Haya novel by Fakhra Waheed ep 6

Haya novel by Fakhra Waheed

تھوڑی دیر وہ مختلف فائلوں کے صفحے پلٹتا رہا پھر میز پر رکھی ایک کتاب اٹھا کر پڑھنے لگا مگر چین کسی پل نہیں تھا، تبھی اس کا فون بجا، اسکرین پر علی کا نام جگمگا رہا تھا۔”ہاں بول۔“ حمزہ نے بے زاری سے کہا اور علی نے اتنے ہی تحمل سے جواب دیا۔”حیا کو اس کے باپ کی وفات کا بتا دیا؟ بہت روئی ہو گئی نا؟ تو کہے تو فریحہ کو بھیج دوں؟ سنبھال لے گی اسے۔“”اس نے میری بات کا یقین نہیں کیا، اس کو لگتا ہے میں جھوٹ بول رہا ہوں۔“ حمزہ نے فون کان اور کندھے کے درمیان دباتے عام سے انداز میں کہا۔”ہاں؟“ علی کو لگا اس نے غلط سنا۔”جی مسٹر علی! محترمہ کو لگتا ہے کہ میں اتنا فارغ ہوں کہ بیٹھا اس کو سنانے کو کہانیاں سوچتا رہتا ہوں۔ امیزنگ نا؟“ آخری دو الفاظ کہتے اس نے فائل بند کر دی۔”اچھا یہ کچھ تصویریں تجھے میل کر رہا ہوں یہ دکھا دینا اسے، خود ہی یقین آجائے گا۔“ تبھی حمزہ کے فون پر نوٹیفیکیشن آیا اس نے فون کان سے ہتا کر نوٹیفیکیشن چیک کیا، وہ حیا کے باپ کی میت کی تصویریں تھی۔”تیرے پاس یہ کہاں سے آئیں؟“ حمزہ نے فون کان سے لگاتے علی سے سوال کیا۔”قانون کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں سر۔“ علی شوخ سے انداز میں بولا اور حمزہ مسکرایا۔”قانون سے کہو شکریہ۔“ ادھر قانون نے سینے پر ہاتھ رکھ کر سر کو خم دیا گویا حمزہ اسے دیکھ رہا ہو۔”اب قانون کو اجازت دیں اور جگہ بھی ہاتھ مارنا ہے۔“ حمزہ نے اس کی بات پر ہلکہ سا قہقہہ لگایا اور رسمی بات چیت کے بعد فون بند کر دیا۔تھوڑی دیر بیٹھا وہ علی کی بھیجی تصاویر دیکھتا رہا اور پھر فون یوں ہی ہاتھ میں پکڑے اپنے کمرے میں گیا، وہ صوفے پر دونوں ٹانگوں کو سمیٹے ان کے گرد بازؤں کا ہالہ بنائے بیٹھی تھی۔ اس نے جھک کر فون حیا کے کھڑے گھٹنوں پر رکھنا چاہا، حیا کو لگا وہ اسے چھونے لگا ہے، حیا نے جھٹ سے ٹانگیں سیدھی کیا ور فون اس کی گود میں جا گرا وہ اور بھی رد عمل دینا چاہتی تھی مگر….. فون کی اسکرین پر پڑے بے جان وجود کو دیکھتے ہی اس کی اپنی جان نکل گئی تھی۔ وہ اس کا باپ تھا، اس کا واحد سہارا۔ وہ سفید چادر میں لپٹا پرا تھا، اس کی آنکھیں بند تھیں، بالکل بند!حیا نے ہاتھ بڑھا کر فون کو چھوا تک نہیں۔وہ آنکھیں پھاڑے اس تصویر کو دیکھتی رہی اورحمزہ ترحم سے اسے دیکھتا رہا۔ اگر اس کا کوئی نہیں تھا،تو آج حیا کا بھی کوئی نہیں رہا تھا۔ وہ کہنے کو مناسب الفاظ ڈھونڈنے لگا اور تبھی ایک سسکی حیا کے لبوں سے خارج ہوئی۔حمزہ نے ہونٹ بھینچتے آنکھیں بند کیں۔اور گہری سانس اس کے لبوں سے خارج ہوئی تھی۔ اب کمرے کی خاموشی اور حمزہ کے دل کی وحشت کو اس کی سسکیاں توڑ رہی تھیں۔ اس کے کمرے میں کوئی تھا جو رو رہا تھا، اس کے علاوہ کوئی تھا جو کسی کے مرنے کا غم منا رہا تھا۔ اور یہ ہی وہ مشترک قدر تھی کہ جس کی بنا پر آج پہلی بار یہ لڑکی اسے اپنی لگی تھی، کیونکہ آج ان کا دکھ مشترک ہو گیا تھا۔پہلے جو وہ اسے تسلی دینے کو الفاظ ڈھونڈ رہا تھا، اب چپ چاپ واش روم کی طرف بڑھ گیا۔ وہ چاہتا تھا وہ رو لے، جتنا رونا چاہتی ہے رو لے کہ اس رونے کو وہ اتنے سالوں سے ترس رہا تھا۔ اپنے اندر کی گھٹن کو وہ کبھی آنسوؤں کی صورت رستہ نہیں دے سکا تھا۔مگر حیا اگر رو رہی تھی تو اسے رو لینا چاہئیے تھا۔ پانچ منٹ بعد وہ گیلے بالوں کے ساتھ باہر آیا۔ اور سیدھا شیشے کے سامنے جا کھڑا ہوا، شیشے میں حیا کا عکس وہ دیکھ سکتا تھا۔ وہ اب اس کا فون تھامے اپنے باپ کے چہرے پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔ اسے سینے سے لگا رہی تھی۔ حمزہ نے اس سے نظریں ہٹا کر شیشے میں کھڑے اپنے وجود پر ڈالی۔ اس کی اپنی آنکھیں کرب سے سرخ پڑنے لگی تھیں مگر نہیں جو اتنے سال نہیں رویا تھا اسے اب بھی نہیں رونا تھا۔ اس نے تھوک کے ساتھ بہت سے آنسو اپنے اندر اتارے اور قدم قدم چلتا حیا کے پاس آ کھڑا ہوا۔”جانتا ہوں ایک بیٹی کے لیے اپنے باپ کو کھونا بہت تکلیف دہ ہے، مگر موت کب کسی کو دیکھ کر آتی ہے؟“ اس کی آواز پر حیا نے سر اٹھاکر اسے دیکھا اور پھر دونوں ٹانگیں دوبارہ سمیٹ کر سر ان پر رکھ کر بلک بلک کر رونے لگی۔ حمزہ جو اسے تسلی دینے آیا تھا اب خود پریشان کھڑا تھا۔اور پھر جانے اس کے دل میں کیا آئی کہ وہ اس کے پاس ہی صوفے پر بیٹھ گیا۔اس کے پاس تسلی دینے کو الفاظ نہیں تھے۔وہ تو آج تک خود اپنے لوگوں کے چلے جانے کی جنگ لڑ رہا تھا۔وہ دوبارہ فون اٹھا کر اپنے باپ کی تصویر پر ہاتھ پھیر پھیر کر رونے لگی تھی۔اس کی دل سوز سسکیاں حمزہ کے دل پر جا کر لگ رہی تھیں۔وہ اسے چپ کروانا چاہتا تھا، مگر کیا کہتا؟ جب اسے کچھ سمجھ نہ آیا تو اس نے اپنا فون حیا کے ہاتھ سے لیا اور بے اختیار اس کا ایک ہاتھ حیا کے بالوں پر جا رکا اور پھر بجلی کی سی رفتار سے اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیاتھا۔ حیا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا مگر اس سے پہلے ہی وہ کمرے سے نکل چکا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
باہر جولائی کے آخری ایام کی جھلسا دینے والی گرمی نے لاہوریوں کو اندر رہنے پر مجبور کر رکھا تھا اور یہاں حیا اے سی کی ٹھنڈک میں رات سے سوئی اب تک نہیں جاگی تھی۔ صبح کے سات بج رہے تھے جب حیا کی آنکھ کھلی۔ حیا نے کمرے میں نظر دوڑائی حمزہ وہاں نہیں تھا۔ لاکھ دماغ پر زور دینے کے بعد بھی آخری چیز جو حیا کو یاد تھی وہ اس کا رونا تھا۔ کب روتے روتے وہ سو گئی اسے یاد نہیں تھا۔ وہ تھوڑی دیر یوں ہی بیٹھی رہی۔ دائیں طرف قد آور سنگھار میز کے شیشے میں اس کی آنکھوں کی سوجن واضح تھی۔ اس نے اپنی آنکھوں کو چھوا وہ درد کر رہی تھیں۔ پھر اس نے شیشے میں خود کو دیکھا۔ اپنے وجود پر نظر پڑتے ہی جیسے سارے زخم دوبارہ ہرے ہو گئے تھے۔ شیشے میں نظر آنے والا یہ عکس اس بد قسمت انسان کا ہے جس نے ایک ایک کر کے اپنے ماں اور باپ دونوں کو کھو دیا تھا۔ کیا اس کے باپ کی موت کی وجہ وہ خود نہ تھی؟ کیا اس کا باپ اسی کے غم سے نہیں مرا تھا؟ آنسو قطرہ قطرہ دوبارہ اس کے سفید گالوں پر پھسلنے لگے تھے۔ قد آور شیشے میں گول دائرے ابھرے، ابھرتے چلے گئے یہاں تک کہ حمزہ کا کمرہ حیا کے گھر میں بدل گیا۔یہ دو کمروں کا چھوٹا سا گھر تھا، جس کے کچن کے باہر اس کا باپ کرسی ڈالے بیٹھا تھا وہ مسلسل حیا سے باتیں کر رہا تھا اور حیا کچن سے ہی ان کی باتوں کا جواب دے رہی تھی۔ وہ اس سے کہہ رہے تھے۔”اللہ نے مجھے بیٹوں جیسی بیٹی دی ہے۔ تم نہ ہوتی تو تمہارا بوڑھا باپ تو اس گھر میں اکیلے پڑا پڑا ہی مر جاتا۔“آج کتنے دن بعد وہ اپنا دل کھول کر اپنی بیٹی کے سامنے رکھ رہا تھا۔ حیا ہاتھ میں کفگیر پکڑے باہر آئی تھی۔””اللہ آپ کو لمبی زندگی دے بابا۔ کیسی باتیں کرتے ہیں آپ۔“ وہ خفگی سے باپ کو دیکھ رہی تھی۔”تمہارے سوا میرا ہے ہی کون‘بیٹا؟“”اگر آپکا میرے سوا کوئی نہیں ہے تو میرا بھی آپ کے سوا کوئی نہیں ہے۔“ اسے باپ کا اپنے مرنے کی بات کرنا بالکل اچھا نہیں لگا تھا۔ دل تھا کہ دہل کر رہ گیا تھا۔ بھلا بیٹیاں کب اپنے باپ کے منہ سے ایسی باتیں برداشت کرتی ہوں۔ وہ بھی دوبارہ منہ بنا کر کچن میں گھس گئی تھی۔”تمہاری تو شادی ہو جائے گی بیٹا‘تم کہاں اکیلی رہو گی، مگر تمہارا باپ اس چار دیواری میں اکیلا رہ جائے گا۔