Haya Novel By Fakhra Waheed ep 12

Haya novel by Fakhra Waheed

خدا سے شکوے کرنا تو اس نے کب سے چھوڑ دیے تھے۔الفاظ رک گئے تھے۔مگر آنسو؟ وہ تو اپنے آپ گرنے لگ جاتے تھے۔خود کو کمپوز کیے وہ اسی چھوٹے سے کمرے میں بیٹھی تھی۔سامنے کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ دھرے ڈاکٹر ہارون بیٹھے تھے۔وہ اسے کسی بات کے لیے منا رہے تھے۔ وہ ان کو کبھی منع نہیں کر سکتی تھی مگر اسے لگا یہ اس کی کی اوقات سے باہر ہے۔ وہ ڈاکٹر ہارون کی جگہ سیشن ڈلیور نہیں کر سکتی تھی۔ان کے الفاظ میں شفا تھی۔مگر وہ تو خود مریضہ تھی۔
”سر‘ میرے پاس نہ آپ کی طرح الفاظ کا ذخیرہ ہے اور نہ ہی اتنا نالج۔ میں کبھی بھی آپکی طرح سیشن ڈلیور نہیں کر سکتی۔“ وہ ٹھہر ٹھہر کر بولی تو ڈاکٹر ہارون نے ٹانگ سے ٹانگ اتاری اور مسکرائے۔
”توآپ سے کون کہہ رہا ہے آپ میری طرح سیشن دیں؟ آپ اپنی طرح سیشن دیں۔“ انہوں نے دوٹوک کہا اور الفاظ کے ردوبدل پر اس کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ پھیلی۔
”رہی بات نالج کی‘ تو بیٹے اکیلا نالج کچھ نہیں ہوتا۔“
”تجربہ اور علم۔“ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں قریب لائے۔
”طاقت بن جاتے ہیں۔“ انہوں نے انگلیاں آپس میں ملا کر طاقت دکھائی۔
”علم تم کتابوں سے لے سکتی ہو، تجربہ کچھ ہے کچھ مل جائے گا۔“ ڈاکٹر ہارون کے بولتے بھلا کون بول سکتا تھا؟ وہ بھی چپ چاپ سنتی رہی۔
”یہ چند کتابیں ہیں۔“ انہوں نے سامنے میز پر پڑی کتابوں کی طرف اشارہ کیا۔
”تقریباً پندرہ دن تو ہیں ہی۔آپ ان کتابوں کو پڑھ لیں۔ دوسروں کے تجربوں سے سیکھنا آرٹ ہے اور کتابوں میں دوسروں کے ہی تجربے درج ہوتے ہیں۔“ وہ کچھ بول نہیں پائی‘سر جھکائے سنتی رہی۔
”یہ سیشن ہر صورت آپ کو ہی دینا ہے۔کیونکہ مجھے کل انگلینڈ جانا ہے۔ وہاں انسانیات سے متعلق ایک ایونٹ ہے جو ایک کے بعد ایک شہر میں منعقد ہو گااور میں پاکستان کو ری پریزنٹ کر رہا ہوں۔“ ان کی آواز سے ایکسائٹمنٹ ظاہر تھی۔
”تو ایک ماہ لگ ہی جائے گا۔“ انہوں نے سوچنے کے سے انداز میں سر ہلایا۔
”لیکن سر‘آپ کسی اور سے کہہ دیں۔میرے میں یہ قابلیت نہیں ہے۔ میرے سے قابل لوگ ہیں انسٹیٹیوٹ میں۔“ اس کی سوئی وہیں اٹکی تھی۔ڈاکٹر ہارون نے بغور اسے سنا اور گہرا سانس لیا۔
”حیا‘ایک کہانی سنو گی؟“کچھ کہے بغیر حیا نے اثبات میں گردن ہلائی۔مگر اسے سیشن ڈلیور نہیں کرنا تھا اس نے سوچ لیا تھا۔
”ایک آدمی ایک اسکول کے سامنے غبارے بیچا کرتا تھا۔کاروباری ذہن تھا تو جب بچوں کو چھٹی ہوتی تو وہ ان کو دکھانے کے لیے، امیز کرنے کے لیے چند غبارے ہوا میں چھوڑ دیتا۔گیس سے غبارے اڑتے چلے جاتے۔بچے انکو اڑتا دیکھتے تو بڑھ کر غبارہ خرید لیتے۔یوں اگر وہ چار غبارے چھوڑتا تو چالیس بک جاتے۔دس چھوڑتا سو بک جاتے۔“ حیا کو دیکھتے وہ کہتے جا رہے تھے۔
”ایسے ہی چلتا رہامگر غبارے والے نے دیکھا کہ ایک بچہ جس کا رنگ کالا سیاہ ہے۔“ انہوں نے کالے سیاہ پر زور دیا۔
