Haya Novel By Fakhra Waheed ep 15

Haya novel by Fakhra Waheed

باہر رات تاریک اور گہری ہوتی جا رہی تھی۔پرندے کب کے گھروں کو لوٹ چکے تھے۔مغرب کی نماز پڑھ کر حمزہ کے کمرے میں آ گئی تھی۔دایاں ہاتھ بائیں گال کے نیچے رکھے، کروٹ لیے وہ ڈریسنگ کے شیشے میں اپنے عکس کو دیکھ رہی تھی اور دوسرے ہاتھ سے بیڈ پر بے ترتیب لکیریں کھینچ رہی تھی۔وہ چند لمحے یوں ہی دیکھتی رہتی پھر جب آنکھوں پر ہوا کا دباؤ بڑھتا تو جھپک کر دوبارہ شیشے کو گھورنے لگتی۔دماغ الجھی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔کیسے وہ خوش باش اپنے گھر تھی،اغوا کر کے کسی کوٹھے پر لے جائی گئی, وہاں سے ایک آدمی اسے اپنے گھر لے آیا، نکاح کیا اور دوبارہ اسے بے گھر کر دیا۔اب دوبارہ وہ آدمی اس کی زندگی میں آ گیا تھا مگر ایسے کہ اب وہ اسے چھوڑ کر کبھی جانے نہیں دینا چاہتی تھی. کیونکہ وہ سمجھ گئی تھی یہ قسمت تھی جس نے اسے حمزہ کے گھر لا پٹخا تھا۔
اس کا فون وائبریٹ ہوا تو وہ اٹھ کر بیٹھی۔
”ڈاکٹر ہارون کالنگ۔“اس نے بجھے دل سے فون کان پر لگایا۔
”اسلام علیکم سر۔“
”گھر پر ہوں۔“ دوسری طرف کی بات سن کر وہ دوبارہ بولی۔
”اسلام آباد؟ صبح جانا ہے؟“ وہ یک دم غیر آرام دہ نظر آنے لگی تھی۔
”لیکن سر‘میں…یہیں رہنا.. چاہتی ہوں۔“ اس نے اٹکتے ہوئے کہا۔ڈاکٹر ہارون نے کان سے فون ہٹایا اور دوبارہ کان سے لگایا۔”مگرتم رہو گی کہاں؟“ وہ حیران تھے۔
”اپنے شوہر کے ساتھ۔“ اس نے خود کو کہتے سنا۔اور ادھر ڈاکٹر ہارون کے چہرے پر خوشگوار حیرت پھیلی۔
”تمہارا مطلب ہے حمزہ کے ساتھ؟“
”جی۔“
”مگر ردابہ اور پھر حمزہ؟“ ان کی خوشی ہوا ہوئی۔
”میں نے فیصلہ لے لیا ہے سر‘میں سب کو کنوینس کر لوں گی۔“ وہ گردن اٹھاکراعتماد سے بولی اور ڈاکٹر ہارون کے اعصاب ڈھیلے پڑگئے۔
اور جب تم چاہو کچھ کرنا‘پھر ساری دنیا کہتی رہے تم نہیں کر سکتے‘ مگر تم کر کے دکھاتے ہو!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اگلی صبح حیا کی زندگی میں ایک نئی کرن کی مانند تھی جو اگلی کئی کرنوں کے ساتھ اجالا بننے والی تھی۔ردابہ کو وہ منا چکی تھی۔آخر کو ردابہ نے بھی یہ ہی سوچاتھا مگر یہ فیصلہ حیا خود لے لے گی اس پر اسے حیرت ہوئی تھی۔سو یہ معرکہ سر ہوا۔مگر اگلامرحلہ زیادہ خوفناک تھا اور حیا کے لیے جان لیوا بھی۔وہ جو حمزہ کے ہوش میں آنے کے بعد ایک بار بھی اس کے کمرے میں نہیں گئی تھی۔اور اب وہ حمزہ کو’ منانے’ یہاں آئی تھی۔
اس کے کمرے کے باہر کھڑی وہ گہرے سانس لے رہی تھی۔جب پریشانی بڑھ جائے تو اپنا اعتماد بحال کرنے کو یہ طریقہ ڈاکٹر ہارون نے اسے سکھایا تھا۔وہ ہر زاویے سے سوچ کر آئی تھی۔زیادہ سے زیادہ کیا ہو جائے گا؟یہ بھی اس نے لکھا تھا۔اس نے ایک نظر سیل کے نوٹ پیڈ میں لکھے پوائنٹس پر ڈالی۔دروازے سے بیڈ تک کا فاصلہ عبور کرنا مشکل تھا۔مگر وہ اعتماد سے کرے گی۔اس نے گردن اکڑائی۔وہ اسے دیکھ کر حیران ہو گا۔وہ اس کی حالت سے محفوظ ہو گی۔حیرت غصے میں بدل جائے گی،وہ بھی سپاٹ چہرہ لیے اسٹول پر بیٹھ جائے گی۔غصے میں وہ چلانے لگے گا۔میں اسے بازو سے پکڑ کر چپ کرواؤں گی جیسے وہ مجھے کروا دیتا تھا اور اسے بتاؤں گی کہ میں اس کے ساتھ رہوں گی۔
ہاں بس‘اس نے بالوں کو ہاتھ سے پیچھے جھٹکا۔اور بنا کچھ سوچے سمجھے دروازے کے ہینڈل پر رکھا ہاتھ گھمایا، دروازہ اندر کو دھکیلا اور منظر واضح ہوتا گیا۔وہ اسی طرح سرہانے سے اٹھے بیڈ پر ٹیک لگائے بیٹھا تھا، درمیانی سی عمر کی وہی نرس اس کے کندھے کی بینڈ ایج کر رہی تھی۔اسکا ایک ایک قدم بھاری ہوتا گیا‘وہ جو اتنی پلاننگ کر کے آئی تھی ہوا ہو گئی تھی۔اسکا دل پھٹ کر باہر آنے کو تھا وہ آدمی اپنے ہوش و حواس میں اس کے سامنے بیٹھا تھا۔ایک لمحے کو اس نے سوچا دروازہ کھولے اور بھاگ جائے۔مگر وہ اب سر اٹھا کر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ حیا کو اپنے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہوا، وہ جل رہے تھے پیروں کی لغزش اسے محسوس ہو رہی تھی مگر وہ چلتی رہی یہاں تک کہ اس کے بیڈ کے قریب پہنچ گئی۔وہ اب بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔پلکیں جھپکے بغیر یک ٹک!
