپنی کرسی سنبھالتے ہوئے خود ہی اپنی تعریف کی۔
”دکھا۔“شیری جو اس کے برابر والی نشست پر بیٹھا تھا آگے ہوا۔ یہ حمزہ اور حیا کی تصویریں تھی۔ جس میں حمزہ حیا کا ہاتھ تھامے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ یہ تصویریں ابھی رینڈملی زویان نے لی تھیں۔
”استغفراللہ!“ شیری نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔
”ایسی تصویریں دکھانے سے پہلے یہ بھی نہیں سوچا کہ بچے کے دماغ پر کیا اثر پڑے گا؟“ شیری نے خود کوبائیس سال کا بچہ کہا تھا۔
”ہاں ابھی تھوڑی دیر تک فریحہ باجی تیرے لیے فیڈر بنا کر لائیں گی۔“شیروان نے فریحہ کی طرف اشارہ کیا،فریحہ ہنسی۔
”فریحہ باجی‘ اس سے پوچھیں ذرا‘سارا دن یہ سیل میں سر جھکائے کون سے بیان سنتا رہتا ہے؟“ شیروان اب کہاں رکنے والا تھا۔
”ہاں‘ اور یہ بھی پوچھیں کہ وہ لڑکی کون ہے جس کا نمبر اس نے چوہدری بشیر کے نام سے سیو کیا ہوا ہے۔“ زویان نے جلتی پر تیل ڈالا۔ شیری کا پول کھل گیا تھا۔ فریحہ اپنے سیل پر مصروف ان کی باتوں سے محظوظ ہو رہی تھی۔
”وہ میری بہنوں جیسی گرل فرینڈ ہے۔“ شیری نے انتہائی بے ہودہ رشتہ بتایا۔سب لوگ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہونے لگے تھے۔
”شیری باز آجاؤ۔“ فریحہ نے فون سائڈ پر رکھتے ہوئے اسے تنبیہ کی‘شیری نے معصوم شکل بنائی۔
”جس سے شادی کرنی ہو‘اس کو بہن نہیں کہتے گدھے۔“شیروان نے شیری کی کھنچائی کی۔
”جیسے میں تو جانتا ہی نہیں‘اور آپکو کس نے کہا میں اس سے شادی کر رہا ہوں؟“شیری نے نہایت مہذب طریقے سے شیروان کو تاڑا۔
”شادی تو میں حمزہ سر کی پسند کی لڑکی سے کروں گا۔“ شیری نے اسٹیج پر بیٹھے حمزہ کو دیکھا‘ وہ کسی مہمان سے باتیں کر رہا تھا۔
”آآآآوو‘سو سویٹ۔“زویان اور شیروان نے ایک ساتھ کہاتو شیری نے منہ بنایا۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا علی نمودار ہوا تھا۔
”فریحہ بات سنو زرا۔“س کے ساتھ عنایا اور سمایا بھی تھی۔ فریحہ اٹھ کر سمایا سے ملی اور پھر علی کے ساتھ منظر سے غائب ہو گئی۔دونوں بہنیں وہیں میز کے گرد بیٹھ گئی تھیں۔
”بڑے بڑے لوگ آئے ہیں۔“شیروان نے سمایا کو دیکھ کر ہاتھ ہوا میں بلند کیا۔
”یہ بندی تو جا کر بھول ہی گئی۔“زویان نے بھی شیروان کی حمایت کی۔
”اتنے ماہ بعد تم لوگوں سے مل کر بہت اچھا لگ رہا ہے۔“سمایانے دل کی بات کہی، اور ایک نظر شیری پر ڈالی۔
”شیری تو نے بتایا نہیں سمایا آگئی ہے۔“زویان نے شیری سے اس کی بیسٹ فرینڈ کے بارے میں پوچھا۔
