Haya Novel By Fakhra Waheed ep 14

Haya novel by Fakhra Waheed

رات اترنے لگی تو فریحہ ہاسپٹل آئی،اس کی یہاں حمزہ کے ساتھ ڈیوٹی تھی،اس نے حیا اور جنت کو ڈرائیور کے ساتھ گھر بھجوا دیا تھا،ہاں حمزہ کے گھر۔جس کے ساتھ حیا کی کئی تلخ یادیں جڑی تھیں۔وہ تھکے سے قدم اٹھاتی اوپر حمزہ کے کمرے کی طرف بڑھی۔دروازہ کھولتے ہی وہ ہی مسکراتا بھوری آنکھوں والا حمزہ۔فریم کے پاس گئی۔اس میں اپنا عکس برا لگنے لگا تو پیچھے ہٹ گئی۔سب ویسا ہی تھا جیسا وہ چھوڑ کر گئی تھی۔سیف کھولی سامنے حمزہ کے کپڑے لٹکے تھے۔اسے اچنبھا ہوا اس کے کپڑے کہاں تھے؟ اوہ!پھر ہونٹ سکیڑے۔اسی تصویروں والے ڈبے میں اب حیا کے کپڑے بھی تھے۔اس نے کپڑے نکال کر بیڈ پر رکھے تا کہ لانڈری بھجوا سکے تبھی اس کا فون بجا۔
”مسز ہارون کالنگ۔“ اس نے فون کان سے لگایا۔
”جی مسز ہارون؟“
”تم میرے بچے کو یوں لا وارثوں کی طرح اکیلا چھوڑ کر کیسے آسکتی ہو؟“ وہ غرائی‘اور اس سے پہلے کہ حیا کچھ بولتی وہ دوبارہ چلائی۔
”میں نے سوچا تھا تم اسے سنبھال لو گی‘لیکن تم میرے بچے کے قابل ہی نہیں ہو۔وہ اتنا پیارا پیار کرنے والا لڑکا ہے‘لیکن تم تو چاہتی ہو وہ مر جائے‘تم اس وقت بھی اس سے اپنا انتقام لے رہی ہو۔“ وہ غصے سے بولے جا رہی تھیں۔ڈاکٹر ہارون اور انیقہ اسے حوصلہ دے رہے تھے۔حیا کی برداشت جواب دے گئی تو اس نے جواب دینے کو منہ کھولا‘مگرا س سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی‘دوسری طرف ردابہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔
”اگر میں وہاں ہوتی…..کبھی تمہیں تکلیف نہیں دیتی……لیکنمیں مجبور ہوں…میں نہیں آسکتی۔پلیز‘ میرے بچے کے پاس چلی جاؤ….حیا…..اسے ہماری ضرورت ہے‘پلیز۔“ وہ روتی رہی اور فون بند ہو گیا۔حیا نے کپڑے وہیں چھوڑے، اپنا لانگ اسٹریپ والا بیگ کندھے پر ڈالا اور ڈرائیور کے ساتھ دوبارہ ہسپتال آگئی۔ردابہ کے الفاظتھے کہا س کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے تھے۔
”تم تو چاہتی ہو وہ مر جائے۔“ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی آئی سی یو کے سامنے آکر رکی تھی۔
”تم آ کیوں…“ اس سے پہلے فریحہ اس کی طرف آتی وہ کھٹ سے دروازہ کھول کر اندر چلی گئی۔فریحہ اندر آئی کچھ کہنا چاہا مگر حیا نے انتہائی بے رخی سے کہہ دیا کہ وہ اپنے ہسبنڈ کے ساتھ کچھ وقت چاہتی ہے۔جب وہ باہر چلی گئی تو وہ حمزہ کی طرف مڑی۔
”تم آج اگر اس بیڈ پر ہو تو تمہاری اپنی وجہ سے…میری بد دعاؤں کی وجہ سے نہیں۔“ وہ اس کے سر پر کھڑی دبا دبا غرا رہی تھی۔
”حیا تم نے یہ کیا‘وہ کیا۔میرے بچے کے قابل نہیں ہو تم‘ اسکی زندگی خراب کر دی تم نے۔“ مسز ہارون تمہاری وجہ سے ہر بار مجھے ذلیل کرتی ہیں۔
”اگر ان کو لگتا ہے کہ میں چاہتی ہوں تم مر جاؤ۔تو ہاں میں چاہتی ہوں تم مر جاؤ۔“ وہ غراتی ہوئی کبھی کمرے میں ٹہلنے لگتی اور کبھی اس کے بیڈ پر ہاتھ جمائے اس کے چہرے پر جھک جاتی۔
”ہاں میں نے اپنی ہر نماز میں کہا تم مر جاؤ۔“ وہ اب اس کے چہرے پر جھکی ہوئی تھی۔
”کیوں نہیں مرتے تم؟ کیوں میری زندگی سے چلے نہیں جاتے۔“
”مجھے کہیں تو چین لینے دو۔“ اسکی آواز رندھ گئی تھی۔ وہ وہیں بیڈکے پاس رکھے اسٹول پر بیٹھ گئی۔آنسو اس کے چہرے کو بھگونے لگے تھے۔کتنے منٹ گزر گئے‘جب اسے دوبارہ اپنی آواز سنائی دی۔آواز اتنی دھیمی تھی کہ اس کہ اسے خود بمشکل سنائی دے رہی تھی۔
”آئی ایم سوری حمزہ‘آئی ایم سوری۔“ حمزہ کے چادر سے نکلے بازو پر دونوں ہاتھ رکھے‘وہ روئے جا رہی تھی۔اسکاغصہ ٹھنڈا ہو گیا تھا۔اسے تو حمزہ کے خود پر چلانے کی عادت تھی۔مگر اب وہ چلا رہی تھی وہ چپ چاپ لیٹا اسے سن رہاتھا۔نہ پہلے کی طرح اسے گھور‘نہ پکڑ کر دیوار سے لگا کرڈرایا دھمکایا۔اب کہ حمزہ کی انگلیاں اس کے بازو میں نہیں دھنس رہی تھی‘مگر اسے درد ہو رہا تھااور یہ درد اس کے دل میں ہوا تھا۔
”میں نے کبھی تمہارے مرنے کی دعا نہیں کی۔مسز ہارون کو لگتا ہے میں تمہیں مرتا دیکھنا چاہتی ہوں‘میں صرف تمہیں اس تکلیف سے گزرتا دیکھنا چاہتی تھی جس سے میں گزری ہوں‘بے بس ہونے کی تکلیف۔“پہلے کہی اپنی باتوں کو وہ خود ہی رد کر رہی تھی۔اس کاسر حمزہ کے بازو پر رکھے اپنے ہاتھوں پر تھا اور آنسو بد ستور گر رہے تھے۔کئی ساعتیں یوں ہی گزر گئیں۔پھر اس نے اپنا سر اٹھایا۔کچھ لمحے وہ وینٹیلیٹر پر پڑے حمزہ کو دیکھتی رہی پھر جانے دل میں کیا خیال آیا۔اس نے حمزہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھاما اور اپنے ہونٹ اس کے ہاتھ پر رکھ دیے۔اسے لگا اے سی کی خنکی میں بھی اس کے ماتھے پر پسینہ تھا۔کومہ تک پہنچے انسان کو کیا پتا اس پر کیا گزری؟اس نے سر جھٹکا، حمزہ کا ہاتھ دوبارہ سلیقے سے اپنی جگہ رکھا اور باہر آگئی۔