”میں تم سے کچھ بات کرنے آئی ہوں۔پھر تم کچھ بھی کہو غصہ کرو‘چلاؤ‘کوئی فرق نہیں پڑتا۔“ وہ اپنے ہاتھوں کی کپکپاہٹ چھپانے کو ان کو آپس میں جوڑے ہوئے تھی اور نظریں چادر سے ڈھکی حمزہ کی ٹانگوں پر تھی۔اسے پاس رکھے اسٹول پر بیٹھنے کا ہوش بھی نہیں رہا تھا۔
”یہ مت سمجھنا کہ پہلے کی طرح تم مجھے ڈرا دھمکا لو گے اور میں تمہارے خوف سے پیچھے ہٹ جاؤں گی۔“ اسے اپنا ماتھا تپتا محسوس ہو رہا تھا۔وہ اس کی نظریں خود پر محسوس کر رہی تھی۔ایک دم گلے کی گلٹی ابھری اور نیچے کہیں گم ہو گئی۔اس نے نظر اٹھا کر اس قاتل مریض کو دیکھا جس کی نگاہیں ابھی بھی اس پر جمی تھیں۔ایک لمحے کوانکی نظریں ملی۔بہت کچھ ان آنکھوں سے ان چھوٹی بھوری آنکھوں تک گیا۔حیا نے اپنی ہڑ بڑاہٹ چھپانے کو ایک نادیدہ لٹ منہ سے ہٹائی۔
”میرا فیصلہ نہیں بدلے گا۔“ نرس کو نظر انداز کیے اس نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا۔اسکی آواز کانپ رہی تھی مگر یہ صرف وہ ہی جانتی تھی۔وہ کچھ نہیں بولا‘کتنی دیر اسے یوں ہی دیکھتا رہا۔اس کا رہا سہا اعتماد بھی ہوا ہونے لگا۔آنکھوں میں بے چینی در آئی۔اس نے کچھ کہنے کو لب کھولے مگر حمزہ کے الفاظ نے جیسے اس کی روشن صبح دوبارہ اندھیر کر دی۔جو پہلی کرن آئی تھی وہ صدیوں کا سوگ لیے مڑ گئی۔وہ ساکت کھڑی اسے دیکھتی رہی۔
”ڈو آئی نو یو مس؟“ وہ اجنبیت سے بولا۔میں ’مسز ہوں‘ وہ تصیح کرنا چاہتی تھی مگر بے یقینی سی بے یقینی تھی۔وہ اسے دیکھتی رہی….دیکھتی رہی۔یہاں تک کہ آنکھیں دھندلانے تھی۔سامنے بیٹھے شخص کا عکس آنسوؤں میں جھلملانے لگا۔اس کا تنفس تیز ہو گیاتھا۔وہ سرعت سے مڑی‘موٹے موٹے آنسواسکے گالوں پر لڑھکنے لگے تھے۔ وہ قدم کہیں رکھتی تھی‘پڑ کہیں رہا تھا۔اور پھر کھٹاک سے دروازہ کھلا اور بے آواز بند ہوتا گیا۔وہ بند دروازے کو گھورتا رہا۔نرس اس تکلیف دہ منظر کی گواہ بن گئی۔
وہ اب تیز تیز قدم اٹھاتی راہداری میں آگے بڑھ رہی تھی۔آنسو بد ستور گرتے جا رہے تھے، ساری رات کے جاگتی آنکھوں سے دیکھے خواب اس آدمی نے ایک لمحے میں چکنا چور کر دیے تھے۔وہ اسے بھول گیا؟ حیا کو بھول گیا؟ اپنی منکوحہ کو بھول گیا؟اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔شاید یہ اس کے اپنے کیے کی سزا تھی۔اگر بے فضول بد دعائیں دی جائیں تو وہ عرش سے ٹکرا کر دینے والے کو واپس آجاتی ہیں۔دور اپنے بچپن سے باپ کی آواز آئی تھی۔اس کی اپنی بد دعائیں اس کا تعاقب کرتی آپہنچی تھیں۔آنسوؤں کے گرنے کی رفتار بڑھ گئی، دل میراتھن میں دوڑتا رہا۔کان،ہاتھ اور ماتھا تپ تپ کر دھواں ہوتے رہے اور یک لخت دماغ ماؤف ہو گیا۔
اب واپس ہسپتال کے کمرے میں دیکھیں تو وہ اب تک بند دروازے کو دیکھ رہا تھا۔نرس اب دوسرے کندھے کی پٹی بدل رہی تھی۔
”آپ ان کو نہیں جانتے؟“ اس نے دوائی لگی روئی سے اس کے کندھے کو دبایا‘ وہ زخم کے درد سے کراہ کر ہوش میں آیااور پھر سوالیہ نظروں سے نرس کو دیکھا۔
”آپ ان کو نہیں جانتے؟ میں پچھلے تین دن سے ان کو دن رات یہاں بیٹھے دیکھ رہی ہوں اور آپ ان کو نہیں جانتے؟“وہ اب کندھے پر پٹی باندھ رہی تھی۔حمزہ نے آنکھیں سکیڑی‘پھر بند دروازے کو دیکھا۔
”آف کورس میں اسے جانتا ہوں۔“وہ بڑبڑایاتھا۔نرس نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔دونوں میاں بیوی پاگل ہیں؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جب اسے ہوش آیا تو اس نے خود کو حمزہ کے کمرے میں اس کے بیڈ پر لیٹے پایا۔کسی عورت کی جانی پہچانی آواز کانوں میں پڑ رہی تھی۔آواز کس کی تھی؟ وہ پہچان نہیں پا رہی تھی. تھوڑی دیر وہ یوں ہی لیٹی چھت کو گھورتی رہی, یہاں تک کہ حواس بحال ہو گئے۔سب کچھ دوبارہ فلم کی ریل کی طرح نظروں کے سامنے چلنے لگا۔ان آنکھوں میں اجنبیت تھی۔اس کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا۔
وہ کہنیوں کو بیڈ پر ٹکائے اٹھی۔صوفے کی طرف گردن گھمائی جہاں ردابہ فون پر بات کرتی دکھائی دی تھی۔حیا کو اٹھتے دیکھ کر انہوں نے فون بند کیا اور اس کی طرف آئی۔
”کیسا محسوس کر رہی ہو؟“ وہ بے چینی سے پوچھ رہی تھی۔
”لاسٹ (کھوئی ہوئی)۔وہ مجھے نہیں پہچانتا۔مسز ہارون‘ہی مائیٹ ہیو لاسٹ ہز میموری۔“ آنکھوں میں سرخ دھاریاں نمایاں ہونے لگی۔اور آنکھیں ابلنے کو تھیں۔جب ردابہ نے اس کی گود میں گرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھاما۔اس کے ہاتھ سرد تھے…….بالکل برف!