”میں اس کا پی اے ہوں؟“ شیری نے ایک نظر سمایا پر ڈالتے درشت لہجے میں شیروان سے کہا۔ اور پھر سب کا دھیان سمایا سے ہٹانے کو عنایا کو مخاطب کیا۔
”بائی دی وے عنایا کہاں تھی تم؟ زویان تمہیں کب سے میسج کر رہا تھا۔“میز پر یک دم خاموشی چھا گئی۔ عنایا کے گال سرخ ہوئے، زویان نے پھٹی پھٹی نظروں سے شیری کو دیکھا۔
”تجھے کس نے کہا میں اسے میسج کر رہا تھا۔“ وہ واقعی بگڑا تھا۔
”ابھی جب تو بیٹھا واٹس ایپ پر اسے میسج کر رہا تھا‘ میں نے دیکھا۔“پھر اس نے پلکیں ڈرامائی انداز میں دو،چار بار جھپکائی۔ ”وہ جانو والا نمبر عنایا کا نہیں ہے؟“ زویان اور عنایا کوبیک وقت اپنی طرف گھورتے دیکھ کر اس نے کندھے اچکائے۔
”مجھے لگا تھا‘انسان ہوں‘ ہو سکتا ہے مجھے غلط لگا ہو۔“ زویان کا دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اس میں گڑ جائے۔عنایا کا حال بھی اس سے اچھا نہیں تھا۔ اب میز پر موجود لوگوں کی نظریں دونوں پر تھیں۔
”شیری ی ی…..وہ جانو نہیں جہانزیب تھا۔“ زویان نے چبا کر کہا۔
”اچھا تصویر تو مجھے عنایا کی لگ رہی تھی۔ خیرپھر انسان ہوں۔ ہو سکتا ہے میں نے غلط دیکھا ہو۔“ وہ اب بھی بضد تھا۔ زویان نے سوچا نہیں تھاکہ میز سے اٹھنے سے پہلے ہی شیری اس سے اپنا بدلہ لے لے گا۔
”خیر یور پرسنل میٹر۔“ شیری آگ لگا چکا تھا اور اس پہلے کہ زویان کچھ کہتا‘شیری نے پاس سے گزرتے ویٹر کو جوس ری فل کا اشارہ کیا۔ تبھی سمایا کا فون بجا۔ وہ فون رسیو کرنے کے لیے کھڑی ہوئی بے دھیانی میں اس کا بازو ویٹر کے ہاتھ سے ٹکرایا اور جوس شیری کی سفید شرٹ پر گر گیاتھا۔
”سوری، آئی ایم سوری۔“ وہ شرمندہ سی ایک قدم شیری کی طرف آئی۔
”واٹ سوری؟“ شیری غصے سے کھڑا ہو گیا تھا۔
”اگر نظر نہیں آتا تو آنکھیں دکھاؤ کہیں۔“ شیری ا پنے مزاج کے بر خلاف اس پر چلا رہا تھا۔اسے ایسے چیختے پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔
”کیا ہو گیا ہے شیری؟ اس نے جان بوجھ کر نہیں گرایا۔“ زویان اور شیروان بھی کھڑے ہو گئے تھے۔
”لوگوں کو عادت ہے،سب کچھ کر کے انجان بن جانے کی۔“ شیری نے سمایا کو دیکھتے ہوئے دانت پیسے۔
”شیری بس کر اب۔“ شیروان آگے بڑھا۔
”آئی ڈونٹ وانٹ ٹو ڈسکس دس شٹ۔“ وہ کپڑے جھاڑتا لان کراس کرکے اندر چلا گیا تھا۔شیری کے اس رویے پر سب حیران تھے، وہ ترحمانہ نظروں سے سمایا کو دیکھ رہا تھے، عنایا نے اس کا بازو پکڑ کر بٹھانا چاہا مگر وہ اپنا بازو چھڑوا کر اسٹیج پر چلی گئی۔
