Haya Novel By Fakhra Waheed ep 13

Haya novel by Fakhra Waheed

رات آہستہ آہستہ گہری ہو رہی تھی۔مٹی کے اس بڑے صحن والے گھر میں پچھلی شام سے عجب گہما گہمی تھی۔ہر کوئی منفرد طور پر خود کو سجا رہا تھا۔اور اب آہستہ آہستہ لوگ کم ہوتے جا رہے تھے۔وہ باہر نہیں آرہے تھے اندر ہی کہیں غائب ہوتے جا رہے تھے۔مگر کہاں؟ باہر دروازے سے اندر کو مضبوط اجسام کے نقلی کھسرے کسی کا انتظار کر رہے تھے۔وہ الرٹ کھڑے تھے۔انتظار ختم ہوا۔بتیاں بجھ گئیں اور اندھیرے میں بہت سے قدموں کی آہٹیں سنائی دینے لگی۔
دور کھڑی پہلی گاڑی کا منظر اب بھی کم و بیشتر وہی تھا۔پیچھے سمایا، عنایا اور تراب۔آگے ڈرائیونگ سیٹ پر زویان اور ساتھ فکر مند سا بیٹھا علی۔ان کی نظریں سامنے اسکرین پر تھی۔اسی گاڑی سے کچھ فاصلے پر کھڑی دوسری گاڑی اب خالی تھی۔بتیاں بجھنے کا ہی تو انتظار تھا۔وہ بجھ چکی تھیں۔گاڑی میں بیٹھے لوگ اب نائٹ گوگلز پہنے اندھیرے میں ہوتی سر گرمی دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔فاصلہ زیادہ تھا،بس کچھ وجود ہلتے نظر آرہے تھے۔بھاری قدم اٹھاتا وہ اس بڑے صحن والے گھر کی طرف بڑھ رہا تھا۔دروازے کے پاس پہنچا تو کئی لوگوں کو اندر جاتے دیکھا۔وہ دروازے سے اندر قدم رکھتے اور سیکیورٹی کے نام پر کھڑے مضبوط اجسام کے مالک کھسروں کے کان میں کچھ کہتے اور آگے بڑھ جاتے۔
وہ ٹھٹھکا‘اندر جانے کے لیے کوئی کوڈ؟ اس نے دماغ پر زور دیا‘شیری نے تو ایسا کچھ نہیں بتایا تھا۔
”تجھے چٹھی لکھیں تب آئے گی؟“ سیکیورٹی والے مرد نما عورتوں میں سے ایک نے کہا تو وہ چونکا۔دل چاہا یہیں پکڑکر گاڑ دے مگر تھوک کے ساتھ غصہ بھی اندر نگلا۔پھر اس نے دونوں ہاتھوں کو موڑا اور تالی بجاتے اندر قدم رکھا۔
”ہائے ہائے‘چٹھی تو یوں کہہ رہی ہے‘جیسے تیری معشوق ہوں میں۔“ وہ مصنوعی نروٹھے سے کہتا ہواان کی جانب بڑھا۔ساتھ کھڑے دوسرے کھسرے مذاق اڑانے کے سے انداز میں ہنسے۔آواز علی اور دوسرے لوگوں تک پہنچی‘دھڑکتے دلوں کیساتھ وہ مسکرائے تھے۔واہ‘حمزہ کا نیا انداز۔
”اب باتیں گھڑتی رہے گی یا اندر بھی جائے گی؟“ پہلے والی نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ وہ آگے بڑھنے کے لییاپنی جگہ سے ہلا اور یہ روک دیا گیا۔لمبا مردانہ ہاتھ دیوار کی طرح سامنے حائل تھا۔”پہلے بزم تو سجا جا‘شعر سنا۔“ اس نے ایڑھیاں اٹھا کر کہا‘گویا ابھی گھوم دے گی۔
”اوہ شعر‘ ان کا کوڈ کوئی شعر ہے۔“اس نے انگوٹھے کا ناخن آنکھ کے اوپر رگڑا۔پریشانی اور ہر بڑی میں غلطی ہو گئی تھی۔اس نے کیسے نہیں سوچا کہ اتنا بڑا گینگ اتنی آسانی سے کسی کو بھی بھلا کیسے اپنے گھر گھسنے دے گا؟اس نے دماغ پر زور دیا۔شیری نے کیوں نہیں بتایا اس بارے میں؟ یا پھر شاید یہ کوڈ صرف باہر کے لوگوں کے لیے تھا‘گھر والوں کے لیے نہیں۔ حمزہ نے نتیجہ اخذ کیا۔
”اب دوبارہ چٹھی لکھوں؟“نیلے کرتے والی آدمی نما عورت اب اسے گھور رہی تھی۔اسکے جسم میں خون کی گردش بڑھ گئی‘دلکے دھڑکنے کی رفتار کئی گنا بڑھ تھی۔وہ پکڑا جانا افورڈ نہیں کر سکتا تھا‘اسے شیری اور شیروان تک پہنچنا تھا۔خوف سے اسکے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی تھی۔گاڑی میں بیٹھے لوگوں کی سانس اٹک گئی تھی۔خدایا‘کیاکھیل شروع ہونے سے پہلے ختم ہو گیا تھا؟علی مسلسل ہاتھ مسل رہا تھا اور باقی لوگ پھٹی ہوئی نگاہوں سے اسکرین کو تک رہے تھے۔
جب وہ کافی دیر چپ رہا توآس پاس کھڑے باقی لوگ بھیان کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔گاڑی میں بیٹھے علی نے سر اٹھا کر پیچھے دیکھا شاید کسی کو پتا ہو مگر وہاں خاموشی تھی۔شیروان ہوتا تو امید ہوتی کہ وہ شیری کا قریب ترین دوست تھا اور اس حویلی کا حال احوال وہ اسے ہی سناتا تھا۔
”چلو اب دروازے بند بھی کر دو‘دو بج گئے ہیں۔بی بی حاجن سب کو بلا رہی ہیں۔“ نیلے کرتے والے کے پیچھے ایک چہرہ نمودار ہوا اورسیکیورٹی والے زنانے پیچھے مڑے۔حمزہ کو سوچنے کا وقت مل گیا۔
”یا اللہ‘ اب کہ بچا لے۔“دھڑکتے دل سے خدا کو پکارا۔
”شعر نہیں سنا رہی یہ۔“نیلے کرتے والے نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔پیچھے بر آمدے میں کھڑے زنانے نے بغور اسے دیکھا۔
”آنے دے، بندہ بھول بھی جاتا ہے کبھی۔“وہ آگے آیا۔حمزہ کی نظروں سے نظریں ملی۔گاڑی میں لگی اسکرین پر چہرہ ابھرا اور سب اپنی نشستوں پر قریباً ڈھے گئے‘وہ بچ گیا۔لمبے تیل سے چپڑے بال،آنکھوں میں کالے ڈورے لیے یہ دانی تھا۔حمزہ کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے‘ مگرآنکھوں میں ڈھیروں الجھن در آئی۔دانی تو صحیح سلامت یہیں کھڑا تھا‘پھر وہ میسج کس نے بھیجا تھا؟ وہ الجھ گیااور گاڑی میں بھی یک دم سنسنی سی پھیلی تھی۔پہیلی تھی کہ سلجھ ہی نہیں رہی تھی۔