“ بیٹی کو رخصت کرنے کے خیال سے ویسے ہی باپ کا دل سہم جاتا ہے اور تب جب بیٹی واحد سہارا ہو تو یہ پریشانی دہری ہو جاتی ہے۔ وہ بھی حیا کی شادی کا سوچ سوچ کر پہلے ہی ادھ موئے ہوتے جا رہے تھے۔ حیا دوبارہ کچن سے نمودار ہوئی مگر اس بار کفگیر دیگچی کے اوپر ہی رکھ آئی۔”میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہی۔ اور دوسری بات کہیں آپ اِن ڈائریکٹلی یہ تو نہیں کہنا چاہ رہے کہ میری شادی کے بعد آپ اکیلے رہ جائیں گے تو کیوں نا آپ میری دوسری امی لے آئیں؟“داؤد کا منہ حیرت سے کھلا۔”حیا۔“ وہ کچھ کہنا چاہتے تھے مگر حیا دونوں ہاتھ کمر پر رکھے بولتی گئی۔ ”اگر آپ ایسا سوچ رہے ہیں تو آپ غلط ہیں مسٹر داؤد۔“ وہ اب پیچھے آکر باپ کی گردن میں بازو ڈال چکی تھی۔”آپ کی بیٹی آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہی۔ یہیں ساری زندگی آپ کا سر کھاتی رہے گی۔“ کہہ کر وہ ہنسی اور ایک غمگین سی مسکراہٹ داؤد کے لبوں پر بھی پھیلی۔ انہوں نے ہلکی سی چپت حیا کے سر پر لگائی۔”یوں تھوڑی ہوتا ہے‘بیٹیوں کو ایک دن جانا ہی ہوتا ہے اور پھر میں تم سے ملنے آتا رہوں گا۔ تمہارے سوا میرا ہے ہی کون۔“نہ چاہتے ہوئے بھی داؤد کی آنکھوں کے کونے بھیگنے لگے تھے لیکن وہ حیا سے نظریں چرا گئے۔حیا نے ان کے گرد اپنی گرفت مضبوط کر دی۔”میرا بھی آپ کے سوا کوئی نہیں ہے۔“تبھی الارم اپنے فل والیم پر بجا۔ حیا نے چونک کر سنگھار میز کے شیشے سے نظر ہٹائی۔ یہ تو اس کا گھر نہیں تھا۔ اس نے ادھر ادھر گردن گھمائی، وہ حمزہ کے کمرے میں تھی۔ حیا نے آنکھیں سختی سے بند کیں۔”بابا‘میرا بھی تو آپ کے سوا کوئی نہیں تھا‘آپ نے تو کہا تھا آپ مجھ سے ملنے آتے رہیں گے۔ کب آئیں گے آپ مجھ سے ملنے؟ بابا‘آپ تو کہتے تھے آپ اکیلے رہ جائیں گے‘لیکن دیکھیں نا آپ کی حیا اکیلی رہ گئی۔“ آنسو اب آبشار کی طرح اس کی آنکھوں سے گر رہے تھے۔ اس نے دونوں ٹانگیں سمیٹ کر اپنے بازؤں کے حلقے میں لیں اور سر گھٹنوں پر ٹکا دیا۔ آنسو آنکھوں کے کونوں سے لگاتار نکل کر کپڑے بھگوتے رہے۔ ماضی فلم کی طرح دماغ میں چلتا رہا۔ اس کی پوری دنیا وہ ایک انسان تھا وہ بھی اسے تنہا چھوڑ گیا تھا۔اتنا تنہا کہ اس کے پاس تو باتیں کرنے کو اپنے گھر کی چار دیواری بھی نہ تھی۔ یہ اونچی اونچی دیواریں تھیں یہاں، جن کی اجنبیت نے انہیں گھر کم اور قید زیادہ بنا دیا تھا۔ دو گھنٹے وہ یوں ہی بیٹھی حالات اور واقعات کو کوستی رہی۔ پھر جب آنسو تھم گئے، حلق خشک ہو گیا،زبان تالو سے چپک گئی تو اس نے پانی کی طلب میں سر اٹھایا۔ سائڈ میز پر ہی اسے پانی کا جگ نظر آگیا تھا۔ مگر رات کا پڑا پانی گرم ہو چکا تھا۔ حیا نے واش روم میں جا کر منہ پر پانی کے چھینٹے مارے اور پھر نیچے آ گئی۔ کچن میں کوئی نہیں تھا۔ اس نے پانی پیا اور لاؤنج میں آ بیٹھی۔ آنکھیں رو رو کر اب چبھنے لگی تھیں۔ کرنے کو کچھ تھا نہیں تو وہ پہلے تو فضول یوں ہی بیٹھی ان در و دیوار کو دیکھتی رہی۔ بے شک یہ گھر یہاں کے رہنے والوں کے ذوق کا پتا دیتا تھا مگر حیا کو کون بتاتا رہنے والے کو تو گھر کی کسی چیز سے غرض ہی نہ تھی۔ وہ تو بس یہاں رات گزارنے ہی آتا تھا۔ وہ بھی کبھی آتا کبھی نہ آتا۔ رات سے مسلسل رو رو کر اب اسے بھوک لگ رہی تھی۔ مگر بی اماں تو حیا کے نکاح کے اگلے دن ہی اہنے گاؤں چلی گئی تھیں اور اب حمزہ بھی کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔ حیا خود ہی اٹھ کر کچن میں چلی گئی۔ کھانا بنا تو کچھ نہیں پڑا تھا مگر فریج میں بریڈ،جام اور پھل پڑے تھے جو حیا کے لیے بہت تھے۔ حیا نے وہیں کھڑے ناشتہ کیا اور پھر دوبارہ لاؤنج میں آ گئی۔ اب کرنے کو اور کچھ نہیں تھا تو اس نے سوچا کیوں نہ اس گھر کا ایک چکر لگا لیا جائے۔یہ اس کے گھر سے کم از کم چار گنا بڑا گھر تھا۔ جس کے دروازے سے داخل ہوتے ہی دائیں طرف کچن کا دروازہ اور بائن طرف لاؤنج تھا۔ کچن کی دیوار سے لاؤنج میں ایک بغیر دروازوں کے کھڑکی کھلتی تھی جس کے بالکل سامنے کھانے کی میز تھی۔ میز سے لاؤنج کی طرف ایک چوڑا ستون تھا جس پر لاؤنج کی طرف ایل ای ڈی لگی تھی اور ایل ای ڈی کے سامنے جدید طرز کے صوفے پڑے تھے۔ پیچھے دیوار پر بڑی چھوٹی پینٹنگز لگی تھیں۔ کھانے کی میز کے پرے سیڑھیاں تھیں جو حمزہ کے کمرے کو جاتی تھیں۔ اوپر دو کمرے اور ایک اسٹڈی روم تھا جبکہ تین کمرے نیچے سیڑھیوں والی دیوار میں بالترتیب لگے تھے۔ کمروں کی حالت دیکھ کر لگتا تھا وہ کسی کے استعمال میں ہیں‘اور پہلا خیال اس کے ذہن میں حمزہ کے دوستوں کا ہی آیا تھا۔ سب کمروں سے ہوتی وہ لان میں آ گئی تھی اور تبھی اس پر آشکار ہوا کہ لان سے ایک رستہ پیچھے سے گھر کی طرف جاتا ہے جو کچن اور سیڑھیوں کے درمیان نکلتا تھا اور اب ایک بار پھر وہ حمزہ کے کمرے کے باہر کھڑی تھی۔ اس نے دروازہ اندر دھکیلا تو سامنے صوفہ، صوفے کے سامنے بیڈ اور بیڈ سے پرے سنگھار میز نظر آیا۔ سنگھار میز کے پاس ہی قد آور سیف الاری پڑی تھی۔ وہ چار قدم اندر آئی تو بیڈ کے سامنے دیوار پر ایل ای ڈی لگا تھا۔ ایل ای ڈی کے دوسری طرف واش روم تھا اور واش روم کے ساتھ جڑی دیوار میں ایک دروازہ باہر بالکنی کی طرف کھلتا تھا۔ وہ چلتے چلتے بیڈ کے سرہانے آکھڑی ہوئی جس کے اوپر بیڈ کے درمیان میں حمزہ کی بڑی سی تصویر لگی تھی۔ حیا نے پہلی بار حمزہ کو ساکت دیکھا تھا۔ ہلکے بھورے بال جو اوپر کو اٹھے ہوئے تھے۔ گندمی رنگت، گہری بھنووں کے نیچے بھوری چھوٹی آنکھیں۔ باریک ہونٹ جو سختی سے بھینچے ہوئے تھے۔ چہرے پر ہلکی داڑھی تھی جو اس کو مزید پر کشش بنا رہی تھی۔ تصویر کے نیچے ایک کونے میں انگریزی میں کچھ لکھا تھا۔ حیا پڑھنے کے لیے تصویر کے پاس گئی۔Hate me. Because í hate myself.” “حیا نے عبارت پڑھی۔”مجھ سے نفرت کرو‘کیونکہ میں خود سے نفرت کرتا ہوں۔“ حیا نے اس کا اردو ترجمہ کیا۔ کوئی کیوں چاہے گا اس سے نفرت کی جائے؟ وہ بس سوچ کر رہ گئی تھی۔ سیڑھیاں اترتے وہ دوبارہ لاؤنج میں آ بیٹھی تھی اور اب اسے پورا دن بور ہونا تھا مگر صوفہ پر پڑا ریموٹ اسے غنیمت ہی لگا تھا۔ مختلف چینل بدلتے وہ نیوز چینل پر آ رکی‘ دو بجے کی ہیڈ لائنز ابھی شروع ہوئی تھیں اور تب دوسری خبر پر حیا کی آنکھیں شاک سے پھیل گئیں۔ نیوز کاسٹر کہہ رہی تھی۔”ایس پی لاہور، حمزہ فیاض بیگ نے گزشتہ دنوں کیے گئے ریڈ میں بازیاب کرائی گئی ایک لڑکی سے نکاح کر لیا…..کل ہونے والے ان کے ریسیپشن میں پولیس ڈپارٹمنٹ کی بڑی شخصیات نے شرکت کی۔“ ساتھ اسکرین پر حمزہ اور حیا کے ریسیپشن کی ایک تصویر تھی۔ حیا کے گلے میں گلٹی ڈوب کر ابھری۔ یہ خبر اب نیوز چینل پر آ گئی ہے؟ پھر تو اس کے بھائیوں نے اور محلے والوں نے بھی دیکھی ہو گی۔ حیا نے فوراً ٹی وی بند کر دیا۔ حمزہ یوں اس کی عزت اچھالے گا اس نے کیوں نہیں سوچا تھا؟ ایک بار پھر اسے اپنے آپ پر غصہ آیا تھا۔ میرے خدایا! ہاتھوں کو صوفے میں دباتے وہ خود کا نارمل کرنے لگی۔ اس کا رونا پھر شروع ہو گیا تھا۔ کچھ دیر پہلے جو زرا سا تحفظ کا احساس تھا وہ بھی اب نہیں رہا تھا۔ کیا ضرورت تھی ایسی تصویر میڈیا میں دینے کی؟ وہ بس ہمارے نکاح کو پبلک کر کے مجھ پر اپنا حق جمانا چاہتا ہے۔ حیا جہاں سے چلی تھی وہیں آ رکی تھی اور پھر پورا دن وہ بیٹھی یوں ہی حمزہ کو سخت ست سناتی رہی تھی۔
…………………………………..