”اسلام علیکم۔“ سمایا نے حیا سے ہاتھ ملایااور بیٹھتے ہوئے حیا کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگایا۔ حیا کے لیے یہ عجیب لیکن سویٹ جیسچر تھا۔اس لڑکی نے اپنی اس حرکت سے حیا کا دل موہ لیا تھااور کتنے دن بعد آج حیا دل سے مسکرائی تھی۔حمزہ کچھ دیر پہلے وہاں سے اٹھ کر گیا تھا۔ وہ وہاں پر سکون نہیں تھا۔
”میں سمایا…. حمزہ سر کے ساتھ ہی کام کرتی ہوں۔ پچھلے چار ماہ سے میں ایک ورکشاپ کے سلسلے میں ترکی گئی ہوئی تھی۔ ابھی کل رات ہی واپس آئی ہوں۔“ وہ اپنا تعارف کروا رہی تھی۔
تھوڑی دیر میں ہی حیا اور سمایا میں اچھی خاصی دوستی ہو گئی تھی۔
”’ارے سمایا‘ واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز۔“ حمزہ کو دیکھ کر سمایا کھڑی ہو ئی، حمزہ نے بڑے بھائی کی طرح اس کے سر پر ہاتھ رکھاتھا۔
”چلوتم بھی کھانا کھا لو‘ وہ تھرڈ ٹیبل پر شیری لوگ کھڑے ہیں۔“ حمزہ نے ایک طرف اشارہ کیا۔
”حمزہ سر‘ میں یہیں ٹھیک ہوں۔“ شیری کے نام پر سمایا نے وہیں رک جانا مناسب سمجھا۔
”اچھا یوں کرویہیں منگوا لو‘حیا بھی تمہارے ساتھ کھا لے گی۔“ حمزہ نے مشورہ دیا جو حیا اور سمایا دونوں کو پسند آیا تھا۔ حمزہ نے ویٹر سے کہہ کر دو لوگوں کا کھانا اسٹیج پر منگوا دیا تھا۔ وہ خود جا کر علی کے ساتھ بیٹھ گیا۔ا سی ٹیبل پر فریحہ، شیری اور شیروان بیٹھے تھے۔
”کیا بات ہے؟ اتنی خاموشی کیوں ہے۔“حمزہ نے پلیٹ میں چاول ڈالتے ہوئے پوچھا۔ علی نے آنکھوں سے شیری کی طرف اشارہ کیا‘ وہ سر جھکائے خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا۔ حمزہ کچھ دیر پہلے ہوئے ہنگامے کے بارے میں جان چکا تھا،تبھی اس نے سمایا کو بھی فورس نہیں کیا تھا۔
”شیری تم رات یہیں روکو گے؟“حمزہ نے اسے مخاطب کیا۔
”نہیں سر‘شیروان اور زویان کے ساتھ جاؤں گا۔“ اس کا موڈ خراب تھا۔
”اچھا جانے سے پہلے مجھے مل کر جانا۔“ حمزہ نے اسے حکم دیا اور وہ خاموش کھانا کھاتا رہا۔
گیارہ بجے لوگوں کے جانے کا سلسلہ شروع ہوا۔
”ما شا ء اللہ یو گائز لک بیوٹیفل ٹو گیدر۔“
”میڈ فار ایچ ادھر۔“
”اللہ بری نظر سے بچائے۔“
”پرفیکٹ کپل۔“
اور ایسے بہت سے الفاظ مہمانوں نے حمزہ اور حیا کی نظر کیے تھے۔
……………………….
سب مہمان جا چکے تھے۔ فریحہ کی نائٹ ڈیوٹی تھی۔ علی اسے لے کر گھر گیا تھا۔ زویان اور شیروان بھی نکلنے کا سوچ رہے تھے۔سمایا اور عنایا حمزہ کے کمرے میں حیا کے ساتھ بیٹھی گپیں لگا رہی تھیں۔ حیا اب کسی حد تک اس گھر کو لے کر مطمئن تھی۔ یہ کوئی جال نہیں تھا۔ گھر تھا۔ جہاں اس کو چاہنے والے لوگ تھے اور ایک فیملی تھی۔حمزہ کی فیملی!