”لیکن….“ سیکیورٹی والے زنانے کچھ کہنا چاہتے تھے مگر دانی کے گھورنے پر خاموش ہو گئے۔
”چل تو میرے ساتھ آجا۔“ وہ خواجہ سرا کی طرح ہاتھ ہلاتا ہوا آگے بڑھا اور حمزہ کے کندھے پر ڈالا۔اس کے لیے اس کا آنا غنیمت تھا۔وہ چپ چاپ الجھا ہوا سا اس کے ساتھ چل دیا۔جب دونوں بر آمدہ عبور کر کے کمرے میں آ گئے تو حمزہ سیدھا ہوا۔کہنے کو منہ کھولا‘مگر دانی نے ہونٹوں پر انگلی رکھی اور اس کے کان میں سر گوشی کی۔
”کچھ مت بولنا‘یہاں ہر طرف مائیکرو فون ہیں۔“
”بھاڑ میں جائیں مائیکرو فون۔“ وہ دبا دبا سا غرایا۔
”شیری اور شیروان کہاں ہیں؟“ اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتا اندر کمرے سے کمو باہر آئی تھی۔
”باقیوں کو بلانے آئی‘ اور خودبھی ادھر رہ گئی تو‘ہاں؟“گلے میں پڑے دوپٹے کو انگلیوں میں گھماتے وہ خفا لگ رہی تھی۔
”ہاں ہاں آرہے ہیں۔“ دانی عجلت دکھاتا ہوا‘ حمزہ کو دیکھے بغیر کمو کے پیچھے بڑھا اور حمزہ جبڑے بھنچے ان کے ساتھ چل دیا۔شیری اور شیروان کے لیے اس کا تفکر اور بڑھ گیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”تمہاری تیاری کیسی جا رہی ہے؟“ سامنے اسکرین پر سفید شرٹ اور گرے ڈریس پینٹ میں وہ فارمل لگ رہے تھے۔وہ ہاسٹل کے کمرے میں بیڈ پر لیٹی ڈاکٹر ہارون کی دی گئی کتابوں میں سے ایک کتاب پڑھ رہی تھی۔جب ان کی وڈیو کال آئی۔
”اچھی جا رہی ہے، بس تھوڑی خوفزدہ ہوں۔“ وہ ہاتھ جھولی میں رکھے بیٹھی تھی۔ ڈاکٹر ہارون نے‘ جو اب انگلینڈ تھے‘ ہاتھ میں پکڑے کاغذ پرے رکھے اور سکون سے صوفے کی سے ٹیک لگاتے ہوئے اس کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہوئے۔
”بیٹا علاج کے لیے بیماری کا پتا ہونا ضروری ہے‘تو پہلے یہ بتائیں کہ کس چیز کا خوف ہے؟“ اس نے دوپٹے سے نکل کر چہرے پر آتے بال کان کے پیچھے اڑیسے اور پریشانی بتانا شروع کی۔
”کالج میں جب کوئی پریزنٹیشن ہوتی تھی‘ اور مجھے کلاس کے سامنے بولنا پڑتا تھا تو میری آواز کپکپانے لگ جاتی تھی‘ہاتھ کانپنے لگ جاتے تھے۔مجھے لگتا تھا میں گر جاؤں گی۔“ اس نے رک کر ڈاکٹر ہارون کو دیکھا‘جو بغور اسے ہی سن رہے تھ۔انہیں صرف بولنا نہیں سننا بھی آتا تھا۔بولنے کا پہلا اصول ہے کہ سنا جائے اور جو سن نہیں سکتے وہ کبھی بول بھی نہیں پاتے!
”اب مجھے ڈر ہے کہ میں بول پاؤں گی یا نہیں‘وہ تو پھر بھی میری کلاس فیلوز تھیں۔ یہ تو اجنبی اور وہ بھی اتنی لڑکیاں، اگر میری آواز کانپی‘ میری ٹانگیں کپکپانے لگیں‘تو وہ مجھ پر ہنسیں گے اور آپکا سارا سیشن بے کار چلا جائے گا۔“ انگلیوں کو آپس میں الجھاتے وہ اپنے خوف بتا رہی تھی۔
”اوہ۔“ ڈاکٹر ہارون نے سمجھنے کے سے انداز میں سر ہلایا اور ہلکا تبسم ہونٹوں پر پھیلا۔”تو مسئلہ یہ ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔“انکی مسکراہٹ گہری ہو گئی تھی‘اور وہ پریشان سی مسکرائی اور سر اثبات میں ہلایا۔اب وہ اپنا ہر مسئلہ آرام سے ڈاکٹر ہارون کے ساتھ شئیر کر لیتی تھی اسے پتا تھا یہاں سے جب وہ ہٹے گی تو ہلکا محسوس کر رہی ہو گی۔ابھی بھی اس نے صاف گوئی سے کام لیا تھا۔ڈاکٹر ہارون نے آئی پیڈ کو زرا سیدھا کیا اور سنجیدگی سے بولنے لگے۔
”بیٹا‘ ڈر فزیکل ہوتا ہے یا سائیکولوجیکل۔اب اگر آپ نے کچھ غلط بولا مثال کے طور پر تو کم از کم وہ آپ کو انڈے یا ٹماٹر نہیں ماریں گے‘تو فزیکل ڈر کو نکال دیں۔ رہی بات سائیکولوجیکل ڈر کی کہ لوگ ہنسیں گے‘میں بول نہیں سکوں گی وغیرہ۔ تو حیا‘ یہ ڈر پلیننگ سے نہیں جاتے‘نہ پریکٹس سے جاتے ہیں۔“ وہ رکے پھر کنپٹی پر انگلی رکھی۔
”سمجھنے سے جاتے ہیں۔“ انہوں نے دو بار کنپٹی پر انگلی سے دستک دی اور آگے بولے۔”یہ اسکو سمجھا لو‘ ہر خوف دور ہو جائے گا۔“ وہ نا سمجھی سے ان کو دیکھ رہی تھی۔
”مطلب اگر میں دماغ سے کہوں کہ یہ نہ ڈرے تو یہ نہیں ڈرے گا؟“ ساتھ ہی ڈاکٹر ہارون نے نفی میں گردن ہلائی۔
”بچپن سے ہمارا مائینڈ ڈفالٹ پر ہوتا ہے۔ڈفالٹ سمجھتی ہو؟ جس طرح موبائیل کی ڈفالٹ تھیم ہوتی ہے، ڈفالٹ رنگ ٹون ہوتی ہے یعنی بلٹ ان۔“
” پھر اسے اپنا من پسند بنانے کے لیے ہم اسے ڈفالٹ سے ہٹا کر باہر سے تھیمز اور ایپس انسٹال کرتے ہیں۔اسی طرح دماغ کی بھی ڈفالٹ سیٹنگ ہے۔کچھ چیزیں ہمارے اندر بھی بلٹ ان ہیں۔جیسے آپ ہر کام سیدھے ہاتھ سے کرتے ہیں، دماغ کی ڈفالٹ سیٹنگ ہے۔ الٹے سے کرنا چاہیں نہیں کر پائیں گے۔زیادہ تر لوگ اپنا والٹ دائیں جیب میں رکھتے ہیں،بائیں میں رکھیں گے تو ڈھونڈنے میں دقت ہو گی۔ڈفالٹ سیٹنگ۔کچھ لوگ رات کو لیٹ نہیں جاگ سکتے اور کچھ صبح جلدی نہیں اٹھ سکتے، ڈفالٹ سیٹنگ۔”
”اور پھر اس میں مختلف خوف آ جاتے ہیں‘جیسے کسی کو کھو دینے کا خوف‘ مر جانے کا خوف‘ڈوب جانے کا خوف‘بلندی کا خوف وغیرہ۔“ وہ تمہید باندھ چکے تھے۔
