Haya Novel By Fakhra Waheed ep 10

Haya novel by Fakhra Waheed

یہ وہی اندھیر ادھ تعمیر عمارت تھی جس کی سیڑھیاں محتاط انداز سے چڑھتا وہ چوتھی منزل پر آ رکا تھا۔ اس کی نظریں اندھیرے میں کسی کو تلاش رہی تھیں مگر وہاں اس کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ حمزہ نے فون نکالنا چاہا، مگر آج آتے ہوئے اس کی نظر چوکیدار پر پڑی تھی تبھی احتیاطاً فون دوبارہ جیب میں رکھ دیا۔آدھ گھنٹا انتظار کرنے کے بعد اس کی برداشت جواب دے گئی تھی۔کوئی اتنا لا پرواہ بھی کیسے ہو سکتا ہے کہ بلا کر خود نہ آئے۔ اسے رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا۔ وہ اپنی نیند چھوڑ کر یہاں آیا کھڑا تھا۔ور مجال ہے جو اس کے وقت کی کسی کو قدر ہو۔جب اس کا صبر جواب دے گیا تو وہ جانے کو مڑا، ابھی چند سیڑھیاں ہی اترا ہو گا کہ سامنے کسی وجود سے ٹکرا کر وہ گرتے گرتے بچا۔
”توبہ توبہ….میرا کندھا توڑ دیا۔“ آنے والا اوپر چڑھتے ہوئے اب اپنا کندھا سہلا رہا تھا، وہ آج پھر سیاہ نماسک کی اوٹ میں تھا۔
” میں آدھے گھنٹے سے انتظار کر رہا ہوں۔“ حمزہ اس کے پیچھے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔
”اب پتا چلا کیسا لگتا ہے کسی کا انتظار کرنا؟“ آنے والا چوتھے فلور پر کمرے کے درمیان میں جا رکا تھا۔
”سنا ہے آپکی بیوی آپ سے تنگ آ کر چلی گئی ہے؟“ سیاہ ہیولا ہلکے سے ہنسا اور حمزہ کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزرا۔
” اپنے کام کی بات کرو تم…“ حمزہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوا اور پھر سامنے کھڑا ہیولہ ہنسا۔
”ارے میرے نہیں…آپ کے کام کی بات لایا ہوں….سن کر ہو سکتا ہے آپ میرا گال وال چوم لیں۔“ ہیولے نے اب کہ ہلکی سی سرگوشی کی اور حمزہ نے اندھیرے میں ہی اسے گھورا۔
”استغفراللہ…خدا کا خوف کیا کرو۔“ پھر سیاہ ہیولے نے قہقہہ لگایا۔
”بتاؤ کیا پتاچا اس لڑکی کے بارے میں؟“ وہ دوبارہ مطلب کی بات پر آیا اور پھر رات کی سنسان تاریکی میں سیاہ ہیولہ اس کے کان کے پاس سرگوشیاں کرتا رہا اور حمزہ کے چہرے کے بدلتے تاثرات تاریکی میں ہی زائل ہوتے رہے۔جب ہیولہ اپنی بات کہہ کر سیدھا ہوا۔ حمزہ نے دو انگلیوں سے اپنی کنپٹی سہلائی اور خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ پھر وہ کچھ کہے بغیر سیڑھیاں اترتا واپس چلا گیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ردابہ جا چکی تھی۔ حمزہ نے حیا کو ڈھونڈا تھا۔ وہ اپنے سر سے یہ بوجھ اتار دینا چاہتا تھا لیکن وہ اسے کہیں نہیں ملی تھی اس کے دل میں کہیں کسک تھی کہ اس کی وجہ سے ایک اور زندگی خراب ہو جائے گی۔ وہ بس اس ایک اور پچھتاوے سے بچنا چاہتا تھا۔ جب حیا نہیں ملی تو وہ تھک ہار کر بیٹھ گیا تھا۔
ادھر فریحہ کو شیری کا آئیڈیا اچھا لگا تھا۔ وہ چھٹی لے کر کوئٹہ اور وہاں سے زیارت جانے کی پلاننگ کر رہی تھی۔علی کے لیے جانا مشکل تھا لیکن فریحہ کے اصرار پر حمزہ نے علی کا سب کام خود سنبھال کر اسے جانے کے لیے فورس کیا تھا۔شیری کوآئے کافی دن ہو گئے تھے وہ بھی واپس لڑکیاں اغوا کرنے والے گروہ سے جا ملا تھا۔اب کہ اس کے ساتھ شیروان بھی تھا۔
”ببلی آگئی ہے تو۔“ چنبیلی نے لہراتے ہوئے کہا۔ وہ بڑے صحن میں لکڑی والے چولہے پر بیٹھی روٹی سینک رہی تھی۔