بیڈ پر لیٹا شخص شور،گولیوں سے ہوتا دوبارہ شیری پر آٹکا!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
باہر رات اتر رہی تھی۔عشاء کی آذان ہوئے آدھ گھنٹا گزرا تھا۔وہ علی کے گھر کھانے کی میز پر بیٹھے تھے۔ علاقہ کلئیر کرتے اور واپس آ کر قانونی کاروائیاں نمٹاتے ان کو اگلا پورا دن بھی لگ گیا تھا۔فریحہ مسلسل علی کو حمزہ کے بارے میں اپ ڈیٹ کر تی رہی تھی اور اب بھی وہ ڈاکٹر کی کہی باتیں دہرا رہی تھ۔. وہ حمزہ کو دیکھنے ہاسپٹل جانا چاہتے تھے مگر فریحہ نے زبردستی انکو رات کے کھانے کے لیے یہ کہہ کر روک لیا تھا کہ ‘ خود تندرست رہو گے تو اس کا خیال رکھو گے’ اور بادل نخواستہ اب میز پر بیٹھے بے دلی سے وہ منہ میں نوالے ٹھونس رہے تھے۔حمزہ چاہے کم بولتا تھا پر اس کے ہونے کا رعب اور احساس ہمیشہ رہتا تھا، اور آج وہ کمی سب کو کھل رہی تھی۔
”پھر کیا ہوا وہاں؟“ ابھی وہ سب ساتھ بیٹھے تو فریحہ ان سے وہاں ہوئے تمام تر معاملے کی تفصیلات لے رہی تھی۔پلیٹ میں مقصد چمچ چلاتے علی نے سر اٹھایا اور بتانے لگا۔
”گولی کی آواز سن کر ہم اس گھر کی طرف بڑھے‘گھر کا نقشہ دانی پہلے ہی حمزہ کو دے چکا تھا۔“ پلیٹ میں گھومتے چمچ کے دائرے وسیع ہو تے گئے اور یہ چھوٹا لاؤنج تحلیل ہوتا بڑے محل نما تہہ خانے میں بدل گیا۔
ایک طرف حمزہ ہوش اور بے ہو شی کے درمیان فرش پر پڑا تھا، اس کے جسم سے خون ابل ابل کر فرش کو سرخ کررہا تھا۔ آنکھیں بند تھیں مگر دور کہیں سے آتی آوازیں اس کے کانوں میں پڑ رہی تھیں۔ وہ اٹھنا چاہتا تھا، مگر جسم ساتھ نہیں دیتا تھا۔ بہت سے لوگ شیری پر جھپٹ رہے تھے، اور وہ گنگ آنکھیں پھاڑے حمزہ کے بے جان ہوتے وجودکو دیکھ رہا تھا۔ یہاں کچھ نہیں ہو سکتا تھا وہ بہت لوگ تھے۔ سینکڑوں! اور کرنے کی ہمت تھی بھی کس میں؟ شیری کا اپنا سر بھاری ہوتا جا رہا تھا۔
”فلیش کہاں ہے‘کدھر چھپائی ہے‘واپس کر دو۔“وہاں بھانت بھانت کی بولی تھی اور حمزہ اندھیری گھاٹیوں میں ڈوبتا جا رہا تھا۔ عجیب شور تھا‘ تالیوں کا‘ہنسنے کا‘حیرت اور جھنجھلاہٹ سے ہوتی سرگو شیوں کا۔ اور پھر بیسمنٹ کی سیڑھیوں پر بھاری قدموں کی آوازیں آنے لگی۔ اس سے قبل کہسیکیورٹیچو کنا ہوتی‘ہر طرف دھواں پھیلنے لگا۔ یہ آنسو گیس تھی۔شیروان نے جلدی سے اپنا منہ اپنی قمیص کے اندرونی حصے سے ڈھانپا اور شیری کو پکڑتے ہوئے ایک طرف لے گیا۔ اب وہاں کا ماحول مختلف تھا۔ مرد نما عورتیں گلا پھاڑ پھاڑ کر کھانستے‘آنکھیں مسلتیادھر ادھرگر رہے تھے۔پوری بیسمنٹ میں منہ پرماسک چڑھائے پولیس اہلکار پھیل چکے تھے۔ا ب وہاں دھڑا دھڑ گرفتاریاں ہو رہی تھیں۔کچھ منٹوں کی تگ و دو کے بعد علی‘ شیری اور شیروان تک پہنچ گیا تھا۔ اور شیری کیطرف سے خاموش نشاندہی پر وہ حمزہ کی طرف بھاگے‘ وہ اپنے حواس مکمل طور پر کھو چکا تھا۔ بیسمنٹ میں پھیلا دھواں علی کی پلیٹ میں گھومتی چمچ میں آ سمویا۔ اس ہولناک حادثے کا تذکرہ کرتے ہوئے ماحول دوبارہ وحشت زدہ ہو گیا تھا۔ کھانے سے سب کا دل اچاٹ تھا۔ دوسروں کو مار کر جسم گھسیٹنے اور اپنوں کا خون آلود جسم اٹھانے میں بہت فرق ہوتا ہے اور پھر ایسے اپنے کا جو ان سب کے ملنے اور جڑنے کی وجہ تھا‘تو سوگواری بجا تھی۔
”میں اور زویان‘حمزہ کو لے کر باہر چلے آئے۔شیری اور شیروان کو بھی ریسکیو کرلیا گیا۔شیری بضد تھا کہ اسے حمزہ کے ساتھ گاڑی میں آنا ہے۔ہاسپٹل تک اس کو لے کر جانا اذیت ناک تھا‘ خون بہہ بہہ کر جمنے لگاتھا۔“
”شیری کا تمہیں بتا چکا ہوں‘ حمزہ کو دیکھ کر اس کی اپنی طبیعت بگڑنے لگ گئی تھی۔“ علی نے جھرجھری لی اور خاموش ہو گیا۔
”دانی نے حمزہ کے ساتھ ایسا کیوں کیا‘ وہ تو اپنی مرضی سے گیا تھا نا؟“ فریحہ اب تک الجھی ہوئی تھی۔ پھر شیروان نے آگے جوڑا۔
”دانی پر ان کو شک ہو گیا تھا، انہوں نے اس کی بیوی اور بچے کو قید کر لیا تھا اور اسی کے بدلے حمزہ کو ٹریپ کرنے کو کہا۔ اور بھابھی‘فیملی آلویز کمز فرسٹ۔“ ا سنے بے دلی سے شانے اچکائے اور دوبارہ اپنی پلیٹ پر جھک گیا۔ دانی نے غلط کیا وہ سب جانتے تھے، وہ حمزہ سے مدد لے سکتا تھا مگر خیر اب اس کا فیصلہ انہوں نے حمزہ پر ہی چھوڑ دیا تھا۔
”بھابھی شیری ابھی تک اٹھا نہیں؟“ سمایا نے فکر مندی سے پوچھا۔
”میں کھانے کا کہنے گئی تو وہ سو رہا تھا‘شاید نیند کی دوا کا اثر ہے۔“ اور سمایا بس سر ہلا کر رہ گئی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کل رات اس کے کمرے سے آنے کے بعد حیا اب تک واپس نہیں گئی تھی۔ہاں تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ آئی سی یو کے باہر چکر لگا لیتی یا نرس سے حال احوال لے لیتی۔اس کے دل میں ایک ننھے سے احساس نے جنم لیا تھا۔جس کو وہ بار بار اپنے ذہن سے جھٹک رہی تھی۔