”وہ بس دور کھڑا دیوار سے لگا غباروں کو اڑتا دیکھتا ہے مگر خریدتا نہیں ہے۔ اسے پتا لگا کہ وہ بچہ غریب ہے۔ اس نے بچے کو بلایا اور کہا بیٹا! پیسے نہیں ہیں تو کوئی بات نہیں تم یوں ہی مفت کا غبارہ لے لو۔ بچے نے بات سنی اور کہا۔ انکل بات یہ نہیں ہے بس میرا ایک سوال ہے کہ آپ اتنے دن سے غبارے اڑا رہے ہیں۔ آپ بلیک غبارہ کیوں نہیں اڑاتے؟ غبارے والے کو سمجھ آئی کہ بچے کو کمپلیکس ہے کیوں کہ اس کا اپنا رنگ کالا ہے۔ تو اس نے ایک کالا غبارہ لیا اور ہوا میں چھوڑا اور پھر ایک بات کہی۔“ حیا کے تاثرات دیکھے پھر آگے بولے۔
”بیٹا‘یہ نیلا،پیلا، لال، ہرا کچھ نہیں ہوتا۔ اڑتا وہ ہی ہے جس کے اندر کچھ ہوتا ہے۔“ آخری جملہ کہتے انہوں نے بغور حیا کی آنکھوں میں جھانکا۔
”حیا بیٹا‘قابل وہ ہی ہے جس کے اندر کچھ ہے۔“
”اور اگر میں آپ کو یہ موقع دے رہا ہوں تو سمجھ جائیں وہ ’کچھ‘ میں نے آپ کے اندر دیکھا ہے۔“
”میں مجبور نہیں کروں گاکیونکہ چاہے میں بار بار کہتا رہوں دیٹ یو کین ڈو دس۔ساری دنیا کہتی رہے حیا کین ڈو دس۔پر اگر آپ کا دل کہے گا نا کہ آئی کانٹ ڈو دس۔تو آپ واقعی نہیں کر سکو گی اور اگر پوری دنیا کہتی رہے ہم سب کہتے رہیں کہ آپ یہ نہیں کر سکتی لیکن آپ کا دل کہے کہ آپ یہ کر سکتی ہو تو آپ یہ کر کے دکھاؤ گی۔“وہ خاموش ہو گئے۔
حیا جو انکار کرنے کے لیے الفاظ ڈھونڈ رہی تھی اب ان کا منہ تک رہی تھی۔ اس آدمی کے الفاظ میں کیا تھا؟ اس کادل بدل گیا تھا۔وہ ابھی سے خود کو وویمن کالج کی لڑکیوں کے سامنے بولتا دیکھ رہی تھی۔ایک بڑا سیشن ڈاکٹر ہارون نے اسے سونپ دیا تھا۔وہ خوش قسمت ہے۔اس نے سوچا۔کل کے آنسوؤں کی کڑواہٹ اس لمحے زائل ہو گئی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ بارہ مرلے کا بڑا اور کشادہ گھر تھا۔نقشہ وہی حمزہ کے گھر کا مگر کچھ سب سمٹا سمٹا تھا۔حویلی کے بجائے گھر ہی نظر آتا تھا۔دروازے سے اندر جاؤ تو لان تھا جہاں ایک انیس بیس سال کی لڑکی اپنے باپ کے ساتھ بیٹھی ان کی باتیں سن کر سمجھنے کے سے انداز میں سر ہلا رہی تھی۔آگے بڑھو اور لاؤنج عبور کرتے سامنے کمرے میں دیکھو تو گھر کی مالکن بیڈپر بہت سے کپڑے پھیلائے،چن چن کر ایونٹ، موسم اور ملک کی مناسبت سے کپڑے سوٹ کیس میں رکھ رہی تھی۔ جب دونوں بیگ بند کر چکی تو ان باپ بیٹی کو دیکھنے باہر نکلی،جو اب لاؤنج میں ہی داخل ہو رہے تھے۔
”ہارون‘اب آپ چینج کر لیں۔ گیارہ بجے فلائٹ ہے۔“ وہ مسکراتی ہوئی ان کی طرف بڑھی۔ وہ بھی جواباً مسکرائے۔
”ہاں‘لیکن سوچ رہا ہوں،پہلے اپنی پیاری بیوی کے ہاتھوں سے بنا کچھ کھا لوں؟بھوک لگ رہی ہے۔“ وہ اپنی بیگم کو نظروں کے حصار میں لیے بولے تو اس نے گڑ بڑا کر اپنے قد کو پہنچتی بیٹی کو دیکھا جو ٹانگ پر ٹانگ دھرے صوفے پر بیٹھ چکی تھی۔
”کم از کم بیٹی کا خیال کر لیا کریں۔“ اس نے آگے ہوتے ہوئے سر گوشی کی۔جو بیٹی نے سن لی تھی اور اس نے بھی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے فون اٹھا لیاتھا۔
”بھئی جب لڑتے بچوں کے سامنے ہیں، تو ایک دوسرے کے لیے پیار کا اظہار بچوں کے سامنے کیوں نا کریں؟“ ڈاکٹر ہارون نے دلیل دی تھی اب بھلا کون بحث کرتا؟ اور اس ردابہ نگر میں میاں بیوی کے پیار سے شروع ہونے والی بات، بیٹی کے بڑے ہو جانے سے ہوتی ہوئی ڈاکٹر ہارون کے جملے پر آخر ختم ہو جاتی تھی۔ ہاں یہ ردابہ کا گھر تھا۔حمزہ کی ماسی کا گھر!