”ہاں آگئی ہوں۔“ شیری نے تالی بجائی تھی۔شیروان پہلی بار یوں اس کے ساتھ آیا تھا۔شیری کی حرکت دیکھ کر اس کا دل چاہا وہ زور زور سے ہنسے اور وہ ہنس بھی گیا تھا۔
”یہ کون ہے۔“ چنبیلی نے ناگواری سے اسے دیکھا۔شیری نے غصے سے شیروان کو دیکھا۔
”یہ میری سہیلی ہے۔اپنے علاقے سے لائی ہوں۔“ شیروان کو اپنی جنس بدل جانے کا افسوس ہوا تھا۔وہ دونوں اب نیچے پیڑی پر چنبیلی کے ساتھ ہی بیٹھ گئے تھے۔
”تجھے پتا نہیں ہے یہاں کوئی بھی بی بی حاجن کی مرضی کے بغیر نہیں آتا۔“ چنبیلی نے شیری کے کان میں کہا۔
”اری‘ تو کیوں فکر کرتی ہے۔بی بی حاجن سے میں بات کر لوں گی۔بڑا کرارا ٹھمکا لگاتی ہے یہ۔“ شیری نے چنبیلی کے کان میں آہستہ سے کہا۔شیروان یہ سن چکا تھا۔
”کتا۔“ یہ اس نے دل میں کہا تھا۔
”کیا نام ہے تیرا۔“ چنبیلی اپنے ہی انداز میں گویا تھی۔
”پنکی پنبیری۔“ نام بتانے والا شیری تھا۔
”پنکی تو ٹھیک ہے پر یہ پنبیری کیا ہے؟“ چنبیلی کو سمجھ نہیں آیا تھا۔
”اری‘وہ ہی پنبیری جو اڑتی پھرتی ہے۔بس اس کا ناچ دیکھے گی تو تو بھی مان جائے گی کہ پنبیری ہے یہ۔“ شیری نے شیروان کے کندھے پر ہاتھ مارا اور شیروان کا دل چاہا وہ اس کا گلہ دبا دے۔
”تو ہی بولتی رہے گی یا یہ بھی کچھ بولے گی۔“ چنبیلی اب روٹیاں کپڑے میں لپیٹ رہی تھی۔
”بول میری پنکی پنبیری۔“ شیری نے اس کا مزاق اڑایا تھا۔
”ہاں جی‘ بڑا اچھا ناچتی ہوں۔“ شیروان نے ادا سے کہا تھا۔شیری اسے اچھی خاصی ٹریننگ کروا کر لایا تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ شیروان، شیری سے زیادہ لچک دکھا رہا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”اللہ کی اس کائنات میں ہر چیز کسی خاص مقصد سے ہے۔“
حضرت موسیٰ نے دیوار پر چھپکلی دیکھی تو اللہ سے پوچھا۔
” اے اللہ! تو نے چھپکلی کو کیوں بنایا۔“ تو اللہ نے فرمایا۔
”اے موسیٰ! ابھی تیرے سے پہلے یہ چھپکلی بھی مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ اے اللہ تو نے موسیٰ کو کیوں بنایا۔“
ڈاکٹر ہارون کرسی پر بیٹھے اپنے الفاظ سامنے والوں کی سماعتوں کی نذر کر رہے تھے۔ چھوٹے سے اس کمرے میں نو دس لوگ بیٹھے تھے۔
”اس کائنات میں کچھ ایسا نہیں ہے جو بغیر حکمت بغیر مقصد کے پیدا کیا گیا ہو۔“
”آپ میں سے کتنے لوگ سوشل میڈیااستمعال کرتے ہیں۔“سب نے ہاتھ کھڑا کیا تھا۔
”سوشل میڈیا پر بلیوں کی تصویریں بہت شیئیر ہوتی ہیں۔“
”از اٹ سو؟“وہ رکے۔
”یس۔“ہلکی آوازیں آئی۔
”میں نے کہا ہر مخلوق کا مقصد ہے تو بلیوں کا کیا مقصد ہے؟“
”چوہے پکڑنا۔“ وہ آہستہ سے بولی۔کمرے میں کھلکھلاہٹ ہوئی تھی۔
”اونچا بولیں۔“ ڈاکٹر ہارون نے دائیں دیوار کے ساتھ تیسری کرسی پر بیٹھی حیا سے کہا۔ وہ کنفیوز تھی۔
”چوہے پکڑنے کے لیے۔“ وہ دوبارہ لیکن قدرے اونچا بولی تھی۔
”دیٹس دی رائٹ آنسر۔“ انہوں نے حیا کو سراہا۔ اس کا اعتماد بڑھا تھا۔
”آسٹریلیا کا ایک آئی لینڈ ہے میکیوری آئی لینڈ۔“
”وہاں بلیاں بہت ہو گئی تھیں اور وہاں کے جو سمندری پرندے تھے وہ بلیوں کے شکار کی وجہ سے کم ہوتے جا رہے تھے۔فیصلہ کیا گیا کہ بلیوں کو اس آئی لینڈ سے ختم کر دیا جائے۔ اور ایسا کیا بھی گیا۔ تو ہوا کہ کہ آئی لینڈ پر خرگوش اور چوہے بہت زیادہ ہو گئے۔ خرگوشوں نے فصلیں تباہ کرنا شروع کر دی۔“