”حیا وہ خاموش لیٹا ہے تبھی تمہارا دل اس کی طرف جھک رہا ہے‘ورنہ اس کی انگارے برساتی آنکھیں اور زبان تم دیکھ چکی ہو۔اس نکاح کو کوئی حقیقی معنی دینے کی کوشش مت کرو۔“ وہ اپنے آپ کو حمزہ سے دور رہنے کے لیے دلیلیں دے رہی تھی۔
فجر ہونے میں ابھی وقت تھا اور وہ باہر ہسپتال کے لان میں‘ پتھر کے بنے زمین سے ایک دو انچ اونچے بینچ پر بیٹھی گزرے دنوں کے بارے میں سوچنے لگی۔
”یہاں کیوں بیٹھی ہو؟“کافی کے دو مگ ہاتھ میں لیے جنت اس کے پاس آ بیٹھی تھی۔ایک مگ اس نے حیا کی طرف بڑھایا اور دوسرے سے خود گھونٹ بھرنے لگی۔
”جنت‘تمہیں بھی لگتا ہے کہ میری بد دعاؤں کی وجہ سے اس کی زندگی خراب ہو رہی ہے؟“ وہ افسردہ تھی۔
”مجھے لگتا ہے تمہاری دعاؤں سے وہ ٹھیک ہو جائے گا۔“جنت نے پر جوش انداز میں کہا۔
”میں اس کے لیے کوئی دعائیں نہیں کرتی‘ اور نہ کروں گی۔“حیا نے اسے گھورا۔وہ اپنے اندر سر اٹھاتے احساس کو دبا رہی تھی۔
”میں تمہیں حمزہ کی پچھلی زندگی کے بارے میں بتاؤں‘ تب بھی نہیں؟“ جنت نے ابرو اٹھاتے ہوئے پوچھا۔
”مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔“ اس نے بے زاری سے دوبارہ مگ ہونٹوں سے لگا لیا۔
”حیا‘حمزہ بہت اچھا لڑکا ہے۔“ جنت اس کی بات نظر انداز کیے بتانے لگی‘ اور حیا نے اس کی بات اچک لی۔
”مسز ہارون جب بھی مجھ سے ملتی ہیں‘یہ ہی کہتی ہیں۔“ اس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔
”اور کل تو ڈاکٹر ہارون بھی کہہ رہے تھے۔“ وہ خود ہی ہنس دی۔
”انسان تلخ نہیں ہوتے‘زندگی تلخ بنا دیتی ہے۔“ جنت کافی مگ میں دیکھتے ہوئے بولتی گئی۔
”میری زندگی سے زیادہ اس کی زندگی تلخ ہے؟ جنت بی بی‘یہاں ہر کوئی بری زندگی ہی گزار رہا ہے۔پر اس کا یہ مطلب نہیں آپ ان کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھانے لگ جائیں۔“ وہ جنت کیطرف سے حمزہ کی حمایت پر بھڑک گئی تھی۔جنت نے اسے نظر انداز کیا۔
”حمزہ خوش مزاج لڑکا تھا۔میں اسکول کے زمانے سے اسے دیکھتی آ رہی ہوں۔وہ‘میں اور رانیہ بہت اچھے دوست تھے اور پوری کلاس ہم سے پناہ مانگتی تھی۔“ اسکول کی یادیں دماغ کے کسی کونے میں سر اٹھانے لگیں۔ پھر وہ رکی اور حیا کو دیکھا‘جسے یہ کہانی سننے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔وہ خالی لان اور رات کے اندھیرے سے کالے ہوتے گھاس کو دیکھ رہی تھی۔
”رانیہ‘حمزہ کی منکوحہ۔“ جب حیا نے نہیں پوچھا تو اس نے خود ہی وضاحت کر دی‘ اور اندھیروں نے دیکھا حیا کے ماتھے پر ہلکے بل پڑے تھے۔مگروہ کاموش رہی۔
”رانیہ کی رخصتی کو دو دن رہ گئے تھے‘جب وہ مر گئی۔“ حیا کی گردن میں گلٹی ڈوب کر ابھری۔جنت کچھ دیر چپ بیٹھی رہی‘ تو حیا نے بے چینی سے گردن موڑی۔جنت انگلی کے پوروں سے آنکھوں کے کونوں میں ابھرتے آنسو صاف کر رہی تھی۔
”حمزہ سے بدلہ لینے کے لیے ڈرگ ڈیلرز نے رانیہ کو اغواہ کر لیا اور اس پر حیوانیت کی انتہا کر دی۔“جنت نے مگ ایک طرف رکھ دیا۔حیا اپنے مگ کے کنارے پر انگلی پھیرتے ہوئے سنتی رہی۔
”ان درندوں نے اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی‘ اس کے جسم میں ڈرگز کے انجیکشن لگائے‘ حمزہ کے لیے نفرت بھرے جملے اس کے جسم پر گاڑے‘وڈیو بنائی‘حمزہ کو بھیجی۔“ جنت نے ایک ہی سانس میں روداد سنائی۔حیا کو اپنے رونگٹے کھڑے ہوتے محسوس ہوئے تھے۔اپنی آنکھوں کی پتلیوں پر اسے گرم مائع کا احساس ہوامگر وہ پلکیں جھپکتے ان کو اندر اتار گئی۔اسے لگتا تھا وہ جہنم کی سی زندگی گزار رہی ہے‘مگر دنیا میں عذاب تو رانیہ نے دیکھا تھا۔کچھ دیر دونوں چپ بیٹھی رہیں اور پھر حیا نے خود کو کہتے سنا۔
”حمزہ کو بہت صدمہ لگا ہو گا۔“ جنت نے گردن موڑ کر اسے دیکھاتھا۔
”حیا‘ اس دن ہم نے اپنا شوخ‘خوش مزاج حمزہ کھو دیا تھا۔پھر ہم نے کبھی اسے پہلے کی طرح باتیں کرتے نہیں دیکھا۔“
”وہ چپ ہو گیاتھا‘بالکل چپ۔وی رئیلی مس دیٹ اولڈ حمزہ‘وہ پیارا سا لڑکا۔“ وہ اداسی سے مسکرائی۔یہ تیسری بار تھا جب حیا نے حمزہ کے لیے یہ لفظ سنا تھا۔پیارا لڑکا‘ شاید اسکی خوبصورت شکل و صورت کی وجہ سے سب اسے پیارا بلاتے تھے۔حیا نے سر جھٹکا اور دوبارہ اپنی توجہ جنت پر مرکوز کی۔
”اس سانحے کے چند دن بعد حمزہ جب گھر آیا‘ تو اس کو مارنے کے ارادے سے اس کی گاڑی میں بم فٹ تھا‘جو اتفاق سے اس کے والدین لے گئے۔“حیا نے بے یقینی سے اسے دیکھا‘ جیسے غلط سنا ہو۔
”پھر؟“
”پھر وہ کبھی واپس نہیں آئے۔“ وہ رو رہی تھی۔ اس دن رہا سہا حمزہ بھی ٹوٹ گیا تھااور اس کے ٹوٹنے کے نشان اس کی شخصیت میں آج بھی دکھتے ہیں۔“ ماحول میں سو گواری چھا گئی تھی‘حیا کو کافی کڑوی لگنے لگی تھی‘دل اسے ملامت کرنے لگا تھا۔