”حیا بچے‘مجھے تم سے نفرت نہیں ہے لیکن مجھے حمزہ سے بے انتہا پیار ہے۔ وہ صرف میری بہن کا بیٹا نہیں ہے‘ وہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔اور اس کو دی گئی ذرا سی بھی تکلیف میں برداشت نہیں کروں گی۔ مجھے اپنے حمزہ کے لیے ایسی لڑکی چاہئیے تھی جو اس کا بہت خیال رکھے۔ مجھے تم سے کوئی شکایت نہ ہوتی‘ اگر حمزہ اس دن اپنا آپا نہ کھوتا۔ مگر دیکھو نا اللہ کتنی بہترین تدبیر کرتا ہے۔ بے شک وہ حکمت والا ہے۔ تم اگر وہ تصویریں نہ لگاتی، حمزہ تم پر نہ چلاتا تو ہمیں پتا ہی نہ چلتا وہ کس عذا ب میں ہے۔“
”حیا‘ جب میں نے تمہیں اس گھر سے نکالا‘مطلب انسٹیٹیوٹ بھیجا۔“ اس نے تصیح کی۔
”تو میں نے یہ ہی سوچا تھا کہ کچھ عرصے بعد تمہیں کسی بہانے یہاں بھیج دوں گی۔کیونکہ انسٹیٹیوٹ تمہارے مزاج اور اندرونی حالت کو بدل دے گا اور تم حمزہ کو اس فیز سے نکالنے میں ضرور مدد کرو گی۔تب میں صرف حمزہ کی ماں بن کر سوچ رہی تھی۔ مگر اب جب اس کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ تمہارا اپنا ہے تو یاد رکھنا تم اکیلی نہیں ہو۔اسلام آباد کا ردابہ نگر تمہارا میکہ ہے۔“ وہ اس کا ہاتھ دباتے ہوئے دھیرے سے مسکرائی‘ پھر دوبارہ بولی۔
”مگر ردابہ تمہاری ساس ہے۔“وہ سنجیدہ ہو گئی تھی۔یہ کیا رشتہ بنا تھا؟حیا کو سمجھ نہیں آیا۔
”حمزہ سے لڑ کر تم اسلام آباد آ سکتی ہو۔“وہ اب مسکراہٹ دبا رہی تھی۔”لیکن اگر میرے بچے کو پریشان کیا نا۔“ردابہ نے تنبیہی انداز میں انگلی اٹھائی۔”میں ساس کی طرح پیش آؤں گی۔“ انداز ہلکا پھلکا تھا۔
”حیا‘ہم میں بہت سے لوگ ہیں جو ذہنی مسائل کا شکار ہیں‘وہ اندر ہی اندر گھٹ رہے ہیں۔کوئی عام انسان ہو یا کوئی بڑا عہد دار اس بات سے فرق نہیں پڑتا۔ یہاں زیادہ تر لوگ ذہنی بیمار ہیں۔“
” حمزہ مینٹلی اَن سٹیبل ہے۔ہی از مینٹلی ان ہیلتھی۔اس کے دماغ میں فیڈ ہے کہ یہ رانیہ اور اپنے ماں‘باپ کی موت کا ذمہ دار ہے، تبھی وہ خود سے نفرت کرنے لگا ہے۔ تم نے یہ فائل اس کے دماغ سے ڈیلیٹ کر کے‘سیلف لو کی فائل انسٹال کرنی ہے۔“ اس نے ٹھنڈی سانس لبوں سے خارج کی اور دوبارہ نگاہیں حیا کے چہرے پر مر کوز کر لیں۔
”ہم اپنے بچوں کی جسمانی بیماریوں کا تو خیال رکھتے ہیں مگر ذہنی بیماری کو ہم معیوب سمجھتے ہیں،پاگل ہونا سمجھتے ہیں،ہر ذہنی مریض پاگل نہیں ہوتا حیا۔“
”بچے‘تمہیں اس گھر میں حمزہ کے ساتھ نہیں اس کی عادات کے ساتھ رہنا ہے۔تو پہلے اس کی نفسیات سمجھنے کی کوشش کرنا۔“
”بلکہ ہر لڑکی کو سائیکالوجی اتنی ضرور پڑھنی چاہئیے کہ اسے لوگوں کی نفسیات سمجھ آنے لگ جائے‘پھر وہ اپنے سسرال میں جا کر وکٹم نہیں بنے گی بلکہ لوگوں کو ان کی نفسیات کے مطابق لے کر چلے گی۔“ حیا نے بس گردن ہلائی۔
”ایک کہانی ہے،سنو گی؟“ حیا کو لگا وہ ڈاکٹر ہارون کا فی میل ورژن ہے۔اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
”ایک آدمی کافی عرصے سے اپنے باس سے بات کرنا چاہتا تھا کہ اس کی تنخواہ اب بڑھا دی جائے۔لیکن اس میں اتنا اعتماد نہیں تھاکہ وہ اپنے دل کی بات زبان پر لا سکے۔ ایک صبح اس نے اپنے بیوی سے کہا‘آج میں ضرور باس سے تنخواہ بڑھانے کی بات کروں گا۔ وہ اپنے دفتر گیا اور ہمت کر کے اس نے باس سے تنخواہ کی بات کر لی۔ آدمی محنتی تھا‘تو اس کے باس کو بھی کوئی اعتراض نہ ہوا۔ وہ یہ خبر اپنی بیوی کو سنانے کے لیے بے قرار تھا۔ وہ گھر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی نے اس کے لیے کھانے کا خاص اہتمام کر رکھا ہے۔ نئے برتن‘اس کی پسند کا کھانا‘موم بتیاں‘غرض اپنے شوہر کو اسپیشل محسوس کروانے کے لیے اس کی بیوی نے تمام تر انتظامات کر رکھے تھے۔