Haya Novel By Fakhra Waheed ep 11

Haya novel by Fakhra Waheed

آسمان پر ابھی سیاہی پھیلی تھی۔ فجر کی آذان ہوئے چند منٹ گزرے تھے۔اسلام آباد میں واقع انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے گرلز ہاسٹل میں ابھی سویرا نہیں ہوا تھا۔اکا دکا لڑکیا جاگ رہی تھیں۔ مگر ابھی بھی بستروں میں دبکی پڑی تھی۔ ہر کمرے میں تین سنگل بیڈ یعنی تین لڑکیاں رکی تھی۔ کمرہ نمبر 23 کی دو لڑکیاں اوندھے منہ سوئی ہوئی تھیں اور تیسری؟ وہاں نہیں تھی۔ مگر واش روم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔دروازہ کھلا۔لڑکی باہر نکلی۔کالا سوٹ جس پر نیلے رنگ کی دھاریاں تھی۔سفید دوپٹے کو چہرے کے گرد لپیٹا ہوا تھا۔
ایک نظر اوندھے منہ لیٹی اپنی رومیٹس کو دیکھا۔گھڑی پر نظر ڈالی اور سائڈ ٹیبل کے نیچے بنی جگہ سے جائے نماز اٹھایا فجر کی نیت باندھی اور اللہ کی حمدو ثنا میں مصروف ہو گئی۔ابھی سجدے میں گئی تھی کہ الارم فل والیم سے شور کرنے لگا۔کیا فضول ٹائمنگ ہے اس الارم کی۔ سجدہ کرتی حیا ڈسٹرب ہوئی تھی۔ الارم بجتا جا رہا تھا اور آواز اونچی ہوتی جا رہی تھی۔حیا نے سنتوں کا سلام پھیرا۔ اکتاہٹ سے جائے نماز چھوڑا، الارم بند کیا اور الارم والی کے منہ سے کمبل اتار کر پرے مارا۔
”خیر ہے آج اٹھنے کا موڈ نہیں؟“ اس نے لڑکی کا بازو ہلایا۔
”ہوں۔“ لڑکی نے کروٹ بدلی۔ وہ جنت تھی۔ جسے بالخصوس ڈاکٹر ہارون نے حیا کے ساتھ رہنے کو کہا تھا۔
”نماز پڑھ لو۔“ اس نے اس کو دوبارہ ہلایا۔ جب وہ نہیں ہلی تو دوبارہ جائے نماز پر جا کر کھڑی ہو گئی۔فرض پڑھے سلام پھیرا اور ایک نظر سوتی جنت پر ڈال کر دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے۔ ہمیشہ کی طرح ہاتھ بلند کرتے ہی دل میں ٹیسیں اٹھنے لگیں۔ ماں،باپ، بھائی ایک ایک کر کے سب کے چہرے آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے تھے۔ماں کا اس کی پیدائش پر مر جانا۔ باپ کا اس کے سر پر رکھا ہاتھ کتنا سکون دیتا تھا۔ پھر ان کا بھی اسے چھوڑ جانا۔اور بھائی؟ ہیں پر نہ ہونے کے برابر۔اس کا دل بھر آیا۔تبھی ایک اور چہرہ آنکھوں کے سامنے لہرایا۔دل میں اٹھتی ٹیسوں کی جگہ اب کہ مختلف درد تھا۔ آنکھوں میں آنسوؤں کی جگہ عجیب سا جزبہ تھا۔ وہ کم از کم محبت نہیں تھی۔یہ چہرہ اسے دیکھنا بھی اب گوارا نہیں تھا۔سخت اور کھنچے ہوئے نقوش۔سمٹی بھنویں۔اس کا یہ ہی نقشہ حیا کے دماغ میں نقش تھا۔
”جس طرح میں اکیلی رہ گئی ہوں ناتم بھی اکیلے رہ جاؤ گے۔ یوں ہی تڑپو گے جیسے میں تڑپ رہی ہوں۔“تکلیف اتنی تھی کہ اس سے کم کی دعا وہ حمزہ کے لیے نہیں مانگتی تھی۔
”ہونہہ۔“ اس نے اس بن بلائے چہرے کو دماغ سے جھٹکا۔
دماغ ماضی کے دھندلکوں میں کھونے لگا تھا پھر اپنے ساتھ ہوا ہر سانحہ آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگا۔
”یا اللہ‘ میرے کون سے گناہ تھا جو سب چھین لیا تو نے مجھ سے؟“ بے اختیار اس کے منہ سے نکلا اور ایک کے بعد ایک آنسو آنکھوں سے ٹپکنے لگے۔شکوے تیز ہو گئے۔سسکی بندھ گئی۔آواز رندھ گئی۔کوئی بھی تو نہیں تھا اس کا اس دنیا میں۔بس وہ تھی۔ تنہا..
”کیا ہوا حیا؟“
”سب ٹھیک ہے؟“
”حیا؟“
کوئی اس کے ساتھ بیٹھا اسے بلا رہا تھا۔ دعا مانگتے مانگتے وہ سجدے میں جا گری تھی۔آنکھیں مسلتی وہ کھڑی ہوئی، بمشکل ساتھ بیٹھے وجود کو دیکھا۔ وہ اس کی رومیٹ اور کولیگ جنت تھی۔ وہ سوئی ہوئی تھی جب کسی کے رونے کی آواز پر وہ ہڑ بڑا کر اٹھی۔ حیا سجدے میں گری بلند آواز سے رو رہی تھی۔
”کیا ہوا؟“
”تم ٹھیک ہو؟“ وہ متفکر سی پوچھ رہی تھی۔
”جنت‘لوگ کیوں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں؟“
”ماں‘باباسب مجھے چھوڑ گئے۔ کسی نے نہیں سوچامیں اکیلی کیسے رہوں گی….جنت۔“ اس کاسانس ٹوٹا تو اس نے دوبارہ نام دہرایا۔
”جنت‘مجھ سے نہیں ہوتا اب۔ تھک گئی ہوں میں۔“ اس نے دوبارہ رونا شروع کر دیا تھا‘شاید کندھا میسر آگیا تھا‘تبھی!