”اور دنیا کے دس بڑے خوفوں میں سے‘پتا ہے سب سے پہلے نمبر پر کون سا ڈر ہے؟“ اس نے نفی میں سر ہلایاتو وہ بولے۔
”فیئر آف پبلک سپیکنگ‘لوگوں کے سامنے بولنے کا ڈر۔کیوں کہ دماغ نے کبھی ایسی سچویشن نہیں دیکھی‘تو وہ اس کو خطرہ بنا کر دکھانے لگ جاتا ہے، ایسے ہارمونز سیکریٹ ہونا شروع ہو جاتے ہیں جس سے انزائٹی بڑھتی ہے۔ خون کی گردش بڑھ جاتی ہے، پسینہ آنے لگ جاتا ہے۔ دماغ کے لیے اتنے لوگوں کو دیکھنا اور ان کے سامنے بولنا غیر معمولی ہے۔چلو میں تمہیں ایک لڑکے کی کہانی سناتا ہوں۔“ وہ فرصت سے اسے سمجھا رہے تھے۔
”میں ساتویں کلاس میں تھا جب میرے ابا کا تبادلہ لاہور سے اسلام آباد ہوا۔نئے اسکول میں داخلہ لیا۔پہلے دن جب میں اسکول گیا تو ٹیچر کے آنے سے پہلے میں اپنی رف کاپی پر اسکیچ بنا رہا تھا۔ٹیچر آئی اور کہا….“ وہ جیسے خود کو وہیں تصور کرنے لگے تھے۔
درمیانے سے سائز کا کمرہ‘سامنے ٹیچر کا ڈیسک اور کرسی اور پھر ساتھ بیٹھے قریباً چالیس اسٹوڈنٹ۔
”ہارون‘سب کو اپنا انٹروڈکشن کرواؤ۔“ ٹیچر نے عینک کے پیچھے سے اسے دیکھ کر کہا۔اپنا نام سن کر لڑکا کاپی بند کرتا سستی سے کھڑا ہوا۔ایک نظر کلاس کو دیکھا اور نظریں جھکا لیں‘یوں لگا حلق میں کچھ اٹک گیا ہے۔آواز بند ہو گئی‘ماتھے پر پسینہ آنے لگا۔اسے اپنے آس پاس بچوں کے ہنسنے کی آوازیں آنے لگیں اور وہ رو دیا۔
اس اسکول کی کلاس سے نکل کر دوبارہ انہوں نے خود کو حیا کے سامنے پایا۔وہ دونوں ہاتھوں کو ملائے ان پر ٹھوڑی رکھے بغور سن رہی تھی۔
”وہ ڈر لے کر لڑکا بڑا ہوا۔وہ ڈر اس کی روح کا حصہ بن گیا۔میٹرک کیا‘کالج پہنچ گیا اور ڈر پلتا گیا۔دوسروں کو یوں اسٹیج پر کھڑے بولتا دیکھتا تو بہت ہرٹ ہوتا۔“
”گوگل پر اپنا خوف قابو کرنے کے ڈھیروں طریقے ڈھونڈے اور پھر اسے ایک فارمولہ مل گیا۔فارمولہ ٹو گیٹ اینی تھنگ ان دی ورلڈ۔“ انہوں نے ہاتھ اٹھا کر پانچ انگلیاں دکھائیں۔
”بیٹا پانچ سیکنڈ میں آپ دنیا کی کوئی بھی چیز حاصل کر سکتے ہیں‘اور پانچ سیکنڈ میں آپ اپنے دماغ کو ڈفالٹ سے ہٹا سکتے ہیں۔“
”صبح سویرے اٹھنا شکل لگتا ہے توالارم لگائیں اور جب الارم بجے تو لیٹے سوچتے مت رہیں کہ اٹھوں یا نہ اٹھوں‘پانچ سیکنڈ اگر گزر گئے تو آپ نہیں اٹھ سکتے۔“
”کلاس میں ٹیچر نے کوئی سوال پوچھا‘آپکو جواب معلوم ہے مگر اعتماد نہیں ہے‘سوچ رہے ہیں ہاتھ کھڑا کروں یا نہ کروں‘تو تب بھی پانچ سیکنڈ مگزرنے سے پہلے ہاتھ اٹھا دیں‘اگر نہیں اٹھایا تو بس سوچتے ہی رہ جائیں گے۔زندگی میں کچھ بھی کرنا ہو‘تو بس پانچ سیکنڈ میں اس کا آغاز کر دیں ورنہ کبھی نہیں کر سکیں گے۔“ پھر وہ توقف سے دوبارہ بولے۔
”حیا‘ہمیں ڈر چیزوں سے نہیں ان کے نتائج سے لگتا ہے۔جیسے کہ بچے پیپر میں اگر چیٹنگ کریں تو ڈر چیٹنگ کرنے کا نہیں بلکہ پکڑے جانے کا ہوتا ہے۔ تو زندگی میں جب کبھی کوئی پریشانی آئے‘یا کچھ بھی کرنا چاہو تو بس سوچ لینا کہ اس کا نتیجہ زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا؟ جب نتیجہ پتا چل جائے گا تو ڈر نہیں رہے گا۔“
”اسٹیج پر جا کر غلط بولو گی تو بتاؤ زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا؟“
”لوگ ہنسیں گے۔“ وہ آہستہ سے بولی۔
”تم بھی ہنس لینا‘جو خود پر ہنس لیتے ہیں ان کو دوسروں کا ہنسنا پھر برا نہیں لگتا۔“
”حیا‘ہمیں اپنی ہی زندگی میں لوگوں کا اپروول کیوں چاہئیے ہوتا ہے؟ وہ کہیں گے کہ تم اچھے لگ رہے ہو تو ہم مانیں گے ورنہ ایک نے کہہ دیا یہ کیا پہن آئی ہو اور یہ ہم ڈاؤٹ فل ہوئے۔“
”پتا نہیں ہمیں یہ اپروول کیوں چاہئے۔ورنہ تیار ہو کر شیشے میں دیکھو اگر اپنا آپ بھلا لگ رہا ہے تو یو شوڈ ہیو بلیو ان یور سیلف۔“ اس کے چہرے سے پریشانی چھٹ رہی تھی۔
”لوگ تو بولیں گے‘اپنی رائے دیں گے۔ دیکھو‘ ایک شہد کی مکھی ہے اور ایک گھریلو مکھی۔“
”گھریلو مکھی ساری صاف جگہیں چھوڑ کر گندگی پر ہی جا کر بیٹھتی ہے‘جبکہ شہد کی مکھی کو اگر کچرے کے ڈھیر میں چھوڑ دیا جائے تو وہ سارا کچرہ چھوڑ کر کسی کونے میں لگے زرا سے پھول پر ہی جا کر بیٹھے گی۔ ہم انسانوں میں بھی شہد کی مکھی اور گھریلو مکھی والی خصلت پائی جاتی ہے۔ جو گھریلو مکھی کی طرح جیتے ہیں‘ ان کو اگر دس لوگ کہہ دیں تم اچھے ہومگر ایک برا کہے تو وہ دس لوگوں کو چھوڑ کر اس کچرے پر ہی کان دھریں گے۔ جبکہ جو لوگ زندگی میں شہد کی مکھی والی اپروچ رکھتے ہیں ان کو اگر دس لوگ کہیں کہ تم برے ہو مگر ایک ان کو اچھا جانے گا‘ تو وہ سارا کچرہ چھوڑ کر صرف پازیٹوٹی کو ہی سنیں گے۔“
”بیٹا‘جہاں بہت لوگ کہیں گے تم اچھی اسپیکر نہیں ہو[وہیں کچھ سراہنے والے لوگ بھی ملیں گے۔ اب یہ تم پر ہے تم گھریلو مکھی کی طرح کچرے کی طرف اٹریکٹ ہوتی ہو یا شہد کی مکھی بن کر سارا کچرہ چھوڑ کر پھول پر جا بیٹھتی ہو۔“حیا بے اختیار مسکرائی۔
