Haya novel by Fakhra Waheed Ep 16

Haya novel by Fakhra Waheed

Haya novel by Fakhra Waheed Ep 16

گیارہ بجے تمام کام نمٹا کر وہ اوپر سیڑھیوں کی طرف بڑھی نظر حمزہ کے کمرے پر تھی۔جس کے پیچھے وہ غالباً حیا کا انتظار کر رہا تھا۔(یہ حیا کا خیال تھا) وہ کمرے کے سامنے جا کر کھڑی ہوئی گہرا سانس اندر کو کھینچا۔دو دن کی گئی اپنی پلاننگ کو ایک لمحے میں دہرایا۔اور دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ کھولا،منظر واضح ہوا،کمرے میں زرد روشنی تھی۔آنکھیں سکیڑ کر دیکھو تو حمزہ بیڈ پر سنگھار میز کی طرف کمر کے بل سیدھا لیٹا تھااور اس کابازو آنکھوں پر دھرا تھا۔اب اس کے نیچے آنکھیں کھولی تھیں یا بند؟ وہ جان نہیں پائی۔چھوٹے اور محتاط قدم اٹھاتی وہ سنگھار میز کے سامنے پڑے اسٹول پر جا بیٹھی، جس میں سے اب حمزہ کا ایک رخ نیم تاریکی میں نظر آرہا تھا۔وہی سیاہ شرٹ جس کا گلہ آگے سے کھلا تھا۔شیو پہلے سے بڑھی ہوئی تھی، وہ بظاہر سوتا ہوا لگتا تھا۔حیا نے ہلکے سے کنکھارا۔
”ویلکم بیک ٹو دی ہوم مسٹر حمزہ۔“ اور مسٹر حمزہ اپنی جگہ سے ہلے بھی نہیں۔”مجھے پتا ہے تم جاگ رہے ہو۔“ لاؤنج میں بیٹھا عزت دار ‘ آپ’ کر کے مخاطب کیا جانے والا شوہر اب ‘ تم ‘ ہو گیا تھا۔
”ٹڈیاں بھی بولنے لگ گئی ہیں۔“ وہ بڑبڑایا تھا۔آواز حیا کو سنائی دی مگر کیا بولا تھا وہ غور کرتی رہی۔پھر چپکے سے اٹھی اور حمزہ کے دوسری طرف پڑے خالی بیڈ پر دھپ سے بیٹھ گئی۔حمزہ نے فوراً آنکھوں سے بازو ہٹایا۔بھوری چھوٹی آنکھوں نے گھور کر حیا کو دیکھا جو بظاہر بے نیازی سے اپنے فون پر جھک گئی تھی۔
”تم….“ ایک کہنی بیڈ پر ٹکائے‘ دوسرے ہاتھ کی انگلی اس نے حیاکی طرف اٹھائی۔مگر زخم تازہ تھا بیڈ پر پڑی کہنی وزن برداشت نہیں کر سکی اور وہ کراہ کے رہ گیا۔
”جب نہیں ہوتا تو کیوں خود کو زحمت دیتے ہو۔“ وہ جھٹکے سے حمزہ کی طرف مڑی، اور اس کے بال پھسل کر حمزہ کے گالوں کو چھونے لگے، پھر وہ تھوڑا آگے کو جھکی۔اور زور دے کر جملہ مکمل کیا۔ ”ڈئیر…حمزہ…سر!“ اندر اس کا اپنا دل دھک دھک کر رہا تھامگر وہ مسکراتی رہی۔ کچھ لمحے یوں ہی آنکھوں ہی آنکھوں میں گزر گئے۔حمزہ کا اپنا دل بے ترتیب ہونے لگا تھا۔وہ اس کے پاس تھی‘بالکل سامنے‘اس پر جھکی ہوئی۔اس نے بیڈ کو مضبوطی سے تھاما اور اس سے پہلے کہ وہ کوئی ردِ عمل دیتا دروازے پر دستک ہوئی۔حیا بجلی کی سی تیزی سے سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔حمزہ کا اٹھتا ہاتھ دوبارہ بیڈ پر گر گیا۔دروازہ کھلا‘شیری اندر داخل ہوا۔اس کے بال گیلے تھے۔وہ شاید نہا کر آیا تھا تبھی پہلے سے بہتر دکھ رہا تھا۔