”کوئی نہیں ہے جس سے جا کر دل کی بات کروں‘میں کیسا محسوس کرتی ہوں‘کوئی بھی نہیں ہے‘جس کو بتاؤں۔جس کے گلے لگ کر اپنی قسمت کو رو سکوں۔“جنت اسے اپنے دائیں بازو میں سمیٹے فکر منددکھ رہی تھی۔اس کا دوسرا ہاتھ حیا کے بال سہلا رہا تھا۔
”سب ٹھیک ہو جائے گا۔“وہ بس اتنا کہہ سکی‘کیسے؟ یہ وہ بھی نہیں جانتی تھی۔ حیا روتی رہی‘ یہاں تک کہ آنسورک گئے۔جنت نے اسے خود سے الگ کیا اور پانی لینے سائڈ میز کی طرف بڑھی۔ حیا نڈھال سی فرش پر ڈھے گئی۔
”حیا‘تم وہ دیکھ رہی ہو جو نہیں ہے۔ وہ بھی تو دیکھو جو تمہارے پاس ہے۔“ پانی کا گلاس حیا کے ہاتھ سے واپس لیتے جنت نے زور دیتے ہوئے کہا۔
”کیا ہے میرے پاس؟“ اس نے حیرت سے سوجی ہوئی آنکھیں پھیلائی۔اس کے سوال پرجنت ایک لمحے کو رکی پھر ہچکچاتے ہوئے بولی۔
”تمہاری شادی‘تمہارا ہسبنڈ۔“
”ہونہہ۔“ اس نے استہزائیہ ہونٹ سکیڑے اورآنکھوں میں خفگی در آئی۔
”اسے زبردستی کہتے ہیں جنت بی بی‘شادی نہیں۔اور ایسے شخص کو شوہر نہیں کہتے جو کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر پہلے نکاح کرے پھر اسی بیوی پر ہاتھ اٹھائے۔کم از کم میری ڈکشنری میں ہسبنڈ کی تعریف یہ نہیں ہے۔“ منہ پر جمے خشک آنسوؤں کو ہاتھ سے صاف کرتے وہ کھڑی ہوئی۔ جنت کی حیا کے دل میں اس کے شوہر کے لیے احساس جگانے کی ایک اور کوشش دم توڑ گئی تھی۔وہ بھی اس کے پیچھے فرش سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔حیا کا رخ واش روم کی طرف تھا۔ سات بجے ان دونوں کو انسٹیٹیوٹ جانا تھا‘وہ اپنی اپنی تیاری کرنے لگی تھیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”شیری اور شیروان کی کوئی خبر ہے؟“ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے حمزہ نے علی سے پوچھا۔علی ڈرائیونگ سیٹ چھوڑ کر دوسری طرف ہو گیا تھا۔
”نہیں ابھی تک تو نہیں، پر پلان کے مطابق کل صبح تین بجے وہ کسی نا کسی طرح ہم سے رابطہ کریں گے۔“
”ہمم..“ حمزہ نے کچھ سوچ کر گہرا سانس لیا۔
”خیریت ہے‘ابدان صاحب نے کیوں بلایا ہے؟“
”پتا نہیں جا کر ہی پتا چلے گا۔“
”مجھے امید ہے تم نے کچھ نہیں کیا ہو گا۔“ علی نے اسے خفگی سے دیکھا۔
”میں کچھ نہیں کرتا‘ اور پچھلے دو ہفتے سے تو بالکل کچھ نہیں کیا۔“ حمزہ نے شارپ موڑ کاٹتے ہوئے کہا۔جواباً علی مسکرایا۔
”ہاں مسٹر حمزہ فیاض بیگ‘آپ کچھ کہاں کرتے ہیں۔بس کسی ملزم کو دو ہاتھ جڑ کر ابدی دنیا میں پہنچا دیتے ہیں۔ یا غلطی سے آپکا ہاتھ ٹریگر پر آجاتا ہے اور سامنے والا مر جاتا ہے۔“ علی نے اپنی کنپٹی پر ہاتھ سے گولی چلائی۔علی سے ’کچھ نہ کرنے‘ کے پیچھے چھپی تفصیلات جان کر حمزہ نے ناگواری سے اسے گھورا۔علی پر اثر نہیں ہوا تھا۔تبھی وہ بولا۔
”خیر اب تو جا کر پتا چل ہی جائے گا۔ورنہ جب کبھی بھی انہوں نے یوں ہمیں بلاوا بھیجا ہے تیرا ہی کچھ کیا ہوا سامنے آیا ہے۔“ علی نے بھی اسی طرز پر اسے گھورا تھا۔
”دیکھو علی۔“ حمزہ نے سنجیدگی سے اسے مخاطب کیا۔علی نے پوزیشن لی اور اس کے الفاظ اس کے ساتھ دہرانے کے لیے منہ کھولا۔
”میں ایسا کرتا نہیں ہوں مجھ سے ہو جاتا ہے۔“ حمزہ نے اسے گھورا اور علی ہنس دیا۔
”پہلی بات ہم ابدان صاحب سے ملنے نہیں جا رہے‘کیونکہ ان کی کال آگئی تھی وہ شہر سے باہر جا رہے ہیں۔ان کو بس کیس کی پیش رفت ہی پوچھنا تھیں۔“
”اور دوسری بات آپ بتائیں مسٹر علی۔“ خود کو اتنی عزت سے بلائے جانے پر علی کو توہین محسوس ہوئی تھی لیکن وہ اس کے تاثرات کو نظر انداز کرتا آنکھیں سکیڑے اس کی طرف دیکھ کر بولا۔
”اپنے سو کالڈ ’ ہنی مون‘ سے آکر آپکی زبان کچھ زیادہ ہی نہیں چل رہی؟“ حمزہ نے اسٹیرنگ چھوڑ کر ہوا میں کالن بنایاتو علی چلایا۔
”ابے اسٹیرنگ پکڑ۔مارنے کا ارادہ ہے؟“ علی ایک لمحے کو ڈھیٹ ہوا تھا پھر سنبھل کر بولا۔
”دیٹ واز آ گریٹ ٹائم ود ہر۔“
”پر تو نہیں سمجھے گا میرے دوست۔پیار‘رومانس‘محبت یہ سب باتیں تیرے یہاں کی ہیں۔“ اس نے اپنے سر کے اوپر ہاتھ لے جا کر کہا۔حمزہ نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔
”ہاں نا۔یار‘یہ بندیاں بہت کمال ہوتی ہیں۔میں کتنا بھی پریشان ہوں‘فرسٹریٹد ہوں‘فریحہ ایسے تسلی دیتی ہے کہ لگتا ہے یہ مسئلہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے‘آئی ایم بلیسڈ۔“ وہ چہک رہا تھا۔
”اہاں اہاں۔“ حمزہ نے اس سنسان سڑک پررفتاربڑھاتے ہوئے علی کو چھیڑا۔وہ شرمندہ ہوا تھا‘مگر جلد سنبھل گیا۔
”پر یار‘تجھے دیکھ کر کبھی کبھی مجھے دکھ ہوتا ہے۔“ اس نے رک کر حمزہ کو دیکھا‘وہاں اب کوئی تاثر نہیں تھا۔”کاش ایسی ہی کوئی لڑکی تیری زندگی میں ہوتی‘جو تیرا خیال رکھتی۔ تو تو یوں ہر وقت سڑا ہوا نہ رہتا۔“آخری الفاظ اس نے سڑک کی طرف دیکھتے ہوئے کہے۔
”مجھے اپنے مسئلوں کے لیے کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں۔“ وہ بے نیازی سے بولا۔