”اپنے سیشن کے موضوع پر اتنا پڑھ کر جاؤ کہ جب بولو تو خود بخود بولتی چلی جاؤ۔نالج کو اپنا یو ایس پی (یونیک سیلنگ پوائنٹ، جو آپکو یا آپکے پراڈکٹ کو لوگوں میں منفرد دکھائے) بنا لو۔“
”یو ایس پی۔“ وہ زیر لب بڑبڑائی۔
”اور ہاں آخری بات۔“ ٹانگ پر ٹانگجماتے ہوئے وہ مسکرائے۔
”زبان سے بولو گی‘ لوگ کانوں سے سنیں گے۔دل سے بولو گی‘لوگ دل سے سنیں گے۔“وہ چپ ہو گئے‘اورڈر کی مریضہ نے خود کو شفا یاب محسوس کیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ ایک بڑی سفید سی عمارت تھی جس پر سبز ہلالی پرچم لہرا رہا تھا۔عمارت کے بیچ میں تختی لگی تھی۔
”نفرت انسان سے نہیں، جرم سے ہے۔“ اور اس کے نیچے لکھا تھا۔”سنٹرل جیل‘ راولپنڈی۔“
یہ اڈیالہ جیل تھی۔اندر کو جاؤ تو آج اس بڑے میدان میں قیدی ادھر ادھر پھرتے نظر نہیں آ رہے تھے۔بلکہ اونچے ٹینٹ میں بچھائے قالینوں پر بیٹھے تھے۔ایک طرف مرد اور دوسری طرف خواتین تھیں جن کو پردے سے الگ کیا گیا تھا۔سامنے اسٹیج تھا۔جس پر انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے دو ٹرینر میز کے پیچھے بیٹھے نظر آرہے تھے اور ساتھ ڈی آئی جی اسلام آباد اور پولیس کے چند سینئیر افسر بیٹھے تھے۔
وہیں خواتین کے پورشن میں آگے حیا، جنت کے ساتھ موجود تھی۔بیچ پردے والی سرحد کے اطراف پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔دونوں ٹرینر اپنی بات کہہ چکے تھے اب وہ ڈاکٹر ہارون سے رابطہ کر رہے تھے جنہوں نے بطور خاص حکم دیا تھا کہ وہ قیددیوں سے چند ایک بات کرنا چاہتے ہیں۔یہ اسکائپ کال تھی، سامنے بڑی ایل ای ڈی اسکرین لگی تھی۔یکا یک اسکرین پر ڈاکٹر ہارون کی تصویر ابھری۔سب کو خاموش ہونے کا کہا اور کال کا والیم بڑھا دیا۔رسمی علیک سلیک کے بعد وہ گویا ہوئے۔
”مجھے بتایا گیا کہ یہاں وہ قیدی موجود ہیں جو کسی قسم کی چوری‘ ڈاکا‘نا حق قبضہ اور دیگر ایسے جرائم میں ملوث پائے گئے۔یا ہو سکتا ہے کوئی بے قصور بھی ہو۔“وہکہہ کر اداسی سے مسکرائے۔
”میرے بھائی‘میری بہن‘ اللہ نے ہر انسان کی قسمت میں رزق لکھ دیا ہے اور رزق انسان کو ایسے ڈھونڈتا ہے جیسے موت۔مگر شاید ہم صبر نہیں کرتے۔جو رزق ہم رشوت، چوری چکاری اور دیگر غلط کام کر کے حاصل کرتے ہیں‘ میرا یقین کریں وہ اللہ نے ہمارے لیے لکھا ہوتا ہے۔مگر ہم حلال کا انتظار نہیں کرتے اور جلد از جلد حاصل کرنے کی تمنا میں حرام کھانے لگ جاتے ہیں۔“ وہاں بیٹھے قیدیوں میں بے زاری تھی۔اے سی اور کشادہ کمروں میں بیٹھ کر بڑی بڑی باتیں کرنے والوں کو کیا پتا پیٹ کا جہنم کیا ہوتا ہے‘بچوں کو بھوکا دیکھنا کیا ہوتا ہے۔سب اکتائے ہوئے تھے۔
”حضرت علی کرم اللہ وجہہ اونٹ کی مہار لیے کہیں جا رہے تھے۔راستے میں حاجت ہوئی تو وہاں ایک بدو کو مہار پکڑائی کہ میں آتا ہوں۔جب وہ واپس آئے تو اونٹ وہیں تھا مگر مہار نہیں تھی۔اور بدو بھی غائب تھا۔وہ اونٹ کو ہانکتے بازار تک لائے, مہار خریدنا چاہی اور اپنی ہی اونٹ کی کھوئی مہار مل گئی۔بیچنے والے سے پوچھا کہاں سے ملی تو کہنے لگا ایک عربی بدو آیا تھا۔دو درہم کی بیچ گیا ہے۔حضرے علی نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا واہ میرے اللہ‘میں اسے حلال کے دو درہم دینا چاہتا تھا مگر اس نے حرام کے دو درہم چنے۔“ وہ خاموش ہوئے۔اور قیدیوں کی آنکھوں میں عجیب سی بے چینی نظر آئی۔
”تم اللہ پر توکل کر کے تو دیکھو‘وہ تمہیں نہ نوازے تو کہنا۔جیل میں ہو یہ مت سمجھنا کہ زندگی رک گئی ہے۔زندگی کو آپ نے دھکیلنا ہے۔جب تک جیل میں ہو کچھ سیکھ لو‘ہاتھ میں کوئی ہنر لے آؤ۔قرآن کو ترجمے سے پڑھ لو۔اللہ سے توبہ کرو اور جن سے شکوے ہیں ان کو معاف کر دو۔کہ اگر تم چاہتے ہو اللہ تم پر رحم کرے تو تم زمین والوں پر رحم کرو۔“ قیدیوں نے اپنے دلوں میں پشیمانی دیکھی۔
”میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں بہت سے لوگ یہاں ایسے ہیں اگر وہ صرف بروقت اپنے غصے پر قابو پا لیتے تو وہ آج یہاں نہیں ہوتے۔ اگر تمہیں خود پر ہی کنٹرول نہیں ہے تو تم اور کیا اکھاڑ لو گے؟“ سامنے بیٹھے کئی نوجوانوں کو لگا یہ ان کی ہی بات کر رہے ہیں۔
”اور پولیس اہلکاروں سے کہوں گا‘قیدیوں کے حقوق پورے کرو۔“وہ مسکرائے‘ پھر بولے۔”نفرت انسان سے نہیں جرم سے کرو۔“ سامنے لگی اسکرین بجھ گئی تھی۔
ہاں [ کچھ تھا جو یہاں بیٹھے لوگوں کے دلوں کو چھوا تھا۔اللہ پر توکل اور رزق تمہیں خود ڈھونڈ لے گا۔
قیدی قطار بنائے اپنی اپنی جیلوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔نارنجی قمیص‘ ٹراؤزر‘ سر پر دوپٹہ اور آنکھوں پر سیاہ چشمہ لگائے‘ وہ جنت کے ساتھ اپنی جگہ سے کھڑی ہو رہی تھی جب ایک درمیانے سے عمر کی عورت اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