ہارون نے ایک بازو ردابہ کے گرد پھیلایااور وہ سر اٹھاتی اپنے شوہر کے ساتھ فخر سے چلتی صوفے پر آکر بیٹھی۔
”آپ بیٹھیں‘میں کھانے کو کچھ لاتی ہوں۔“ وہ کچن کی طرف بڑھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ ڈش میں کوفتے، لزانیہ اور کسٹرڈ رکھے باہر آئی۔ ڈش کو ڈائیننگ ٹیبل پر رکھا۔ڈاکٹر ہارون پہلے ہی اس کو آتا دیکھ کر اٹھ چکے تھے۔
”انیقہ تمہیں بھوک نہیں ہے؟“ ٹیبل پر برتن لگاتے ردابہ نے فون پر مصروف بیٹی کو دیکھا۔
”نہیں ہارون صاحب کی پیاری بیوی۔“ اس نے ردابہ کے ہارون کو مخاطب کرنے کے الفاظ اور ہارون کے ابھی کچھ دیر پہلے کہے گئے الفاظ کو ملا کر بظاہر لا پرواہی سے کہا۔مگر فوراً ایک ہاتھ کان پر لے جاتے بغیر کچھ کہے معافی مانگ لی اور معافی مل گئی۔ساتھ ہی میز پر خاموش مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوااور بیچ میں ہلکا سا مردانہ قہقہہ لگا تھا۔
”یار آپ سوچ لیں ایک بار۔“ ہارون کی پلیٹ میں کوفتے ڈالتے اس نے پر سوچ انداز میں کہا۔
”اتنا بڑا سیشن ابھی سے حیا کو سونپ دیناشاید مناسب نہیں۔وہ لڑکی بولنے سے پہلے رونے لگ جاتی ہے۔“ وہ اپنے خدشات کا اظہار کر رہی تھی۔ڈاکٹر ہارون نے بغور اسے سنا اور پھر تسلی دی۔
”قریباً چار ہفتے ہو گئے ہیں اسے یہاں آئے‘ تم اس سے ملو گی تو اس کا اعتماد دیکھ کر حیران رہ جاؤ گی۔“ ردابہ نے بھی سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔ ڈاکٹر ہارون کا فیصلہ غلط نہیں ہو سکتا تھا۔
کھانا یوں ہی آرام سے چلتا رہا اور تبھی ردابہ کا فون بجا۔ اسکرین پر نمبر دیکھ کر چہرے پر سارا پیار امڈ آیا۔
”کس کا فون ہے؟“ نوالہ منہ میں رکھتے انہوں نے سر سری سا پوچھا۔ انیقہ کرسی کھینچ کر بیٹھ رہی تھی۔
”ارے بابا‘ماما کے چہرے کو دیکھ کر بتایا جا سکتا ہے کہ حمزہ بھائی کا فون ہے۔“ اس نے اعتماد سے تکا لگایا اور وہ لگ گیا۔ ردابہ نے اسے گھورا اور پھر فون کان سے لگایا۔
”ماسی کی جان‘ میرا بچہ…..کیسے ہو؟“ چھوٹتے ہی وہ حمزہ پر واری جانے لگیں۔
”ٹھیک ہوں۔“ اپنے کمرے میں بیڈ پر بیٹھا وہ ایک ہاتھ سے فون کان پر لگائے دوسرے سے جوتے اتار رہا تھا۔
”اور وہ شرارتی لڑکا کہاں ہے؟ مجھے بھیجتے ہوئے تو کہہ رہا تھا کہ صبح شام کال کیا کرے گا۔“ وہ مصنوعی خفگی سے بولی اور حمزہ نے ہونٹ بھینچے۔
”آپ کی یاد آرہی تھی‘سوچا کال کر لوں۔“ اس نے ردابہ کے سوال کو نظر اندااز کیا۔ دن رات شیری کے لیے بھاگ دوڑ کرتے اب وہ جسمانی اور ذہنی طور پر تھک چکا تھا۔
”میرا بچہ‘تم کیوں اداس ہوتے ہو؟میں انگلینڈ سے آتے ہی تمہارے پاس چکر لگاؤں گی۔“ ردابہ کو حمزہ کے ساتھ یوں لاڈ کرتے دیکھ انیقہ محظوظ ہو رہی تھی۔اتنے بڑے حمزہ بھائی اور ماما کا ان کو بچوں کی طرح ٹریٹ کرنا۔کیا پیار ہے۔وہ سوچ کر خود ہی مسکرا دیتی۔