”آئی ایم مچیور انف ٹو ہینڈل مائی پرابلمز۔“ اب کہ اس نے کندھے اچکائے۔
”ایک بات کہوں حمزہ‘پلیز ڈونٹ ٹیک اٹ آن نروز۔“ وہ اس کے تاثرات دیکھنے کو رکا اور پھر دوبارہ بولا۔
”تجھے حیا کو یوں جانے نہیں دینا چاہئیے تھا۔“ علی نے تھوڑا ہچکچاتے ہوئے کہا۔
”میں نے ا سے نہیں بھیجا تھا۔“ وہ لا پرواہی سے بولا۔
”پر تیرے رویے نے اسے یوں در بدر کیا۔“ علی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
”بھائی بن کر کہہ رہا ہوں‘مجھے غلط مت لینا۔یار‘کب تک اکیلا دھکے کھائے گا؟ بی اماں بھی کب تک تیرا گھر دیکھیں گی؟ اچھی بھلی وہ لڑکی آئی تھی اس کے ساتھ بھی تو نے یوں کیا۔“
”میں نے کچھ نہیں کیا۔“ وہ اب بھی بے نیاز تھا‘لیکن کہیں دل میں وہ خود کو ہی ذمہ دار سمجھ رہا تھا۔
”یاربس کر۔“ اس نے خفگی سے حمزہ کو دیکھا۔
”تیرے لیے ہی کہہ رہا ہوں۔زیادہ نہ سہی پر وہ تیرا گھر دیکھتی‘تیرا خیال رکھتی۔تو کم از کم سکون میں رہتا۔“ وہ اسے احساس دلا رہا تھا۔
”نہیں وہ آس پاس ہوتی تو میں کبھی سکون میں نہ رہتا۔اس کے ہونے سے مجھے عجیب سا احساس ہوتا تھا۔کسی کے ہونے کا احساس۔“ اس نے گاڑی سائڈپر لگائی۔
”ہاں تو وہ بیوی ہے تیری۔احساس ہو گا‘یہ رشتہ ایسا ہے۔“
”نہیں چاہئیے یہ احساس اور ایسا کوئی‘ ناؤ اسٹاپ اٹ پلیز۔“
”میری خوشیاں ان رشتوں کی محتاج نہیں ہے۔سب کو مجھے چھوڑ کر جانا ہے‘سب چلے جاتے ہیں اور چلے گئے تھے۔وہ بھی چلی گئی تو کیا فرق پڑتا ہے؟“ وہ بگڑ گیا تھا۔
”کر لے اپنی مرضی‘پر جلدی تجھے احساس ہو جائے گا۔[‘ علی نے اس کی کسی بات کا جواب نہیں دیا تھا۔
اور حمزہ کی طرف سے جواب میں اسے گاڑی کے ٹائروں کے چرچرانے کی آواز سنائی دی تھی۔گاڑی دوبارہ سڑک پر تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز (آئی ایس ایس)میں صبح کب سے طلوع ہو چکی تھی۔یہ ایک بڑی چار منزلہ عمارت تھی۔جسے جدید طرز پر بنایا گیا تھا۔ڈاکٹر ہارون نے اسے قریباً بیس برس پہلے بنایا تھا۔پہلے وہ اکیلے اس سفر پر نکلے تھے اور پھر قافلہ بنتا چلا گیا۔یہاں اور بھی ٹرینر، ماہر نفسیات،ماہر انسانیات اور بی ہیورسٹ (ماہر کرداریت) تھے مگر جو ملکہ ڈاکٹر ہارون کو لوگوں کے رویے پڑھنے اور زندگیوں کو بدلنے پر حاصل تھی وہ شفا کسی اور کے الفاظ میں اس قدر نہیں تھی۔ہاں وہ الفاظ سے دل کے،دماغ کے مریضوں کو شفا دیتے تھے۔
اس وقت وہ اپنے روشن آفس میں بیٹھے کافی کے مگ سے گھونٹ گھونٹ اندر انڈیل رہے تھے۔ ان کی عمر پچاس کے لگ بھگ ہو گی مگر ورزش اور اچھی خوراک نے ان کو فٹ رکھا ہوا تھا۔سفید شرٹ، ڈریس پینٹ، کلائی پر بندھی گھڑی جو یقینا بہت قیمتی تھی۔آنکھوں پر نظر کا چشمہ اور کرسی کی پشت پر لٹکا بلیو کوٹ۔کالی مگر روشن آنکھیں۔وہ خوش شکل تھے اور شخصیت کے رعب نے ان کو طلسماتی کر دیا تھا۔ وہ بولتے تو سننے والے کسی سحر میں آجاتے۔ جس کے پاس بیٹھ جاتے وہ ہی مسحور ہو جاتا۔ ان کی ساری تعلیمی ڈگریاں باہر کی تھیں کیونکہ ان کے نزدیک مغرب نے انسانیات میں ان سے زیادہ ترقی کی تھی۔
ان کے سامنے ایک سولہ سترہ سال کا لڑکا پچھلے پندرہ منٹ سے یوں ہی خاموش ٹیبل پر پڑے ڈاکٹر ہارون کی نیم پلیٹ کو دیکھ رہا تھا۔بھوری تختی پر سنہری حروف۔ ڈاکٹر ہارون،ماہر نفسیات۔اینتھروپولوجسٹ (ماہر انسانیات)۔
ڈاکٹر ہارون نے مگ سے آخری گھونٹ بھرا۔ دونوں ہاتھوں کو میز پر رکھ کر باہم ملایا اور لڑکے کو بغور دیکھا۔وہ پریشان لگ رہا تھا۔
”کس کلاس میں پڑھتے ہو؟“ اس کے تاثرات کو پڑھتے سوال کیا۔اس نے یوں ہی نظریں جھکائے جواب دیا۔
”سیکنڈ ائیر۔“
”فرسٹ ائیر میں کتنے مارکس تھے؟“
”چار سو اکیاسی۔“ اور ایک لمحے کو اٹھی نظریں دوبارہ جھک گئیں۔
”ایف ایس سی؟“ وہ رکے تا کہ لڑکا اپنا مضمون بتائے۔ لڑکے نے اچک کر مکمل کیا۔
”ایف ایس سی‘پری میڈیکل۔“
”ہوں۔“ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں باہم ملاتے ہاتھ سر کے نیچے رکھے، کرسی سے ٹیک لگائی اور آنکھیں بند کر لیں۔ چند لمحے یوں ہی گزر گئے۔ لڑکے نے بے چینی سے پہلو بدلہ۔
”سر‘میں نے اپنی پوری کوشش کی تھی‘ اگر میرٹ پر نام نہیں آیا تو کیا کروں؟“ اسکی آواز رندھ گئی تھی۔
”ہوں۔“ وہ اسے اور سننا چاہتے تھے‘ انکی آنکھیں بد ستور بند تھیں۔
”پہلے ایف ایس سی کے نمبروں پر گھر میں تماشہ۔ فلاں کے اتنے نمبر آئے فلاں کے اتنے آئے۔تمہارے بس چھیاسی فیصد۔سر چھیاسی فیصد کم ہوتے ہیں؟“ لڑکے نے کرب سے پوچھا۔ بند آنکھوں سے وہ تلخی سے مسکرائے۔
”بیٹا‘ضرورت کو تو ساٹھ فیصد بھی بہت ہوتے ہیں۔ پر انسان خواہشوں پر جیتا ہے‘تبھی اسے زیادہ کی چاہ ہوتی ہے۔ اگر تم اٹھانوے فیصد بھی لے لیتے تو تب بھی افسوس کر رہے ہوتے کہ یہ دو فیصد بھی لے ہی لیتا۔“ لڑکے نے سر جھٹکا۔ وہ صحیح کہہ رہے تھے۔