”ہم اپنے پلان میں کامیاب رہے ہیں‘پچھلے ہفتے جہاں ہم نے ریڈ کروایا وہ ائیریا اب کلئیر ہے۔بہت سی معصوم لڑکیاں جن کو وہاں زبردستی رکھا گیا تھا ان کو بازیاب کروا لیا گیا تھا۔ حالات کے پیش نظر ان کے گھر والوں سے ہمیں تعاون کی امید نہیں تھی۔ اس لیے ان لڑکیوں کو پوچھ گچھ کے بعد دارالامان بھجوا دیا گیا تھا۔“ بریفنگ دینے والا علی تھا۔ حمزہ کانفرنس ٹیبل کے گرد سامنے کرسی پر بیٹھا آنکھیں سکیڑے بغور سن رہا تھا۔ دو انگلیاں مسلسل اس کی بھنوؤں پر ایک مخصوص وقفے سے بج رہی تھیں۔اس نے کالی ٹی شرٹ اور اس پر سفید بلیزر پہنا ہوا تھا‘ آنکھیں بتا رہی تھیں وہ ساری رات سویا نہیں تھا۔ اس کے ساتھ سمایا اور سمایا کے سامنے زویان بیٹھا تھا۔ اسی طرح زویان کے ساتھ شیری اور شیری کے سامنے عنایا بیٹھی تھے اور شیروان،شیری کے ساتھ پڑی کرسی پر برا جمان تھا۔”تو تم لوگوں کو کیا لگتا ہے جس لڑکیاں اغوا کرنے والے گروہ کے ہم پیچھے تھے وہ اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے؟“علی کے خاموش ہونے پر حمزہ نے بیٹھے لوگوں سے سوال کیا۔”لگتا تو یہ ہی ہے۔“زویان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔”لیکن حالات و واقعات ایسا دکھا نہیں رہے۔“ حمزہ نے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔”لڑکیوں کے بتدریج اغوا کے کیس اب بھی سامنے آرہے ہیں‘ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ گروہ کہیں اور مختلف لوگوں کے ساتھ دوبارہ فنکشنل ہو گیا ہے‘ یا پھر ان کا سرغنہ کوئی اور ہے۔“ حمزہ نے دلیل دی تھی۔”آئی اگری۔“کہنے والا شیری تھا۔”میرے پاس کچھ ہے۔“ اس نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔شیری نے لیپ ٹاپ پروجیکٹر سے کنیکٹ کیااور ڈوائس لے کر سامنے آگیا۔حمزہ کے پیچھے بڑے پردے پر لیپ ٹاپ کا عکس دکھنے لگا تھا۔ حمزہ کرسی گھما کر پیچھے مڑا اب پردے پر ایک فیسبک گروپ کے سکرین شاٹس تھے۔”سر یہ ایک سیکریٹ فیس بک گروپ ہے‘جس میں یہ لوگ لڑکیوں کو اغوا کرنے کے بعد ان کی تصویریں اپلوڈ کرتے ہیں۔ پھر لائیو سیشن میں ان پر بولی لگائی جاتی ہے اور جو سب سے بڑی بولی لگاتا ہے اسے کے حوالے لڑکی کو کر دیا جاتا ہے‘ پھر وہ اسے اپنے پاس رکھے یا بیچ دے‘ اس کی مرضی۔ نہ صرف اتنا بلکہ زیادہ تر لڑکیاں دوسریممالک کے باشندے خریدتے ہیں اور پھر ان کو بحری جہاز کے زریعے اسمگل کیا جاتا ہے۔“ شیری کے ان انکشافات پر سب نے ایک ساتھ پہلو بدلا۔”تم اس فیسبک گروپ کا حصہ ہو؟“ حمزہ نے انگلیوں میں پینسل گھماتے ہوئے شیری سے پوچھا۔”نو سر‘میرا ایک دوست اس گروپ کا حصہ ہے۔“ شیری نے کچھ سوچ کر کہا۔”کون دوست؟“ شیری کا ایسا کوئی دوست نہیں تھا جسے حمزہ نہ جانتا ہو۔”سر‘ جس تھرڈ جینڈر گروپ کا میں پچھلے کچھ مہینوں سے حصہ ہوں وہاں پر ایک لڑکے سے…“ وہ رکا۔”کھسرے سے۔“ شیروان نے دونوں ہاتھوں کو ہوا میں اٹھا کر کالن بنایا۔”ہاں وہ ہی، مگر وہ اصلی نہیں دو نمبر لوگ ہیں‘جو اپنے کالے کرتوت ڈھکنے کو تھرڈ جینڈر کا روپ دھارے ہوئے ہیں۔“ شیری نے وضاحت کی اور شیروان جھٹ سے بولا۔”مطلب آپ دو نمبر کھسرے ہیں؟“ شیری نے اسے گھور کر دیکھا،سب کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی اور حمزہ نے گردن موڑ کر شیروان کو دیکھا، اس کے بے تاثر چہرے کو دیکھ کر شیروان اپنے سامنے پڑے کاغذوں پر جھک گیا۔”وہاں ایک ’اُس‘ سے میری خاصی دوستی ہو گئی ہے‘وہ ہی اس گروپ کا حصہ ہے۔