”تم تو وہی ہو نا‘جو لاہور جیل میں تھی؟“چھوٹتے ہی اس نے کہا تو حیا گڑ بڑائی۔جنت کو دیکھا جو حیرت سے ان کو دیکھ رہی تھی۔ٹرینر بھی اتر کر اسی طرف آرہے تھے۔اس سے پہلے کہ حیا کوئی رد عمل دیتی وہ دوبارہ بولی۔
”اور اب یہاں ان کے ساتھ۔“اس نے اسٹیج کی طرف اشارہ کیا۔”قیدیوں کو سبق دینے آئی ہو‘ واہ۔“ اس نے ہاتھ ہوا میں اٹھایا۔
”ویسے یہ ٹی وی والا بندہ صحیح کہہ رہا تھا۔جیل میں ہمیں بھی کچھ سیکھنا چاہئیے‘تمہاری طرح۔“ وہ اپنے دھیان کہے جا رہی تھی اور ادھر حیا کو اپنے پیروں کے نیچے سے زمین سرکتی محسوس ہو رہی تھی۔اب وہ دونوں ٹرینر بھی وہیں کھڑے تھے۔حیا کا خون سمٹ کر چہرے میں آگیا تھا۔
”یہ کس بارے میں بات کر رہی ہے حیا؟“دونوں ٹرینرز میں سے ایک نے پوچھا تو حیا تلملا کر رہ گئی۔اس نے جواب دیے بغیر پرس کی لمبی اسٹریپ کو مضبوطی سے تھاما اور گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔جنت اس کے پیچھے تیز تیز چلتی گئی۔اس نے حیا کوآواز دی مگر وہ کچھ نہیں بولی‘تو جنت چیزوں کو سمیٹنے واپس چلی گئی۔حیا نے گاڑی میں بیٹھ کر پرس پرے پھینک کر مارا۔
”نفرت ہے مجھے تم سے‘شدیدنفرت ہے۔“ آنسوؤں کو اپنے ہاتھوں کی پشت سے پونچھتے وہ ہانپ رہی تھی۔
”پہلے کم تھا‘جو جیل کا دھبہ بھی تم نے میری زندگی پر لگا دیا۔“ اس نے دونوں ہاتھ منہ پر رکھے ہوئے تھے‘اور ؎ اس کا دماغ ماضی سے حال اور حال سے ماضی کے چکر کاٹ رہا تھا۔
”تم جیسوں کو تو موت بھی جلدی نہیں آتی۔“ ہتک اور بے عزتی کے احساس تلے‘ اسکے منہ سے کیا نکل رہا تھا‘ وہ خودبھی نہیں جانتی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ نہایت کشادہ ہال تھا۔ بڑے بڑے ستون جو کسی محل کی مشابہت دے رہے تھے۔دیواروں پر نیلے جالی دار پردے، جن کو دیکھتے ہی ان کی قیمت کا اندازہ ہو رہا تھا۔ان پردوں کے پیچھے چھوٹی ایل ای ڈی لائٹس جگمگا رہی تھیں۔نظر آگے بڑھاؤ تو زمین سے پانچ،چھ انچ اونچی جگہ تھی، یہ اسٹیج تھا۔اس پر قد آور کرسیاں اور کرسیوں پر برا جمان شاہی کپڑوں سے کہ ملبوسات زیب تن کیے مرد نما عورتیں۔سامنے ترتیب سے لگی آخری دیوار تک کرسیاں۔اسی طرح آس پاس ایسے اور بہت سے زنانے کام کرتے ادھر ادھر پھر رہے تھے۔ہر طرف عید کا سا سماں تھا، عجب افرا تفری تھی۔کسی نے کب سوچا تھا اس مٹی کہ کچے گھر کے نیچے ایک جہان آباد ہے اور وہ بھی اس قدر آنکھوں کو محصور کرنے والا۔
وہ آخری سیڑھی پر کھڑا آنکھیں پھاڑے یہ دنیا دیکھ رہا تھا۔بیسمنٹ اس کے گھر بھی تھا پر یہ تو انڈر گراؤنڈ محل تھا۔ وہ دانی سے بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا مگر وہ مسلسل اسے نظر انداز کر رہا تھا۔ابھی بھی اس سے پہلے کہ وہ کچھ پوچھتا وہ بہانہ بنا کر وہاں سے غائب ہو گیا۔سب کچھ مشکوک مشکوک سا تھا۔اتنے لوگوں میں شیری اور شیروان کو کہاں ڈھونڈے؟سر جھٹکتا وہ آگے بڑھا۔نظریں آس پاس جاتی دوسری مرد نما عورتوں پر تھی۔ابھی تلاش جاری ہی تھی کہ ہال کے دوسرے کونے سے آواز بلند ہوئی۔
”سب لوگ اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ جائیں۔“ فز اور پھر ہڑ بڑی مچ گئی۔لوگ کرسیوں کی طرف بڑھے اور کچھ ہلکی نیلی ساڑھیوں کے ایک ہی جیسے ڈریس میں ملبوس زنانے آگے بڑھ کر سب کو نشستوں کی راہ دکھانے لگے۔شاید وہ یہاں کی سیکیورٹی تھی۔وہ سست قدم اٹھاتا یہ تماشہ دیکھ رہا تھا جب کوئی اس سے ٹکرایا۔
”آؤچ۔“ٹکرانے والی نے ادا سے کہا‘اور وہاں سے غائب ہو گئی۔دھکا زور کا تھا‘حمزہ کو لگا کچھ گرا ہے۔اور ادھر گاڑی میں لگی اسکرین پر اندھیرا چھا گیا۔
”سب لوگ بیٹھ جائیں۔“ دوبارہ اعلان ہوا اور سیکیورٹی میں سے کسی نے اس کو بیٹھ نے جا نے کا اشارہ کیا۔اسے نہیں بیٹھنا تھا‘مگر اس کی کون سن رہا تھا۔وہ بھنویں سکیڑے جا کر ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔یہ آگے سے گیارہویں قطار تھی جس کی باہر والی نشست پر وہ بیٹھا تھا‘اس کی نظریں مسلسل ارد گرد لوگوں میں شیری کو ڈھونڈ رہی تھیں۔
”ویسے تو آج ایک اہم تقریب ہے مگر ر ر۔“کہتے ہوئے بی بی حاجن رکی‘حمزہ نے سر اٹھا کراسٹیج کیطرف دیکھا۔
”آج کی…تقریب….ملتوی…. کر دی گئی ہے۔“ وہ رک رک کر بولی۔
”تقریب رک گئی؟“ ہال میں ہلچل مچ گئی تھی۔ ”پتا نہیں کیوں رک گئی‘میں تو اتنے دنوں سے تیاریاں کر رہی ہوں۔کیا لڑکیاں بھاگ گئیں جن کی بولی لگنی تھی‘ کیا کوئی فوت ہو گیا ہے؟“ چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیں۔اتنے دن جس تقریب کی تیاری ہو رہی تھی۔وہ عین موقع پر ملتوی؟ یہ نارمل نہیں تھا۔یہ تقریب پچھلے کئی سالوں سے ہوتی آئی تھی اور آندھی آئے یا طوفان اسے ہر قیمت ہونا تھا۔وہ ان سب چہ میگوئیوں سے بے نیاز ادھر ادھر کسی کو ڈھونڈ رہا تھااور تب اسکی نظریں سیکیورٹی عملے کے لباس میں ملبوس ایک خواجہ سرا پر پڑی۔وہ ساتھ کھڑے دوسرے زنانے سے کچھ کہہ کر تالی مار رہا تھا۔سیکنڈ کے دسویں حصے میں اس نے ان چہروں کو پہچان لیا تھا۔شیری اور شیروان اف‘ اس نے آنکھیں سکون سے بند کی۔سر نشست کی پشت پرگرا دیا۔