”روز روز کی چبھتی نظریں اور طعنے سن سن کر میں تھک گیا ہوں۔“ یہاں سب اپنی زندگی کی بازی لڑتے تھکے ہوئے تھے۔
”نیند نہیں آتی‘آتی ہے تو سارا دن ساری رات سوتا رہتا ہوں۔سب کو یہ دکھتا ہے کہ میرا میڈیکل میں داخلہ نہیں ہوا مگر یہ کسی کو نہیں دکھتا کہ میں نے دن رات محنت کی۔ اپنی نیندیں قربان کیں۔گیمز، ٹی وی، موویز، فنکشن، شادیاں، عیدیں کچھ بھی تو نہیں کیا تھا ان دو سالوں میں۔ میرے سے زیادہ دکھ ہے سب کو؟ میرے سے زیادہ تکلیف ہے؟“
”بابا کی بے رخی‘ ماما کا دوبارہ ٹیسٹ دینے کا پریشر‘ لوگوں کی باتیں‘طعنے، استہزائیہ نظریں۔یہ….یہ سب مجھے پاگل کر دے گا اور پھر یہ سب مجھے کھو دیں گے۔“ آخری الفاظ پر ڈاکٹر ہارون نے یک لخت آنکھیں کھولیں۔دونوں کہنیاں میز پر ٹکائی اور آگے کو جھکے۔
”ہاں‘ اگر یہ یوں ہی چلتا رہا تو میں خود کو مار لوں گا۔“ وہ لڑکا تھا مگر رو رہا تھا۔نہیں شاید وہ ذہنی مریض تھا۔تبھی اسے یاد نہیں رہا کہ لڑکے اندر ہی اندر گھٹ جاتے ہیں‘ مگر روتے نہیں ہیں۔ڈاکٹر ہارون نے اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ ایک نمبر ڈائل کیا اور رسیور کان سے لگایا۔
”ہاں جنت‘یہ لڑکا باہر آرہا ہے۔ اس سے اس کے والدین کی تفصیلات لے کر انہیں دو دن بعد ہونے والے’پیرینٹنگ سیشن‘ پر مدعو کرو۔
ڈاکٹر ہارون کھڑے ہوئے‘کرسی سے اپنا کوٹ اٹھایا۔جانے سے پہلے لڑکے کے کندھے پر ہاتھ دھر کر زور سے دبایا۔یہ حوصلہ تھا۔جو اس ہاتھ سے ہوتا لڑکے کے دل میں اترا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رات کا اندھیرا پھیلے کافی دیر ہو چکی تھی۔اس مٹی کے مکان کے بڑے گھر میں گھپ اندھیرا تھا۔بظاہر لگتا تھا سب سو چکے ہیں۔مگر کسی کو جاننے کے لیے ظاہر نہیں، باطن میں جھانکنا پڑتا ہے اور شیری اس باطن میں جھانکنے کو تیار تھا۔اسے سیکریٹ کوڈ مل چکا تھا۔ وہ اب ان کے خاص لوگوں میں شامل تھا۔ شیروان کو ابھی آئے چند دن ہوئے تھے اسے اعتماد حاصل کرنے میں وقت تھا۔ یہ سفر شیری کو اکیلے کرنا تھا۔
”ببلی‘ وہ تو الگ ہی دنیا ہے۔ جب تو دیکھے گی نا تو آنکھیں چندھیا جائیں گی تیری۔ یہ بڑے بڑے اونچے ستون اور حاجن بی بی کا سونے، چاندی سے آراستہ تخت۔“ وہ ڈرامائی انداز میں برآمدے کی چھوٹے ستون سے ٹیک لگائے آسمان پر نظر جمائے ہاتھوں کو لہراتے کہے جا رہی تھا۔چنبیلی پچھلے پندرہ منٹ سے شیری کو یہ محل نامہ سنا رہی تھی جہاں دو دن بعد شیری کو جانا تھا۔وہ بغور اسے سن رہا تھا۔ اس نے بڑے چرچے سن رکھے تھے اس گھر کے۔ جو پریمیم ممبر کو ہی دیکھنا نصیب ہوتا تھا۔ اور اب وہ پریمیم تھا۔
”کب چلیں گے ہم‘دن میں؟“ بظاہر اس نے بے چینی دکھائی۔باطن میں یہاں ایسے جذبے تھے کہ اس محل کی بنیادیں بھی مسمار کر دی جاتیں۔
”اونہوں۔“ ا س نے خفگی سے اسے دیکھا۔
”دن میں نہیں‘دوسرے پہر جب دنیا سو جائے گی تب وہ محل جاگے گا۔“ اس نے بے خودی سی کی کیفیت میں ایک ہاتھ اپنے کولہے پر رکھا اور دوسرے ہاتھ کو ہوا میں گھماتے ہوئے ایک قدم آگے بڑھایا۔وہ محل واقعی اتنا خوبصورت تھا یا چنبیلی بڑھا چڑھا کر بتا رہی تھی۔شیری نے سر جھٹکا۔
”گاڑی پر جائیں گے؟“ اس نے پوچھا مگر چنبیلی کے بے ساختہ ہنسنے پر وہ شرمندہ ہوا۔
”پیدل جائیں گے میری جان پیدل۔ٹک ٹک۔“ اس نے ہاتھ الٹا کیا اور چلنے کے سے انداز میں دو انگلیاں ہوا میں آگے بڑھائی۔وہ زیادہ ہی ڈرامائی ہو رہی تھی۔شیری کو کوفت ہوئی۔وہ جواب دیے بغیر اسے اس کی ڈرامائی دنیا میں چھوڑ کر اپنے بستر کی طرف بڑھا۔کل اسے حمزہ سے رابطہ بھی کرنا تھا۔
”شیری‘مجھے ان لوگوں سے خوف آنے لگا ہے۔مجھے یوں لگتا ہے یہ ہماری طرح نہیں ہیں بلکہ یہ اپنے جرم چھپانے کو ہم جیسے بنے ہوئے ہیں۔‘‘ بنٹی نے شیری کے کان میں سرگوشی کی اور شیری نے چپ چاپ کروٹ بدل لی۔ وہ حقیقت جانتا تھا۔ بنٹی نے صحیح کہا تھا۔ یہاں زیادہ تر لوگ مرد ہی تھے جو خواجہ سر ا بن کر اس مخلوق کا نام برا کر رہے تھے۔مگر اس نازک موضوع پر شیری نے تبصرہ نہ کرنا ہی بہتر سمجھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”حمزہ تم آرام سے بیٹھ جاؤ ہم کوشش کر رہے ہیں۔ جلد ان سے رابطہ ہو جائے۔“ علی نے لیپ ٹاپ سے سر اٹھایا۔ وہ بیسمنٹ میں پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے یوں ہی ادھر سے دھر ٹہل رہا تھا۔آج ہفتہ ہو چکا تھا مگر شیری اور شیروان کی طرف سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا۔
”کب‘کب رابطہ ہو گا؟ ان کو بدھ کو ہمیں کانٹیکٹ کرنا چاہئیے تھا‘آج اتوار ہے۔اگر یہ لاپرواہی ہے تو یہ ان کا ایک ساتھ آخری کیس ہے۔“ وہ بگڑا ہوا تھا۔