”تو بیٹا‘ اگر بلیاں نہ ہوتی تو زمین پر چوہے، خرگوش اور دوسرے چھوٹےmammals کی آبادی بڑھ جاتی۔ خرگوش فصلیں تباہ کر دیتے، چوہے اناج کھا جاتے۔آپ کو پتا ہے ایک خرگوش ایک سیزن میں 100 بچے پیدا کرتا ہے اور ایک چوہوں کے جوڑے سے ایک سال میں دو ہزار چوہے پیدا ہوتے ہیں اور یہ ہی دو ہزار چوہے اگر تین سال اور رہیں تو ہاف بلین چوہے اور پیدا ہوں۔“ سب کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھی۔
”غرض اگر بلیاں نہ ہوں تو ایک دو سال میں ہی پوری زمین چوہوں سے بھر جائے۔“ وہ ان کو اور حیران کر رہے تھے۔
”چوہے چونکہ گندگی میں رہتے ہیں تو ان کے آس پاس ہونے سے ہی مہلک بیماری پھیلتی ہیں۔ طاعون سر فہرست ہے۔ اور اگر ان کی آبادی یوں ہی بڑھتی رہے تو انسانوں کے لیے اناج نہیں بچے گا اور ہم سب بھوک سے مر جائیں گے۔“
وہ سانس لینے کو روکے تھے۔
”سر اگر ہر چیز کا کوئی مقصد ہے تو چوہوں کا کیا مقصد ہے پھر۔“ کسی نے پوچھا اور ڈاکٹر ہارون مسکرائے۔
”میں اسی سوال کی توقع کر رہا تھا۔“
”بیٹا پہلا تو یہ کہ چوہے scavangers یعنی مردار خور ہیں اور دوسرا یہ سورس ہیں دوسرے جانوروں کی خوراک کا۔ سانپ اور مختلف پرندے وغیرہ۔“
”اچھا چلیں اس سے بھی چھوٹی مثال لے لیتے ہیں۔“
”آپ نے شہد کی مکھی دیکھی ہے؟“
”کتنی چھوٹی سی ادنیٰ سی مخلوق ہے۔ ہمارے گھروں میں اس کا شہد بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے۔ شفا ہے اس کے شہد میں۔ کیا اس شہد کی مکھی کا مقصد شہد بنانا ہی ہے؟“ ڈاکٹر ہارون نے پہلو بدلا۔ دائیں طرف تیسری کرسی پر ہاتھ میں کاپی پنسل پکڑے وہ پوری طرح ان کی طرف متوجہ تھی۔
”بیٹا‘ آپ کسی سپر مارکیٹ میں جائیں۔ وہاں موجود ون تھرڈ فوڈ اس شہد کی مکھی کی وجہ سے ہے۔ اگر یہ مکھی نہیں ہوتی تو پولینیشن نہیں ہوتی اور پولینیشن نہیں ہوتی تو 33 فیصد فصلیں اور نوے فیصد پودے نہ اگتے۔“
”اگر یہ شہد کی مکھیاں نہ ہوں یا کم ہو جائیں تو ہمارا ایکو سسٹم تو ختم ہو جائے گا۔“
”بتانا یہ مطلوب ہے کہ ہر مخلوق کے اس دنیا میں ہونے کا مقصد ہے۔“
”انسان ساری زندگی اس دنیا میں گزار لیتا ہے لیکن اپنے اس دنیا میں آنے کا مقصد پہچاننا تو دور کی بات وہ خود کو بھی نہیں پہچان پاتا۔“ وہ کھڑے ہو گئے تھے.
” میں آپ سے ہوچھتا ہوں، ہو آر یو؟آپ کہ ممکنہ جوابات کیا ہوں گے؟“
”مائی نیم از دس۔“
”آئی ڈو دس جاب۔“
”آئی لیو ان اسلام آباد‘ وغیرہ۔“
” یس اور نو؟“ ا نہوں نے حمایت چاہی۔
” یس۔“ دوبارہ ہلکی آوازیں آئی تھیں۔
”سو یور نیم از ایس وائی زی۔“
”دیئر از این ادھر پرسن ود دی سیم نیم۔“
”لونگ ان دی سیم سٹی۔“
”ناؤ واٹ ول یو ڈو؟“
”آپ میں اور اس انسان میں کیا فرق ہے؟“ اب کہ ان کی آواز قدرے بلند تھی۔
”شکل کا۔“کسی نے ہلکے سے کہا تھا۔کمرہ چھوٹا تھا آواز ڈاکٹر ہارون کو پہنچ گئی تھی۔
”شکل کا؟ کون دیکھ رہا آپ کا چہرہ؟ میں‘آپ کے ساتھ بیٹھا انسان‘آپ کی فیملی‘دوست۔بس؟“
”کوئی اجنبی آئے‘ آپکا چہرہ دیکھے تو کیا یہ آپکا تعارف ہو گا؟ اگر یہ آپکا تعارف ہے تو وہ آپ سے کیوں پوچھتا ہے ہو آر یو؟ کون ہیں آپ؟“
”اور اگر آپ کی شکل جواب ہے اس سوال کا تو جب آپ پیدا ہوتے ہیں تو آپ کا نام کیوں رکھا جاتا ہے؟“ وہ سانس لیے بغیر بولے جارہے تھے۔کمرے میں بالکل سناٹا تھا‘ اتنے سوالوں کا جواب کوئی نہیں دے سکا تھا۔
