Haya Novel by Fakhra Waheed Ep 1

Haya novel by Fakhra Waheed

وہ کو مہ میں تھی جب اس کو لگا اس کا جسم ہلکا ہو تا جا رہا ہے‘اتنا ہلکا کہ وہ اپنے جسم سے نکل کر اوپر کو اٹھتی جا رہی ہے…..اوپر اور اوپر……یہاں تک کہ اس نے نیچے اپنے گرد ڈاکٹر اور نرسوں کو کھڑے دیکھا۔ وہ اس پر جھکے ہوئے تھے‘بول رہے تھے مگر وہ بس اوپر اٹھتی جا رہی تھی اور پھر آسمان کی مسافتیں طے کرتی وہ جنت میں جا پہنچی۔وہاں بہت سے لوگ تھے‘وہ اس کے آباؤ اجداد تھے جو اس کے استقبال کو کھڑے تھے مگر اسے ان کے پاس جانے سے روک دیا گیا۔اب وہ اس سے پوچھ رہے تھے۔”کون ہو تم؟“ اس نے اپنا نام بتایا تو آواز دوبارہ سنائی دی۔”میں نے یہ نہیں پوچھا تمہارا نام کیا ہے،یہ بتاؤ تم کون ہو؟“”میں مئیر کی بیوی ہوں۔“”میں نے تم سے یہ نہیں پوچھا تم کس کی بیوی ہو، مگر تم کون ہو؟“”میں تین بچوں کی ماں ہوں۔“”میں نے یہ نہیں پوچھا تم کس کی ماں ہو، تم کون ہو؟“”میں اسکول ٹیچر ہوں۔“”میں نے یہ نہیں پوچھا تمہارا پروفیشن کیا ہے۔یہ بتاؤ تم کون ہو؟“ اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا۔ وہ سوال پوچھتے رہے‘ وہ جواب دیتی رہی مگر کوئی بھی جواب اس کے سوال کا تسلی بخش جواب نہیں تھا۔”میں شنٹو (جاپانی مذہب) ہوں۔“ اس نے پھر کوشش کی۔”میں نے تم سے تمہارا مذہب نہیں پوچھا۔“ جواب پھر مسترد ہو گیا۔ ”یہ بتاؤ تم کون ہو؟“”میں وہ ہوں‘جو ہر صبح جاگتی ہوں تا کہ اپنی فیملی کا خیال رکھ سکوں اور اسکول میں اپنے طلبا کی ذہنی نشونما کر سکوں۔“اس جواب کے ساتھ ہی اس نے یہ امتحان پاس کر لیا اور اسے زمین پر بھیج دیا گیااور وہ خاموشی سے دوبارہ اپنے جسم میں سما گئی۔اگلی صبح کے سورج کے ساتھ اس نے آنکھیں کھولیں‘اس کے اندر ایک عجیب سا جذبہ تھا جیسے اسے اپنی زندگی کا مقصد مل گیا ہو۔اب وہ پورے دل سے اپنے بچوں کے لیے لنچ بناتی اور ہر روز اپنے طلبا کے لیے مزے دار سبق تیار کرنے لگی۔”اس دن اس عورت نے اپنا ایکی گائی‘ اپنے ہونے کی اور ہر روز صبح اٹھنے کی وجہ دریافت کر لی تھی۔“ ڈاکٹر ہارون چپ ہو گئے تو سامنے بیٹھے پروفیشنلز کا سحر ٹوٹا۔ انہوں نے پہلو بدلے اور ڈاکٹر ہارون روسٹرم کے پیچھے سے نکل کر وائٹ بورڈ کے سامنے پڑی کرسی پر آ بیٹھے۔”آپکو پتا ہے جاپان کا وہ علاقہ جہاں سے یہ کانسیپٹ نکلا ہے وہاں زیادہ تر لوگ سو سال سے زیادہ جیتے ہیں‘کیونکہ ان کے پاس جینے کی وجہ ہے۔“”باقی آج کی گفتگو کو ہم یہیں روکتے ہیں اگلے سیشن میں ہم دیکھیں گے آخر اپنا ایکی گائی، اپنے ہونے کی وجہ جاننا کیوں ضروری ہے۔مگر اس سے پہلے آپ کے لیے اسائنمنٹ ہے کہ تب تک ایکی گائی کو گوگل کریں۔چار سوال آپ کے سامنے آئیں گے، ان سوالوں کا جواب ڈھونڈیں۔“ انہوں نے کلاس پر نظر دوڑائی، وہ ان کے اگلے جملے کے منتظر تھے۔”مجھے اپنے ادارے کے سلسے میں لندن جانا ہے تو اگلے ہفتے کا سیشن اب پندرہ دن بعد ہو گا۔“وہ اپنی نشست سے اٹھ کھڑے ہوئے، دروازے کی طرف قدم بڑھائے، رکے، اور گردن کلاس کی طرف گھمائی۔”دس از آئی ایس ایس، اور یہاں ٹوٹے دلوں کی مرمت کا کام تسلی بخش طریقے سے کیا جاتا ہے۔“
…………………..