اسی نے مجھے بتایا تھا اور یہ اسکرین شاٹس بھی مجھے یقین دلانے کے لیے اسی نے بھیجے تھے۔“ شیری نے احتیاطاً شیروان کا بتایا لفظ استعمال نہیں کیا تھا۔ اس کی شاطر دماغی پر ایک بار پھر سب مسکرا ئے تھے۔”تم اس گروپ کا حصہ کیوں نہیں ہو؟“ سمایا نے واقعی قابل غور سوال کیا تھا۔ شیری نے اسے دیکھ کر آنکھیں گھمائیں مگر جواب دینا ضروری تھا‘کہ حمزہ اس کے جواب کا منتظر تھا‘تبھی وہ حمزہ کی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔”کیوں کہ وہ اپنے قابل بھروسہ لوگوں کو ہی اس گروپ میں شامل کرتے ہیں۔ جب مجھے ان لوگوں کا حصہ بنے تین ماہ ہو جائیں گے‘ تو مجھے بھی ایک خفیہ کوڈ دے کر اس گروپ میں شامل کر دیا جائے گا۔“ کوئی اور جگہ ہوتی تو شیری اسے جواب نہ دیتالیکن اس وقت وہ ایک اہم کیس میں ہوئی جانے والی پیش رفت اور آگے کا پلان ترتیب دینے کے لیے بیٹھے تھے۔اس لیے چاہ کر بھی وہ اس کا سوال نظر اندازنہیں کر سکتا تھا۔”ابھی آپ وہاں کیا کرتے ہیں؟“ شیروان نے اپنی ہنسی دبائی۔ سب اس کے سوال کا مطلب سمجھ گئے تھے اور اب شیری کے جواب کا انتظار کر رہے تھے۔”ابھی میں ان کے لیے کھانا بناتا ہوں۔“شیری نے دانت پیسے۔”وہ آپکو اپنے ساتھ شادی بیاہ میں کیوں نہیں لے کر جاتے؟“ شیروان نے نہایت سنجیدگی سے دوبارہ سوال پوچھا۔”کیوں کہ میرا ٹھمکا ٹھیک نہیں ہے۔“ شیری نے وہی جواب دیا جو شیروان سننا چاہتا تھا‘بیسمنٹمیں قہقہے گونجے۔”سر مجھے لگتا ہے،ابھی ہمیں خاموش رہ کر حالات کا جائزہ لینا چاہئیے۔ پچھلے ہفتے والی ریڈ سے وہ چوکنا ہو گئے ہوں گے۔“ سمایا نے اپنی رائے دی۔”میرا نہیں خیال یہ کسی طرح سے بھی بہترین آئیڈیا ہے۔ تب تک وہ اور بہت سی لڑکیوں کو اغوا کر کے اس گھناؤنے عمل کا حصہ بنا چکے ہوں گے۔“ شیری نے اپنی نشست سنبھالتے ہوئے سمایا کی مخالفت کی۔”ہم فوراً کوئی بھی فیصلہ لینے کے بجائے‘ ایک دن اور لگا کر کیس کو مختلف زاویوں سے دیکھیں گے اور پھر آگے کی حکمت علی ترتیب دیں گے۔“ حمزہ نے میٹنگ ختم ہونے کا عندیہ دیا تو سب اپنے کاغذ سمیٹنےلگے.
۔…………………………………….
ٹی وی میں چلنے والی خبر نے حیا کو حمزہ کے لیے بدظن تو کر ہی دیا تھا مگر وہ اس قدر بور ہو رہی تھی کہ اس بات کو بھلانے کی کوشش کرتے کافی دیر یوں ہی گھر کے مختلف حصوں کو ایکسپلور کرتی رہی۔ حمزہ کے کمرے سے نکل کر دو کمرے چھوڑ کر ایک سٹڈی روم تھا۔ جہاں بہت سی کتابیں پڑی تھیں۔ میز پر بکھرے کاغذوں سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اس روم کو باقاعدہ استعمال کیا جاتا ہے۔ حیا نے حمزہ کے کمرے کو دوبارہ سیٹ کیا تھا۔ کہتے ہیں گھر میں جگہ ہو تو دل میں جگہ بن ہی جاتی ہے۔ حیا نے بھی کمرے کی سیٹنگ بدلی تھی۔ اب دیکھو کمرے میں کی گئی تبدیلی ان دونوں کی زندگی کو کس طرح بدلتی ہے!حیا ابھی پانچ منٹ پہلے کچن میں اپنے لیے چائے بنانے آئی تھی مگر وہاں چائے کی پتی کے بجائے کافی کا ڈبا پڑا تھا۔ حیا کو اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ اس گھر کے نفوس صرف کافی ہی پیتے ہیں۔ اپنے لیے اس نے کافی بنائی اور پھر کافی کا مگ ہاتھ میں تھامے باہر آ گئی مگر سامنے کا منظر دیکھ کر وہ ششدر رہ گئی۔ نیچے والے تیسرے کمرے سے ایک کے بعد ایک ذی روح ہنستا قہقے لگاتا لاؤنج میں آ رہا تھا۔ حیا کو لگا یہ اس کا وہم ہے۔ اس نے دوپہر ہی سب کمرے دیکھے تھے اور گھر پر کوئی نہیں تھا۔ پھر یہ اتنے لوگ کس بل سے نکل رہے تھے؟”ہیلو بیوٹیفل لیڈی۔