”سب خاموش ہو جائیں‘خاموش ہو جائیں۔“ بی بی حاجن نے ہاتھ اٹھا کر کہا‘ادھر اس نے آنکھیں کھولیں۔اب اسے ان سے بات کرنا تھی مگر کیسے؟ وہ بہت دور تھے۔اور وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر نہیں جا سکتا تھا۔
”یہاں جمع ہونے کی وجہ تقریب نہیں تھی،یہ محض بہانہ تھا۔“سسپنس بڑھتا جا رہا تھا۔
”یہاں اندر‘ میرے کمرے میں رکھی سیف سے فلیش غائب ہو ئی ہے۔“ آواز میں کوئی فکر مندی نہیں تھی۔حمزہ کا دماغ بھک سے اڑا’یہ اور کون کر سکتا تھا۔ایک نظر ان دونوں پر ماری اور وہاں ہنستے ہوئے ان کی بتیسی گم ہوئی تھی۔ان کو لگا سب ان کو ہی دیکھ رہے ہیں۔حمزہ نے بڑھ کر کان پر ہاتھ رکھا کہ کچھ کہہ سکے مگر وہاں مائیکروفون نہیں تھا۔تھوڑی دیر پہلے خود سے ٹکرایا خواجہ سرا یاد آیا،ہاتھ فوراً سینے پر گیا۔نہیں‘کیمرہ بھی وہاں نہیں تھا۔یہ اتفاق نہیں ہو سکتا تھا’جاسوسی دماغ نے کسی سازش کی بھنک دی۔اور اسکے ماتھے پر پسینے کے چند قطرے ابھرے۔
”چور کتنا بھی ہوشیار ہو وہ سراغ چھوڑ ہی جاتا ہے۔“ اس نے لہراتے ہوئے کہا‘ تو چوروں کا منہ دیکھنے والا تھا۔انکی سانسیں بے ترتیب ہو گئی تھیں۔نظریں ارد گرد گھمائی وہ تعداد میں بہت زیادہ تھے۔ان کے اعصاب شل ہونے لگے۔
”میں پانچ تک گنوں گا‘ بہتر یہ ہی کہ وہ خود سامنے آکر فلیش ہمارے حوالے کر دیں۔ورنہ ہمیں اپنی چیز واپس لینے کے اور بھی طریقے آتے ہیں۔“اب کہ آواز بھاری اور گھمبیر ہو گئی۔نقلی کھسرے نے اصلیت دکھا دی تھی۔باقی کھسروں میں کھلبلی سی مچ گئی ہر کوئی دوسرے کو شکی نظروں سے دیکھنے لگے۔حمزہ نے سختی سے آنکھیں بھنچے۔ایسا اس نے نہیں سوچا تھا۔
”پانچ۔“ چوروں کے دل بے ترتیب سے دھڑکے۔
”چار۔“ انہوں نے کن اکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
”تین۔“ ہو سکتا ہے یہ بس ان کو نکالنے کے لیے ٹریپ ہو۔
”دو۔“ وہ اپنی جگہ پیر جمائے کھڑے رہے۔
”ایک۔“ اور بھک سے سب بتیاں بجھ گئی۔اندھیرے میں شور بڑھ گیا‘اس وقت ا سنے شدت سے چاہا کہ اس کے پاس گن ہوتی۔ہوتی بھی تو وہ کس کس کو مارتا؟ چند منٹ گزرے اور بتیاں روشن ہو گئیں‘شور قدرے کم ہوا۔ہر طرف سیکیورٹی کے ملبوسات والے زنانے کھڑے تھے۔ بی بی حاجن نے اپنا ہاتھ ہوا میں اٹھایا‘اس کے ہاتھ میں فون تھا‘اور پھر ایک کلک پر فون سے مردانہ آواز ابھری۔
”اب توتمہیں ماننا پڑے گا حمزہ فیاض بیگ‘اپنے بھائی کو یہاں بھیج کر تم نے غلطی نہیں کی تھی۔“ مردانہ آوازہال میں گونجی اس آواز کو وہ پلک جھپکنے سے پہلے پہچان سکتا تھا۔فون کے اسپیکر سے پھر کسی سائرن کی آوازسنائی دی۔اور دوبارہ کوئی بولا۔”شیری نکل جلدی کر نکل یہاں سے۔“ یہ شیروان کی آواز تھی۔ چوروں نے اپنی آواز سنی اوران کے کندھے پکڑے جانے کی خوف سے ڈھلک گئے۔حمزہ کے تنے اعصاب اور تن گئے۔
”اب شیری خود نکل کر وہ فلیش ہمیں دے گا‘یا ہم حمزہ کو نکالیں؟“ بی بی حاجن نے انتہائی خباثت سے دانت نکالے۔اوہ خدایا‘وہ جانتے ہیں میں یہاں ہوں۔اس کے دماغ میں دھماکے ہونے لگے۔شیری کے اعصاب شل ہو رہے تھے۔اگر وہ جانتے شیری کون ہے‘ تو تین دن انتظار نہ کرتے۔انہوں نے نہایت نفاست سے یہ جال بنا تھا۔
”نہیں‘شیری وہ نہیں جانتے شیری کون ہے۔نارمل ہو جا‘ نارمل ہو جا۔“ وہ حمزہ کی وہاں موجودگی سے انجان خود کو تسلی دینے لگا۔ جبکہ حمزہ اس جال کو اپنے گرد پھیلتا محسوس ہو رہا تھا۔جب چند منٹ کوئی فلیش لے کر آگے نہیں بڑھا تو اسٹیج پر کھڑی بی بی حاجن نے اپنے دائیں طرف کھڑے زنانے کو اشارہ کیا اور وہ قدم قدم بڑھتا حمزہ کی طرف آیا اور حمزہ کو لگا اس کے گرد سب اندھیر ہو گیا ہے۔نہیں‘گھر کا بھیدی لنکا نہیں ڈھا سکتا تھا۔
اس کے سامنے دانی کھڑا تھا‘اس نے حمزہ کا بازو تھاما اور اسے ہجوم سے الگ کر دیا۔کرسیوں کے ایک طرف خالی جگہ پر اسے کھڑا کرکے وہ دوبارہ اپنی جگہ پر جاکر کھڑا ہو گیا تھا۔حمزہ سے نظریں اس نے اب بھی نہیں ملائی تھیں۔اسے دیکھتے ہوئے حمزہ نے سختی سے مٹھیاں بھینچیں۔ہال دم سادھے یہ تماشہ دیکھ رہا تھا۔شیری اور شیروان اپنے بچ جانے کی دعائیں مانگ رہے تھے‘مگر کھیل ختم ہو چکا تھا۔حمزہ نے سر سے وگ اتاری،اپنی قمیص کے پلو سے لپ اسٹک صاف کی اور چہرے کو قمیص سے رگڑتا سیدھا ہوا۔شیری کو لگا اس کے پیر بھاری ہو گئے ہیں‘زمین الٹ گئی ہے۔محل کی دیواریں گھومنے لگی تھیں۔شیروان بھی بے یقینی سی کی کیفیت میں سامنے کھڑے حمزہ کو دیکھ رہا تھا۔
” اگر پتا چل ہی گیا ہے تو اور کیا چھپانا۔“ اس نے وگ ایک طرف اچھالی‘اسٹیج پر قہقہہ ابھرا۔
”ہم نے ہی بلایا تھا۔“ حمزہ نے ایک کاٹ دار نگاہ دانی پر ڈالی اور اس کا سر جھک گیا۔