”میں اندر آجاؤں؟“ وہ اندر کھڑا ہی پوچھ رہا تھا۔حمزہ نے آنکھوں پر بازو رکھ لیا۔”تم اندر ہی کھڑے ہو لڑکے۔“ شیری کے پاس سے گزرتے ہوئے حیا نے اسے یاد دلایا۔اور وہ جھینپ کر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔حیا سنگھار میز کے سامنے پڑے اسٹول پر جا بیٹھی اور شیری حمزہ کے پیروں میں دوسری طرف پڑی خالی جگہ پر بیٹھ گیا۔
”بھابھی‘ آپ نے بلایا تھا مجھے؟“ حمزہ سے ڈرتے ہوئے اس نے حیا کو بیچ میں گھسیٹا۔اور وہ ’سیریسلی؟‘ والی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔چند لمحے اشاروں میں منت کی گئی اور حیا نے کنکھار کر حمزہ کو مخاطب کیا۔
”آ جی‘سنیں آپ کا بھائی آپ سے بات کرنا چاہتا ہے۔“ اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے وہ قدرے سنجیدگی سے بولی اور آ جی نے بازو آنکھوں سے ہٹا کر اسے گھورا۔(ٹڈی) اس سے پہلے کہ وہ چند اور منٹ حیا کو سخت ست سنانے میں گزارتا (اپنے خیالوں میں) شیری بول پڑا۔
”آئی ایم سوری بھائی‘ مجھے یوں نہیں بولنا چاہئیے تھا۔“ وہ سر جھکا ئے بیٹھا تھا۔حمزہ نے اوپر ہوتے ہوئے بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائی۔
”میں جان سکتا ہوں تمہارے اس رویے کی وجہ کیا ہے؟“ حمزہ کی آنکھوں میں پریشان سی خفگی تھی۔
”میں نہیں جانتا۔“ تین لفظوں میں جواب آیا۔حیا شیشے میں ان کے عکس دیکھ سکتی تھی۔
”مجھے اس کھانے سے الٹی آتی ہے۔میرے اندر کچھ ہے‘جو مجھے سکون نہیں لینے دیتا۔“ اس کی آواز میں بے بسی در آئی تھی۔
”اور کیا ہے تمہارے اندر؟“ حمزہ مضطرب نظر آنے لگا تھا۔شیری نے ایک نظر حیا کو دیکھا،حمزہ نے بھی نظر اس کی طرف گھمائی‘وہ ان دونوں کی طرف پشت کیے بیٹھی تھی۔
”میں نہیں سن رہی۔“ کانوں سے ٹاپس اتارتے ہوئے وہ بولی اور شیری نے سر جھٹکا۔ ”نہیں جانتا کیا ہے۔“
”تم مجھ پر بھروسہ کر سکتے ہو۔“ حمزہ کی آواز اسے دور سے آتی سنائی دی۔
”آپ پر ہی تو بھروسہ ہے۔“ وہ سرک کر حمزہ کے قریب ہو گیا تھا اور سر اس کے سینے پر گرا دیا تھا۔
”میں ٹھیک نہیں ہوں حمزہ بھائی۔“ وہ سامنے لگے ٹی وی کی سیاہ اسکرین کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
”یار‘ پتا تو چلے کیا ہوا ہے‘کیا مسئلہ ہے‘کیوں ٹھیک نہیں ہو تم؟“ وہ اس کی کمر تھپک رہا تھا۔حیا دونوں ہاتھ گود میں گرائے، شیشے میں ان کا عکس دیکھتی رہی۔ان کے درمیان خون کا رشتہ نہیں تھا مگر جو بھی تھا‘سگے بھائیوں سے بڑھ کر تھا۔
”سمایا نے کہا ہے کہ صبح ڈاکٹر کے پاس جائیں گے۔شاید کچھ پتا چل سکے۔“ وہ حمزہ سے الگ ہوتے ہوئے بولا۔زرد روشنی میں شیری کا رنگ اور زرد دکھ رہا تھا۔