کون ہیں وہ؟وہاں موجود سب لوگ اس سوال کا جواب جاننا چاہتے تھے۔ حیا کو لگا وہ واقعی خود کو نہیں جانتی۔وہ اس وقت اپنے آپ کو اجنبی لگی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کلاس میں کافی دیر خاموشی رہی‘وہ اپنے نوٹس پر جھکی ہوئی تھی۔ خاموشی کو ڈاکٹر ہارون کے فون پر آنے والی کال نے توڑا تھا۔ وہ کلاس سے باہر چلے گئے تھے۔اب کلاس میں ہلکی سرگوشیاں ہو رہی تھی۔ وہ اکیلی بیٹھی تھی۔ اس کلاس میں کوئی کسی کو نہیں جانتا تھا۔یہاں جو لوگ موجود تھے وہ اپنے شعبوں کو جوائن کرنے والے نئے لوگ تھے۔جن کو ان کی قابلیت کی بنا پر مزید کامپیٹنٹ بنانے کے لیے یہاں بھیجا گیا تھا۔ ہر ادارہ اس کے بدلے ڈاکٹر ہارون کو بھاری فیس دے رہا تھا۔جو ان کا حق تھا۔ یہی لوگ آگے چل کر اپنے اداروں میں بہتری لانے والے تھے۔حیا ان میں انوکھی تھی۔ان دس بارہ لوگوں میں سے ہر ایک کے پیچھے کوئی ادارہ، کوئی پوسٹ تھی۔ جب کہ حیا کے پیچھے ڈاکٹر ہارون خود تھے۔ڈاکٹر ہارون واپس کلاس میں آگئے تھے۔ سرگوشیاں ختم ہو گئی تھیں۔ وہ روسٹرم کے پیچھے کھڑے ان کنفیوز چہروں کو دیکھ رہے تھے۔ یہ سب اپنی قابلیت پر فخر کرتے تھے اور آج ایک سوال، ان کے اپنے بارے میں کیے گئے سوال نے ان کو شش و پنج میں ڈال دیا تھا۔
”آئی ہوپ وی کین گو اہیڈ ناؤ۔“تمام لوگ جو پہلے ان کی طرف دیکھ رہے تھے اب اور متوجہ ہو گئے تھے۔
”آپ کون ہیں‘اور اس دنیا میں کیوں ہیں؟ سوال بہت سادہ ہے‘مگر جواب سادہ نہیں ہے۔“
”سر‘ہم اللہ کی عبادت کرنے کے لیے یہاں ہیں۔“چوبیس پچیس سالہ لڑکے نے فوراً کہا۔ڈاکٹر ہارون کے تاثرات کچھ ڈھیلے پڑے۔
”اگر ہم اللہ کی عبادت کے لیے یہاں ہیں تو ہم کاروبار یا نوکری کیوں کرتے ہیں‘کھانا کیوں کھاتے ہیں‘سوتے کیوں ہیں؟ یا کچھ بھی۔ عبادت کے علاوہ کچھ بھی اور کیوں کرتے ہیں؟“ انہوں نے انتہائی پرسکون لہجے میں لڑکے سے پوچھا۔ وہ لاجواب تھا۔
”اور جینٹلمین‘بتایا یہ ہی گیا ہے کہ عبادت کرو مگر آپکو لگتا ہے عبادت صرف نماز روزہ ہے؟“ ان کی نظر سب سے ہوتی ہوئی آخری کرسی تک گئی۔
”یہ تو فاؤنڈیشن ہے‘ دین کی عمارت تو پانچ ارکان کے اوپر کھڑی ہے۔والدین کو دیکھ کر مسکرانا‘انسانیت کی مدد کر کے خدا کی رضا حاصل کرنا‘ کسی کے لیے دعا کر دینا، کسی کو قرآن کی ایک آیت سکھا دینا‘ کسی کے لیے آسانی مہیا کرنااور رزق کی تلاش میں نکلنا‘ یہ بھی عبادت ہے۔“ ان کی آواز میں اب کہ جوش تھا۔
”مجھے معلوم ہے کہ یہاں موجود ہر لڑکا یا لڑکی اپنے شعبے کے قابل لوگوں میں سے ہیں۔ میرے اس سوال کا مقصد کسی کو یہ محسوس کروانا نہیں کہ وہ کم ہے یا قابل نہیں ہے۔ بلکہ اس اہم سوال کی طرف متوجہ کروانا ہے جو ہے تو آپ کے بارے میں مگر اس کا صحیح جواب آپ کے اپنے ہی پاس نہیں ہے۔“ وہ سانس لینے کو رکے۔
”بیٹا‘انسان کی دو پیدائشیں ہیں۔پہلی جب اسے اس کی ماں جنم دیتی ہے اور دوسری جب وہ اس دنیا میں آنے کا اپنا مقصد پہچان لیتا ہے۔کئی لوگ اس دوسری پیدائش سے پہلے ہی مر جاتے ہیں اور کئی یہ جاننے کی جستجو ہی نہیں کرتے۔“
”کیا زیادہ تر لوگ اس دوسری کیٹگری میں نہیں آتے؟ ہم جاگتے ہیں، کھاتے ہیں، پیتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ بھئی یہ کھانا پینا جس کو ہم نے مقصد حیات بنا لیا ہے یہ تو محض بنیادی ضرورتیں ہیں۔ جو جانور کے پاس بھی ویسی ہی ہیں جیسی آپ کے پاس ہیں۔“انہوں نے آخری جملے پر زور دیا۔
کلاس میں بیٹھے دل بے ترتیب ہوئے تھی۔ماحول اور جملے کی سنگینی سے جسم میں سنسنی پھیلی تھی۔ان کو لگا وہ جانوروں کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔میرے خدایا!
ڈاکٹر ہارون نے لیپ ٹاپ کی اسکرین کو چھوا تو وائٹ بورڈ پر ایک تصویر ظاہر ہوئی۔
”میزلوز ہیرارکی آف نیڈز۔“سب سے اوپر لکھا تھا اور نیچے تکون کی طرح کی تصویر تھی۔ جس میں خانے بنے ہوئے تھے۔ڈاکٹر ہارون نے سب سے نیچے والے خانے کے گرد دائرہ لگایا۔
”یہ ہے بنیادی ضروریات والے لوگ۔ ان کا زندگی گزارنے کا اصول ہے بس روٹی، کپڑا،مکان۔ آپ کو جان کر شاید حیرت ہو کہ زیادہ تر دنیا میں لوگ یہیں پر رکے ہوئے ہیں۔تبھی اس ٹرائینگل میں یہ جو آخری خانہ ہے یہ بڑا ہے۔“ انہوں نے پہلے سے لگے دائرے پر دوبارہ دائرہ لگایا۔
”اوپر آتے جائیں خانے چھوٹے ہوتے جائیں گے۔جو ظاہر کرتے ہیں کہ زیادہ تر انسان ان بنیادی ضروریات کے چکر سے ہی نہیں نکل پاتے۔اس فیزیکل نیڈز کے لیول سے اوپر جانے والے لوگ کم ہیں۔اب سب سے اوپر آجائیں…..یہاں۔“ انہوں نے ایک اور دائرہ لگایا۔
”سیلف ایکچلائیزیشن۔ جناب یہ وہ لوگ ہیں جو خود کو پہچان جاتے ہیں۔ اپنا مقصد پہچان جاتے ہیں اور یہ باکس اس ٹرائنگل کے نیچے کے سب باکسز سے چھوٹا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ یہاں پہنچنے والے بہت کم لوگ ہوتے ہیں۔ جو پہنچ جاتا ہے وہ نیچے والی ہر ضرورت پیچھے چھوڑ آتا ہے۔“
”مائیکل اینجلیو۔“ وہ روسٹرم سے کرسی تک آئے۔
”پندرہ دن وہ بندہ کھڑا ہو کر پینٹنگ بناتا رہا۔ اور کسی چیز کاہوش ہی نہیں۔ پندرہ دن بعد جوتا اتارتا ہے تو پاؤں کی کھال بھی ساتھ ہی اتر آتی ہے۔“ حیا نے جھر جھری لی۔
”جو آپ کا کام ہوتا ہے نا بیٹا‘ وہ آپ کو تھکنے نہیں دیتا اور اٹھنے بھی نہیں دیتا۔ پھر کیا کھانا،کیا پینا،کیا دن اور کیا رات۔“
کلاس مبہوت ان کو سن رہی تھی۔ سما ایسا بندھ گیا تھا کہ ڈاکٹر ہارون سانس لینے کو بھی رکتے تو کان آگے سننے کو بے چین ہو جاتے۔
”اچھا ایک اور مزے کی بات۔“ انہوں نے پہلو بدلا۔ ”جو عام لوگ ہوتے ہیں نا وہ خود کو منوانا چاہتے ہیں۔ چاہتے ہیں لوگ سراہیں پر یہ جو لوگ سیلف ایکچلائزیشن کے درجے پر پہنچتے ہیں ان میں یہ طلب بھی نہیں ہوتی۔“ ہونٹ فاتحانہ سے انداز میں کھینچے۔
”ان کو پرواہ ہی نہیں کہ کوئی ان کا کام دیکھتا ہے، سراہتا ہے کہ نہیں۔یہ خود مطمئن ہوتے ہیں‘ اپنے کام سے اور خود سے۔“ وہ ٹھہر ٹھہر کر کہہ رہے تھے۔
”ان کو پیسہ دولت نہیں چاہئیے ہوتا۔ یہ خود کو پہچانتے ہیں اپنا مقصد پہچانتے ہیں اور اس کام کو عبادت کی طرح کرنے لگ جاتے ہیں۔ پیسہ، وقت،حال بے حال ہر چیز سے بے گانہ۔“
”ہم زندگی میں چھوٹے جھگڑوں میں پڑے رہتے ہیں بڑی جنگ لڑتے ہی نہیں ہیں۔“ انہوں نے تاسف سے کہا۔
”میرا پیسہ،میرا دوست،میرا گھر،میری زمین،میری گاڑی۔“
”پھر؟“
”پھر اس نے مجھ سے صحیح سے بات نہیں کی‘وہ مجھے دیکھ کر مڑ گیا‘اس نے مجھے دیکھ کر منہ بنا لیا۔اس نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ بدلہ، لڑائی، جھگڑے۔“ ان کی آواز میں تاسف تھا۔
”یہاں ہمارے پاس تقریباً ہر بڑے محکمے کے لوگ موجود ہیں۔ بتائیں کتنی برداشت ہے ہم میں؟“
”دس روپے کے پیچھے قتل کے کیسز آئے ہیں سامنے۔“
”وہ ممانی نے بچے کو مار دیا کہ سب کہتے ہیں یہ میرے بیٹے سے پیارا ہے۔مطلب واقعی؟“اپنے الفاظ پر انہوں نے خود ہی تصدیق چاہی۔
”ایک دوسرے کو نیچے کھینچ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں وہ بھی بس اتنا آگے کہ اس پیچھے چھوٹنے والے کا مذاق بنا سکیں۔اس سے آگے نکل جانے کا گھمنڈ دکھا سکیں۔“
”واٹ یار؟“ تاسف بر قرار تھا۔
”بیٹا‘ یہ چھوٹے جھگڑے ہیں۔“ انگوٹھے اور شہادت کی انگلی جوڑ کر بتایا۔
”بڑے میدان میں نکلیں،بڑی جنگ لڑیں،بڑی منزل کے مسافر بنیں۔“ ہاتھ ہوا میں پھیل گئے تھے۔
…………………………….