“ شیری کی آواز پر حیا ہوش میں آئی وہ واقعی وہاں تھے۔ حیا بمشکل مسکرائی۔”کیا ہو گیاہے آپکو؟ یوں لگ رہا ہے جیسے بھوت دیکھ لیا ہو۔“ شیری نے اس کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے کہا۔”اسلام علیکم بھابھی۔“ آنے والی سمایا تھی‘اس نے آگے بڑھ کر حیا کو گلے لگایا‘ اور پھر اس کے ہاتھ کو ہونٹوں کے قریب لا کر چھوا۔ حیا اس کو دیکھ کر خوش ہوئی تھی۔”بھابھی‘آپکو ایکٹنگ آتی ہے؟“شیری نے فریج سے سیب نکالتے ہوئے حیا سے پوچھا۔ وہ تینوں اب کچن میں تھے۔”نہیں۔“ سمایا سے بات کرتے حیا نے مڑ کر شیری کو دیکھا۔”سیکھ جائیں گی‘کمپنی اچھی مل گئی ہے آپکو۔“ شیری کہہ کر باہر چلا گیا۔سمایا نے اسے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔حیا کو سمجھ نہیں آیا تھالیکن سمایا کے چہرے کی رنگت بدلتے اس نے بھی دیکھی تھی۔علی اپنے گھر چلا گیا تھا۔ حمزہ ایک طرف سنگل سیٹ صوفہ پر بیٹھا اپنے فون پر جھکا ہوا تھا جبکہ اس کے ساتھ تین سیٹر صوفے پر ایک طرف زویان اور دوسری طرف شیروان لیٹے تھے‘ وہیں نیچے کارپیٹ پر شیری بیٹھا تھا۔حمزہ کے سامنے سنگل صوفہ پر عنایا تھی۔”سر آج بھوک ہڑتال ہے؟“ شیری نے پیٹ پر ہاتھ مارتے حمزہ کو مخاطب کیا۔ یہ شیری ہی تھا جو حمزہ کے ساتھ اس طرح بات کر سکتا تھا۔”ارے ہاں‘تم لوگوں کو بھوک لگی ہو گی‘ ایک منٹ۔“ حمزہ نے فون صوفہ پر رکھا اور کچن کی طرف بڑھا۔”بی اماں‘کیا بنایا ہے؟“کچن میں داخل ہوتے حمزہ نے کہا‘سامنے حیا اور سمایا کھڑے تھے۔”ارے ہاں‘ بی اماں تو نہیں ہیں۔“ حمزہ نے ماتھے پر انگلی پھیری‘ دوسرے ہاتھ کی دو انگلیاں جینز کی جیب میں تھی۔ سمایا حمزہ کو وہاں دیکھ کر باہر نکل گئی تھی‘جبکہ حیا کو صبح والی نیوز یاد آگئی۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی حمزہ بول پڑا۔”تم ٹھیک ہو اب؟“ وہ کھڑکی والے کاؤنٹر سے ٹیک لگا چکا تھا۔ گو کہ اس کی سوجی آنکھیں اس کی حالت کا پتا دے رہی تھیں مگر پھر بھی اس نے رسماً پوچھ لیا تھا۔ اس کے اطمینان نے حیا کو اندر تک جلا دیا تھا۔ کوئی اتنا ڈھیٹ کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ آ نکھوں میں ناگواری لیے اسے دیکھ رہی تھی۔”ٹھیک ہو تم؟“ یوں ہی ٹیک لگائے، دونوں ہاتھ سینے پر باندھے‘ حمزہ نے اپنا سوال دہرایا تو وہ چونکی اور فوراً اثبات میں سر ہلایا۔”چلو….دیٹس گریٹ۔“ حمزہ نے ٹیک لگائے ہوئے ہی دونوں ہاتھ کاؤنٹر پر جمائے۔”میں کیا کہہ رہا تھا سر۔“ شیری نے کچن میں قدم رکھا۔”اوہ سوری‘میں نے آپ لوگوں کی پرائیویسی کو ڈسٹرب کر دیا۔“ وہ مڑااور اب یہ ڈرامہ کر رہا تھا۔”رک جاؤ ڈرامے باز۔“حمزہ بھی اس کی رگ رگ سے واقف تھا۔”شیری میرا خیال ہے‘ اب تمہاری شادی کر دینی چاہئیے۔“حمزہ نے شیری کو بغور دیکھتے ہوئے کہا۔”میں آپکو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا۔“ شیری آکر حمزہ کے گلے لگ گیا۔ حمزہ نے اس کے سر پر چپت رسید کی۔”سیدھا کھڑا ہو۔“ وہ کھڑا ہو گیا‘ تو حمزہ نے اس کے سلیقے سے بنائے بالوں میں ہاتھ مار کر بال خراب کر دیے۔ شیری نے منہ بنایا اور پھر مسکراتے ہوئے حمزہ کے گلے لگ گیا۔شیری کے ساتھ یہ حمزہ کا مختلف روپ تھا۔وہ اس کا بڑا بھائی تھا اور بہترین دوست بھی۔”کچھ کھانے کھلانے کا پروگرام بنائیں سر۔“ شیری نے حمزہ سے الگ ہوتے ہوئے اسے اپنے کچن میں آنے کا مقصد بتایا۔”بی اماں تو ہیں نہیں‘باہر سے ہی منگوا لو۔“حمزہ نے مشورہ دیا۔”یہ بھی صحیح ہے۔“ شیری فون پر نمبر ملاتا باہر نکل گیا تھا۔”