”ہاں ٹھیک ہے۔تم فکر نہیں کرو‘میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا……ہاں؟“ اس کے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے حمزہ نے اسے یقین دلا یا۔شیری اس کے ہاتھ کو دباتا کھڑا ہو گیاتھا۔ابھی وہ دروازے تک گیا تھا کہ واپس مڑا۔اف! اس کی یہ جاتے جاتے مڑنے کی عادت۔
”سوری حیا بھابھی‘میں نے آپ لوگوں کا مومنٹ سپائل کر دیا۔“ وہ سنجیدگی سے کہہ کر باہر نکل گیا تھا۔حیا نے ہاتھ منہ پر رکھ کر مسکراہٹ چھپائی‘حمزہ کے چہرے پر بھی ایک رنگ آکر گزرا تھا۔مگر وہ ڈھٹائی سے یوں ہی بیٹھا دروازے کو دیکھتا رہا۔اور اب وہ سمایا کو میسج کر رہا تھا۔
”ڈاکٹر کی رپورٹ مجھے ای میل کر دینا۔“ دوسری طرف سے فوراً جواب آیا تھا۔”اوکے سر!“
حیا کپڑے تبدیل کر کے حمزہ کے مخالف سمت بیڈ پر بیٹھی موسچرائزر سے ہاتھ مل رہی تھی۔حمزہ شیری کی حالت کے مطابق متوقع بیماریوں کا اندازہ لگا رہا تھا جب اس نے حیا کو تکیہ سیٹ کرتے بیڈ کراؤنسے ٹیک لگاتے دیکھا اس نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔
”وہ صوفہ تمہارے لیے ہے۔“ اس نے حیا کو صوفے کا رخ دکھایا۔”یہ میرا کمرہ ہے۔“ حیا نے بند آنکھوں سے کہا۔
”یہ میرا…..کمرہ…ہے۔“ حمزہ نے چبا کر کہا۔
”اتنا شوق ہے تو خود جا کر صوفے پر….“ وہ احتجاج کرتی ہوئی سیدھی ہوئی مگر اس کا بازو حمزہ کی گرفت میں آچکا تھا۔
”ایک بار کہی بات تمہیں سمجھ نہیں آتی؟“ وہ اس سے چند انچ دور تھا۔حیا کی سانس تھم گئی تھی‘گلے میں گلٹی ڈوب کر ابھری، وہ جانتی تھی اس کی ہر پلاننگ اس ایک لمحے آ کر غارت ہو جانی تھی اور وہ لمحہ آن پہنچا تھا۔حمزہ کی آنکھیں اس پر جمی تھیں۔وہ خود اس کی خالی آنکھوں میں گم ہونے لگا تھا اور یکا یک حیا نے فیصلہ لیا۔ اسے حمزہ سے ڈرنا نہیں تھا‘بالکل نہیں ڈرنا تھا۔دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے دونوں بازو حمزہ کی گردن میں حمائل کیے‘لبوں کو زبردستی کھینچ کر مسکرائی۔”غصہ کرتے ہوئے تم اور بھی پیارے لگتے ہو۔”وہ مسکائی اور حمزہ اس ناگہانی آفت پر کرنٹ کھا کر پیچھے ہوا۔سیاہ شرٹ کو گردن سے پکڑ کر اوپر کو کھینچا۔”کیا بے ہودگی ہے۔“ وہ شعلہ بارنگاہوں سے اسے گھور رہا تھا اور وہ مسکراہٹ دبائے اس کی حالت سے محظوظ ہو رہی تھی‘ مگر گزرے لمحے کی کپکپاہٹ ابھی تک باقی تھی۔وہ ہاتھوں کو پیچھے کیے آپس میں رگڑ تی رہی۔حیا کا پلڑا بھاری ہو گیا تھا۔اب وہ کہاں سوتی ہے کہاں نہیں‘حمزہ نے دوبارہ تذکرہ نہیں کیا اور منہ پھیر کر لیٹ گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دونوں کی رات یوں ہی اس ایک لمحے میں مقید ہو گئی تھی۔حمزہ کبھی شیری کے بدلتے رویے کے بارے میں سوچنے لگتا اور پھر سوچ بھٹکتے ہوئے بیڈ کے دوسری طرف لیٹی حیا پر آ رکتی۔ اچھی بھلی چلی گئی تھی اب آئی اور دوبارہ اس کے حواسوں پر چھانے لگی تھی۔