یہ بڑا مگر قدرے تاریک سا ہال تھا،ہال میں سرخ رنگ کی لائٹ کے ساتھ دوسری رنگ برنگی روشنیاں گھوم رہی تھیں،سامنے کاؤنٹر تھا جس کے آگے چار اونچی نشستیں تھیں،جن میں سے دو پر تھیں، ان کے آگے کچھ میز لگے تھے، پیچھے ڈانس فلور تھا،کچھ نوجون جوڑے میزوں کے آس پاس لگی کرسیوں پر براجمان شراب اور دوسری نشہ آور اشیا حلق میں انڈیل رہے تھے اور باقی ڈانس فلور پر ناچتے فحاشی کے جھنڈے گاڑ رہے تھے۔ میوزک لاؤڈ تھا مگر اتنا نہیں کہ آواز سنائی نہ دے۔وہ ابھی پیچھے کوریڈور سے ہوتا اندر آیا تھا۔ جینز،اس پر ہاف وائٹ شرٹ،بازو کلائیوں تک مڑے ہوئے،چہرے پر ہلکی داڑھی اور وہی بھوری آنکھیں جن کو سکیڑتا تو سامنے والے کے لیے نظر ہٹانا مشکل ہو جاتا۔ اس کا رخ کاؤنٹر کی طرف تھا،وہ ایک نشست پر جا کر ٹک گیا،ویٹر کو اشارہ کیا اور جوس کا گلاس ہاتھ میں پکڑے کرسی کو گھما کر پب کا جائزہ لیا،سب اپنی دھن میں مگن تھے۔جوس کا گلاس ہونٹوں سے لگاتے اس کی آنکھیں مسلسل آس پاس لوگوں پر تھی۔
”کس کا انتظار کر رہے ہو ہینڈسم۔“ نسوانی آواز پر وہ پلٹا۔اس کے ساتھ والی ہائی چیئر پر ایک لڑکی کالی ساڑھی،سرخ لپ اسٹک،آنکھوں پر لائنر غرض لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے تمام آلات سے لیس تھی۔حمزہ نے ایک نظر اسے دیکھااور جواب دیے بغیر کرسی گھما کر دوبارہ کاؤنٹر کی طرف مڑ گیا۔ اب گلاس کاؤنٹر پر تھا اور وہ گلاس میں بچے جوس کو گھور رہا تھا۔ انگلیاں مسلسل گلاس کو گھما رہی تھیں۔
”پب میں آکر جوس کون پیتا ہے؟ پینا ہے تو کچھ ایسا پیو کہ بس ہوش نہ رہے۔“ لڑکی نے ہاتھ بڑھا کر گھومتے گلاس کو پکڑا،دونوں کی انگلیاں ٹکرائی تھیں۔ وہ فوراً ری ایکٹ کرنے والوں میں سے نہیں تھا،اس نے گلاس چھوڑ دیا تھا،اب کہ وہ دونوں بازو کاؤنٹر پر ٹکائے فون پر انگوٹھے سے ادھر ادھر سلائڈ کر رہا تھا۔
”اوہ تو تم سخت لونڈے ہو؟“ لڑکی نے بے تکلفی سے کاؤنٹر پر دھرے اس کے بازو میں اپنا بازو ڈالا،حمزہ منہ بند کیے اپنے دانتوں کو زبان سے رگڑ رہا تھا۔ یہ اس کا سوچنے کا انداز تھا۔مختلف اور منفرد۔
پھروہ مسکرا کر لڑکی کی طرف مڑا۔مسکراتے ہوئے اس کی چھوٹی آنکھیں اور چھوٹی ہو گئیں تھیں۔ لڑکی کے ہاتھ پر اس نے اپنا دوسرا ہاتھ رکھا۔ ذہن میں کوئی چہرہ ابھرا تھا۔
”تم جانتی ہو،میں شادی شدہ ہوں۔“ وہ مسکرایااور اس کا ہاتھ اپنے بازو سے الگ کیا۔
”میں بھی تو شادی شدہ ہی ہوں۔“ لڑکی نے فخریہ انداز میں بتایا۔
”اہاں۔“ حمزہ نے بھنویں اٹھائیں۔ ”آئی وش میں کہہ سکتا جان کر خوشی ہوئی۔“
”اینڈ آئی وش تمہاری بیوی اچھی ہوتی۔“
”وہ اچھی تھی یا بری؟“ حمزہ نے سوچا،اتنا جاننے کا وقت ہی کہاں ملا تھا اس نے سر جھٹکا۔
”تمہاری بیوی روایتی بیویوں کی طرح گھر میں فساد ڈال کر رکھتی ہو گی،کوئی کام نہیں کرتی ہو گی،خرچہ مانگتی رہتی ہو گی…پور سول۔“ یقیناوہ اپنے کرتوت گنوا رہی تھی۔
حمزہ دو ہفتے پیچھے چلا گیا تھا۔ ”اس نے تو عزت کے سوا کچھ بھی نہیں مانگا تھا۔“ وہ بڑبڑایا۔
”تمہیں شادی کرنی ہی تھی تو مجھ سے کر لیتے۔ ایک کوٹھے سے لائی لڑکی سے تو بہتر تھی میں۔ اور پھر تم سے اتنا پیار بھی تو کرتی ہوں۔مجھ سے زیادہ پیاری تھی وہ؟“ لڑکی نے ہاتھ بڑھا کر اس کے گال پر رکھا۔بیشک اس کی آنکھوں میں حمزہ کے لیے پیار ہی تھا۔حمزہ نے ایک ہاتھ سے کنپٹی کو سہلایا۔ اب وہ اس سوال کا کیا جواب دے۔
”مست نظروں سے اللہ بچائے۔“
”ماہ جمالوں سے اللہ بچائے۔“