”انگلینڈ؟“ وہ چونکا تھا۔
”ارے‘ میں تمہیں بتانا ہی بھول گئی۔تمہارے چاچو کسی ایونٹ کے سلسلے میں جا رہے تھے‘ تو کہنے لگے میں اور انیقہ بھی ساتھ چلیں۔تو بس گیارہ بجے کی فلائٹ سے جارہے ہیں۔“ وہ جوش سے بتا رہی تھی اور ادھراسکی ردابہ کو ملنے کی خواہش دم توڑ گئی تھی۔ہارون‘ردابہ کو دیکھ کر اداسی سے مسکرایا۔
”اوکے‘ہیو آ سیف جرنی۔“ اس نے فون بند کر کے بیڈ پر اچھال دیا۔
ہارون چاچو‘اسکی آنکھوں میں سایہ سا لہرایا۔ دہرا رشتہ مگر رشتے میں دوریاں!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رات کا اندھیرا چھٹ رہا تھا مگر سرمئی بادلوں کی سیاہی بر قرار تھی۔صبح نیلی روشن ہوئی تھی۔اسی چکور پب میں بیٹھا وہ کسی کا انتظار کر رہا تھا اور انتظار میں وقت کب جلدی گزرتا ہے؟
صبح کے چھ بجے بھی پب اپنی تمام تر رنگینیوں سے روشن تھا۔وہاں چہل پہل میں کوئی کمی نہیں تھی۔پر ہاں‘آج وہ لڑکی وہاں نہیں تھی اور لڑکی کا انتظار تھا بھی کس کو؟ اس وقت اس کا دماغ ماضی کی یادوں سے حال کی حقیقت اور اس حقیقت سے مستقبل کے خدشوں کا سفر طے کر رہا تھا۔ اب تو منہ میں رکھی چیونگم بھی بد ذائقہ ہو گئی تھی۔ مگر اس کی زندگی سے زیادہ نہیں۔ تو وہ پرواہ کیے بغیر منہ ہلاتا رہا۔انتظار لمبا ہوتا جا رہا تھا مگر اس لمبے تیل سے چپڑے بالوں والے کا کچھ پتا نہیں تھا۔
سفید شرٹ اور کالا بلیزر اوپر سے پب کی رنگینی، کتنی ہی لڑکیاں اس پر تبصرہ کرتی وہاں سے اٹھی تھیں۔دونوں ہاتھ باہم جوڑے ٹھوڑی کے نیچے اور کہنیاں سامنے کاؤنٹر پر ٹکائے وہ مسلسل ایک پیر ہلا رہا تھا، تھوڑی دیر وہ یوں ہی بیٹھا رہا۔ پھر فون اٹھایا، نمبر ملایا۔جواب ندارد۔بھنویں سکیڑ کر اوپر نمبر والے کے نام کو دیکھا۔ ”دانی۔“
اس نے دوبارہ کال ملائی۔ بیل جاتی رہی، ایک….دو…تین اور فون بند ہو گیا۔ کیا لا پرواہی ہے؟ اس نے بے بسی سے دانی کو کوسا۔
”اگلے پانچ منٹ میں تم یہاں ہو۔ ورنہ اگلے پانچ سیکنڈ میں دوبارہ سانس نہیں لے سکو گے۔“ حمزہ نے اپنا تمام تر غصہ قابو کرتے میسج ٹائپ کیا اور یہ میسج سینڈ۔ پانچ منٹ پانچ سال کی طرح گزرے مگر کوئی نہیں آیا۔ غصے سے بے حال وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا پب سے باہر نکل گیا۔اس سے پہلے کہ وہ گاڑی کا دروازہ کھولتا کسی نے اسکا ہاتھ پکڑا۔ وہ چونک کر پیچھے مڑا۔ یہ ایک آٹھ، نو سال کا بچہ تھا۔ اس کے بال گرد سے اٹے ہوئے تھے۔ کپڑوں پر چار مختلف رنگ کے پیوندنظر آڑہے تھے۔ وہ یقیناً مانگنے آیا تھا۔ حمزہ جلدی میں تھا، اس سے پہلے کیہ وہ جیب سے چند نوٹ نکال کر اسے تھاماتا،بچے نے ایک خاکی لفافہ حمزہ کے ہاتھ میں تھمایا اور آناً فاناً نظروں سے اوجھل ہو گیا۔