”کیا اب بھی شیری فلیش ہمیں نہیں دے گا؟“ بظاہر آرام سے کہا گیا۔
”شیری اپنی جگہ سے ہلے گا بھی نہیں۔“ حمزہ شیری کی طرف دیکھے بغیر چلایا‘اور شیری کا خون خشک ہو گیا تھا۔گلے میں گلٹی ابھری اور اسے اندر اتارنا مشکل ہو گیا۔شیروان نے نظریں زمین پر گاڑ دیں کہ یہاں کسی نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور یہ وہ پکڑے گئے۔
”شیری بھائی کی موت کا غم بڑا درد ناک ہوتا ہے۔“ پھرآواز گونجی‘شیری کا دماغ سنسنانے لگاتھا۔”بھائی کی موت۔“ وہ بڑبڑایا۔اب حمزہ کے گرد سیکیورٹی والے دائرہ بنا رہے تھے۔دائیں طرف کرسیوں پر بیٹھے لوگ سانس روکے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
”شیری مجھے کچھ نہیں ہو گا۔فلیش کو سنبھال کر رکھنا‘یہ ہماری چھ ماہ کی محنت کا صلہ ہے۔“ وہ سیکیورٹی کے بیچ گھرا چلایا۔شیری کے کانوں میں تو کچھ نہیں جا رہا تھا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔وہ آگے بڑھنے لگا اور شیروان نے اس کا ہاتھ مضبوطی سیتھام کرنفی میں گرد ہلائی۔
”ٹھیک ہے دانی تو جانتا ہی ہے۔“ اسٹیج سے آواز آئی۔ حمزہ نے قہر آلود نگاہ دانی پر ڈالی مگر دانی نے سر نہیں اٹھایا۔
”اگر میرے بھائی کو کچھ ہوا تو اسی بیسمنٹ میں….اسی بیسمنٹ میں تم لوگوں کی لاشوں کے ڈھیر لگا دوں گا میں۔“ وہ غصے‘ بے بسی اور ہیجان کی سی کیفیت میں انگلی اٹھاکر ان کو دھمکی دے رہا تھا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے‘کان کی لوؤیں تپ رہی تھیں۔اس کا بھائی اس کے سامنے آج مارا جانے والا تھا‘وہ اپنا قابو کھو رہا تھا۔
دوبارہ قہقہ ابھرا‘باقی کے لوگ اب صورتحال کافی حد تک سمجھ چکے تھے۔وہ بھی اس کی بے بسی اور تنی گردن پر ہنس دیے۔رسی جل گئی مگر بل نہیں گیا۔
”اچھا چلو وقت ضائع نہیں کرتے‘شیری تم اب مت باہر آنا۔“ بی بی حاجن نروٹھے سے کہتی ہوئی پلٹی‘ہاتھ اٹھا کر کسی کو اشارہ کیا۔ ہال میں گولی چلنے کی ہولناک آواز گونجی‘کئی ہاتھ کانوں پر گئے۔اس کا کندھا پیچھے کو جھٹکا کھا کر سن ہو گیا۔شیری کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی‘مگر وہ اپنی جگہ کھڑا رہا۔ پھر اسٹیج سے آواز ابھری۔
”شیری‘فلیش لے کر باہر آؤ۔“اسے کچھ سنائی نہیں دیا‘ وہ توسن کھڑا حمزہ کے کندھے سے رستے خون کو دیکھ رہا تھا۔ حمزہ نے سر آسمان کی طرف اٹھایا اور درد کی شدت سے آنکھیں بند کر لیں۔ اسٹیج سے پھر ہاتھ بلند ہوا‘ایک اور گولی حمزہ کے جسم کے پار ہوئی، وہ توازن کھونے لگا۔اب تو ہال کی خاموشی بھی ہولناک ہو گئی تھی اور پھر اس خاموشی کو شیری کی چیخ نے توڑاتھا۔
”بھائی‘ حمزہ بھائی۔“ اس نے دیوانہ وار حمزہ کی طرف دوڑ لگا دی۔ہال میں موجود لوگوں کی گردنیں کورس کی صورت میں بھاگتے ہوئے شیری کے ساتھ ساتھ ہلی تھیں۔باہر رات کے سناٹے میں یکے بعد دیگرے دو گولیاں چلنے کی آواز سنائی دی۔گاڑی میں بیٹھے لوگوں کا دل حلق تک اچھلا آیا تھا۔وہ کب سے حمزہ سے رابطے کی کوشش کر رہے تھے۔شاید سب کھل گیا تھا انہوں نے اندازہ لگایا۔علی نے تھانے فون کر کے نفری کے لیے پیغام دیا۔اورسب گاڑی سے اتر کر مخصوص فاصلہ بنائے دبے قدموں بڑے صحن والے گھر کی طرف بڑھنے لگے۔ادھر شیروان نے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا۔
”حمزہ بھائی….حمزہ بھائی…“ شیری نے اسے تھامنا چاہا۔مگر سیکیورٹی والے زنانے نے شیری کو اپنے حصار میں لیا اور اسے حمزہ سے دور کر دیا‘وہ حمزہ کی طرف ہاتھ بڑھا کر چیختا چلاتا رہا۔ دوسری گولی اس کے بائیں کندھے پر لگی تھی‘درد کی شدت سے اسکی آنکھوں کے کونوں سے آنسو پھسل کے اس کا چہرہ بھگو نے لگے۔شیری نے دانی کی طرف دیکھاتو وہ دونوں ہاتھوں سے گن تھامے کھڑا تھا۔
حمزہ نے اٹھنا چاہا‘مگر دوبارہ زمین پر ڈھے گیا۔سیکیورٹی والے زنانے شیری کی جیبیں تلاش رہے تھے‘ وہاں کوئی فلیش نہیں تھی۔ سیکیورٹی کے ہیڈ نے ہاتھ ہوا میں اٹھا کر دائیں بائیں ہلایا۔ جو پیغام تھا کہ فلیش نہیں ملی۔بی بی حاجن کے چہرے پر ناگواری ابھری‘اس نے پھر دانی کو اشارہ کیا۔ہال میں پھر آواز گونجی، ایک اور گولی حمزہ کے جسم کے پار ہوئی تھی اوراب کہ وہ پیچھے فرش پر جا گرا۔سیکیورٹی والوں کے حصار میں شیری حلق پھاڑ کر چلایا تھا۔ آنسو حمزہ کی آنکھوں کے کونوں سے فرش پر گرنے لگے تھے۔ اس کی بند ہوتی آنکھیں شیری کو دیکھ رہی تھیں۔اسکی آنکھیں بھاری ہونے لگیں‘شیری کو لگا حمزہ سے پہلے وہ خود اپنے حواس کھو دے گا۔
”فلیش دے دو لڑکے‘ورنہ یہ ساری گولیاں تیرے بھائی کے اندر اتار دی جائیں گی۔“ بی بی حاجن مردانہ آواز میں غرائی۔شیروان نے تھوک نگلا۔شیری کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا‘شیری کو دیکھتے ہی اس کی آنکھیں بجھنے لگیں۔اور پھرسب دھند لا گیا۔زندگی اندھیر!