”وہ اچھا لڑکا ہے حیا‘مسز ہارون کہتی ہیں کہ ان اموات نے اس کی شخصیت کو ڈیمج کیا ہے۔وہ ان اموات کا ذمہ دار خود کو سمجھتا ہے اور اس ’گلٹ‘نے اسے ایسا بنا دیا ہے۔
”گلٹ۔“حیا کا دل ڈوبا‘وہ بھی تو ایک گلٹ سے بھاگ رہی ہے۔
”بہتر یہ ہی ہوتا کہ وہ خود اس فیز سے نکل آتا‘مگر بہت دیر بعد پتا چلا کہ اس کے رویے کی وجہ ان رشتوں کو کھونا نہیں بلکہ خود کو اس نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا ہے۔اسے کسی کی ضرورت ہے حیا۔“ اس نے حیا کی آنکھوں میں جھانکا اور آگے بولی۔
”کسی ایسے کی ضرورت ہے‘ جو اسے سنے‘جس سے وہ اپنے دل کی بات کہہ سکے۔“ اس نے کہتے ہی منہ موڑ لیا تھا۔
”مگر اب یہ پرانا حمزہ نہیں رہا‘کھلی کتاب جیسا‘ہنستامسکراتا حمزہ۔اب یہ پر اسرار سا بی ہیو کرتا ہے۔دل کی سختی اس کے چہرے پر نظر آتی ہے۔وہ کسی سے کام کے علاوہ بات نہیں کرتا‘دل کی بات کرنا تو دور کی بات۔“ اس کی آواز میں مایوسی در آئی تھی۔
”پتا نہیں کب تک وہ خود کو نا کردہ گناہوں کی سزا دے گا۔“وہ خفت سے اپنا مگ اٹھاکر اندر راہداری میں غائب ہو گئی تھی‘ اور حیا کے گلے میں اٹکا آنسوؤں کا گولہ اب ابل ابل کر باہر آرہا تھا۔وہ گلٹی ہو چکی تھی۔اسکادل اسے چھوڑ کر حمزہ کا ہو گیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ ایک اونچا، سترہ منزلہ ہوٹل تھا۔رات کی تاریکی سے نو‘دس بجے کا گمان ہوتا تھا۔ہوٹل کے وسیع لاؤنج میں پڑے صوفوں میں سے ایک پر ڈاکٹر ہارون ہاتھ میں موبائل لیے بیٹھے تھے۔یہ ڈنر کے بعد کا وقت تھا وہ ابھی ردابہ اور انیقہ کو کھانے کے بعد اوپر کمرے میں چھوڑ کر آئے تھے۔ردابہ کو بڑی مشکل سے وہ سنبھالے ہوئے تھے اور ابھی بہتر یہ ہی تھا کہ وہ سو جاتی۔وہ اب تک خود کو مضبوط رکھے ہوئے تھے مگر اپنے خون کے لیے کون کب تک ضبط کرتا؟ وہ بھی اب فون پر پرانی تصویریں کھولے بیٹھے تھے۔جس میں وہی پرانا شوخ سا حمزہ نظر آ رہا تھا۔ہر تصویر میں اس کا کام انیقہ اور رانیہ کی تصویروں کو بگاڑنا ہی ہوتا تھا۔اور اب جو تصویر ڈاکٹر ہارون کھولے بیٹھے تھے وہ اس دن کی تھی جب حمزہ کا سی ایس ایس کا رزلٹ آیا تھا اور تصویر میں ڈاکٹرہارون اس سے گلے مل رہے تھے۔
”یو ہیو میڈ اس پراؤڈ بوائے۔“ تصویر ہلنے لگی۔گلے ملتے ہوئے انہوں نے حمزہ کے کان میں سرگوشی کی تھی‘ جس پروہ کھلے دل سے مسکرا رہا تھا۔ یہ شاید تب ہی تھا جب آخری بار انہوں نے حمزہ کو گلے لگایا۔ اس کے بعد وہ ملائشیا چلے گئے اور جب آئے تو ہانیہ والے حادثے نے حمزہ کو بہت بدل دیا تھا۔ وہ گھر کم ہی آتا تھا۔ اور پھر ڈاکٹر ہارون کے بھائی اور بھابھی کی موت۔ ماضی کی یادوں میں گم ڈاکٹر ہارون نے جھر جھری لی۔سرد آہ ان کے لبوں سے خارج ہوئی۔ انگلی سے اسکرین کو ایک طرف کرتے وہ اگلی تصویر پر رکے۔ چھوٹا سا چھ سات سال کا حمزہ ڈاکٹر ہارون کی پیٹھ پر بیٹھا اپنے گھوڑے کو آگے بڑھنے کا حکم دے رہا تھا۔ اور نیچے ڈاکٹر ہارون سر ہلاتے اسے تنبیہ کر رہے تھے کہ ہاتھ اوپر رکھے ورنہ اس کی گد گدی سے وہ اسے نیچے گرا دیں گے۔ وہ اداسی سے مسکرائے۔ اگلی تصویر حمزہ کی منگنی کی تھی۔ وہ رانیہ کے ساتھ بیٹھا شرارت سے کیمرے کے لینز میں دیکھ رہا تھا۔ ”پیارا لڑکا۔“ وہ اب بھی مسکرا رہے تھے اور پھر فون کی اسکرین پر دائرے بنتے چلے گئے اور انہوں نے خود کو حمزہ کے گھر اس کے کمرے کے باہر کھڑے پایا۔ دروازہ کھولا تو سامنے حمزہ ردابہ کی گود میں سر رکھے چھت کو گھور رہا تھا۔ ردابہ اس کے بال سہلاتے اسے کچھ بتا رہی تھی۔ ڈاکٹر ہارون کو دیکھ کر وہ سیدھا ہو گیا تھا۔
”آ جائیں چاچو۔“
”ہمارا بیٹا کیسا ہے؟“ ڈاکٹر ہارون وہیں صوفے پر بیٹھ گئے تھے۔
”ٹھیک ہوں۔“ اس نے ہونٹ بھینچے‘پھر ہلکے سے کہا۔
”گڈ۔“ انہوں نے ٹانگ پر ٹانگ دھرتے ہوئے حمزہ کے کمرے کا جائزہ لیا۔
”ردابہ‘ اپنا سامان دیکھ لو‘رات دس بجے ہماری اسلام آباد کی فلائٹ ہے۔“ ردابہ نے ایک نظر حمزہ کو دیکھا پھر ڈاکٹر ہارون کو۔ حمزہ نے لب کاٹے۔
”میں سوچ رہی تھی کچھ دن یہیں رہوں حمزہ کے پاس‘ ویسے بھی یہ ایک ماہ چھٹی پر ہے۔“ حمزہ نے امید بھری نظروں سے ڈاکٹر ہارون کو دیکھا۔
”ردابہ‘ہم یہاں نہیں رہ سکتے، ہمارا اپنا گھر ہے، بیٹی ہے جس کے اسکول کا حرج ہو گا۔ پھر انسٹیٹیوٹ میں بہت سا کام پڑا ہے۔“ وہ چپ ہوئے اور حمزہ نے لب کاٹتے ہوئے آنکھیں سکیڑی۔ بھوری آنکھیں اور چھوٹی ہو گئیں تھی۔
”چاچو‘آپ اور انیقہ چلے جائیں‘ماسی کو میرے ساتھ رہنے دیں۔ یہاں مجھے اب وحشت ہوتی ہے۔ اکیلا ہوتا ہوں تو سب یاد آتے ہیں۔“ وہ گزارش کر رہا تھا۔ ردابہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور پھر اسکے گال کو چھوا۔ وہ اس کو ہمیشہ بہت پیارا تھا۔ شاید انیقہ سے بھی زیادہ مگر وہ کسی کے سامنے کہتی نہیں تھی۔ اب بھی وہ خود اس کے پاس رکنا چاہتی تھی۔ اس نے کچھ کہنے کو لب کھولے مگر ڈاکٹر ہارون صوفے سے اٹھ کر بیڈ پر آ بیٹھے۔