شوہر نے سوچا‘شاید آفس میں سے کسی نے فون کر کے بتا دیا ہو گا کہ میری تنخواہ بڑھ گئی ہے۔ وہ میز پر بیٹھا تو وہاں ایک کارڈ پڑا تھا اور اس پر لکھا تھا‘ مبارک ہو[مجھے پتا تھا تمہاری تنخواہ بڑھا دی جائے گی۔ یہ تمام تر انتظامات میں نے اس لیے کیے ہیں تا کہ تم جان سکو کہ میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں۔ اس کے بعد بیوی نے ایک ایک کر کے اپنے شوہر کو تمام کھانے پیش کیے۔ پھر جب وہ ڈیزرٹ لینے کچن میں گئی تو اس کے ایپرن سے ایک کارڈ نیچے گر گیا۔ شوہر نے جب وہ کارڈ اٹھا کر پڑھاتو اس پر لکھا تھا۔پریشان مت ہو‘چاہے تمہاری تنخواہ نہ بڑھی ہولیکن میں جانتی ہوں تم اس سے کہیں زیادہ ڈیزرو کرتے ہو۔ یہ کھانا اور یہ انتظامات تمہیں بتانے کے لیے ہیں کہ میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں۔“ ردابہ خاموش ہو گئی‘تو حیا بولی۔
”مجھے حمزہ کو مکمل طور پر قبول کرنا ہے۔صرف اس کی خوشیوں میں اس سے پیار نہیں کرنا‘اس کی مشکلات میں‘اس کے دکھوں میں بھی ویسے ہی اسکا ساتھ دینا ہے۔“
”ہاں‘تمہارا پیار حمزہ کے لیے اسکی مینٹل ہیلتھ کو لے کر غیر مشروط ہونا چاہئیے۔تمہیں اسے مکمل قبول کرنا ہو گا‘اس کی خامیوں کے ساتھ‘اسکے ماضی کے ساتھ۔جب پوری دنیا اسے ریجیکٹ کر دے‘تب تم نے اسے قبول کرنا ہے۔جب پوری دنیا اس کے خلاف کھڑی ہو جائے‘تم نے اس کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔اگر انسان کو پوری دنیا ٹھکرا دے اور صرف ایک انسان ایسا ہو جو اسے مکمل پیار دے اور مکمل طور پر اسے قبول کرے اور اس کا ساتھ دے تو وہ انسان جو چاہے حاصل کر سکتا ہے۔“ حیا نے اثبات میں سر ہلایا تو ردابہ آگے بولی۔
”حیا‘حمزہ کو کسی کا سہارا نہیں‘ساتھ چاہئیے۔سہارا اسے میں دے سکتی تھی‘ مگر ساتھ اسے تم دو گی۔“
”اور ہاں برداشت مت کرنا‘ صبر کرنا کیوں کہ حکم صبر کا ہے۔“ وہ مسکرائی اور حیا الجھی سی گئی تھی۔”اگر وہ غصہ کرے‘چیزیں ادھر ادھر پھینکے اس پر صبر کرنا‘وہ مینٹلی ابھی خود سے لڑ رہا ہے۔لیکن اگر وہ تمہیں جسمانی نقصان پہنچائے یا کردار کشی کرے تو یہ برداشت مت کرنا۔“
”حیا‘نکاح وہ رشتہ ہے جس میں میاں‘بیوی اور تیسرا اللہ ہے۔دس شوڈ بی یور پرائیویسی ود حمزہ۔اگر پیار تم دونوں کے بیچ ہے نا تو لڑائی جھگڑے بھی اپنے تک رکھنا یہ ہی ایک مضبوط رشتے کی بنیاد ہے۔“
”اور ہاں بارش وہ ہی اچھی ہوتی ہے جس کے قطرے آرام آرام سے گریں،تیز بارش سیلاب لاتی ہے،زمینیں سیراب نہیں کرتی۔تو فوراً سے اسے بدلنے کی کوشش مت کرتا،آرام آرام سے آگے بڑھنا تا کہ اسے تمہاری، محبت،کئیر سب جزب کرنے کا وقت ملے۔ورنہ تیزی سے گرنے والے قطرے ندی نالوں میں بہہ جاتے ہیں۔“
”ٹھیک ہے؟“ اور حیا نے صرف اثبات میں سر ہلایا اور پھر الجھی ہوئی سی بولی۔
”مسز ہارون وہ مجھے نہیں پہچانتا۔اس کی میموری….“ ردابہ نے اس کی بات کاٹ دی تھی۔
”اس کی میموری میں ٹھکانے لگاتی ہوں‘بد تمیز لڑکا۔“ وہ خفا سی اٹھ کھڑی ہوئیں۔حیا کو ان کی بات کا مطلب سمجھ نہیں آیا تھا۔مگر ردابہ اس سے مزید کوئی بات کیے بغیر فون کان سے لگاکرباہر نکل گئی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
باہر سورج زمین کو دہکا رہا تھا، مگر ہسپتال کے اس پرائیویٹ کمرے میں اے سی کی ٹھنڈک بر قرار تھی۔دروازہ کھول کر اندر جاؤ تو سامنے بیڈ پر حمزہ سرہانے سے اٹھے بیڈ پر ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ اس کے دائیں طرف شیری ڈش میں ایک باؤل رکھے وقفے وقفے سے چمچ حمزہ کے منہ تک لے جاتا اور بائیں طرف پڑے اسٹول پر بیٹھی انیقہ دونوں ہاتھوں میں سیل فون لیے زرا کی زرا نظر اس پر ڈال لیتی۔شیری کے پیچھے دیکھو تو دیوار کے پاس پڑے صوفے پر ردابہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے حمزہ کو چبھتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