وہ خوش گپیوں میں مصروف تھے جب عنایا کا فون بجا۔دوسری طرف زویان تھا۔
”بھابھی‘ہم چلتے ہیں زویان جاتا ہوا ہمیں چھوڑ دے گا۔“عنایا نے فون بند کرتے ہوئے اجازت چاہی۔
”پھر کب آؤ گی؟“حیا کو ان کے ساتھ اچھا لگ رہا تھا۔
”دوستی کی ہے تو نبھانی تو پڑے گی۔“سمایا نے حیا کو گلے لگایا۔
تھوڑی دیر بعد وہ کمرے میں اکیلی بیٹھی آج کے فنکشن، اپنی نئی سہیلیوں، اس گھر اور اپنی قسمت کے بارے سوچ رہی تھی۔ پر ہاں اس سوچ میں حمزہ کہیں دور دور تک نہیں تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
شیری، عنایا، شیروان اور سمایا زویان کے ساتھ گھر جا رہے تھے۔گاڑی میں انگلش سانگ لگا ہوا تھا۔
And promise me this
You will wait for me only
Scared of the lonely arms
زویان کے ساتھ عنایا بیٹھی تھی۔زویان کے پچھلی سیٹ پر سمایا شیروان اور اس کے ساتھ شیری بیٹھا تھا۔
”یار‘ کوئی مزے کا گانا لگا دو۔“ شیری بور ہوتے ہوئے سیٹ پر نیچے کو کھسکا۔
”میرا دل یار کا دیوانہ……دیوانہ پیار کا پروانہ….“ جب انہوں نے شیری کی بات پر دھیان نہیں دیا تو اس نے اپنا سر لگایا۔ شیروان فیس بک سکرول کر رہا تھا جب شیری سیدھا ہو کر بیٹھا۔
”آتا ہے مجھکو….پیار میں جل جانا۔“ شیری نے ایک انگلی شیروان کی کنپٹی پر رکھتے ہوئے لکیر کھینچی۔
”کیا کر رہا ہے تو؟“ شیروان نے اس کا ہاتھ جھٹکا۔
”پیار کر رہا ہوں۔” شیری نے اس کو سیریس نہیں لیا اور دوبارہ گنگناتے ہوئے اس کے منہ پر ہاتھ پھیرا۔
”کیا ہے؟“ شیروان اب ہنستے ہوئے رویا۔سب اس دلچسپ سچویشن سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
”رات ہے‘تم ہو‘اور میں ہوں۔“ شیری نے شیروان کا کالر پکڑ کر کھینچا۔ پچھلے چند گھنٹے جو اس کا موڈ خراب رہا تھا وہ اس کی کسر پوری کر رہا تھا۔
”زویان گاڑی روک۔نیچے اتار مجھے۔“ شیروان اب زچ آگیا تھا‘ سب کا ہنس ہنس کے برا حال تھا۔
”تجھے تو نہیں البتہ شیری ضرور آج رات یہیں سڑک پر گزارنے والا ہے۔“ زویان نے شیری کو اتار دینے کی دھمکی دی۔ شیری نے منہ بنا کر زویان کو دیکھا۔
”ویسے زویان کھانا لگنے کے بعد تم کہاں تھے‘نظر نہیں آرہے تھے۔“کچھ منٹ کی خاموشی کے بعد شیری نے کھڑکی سے باہر اندھیرے میں دیکھتے ہوئے زویان کو سنجیدگی سے پوچھا۔
”وہیں تھا میں….پیچھے دوسرے….دوسرے ٹیبل پر‘وہ اپنے حیات صاحب ہیں نا‘ ان کے ساتھ ہی کھڑا تھا بس۔“ زویان نے اٹکتے ہوئے کہا۔