”جینٹل مین‘ آئی نو یو آر ویری بریو۔اس سب سے تمہیں خود لڑنا ہے۔ تم ہمارا فخر ہو‘بی اسٹرونگ۔“ انہوں نے اس کے کندھے کو مضبوطی سے ہلایا۔ حمزہ زبردستی مسکرایا۔
”ماسی کو رہنے دیں۔“ اس نے دوبارہ منت کی۔ ماسی نے بے بسی سے ڈاکٹر ہارون کو دیکھا‘ آنکھوں ہی آنکھوں میں اجازت چاہی‘ وہاں انکار تھا۔
”چاچو پلیز‘چند دن کی تو بات ہے۔“
”چند دن پھر اگلے چند اور دنوں میں بدل جائیں گے۔“ انہوں نے سر جھٹکا اور اس سے پہلے کہ حمزہ کچھ کہتا ڈاکٹر ہارون کھڑے ہو گئے تھے۔
”حمزہ‘یو ہیو ٹو فائٹ فار یور سیلف۔“ پھر افسردہ سی ردابہ کی طرف دیکھا۔
”ردابہ‘تم چلنے کی تیاری کرو‘میں اپنے انسٹیٹیوٹ کا حرج نہیں کروا سکتا۔“ وہ کہہ کر باہر نکل گئے۔ردابہ نے حمزہ کو کچھ کہنے کو منہ کھولا مگر وہ بھی کہے سنے بغیر چلا گیا‘اور پھر اسکی واپسی تب ہوئی جب ڈاکٹر ہارون اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ اسلام آباد پہنچ چکے تھے۔اس دن چاچو بھتیجے کا رشتہ ہمیشہ کے لیے کٹ گیا تھا۔اس نے کہا کچھ نہیں تھا‘ مگر ہارون کے ساتھ اس کا رویہ سرد ہو گیا تھا۔
ایک ٹھنڈی آہ ڈاکٹر ہارون کے ہونٹوں سے نکلی۔وہ دوبارہ ہوٹل کے لاؤنج میں بیٹھے تھے۔انہوں نے تر ہوتی آنکھ کے کونے پر انگلی رکھی۔
”بابا‘جب حمزہ بھائی کو پتا چلے گا نا کہ آپ نے ان کے لیے ہی ماما کو ان سے دور کیا تھا‘ تو وہ سارے شکوے بھلا کر پہلے کی طرح آپ کے کلوز ہو جائیں گے۔“ ڈاکٹر ہارون کو پتا ہی نہیں چلا انیقہ کب نیچے آئی تھی۔وہ اب ان کے کندھے پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔
”میں بس چاہتا تھا‘وہ ردابہ یا کسی کا بھی سہارا نہ ڈھونڈے‘ وہ خود اپنے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو واپس جوڑے۔انیقہ ہم انتظار کرتے ہیں کہ کوئی آئے گا اور ہمیں ہماری ٹف فیز سے نکالے گا لیکن کوئی ہمیں نہیں نکال سکتا‘ہمیں خود اپنا بازو پکڑ کر خود کو تکلیفوں سے نکالنا پڑتا ہے اوروہ ردابہ کے پیچھے چھپ کر حقیقت سے بھاگنا چاہتا تھا۔“
”بابا‘ہم سب جانتے ہیں آپ حمزہ بھائی سے کتنا پیار کرتے ہیں۔“ باپ کی گردن کے گرد بازو ڈالے وہ اب ان کا گال چوم رہی تھی۔
”کاش حمزہ کو بھی اس بات کا احساس ہو جائے۔“ انیقہ کا گال تھپتھپاتے ہوئے انہوں نے سوچا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صبح کب کی روشن ہو چکی تھی۔زویان، شیروان،عنایا اور سمایا کو پک کرتا ابھی علی کے گھر کے باہر کھڑا تھا۔وہ شیری کا انتظار کر رہے تھے۔جسے اس کی طبیعت کی نا سازی کے باعث فریحہ نے یہیں روک رکھا تھا۔بلیو جینز اور آدھے بازوؤں والی نیلی ٹی شرٹ پہنے،گیلے بال پیچھے کو بنائے وہ گیٹ سے باہر نکل رہا تھا۔گاڑی کے قریب آیا،دروازہ کھولا اور رسمی سلام کرتے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لی۔
”تیری طبیعت ٹھیک ہے؟“ آگے بیٹھے شیروان نے اسے مخاطب کیا۔
”تجھے افسوس ہو رہا ہو گا کہ میں بچ گیا۔“ اس نے آنکھیں کھولے بغیر کہا‘سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔وہ اب بھی شیروان کو تپا رہا تھا۔
”ہماری اتنی قسمت کہاں۔“ شیروان نے کہہ کر آہ بھری اور سب محظوظ ہوتے رہے۔
پچھلے دو دن سے شیری کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔بی بی حاجن کے محل سے تو وہ بحافظت آ گیا تھا‘مگر حمزہ کی ابتر حالت،خون آلود جسم بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آتاتھا۔ایسا نہیں کہ اس نے پہلے کبھی لوگوں کو گولیاں لگتے نہیں دیکھی،مگر اپنے بھائی کو پہلی بار لگتے دیکھی تھی۔واپسی پر راستے میں ہی اس نے الٹیاں کرنا شروع کر دی تھیں۔ڈاکٹر کی دوائیوں کے زیر اثر وہ غنودگی میں ہی رہا۔حقیقت سے بھاگنے کا آسان طریقہ ہے کہ آپ سو جائیں‘وہ بھی سوتا رہا۔
”حمزہ سر ٹھیک ہو جائیں گے نا؟“ وہ آنکھیں کھول کرآگے کو جھکا۔سب کی مسکراہٹ غائب ہو گئی تھی اور پھرذرا سنبھلے انداز میں سمایا نے اسے تسلی دی۔
”ا ن شاء اللہ‘وہ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔“ شیری نے دوبارہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے آنکھیں بند کر لی تھیں۔وہ کھویا ہوا‘ویران سا لگتا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
لاہور کی سڑکوں پر وہی بے ہنگم ٹریفک اور گاڑیوں کا شور تھا۔ہسپتال میں مریض اپنی اپنی تکلیفیں لیے پڑے تھے اور اسی ہسپتال کے ایک پرائیویٹ کمرے میں وہ دنیا جہاں سے بے خبر پچھلے دو دن سے اندھیروں کا سفر کر رہا تھا۔رنگت پھیکی پڑی ہوئی،چہرہ بے تاثر اور وینٹیلیٹر ماسک سے ڈھکا ہوا!