دوسری طرف حیا تو ہوا میں تھی۔اس نے حمزہ کو چاروں شانے چت کیا تھا۔(آیا بڑا)
رات لمحہ بہ لمحہ سرکتی رہی۔سیاہ آسمان چھپ گیا اور صبح کی سفیدی پر سورج کی لالی ابھرنے لگی،حیا بیڈ سے اٹھی،حمزہ کو دیکھا۔وہ زیادہ دیر کندھے پر وزن نہیں ڈال سکتا تھا۔تو اب اوپر چھت کی سمت منہ کیے سویا پڑا تھا۔وہ کچھ دیر یوں ہی اسے دیکھتی رہی۔رات کا منظر آنکھوں کے سامنے لہرایا،لب مسکراہٹ میں ڈھلے،اور بے اختیار ہونٹوں سے پھسلا۔
”پیارا لڑکا۔“ اپنے الفاظ پر وہ چونکی اور محظوظ ہوتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی۔اس نے ہینڈل گھما کر پیچھے کو کھینچا وہ نہیں کھلا۔ایک بار‘دو بار مگر وہ نہیں کھلا۔اسے وہ پہلی رات یاد آئی جب وہ دروازہ نہیں کھول سکی تھی اور حمزہ کے ہینڈل گھماتے ہی دروازہ کھلتا چلا گیا تھا۔پرانی حیا ہوتی تو ڈر جاتی‘ مگر اب کے اس کے پاس اعتماد تھا اور اپنی بیڈ پر پڑی غافل محبت پر بھروسہ تھا‘سو وہ واپس مڑی اور اسے بازو سے ہلایا۔وہ نہیں ہلا تو زور سے ہلا کر بولی۔
”اٹھو‘مجھے یہ دروازہ کھول کر دو۔“ محبت سوتی بنی رہی تو حیا نے ہاتھ اس کے کندھے پر رکھ کر دبایا اور وہ کراہ کر اٹھا۔
”بے غیر..“ گالی اس کے منہ میں ہی رہ گئی تھی۔وہ آنکھیں پھاڑے سامنے کھڑی تھی۔اور وہ ناگواری سے منہ میں کچھ بڑبڑاتا دوبارہ آنکھیں موند کر لیٹ گیا۔
”یہ دروازہ کھول کے دو۔“ وہ قریباً چلائی اور حمزہ نے فٹ سے بازو آنکھوں سے گرایا۔آنکھوں میں پہلی سی ناگواری نہیں تھی۔ بلکہ چمک تھی فاتحانہ چمک۔
”دروازہ کھولنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے‘خود کھول لو۔“ وہ برا سا منہ بناتے ہوئے منہ پھیر گیا۔
”سمارٹ نہیں بنو‘کھولو یہ۔“ وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے کھڑی تھی اور وہ بے نیاز ڈھیٹ بن کر لیٹا رہا۔جب وہ نہیں اٹھا تو حیا ٹانگ پر ٹانگ جمائے اسٹول پر بیٹھ گئی۔
”ہم تم ایک کمرے میں بند ہو۔“ پھر ایک نظر حمزہ پر ڈالی۔”اور چابی کھو جائے۔“ وہ آنکھیں گھماتے ہوئے اونچا گنگنا رہی تھی۔حمزہ کو تو گویا لگ گئی تھی۔ایک لمحے میں دماغ نے مسافت کی اور رات کا منظر دماغ کے نہاں خانے میں نظر آیا۔وہ کہنیوں کے بل اٹھا اسے گھورا اور شرٹ ٹھیک کرتا دروازے تک آیا۔”یہ آخری بار ہے۔“ اس نے گھوم کر انگلی اٹھائی‘وہ اب دروازہ کھولے اسے باہر کا رستہ دکھا رہا تھا۔