”یا پھر زندگی کا آخری کیس۔“ وہ غصے اور بے بسی کی سی کیفیت میں بڑ بڑایا۔شیری جتنا لا پرواہ سہی لیکن کام کے معاملے میں وہ غیر سنجیدہ نہیں ہو تا تھا اور یہ ہی چیز حمزہ کو کھٹک رہی تھی۔ ہو نا ہو وہ مصیبت میں تھے۔ مگر پلان میں کوئی ہول نہیں تھا۔کہیں سے بھی کچھ غلط نہیں ہو سکتا تھا۔وہ پکڑے نہیں جا سکتے تھے۔پھر؟ پھر رابطہ کیوں نہیں ہو پا رہا۔ہر گزرتے لمحے اس کی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔ میز کے ارد گرد باقی لوگ بیٹھے کسی طرح رابطے کی کوشش کر رہے تھے۔حمزہ بے چین تھا۔وہ دوبارہ سر براہی کرسی پر آکر بیٹھا۔
”پتا نہیں کیا کر رہے ہو تم لوگ اتنے دن سے؟“ وہ اب ان پر برس پڑا تھا۔
”تم سب کو کسی قابلیت کی بنا پر میں نے اپنے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔ ورنہ نہ تم پولیس کے شعبے سے ہو نہ کسی ایجنسی سے۔ اگر تم لوگوں کی دیر کی وجہ سے شیری کو کچھ ہوا تو اپنی قابلیت سمیت تم لوگ دفع ہو سکتے ہو۔“ اسے انزائٹی اٹیک ہو رہا تھا۔ ہاتھ کی رگیں پھولی ہوئی تھیں۔ اس نے شہادت اور درمیانی انگلی کو ملا کر بھنوؤں کے درمیان پھولتی رگ کو مسلا۔گلے میں گلٹی سی ابھری اور معدوم ہو گئی۔ سب حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے۔ حمزہ سموتھلی بولنے والا بندہ تھا۔ اسے چیختے کبھی کسی نے نہیں دیکھا تھا اور جنہوں نے دیکھاتھا وہ یقین نہیں کر سکے تھے کہ یہ وہی حمزہ ہے۔ یہ حمزہ اس پرسکون، ٹھہر ٹھہر کر بولنے والے حمزہ سے مختلف تھا۔ وہ حمزہ یہاں میز پر موجود ہر شخص کو اون کرتا تھا۔ یہ اسکی فیملی تھے‘مگر یہ حمزہ خود غرض تھا۔اسے شیری کے ساتھ گئے شیروان کی بھی پرواہ نہیں تھی۔ سب کو اپنی طرف دیکھتے پا کر وہ ان کو نظر انداز کرتا واش روم کی طرف بڑھا گیا تھا۔ اس نے اندر جا کر چٹخنی چڑھائی۔اس کا دماغ کام نہیں کر رہا تھا۔ اس نے بند آنکھوں سے گہرے سانس اندر کو کھینچے۔ نل کھولا، پانی کے چھینٹے منہ پر مارے۔ وہ خود کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پانچ منٹ بعدجب وہ باہر آیا تو سب دوبارہ مصروف تھے۔ حمزہ کا پہلی بار ان پر یوں چیخنا وہ برداشت کر سکتے تھے۔وہ اچھا آدمی تھا مگر اس وقت پریشان تھا‘وہ بس اتنا سوچ سکے۔ حمزہ دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا۔
”پلان اے کیا تھا؟“ اس نے توقف سے پوچھا۔ اب کہ آواز قدرے دھیمی تھی مگر لہجے کی سختی عیاں تھی۔
”یہ ہی کہ وہ جا کر تین دن بعد ہم سے رابطہ کریں گے۔“ زویان نے آگے جھکتے ہوئے بتایا۔
”رابطہ کیا؟“ اس نے یوں پوچھا جیسے وہ خود نہیں جاتا۔ ایک دو لوگوں نے گردن نفی میں ہلائی۔اس نے کسی کے بولنے کا انتظار نہیں کیا۔
”پلان بی؟“ اس نے زویان پر نظریں جمائیں۔
”شیروان کسی بہانے وہاں سے نکل آئے گا۔“ اس نے سرسری انداز میں پلان بی دہرایا۔
”اور یہ دونوں کام تیس سے چار دن کے دوران ہونے چاہئیے تھے‘مگر نہیں ہوئے۔“ وہ کرخت اور قدرے بلند آواز میں بولا۔اب اس کا دماغ پھرکی کی سی رفتار سے دوڑ رہا تھا۔
”مجھے معلوم ہے اب ہمیں کیا کرنا ہے۔ انتظار…..ایک دن اور انتظار۔“ اس نے کچھ سوچ کر میز پر ہاتھ مارا۔ اور اٹھ کر بیسمنٹ کی سیڑھیاں چڑھتا اوپر آگیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رات کا تیسرا پہر تھا۔باہر ہوا تیز تھی۔وقفے وقفے سے بادلوں کے گرجنے کی آواز آتی تو وہ چونکتا ورنہ بیسمنٹ تک باہر کی ہوا رستہ نہیں بنا پا رہی تھی۔کانفرنس میز سے آگے سامنے دیوار پر لگی گھڑی رات کے تین بجا رہی تھی۔میز پر کاغذ بکھرے پڑے تھے اور لیپ ٹاپ کو موڑ کر ٹیبلٹ موڈ پر کیا گیا تھا۔سامنے سربراہی کرسی پر پین ہاتھ میں پکڑے وہ پچھلے آٹھ گھنٹوں سے مختلف تانے بانے جوڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔آنکھیں نیند سے بے حال مگر فکر تھی کہ سونے نہیں دے رہی تھی۔ شیری اسے ہمیشہ ہی بہت عزیز تھا مگر اپنی عادات کے باعث وہ اس قدر اس سے بات چیت نہیں کر پاتا تھا۔آج پتا نہیں کیوں دل بے چین تھا۔ اسے شیری کی طلب ہو رہی تھی۔ہاں ویسے ہی جیسے پیاسے کو پانی کی۔وہ اس سے باتیں کرنا چاہتا تھا……کچھ باتیں۔
کہیں سے ایک جملہ اس کے کانوں میں گونجا تھا۔آواز شیری کی تھی۔
”تمغے یوں ہی نہیں ملتے۔“ جملہ کسی بھی محب وطن کے لیے تریاق تھا۔اس نے جملہ دہرایا۔
”تمغے یوں ہی نہیں ملتے۔“ وہ بڑبڑایا۔
”پھر کیسے ملتے ہیں؟“ دماغ پر زور دیا۔
”کیسے ملتے ہیں؟“ جواب آرہا تھا۔خوف سے کچھ گلے میں کچھ اٹکاتھا۔یہ جواب اسے نہیں سننا تھا۔اسکا پین ہاتھ سے نیچے گرا۔وہ اس آواز کو بند کر دینا چاہتا تھا۔مگر خیالات کی آوازیں کب بند ہوتی ہیں؟اس کی ہر کوشش دم توڑ گئی تھی۔بیسمنٹ میں پھر آواز گونجی تھی۔
”مر کر ملتے ہیں تمغے۔“ کون بولا تھا؟ دماغ….ہاں یہ دماغ چلایا اور اس کا دل ڈوب گیا تھا۔اس نے دائیں ہاتھ کو منہ پر رکھا اور بائیں ہاتھ سے بال جکڑے۔شیری بچہ تھا‘اسے نہیں جانا چاہئیے تھا۔کاش وہ خود چلا جاتا اس کی ضدنہ مانتا…لو‘.ایک اور پچھتاوا۔اور اس کے سینے میں تھوڑی گھٹن اور بڑھ گئی۔