حمزہ چونک کر پیچھے مڑا اور پھر اپنی جگہ کھڑا ہو گیا۔ لڑکی نے نا گواری سے اس لڑکے نما لڑکی کو دیکھا،بڑے بڑے پھولوں والا کرتا،لمبے بال جن پر تیل لگا تھا، آنکھوں پر کاجل سے لمبے لمبے ڈورے کھینچے ہوئے تھے۔
”جاؤ معاف کرو، ایسے لوگوں کو پتا نہیں کیوں یہاں آنے دیتے ہیں۔“ لڑکی نے اسے دھتکارا۔ حمزہ اٹھ کر جانے والا تھا جب لڑکی نے اس کا بازو پکڑا۔
”اتنے دن بعد آئے ہو۔ رک جاؤ ابھی۔“ حمزہ مسکرایا۔
”ایک دو دن میں پھر چکر لگاؤں گا۔“ اس نے کمال اداکاری سے اس کا ہاتھ پکڑتے پیار سے دبایا تھا۔ جب وہ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا جسے سب کی نظروں سے بچاتا وہ اپنی جینز کی پچھلی جیب میں ڈال رہا تھا۔اس نے کاؤنٹر پر ایک نظر ڈالی۔ لڑکی گلاس لبوں سے لگائے سرخ مایااپنے اندر انڈیل رہی تھی۔حمزہ نے ایک طرف سے اپنے ہونٹ طنزیہ طور پر مسکراتے ہوئے کھینچے اور اسے وہیں چھوڑ کر باہر نکل گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ وہی مٹی کا گھر تھا جہاں شیری شیروان کو لے کر آیا تھا۔ ان کو یہاں آئے ہفتہ بھر ہو چکا تھا۔ شیروان کا یہاں یوں آنا حاجن بی بی کو کچھ خاص بھایا نہیں تھا مگر چونکہ وہ شیری کے توسط سے آیا تھا اور تین ماہ پورا کرنے پر اس کا شمار قابل اعتبار لوگوں میں تھا۔تو وہ پی گئی۔ سیکریٹ گروپ میں شیری کو ایڈ کر دیا گیا تھا۔وہ کافی قریب سے ان لوگوں کی حرکات وسکنات دیکھ رہاتھا۔
اب کہ وہ صحن کے بجائے اندر چکور ہال نما کمرے میں تھے۔ ہر طرف رنگ بکھرے تھے۔ رنگ برنگے پردے، میک اپ کرتی،لچکتی،سر بکھیرتی مرد نما عورتیں اور ایک کونے میں کچھ لوگ نیچے چادر بچھا کر بیٹھے تھے۔ وہ اپنے اپنے کمزور شعبوں کو بہتر بنانے کے لیے پریکٹس کر رہے تھے۔ کوئی ڈانس سیکھ رہا تھا،کسی کو کھسروں کے سے انداز میں تالی بجانا نہیں آتا تھاکیونکہ بیشتر اپنے مطلب کو بھیس بدلے ہوئے تھیاور کوئی ریاض کر رہا تھا۔کمرے کے درمیان میں ایک چھوٹا پلنگ تھا جس پر ایک مرد نما عورت لہنگا اور کرتی پہنے سامنے حقہ جمائے گھاؤ تکیے سے ٹیک لگائے پڑی تھی، اس کے دونوں طرف اسی طرح کی پر قدرے کم میک اپ سے آراستہ مرد نما عورتیں کھڑی تھیں۔ یہ ان کھسروں کی سردار تھی۔
پلنگ کے دوسری طرف قد آور شیشہ تھا۔جس پر شیری اپنے لمبے مصنوعی بال اور منہ پر بہت سا میک اپ لگائے بیٹھا تھا۔ اس کے ساتھ بنٹی کھڑی اس کا میک اپ سیٹ کر رہی تھی اور ساتھ ساتھ اسے میک اپ ٹیوٹوریل کے انداز میں مختلف چیزیں سمجھا رہی تھی۔ شیری کو اس کے نام پر اعتراض تھا اپنے قد و قامت کی بنا پر اسے بنٹی نہیں بنٹا ہونا چاہئیے تھا۔وہیں اس کے پاس نیچے فرش پر شیروان بیٹھا تھا، شیری کو اس ماحول کی عادت تھی جبکہ شیروان کا یوں تھرڈ جینڈر میں پہلا تجربہ تھا،اسے یہاں سب سے زیادہ جو چیز محفوظ کر رہی تھی وہ شیری کا میک اپ،ڈانس اور ہاں تقریبا نہ ہلنے والا ‘ٹھمکہ’ تھا۔
”بلبل کیا کر رہی تو؟ یہ تیسری دفع تجھے لپ اسٹک لگا رہی ہوں۔“ شیری کو میک اپ تھوپتی بنٹی عرف بنٹا نے اسے ناگواری سے دیکھا۔ شیروان جو پچھلے آدھے گھنٹے سے یہ میک اپ دیکھ دیکھ کر بور ہو رہا تھا چونکااور اس کے لبوں پر ہلکی مسکراہٹ بکھری۔ یہ خفگی تیسری بار شیری اور بنٹی کے بیچ آئی تھی۔ شیری ہونٹوں پر زبان پھیر پھیر کر ساری لپ اسٹک چٹ کر جاتا اور بنٹی غصے سے تلملا اٹھتی۔ ہر بار وہ دوبارہ نہ کرنے کا وعدہ کرتا اور اگلی بار پھر لپ اسٹک کے بس ہلکے نشان رہ جاتے۔