”شکریہ‘ ڈئیر حمزہ سر۔“ اس کے پاس سے گزرتے ہوئے حیا نے سر کو خم دیا۔(آیا بڑا)
اس کے پیچھے کھٹاک سے دروازہ بند ہواتھا۔(ٹڈی)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حیا کو کمرے سے نکال کر وہ دوبارہ سو گیا تھا پھر اس کی آنکھ گیارہ بجے کھلی۔کچھ دیر وہ یوں ہی بیڈ پر لیٹا چھت کو دیکھتا رہا۔سائڈ ٹیبل سے فون اٹھایا اور ایک پیغام سمایا کے نام چھوڑا۔
”ڈاکٹر سے کہنا رپورٹ ڈائریکٹ مجھے میل کرے۔آئی وانٹ ٹو ہینڈل دس میٹر مائی سیلف۔“
اور پھر فون دوبارہ ٹیبل پر ڈال دیا۔زخم ابھی مندمل نہیں ہوئے تھے،کندھے اکڑے پڑے تھے۔بمشکل اٹھتا وہ سیڑھیاں پھلانگتا نیچے آیا۔اور کچن کی ریکٹینگل ونڈو سے اندر جھانکا۔جہاں سے کچن کا بس ایک رخ واضح ہوتا تھا،جب کہ اندر سے بآسانی پورا لاؤنج دیکھا جا سکتا تھا۔
”بی اماں‘کافی ہی دے دیں۔“ کہہ کر اس نے رخ پھیرا اور پھر دوبارہ بجلی کی سی تیزی سے کچن کی طرف مڑا۔حیا کافی کا مگ کاؤنٹر پر رکھ کر مڑ رہی تھی۔بھوری آنکھوں کو سکیڑ کر کچن کو اسکین کیا گیا۔اور پھر اس کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے آواز دی۔
”بی اماں‘کافی میں آپ کے ہاتھ کی بنی لوں گا۔“ وہ مڑ گیا تھا۔اندر سے کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔تھوڑی دیر بعد وہ لاؤنج میں تھا‘جب حیا کچن سے نمودار ہوئی۔بال جوڑے کی طرح اوپر بندھے دے۔جس میں سے لٹیں نکل کر اس کے چہرے اور گردن کو چھو رہی تھیں۔حمزہ نے کن اکھیوں سے دیکھا وہ کافی کا مگ پکڑے اسی طرف آ رہی تھی۔
”ہونہہ‘اس کے ہاتھ کی کافی تو میں نہیں لوں گا۔“ اس نے سوچا اور پھر اس کی وہاں آمد سے انجان بنتے ہوئے ٹی وی پر نظریں مرکوز کر لی۔حیا اب اس کے بالکل پاس آ گئی تھی حمزہ نے ایک گہرا سانس لیا اور کچھ کہنے کو لب کھولے مگر اس سے پہلے ہی وہ اس کے پاس سے گزر کر دوسری طرف اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی۔ٹانگ پر ٹانگ جمائی اور کافی کا مگ لبوں سے لگایا۔پھر مسکرا کر حمزہ کو دیکھا اور سر کو خم دیا۔ حمزہ دانتوں پر دانت جمائے اپنی خوش فہمیوں پر لعنت بھیج رہا تھا اور رہ رہ کر اسے حیا پر غصہ آ رہا تھا۔
”بی اماں‘میری کافی لے آئیں اب آپ۔“وہ جھلا کر بولامگر کچن خاموش رہا۔یہاں حیا کے ساتھ بیٹھ کر وہ اور برا محسوس نہیں کر سکتا تھا۔اٹھ کر کچن کی طرف جانے لگا اور پھر حیا کی آواز پر چونک کر مڑا۔
”بی اماں چھٹی پر ہیں۔“ وہ اپنے مگ پر جھکی ہوئی تھی۔
”کیا مطلب چھٹی پر ہیں؟ کس سے پوچھ کر؟“ حمزہ نا سمجھی کے عالم میں اسے دیکھ رہا تھا۔