”کیا ایک اور زندگی اس کی وجہ سے؟“ وہ پورا سوچ بھی نہیں پایا تھا۔نہیں‘شیری کو وہ نہیں کھو سکتا تھا۔وہ سب کچھ یوں ہی میز پر بکھرا چھوڑ کر اٹھ گیا۔بہت انتظار ہو چکا تھا۔
وہ اپنے کمرے میں آیا،سیف سے گن اٹھائی، گولیا گنی اور اسے سامنے اپنی پینٹ میں اڑیسا۔ سفیدشرٹ پینٹ سے کھینچ کر گن پر ڈال کر اسے چھپا دیا۔ سیف میں لٹکے کپڑوں کو ادھر ادھر کیا۔کالا بلیزر کھینچا، یوں ہی ہینگر بیڈ پر پھینک دیا۔ اسے جلد وہاں جانا تھا۔ بلیزر کو پہنتا وہ کمرے سے نکل آیا۔ اس کا رخ باہر گیٹ کی طرف تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ انسٹیٹیوٹ کے چوتھے فلور پر موجود ہال تھا۔ہال میں قریباً پانچ سو کرسیاں لگی تھیں۔سامنے اسٹیج تھا جو فرش سے چند انچ ہی اونچا تھا۔اسٹیج پر چار قد آور کرسیاں تھیں، جن کے سامنے ایک میز جس پر چار ہی مائیک لگے تھے۔ دائیں طرف روسٹرم اور پیچھے دیوار پر آج کے سیشن سے متعلق پینا فلیکس تھا۔اوپر لکھا تھا۔
”نیو جنریشن، نیو پرابلمز۔“
”ملینیلز: وائے ہارڈ ٹو مینج؟“
(ملینیلز ‘mallenials’ انیس سو اسی کے ابتدا سے سن 2000 کے ابتدا میں پیدا ہونے والی جنریشن)
آہستہ آہستہ کرسیاں بھرنے لگیں اور پورے گیارہ بجے ہال کا دروازہ بند کر دیا گیا۔ ڈاکٹر ہارون دائیں طرف سے دوسری کرسی پر برا جمان تھے۔سیشن شروع ہوا اور وہ قدم اٹھاتے روسٹرم کے پاس آکر کھڑے ہوئے۔
”ہال میں موجود کوئی ایسا جوڑا ہے جس کے گھر میں ڈبا ٹی وی ہو؟“ آتے ہی سوال کیا۔کئی گردنیں نفی میں ہلیں۔
”کوئی ایسا جو مٹی کے گھر میں رہتا ہو؟“ دوسرا سوال کیا۔ مسکراہٹیں نظر آئیں۔
”کوئی جو آج بھی گدھے، گھوڑوں پر سفر کرتا ہو؟“ وہ سنجیدہ تھے مگر ہال والوں کے لیے یہ مزاح تھا۔
”سر‘ اب تو جہاز آگئے ہیں۔“ ہال سے آواز آئی۔ وہ سر ہلاتے ہوئے مسکرائے۔
”ہاں یہ نیا زمانہ ہے۔“
”اچھا بچپن میں جب آپ شرارت کرتے تھے‘ تو آپ کے والدین کیا کرتے تھے؟“ ہال میں نظر دوڑائی۔
”وہ آپ کو روکتے تھے؟“ ہال نے حمایت کی۔
”پھر آپ شرارت کرتے تھے تو وہ آپ کو ٹوکتے تھے۔ایسا ہے؟“ہال نے پھر حمایت کی۔
”اور آپ تب بھی بات نہیں مانتے تھے تو وہ کیا کرتے تھے؟“ فوراً کسی نے کہا۔ ”ٹھوکتے تھے۔“ ہال میں قہقہے ابھرے۔لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف نظروں کا تبادلہ کیا۔ڈاکٹر ہارون کو اس لڑکے کے لفظ نے محظوظ کیا تھا۔
”ہاں پھر وہ ٹھوکتے تھے۔“ انہوں نے کہا تو پھر سب ہنس دیے۔
”اچھا وہ تو پرانا دور تھا۔مٹی کے گھروں کا، گدھے گھوڑوں کا اور ڈبے والے ٹی وی کا۔ اب جب آپ کے بچے آپ کی بات نہیں مانتے یا شرارت کرتے ہیں تو آپ کیا کرتے ہیں؟“
”روکتے ہیں‘ٹوکتے ہیں‘ اور پھر؟ پھر ٹھوکتے ہیں۔“ حاضرین کے انداز میں کہا گیا۔
”ایسا ہی ہے؟“ انہوں نے حمایت چاہی اور حمایت مل گئی۔
”بیٹا‘جب سب بدل گیا ہے تو آپ کا پیرینٹنگ اسٹائل کیوں نہیں بدلا؟“ بہت آرام سے کیے گئے سوال نے ایک لمحے کے لیے حاضرین میں ہلچل مچا دی تھی اور پھر دوبارہ خاموشی چھاتی گئی۔
”چلیں ٹھیک ہے‘ہو سکتا ہے یہ طریقہ کار آمد ہو تبھی آپ نے بھی اپنے والدین کا انداز اپنا رکھا ہے۔ تو بتائیں‘ جب آپ اپنے بچے کو روکتے، ٹوکتے اور ٹھوکتے ہیں تو وہ آپ کی بات مان جاتا ہے؟ کبھی ایسا ہوا کہ آپ نے بچے کو روکا، ٹوکا، ٹھوکا اور کچھ دیر بعد بچا آپ کے پاس آیا ہو اور کہا ہو ماما آپ نے تو میری آنکھیں ہی کھول دیں۔“ سامنے پھر قہقہے تھے۔ڈاکٹر ہارون بھی زیر لب مسکرائے۔
”یقیناً نہیں ہوتا‘بلکہ تھوڑی دیر بعد دوبارہ بچہ وہ ہی سب کرنے لگ جاتا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ طریقہ ہے ہی غلط، اگر صحیح ہوتا تو کچھ نتیجہ نظر آتا۔ نہیں؟“ سامنے سے حمایت ہوئی۔
”بیٹا‘اس جنریشن میں اور آپکی جنریشن میں بہت فرق ہے۔ یہ جنریشن آپ سے زیادہ ٹیلینٹڈ ہے۔ آپ کے ٹی وی کی سیٹنگ بدل جاتی ہے، یا رنگ ٹون بدل جاتی ہے تو آپ ان بچوں سے کہتے ہیں کہ صحیح کر دیں۔زرا بتائیں جب آپ اپنے بچوں کی عمر کے تھے آپ کو یہ سب آتا تھا؟“کئی گردنیں دائیں بائیں ہلی تھیں۔
”اچھا ایک مثال لیتے ہیں‘ آپ نے گاڑی لینی ہے، سب گھر والے بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ کون سی گاڑی لیں۔ آپ کی ملازمہ جھاڑو لگاتے وہاں آتی ہے اور کہتی ہے سر/ میڈم فلاں گاڑی لے لیں۔کیا آپ اس کی بات مانیں گے؟“ وہ روسٹرم چھوڑ کر آگے آ گئے۔
”نہیں۔“ ہال میں سے آوازیں آئیں۔
”کیوں؟“
”کیونکہ اس کا اسٹیٹس لو ہے۔“ دوسری قطار میں بیٹھی عورت نے کہا۔ ڈاکٹر ہارون نے نفی میں گردن ہلائی۔ ایک دو اور جواب آیا لیکن ڈاکٹر ہارون مطمئن نہیں ہوئے تھے۔
”اچھا‘اب آپ کو کسی مکینک نے کہا کہ آپ فلاں گاڑی لے لیں۔ آپ اس کی بات مانیں گے؟“ انہوں نے پچھلی بات کی وضاحت کے لیے ایک اور سوال پوچھا۔