”شیری تم پریشان حال لگتے ہو۔“ فون کو چہرے کے سامنے سے ہٹاتی انیقہ نے ایک نظر اس پر ڈالی۔
”تم جیسی ڈائن جس کی زندگی میں ہو وہ پریشان حال ہی ہو گا۔“ وہ تنک کر بولا تھا۔انیقہ نے ہنسی چھپانے کو فون دوبارہ چہرے کے سامنے کر لیا۔وہ دوبارہ باؤل سے چمچ اٹھاکرحمزہ کے منہ تک لایا‘وہ بھی اسے بغور دیکھ رہا تھا۔چمچ اس کے منہ کے سامنے تھا مگر حمزہ نے منہ نہیں کھولا۔
”کچھ چھپا رہے ہو؟“حمزہ اسے کریدتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔کن اکھیوں سے وہ ردابہ کا بگڑا موڈ دیکھ سکتا تھا۔شیری نے چمچ والا ہاتھ نیچے گرایا،ایک دم ڈھیلا پڑا مگر پھر قدرے سنبھل کر بولا۔
”میں کیوں کچھ چھپاؤں گا؟“ باؤل میں بے وجہ چمچ ہلاتے ہوئے وہ بے زاری سے بولا۔حمزہ کو تسلی نہیں ہوئی تھی۔
”شیشہ دیکھا ہے؟ تمہاری آنکھوں کے نیچے حلقے بن رہے ہیں‘تمہاری آنکھیں اندر کو دھنستی جا رہی ہیں۔اور پھر تم کہہ رہے ہو کچھ نہیں چھپا رہے۔“ وہ برہم تھا۔تبھی ردابہ کا فون بجا اور وہ باہر نکل گئی۔
”ہو سکتا…..ہے۔“ انیقہ نے فون چہرے کے سامنے سے ہٹائے بغیر الفاظ کو کھینچ کر ادا کیا۔”کسی لڑکی وڑکی کا چکر ہ۔یو نو۔“ وہ آگے بھی کچھ کہنا چاہتی تھی مگر بات ادھوری رہ گئی۔
”تم اپنا منہ بند رکھو گی؟“ شیری تقریباً چلایا تھا۔انیقہ نے ایک دم ڈر کر اسے دیکھا۔ماحول میں سنگینی در آئی تھی۔انیقہ کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔
”میں….تو بس….مذاق۔“ انیقہ نے صفائی دینا چاہی مگر اس کی آواز رندھ گئی اوروہ بڑے بڑے قدم اٹھاتی باہر چلی گئی۔شیری نے آنکھیں سختی سے بند کر کے کھولیں حمزہ کے تاثرات یک دم بدل گئے تھے۔
”یہ کیا بد تمیزی ہے شیری؟“ وہ دبا دبا غرایا۔ ”آئی ڈونٹ نو‘میں اس کے ساتھ یوں نہیں بولنا چاہتا تھا لیکن….پتا نہیں۔“ وہ کوئی جواب نہیں بنا پایا۔حمزہ کی نظریں اس کے چہرے کی بے زاری پڑھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔کچھ تو بدلا تھا۔
”میں اس سے سوری کر لوں گا۔“ وہ دفعتا اٹھا اور انیقہ کے پیچھے لپکا۔تبھی ردابہ اپنے فون پر جھکی اندر داخل ہوئی۔ حمزہ کاہاتھ فورا اپنے بالوں میں گیا۔ وہ جانتا تھاردابہ اس سے خفا ہے اور خفگی کی وجہ سے بھی وہ بخوبی واقف تھا۔ردابہ سپاٹ چہرہ لیے دوبارہ صوفے پر جا کر بیٹھ گئی اور اب ایک بار پھر وہ حمزہ کو دیکھ رہی تھی۔۔حمزہ کا دماغ الجھا ہوا تھا۔کچھ لمحے خامشی کی نظر ہو گئے، حمزہ سامنے دیوار کو گھورتا رہا اور ردابہ اسے۔حمزہ کی برداشت جواب دینے لگی۔
”کچھ کہنے آئی ہیں تو کہہ لیں۔“ اس نے دیوار سے نظریں ہٹائے بغیر کہااور ردابہ کو تو جیسے یہ ہی انتظار تھا وہ فورا اٹھ کر بیڈ کی طرف آئی۔
”تم نہیں جانتے وہ لڑکی کون ہے؟“ وہ آنکھیں سکیڑے اسے دیکھ رہی تھیں۔
”کون سی لڑکی؟“ وہ انجان بنا رہا۔ردابہ شیری کے چھوڑے اسٹول پر بیٹھ گئی۔
”میں تھپڑ لگاؤں گی تمہیں‘ اور تمہارا سارا میموری لاس ٹھیک ہو جائے گا۔“ ردابہ نے دھمکی دینے کے ساتھ اس کے بازو پر تھپڑبھی جڑ دیا تھا۔حمزہ نے سنجیدگی سے گردن گھما کر اسے دیکھا۔”میری زندگی میں کسی کی گنجائش نہیں ہے۔“
”میرا بچہ‘ تم اکیلے رہ جاؤ گے۔“ اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کے گال پر رکھا۔
”میں ہمیشہ اکیلا ہی رہا ہوں ماسی‘ مجھے عادت ہے۔“ اس نے خفا سی نظر ردابہ پر ڈالی، جیسے کچھ یاد کروایا ہو۔