لمبے بالوں والی آدمی نما عورت نہیں آئی تھی پر پیغام آگیا تھا۔حمزہ گاڑی میں بیٹھا، اگنیشن میں چابی گھمائی اور گاڑی سڑک پر ڈال دی۔ جب وہ اس علاقے سے نکل چکا تو بائیں ہاتھ سے اسٹیرنگ پکڑے دوسرے ہاتھ سے لفافے میں سے کاغذ بر آمد کیا۔غور سے دیکھا۔یہ کیا بکواس لکھا ہے؟ اس نے نظر دوبارہ سڑک پر جمائی۔ اس نے کاغذ دوبارہ جیب مین ڈال دیا تھا۔ایک ہاتھ سے اسٹئیرنگ پکڑے دوسرے کو ٹانگ پر رکھے اس نے دو تین بار بند کر کے کھولا۔ پھر دو انگلیوں سے کنپٹی کو سہلایا۔ اب وہ کان پر لگے بلیوٹوتھ پر کسی سے بات کر رہا تھا۔
”ہاں‘ وہ…“ اس نے وہ کو کھینچا۔ ”باہر جو خالی فیکٹری ہیے۔ہاں وہی‘ جہاں کنسٹرکشن ہو رہی ہے‘وہاں آکر مل ابھی۔میں بھی پہنچ رہا ہوں‘پندرہ منٹ میں۔“ کہہ کر اس نے کان پر لگا بلیو ٹوتھ اتار کر ڈیش بورڈ کی طرف اچھالا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”خیریت ہے آج آپ نے ہمیں دن میں طلب کر لیا‘ایسی بھی کیایاد آرہی تھی آپ کو؟“ حمزہ کے ساتھ قدم ملتے وہ شوخ سے انداز میں بولا اور حمزہ نے جوابا ایک لفافہ اسے تھمایا۔
”یہ کیا ہے؟“ علی نے کاغذ پر عجیب سے انگریزی حروف کو دیکھا اور پھر الجھے سے انداز میں پوچھا۔
”پڑھو۔“ اس نے کاغذ کی طرف اشارہ کیا۔علی نے ایک نظر کاغذ پر ڈالی اور پھر حمزہ کو دیکھا۔ایسے عجیب سپیلنگ والے الفاظ اس نے پہلے کبھی نہیں پڑھے تھے۔
”عجیب آدمی ہے۔“وہ بس سوچ کر رہ گیا۔کاغذ کو بے فضول جھاڑا اور لکھے الفاظ پڑھنے لگا اور عجیب آدمی وہاں پڑے ایک سیمنٹ کے پکے ٹیلے پر بیٹھ کر اس کی طرف متوجہ ہوا۔ وہ چپ رہا تو حمزہ نے اسے ہاتھ اٹھا کر پڑھنے کا اشارہ کیا۔
dit dit dit dit/dit dah/dah dah/dah dah dit dit/dit dah
پہلی لائن کے اختتام پر اس نے ایک نظر اٹھا کر حمزہ کو دیکھا جو کان اس کی طرف لگائے مگر ہاتھ سے سیمنٹ کھرچنے کی کوشش کر رہا تھا۔وہ دوبارہ کاغذ پر جھکا۔
dit dit dit/dit dah/dit dit dit dah/dit
اب اسے یہ آوازیں نکالنے میں مزہ آ رہا تھا اور وہ لہرا لہرا کر پڑھنے لگا۔
dit dit dah/ dit dit dit
آخری لائن پر سر لگایا اور خاموش ہو گیا۔سوالیہ نگاہوں سے حمزہ کو دیکھا۔”اب بتا کیا ہے یہ؟“
”اسے کوڈ کہتے ہیں مسٹر علی‘سیکرٹ میسج۔“ اس نے خفگی سے وہاں ایک پکے سیمنٹ کے اونچے ٹیلے پر بیٹھتے اسے خفگی سے دیکھا۔علی جو اسے ہر معاملے سے متعلق با خبر رکھتا تھا، وہ پوچھ رہا تھا یہ کیا ہے؟ حمزہ کو اس سے اس جہالت کی اسے توقع نہیں تھی۔ علی شرمندہ ہوا تھا۔پھرا سنے کندھے اچکائے۔