رات کا تیسرا پہر تھا جب آسمان پر بکھرے سیاہ بادلوں نے اسے گیٹ سے باہر گاڑی نکالتے دیکھا۔ جانے رات کے اس پہر وہ گھر سے باہر کیا لینے جا رہا تھا۔ آسمان پر بکھرے سرمئی بادلوں نے ستاروں کو اپنی اوٹ میں لے لیا تھا اور وہ جھانک جھانک کر زمین والوں کو دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے‘ مگر ہر کوشش بے سود تھی کہ بادل کسی بھی وقت برسنے کو تھے۔ یہ رات کا وہی پہر تھا کہ جب خدا کے بندے چپکے سے اس کے سامنے‘اس کی بڑائی بیان کرنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ مؤذن آذان دینے کو کھڑا ہو گیا تھا۔اللہ اکبر اللہ اکبر۔شاید مسجد پاس ہی تھی تبھی اس ہولناک خاموشی میں آذان کا جلال فضا میں گھل رہا تھا۔اللہ اکبر اللہ اکبر۔لاالہ الا اللہ۔صدا بلند ہوتی جا رہی تھی۔ اور گاڑی آواز کو پیچھے چھوڑتی آگے بڑھتی جا رہی تھی۔ مگر یہ آواز تو ساتھ چلنے والوں میں سے تھی تبھی وقفے وقفے سے دور پار کی مساجد سے اذان کے کلمات اس کے کانوں میں گھل رہے تھے۔سڑک پر اتنی گاڑیاں نہیں تھیں مگر پھر بھی وہ محتاط نظروں سے آس پاس کا جائزہ لے رہا تھا۔ اسے پہنچنے کی جلدی نہیں تھی‘مگر کئی نظروں سے بچ کر پہنچنا امتحان تھا۔تبھی آدھے گھنٹے کا سفر اس نے ڈیڑھ گھنٹے میں طے کیا۔ اور اب وہ بڑے زنگ آلود گیٹ کو اندر کی طرف دھکیل رہا تھا۔جس کے اس پار مشنری اور اس کے پیچھے سات منزلہ اونچی عمارت تھی۔گاڑی وہ عمارت سے پیچھے سڑک پر ہی چھوڑ آیا تھا۔ عمارت ابھی تعمیراتی مرحلے میں تھی۔ زمین پر جمے سیمنٹ کے ڈھیلوں اور زنگ آلود مشنری سے لگتا تھا کئی وقت سے کام نہیں ہوا۔ گارڈ بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا تھا۔ رات کی اس ہولناکی میں کوئی مشکل ہی یہاں قدم رکھتا۔ مگر وہ پر اعتماد سا دونوں ہاتھ جیب میں ڈالے‘سر جھکائے‘ زمین پر پڑے پتھروں کو اپنے جاگرز سے ٹھوکر مارتے اپنی دھن میں آگے بڑھ رہا تھا۔ بھیانک رات میں جب بادل گرجتے تو یوں لگتا بلڈنگ کے کسی نہاں خانے میں کوئی بد روح سسک رہی ہو۔ وہ چلتا رہا یہاں تک کہ پارکنگ ائیریا عبور کر کے گراؤنڈ فلور کی سیڑھیوں کے پاس آ رکا۔ اس نے سر اٹھا کر ادھ تعمیر عمارت میں اوپر دیکھا۔ وہاں اندھیرا تھا۔ گھپ اندھیرا!وہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ چڑھتا گیا۔ اس کے قدم عین سیڑھیوں پر پڑ رہے تھے، یوں لگتا تھا وہ پہلی بار یہاں نہیں آیا۔ پہلا فلور، دوسرا فلور، تیسرا، چوتھا……یکے بعد دیگرے فلور عبور کرتے وہ پانچویں فلور پر آ رکاتھا۔ اندھیرے میں کچھ بھی سجھائی نہیں دے رہا تھا مگر وہ جانتا تھا جس سے ملنے وہ اتنی دور آیا ہے وہ کہاں ملے گا۔ بادل پھر گرجے‘ پھر کسی کے سسکنے کا گمان ہوا۔ وہ ایک طرف مڑ کر چند قدم آگے چلا‘ اندھیرے میں آنکھوں کو سکیڑ کر دیکھو تو ایک سیاہ ہولہ وہاں اس کا منتظر تھا۔ اس کی پشت اس طرف تھی۔ بادل پھر گرجے‘اس بار گرج ایسی تھی گویا بد روح حلق پھاڑ کر چلائی ہو۔ سیاہ ہیولہ اس کی آہٹ پر پیچھے مڑا۔ اس کے ہاتھ میں پڑا پین جھٹکے سے روشن ہوا۔ وہ اس کے سامنے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا تھا۔ دونوں نے نظروں کا تبادلہ کیا۔ حمزہ نے جیبوں سے ہاتھ نکالے اور اسے سینے سے لگایا۔”سوری‘تھوڑا لیٹ ہو گیا۔“وہ اس سے چند قدم کے فاصلے پر دونوں پیروں کو مناسب فاصلے پر جمائے رک گیا۔”ہم آپ کا انتظار یوں کرتے ہیں جیسے عاشق اپنی محبوبہ کا۔“ سایہ حمزہ کی طرف بڑھا۔ حمزہ سر ہلاتے ہوئے مسکرایا۔”تمہارے لیے ہی لمبے رستے چنتا ہوں‘ورنہ یقین کرو یہ میری گاڑی کا فیول نہیں میرا خون جلتا ہے۔“ حمزہ نے اسی کے انداز میں جواب دیا تو سنسان عمارت میں ہنسی کی آواز سنائی دی۔ سائے نے سینے پر ہاتھ رکھ کر سر کو خم دیا۔”زہے نصیب۔“سایہ دو قدم آگے آیا اور حمزہ کے کان کی طرف جھکا۔ وہ کچھ کہہ رہا تھا‘ دھیرے دھیرے…الفاظ حمزہ کی سماعت میں اترتے جا رہے تھے‘ منہ کے تاثرات وقفے وقفے سے بدلتے رہے‘ دماغ سنے جانے والے الفاظ کو عملی جامہ پہنانے کی پلاننگ ترتیب دینے لگا۔ بادل اپنی رو میں گرجتے رہے‘ ٹپ ٹپ آسمان سے پانی گرنے لگاتھا۔ مگر وہ دونوں اپنی بات میں منہمک رہے‘گویا باہر کا موسم ان کے لیے اہم نہیں تھا۔ ان کو بارش کے تیز ہونے سے پہلے گھر پہنچنے کی جلدی بھی نہیں تھی۔ سایہ بات مکمل کر چکا تو دو قدم پیچھے ہو گیا۔ حمزہ نے سمجھ جانے کے سے انداز میں سر ہلایا‘گہرا سانس اندر کو کھینچا۔”چلو پھر آج اس کھیل کو ختم کرتے ہیں۔“ سائے کو وہیں کھڑا چھوڑ کر سیڑھیاں اترتا وہ گیٹ عبور کر کے سڑک پر کھڑی اپنی گاڑی میں آ بیٹھا تھا۔ گاڑی دوبارہ سڑک پر دوڑنے لگی تھی‘ اورپھر آدھے گھنٹے بعد بارش کے قطروں کی دھندلاہٹ میں سیاہ بادل اسے گاڑی گھر کے گیٹ سے اندر لے جاتے دیکھ رہے تھے۔

————————–

یہ لاہور کا بارونق بازار تھاجس سے گزرتا وہ اس دو منزلہ عمارت کے سامنے رکا تھا۔ عمارت بوسیدہ تھی مگر یہاں رہنے والوں کی چمک دھمک اس کی بوسیدگی پر پردہ ڈالے ہوئے تھی۔ اس نے گاڑی ایک طرف لگائی اور لمبے ڈگ بھرتا راہداری عبور کرکے صحن میں آ کھڑا ہوا۔ اسے دیکھ کر وہاں منڈلاتی لڑکیاں رکی، ہنسی اور چلی گئیں۔ وہ بند لبوں کے پیچھے اپنے دانتوں پر زبان پھیرتا رہا اور بے خواب آنکھیں آس پاس کا جائزہ لیتی رہیں۔”ارے صاحب‘ جی آیا نوں….جی آیا نوں۔“ بر آمدے کے پار کمرے سے نکلتی عورت کی نظر حمزہ پر پڑی، تو وہ بنارسی ساڑھی کا پلو سنبھالتے ہوئے اس کی طرف آئی تھی۔ بند ہونٹوں کے پیچھے دانتوں پر پھرتی زبان رک گئی۔ ا س نے بے زاری سے نور جہاں کو دیکھا مگر بولا کچھ نہیں۔ نور جہاں بھی اس کی طبیعت سے واقف تھی‘ وہ کم ہی بولتا تھا تبھی چہک کر بولی۔”تھکے ہوئے لگتے ہو‘ کہو تو تھکن اتروا دوں صاحب؟“ اور ساتھ ہی اس کی طرف جھکتے بائیں آنکھ دبائی۔ حمزہ نے ابرو اٹھائی۔ آس پاس گزرتی لڑکیاں اسے اشاروں کنائیوں میں سلام کرتی‘ کھلکھلاتی وہاں سے گزر رہی تھیں۔ اس سے پہلے کہ وہ خاتون کے سوال کا جواب دیتا۔ برآمدے کے پار کمرے سے چیخنے چلانے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ حمزہ نے بھنویں سکیڑ کر پہلے کمرے کو دیکھا پھر سامنے کھڑی عورت کو‘ جس کے ماتھے پر پورے تین بل ابھر آئے تھے۔”اس کے پر ایک بار کاٹ ہی دوں تو اچھا ہے۔“ وہ دانت چباتی مڑنے لگی مگر اس سے پہلے ہی کمرے سے ایک لڑکی بھاگ کر بر آمدے کی طرف آئی‘ اس کے پیچھے ایک عورت اور تھی۔ وضع قطع میں وہ پہلی لڑکی سے کافی مضبوط تھی، تبھی جلد ہی اس نے لڑکی کو آن لیا۔ اور اب لڑکی اس کے ہاتھوں میں پھڑ پھڑا رہی تھی۔”چھوڑو مجھے……مجھے میرے گھر جانا ہے…..چھوڑو۔“ وہ چلا رہی تھی۔ حمزہ کے سامنے کھڑی عورت نے خفت سے اسے گھورا اور پھر حمزہ سے معذرت کرتی اس جانب بڑھی۔”کیا ری‘ ایک لڑکی نہیں سنبھلتی تجھ سے؟“ وہ دوسری عورت سے مخاطب تھی۔ عورت نے بے بسی سے اسے دیکھا اور حیا نے شور اور بلند کر دیا۔”مجھے میرے گھر چھوڑ کر آؤ، مجھے نہیں رہنا یہاں۔“ نور جہاں اب اس کے سامنے برآمدے میں کھڑی تھی۔ وہ وہیں صحن میں کھڑا رہ گیا۔ مگر اب وہ بالکل بے زار تھا۔ وہ جس کام سے آیا تھا وہ بھی تو نمٹانا تھا مگر شور بد ستور بلند ہو رہا تھا۔”یہاں جو آتے ہیں نا، وہ جاتے نہیں ہیں۔“ نور جہاں نے اس کے گال اپنے انگلیوں میں دبائے اور دانت پیستے ہوئے بولی اور جھٹکے سے اس کا منہ چھوڑا۔ اس نے پھر شور ڈال دیا۔”تم جیسی گھٹیا عورتیں میں نے نہیں دیکھی……شرم آنی چاہئیے تم لوگوں کو…..مجھے میرے گھر جانا ہے۔ چھوڑو مجھے…“ وہ مچل رہی تھی‘ چلا رہی تھی مگر اس کا یہ شور ایک زناٹے دار تھپڑ کے ساتھ دم توڑ گیا۔ نور جہاں نے ہاتھ اس کے منہ سے پیچھے کھینچا اور حیا کا ہاتھ بے اختیار اپنے گال پر گیا۔آنسو گالوں سے لڑھک لڑھک کر زمیں بوس ہونے لگے تھے۔ حمزہ کے جبڑے بھنچ گئے اور بائیں ہاتھ کی انگلیاں کبھی بند ہوتی کبھی کھلتی گویا وہ خود کو نارمل کر رہا تھا۔ پھر عادتاً ایک ہاتھ بالوں میں گیا نور جہاں کے وجود کے پیچھے چھپی لڑکی کو دیکھنے کے لیے اس نے سر ایک طرف کو نکالا اور ایک لمحے کو وہ یوں ہی دیکھتا رہا۔وہ تیئس، چوبیس سال کی دھان پان سی لڑکی تھی۔گوری رنگت، اتنی گوری نہیں کہ دودھ ملائی سے تشبیہہ دی جائے۔ وہ مڈ ٹون تھی۔ چونکہ حمزہ سے زیادہ گوری تھی تبھی اس نے اسے گورا ہی جانا تھا۔سیاہ آنکھیں جو رو رو کر سرخ ہوئی پڑی تھیں۔ اس کے سفید کپڑوں سے لگتا تھا وہ کسی کالج یا یونیورسٹی کی طالبہ ہے۔ جانے کیوں اسے لگا اس لڑکی کو یہاں نہیں ہونا چاہئیے تھا۔”ارے صاحب‘ اب تک یہیں کھڑے ہو؟ اوپر چلو‘ ایک سے بڑھ کر ایک نئی آئٹم منگوا رکھی ہے میں نے۔“ نور جہاں حمزہ کے پاس آ کر دوستانہ انداز میں بولی اور حمزہ نے چونک کر حیا سے نظریں ہٹائیں۔ اور یہ تب ہی تھا جب حیا نے خود کو پکڑے کھڑی عورت کے بازو میں دانت دھنسائے، عورت جھٹکا کھا کر پیچھے ہوئی اور حیا نے بیرونی دروازے کی طرف دوڑ لگا دی۔ کسی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا، وہ حمزہ کے پاس سے گزری اور پھر کسی مضبوط چیز نے اسے جکڑ لیا۔ وہ ناکامی کی تکلیف سے کراہ کر مڑی۔ وہ دوسری طرف منہ کیے کھڑا تھا مگر لمبے بازو نے پیچھے حیا کے بازو کو جکڑ رکھا تھا۔ عورت بھاگ کر اس طرف آئی، نور جہاں کا پارہ ساتویں آسمان کو جا پہنچا۔ حیا دوسرے ہاتھ سے اس کی انگلیاں کھولنے کی کوشش کرنے لگیں اور نور جہاں دھاڑی۔”انجیکشن لے کر آؤ‘ابھی اس کی ساری ہیرو پنتی نکالتی ہوں۔“ حیا کے کان کی لوئیں خوف سے دہکنے لگیں تھیں۔ اور رہ رہ کر غصہ اس لڑکے پر آ رہا تھا جس نے اس کے بھاگنے کی کوشش ناکام بنا دی تھی۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تو وہ دانت حمزہ کے بازو میں گاڑنے کو جھکی اور جھٹکا کھا کر اس کے بالکل سامنے جا کھڑی ہوئی۔ اس نے اسے کھینچ کر اپنے سامنے کر لیا تھا۔وہ حیا سے اونچا تھا۔ گندمی رنگت اور ہلکی داڑھی۔ پورے بے تاثر چہرے پر بس آنکھیں ہی تھیں جو بول رہی تھیں۔ اور آنکھوں کا بھورا رنگ ان میں دیکھنا مشکل بنا رہا تھا۔ بال بکھرے ہوئے، کھلے گلے کی ٹی شرٹ جس میں سے سینہ عیاں تھا۔وہ کسی وڈیرے کی بگڑی اولاد لگ رہا تھا۔ اسے نفرت محسوس ہو رہی تھی اس لڑکے سے۔ اچھی شکلوں کا کیا کریں جب کردار اتنے میلے ہوں؟ وہ سوچ کر رہ گئی۔ دونوں کے درمیان دو انچ کا فاصلہ تھا۔ حمزہ کی چھوٹی بھوری آنکھیں ان سیاہ آنکھوں پر رک گئی تھیں۔اس لڑکی کو یہاں نہیں ہونا چاہئیے تھا۔ دوسری بار یہ خیال اس کے ذہن میں آیا۔ لڑکی نے پھر اس کے بازو کو کاٹنے کی کوشش کی اور وہ ایک جھٹکے سے اس کے اور قریب ہو گئی۔ حیا نے سختی سے آنکھیں بند کیں۔ حمزہ تھوڑا اور اس کی طرف جھکا۔ وہ اس کے حواس پر چھا رہی تھی۔ کیونکہ وہ خوبصورت تھی؟ نہیں خوبصورت تو اور بھی بہت تھیں یہاں۔ ایک سے بڑھ کر ایک شو پیس۔ مگر یہ ہی اس کو اپنی طرف کیوں کھینچ رہی تھی؟ اس سے پہلے کہ حمزہ سچ میں حواس کھو دیتا اس نے لڑکی کو قریباً دھکیلتے ہوئے خود سے الگ کیا۔”اے‘لے جا اس لڑکی کو اندر اور عقل ٹھکانے لگا دے اس کی۔“ نور جہاں نے حیا کو بازو سے پکڑ کر کمرے سے نکلی عورت کی طرف دھکیلا اور حیا گرتے گرتے بچی۔پھر وہ حمزہ کی طرف مڑی۔”چلو صاحب اوپر ایسا۔“ وہ اور بھی کچھ کہتی مگر حیا نے پھر شور مچانا شروع کر دیا۔”سمجھ نہیں آتا چھوڑو مجھے….چھوڑو۔“ عورت اسے کمرے کی طرف دھکیل رہی تھی اور وہ قدم زمین پر گاڑے جا رہی تھی۔ حمزہ نے گہرا سانس اندر کھینچا۔ نور جہاں نے ماتھے پر بل ڈالے ہی حمزہ کو دیکھا۔”نیا آئٹم ہے یہ….کل ہی لائے ہیں….دماغ خراب کر رکھا ہے اس نے۔ خیر تم بتاؤ صاحب کیسی لڑکی دکھاؤں۔“”نہیں جانا‘ چھوڑو مجھے۔“ حیا بد ستور چلا رہی تھی اور پھر اگلی آواز پر حیا کی چیخیں یک دم رک گئی۔ نور جہاں نے ابرو اٹھا کر حمزہ کو دیکھا۔ وہ کہہ رہا تھا۔”اس لڑکی کو میرے ساتھ روانہ کرو۔“ ایک ہاتھ کمر پر رکھے اس نے دوسرے انگوٹھے کے ناخن سے ماتھا کھجایا۔”اس کو چھوڑو صاحب‘یہ ابھی نئی ہے اس کی ابھی ٹریننگ کریں گے۔ تم..“.وہ اور بھی بولتی مگر وہ بے زاری سے ہاتھ اٹھا کر بولا۔”جتنا کہا ہے اتنا کرو۔مجھے یہ ہی لڑکی چاہئیے۔“حیا کے گلے میں گلٹی ڈوب کر ابھری۔”میں کسی کے ساتھ نہیں جاؤں گی۔