دماغ جہاں کل تھا آج بھی وہیں ہلکورے لے رہا تھا۔شیری اور اس پر جھپٹتے ہاتھ!
کمرے کا دروازہ بے آواز کھلا اور بند ہو گیا۔چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ اب اس کے سر پر کھڑی تھی۔
”ڈاکٹر کہہ رہا تھا تم میں بہتری آ رہی ہے‘بہتری آ رہی ہے تو تم اٹھتے کیوں نہیں ہو؟“ وہ خفا سی بول رہی تھی۔آنکھوں میں رات کی سرخی اب تک تھی اور وہ سوجی ہوئی لگتی تھیں۔
”بہتری آ رہی ہے تو وہ اٹھ بھی جائیں گے۔“ آواز پر حیا پیچھے مڑی‘مگر شیری اب اس کے سامنے حمزہ کے دوسری طرف پڑے اسٹول پر آ بیٹھا تھا‘۔حیا جو حمزہ کو ڈانٹنے کا اور ارادہ رکھتی تھی (ظاہر ہے کیوں کہ وہ سن نہیں سکتا تھا) ڈھیلی سی پیچھے صوفے پر جا بیٹھی اور پھر سر تب اٹھایا جب شیری کو حمزہ سے بات کرتے سنا۔
”آپ کیوں آئے تھے وہاں‘آپ کو مجھ پر بھروسہ نہیں تھا؟“وہ بے بسی سے شکوہ کر رہا تھا۔”اگر آپ کو کچھ ہو گیا نا تو میں خود کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔“ لو بھئی‘ پچھتاوے والوں کی قطار میں کھڑا ہوتا ایک اور شخص۔
”ماسی‘چاچو‘میں ہم سب آپ کے لیے بہت پریشان ہیں۔“ وہ چپ ہوا اور ادھر حیا کے چہرے پر نا گواری درآئی۔
”ہاں میں تو یہاں لڈیاں ڈال رہی ہوں۔“ وہ شیری کی پشت کو گھور رہی تھی۔
”اور ماسی نے آپ کے لیے بہت سارا پیار بھیجا ہے۔“ وہ اب حمزہ کا ماتھا چوم رہا تھا۔اور ادھر حیا نے ہونٹ سکیڑے۔
”اوہ‘مسز ہارون کا پیار یوں دینا ہوتا ہے؟“ اپنی سوچ پر اس نے خود ہی لعنت بھیجی۔
”شیری‘ تم لوگ مجھے نا پسند کرتے ہو؟“ وہ فرش کو گھورتے ہوئے آہستہ سے بولی اور حمزہ پر جھکے شیری نے سر اٹھایا۔
”نا پسند کرتے تو آپ کو اب تک اپنے ساتھ نہ رکھا ہوتا۔“ اس نے کندھے اچکائے۔
”نہیں میرا مطلب حمزہ….“ اس نے جملہ ادھورا چھوڑا اور شیری اسٹول پر پیچھے گھوما۔
”بھابھی‘حمزہ بھائی پوری دنیا میں صرف ایک انسان سے نفرت کرتے ہیں۔“ مجھ سے؟حیا کا دل دھڑکا۔
”اور وہ انسان وہ خود ہیں‘ہی ہیٹ ہم سیلف۔“ وہ واپس حمزہ کی طرف مڑ گیا۔حیا کے اعصاب ڈھیلے پڑے۔اسے آج حمزہ کی تصویر کے نیچے انگریزی میں لکھا وہ جملہ سمجھ آیا تھا۔
”ہیٹ می بکز آئی ہیٹ مائی سیلف۔“ اس نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
”اور وہ آپ سے نف…“ شیری کچھ کہنے لگا لیکن اس کا جملہ ادھورا رہ گیا تھا۔حیا نے دیکھا وہ کمرے سے ملحق باتھ روم کی طرف بڑھ رہا تھا۔حیا اس کے پیچھے لپکی اور اب وہ سنک پر جھکا قہ کر رہا تھا۔
”تم ٹھیک ہو؟“ وہ متفکرتھی۔وہ اب بھی منہ کھولے جھکا ہوا تھا۔
”ڈاکٹر کے پاس چلیں؟“ وہ اب نل کھولے منہ پر پانی مار رہا تھا۔
”نہیں‘میں ٹھیک ہوں‘شاید میں زیادہ ٹینشن لے رہا ہوں۔“ ٹشو کھینچتے ہوئے وہ باہر آگیاتھا‘حیا نے دروازے کے سامنے سے ہٹتے ہوئے اسے رستہ دیا۔”بھائی کا خیال رکھیے گا۔“ وہ دروازے تک گیا اور واپس مڑا۔ ”وہ آپ کو نا پسند نہیں کرتے۔“ پھر دروازہ کھلا اور بند ہو گیا۔
”اب تم بھی اٹھ جاؤ مسٹر حمزہ‘ہم سب کو آپ سے بہت شکایتیں ہیں۔“ وہ جو پہلے اس پر غصہ کرنے آئی تھی اب ہلکا محسوس کر رہی تھی۔
”آپ کی ماسی‘چاچو اور شیری سب آپ سے بہت پیار کرتے ہیں اور میں…“ ا س نے ڈرامائی وقفہ دیا۔ ”اور میں بھی۔“ اپنے الفاظ سے محظوظ ہوتی ہوئی وہ دل کھول کر مسکرائی۔
”لیکن کسی کو بتانا مت۔“ وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے ا سے گھور رہی تھی۔تبھی دوبارہ دروازہ کھلا‘حیا کی مسکراہٹ غائب ہوئی اور ماتھے پر بل پڑگئے۔یہ سب کو اسی وقت آنا ہے؟ وہ خفگی سے پیچھے مڑی۔ سفید شلوار قمیض زیب تن کیے حمزہ کی نرس ٹرے اٹھائے بیڈ کی طرف آ رہی تھی۔اسے خاص حمزہ کے لیے رکھا گیا تھا۔حیا کو دیکھ کر وہ مسکرائی مگر حیا بے تاثر رہی۔
”آپ ان سے بیٹھ کر یہ جو باتیں کرتی ہیں‘کیا یہ آپ کو سنتے ہیں؟“ وہ اپنی دھن میں مگن ٹرے سے وائپ اٹھاکر حمزہ کے چہرے پر رکھتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
”نہیں۔“حیا نے کندھے اچکائے۔
”شاید ہاں۔“ نرس نے سر اٹھایااورحیا گڑبڑا گئی۔اور ابھی جو اس نرس کے آنے پر خفگی تھی وہ ہوا ہو گئی تھی۔