”اینڈ آئی ہیو نیور سین سچ کوڈز۔“ حمزہ اسے گھورتا رہا تو اس نے لڑکیوں کی طرح دونوں ہاتھ آنکھوں پر رکھے۔ اور یہ لڑکیوں سی کی ادائیں، حمزہ نے خفت سے آنکھیں گھمائیں۔کوئی بھی بھلا چنگا مرد نہیں ہے اس کے آس پاس؟وہ بس سوچ کر رہ گیا۔
”ہیلو سری دیوی صاحبہ‘اب ہاتھ نیچے کریں اور میری بات دھیان سے سنیں۔“ حمزہ نے ایک چھوٹا کنکر اٹھا کر علی کے پیٹ کا نشانہ بناتے مارا جو اب تک منہ پر ہاتھ رکھے بیچ انگلیوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
”اچھا بتا کس نے بھیجا ہے یہ میسج؟“سنجیدہ سا وہ اس کی طرف بڑھا۔
”پہلے میسج ڈی کوڈ کریں گے۔“حمزہ نے کاغذ اس کے ہاتھ سے پکڑا اور اپنے بلیزر کے اندرونی حصے سے پین نکالا۔
”یہ سگنلز ہیں‘جن کی مدد سے دور سے سمندروں میں بیٹھے لوگ ایک دوسرے کو میسج بھیجتے ہیں۔یہ میسج روشنی کی مدد سے دیا جاتا ہے۔انگلش کے تمام حروف کو یہ ڈاٹ اور ڈیش اسائن کر دیے گئے ہیں۔جیسے ایک بار ڈِٹ مطلب ای اور ایک بار ڈیہہ مطلب ٹی۔اسی طرح یہ ڈِٹ اور ڈیہہ کا کامبینیشن کمپلیکس ہوتا جاتا ہے، جیسے کے ہمارے میسج میں بہت سے ڈٹ اور ڈیہہ ہیں۔“ علی کے ہاتھ میں پڑے کاغذ کی طرف اشارہ کیا۔سارے رستے وہ یہ ہی تو سرچ کرتا آیا تھا۔
”تو ڈی کوڈ کر اسے۔“علی نے عجلت سے کاغذ آگے بڑھایا۔
”مجھے آتا ہوتا تو کر چکا ہوتا‘اور تو اسپیشل برانچ میں کیا کرتا ہے؟ جب تجھے مورس کوڈ کا ہی نہیں پتا۔“اس نے بھوری آنکھیں سکیڑی جو اور چھوٹی ہو گئی تھیں۔جوابا علی نے لب بھینچے۔”شاید یہ میں نے چوائس پر چھوڑ دیا ہو گا۔“ حمزہ نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا فون نکالا۔گوگل پر’ مورس کوڈ ڈیکوڈر ‘ لکھا۔پیج لوڈ ہوا۔اس نے انگوٹھا تیسرے نمبر کی ویب سائٹ پر رکھا۔سائٹ کھل گئی۔اب وہ کاغذ پر لکھے الفاظ وہاں باکس میں ٹائپ کر رہا تھا۔جب وہ ٹائپ کر چکا توا س نے ڈی کوڈ کا بٹن دبایا۔ علی بالوں میں ہاتھ پھیرتا کسی سسپنس سیریل کی سی کیفیت میں اگلے سین کا انتظار کرنے لگا،اور یہ میسج ڈی کوڈ ہوا۔وہ رکا‘اف! خدشات درست ثابت ہو رہے تھے۔علی نے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھے اور کاغذ پر جھکا۔اسکرین پر باکس میں لکھا آرہا تھا۔
”حمزہ سیو اَس (hamza save us)۔“ اس نے فون کی اسکرین سے حمزہ کے چہرے تک کا سفر کیا۔وہ زمین پر پڑے بے ترتیب سیمنٹ کے جمے چھوٹے، بڑے ڈھیلوں کو دیکھ رہا تھا۔
”یہ کس نے بھیجا ہے؟“ حمزہ ہاتھ جھاڑتا کھڑا ہوا۔”پتا نہیں‘ یا شاید پتا ہے۔“ کاغذ بلیزر کی اندرونی جیب میں ڈالتے اس نے کندھے اچکائے۔
”پتاہے‘ یا نہیں پتا؟“ علی نے اس کے سیاسی بیان پر اسے گھورا۔
”دیکھ‘ سیو اَس مطلبہیہمیں بچاؤ۔ہمیں کسے؟ شیری اور شیروان؟“ انگلی ٹھوڑی پر رکھ کر ہلکے چبھتے بالوں پر پھیری۔