”حمزہ بھول جاؤ اس بات کو‘ اب اپنی زندگی میں آگے بڑھو۔“ ردابہ نے اس کے چہرے پر رکھا ہاتھ گرا لیا۔
”آپ کو مجھے نہیں بتانا چاہئیے تھا کہ حیا کو آپ نے انسٹیٹیوٹ بھجوا دیا ہے‘مجھے کس بات کی سزا دی آپ نے؟“ ردابہ کو اس سوال کی توقع نہیں تھی وہ سٹپٹائی۔
”کس نے کہا تم سے….حیا…نے؟“ حمزہ کو کیسے پتا چلا وہ الجھ گئی تھی۔
”کم آن ماسی‘میں نے اتنے سال پولیس میں اور پھر پچھلے چار سال پولیس کی اسپیشل برانچ سے منسلک رہ کر یوں ہی نہیں گزار دیے۔ ہم لوگوں کو قبروں سے بھی ڈھونڈ نکالتے ہیں۔“
”اب عدالت لگا لو مجھ پر‘جو کیا تمہارے لیے ہی کیا تھا‘تم ہی اس سے تنگ تھے۔“ ردابہ کو اس کا لہجہ برا لگا تھا۔
”تو اب کیوں لائی ہیں؟“ وہ تنک کر بولا اور ردابہ نے اپنے کندھے پر ڈھلکتے بال پیچھے گرائے۔
”وہ یہاں رہنا چاہتی ہے۔“
”کیوں؟“
”تم خود پوچھ لینا۔“ ردابہ نے بات ختم کی اور حمزہ نے سر ہلاتے ہوئے دوبارہ اپنی نظریں دیوار پر لگی پینٹنگ پر مرکوز کر لیں۔
”ٹھیک ہے‘ جس کو جہاں رہنا ہے رہے مگر میرے سے دور رہے۔“ آخری بات پر اس نے ردابہ کو دیکھا۔چلو مسئلہ حل ہو گیا تھا چاہے جیسے بھی سہی۔وہ جانتی تھی اس سب کے پیچھے ناراضگی صرف ہارون سے ہے‘اور باقی اس قہر کی زد میں ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اگلے دو دن سست اور بے زار سے گزرے۔حیا نے خود کو حمزہ کے کمرے میں قید رکھا اور حمزہ اپنے ڈسچارج ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ڈاکٹر ہارون ایک دو کام نمٹا کر پہلے ہی اسلام آباد جا چکے تھے, جنت کی چھٹی بھی اس کے ساتھ ہی ختم ہو گئی تھی۔باقی رہ گئے ردابہ اور انیقہ تو حمزہ کی حالت سنبھل چکی تھی وہ بھی آج صبح ہی اسلام آباد کے لیے نکل گئے تھے۔
مغرب کے بعد حمزہ کو ڈسچارج ہو کر گھر آنا تھا اور پانچ دن بعد آج شیری نے اس گھر میں قدم رکھا تھا. وہ سیڑھیاں پھلانگتا اوپر آیا، حمزہ کے کمرے میں داخل ہوا پر وہاں تو وبال مچا تھا،پورا کمرہ بکھرا پڑا تھا اور حیا دوپٹہ کندھے سے اپنی کمر پر باندھے اس کی سیف میں جھکی تھی۔
”یہ کیا حال کر رکھا ہے آپ نے کمرے کا؟ حمزہ بھائی دیکھیں گے تو جان لے لیں گے۔“ وہ واقعی پریشان نظر آنے لگ گیا تھا۔حیا چونک کر سیدھی ہوئی اور پھر بھنوؤں کو سکیڑتی اس کی طرف آئی۔”تمہارے بھائی کو تو میں بعد میں دیکھ لوں گی،پہلے تم بتاؤ ذرا۔“ سینے پر ہاتھ باندھے اب وہ اس کے سامنے کھڑی تھی۔
”تم نے تو مجھ سے کہا تھا کہ حمزہ میرا پوچھ رہا تھا‘لیکن جب میں اندر گئی تو اس نے مجھے پہچاننے سے بھی انکار کر دیا۔“ آخری الفاظ اس نے دانت پیستے ہوئے کہے تھے۔بے اختیار شیری کا ایک ہاتھ بالوں میں گیااور سر کھجاتے وہ پر سوچ انداز میں بولا۔”آپ باہر بیٹھی تھیں‘مجھے اچھا نہیں لگا تو…..میں….نے….جھوٹ کہا تھا۔“ وہ رک رک کر بولا۔حیا نے ایک ٹھنڈی سانس لبوں سے خارج کی اور واپس سیف کی طرف مڑ گئی۔
”دونوں بھائی ایک جیسے ہیں….جھوٹے۔“ وہ بڑبڑائی تھی۔شیری کے کانوں تک اس کی آواز نہیں گئی تھی۔ورنہ وہ احتجاج ضرور کرتا۔
”حمزہ بھائی کی شرٹ دے دیں۔شام کو وہ گھر آ رہے ہیں۔“ وہ اب بھی دروازے میں کھڑا تھا۔
”ہونہہ۔“حیا نے ایک برہم نگاہ شیری پر ڈالی اور سیف کے اوپر والے پورشن سے اس کی شرٹس دیکھنے لگی۔وہ واپس مڑی تو اس کے ہاتھ میں ایک سیاہ ٹی شرٹ اور سیاہ جینز تھی۔حمزہ کے کندھوں کے زخموں کی مناسبت سے اس نے کھلے گلے کی ٹی شرٹ نکالی تھی۔
”نائس چوائس بھابھی۔“ شیری نے شرٹ تھامتے ہوئے اسے سراہا،باہر گیا اور پھر واپس آیا۔ ”بائے دی وے‘حمزہ بھائی آپ کو پہچانتے نہیں ہیں‘تو اب آپ کیا کریں گی؟“ اس کے ذہن میں آیا تو وہ پوچھنے واپس آیا تھا۔”اسے میں بتاؤں گی کہ حیا کون ہے‘ اور ایسا بتاؤں گی کہ وہ ساری زندگی نہیں بھولے گا۔“ وہ گردن تان کر کھڑی تھی۔شیری کے لب بے اختیار گہری مسکراہٹ میں ڈھلے۔