جسم ساکت‘سانس ساکن۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہجوم…….شور…..قہقے……گولیاں……خون اور شیری پر جھپٹتے ہاتھ۔
اس کا دماغ ایک ہی دائرے میں گھوم رہا تھا۔شیری کے نام پر دل میں سخت ٹیس اٹھتی اور وہ دوبارہ ہجوم،شور اور گولیوں سے ہوتا شیری تک پہنچ جاتا۔آپریشن تھیٹر میں دو ڈاکٹر اس پر جھکے کھڑے تھے۔ایک لمحے کو اسے ہوش آیا،آنکھیں جھپکی۔چند ہیولے اسے اپنے اوپر جھکے دکھائی دیے۔” شیری۔“ وہ بڑبڑایا۔آواز اتنی مدھم تھی کہ اس کے اپنے کانوں تک نہیں پہنچی۔اور وہ دوبارہ اپنے جسم میں جاتے اوزاروں،سوئیوں سے بے خبر ہو گیا۔
پھر وہی شور…..گولیاں اور شیری پر جھپٹتے ہاتھ!
تھیٹر سے باہر آؤ تو ذرا فاصلے پر ایک لڑکی سبز دھاریوں والی سفید قمیص،ٹراؤزر اور سر پر سفید شفون کا دوپٹہ ٹکائے،دیوار سے ٹیک لگائے کھڑی نظر آتی۔وہ ابھی پندرہ منٹ پہلے یہاں آئی تھی۔وہ سو رہی تھی جب ڈاکٹر ہارون کی کال آئی۔
”حیا‘میرے بیٹے کو گولیاں لگی ہیں۔یہاں ایک چرچ میں کل صبح بلاسٹ ہوا تھا جس کی وجہ سے تمام فلائٹس ملتوی کر دی گئی ہیں۔پلیز اس کا خیال رکھنا۔جیسے ہی فلائٹس بحال ہوتی ہیں ہم آجائیں گے۔“ وہ بمشکل ضبط کیے ہوئے تھے۔
”آپکا بیٹا؟“ وہ تو بس انیقہ کو ہی جانتی تھی۔”ہاں‘ حمزہ کو گولیاں لگی ہیں۔“ وہ بے بسی سے بولے۔اس ایک ماہ کے عرصے میں وہ پہلی بار حیا سے حمزہ کے بارے میں بات کر رہے تھے۔تبھی فون پر نسوانی آواز ابھری۔
”حیا‘میرے بچے کے پاس چلی جاؤ‘ وہ اکیلا ہے۔اسے کہنا اسکی ماسی جلدی اس کے پاس آجائے گی۔میری طرف سے اسے بہت پیار کرنا‘اس کا بہت خیال رکھنا۔وہ بہت لاپرواہ ہے۔“ ردابہ ہچکیاں لیتے ہوئے رو رہی تھی۔حیا نے سختی سے آنکھیں بھینچیں۔حمزہ کے نام سے اسے کیا کچھ یاد نہیں آگیا تھا۔وہ گھر،نکاح،تصویریں،چیخنا چلانا اور حمزہ کا اس پر ہاتھ اٹھانا۔اس نے جھرجھری لی۔”جی مسز ہارون‘آئی ول ٹیک آ گڈ کئیر آف ہم۔“ اس نے تسلی دیتیہوئے فون بند کر دیا تھا۔
اور اب وہ ہسپتال میں آپریشن تھیٹر کے باہر کھڑی،دیوار سے ٹیک لگائے فرش کو گھورے جا رہی تھی۔آئی تو وہ دل میں بہت کچھ لے کر تھی مگر ہسپتال کی وحشت سے اس کا دل مرجھا گیا تھا۔نرس ایک دو بار باہر آئی،اس نے امید سے اسے دیکھا۔شاید وہ کوئی خبر دے مگر نرس اسے نظر انداز کرتی آگے بڑھ جاتی۔اسے آپریشن تھیٹر میں پڑے لڑکے سے زیادہ اپنے گلٹی ہو جانے کی فکر تھی۔اگر حمزہ کو کچھ ہو گیا تو؟ وہ ساری عمر خود کو معاف نہیں کر سکے گی۔ ہائے یہ پچھتاوے!
”حیا‘ حمزہ بالکل ٹھیک ہو جائے گا۔“ جنت اس کے پاس کھڑی کہہ رہی تھی۔وہ کچھ نہیں بولی۔اسکینگاہیں بدستور فرش پر جمی تھیں۔
آپریشن تھیٹر کی سرخ بتی بجھی اور دروازے سے ڈاکٹر باہر نکلتے نظر آئے۔
”مسز حمزہ؟“ وہ ان دونوں کے پاس رکے تو حیا سیدھی ہو کر کھڑی ہوئی‘وہ خالی نظروں سے ان کو باری باری دیکھ رہی تھی۔
”حمزہ کو تین گولیاں لگی تھیں‘جو الحمدللہ ہم نے نکال لی ہیں۔“ اسکے دل نے ٹھنڈی آہ بھری۔”شکر۔“
”لیکن۔“ ڈاکٹر نے باری باری ان دونوں کو دیکھا اور حیا کا ابھرتا دل دوبارہ ڈوبنے لگا۔مطلب مجھے ہی گلٹی ہونا ہے؟
”گولیاں لگنے کے بعد گرنے کے باعث جو ہیڈ انجری ان کو آئی ہے اس سے ان کے برین میں سویلنگ ہو گئی ہے‘س سے برین اسٹیم پر پریشر بڑھ رہا ہے۔اگر ان کو اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں ہوش نہیں آیا‘تو وہ کوما میں چلے جائیں گے۔“ جنت نے حیا کا بازو مضبوطی سے پکڑا گویا حوصلہ دے رہی ہو۔”اور کوما سے باہر آنے پر ہو سکتا ہے ان کو چیزیں دوبارہ سیکھنی پڑیں۔ان کو بولنے میں‘چلنے میں‘چیزوں کو یاد رکھنے میں مشکل در پیش آسکتی ہے۔ایک طرح کا میموری لاس۔“ڈاکٹر نے ذرا توقف کے بعد دوبارہ لب کھولے۔ ”یا پھر وہ اپنا ذہنی توازن کھو دیں۔“ ڈاکٹر نے آخری خدشہ ظاہر کیا۔حیا کو لگا کسی نے اس کا دل مٹھی میں بھینچ کر چھوڑا ہے۔کیسے اپنی بد دعائیں واپس لے وہ!
”لیکن آپ دعا کریں‘ اللہ شفا دے گا آپ کے ہسبنڈ کو۔“ ڈاکٹر کہہ کر چلا گیا اور حیا کو لگا کوریڈور میں کھڑا ہر شخص اسے ملامتی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔اسی ہی کی تو بد دعائیں ہیں یہ!
وہ کتنے ہی لمحے وہاں بت بنے کھڑی رہی۔اس کے سامنے حمزہ کو او ٹی سے آئی سی یو میں شفٹ کیا گیا۔وہ نالیوں سے جکڑا جسم اس نے ایک بار بھی نہیں دیکھا تھا۔وہ خود کو گلٹی ہونے کی اذیت نہیں دینا چاہتی تھی۔یہ پچھتاوے ہی تو ہیں جو انسان کو زہر کی طرح کھا جاتے ہیں۔وہ بھی اس پچھتاوے سے بھاگنا چاہتی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!