”مگر‘شیری یا شیروان دونوں میں سے کوئی بھی مجھے حمزہ نہیں کہتا۔اور جتنا میں شیری‘شیروان کو جانتا ہوں ان کو یہ مورس کوڈنگ نہیں آتی‘کم از کم جو مجھے نہیں آتا وہ ان کو بھی نہیں آتا۔“ اس نے یقین سے کندھے دوبارہ اچکائے۔
”پھر دانی؟“علی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
”ارے نہیں اسے کہاں آتا….“ کہتے کہتے وہ رکااور پھر جملہ مکمل کیا۔ ”ہو گا۔“ اسکی آنکھوں میں چمک در آئی تھی اوروہ تیزی سے علی کی طرف مڑا۔
”ہاں ہاں‘اسے ہی تو آتا ہے۔“ حمزہ نے اپنی بائیں ہتھیلی پر دایاں ہاتھ الٹا کر مارا۔
”میں اس پر غصہ ہو رہا تھا کہ وہ نہیں آیا‘مگر پیغام آیا ہے۔“ کلیو مل گیا تھا۔
”دیکھ‘دانی بحری فوج میں تھا۔اسے پتا ہے سمندر میں کیسے میسج بھیجا جاتا ہے۔ایک طرف سے مناسب وقفے سے لائٹ سے سگنل دیا جاتا ہے اور پھر دوسری طرف بیٹھے لوگ میسج ڈی کوڈ کرتے ہیں۔چونکہ یہ بحری فوج وغیرہ استعمال کرتی ہے۔“وہ کوڈ کی تفصیلات سے علی کو آگاہ کر رہا تھا۔
”رہی بات دانی کی‘ اسے مجھ سے ملنے آنا چاہئیے تھا۔میں نے اسے بلایا تھا۔وہ نہیں آیا اور جب میں اس سے ملنے جانے لگا تو باہر ایک بچہ آیا اور پکڑا کر چلا گیا۔“
”اب یہاں دو باتیں ہیں یا تو شیری اور شیروان نے یہ پیغام بھجوایا اور شاید پریشانی میں میرا نام لکھ دیا،جو کہ ڈاؤٹ فل ہے۔“وہ رسان سے بولتا جا رہا تھا۔
”دوسرا‘یہ دانی نے بھیجا ہے لیکن۔“ وہ رکا اور پھر ادھورا جملہ مکمل کیا۔”وہ سیو اَس کیوں کہہ رہا ہے؟ وہ تو اکیلا ہے اور شیری لوگ وہاں اس کی موجودگی سے انجان ہیں۔“ یہ کیا کنفیوزن تھی۔پیغام آیا تھا مگر ادھورا تھا‘ مکمل بھی تھا تو واضح نہیں تھا۔
”اب کیا پلان ہے؟“ قدم قدم چلتے وہ گاڑی کی طرف جا رہے تھے۔
”بلایا ہے تو جانا پڑے گا۔“
”میں سب کو انفارم کر دیتا ہوں تیار رہیں۔“علی نے کال ملانا چاہی،مگر حمزہ کے جواب پر ہاتھ رکے۔
”تیرا دماغ خراب ہے‘وہ لوگ شاید پکڑے گئے ہیں۔ پکڑے جانا مطلب ٹریپ….تیرے لیے ٹریپ….تو اکیلا نہیں جا رہا۔“ وہ پیچھے سے چلایاتھا۔حمزہ اس سے چند قدم آگے تھا۔
”کیسے آیا تھا؟“ حمزہ نے مڑے بغیر اس سے پوچھا۔
”فریحہ کے ساتھ‘وہ مجھے چھوڑ کر تھانے چلی گئی۔“
”اب واپس میرے ساتھ جائے گا‘یا پیدل ہی جانے کا ارادہ ہے؟“ گاڑی کا دروازہ بند ہونے سے پہلے یہ آخری الفاظ تھے جو علی نے سنے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رات کا سناٹا بڑھا،اور چھ لوگ کالے سوٹ میں ملبوس،لاہور سے باہر اس چھوٹے گوٹھ میں کچے گھروں سے فاصلہ بنائے دور سڑک پر گاڑی ایک طرف لگائے کھڑے تھے۔سب کی نظریں چھوٹے گھروں کے بیچ گھرے بڑے صحن والے گھر پر تھی۔کب یہ بتیاں بجھتی اور کب وہ اپنا کام شروع کرتے۔