ویسے بھابھی آپ بھی ہمارے ساتھ آکر باہر بیٹھیں نا۔“ شیری کچھ سوچ کر واپس آیاتھا۔ حیا، حمزہ کے ساتھ باہر آگئی تھی۔ کھانا آرڈر کر دیا گیا تھا۔اب سامنے تین سیٹر صوفہ پر سمایا کے ساتھ حیا بیٹھ گئی اور وہیں کارپیٹ پر شیری بیٹھ گیا تھا۔”بھا بھی‘آپ کو ڈانس آتا ہے؟“ شیروان نے سیدھے ہوتے ہوئے حیا سے پوچھا۔”ہاں؟“حیا سٹپٹائی۔”ہاں وہ ہمارا ایک دوست ہے‘ اس کا ٹھمکا سیٹ کروانا ہے۔ کمائی کرنے میں بڑی دقت ہے بیچارے کو۔“ شیروان نے شیری کو چھیڑا۔”بچے تمغے یوں ہی نہیں ملتے۔“ شیری نے اپنے سینے پر فخریہ اندازمیں ہاتھ مارا۔”ہاں کھسرا بننا پڑتا ہے۔“شیروان نے اسی جوش سے کہا اور سب ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گئے۔ حیا نے بھی دو انگلیوں کے پیچھے اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی۔”تو نہیں سمجھے گا۔“ شیری نے اس کی ٹانگ پر ہاتھ مارا‘شیروان کراہا‘ اور اس کے ساتھ ہی حمزہ فون کان پر لگاتا باہر نکل گیا تھا۔”بس کر دو اب تم لوگ بھی‘تھکتے نہیں ہو جانو مانو کر کے۔“ شیری نے زویان کے ہاتھ سے فون کھینچا جو اب تک خاموش فون پر لگا ہوا تھا اور اس کے مخاطب وہ دونوں تھے یعنی زویان اور عنایا۔ جب سے یہ لوگ بیسمنٹ سے واپس آئے تھے یوں ہی فون پر سر جھکائے بیٹھے تھے۔”میرا فون واپس کر۔“ اب بھلا فون لینے والا مذاق کون برداشت کرتا، زویان تڑپ کر اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔”یہ کیا لکھا ہے؟ استغفر اللہ۔“ شیری نے اسکی فون اسکرین پر دیکھتے ہوئے ’ہا‘ والا منہ بنایا۔”شیری میرا فون دے۔“ زویان اس کے پیچھے پیچھے تھا۔جب وہ شیری کے پاس پہنچا تو اس نے زویان کا فون شیروان کی طرف اچھال دیا‘ زویان شیروان کی طرف مڑا۔ اس سے پہلے کہ وہ شیروان تک پہنچتا‘ فون دوبارہ شیری کے ہاتھ میں تھا۔ سمایا اور حیا ان کو پورے لاؤنج میں گھومتا دیکھ رہیں تھیں۔”یار نہیں کرو‘ فون دو میرا۔“ زویان برابر تڑپ رہا تھا‘جبکہ عنایا کا رنگ فق ہوا پڑا تھا۔”بھابھی غور فرمائیں۔“ شیری حیا کے پاس جا کر نیچے کارپٹ پر بیٹھ گیا۔”استغفراللہ…استغفراللہ۔“ شیری نے اسکرین پر دیکھ کر سر پکڑ لیا۔”کیا لکھا ہے اونچا پڑھ نا۔
“شیروان شیری کے ساتھ آکر بیٹھ گیا تھا۔”اچھا تو لکھاااااااا..ہے ے ے۔“شیری نے الفاظ کو کھینچ کر ادا کیا۔ سب توجہ سے اس کے اگلے الفاظ کے منتظر تھے۔”تجھے قسم ہے شیری اگر تو نے میرے میسج پڑھے۔“ زویان چلایا۔اور شیری نے مصنوعی قہقہہ لگا کر اس کا مذاق اڑایا تھا۔”سنو سب سنو….عنایا تم بھی سنو نا۔“ شیری نے جان بوجھ کر عنایا کو بلایا‘جو دل ہی دل میں اس آفت سے بچ جانے کی دعائیں مانگ رہی تھی۔
”لکھا…..ہے ے ے۔“ وہ سسپینس بڑھاتا جا رہا تھا‘ حیا اور سمایا ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔”بتا کیا لکھا ہے۔“ شیروان نے جھنجلا کر کہا۔”بچوں کے پڑھنے کا نہیں ہے۔ بھاگ یہاں سے۔“ شیری نے شیروان کے سامنے سے فون پرے ہٹا لیا۔”کمینہ ہے تو۔“ شیروان جو ابھی تک اسے زویان سے بچا رہا تھا وہاں سے اٹھ گیا‘ اب شیری زویان کی پہنچ میں تھااور وہ دونوں فرش پر گتھم گتھا تھے۔ شیروان منہ بنا کر صوفے پر جا بیٹھا تھا‘عنایا نے سر پر ہاتھ مارا۔ اب یہ ڈبلیو۔ڈبلیو۔ ای ریسلنگ اگلے آدھ گھنٹے چلنا تھی‘مگر تبھی حمزہ بیرونی دروازے سے اندر آیا۔ ریسلنگ کورٹ میں بھڑتے ریسلرز کے ہاتھ پاؤں یک دم رک گئے تھے۔ اور مقابلہ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!