”اس گھر کی مالکن سے پوچھ کر۔“ اس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔
”ہو دی ہیل مالکن؟“ وہ حلق کے بل چلایا۔حمزہ کا منہ حلق تک کڑوا ہو گیا تھا۔آنکھیں شعلے برسانے لگی تھیں۔حیا سہم گئی تھی پھر خود کو کمپوز کرکے بولی۔
”میں نے…میں نے انکو چھٹی دی تھی۔“وہ اٹک اٹک کر بولی اور حمزہ نے جھپٹ کر اسے بازو سے پکڑا اور ایکگٹھنہ صوفے پر موڑتے ہوئے اسکے اوپر جھکا۔
”تم اس گھر کے فیصلے نہیں لے سکتی ہو۔میں چپ ہوں اسے میری کمزوری مت سمجھو۔میں کتنا برا ہو سکتا ہوں‘تمہیں یاد ہو گا۔“ اسکی انگلیاں حیا کے بازوؤں میں دھنستی جا رہی تھیں اور تکلیف سے حیا کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرنے لگی تھیں۔
”حمزہ‘تم نے مجھ سے نکاح کیوں کیا تھا؟“ خود کو چھڑوانے کی کوشش کیے بغیر وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے آہستہ سے بولی۔یک دم اس کے بازو پر گرفت ڈھیلی ہو گئی اور وہ نظریں چرا گیا۔
”تم واپس چلی جاؤ۔“وہ کھڑا ہو گیاتھا۔اس کے گلے میں گلٹی ابھری اور بہت سے سچ لیے اندر گم ہوگئی۔
”کہاں؟“ وہ اب بھی شاک میں بیٹھی تھی۔
”ڈاکٹر ہارون کے انسٹیٹیوٹ۔“اس نے چاچو کہنے سے احتراز کیا اور اسے دیکھے بغیر فرش پر نظریں گھما تا رہا۔
”تم جانتے تھے میں کہاں ہوں؟ اور تم مجھے لینے نہیں آئے؟“حیا کی آنکھوں میں حیرت‘دکھ اور افسوس تھا۔
”آئی ایم ناٹ آنسر ایبل ٹو یو۔(میں تمہیں جواب دہ نہیں ہوں)“ اس کا لہجہ سخت ہو گیاتھا اورپھر وہ سیڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے میں گم ہو گیا۔
”ہونہہ۔“حیا نے سر جھٹکا۔کافی ٹھنڈی ہو چکی تھی اور اب اندر جانی بھی کس کے تھی؟وہ مگ اٹھا کر کچن میں آ گئی۔حمزہ جانتا تھا وہ کہاں ہے‘پھر بھی اسے واپس لانے کی کوشش تک نہیں کی؟ جانے کیوں اسے صدمہ لگا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حیا دل گرفتہ سی کھانا بنانے لگ گئی تھی۔بی اماں کو چھٹی دی تھی تو اب ان کا کام بھی تو اسے ہی سنبھالنا تھا۔کھانا چولہے پر رکھے وہ لاؤنج میں آئی, ایک نظر حمزہ کے بند دروازے کو دیکھااور پھر ٹی وی آن کر کے بیٹھ گئی۔بے ترتیب چینل بدلتی رہی اور پھر ایک چینل پر رکی۔یہ مارننگ شو تھا جس کے نیچے پٹی چل رہی تھی،شوہر کو قابو کرنے کے طریقے،حیا نے سر جھٹکا اور چینل بدل دیا۔دل میں خیال آیا دیکھنے میں کیا حرج ہے تو دوبارہ وہ ہی چینل لگا لیا۔جس پر ہوسٹ دوسری کچھ سیلیبریٹی مہمانوں سے شوہر کو قابو کرنے کے گر پوچھ رہی تھی۔ حیا نے احتیاطاً آواز دھیمی کر لی۔