یہاں سے دور کچھ فاصلے پر ایک اور گاڑی کھڑی تھی۔جس میں ایک لمبے بالوں والی آدمیوں کے سے وضع کی عورت فرنٹ مرر میں اپنی ڈارک اورنج لپ اسٹک کو ہلکا کر رہی تھی۔”کیا عذاب ہے۔“ ہونٹ ٹشو سے تھپتھپاتی وہ بڑبڑائی۔
”اسے مت اتارو۔“ کان میں کوئی چلایا‘پھر ہلکے قہقہوں کی آوازیں سنائی دیں۔اس کا دل چاہا وہ یہ مائیکرو فون اور سامنے لگا منی کیمرہ اٹھا کر باہر پھینک دے مگر وہ نہیں کر سکی۔گہرا سانس اندر کھینچا.چہرے پر آتے بالوں کو پیچھے کیا۔کان میں بولنے والا ’بھلا چنگا آدمی‘لگ رہا تھا۔اور وہ خود؟ کھسرا وہ بھی دو نمبر۔اپنی سوچ پر اس نے خود ہی لعنت بھیجی۔انسان کو بڑے بول نہیں بولنے چاہئیے‘وہ سمجھ گیا تھا۔
”میں ان عجیب سے کپڑوں۔“ اس نے کپڑے پکڑ کر کھینچے۔ ”اور یہ….یہ ان سنہری بالوں۔“ اس نے بالوں کو ہاتھ لگایا۔
”اور اس بے ہودہ میک اپ کے بغیر بھی جا سکتی تھی۔“ کان میں ایک اونچا قہقہہ اور پیچھے ہلکے قہقہے سنائی دیے۔
”میرامطلب ہے۔“وہ گڑ بڑایا۔صبح سے پریکٹس کر کر کے وہ اب خود کو مونث ہی سمجھ بیٹھا تھا۔
”میرے بھائی‘تو فٹ لگ رہا ایک دم مادھوری۔“ فاصلے پر کھڑی دوسری گاڑی سیکنڈ سیٹ پر بیٹھے علی نے وہیں سے ہونٹ گول کر کے اسے چوما‘سب نے پھر قہقہہ لگایا۔بے ہودہ قہقہہ سنتے (کم ازکم اس کو بے ہودہ ہی لگا تھا) اس نے نائٹ گوگلز آنکھوں سے لگاکردور کچی آبادی کو دیکھا۔وہاں کوئی ہلچل نہیں تھی مگر اسے تو بس بتیاں بجھنے کا انتظار تھا۔
”جب تک میں نہ کہوں تم لوگ مت آنا۔“وہ حکم دے رہا تھا۔
”اور ہاں اضافی نفری کے لیے پیچھے پیغام دے دینا‘تا کہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال میں وہ ہماری مدد کر سکیں۔“وہ خود کو دوبارہ شیشے میں دیکھتاہوا بولا۔دوسری گاڑی میں کچھ سر اثبات میں ہلے۔اب ہلتے سر اس کو کیسے نظر آتے؟ علی بھی کچھ نہیں بولا۔وہ اس کے اکیلے جانے سے مطمئن نہیں تھا اور اب پچھلے لمحے کی ہنسی غائب تھی۔
”حمزہ یہ ان لوگوں کا قلعہ ہے‘وہ بہت ہوں گے۔میرے خیال سے ہمیں ایک ساتھ دھاوا بولنا چاہئے۔“ علی نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے رائے دی۔
”علی‘شیری اور شیروان ان کے پاس ہیں۔زیادہ لوگ مطلب زیادہ آہٹیں۔ہماری ذرا سی غلطی ان کو ہوشیار کر سکتی ہے اور میں کوئی غلطی نہیں چاہتا۔“ اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔وہ ان کو دیکھ نہیں سکتا تھا مگر میک اپ میں بھی اس کے چہرے کے سخت تاثرات وہ دیکھ سکتے تھے۔
”ہمیشہ کا ضدی۔“علی نے منہ پھیر کر ونڈو سے باہر دیکھا۔پیچھے بیٹھے فکر مند چہروں پہ ہلکی مگر اداس مسکراہٹ پھیلی۔
یہاں وہ اپنا پلان ترتیب دے رہے تھے اور وہاں اس کچے گھر کے نیچے کوئی بڑا سر پرائز ان کا منتظر تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!