”اوہ اچھا‘میں نے کچن میں کسی کے ہنسنے کی آواز سنی تھی‘کوئی لڑکی بھی تھی شاید…. پرہو سکتا ہے میرا وہم ہو۔“ شیری نے اسے باور کروایا کہ وہ ان دونوں کو کچن میں کھانا کھاتے دیکھ چکا ہے۔ زویان نے جھٹکے سے بریک لگائی‘ اور اپنے سر پر ہاتھ مارا۔ شیروان نے فون جیب میں ڈالا۔ اب یہ گفتگو اس کے لیے دلچسپ تھی۔ سمایا خاموش کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔
”شیری ی ی ی…..میرے بھائی۔“ یہ عنایا تھی۔
”جی بھائی کی بہن۔“ اب شیری کے مطلب کی بات ہونے والی تھی‘وہ آگے کو جھکا۔
”تم حمزہ سر کو کچھ مت بتانا پلیز۔“ اس نے ریکویسٹ کی۔
”ارے نہیں یار‘کیا ہو گیا ہے۔“ اب گیم شیری کے ہاتھ میں تھی۔
”بس اگرر….“ شیری نے زویان کو ہاتھ ملتے ہوئے دیکھا۔
”کیا؟“ زویان نے اسے گھورا۔
”اگر زویان میری پسند کا گانا لگا دے اور میرے اور شیروان کے بیچ میں نہ آئے تو۔“ شیری نے شیروان کے بازو پر اپنی انگلیوں سے ٹرین چلائی۔
”پیچھے دفع ہو۔“ شیروان ایک انچ پیچھے ہوا۔ سمایا نے اپنی ہنسی بمشکل روکی۔
”شیری کم از کم لڑکیوں کا خیال کر لو۔“ زویان نے اسے روکنے کی کوشش کی۔
”اممم….اچھا ایک منٹ۔“شیری نے اپنے فون پر حمزہ کا نمبر ملایا اور سیل کان پر لگایا۔
”اچھا نہیں کہوں گا کچھ‘ تم جو مرضی کرو۔“ زویان نے فوراً شیری کا کہا ہوا گانا لگا دیا، شیری کی ‘ درخواست ‘ پر اب گاڑی میں فل والیم گانا بج رہا تھا۔
یہ میرا دل یار کا دیوانہ‘ دیوانہ پیار کا پروانہ۔
”کیا مطلب جو مرضی کرو۔“ گانے کے شور میں شیروان نے احتجاج کیا تھا۔
”یہ میرا دل یار کا دیوانہ….دیوانے پیار کا پروانہ۔“شیری شیروان کاگال چومنے کے لیے آگے ہوا۔
”امی ی ی ی….۔“ شیروان تقریباً رو دینے کو تھا۔
”کھسروں کے ساتھ ناچ ناچ کے تو خود بھی کھسرا بن گیا ہے۔ جا جا کر اپنا چیک اپ کروا۔“ شیروان اب ہاتھا پائی پر اتر آیا تھا۔سب ہنسی سے دہرے ہوئے جا رہے تھے۔
عنایا اور سمایا کا گھربھی آگیا تھا۔ دونوں زویان کا شکریہ ادا کرتی گاڑی سے نیچے اتری۔
”عنایا‘ ہاسٹل جا کر زویان تمہیں کال کرے گا۔“ شیری نے شیشہ نیچے کر کے عنایا کو آواز لگائی۔ وہ اندر چلی گئی تھی۔ زویان نے اس وقت کو کوسا جب اس نے شیری کے ساتھ بیٹھ کر عنایا کو میسج کیا تھا۔ شیروان موقع غنیمت پا کر آگے زویان کے ساتھ جا کر بیٹھ گیا تھا۔ شیری نے بیک سیٹ پر ٹانگیں لمبی کرتے انگڑائی لی۔ اسے نیند آرہی تھی۔
”شیری‘ تو حمزہ سر کو مل کر نہیں آیا نا‘ انہوں نے تجھے کہا تھا۔“ شیروان نے فون پر مصروف شیری سے پوچھا۔
”ہاں کل مل لوں گا‘یاد نہیں رہا مجھے۔“شیری نے بہانہ بنایا۔