”اچھا اب نہیں کرتی۔“ شیری نے ہاتھ کو اپنے بالوں پر جو کہ لمبی چوٹی کی طرح اس کے کندھے سے آگے ڈھلکے ہوئے تھے ہاتھ پھیرا۔
”بنٹی‘ چھڈ دے اس نوں۔میک اپ یہ فیر سیکھ لے گی یہ۔ابھی اسے کمو کے پاس بھیج اس کو ٹھمکے کی پریکٹس کروا دے گی۔“ پلنگ پر گھاؤ تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھی بی بی حاجن نے ہاتھ اٹھا کر آواز لگائی۔ وہ پچھلے سال حج کر کے آئی تھی اور اسی کی خواہش پر اب اسے بی بی حاجن کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ بنٹی نے ناک منہ چڑایا اور ایک طرف ہو لی۔
”نی کمو‘ اے ببلی دے ٹھمکے تے وی کم کر۔“ اس نے فرش پر بیٹھی پریکٹس کرتی عورتوں میں سے ایک کو مخاطب کیا،جو سب کے ناچ کو بغور دیکھ کر ریمارکس دے رہی تھی۔
”ہاں تو حاجن بی بی،آجائے یہ بھی۔“ اس نے کھسروں کی سی طرز پر ہاتھ ہوا میں اٹھا کر دوبارہ نیچے کو مارا۔اب یہ شیروان کے لیے مزیدار تھا، شیری اٹھ کر دوسرے کونے میں پڑی چٹائی کی طرف چل دیااورشیروان اس کے ساتھ ہو لیا۔
”بلو ٹھمکا لگا…بلوووو….“ دوسری طرف کوئی مردانہ کم زنانہ آواز میں گا رہا تھا۔
”لو جی اب بلو ٹھمکا لگانے لگی ہے۔“ شیروان نے شیری کے پیچھے سرگوشی کی،شیری نے اسے گھورا۔ وہ جب تک یہاں اکیلا تھا وہ سکون میں تھا اب ہر الٹی حرکت کا شیروان گواہ بنتا جا رہا تھا۔
”بلو ٹھمکا لگا…“آواز تیز ہو گئی، وہ چٹائی کے پاس پہنچ گئے تھے۔
”سانوں سب نو ں نچا۔“یہ کمو تھی اور بلا شک و شبہ وہ کمال آواز کی مالک تھی یا تھا۔ شیری اور شیروان ہمیشہ اپنے آس پاس اس کم دکھنے والی مخلوق کی جنس کا فیصلہ نہیں کر پاتے تھے۔
”بلو و و و…“
”آجا ببلی‘ ادھر آ۔“ شیری کو دیکھ کر گاتے گاتے وہ رکی۔کھسروں کے گول دائرے کے بیچ میں ٹھمکے لگاتی تھرکتی کملا کے قدم رک گئے۔ شیری سڑتا کڑتا زبردستی مسکراتا آگے بڑھا۔
”دیکھ ببلی‘ٹھمکا لگانے کے لیے دو چیزیں چاہئیے ہوتی ہیں۔“
”یہ اور یہ۔“ اس نے پہلے شیری کے ٹھمکے اور پھر دل پر ہاتھ مارا اور اس ناگہانی ہاتھ مارنے پر وہ تڑپ کر رہ گیا۔
”لماؤ۔“ کسی نے دل میں کہا تھا اور اس ’کسی‘ کو شیری نے بے بسی سے دیکھا تھا۔ خیر شیری سنبھل چکا تھا اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ٹھمکا نامہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔کمو دوبارہ اسے سمجھانے لگی۔
”کام عبادت ہوتا ہے، ہمارا کام ناچنا ہے اور اسے عبادت سمجھ کے کر۔“
”لا حول ولا قوت۔“ اب کے دو دلوں نے بیک وقت کہا۔
”چل اب کر کے دکھا۔“ تھیوری کے بعد پریکٹکل کی باری تھی،شیری دائرے میں جا کر کھڑا ہوا۔ ادھر کمو نے اپنے سر بکھیرے۔
”بلو ٹھمکا لگا….بلو و و….“ اورادھر شیری کا ٹھمکا، نہیں بلکہ’ٹھمکی‘ ہلی۔ اور وہیں کہیں دل میں کوئی ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گیا تھا۔ ”یہ بھی جان کو عذاب پڑ گیا ہے۔“ شیری نے خفگی سے شیروان کو دیکھ کر سوچا۔
”بیچاری بلو،چچ۔“ دوسرے دل نے بھی سرگوشی کی تھی۔
”میں کدھر پھنس گیا ہوں۔“ شیری کا دل رویا۔
”اب یہ اچھا پھنسا ہے۔“دوسرا دل پر جوش تھا۔
”کتا۔“ اپنی ’ٹھمکی‘ کو شیری نے شیروان کے منہ کے آگے لہرایا۔ وہاں ہنسی تھی، واپس جا کر سب کچھ حرف بہ حرف بتانے کا جوش تھا۔
”سانوں سب نوں نچا…بلو و و…“ کمو بے نیاز گاتی رہی اور دو مردانہ دل آپس میں سر گوشیاں کرتے رہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!