”ہاں۔“ لوگ حامی تھے۔
”کیا مکینک کا اسٹیٹس آپ سے میچ کرتا ہے؟“
”نہیں۔“ آوازیں آئیں۔
”تو آپ نے ملازمہ کی بات کیوں نہیں مانی اور مکینک کی کیوں مان لی؟“ سوال مختلف انداز میں سامنے آیا۔ پھرانہوں نے خود ہی جواب دیا۔
”کیونکہ ملازمہ کے پاس آپ سے کم ٹیلنٹ ہے اور مکینک کے پاس گاڑیوں کا آپ سے زیادہ ٹیلنٹ ہے۔ اس لیے آپ نے ایک کی بات مانی اور دوسری کی نہیں مانی۔“کئی سر اثبات میں ہلے۔
”تو بیٹا‘جب آپ کے بچے کے پاس آپ سے زیادہ ٹیلنٹ ہے تو وہ بھی آپ کی بات نہیں مانے گا کہ ماما یا پاپا کو تو کچھ نہیں پتا۔“وہ خاموش ہوئے۔ہال تالیوں سے گونجا۔
”اسی طرح آج کے دور میں ٹیکنالوجی اس قدر نہیں تھی۔ آپ کو ٹیکنالوجی کا تجربہ بھی نہیں ہے، آپ کو لگتا ہے آپ کا بچہ بگڑ گیا ہے جبکہ آپ تو سدھرے ہوئے تھے۔“ لوگ خود کو ان کی باتوں سے ریلیٹ کر رہے تھے۔
”تو جناب‘ آپ اس لیے سدھرے ہوئے تھے کیونکہ بگاڑنے کو اس دور میں اتنا کچھ تھا ہی نہیں۔نہ فیس بک تھی، نہ انٹر نیٹ تھا، نہ وڈیو گیمز تھی۔“
”تو مطلب آپ سدھرے ہوئے تھے کیوں کہ بگاڑنے کو کچھ تھا ہی نہیں۔ ہاں اگر فیسبک ہوتی اور پھر بھی آپ کتابوں کو فیس کرتے تو میں مانتا۔ وڈیو گیمز ہوتیں پر آپ نہ کھیلتے تو بھی میں مانتا۔“ ہال میں سیٹیاں اور تالیاں بج رہی تھیں۔
”کتنے لوگ ہیں یہاں جن کے بچے ان سے بچپن میں اپنی باتیں شئیر کرتے تھے؟“ انہوں نے پیچھے دیوار تک نظر دوڑائی۔ بہت سے ہاتھ کھڑے ہوئے۔
”اور کتنے لوگ ہیں جن کے بچے اب بڑے ہو کر بھی آپ سے اپنی باتیں شئیر کرتے ہیں؟“ بہت سے ہاتھ نیچے ہو گئے۔
”جب وہ چھوٹے تھے اسکول سے آتے تھے۔آپ ان سے پوچھتے تھے آج اسکول میں کیا ہوا؟ ٹیچر نے کیا کہا؟ کوئی دوست بنا نہیں بنا؟کھانا کھایا تھا نہیں کھایا؟وہ اپنی کوئی شرارت بتاتا آپ ہنس دیتے۔ اسی طرح وہ آپ کو اپنی باتیں بتاتا رہا۔ ایک دن وہ گھر آیا اور کہا ماما آج ہم سب دوستوں نے بنک کیا تھا۔وہ اسی خوشی سے آپ کو بتا رہا تھامگر آپ کے تاثرات بدلے، آپ ہنسے نہیں بلکہ غصہ کیا‘ اسے ڈانٹا۔“
”پھر کیا ہوا؟ کیا اس نے یہ سب کرنا چھوڑ دیا؟ نہیں‘بلکہ بتانا چھوڑ دیا۔ فون پر پاسورڈ لگا لیا تا کہ ماما کو کچھ نہ پتا چلے، بابا کو کچھ نہ پتا چلے۔“ وہ صرف مسائل ڈسکس کر رہے تھے۔ جواب سامنے بیٹھے لوگ خود بن رہے تھے۔
”بیٹا‘بچے غلط نہیں ہیں‘آپ کا رویہ غلط ہے۔ آپ کا ان کو ہینڈل کرنے کا طریقہ غلط ہے۔“ وہ تاسف سے بولے۔
”آپ کہتے ہیں کہ کوے کا بیٹا کوا ہوتا ہے‘ تو آپ کا بچہ بھی آپ کی طرح ہو۔ تو معذرت کے ساتھ ایسا نہیں ہو گا۔“
”کیونکہ وہ آپ کا دور تھا جب بیٹے کا رول ماڈل باپ اور بیٹی کی آئیڈیل ماں ہوتی تھی۔ تبھی ڈاکٹر کا بیٹا ڈاکٹر اور درزی کا بیٹا درزی ہوتا تھا۔ اب والدین رول ماڈل نہیں رہے۔ اب درزی کا بیٹا ڈاکٹر بننا چاہتا ہے اور ڈاکٹر کا بیٹا ڈریس ڈزائنر۔ اسی طرح حجام کا بیٹا انجینئیر بننا چاہتا ہے اور انجینئیر کا بیٹا ہئیر ڈریسر۔“ الفاظ تھے کہ دل میں اترتے جا رہے تھے، رشتوں پر آئی گرد چھٹتی جا رہی تھی۔
”ایک اور بہت بڑا مسئلہ بچوں کی ٹین ایج۔ مجھے پتا ہے والد اپنی بیٹیوں سے بہت پیار کرتے ہیں مگر پھر بھی کچھ چیزیں ایسی ہیں جن پر آکر ان کا بیٹوں سے رویہ الگ ہوتا ہے اور بیٹی سے الگ۔“ چلتے ہوئے دوبارہ روسٹرم کی طرف گئے۔
”یہاں کئی لوگ ہوں گے جن کے گھر اس چیز کو لے کر بے سکونی رہی ہو گی۔ بیٹا کسی لڑکی کو پسند کرے، راستہ روک کے کھڑا ہو، دن رات باتیں کرے۔ تو جوانی ہے، ٹائم پاس ہے۔ بیٹی کسی کو پسند کر لے تو توہین سمجھتے ہیں۔ اعتماد کھو دیتے ہیں۔ بات کرنا بند کر دیتے ہیں۔“
”پہلی بات‘ انا بنا لیتے ہیں‘ اسے نفرت سے دیکھتے ہیں اور اگر شادی وہیں کر بھی دیں اور وہ نہ چل سکے تو کہیں گے تمہاری ہی مرضی تھی۔ بھگتواب۔اور اگر ارینج میرج نہ چل سکے؟“ انہوں نے سوچنے کا وقفہ دیا پھر دوبارہ بولے۔
”تو کہیں گے نصیب تھا۔ میرا بیٹا‘ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ بچے اپنی مرضی سے ہی شادی کریں۔ پر سمجھیں آپ اپنے بچوں کو سمجھیں۔ خدا سے مشورہ لیں۔ ہو سکتا ہے یہ ہی اللہ کا فیصلہ ہو۔ورنہ میں نے کئی ارینج میرج والوں کو سسکتے ہوئے زندگی گزارتے دیکھا ہے۔ان بچوں نے تمام عمر اس انسان کے ساتھ گزارنی ہوتی ہے تو تھوڑا سا حق اپنا جیون ساتھی چننے کا ان کو بھی دے دیں۔ صرف اتنا کہ کل کو مرتے وقت ان کو پچھتاوا نہ ہو کہ انہوں نے تمام عمر ان چاہے انسان کے ساتھ گزار دی۔“
”بیٹوں کو سمجھائیں۔ یہ بیٹیاں بڑی نازک ہوتی ہیں۔ چاہے اپنی ہوں یا دوسروں کی۔ ان سے گھر میں کوئی اونچی آواز میں بات کر لے تو رونے لگ جاتی ہیں۔ تو بتائیں جن کو یہ بچے گلیوں محلوں، کالجوں کے باہر آوازیں کستے ہیں ان پر کیا گزرتی ہو گی؟ خدارا‘ ان کا خیال کریں کہ پھر دکھی دل کی بد دعا بھی عرش تک جاتی ہے۔“ ایک لہر وہاں بیٹھی خواتین کی ریڑھ کی ہڈی میں اٹھی تھی۔وہاں شاید ہی کوئی ایسی خاتون بیٹھی تھی جس نے ہراسمنٹ نہ سہی ہو۔