”ویسے تجھے سمایا پر یوں چلانا نہیں چاہئیے تھا۔ اسے برا لگا ہو گا۔ اتنے مہینوں بعد تو وہ آئی تھی۔“ شیروان نے شیری کو اس کے سمایا کے ساتھ رویے پر سمجھانا چاہا۔
”میں نے اسے نہیں بلایا تھا‘میری طرف سے ساری زندگی وہیں رہتی۔“ شیری نے بازو آنکھوں پر رکھ لیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”حیا تمہیں ایک بات بتانی ہے۔“ حمزہ حیا کے پیچھے کمرے میں آیا تھا،وہ جلد از جلد حیا کو اس کے باپ کی موت کا بتا دینا چاہتا تھا۔حیا خاموش رہی تو وہ آگے بولا۔
”زندگی اسی کا نام ہے حیا۔ ہمارے اپنے ہمیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور ہم کچھ نہیں کر پاتے۔“ حیا نے اسے اچنبھے سے دیکھا، یہ اچانک اسے کیا ہو گیا۔
”مجھے سمجھ نہیں آرہا کیسے تمہیں بتاؤں۔ تم اسٹرونگ ہو‘ لیکن خبر جان لیوا ہے۔ علی نے بتایا کہ تمہارے بابا تمہارے یوں غائب ہو جانے کا صدمہ برداشت نہیں کر سکے اور وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔“ آخری الفاظ اس نے دھیرے سے ادا کیے۔وہ تھوڑی دیر یوں ہی بت بنے کھڑی رہی۔ پھر حمزہ کو صرف اس کی چیخیں سنائی دی۔ وہ رو رہی تھی۔ چلا رہی تھی۔ اپنے آپ کو نوچ رہی تھی۔ حمزہ چاہ کر بھی آگے قدم نہیں بڑھا پا رہا تھا۔وہ اسے تھام لینا چاہتا تھا مگر کسی ان دیکھی طاقت نے اسے جکڑ رکھا تھا، وہ اسے تسلی دینا چاہتا تھا۔ زبان سے الفاظ ادا نہیں ہو رہے تھے۔حیا کی چیخیں بلند ہوتی جا رہی تھیں، حمزہ کاضبط جواب دیتا جا رہا تھا۔کئی لمحے وہ یوں ہی کھڑا اسے چیختے چلاتے سنتا رہا۔ یہ اعصاب کی جنگ تھی اور حمزہ یہ جنگ ہار رہا تھا۔ وہ کہنے کو منہ کھولتا مگر آواز نہ نکلتی، حیا کی طرف جانے کو قدم بڑھاتا مگر پیر زمین سے اٹھانا محال ہو جاتا اور تبھی وہ اپنے پورے زور سے چلایا۔
”حیا۔“ حمزہ صوفے پر پسینے میں شرابور بیٹھا تھا۔ حمزہ نے آس پاس گردن گھمائی، وہ سیڑھیوں پر کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی، پھر حمزہ نے خود کو دیکھا وہ لاؤنج کے صوفے پر بیٹھا تھا۔ اف خدایا! یہ بس خواب تھا۔وہ سر دونوں ہاتھوں میں گرا کر بیٹھ گیا۔
”پانی۔“ حیا کی آواز پر حمزہ نے سر اٹھایا، وہ ہاتھ میں شیشے کا گلاس لیے کھڑی تھی، حمزہ نے اسکے ہاتھ سے گلاس تھاما، وہ جانے کو مڑی تو اس نے حمزہ کو کہتے سنا۔
”بیٹھو مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔“ وہ مڑی تو حمزہ ایک سانس میں ہی سارا پانی اپنے اندر انڈیل چکا تھا۔اور اب حیا کے بیٹھنے کا منتظر تھا، وہ بیٹھی نہیں بس کھڑی رہی، حمزہ نے بھی زیادہ زور نہیں دیا اور اصل مدعے کی طرف آیا۔