”مزہ آ ئے گا۔“ اس نے بائیں آنکھ دبائی۔
”بہت مزہ آئے گا۔“ حیا نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا۔پھردونوں کا ایک ساتھ لگایا قہقہہ گھٹن زدہ ماحول کا تناؤ کم کر گیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
عشاء کی نماز پڑھ کر وہ کچن میں آ گئی تھی۔جہاں بی اماں مزے مزے کے کھانے بنانے میں مصروف تھیں۔شیری،شیروان اور زویان حمزہ کو گھر لانے کے لیے نکلے تھے علی اور باقی لوگ اس کے استقبال کو گھر پر موجود تھے۔سمایا اس وقت حیا کے ساتھ کچن میں کھڑی تھی اور وہ اس سے گزرے دنوں کا احوال سن رہی تھی۔بریانی،قورمے اور تکوں کی مہک پورے لاؤنج میں پھیلی ہوئی تھی۔دفعتاً علی کی آواز پر سمایا باہر نکلی اور حیا کچن کے ریکٹینگل سے،جس سے لاؤنج کا منظر واضح ہوتا تھا،باہر دیکھنے لگی۔
سیاہ شرٹ اور جینز میں ملبوس وہ نقاہت سے قدم اٹھاتا اندر داخل ہوا تھا۔
”بھائی…بھائی…بھائی۔“علی اس کی طرف بڑھا اور اس کے گرد بازو لپیٹتے گلے لگایا۔حمزہ کے زخم ابھی تازہ تھے مگر پھر بھی جواباً اس نے بھی علی کے گرد بازو لپیٹے۔علی نے پیچھے ہوتے ہوئے عادتاً ایک مکا اس کے بائیں کندھے سے نیچے سینے پر مارا اور وہ درد سے کراہا۔
”جاہل انسان‘اب یہ واقعی درد کرتا ہے۔“ اس نے دبا دبا سا احتجاج کیا۔علی نے مسکراتے ہوئے دونوں ہاتھ اٹھا کر معذرت کی اور سب وہیں لاؤنج میں محفل سجا کر بیٹھ گئے۔
اب اگر کھڑکی سے دیکھو تو حیا سفید شلوار،قمیص میں ملبوس کھڑی تھی۔سیاہ دوپٹہ گلے سے لگا تھا اور سیدھے لمبے بال کمر کو چھو رہے تھے۔ہلکے میک اپ کے ساتھ بھی وہ کافی سجی سنوری لگ رہی تھی۔شاید عرصے بعد تیار ہوئی تھی اسی لیے!
وہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے لیٹنے کے سے انداز میں صوفے پر نیم دراز تھا۔
”جوس لے لیں۔“ نسوانی آواز پر اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں وہ شیشے کا گلاس چھوٹی ڈش میں رکھے معصومیت سے مسکراتے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔حمزہ نے اپنی پھیلی ٹانگیں سمیٹی اور تھوڑا سنبھل کر بیٹھ گیا۔وہ خوبصورت لگ رہی تھی۔یہ پہلا خیال تھا جو اسے آیا،اس نے فوراً اس کے چہرے سے نظریں ہٹائیں،پھر ایک نظر لاؤنج میں بیٹھے لوگوں پر ڈالی جو اب اسے ہی دیکھ رہے تھے۔حمزہ نے ہاتھ بڑھا کر گلاس اٹھایا،دو گھونٹ بھرے اور آنکھوں پر آنکھیں جمائے گلاس واپس رکھ دیا۔اس کی آنکھوں میں بے نیازی تھی اور سامنے آنکھوں میں محبت،احساس اور اعتماد تھا۔وہ مڑنے لگی تو علی کی آواز اسے سنائی دی۔
”حیا‘ایک گلاس پانی پلیز۔“ اور چند سیکنڈ بعد وہ گلاس علی کو تھما رہی تھی۔پھر گلاس واپس لیتے ہوتے وہ نرمی سے اس سے مخاطب ہوئی۔
”علی بھائی‘آپ مجھے حیا بھی کہہ سکتے ہیں لیکن اگر آپ مجھے بھابھی کہیں گے۔“ اس نے ذرا کی ذرا نظر ٹی وی کا چینل بدلتے حمزہ پر ڈالی۔ ”تو مجھے بہت اچھا لگے گا۔“ علی نے مسکراہٹ دباتے بمشکل کہا۔”ضرور حیا….“ پھر سر اٹھا کر بآواز بلند کہا۔
”بھابھی۔“
اور حیا بھابھی اعتماد سے سر اٹھائے،حمزہ بھائی کے سامنے سے گزرتی کچن میں غائب ہو گئی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کھانے کا میز سج چکا تھا۔سربراہی کرسی پر حمزہ گود میں نیپکن پھیلائے بیٹھا تھا۔اس کے دائیں طرف شیری اور بائیں طرف کی کرسی خالی تھی،پھر آگے سمایا،زویان،علی اور شیروان بیٹھے تھے۔
”مجھے تو یہ سب دیکھ دیکھ کر بھوک لگ رہی ہے۔“ علی نے ہاتھ ملتے میز پر دیکھا۔