”مدرز سے کہتا ہوں بچوں کو دینا سیکھائیں۔ ایدھی صاحب کہتے ہیں ان کی ماں ان کو دو دیتی تھی ایک خود کے لیے ایک کسی ضرورت مند کے لیے اور آج کل کی مائیں کیا کرتی ہیں؟ بچہ گھر آتا ہے تو کہتی ہیں خود کھایا یا کسی اور کو کھلایا؟ اگر کبھی ٹیچر کچھ چکھ لے تو اسکول پہنچ جاتی ہیں کہ اس نے میرے بچے کا ٹفن کھا لیا۔ یوں وہ جان جاتا ہے کہ اس نے کسی کو نہیں دینا۔اور جب وہ دیتا نہیں تو اس کے پاس آتا بھی نہیں ہے۔ پیسہ، پیار، محبت، علم سب دینے سے بڑھتے ہیں۔“ وہ رکے۔ ہال میں سناٹا تھا۔ہر لفظ سچ ہی تو تھا۔
”فادرز سے کہتا ہوں یار سخت باپ نہ بنو۔ آپ کے اصول لاکھ ٹھیک سہی‘ پر وقت بدل گیا ہے۔ زمانہ اپ ڈیٹ ہو گیا ہے آپ اپناطریقہ بھی اپ ڈیٹ کر لیں۔وہ آپ کے بچے ہیں۔آپ کا ان کا نہ کوئی مقابلہ ہے اور نہ ہی کوئی موازنہ ہے۔ان سے ضد نہ لگائیں۔وہ آپ سے دور ہو جائیں گے۔“ وہ خاموش ہو گئے۔
چائے کا وقفہ تھا۔مہمانوں اور حاضرین میں کھانے کے باکس اور جوس کے ڈبے بانٹے گئے۔آدھے گھنٹے بعد وہ دوبارہ اٹھ کر روسٹرم کے پیچھے کھڑے ہوئے۔مائیک سیٹ کیا اور بات آگے بڑھائی۔
”دو طرح کے والدین ہیں ایک وہ جو بچوں کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں اور ایک وہ جو پابند کر دیتے ہیں۔دونوں طریقے غلط ہیں۔بیلنس لانا سیکھیں۔“
”اپنے بچے کو دماغی طور پر تھوڑا آزاد کریں، اسے فیصلہ لینے دیں کہ اسے کیا بننا ہے۔آپ اس خوف سے کہ وہ غلط فیصلہ نہ کر لے اس کے سارے فیصلے خود لیتے رہتے ہیں اور پھر ہوتا یہ ہے کہ اسے فیصلہ لینا ساری زندگی نہیں آتا۔ اسے اپنے پروں کے نیچے سے نکالیں پلیز۔تھوڑی گرم ہوا لگنے دیں۔ ہمارے ہاں تو ٹیچر بھی بچے کی طرف انگلی اٹھا دے تو انگلی کاٹنے پہنچ جاتے ہیں ہم۔بھئی تھوڑا سیکھنے دیں اسے اور انسان اپنی ہڈیوں سے ہی سیکھتا ہے۔ اسے ذمہ داری دیں۔“ انہوں نے ہرلفظ پر زور دیا۔
”مغرب میں بچہ بلوغت کو پہنچتا ہے اور ماں باپ ہاتھ اٹھا لیتے ہیں کہ اپنی ذمہ داری خود اٹھاؤ۔ امریکہ کے سابق صدر اباما کی بیٹی ایک ریسٹورنٹ میں ویٹرس تھی۔اسی طرح ایک بڑی طاقت کے وزیر اعظم کا بیٹا لوگوں کے گھروں میں اخبار ڈالتا تھا۔کیا ان کے پاس پیسہ نہیں تھا کہ اپنے بچوں کو سکون کی زندگی دیتے؟ آپ سے زیادہ وسائل تھے پر انہوں نے بچوں کو باہر نکالا تا کہ وہ ذمہ داری اٹھانا سیکھ سکیں۔“
”آج آپکا بچہ غلط فیصلے لے گا تو ہی کل صحیح فیصلے لے سکے گا۔“
”وہ اپنے کیریر میں جو کرنا چاہتا ہے کرنے دیں۔مجبور مت کریں کہ تم نے ڈاکٹر ہی بننا ہے۔ وہ نہ بن سکا تو ساری زندگی یہیں اٹک جائے گا۔اور بھئی ڈاکٹر، انجینئیر کے علاوہ بھی دنیا مین بہت شعبے ہین وہ ایکسپلور کیوں نہیں کرنے دیتے آپ ان بچوں کو؟ کامیابی ڈاکٹر یا ناجینئیر بن جانے میں نہیں ہے۔ کامیاب وہ ہے جو اپنے شعبے میں بہترین ہو۔ پھر چاہے وہ آرٹس ہی کیوں نہ ہو۔ فلاں ڈاکٹر بن گیا تم بھی جاؤ۔ کیوں؟ فلاں کا جو پوٹینشیل ہے وہ آپ کے بچے کا پوٹینشیل نہیں ہے۔ آپ کے بچے کو اللہ نے کوئی اور صلاحیت دے رکھی ہے۔ دنیا میں صرف صحت کے ہی مسائل نہیں ہیں۔ یہاں اور بہت مسائل ہیں۔ بچوں کو ڈاکٹر، انجینئیر سے اوپر بھی سوچنے دیں۔“
”اگر آپکا بچہ زندگی کے کسی میدان میں فیل ہو جاتا ہے تو اسے نالائق تصور نہ کریں۔میں کہتا ہوں ناکامی قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے۔ اور اگر کوئی ایک بار فیل ہو جائے تو وہ فیلیر نہیں ہوتا۔ لیکن ہم کیا کرتے ہیں کہ ساری زندگی کی کامیابیوں کو ایک طرف کر کے اس ایک ناکامی کا رونا روتے رہتے ہیں۔“
”اور ہو سکتا ہے جس دروازے کو اپنے بچے کا نصیب سمجھ کر آپ دستک دلوا رہے ہوں زبردستی کھلوانے کی کوشش کر رہے ہوں وہ اس کا ہو ہی نا۔ اتنے بچے ہر سال تعلیمی وجوہات کی بنا پر خود کشی کر لیتے ہیں۔یار‘جب بچہ ہی نہیں رہے گا تو ڈاکٹر، انجینیرکا کیا کریں گے آپ؟“
”میں ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہوں جن کو ناکامی ملی۔ میرے والدین کی خواہش تھی میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر بنوں۔نہیں بن سکا۔بہت طعنے سنے۔بہت کچھ سہا۔بالآخر سائیکالوجی میں ایڈمیشن لیا اور آج خدا کا شکر ادا کرتا نہیں تھکتا کہ اس وقت اگر فیل نہ ہوا ہوتا تو آج یہاں کھڑا یہ سیشن نہ دے رہا ہوتا۔“ مائیک خاموش ہو گیا۔ہال کا سناٹا ٹوٹا‘تالیوں کی آواز گونجی۔ لوگوں کو لگا وہ ان کی ہی بات کر کے گئے ہیں ہر لفظ ان کی اپنی زندگی ہی تو تھا۔ وہ واقعی الفاظ سے شفا دے دیتے تھے اور اس وقت بہت سے والدین اور بچوں کے رشتے کو نئی زندگی مل گئی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!