”اکثر جب کومہ کے مریض ہوش میں آتے ہیں تو وہ بتاتے ہیں ان کو اپنے آس پاس ہوتی باتیں سنائی دیتی تھیں اور یہ تو بس بے ہوش ہیں‘تو ہو سکتا ہے کچھ آوازیں ان کو سنائی دے رہی ہوں‘محسوس ہو رہی ہوں۔“ حیا کی گردن میں گلٹی ڈوب کر ابھر ی تھی۔وہ تو پتا نہیں کیا اناپ شناپ اس کے سر پر کھڑی ہو کر بول چکی تھی۔اس نے گھور کر سر جھکائے کام کرتی نرس کو دیکھا۔
”بس یہ ہی کرنے آئی ہو؟“ اس نے حمزہ کے منہ کی طرف آنکھوں سے اشارہ کیا۔”یا کچھ اور کام بھی ہے؟“
”ابھی تو فیس واش کرنا تھا اور…“
”ٹھیک ہے میں کر دوں گی۔اس کی بیوی ابھی زندہ ہے۔“وہ آگے کو جھکی اور اس کی ٹرے سے وائپس اٹھالیے۔نرس ہکا بکا اسے دیکھتی رہی۔ ”تم جاؤ۔“اس نے اوپر دیکھے بغیر کہا اور نرس اپنی ٹرے اٹھا کر باہر نکل گئی۔وہ اب حمزہ کے منہ کو نرم ٹشو سے رگڑ رہی تھی۔
”اگر سن بھی لیا ہے تو کیا؟ ڈرتی نہیں ہوں میں تم سے۔“ اور یہ کہتے ہوئے بھی اس کا ہاتھ کانپا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اندھیرے چھٹنے لگے،پتلیاں بند آنکھوں کے نیچے ہلنے لگیں۔دماغ سفر کر کر کے تھک گیا تھا۔آنکھیں کھلیں،بند ہو گئیں۔دوبارہ کھلیں،روشنی تیز لگی دوبارہ بند کر لی گئیں۔اور پھر یہ اندھیرا اجالا کتنی دیر چلتا رہا۔یہاں تک کہ روشنی آنکھوں میں چبھنا بند ہو گئی۔سامنے دیوار پر پینٹنگ لگی تھی۔یہ کون سی جگہ ہے؟وہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔جسم میں درد سے ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔کاس نے کہنیوں کے بل اٹھنے کی کوشش کی مگر کندھوں کے زخم ابھی بھرے نہیں تھے اٹھتا اٹھتا وہ دوبارہ بیڈ پر ڈھے گیا۔آنکھیں سختی سے بند کر لیں۔پھر کئی لمحے یوں ہی گزر گئے۔دماغ بیدار ہوتا گیا۔آنکھیں کھول کر وہ سیدھا کمر کے بل لیٹا کمرے کا جائزہ لیتا رہا۔تبھی دروازہ کھلا اور اس نے نیم وا آنکھیں دوبارہ بند کر لیں۔کیوں یہ اسے بھی نہیں پتا تھا۔وہ دیکھ نہیں پایا اندر آنے والا کون ہے۔کوئی آکر اس کے پاس اسٹول پر بیٹھا،ہاتھ تھاما اور اس کے ماتھے پر جھک گیا۔ ” بہت مس کر رہا ہوں میں آپ کو۔” آنے والا بولا تو حمزہ کو اپنی روح میں سکون اترتا محسوس ہوا، اس کے دل کو قرار آگیا تھا۔۔اس کی آنکھوں کے کونے گیلے ہونے لگے یہاں تک کہ ایک آنسو لڑھک کر باہر آ گیا۔شیری جو اب اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں دبا رہا تھا چونکا۔اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کے نیچے گرتے آنسو کو انگلیوں کے پوروں پر اٹھایا اور کانپتی آواز کے ساتھ اسے پکارا۔ ” بھائی؟” بھائی نے آنکھیں کھولیں، جن میں سرخ دھاریاں،گزرے دنوں کی کہانی،زخموں کی تکلیف اور شیری کو سلامت دیکھ کر سکون تھا۔ ” آپ کو ہوش آ گیا؟” وہ حیرت اور خوشی کی سی کیفیت میں کچھ دیر خود کو یقین دلاتا رہا اور جب حمزہ کی آنکھیں کھلی رہیں تو وہ اس پر گر گیا اور بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔حمزہ نے ہاتھ بڑھاکر اسے تھامنا چاہا مگر کندھے اکڑے ہوئے تھے وہ ہاتھ نہیں اٹھا سکا۔کچھ منٹ یوں ہی گزر گئے۔وہ روتا رہا اور حمزہ آنکھیں بند کیے گزری قیامت کو سوچتا رہا۔جب کافی دیر شیری نہیں اٹھا تو حمزہ نے بند آنکھیں کھولیں۔
”بس کر….یار‘ میرا سانس…رک….رہا ہے۔“وہ بمشکل بول پایا۔اس کی زبان خشک تھی۔شیری اس سے الگ ہوا۔اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا۔
”آپ کو اندازہ نہیں میں نے یہ دن آپ کے بغیر کیسے گزارے ہیں۔میں اب تک گھر نہیں گیا۔“ شیری اس سے کافی دیر باتیں کرتا رہا۔کیسے اسے لے کر آئے‘ردابہ کہاں ہے‘کیوں نہیں آئی‘کب آئے گی‘دانی نے غداری کیوں کی اور یہ کہ اب وہ جیل میں ہے اور حمزہ کو اس کا فیصلہ کرنا ہے۔وہ بتاتا رہا اورحمزہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اسے سنتا رہا‘یہاں تک کہ شیری چپ ہو گیا۔
”میں بیٹھنا چاہتا ہوں۔“ حمزہ نے اپنے بے جان پڑے بازؤوں اور پھر بیڈ کو دیکھا۔تب شیری کو احساس ہوا اسے ڈاکٹر کو بلانا چاہئے تھا۔وہ سر کھجاتا‘معذرت کرتا‘ڈاکٹر کو بلانے باہرچلا گیا اور حمزہ نے نظریں چھت پر ٹکا دی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حیا کو اپنے کپڑوں میں سے دوائیوں کی بو آنے لگی تھی۔وہ کپڑے بدلنے حمزہ کے گھر چلی گئی تھی اور ابھی تھوڑی دیر پہلے واپس آئی تھی جب اسے پتا چلا حمزہ کو ہوش آ گیا ہے۔وہ خوش ہوئی تھی یا پریشان ہو گئی تھی وہ نہیں جانتی تھی۔حمزہ ٹھیک ہو جائے گا یہ خوشی اور حیا کو واپس جانا پڑے گا یہ پریشانی کی بات تھی۔