“وہ اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے دو قدم پیچھے ہوئی۔ عورت اسے جکڑے رہی۔”صاحب یہ نئی ہے۔“ اب کہ نور جہان بے زار ہوئی تھی۔”منہ مانگی رقم دوں گا۔“ وہ بھی انتہا بے زاریت سے بولا اور حیا کے اوسان خطا ہو گئے تھے۔ وہ بک رہی تھی؟ اسے بیچا جا رہا تھا؟ وہ کوئی چیز تھی؟”نہیں….میں کہیں نہیں جاؤں گی۔“ حمزہ کے سامنے وہ تن کر کھڑی ہو گئی گویا واقعی وہ اس کو ہرا دے گی۔اس نے استہزائیہ سر ہلایا اور نور جہاں نے قیمت بتائی۔”ایک رات کا چالیس ہزار لوں گی پھر۔“ اس نے عام ریٹ سے زیادہ بتایا اور حمزہ نے گردن پر دو انگلیاں پھیری۔”ہمیشہ کے لیے یہ لڑکی میرے ساتھ جا رہی ہے۔“”ایسے کیسے صاحب ابھی کل ہی تو اٹھا کر لائے ہیں۔“نور جہان نے احتجاج کیا۔حمزہ نے اپنا والٹ نکالا۔”منہ مانگی رقم۔“حیا کی تو گویا رہی سہی جان بھی نکل گئی۔”میں کوئی چیز نہیں ہوں جو کوئی بھی خرید لے گا۔“ اس نے حمزہ کو خونخوار نظروں سے دیکھا۔ حمزہ نے اسے نظر انداز کرتے نور جہاں کو دیکھا۔”آ ٹھ لاکھ۔“ نور جہاں نے دانت نکالے۔ جانتی تھی بہت پیسہ ہے اس کے پاس تبھی جو کام ایک،دو لاکھ میں ہو جاتا اس کے لیے آٹھ لاکھ مانگ لیے تھے۔ حمزہ نے دوبارہ سامنے کھڑی عورت کے بازؤوں میں تڑپتی حیا کو دیکھا۔اور پھر پانچ پانچ ہزار کے چند نوٹ نور جہاں کو تھمائے۔ یہ ایڈوانس تھا۔”باقی شام تک بینک میں ٹرانسفر کروا دوں گا۔“ والٹ دوبارہ جیب میں اڑیستے اس نے عورت کے ہاتھ سے حیا کا بازو پکڑااور حیا تو تڑپ گئی تھی۔”ہاتھ چھوڑو میرا….دور رہو مجھ سے۔“”پیچھے ہٹو۔“”مجھے کہیں نہیں جانا۔“”سمجھ نہیں آتا تمہیں؟“”پلیز مجھے چھوڑ دو…مجھے میرے گھر جانا ہے۔“وہ کبھی غصے سے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتی، کبھی منت کرنے لگ جاتی، کبھی دھاڑتی اور کبھی من من کرتی۔وہ کان بند کیے اسے گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے جاتا رہا۔ وہ اپنے پیر زمین پر جما کر رکنے کی کوشش کرتی مگر وہ مضبوط جسم کا مالک تھا۔ کھینچتا رہا۔ یہاں تک کہ دروازے کے پاس آگیا۔ حیا نے مڑ کر پیچھے کھڑی دونوں عورتوں کو دیکھا، شاید کسی کو ترس آجائے مگر پیسے کے سامنے کب کوئی کسی کا رہا ہے؟ نور جہاں ان کرارے نوٹوں کو ناک کے پاس لے جا کر ان کی خوشبو اپنے اندر اتار رہی تھی۔ پھر حیا نے اسے کہتے سنا۔”صاحب جب دل بھر جائے تو واپس چھوڑ جانا، بڑا پیسے کما کر دے سکتی ہے یہ چڑیا۔“حمزہ دروازے سے نکل چکا تھا، نور جہاں کے الفاظ اس نے نہیں سنے تھے۔مگر حیا کا تو دل پھٹنے کو تھا۔اب وہ کسی غیر مرد کے ساتھ رہے گی؟ نہیں! وہ اب بھی خود کو چھڑوا رہی تھی۔حمزہ نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر اسے اندر دھکیلااور خود دوسری طرف سے ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا۔”کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے؟“وہ اس کے بیٹھتے ہی مڑی۔ وہ اگنیشن میں چابی گھما کر گاڑی گلی سے نکالنے لگا۔ وہ کچھ نہیں بولا تو اس نے دوبارہ گاڑی کے شیشے پر ہاتھ مارنے شروع کر دیے، آنسو گرتے جا رہے تھے۔ گاڑی میں اس کی سسکیاں ابھر رہی تھیں۔ باہر کھڑے لوگ تماشائی بنے ہوئے تھے کہ ان کے لیے تو یہ معمول کا منظر تھا۔ جب وہ شور کر کر کے تھک گئی تو منت کرتے ہوئے حمزہ کی طرف مڑی۔”پلیز مجھے جانے دو…… میرے بابا میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔“ پھر اس نے ہاتھ جوڑے۔”ہاتھ جوڑتی ہوں تمہارے سامنے، مجھے جانے دو۔ تمہیں اور بہت مل جائیں گی۔ میرے میں ایسا کچھ نہیں جو کہیں اور نہ ملے مگر پلیز مجھے جانے دو میرے بابا میرا انتظار کر رہے ہیں‘ان کا میرے سوا کوئی بھی نہیں ہے۔“ وہ پوری اس کی طرف مڑ چکی تھی۔ حمزہ نے گردن موڑ کر کھڑکی سے باہر دیکھا اور پھر دوبارہ سامنے سڑک پر دیکھنے لگا۔ وہ اب مین روڈ پر تھے۔ حمزہ نے اس کی بات ہر دھیان نہیں دیا، حیا کا غم غصے میں بدل گیااور ابھی جو وہ چند لمحے پہلے ہاتھ جوڑ کر منت کر رہی تھی خونخوار بلی کی طرح اس پر جھپٹی۔ وہ اس حملے کے لیے تیار تھا‘لیکن حیا اس کے جوابی حملے کو تیار نہیں تھی۔ وہ گاڑی ایک طرف لگا چکا تھا۔ ایک لمحے میں گاڑی کا منظر بدلا تھا۔ اب حیا کا بازو حمزہ کی مضبوط گرفت میں تھا۔وہ درد سے مچل رہی تھی‘آنسو آنکھوں سے ابل ابل کر گر رہے تھے۔ مگر گرفت کمزور نہیں پڑ رہی تھی۔”مجھے تم میں انٹرسٹ ہے…..مگر اس حد تک کہ تمہیں ان لوگوں کے چنگل سے نکال لاتا،کیونکہ ابھی میری اگلی کال پر وہاں موجود تمام لڑکیوں کو حراست میں لے کر تھانے لے جایا جائے گا اور پھر میڈیا ان کے انٹرویو کرے گا۔پورا ملک ان کو دیکھے گا۔“ وہ چبا چبا کر کہہ رہا تھااور حیا کی سرخ متورم آنکھیں آنسوؤں کے پیچھے دھندلاتی جا رہی تھیں پھر وہ منمنائی۔”تم؟“ حمزہ نے اس کا سوال سمجھتے ہوئے اپنے والٹ سے کارڈ نکال کر اس کے سامنے لہرایا۔”ایس پی حمزہ فیاض بیگ…پولیس آفیسر ہوں۔“ کہہ کر اس نے حیا کا بازو جس جھٹکے سے پکڑا تھا اسی طرح چھوڑ دیااور دونوں ہاتھ اسٹیرنگ پر رکھ لیے۔ حیا نے اپنی سانس بحال کی۔”اس کا مطلب تم مجھے اپنے ساتھ نہیں لے کر جاؤ گے؟ مجھے ہاتھ بھی نہیں لگاؤ گے؟“ اس نے قدرے جھجکتے ہوئے پوچھا مگر اب وہ کان میں لگے بلیو ٹوتھ پر بات کر رہا تھا۔”ہاں علی‘وہاں سب ہرا (ٹھیک) ہے۔ ریڈ کر دو تم لوگ۔“گاڑی دوبارہ سڑک پر تھی اور اب پورے رستے وہ خاموش رہی، مگر اس کا خون تب منجمد ہوا جب گاڑی ایک کالونی میں داخل ہو کر، بڑے بنگلے کے سامنے آ رکی۔ حمزہ نے ہارن دیا اور چوکیدار نے بھاگ کر گیٹ کھولا۔ گاڑی اندر گئی۔ ٹریک کے دائیں طرف لان اور بائیں طرف کیاری تھی۔ لان کے آخر میں سبز کپڑے کے سائے کے نیچے ایک گاڑی پہلے ہی کھڑی تھی۔ اس نے اپنی گاڑی بھی پورچ کی طرف بڑھی اور حیا کو خطرے کی بو آنے لگی۔ وہ پھرتی سے حمزہ کی طرف مڑی۔”یہ میرا گھر نہیں ہے۔“”یہ میرا گھر ہے۔“ وہ گاڑی پہلی گاڑی کے برابر میں کھڑی کر رہا تھا۔حیا کا تو سر گھوم گیاتھا۔وہ اتنی بدھو کیسے ہو سکتی تھی؟ ایک اجنبی پر بھروسہ کر کے اس کے گھر تک آ گئی؟ اور وہ بھی ایک پولیس والے پر کہ جن کا نام ہی معاشرے میں برا ہے۔ وہ غم و غصے کی سی کیفیت میں حمزہ کو دیکھ رہی تھی۔”تم لوگوں کے نمک میں ہی دھوکہ ہے۔ تم جیسے پولیس والوں نے پوری پولیس کا بیڑا غرق کر رکھا ہے۔ لعنت ہے تم..۔“ اور یہ جملہ ادھورا رہ گیا۔آفس کی کرسی پر بیٹھ کر کام کرنے والا بھلا کب یہ سب سنتا؟ وہ کم ہی بولتا تھا تبھی جواب دیے بغیر گاڑی سے اترا اور دوسری طرف کا دروازہ کھولتے اسے بازو سے پکڑ کر باہر کھینچا۔ اور وہیں گاڑی کے ساتھ دونوں بازؤں سے پکڑکر اسے گاڑی سے لگا دیا۔”دوبارہ میرے لیے یہ الفاظ استعمال مت کرنا۔ورنہ…“ اس نے اس کے بازؤوں پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے اپنے قریب کیا۔وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کے اگلے الفاظ کے انتظار میں اس کے گلے میں گلٹی ڈوب کر ابھری۔ حمزہ نے اسے پیچھے دھکیل کر ایک طرف منہ پھیر لیا۔”ورنہ جہاں سے لایا ہوں ویسی ہی کسی جگہ چھوڑ آؤں گا۔“ حیا کا دل بند ہونے کو آ گیا تھا۔ جہاں سے نکلی تھی وہاں تو واپس نہیں جانا تھا مگر جہاں آئی تھی یہ بھی عذاب سے کم نہیں تھا۔وہ دوبارہ اس کا بازو پکڑ کر پورچ کے بائیں جانب لگے لکڑی کے دروازے سے اندر داخل ہوتا ہوا لاؤنج میں آ گیاتھا۔ حیا دروازے میں کھڑی وحشت سے اس گھر کو دیکھنے لگی۔اس کے ستون اونچے اونچے تھے۔ وہ اسے وہیں کھڑا چھوڑ کر اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔”حمزہ بیٹا‘جلدی آ گئے، بتا دیتے میں کھانا بنا کر رکھتی۔“کچن کے باہر ایک خاصی عمر کی عورت کھڑی تھی۔ وہ دروازے کی آواز سن کر باہر آ ئی تھی مگر وہاں ڈری سہمی، خود کو اپنے اندر سمیٹتی ہوئی نظر آئی۔ آنکھیں اب بھی سرخ متورم تھی۔ بی اماں اس کی جانب آ ئی۔”بیٹا تم کون ہو؟ اور تمہیں کیا ہوا ہے؟“ وہ پر تشویش انداز میں پوچھ رہی تھیں۔حیا کچھ بولنے کے بجائے ایک قدم پیچھے ہٹ گئی۔ تبھی اوپر کمرے سے حمزہ نمودار ہوا۔ وہ جس طرح اوپر گیا تھا اس سے مختلف تاثرات کے ساتھ واپس آ یا تھا۔”بی اماں‘ ان کو کھانا وغیرہ پوچھ لیں اور ان کے لیے ایک کمرہ سیٹ کر دیں۔“ وہ بی اماں کو ہدایات دے رہا تھا اور دروازے کے پاس حیا منمنائی۔”مجھے میرے گھر جانا ہے۔“ حمزہ نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا اور منمناہٹ دم توڑ گئی۔ حیا کو بی اماں کچن کے باہر پڑی کھانے کی میز تک لے گئی۔ کن اکھیوں سے حیا نے حمزہ کو دیکھا وہ اپنے فون پر جھکا ہوا تھا۔ اس نے فون سے سر اٹھایا تو حیا پانی پی رہی تھی۔ کل سے رو رو کر اب اس کا گلہ خشک ہو چکا تھا۔ حمزہ اسے یوں ہی دیکھتے رہا، ایک دن میں اس لڑکی کی زندگی تہس نہس ہو گئی تھی۔ وہ دوبارہ فون پر جھکا اور ایک نمبر پر حیا کی تصویر بھیجی۔”اس لڑکی کی فیملی میں کون کون ہے، کہاں ہیں۔ پتا کرکے مجھے انفارم کرو۔“پھر بی اماں کو حیا کو اکیلا نہ چھوڑنے اور چوکیدار کو کسی کو باہر نہ جانے دینے کا کہہ کر وہ گاڑی لے کر باہر نکل گیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!