”آدمی کے دل کا رستہ پیٹ سے ہو کر گزرتا ہے‘تو اگر آپ چاہتی ہیں کہ شوہر آپ سے پیار کرے تو اسے اچھے اچھے کھانے بنا کر کھلائیں۔“ ایک مہمان سیلیبریٹی چہک چہک کر بتا رہی تھی اور باقی لوگ اسے سراہ رہے تھے۔
”شوہر کو……قابو کرنے کے طریقے۔“ وہ مردانہ آواز پر چونکی تھی۔پیچھے شیری دونوں ہاتھ صوفے کی پشت پر جمائے کھڑا تھا۔وہ پہلے سے کمزوردکھتاتھا۔
”مجھے پتا ہی نہیں چلا تم کب آئے۔“ وہ چہرے پر آئی لٹ کو اب کان کے پیچھے اڑیس رہی تھی۔وہ چل کر سامنے آگیا۔
”جی‘ آپ اپنے شوہر کو قابو کرنے کے طریقے دیکھنے میں اتنی مصروف تھیں‘ تو آپ کو کیسے پتا چلتا۔“وہ مسکراہٹ دبائے کھڑا تھا۔
”یوں ہی چینل سامنے آگیا تھا۔“وہ خفگی سے بولی۔”تم بتاؤ بلڈ ٹیسٹ ہو گیا؟“ حیا نے موضوع بدلا۔
”جی ہو گیا‘ رپورٹ ابھی نہیں آئی۔“وہ جواب دے کر اپنے کمرے کی طرف بڑھااور پھر پلٹا۔
”سوچیں حیا بھابھی‘اگر حمزہ بھائی کو پتا چلے کہ آپ ان کو قابو کرنے کے طریقے ڈھونڈ رہی ہیں تو کیا ہو گا؟“ وہ معصوم سی شکل بنائے کھڑا تھا۔حیا نے اسے گھورا۔
”تم مجھے دھمکی دے رہے ہو؟“
”نہیں‘آپ کے بھیانک شوہرکے مزاج کو مد نظر رکھتے ہوئے انجام سے ڈرا رہا ہوں۔“ وہ موڈ میں تھا۔
”میرا شوہر بھیانک نہیں ہے۔“ حیا نے دبا دبا سا احتجاج کیا اور شیری گردن پیچھے پھینک کر ہنسا۔حیا کو تو برا ہی لگ گیا۔تبھی اس نے چینل بدل دیا۔شیری اپنی ہنسی روکتا اپنے کمرے کی طرف بڑھا اور پھر دروازے سے مڑا۔
”بھابھی‘ حمزہ بھائی کے دل کا رستہ پیٹ سے نہیں‘مجھ سے ہو کر گزرتا ہے۔“ اس نے تفخر سے اپنے سینے پر انگلی سے دستک دی‘بائیں آنکھ دبائی اور دروازہ بند کر دیا۔حیا کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے اور وہ دوبارہ وہی چینل لگا کر بیٹھ گئی۔ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ اس نے دیکھا حمزہ کمرے سے باہر آیا اور اب سیڑھیاں اتر رہا تھا،اس کا چہرہ غصہ سے سرخ پڑ رہا تھا۔حیا کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔اس نے فوراً چینل بدلا مگر حمزہ لمبے ڈگ بھرتے اب شیری کے کمرے کے باہر کھڑا دروازہ بجا رہا تھا۔حیا کھڑی ہو گئی تھی۔یہ نارمل نہیں تھا۔
شیری نے دروازہ کھولا اور حمزہ اسے دھکیلتا اندر گیا،حیا ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ وہ پیچھے جائے یا نہ جائے‘ تبھی کمرے میں سے حمزہ کے چلانے کی آواز بلند ہوئی اور بے اختیار حیا کے قدم کمرے کی طرف اٹھے اب وہ دروازے میں ششدر کھڑی تھی۔حمزہ دونوں ہاتھوں سے شیری کا گریبان پکڑے ہوا تھا۔غصے سے اس کے ہاتھ کی رگیں پھولی ہوئی تھیں۔شیری کنفیوز سا اس کے ہاتھوں میں جکڑا کھڑا تھا۔
”بھائی‘میری بات تو….“ اس نے لب کھولے مگر حمزہ نے اسے پیچھے دھکیلا۔