”میں نے حمزہ صاحب کی پسند کا کھانا بنایا ہے۔“ بی اماں برتن سیٹ کرتی پر جوش سی بولیں۔کھانا شروع ہو گیا۔حمزہ اپنی پلیٹ میں قورمہ ڈال رہا تھا جب سفید جوڑا زیب تن کیے حیا کچن سے بر آمد ہوئی۔
”آپ کو ڈاکٹر نے سپائسی کھانے سے منع کیا ہے۔“ وہ اب اس کے سر پر کھڑی مسکراتی ہوئی کہہ رہی تھی۔” آپ کے لیے میں نے الگ کھانا بنایا ہے۔” اس حمزہ کے سامنے سے قورمے کی پلیٹ اٹھا لی۔اور حمزہ جبڑے بھنچے اسے دیکھتا رہا۔
”ووہو‘ چشمِ بد دور‘ چشمِ بد دور۔“
”واؤ۔“
”لکی حمزہ سر۔“
میز پرمختلف آوازیں سنائی دیں۔اور حمزہ نے ایک ترش نظران پر ڈالی۔وہ کوشش کر رہا تھا کہ حیا کو جواب نہ ہی دے۔تو وہ چپ رہا۔
”کیا بات ہے بھابھی‘کھانے وانے‘ہاں؟“شیری‘جس کی پلیٹ اب تک خالی تھی‘اسنے ایک مشکوک مسکراہٹ حیا کی طرف اچھالی اورجواباًحیا نے اپنی مسکراہٹ دباتے کندھے اچکائے تھے۔”میں نے آپ کے لیے دلیہ اور کھچڑی بنائی ہے۔“ وہ اب جھک کر اس کے سامنے دو باؤل رکھ رہی تھی۔
”اوہ۔“ اب کہ افسوس کیا گیا۔
”پوور حمزہ بھائی۔“ شیری نے پلیٹ میں بریانی ڈالتے کہا۔
حمزہ کا ہاتھ اس کی کنپٹی مسل رہا تھااور نظریں حیا کے حرکت کرتے ہاتھوں پر تھی۔” ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق آپ کے کھانے اور دوائیوں کا خیال میں رکھتی رہوں گی۔اینڈ یو آر ویلکم! ” حیا نے سر کو خم دے کر نہ کہے گئے شکریہ کا جواب دیا۔حمزہ نے اچنبھے سے اسے دیکھا۔(زیادہ ہی نہیں بول رہی؟) پھر سر جھٹک کر باؤل ہاتھ سے پرے ہٹایا۔
”آئی ڈونٹ وانٹ ٹو ایٹ آل دس۔“ وہ ہاتھ بڑھا کر قورمہ پکڑنے لگا تھا جب شیری نے زور سے چمچ پلیٹ میں مارا۔
”اتنے سال ہو گئے ہیں آپکو کھانا بناتے ہوئے‘ لیکن مجال ہے کبھی ڈھنگ کا کھانا بنایا ہو۔“ اس کی مخاطب بی اماں تھی۔سب ہونقوں کی طرح اس کی شکل دیکھ رہے تھے۔حمزہ کا بڑھتا ہاتھ رک گیاتھا‘اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے۔
”شیری‘یہ کیا طریقہ ہے بڑوں سے بات کرنے کا۔“مگر شیری نے اس کو نظر انداز کر دیا تھا۔
”آپ عورتوں سے بہتر وہ….وہ زنانے اچھا کھانا بنا لیتے ہیں۔کم از کم کھانے کو دل تو کرتا تھا۔“ وہ اب کھڑا ہو گیا تھا۔حمزہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ یہ اس کا شیری تھا؟ غصے کی جگہ پریشانی نے لے لی تھی۔
”کم آن شیری‘میں نے وہ کھانا کھایا ہے انتہائی فضول ہوتا تھا اور دوسری بات وہ آدمی تھے جو تھرڈ جینڈر کے نام پر اپنے کرتوت چھپا رہے تھے۔“ شیروان نے پہلے اس کھانے کا مذاق اڑایا اور پھر اس کی تصیح کی۔شیری کی انگلی شیروان کی طرف اٹھی۔”اپنا منہ بند رکھو۔“ اس کی ہوا میں اٹھی انگلی لرز رہی تھی‘ماتھا پسینے سے تر تھا۔حمزہ کی طرف سے دیکھو تو اس کا پورا جسم کپکپا رہا تھا۔حمزہ میز کا سہارا لیتے کھڑا ہونے لگا اور پھر کراہ کر کرسی پر گر گیا۔حیا اس کی طرف بڑھی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا،حمزہ کا ہاتھ اب کندھے کے نیچے سینے پر تھا۔شیری اس کی طرف مڑا اور دوبارہ اٹھتے حمزہ کی طرف ہاتھ اٹھایا۔
”بیٹھ جائیں آپ‘مجھے کوئی لیکچر نہیں سننا۔“ اس نے حمزہ کا بھی لحاظ نہیں کیا تھا۔
”کھانا بھی ڈھنگ کا نہیں دے سکتے۔“ وہ بڑبڑاتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔علی اس کے پیچھے جانے کو کھڑا ہوا مگر حمزہ نے اسے روک دیا۔
”میں بعد میں اس سے بات کر لوں گا‘فی الحال اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔“ اس نے ایک نظر حیا کو دیکھا‘اس نے اپنے ہاتھ فورا اس کے کندھے سے کھینچ لیے۔اور پھر خاموشی سے کھانا ختم کیا گیا اور سب اپنے گھروں کو نکل گئے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!