”دیکھو حیا‘ہمارا یہ نکاح وغیرہ جن حالات میں ہوا۔“کچھ سوچ کر وہ چپ ہو گیا پھر سر اٹھا کر حیا کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
”اس کے لیے میں تمہیں جواب دہ نہیں ہوں۔“ حیا کا دل چاہا وہ گلاس ہی اس کے سر پر دے مارے۔ وہ جانے کو مڑی تو وہ پیچھے سے بولا۔
”تمہارے بابا اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔“ حمزہ نے نظریں صوفہ پر جمائے اپنے تئیں دھماکا کیاتھا۔چند ثانیے گزرے، جب حیا کی طرف سے کوئی چیخ و پکار سنائی نہیں دی تو اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا، وہ وہیں کھڑی تھی، مگر نہ تو اس کی آنکھوں میں کوئی آنسو تھا اور نہ ہی کسی قسم کا دکھ۔
”میرے بابا مر گئے؟“حیا کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ حمزہ کو اپنے الفاظ کا احساس ہوا تو وہ چونکا۔ وہ اس طرح سے تو ا س کے باپ کی موت کی خبر نہیں دینا چاہتا تھا مگر منہ سے نکلے الفاظ کب واپس آٓتے ہیں؟ اپنوں کے بچھڑنے کا غم تو وہ خود بھی جانتا تھا پھر کیوں اس کا دل دکھا دیا؟ وہ تھوڑی دیر بیٹھا اس کو دیکھتا رہا۔انتظار کرتا رہا کہ وہ دھاڑیں مارے، روئے، بہت روئے مگر وہ ساکت کھڑی رہی یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، وہ خاموش حمزہ کو دیکھتی رہی، دیکھتی رہی۔آنکھیں خشک ویران پڑی رہیں۔حمزہ کو لگا وہ صدمے میں ہے۔ وہ صوفے سے اتر کر حیا کی طرف بڑھا کہ اسے کچھ تسلی دے دے مگر اس سے پہلے ہی وہ ہاتھ اٹھا کر دو قدم پیچھے ہو گئی۔
”پہلے مجھے لگتا تھا تم صرف کمینے ہو، مگر نہیں تم تو جھوٹے بھی ہو۔“
”ہاں؟“ حمزہ نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔
”تمہیں اور کچھ نہیں ملا مجھے ڈرانے کو تو میرے باپ کو ہی مار دیا؟ تمہیں لگتا ہے میں تمہارے اس جھوٹ پر یقین کروں گی؟“ وہ حمزہ کی آنکھوں میں دیکھ کر بولتی رہی اور جب اس کی بھوری آنکھوں میں دیکھنا مشکل ہو گیاتو نظریں اس کے سینے پر مرکوز کر دی۔ ”شرم نہیں آتی تمہیں اتنا بے ہودہ جھوٹ مجھ سے بولنے….“ حمزہ اپنے بارے میں اسے اول فول بکنے دیتا ایسا کیسے ہو سکتا تھا۔ حیا کو آگے بولنے کا موقع ہی نہیں ملا .
”شٹ اپ، جسٹ شٹ اپ۔“ ماتھے پر سلوٹ لیے وہ اس کو شعلہ بار نظروں سے دیکھتا رہا اور پھر اسے وہیں چھوڑ کر وہ لمبے ڈگ بھرتا اوپر اپنے کمرے سے ملحق اسٹڈی میں غائب ہو گیا۔اور وہ وہیں کھڑی رہ گئی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!