”ڈونٹ کال می بھائی۔“وہ چلایا تھا اور ایسا چلایا کہ دروازے میں کھڑی حیا کو لگا اس کا دل سینے سے باہر آ گرے گا۔شیری الگ دکھ اور صدمے سے اسے دیکھ رہا تھا۔
”تم نے مجھے….مجھے ذلیل کروا کر رکھ دیا شیری۔میں شیری….شیری کرتا نہیں تھکتا تھااور تم نے مجھے ذلیل کروا دیا۔ڈرگز لیتے ہو تم؟ ہاں‘کب سے یہ نشے کر رہے ہو تم؟ تم نے ایک بار نہیں سوچا مجھے پتا چلے گا تو مجھ پر کیا گزرے گی؟“ شیری نے کچھ کہنا چاہا مگر حمزہ کب سن رہا تھا۔حیا گنگ کھڑی رہی۔
”میں تمہیں اس گند سے نکال کر لایا‘ایک اچھی زندگی دی۔مگر تم نے……تم نے اس گند کو ہی چنا‘شیری۔“وہ شیری کی طرف بڑھا اور اسے دوبارہ گریبان سے پکڑ لیا۔حیا ہوش میں آئی اور آگے بڑھی۔حمزہ کے بازو کو پکڑ کر شیری کو چھڑوانا چاہا۔
”چھوڑو اسے..پیچھے ہٹو۔“وہ چلا کر رہ گئی۔حمزہ نے ایک کاٹ دار نگاہ اس پر ڈالی اور اپنا بازو جھٹکا۔حیا کا ہاتھ نیچے گر گیا تھا۔
”میرا بھائی نہیں تھا‘تمہیں بھائی بنایا‘پیار دیا‘اپنے بچے کی طرح پالا۔“ اس کا تنفس تیز ہو رہا تھا۔شیری اس کے ہاتھوں میں بے یقینی اور صدمے سے کھڑا بس اسے ہی دیکھے جا رہا تھا۔
”مگر شاید تم اسی قابل تھے شیری‘ تم وہیں ان گنڈوں میں رہتے‘لوگوں کو مارتے‘نشے کرتے……تم اسی قابل تھے۔“
”میرا بھائی نشئی نہیں ہو سکتا….کبھی بھی نہیں۔“ وہ چیخ چیخ کر تھک گیا تو اسے قریباً دھکیلتے ہوئے پیچھے ہوا۔
”آج میں نے اپنی فیملی کا آخری فرد بھی کھو دیا۔“ اس نے رنج سے کہا۔وہ دروازے کو زور سے بند کرتا باہر نکل گیا۔حیا اور شیری یوں ہی کھڑے کھلتے،بند ہوتے دروازے کو دیکھتے رہے۔حیا حمزہ کے پیچھے نکلی مگر وہ بیرونی دروازے سے باہر جا رہا تھا۔تو وہ واپس کمرے میں آگئی۔جہاں شیری سر دونوں ہاتھوں میں گرائے بیڈ پر بیٹھا تھا۔
”شیری‘ حمزہ تم سے بہت پیار کرتا ہے۔وہ پریشان ہے۔تم ڈرگز لیتے ہو‘تمہیں کچھ ہو گیا تو وہ ٹوٹ جائے گا۔“ حیا محتاط الفاظ کا چناؤ کر رہی تھی۔
”میں نے کبھی ڈرگ نہیں لی۔“حیا کو بمشکل اسکی آواز سنائی دی اور وہ وہیں اس کے سامنے فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔
”تم ڈرگز نہیں لیتے؟“ شیری نے نفی میں گردن ہلائی۔
”پھر؟“حیا الجھ گئی تھی۔
”بھائی کو مجھ پر یقین نہیں۔“اس کی آواز میں بے یقینی سی بے یقینی تھی۔
”نہیں‘ وہ پریشان ہو گیا ہے۔“حیا نے صفائی دی۔
”نہیں‘ ان کو مجھ پر یقین نہیں۔“وہ دل گرفتہ سا اٹھا اور باہر نکل گیا۔
حیا لاؤنج میں آئی ،ٹی وی بند کیا اور سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں چلی گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!