کمرے کا دروازہ بند تھا باہر بہت سے سادہ کپڑوں والے سیکیورٹی اہلکار تھے۔وہ اچنبھے میں تھی کہ حمزہ کو ملنے کون آیا ہے جو اتنی بھگدڑ مچی ہے۔
”منسٹر پنجاب حمزہ سے ملنے آئے ہیں۔“ جنت نے سر گوشی کی تھی۔
”کیوں؟“ وہ حیران ہوئی تھی۔
”حمزہ ان کے قریبی پولیس آفیسرز میں سے ہے۔“ آواز اب بھی سرگوشی سے اونچی نہیں تھی۔تبھی کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک لمبا چوڑا گھنی مونچھوں والا آدمی کلف لگی سفید شلوار قمیض اور سیاہ جیکٹ میں ملبوس باہر آیا۔اس کے پیچھے فریحہ‘علی اور زویان بھی تھے۔آدمی ان دونوں کے پاس رکا۔بغور حیا کو دیکھا۔
”مسز حمزہ؟“
”جی۔“ اس نے اعتماد سے کہا‘ آدمی کی سنجیدگی مسکراہٹ میں ڈھل گئی۔ ”مجھے ثقلین کہتے ہیں‘حمزہ کا دوست ہوں۔خوش رہو۔“ اپنا تعارف اور حیا کو خوش رہنے کی دعا ایک ساتھ دے کر‘اس نے حیاکے سر پر ہاتھ رکھااور آدمی اپنی شاہانہ سیکیورٹی کے ساتھ باہر نکل گیا۔
”عجیب آدمی ہے۔“وہ بڑبڑاتے ہوئے مڑی مگر جنت وہاں نہیں تھی۔دروازہ کھل کر بند ہوا تھا۔ وہ یقیناً حمزہ سے ملنے گئی تھی۔حیا گہرا سانس لیتے وہیں کرسی پر ڈھے جانے کے سے انداز میں بیٹھی اور آنکھیں موند لی۔جاگتے حمزہ کے سامنے جا کر کھڑے ہو جانا اس کے لیے آسان نہیں تھا۔
”آپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں؟“ شیری باہر سے آ رہا تھا اس کو وہاں دیکھ کر رکا۔”ویسے ہی۔“ اس نے گود میں رکھی انگلیوں کو مروڑتے ہوئے ایک نظر اس پر ڈالی اور دوبارہ انگلیوں کو دیکھنے لگی۔وہ سیاہ چشمے کے پیچھے سے اسے دیکھتا رہا جیسے اس کے جواب نے اسے مطمئن نہیں کیا تھا۔حیا نے دوبارہ سر اٹھایا۔
”وہ مجھ سے ناراض ہو گا۔“
”لیکن وہ تو آپکا پوچھ رہے تھے۔“ شیری نے لاپرواہی سے کہااور دروازے میں گم ہو گیا‘اس کے پیچھے حیا مشکوک نظروں سے دروازے کو گھورتی رہی۔
۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ردابہ اور ہارون رات گئے لاہور پہنچے تھے اور اب وہ حمزہ کے کمرے میں اس کے ساتھ موجود تھے۔حمزہ کا بیڈ زرا اوپر کو اٹھا دیا گیا تھا۔ردابہ اس کے پاس اسٹول پر بیٹھی تھی اور ڈاکٹر ہارون حمزہ سے رسمی حال احوال پوچھنے کے بعد پیچھے صوفے پر بیٹھے شیری سے باتیں کر رہے تھے۔گزرے دنوں کی بابت سن کر ردابہ نے دوبارہ رونا شروع کر دیا تھا اور اب وہ حمزہ کو ڈانٹ رہی تھی۔جب وہ چپ نہیں ہوئی تو حمزہ نے نقاہت زدہ سی آواز شیری کو دی۔
”شیری‘کراچی میں پانی کا مسئلہ حل ہوا کہ نہیں؟“ ڈاکٹر ہارون سے باتیں کرتے ہوئے شیری چونکا۔
”نہیں بھائی۔“
”توان سے کہو ٹنکیاں بھر لو‘ماسی از ان ایکشن۔“ وہ سنجیدگی سے بولا اورآنسوؤں کے ساتھ ہنستے ہوئے ردابہ نے ایک تھپڑ اس کے بازو پر جڑا تھا، وہ درد سے کراہا تھا۔
”آپ لوگوں کی اپنی مصروفیات بھی ہیں‘میں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔“ وہ یکدم انتہائی سنجیدہ ہو گیا تھا۔ڈاکٹر ہارون نے پہلو بدلہ‘ردابہ کی مسکراہٹ بھی غائب ہو گئی تھی۔کمرے میں تناؤ در آیا تھا۔ ”ایسا کیوں سوچتے ہو حمزہ‘تم ہمارے بچے ہو۔“ وہ دوبارہ جذباتی ہو گئی تھی۔
”جی جانتا ہوں۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔شکوہ جہاں تھا وہاں پہنچ گیا تھا۔
”ہیلو‘حمزہ بھائی۔“ انیقہ پرجوش اندر داخل ہوئی تھی۔حمزہ کے چہرے کا تناؤ ختم ہو گیا تھا۔
”ہائے‘کیسے آنا ہوا آپکا؟“ حمزہ نے اسے مصنوعی خفگی سے گھورا۔
”میرا بھائی ہے نا‘بڑا ہیرو بنتا ہے‘گولیاں مروا کر ہسپتال میں پڑا ہے۔اسے ہی دیکھنے آئی ہوں۔“ وہ بھی اسی کے لہجے میں بولی اورحمزہ نے اپنی عزت افزائی پر سر کو خم دیا۔
”میرا بھائی ہیرو بنتا نہیں ہے‘وہ ہیرو ہے۔“شیری نے حتمی انداز میں ناگواری سے کہا۔
”تم تو رہنے دو‘بھائی کے چمچے۔“ وہ اسٹول سنبھالتے ہوئے بولی۔شیری تلملا اٹھاتھا۔
”بد تمیز۔“ وہ منہ میں بڑبڑایا۔
اور سب اس امر سے بے خبر کہ حیا گھر واپس جا چکی ہے دوبارہ حمزہ کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہو گئے تھے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!