Haya novel by Fakhra Waheed ep 17

Haya novel by Fakhra Waheed

چار بجنے کو تھے مگر حمزہ اور شیری دونوں کا کچھ پتا نہیں تھا۔حیا اس نئی صورتحال سے پریشان نظر آ رہی تھی گھر کا ماحول یک دم بگڑ گیا تھا۔پہلے اس نے سوچا ڈاکٹر ہارون کو کال کرے مگر نہیں اسے اپنے گھر کا مسئلہ خود سلجھانا تھا۔اس نے سمایا کو گھر بلا لیا تھا اور ساتھ ہی اسے شیروان کو بلانے کا بھی کہا تھا۔وہ دونوں شیری کے قریبی دوست تھے۔اس وقت وہ شیری کے کمرے میں بیٹھے اس غیر متوقع انکشاف پر بحث کر رہے تھے۔
”بالکل بھی نہیں حیا بھابھی‘شیری تقریباً ہمارے ساتھ ہی ہوتا ہے ہمیں کبھی نہیں لگا کہ وہ ہائی ہے۔“ شیروان اور سمایا تو جیسے شاک میں آ گئے تھے۔
”شیری مجھ سے کچھ نہیں چھپاتا‘وی آر بیسٹ فرینڈز۔“ سمایا اپنی طرف سے واضح کر رہی تھی۔
”ہمم۔“حیا پرسوچ انداز میں گویا ہوئی۔ ”رپورٹ کی ہارڈ کاپی جو میں نے رسیو کی ہے‘ اس کے مطابق ڈرگز لیے اسے چند دن ہو گئے ہیں۔پچھلے دنوں کچھ ایسا ہوا؟“ اور تبھی سمایا کی آنکھیں چمکی۔
”شیروان‘ وہاں حویلی میں….تم لوگ تھے پچھلے دنوں اور… اور جب شیری کی طبیعت بگڑ رہی تھی وہ کہہ رہا تھا اسے یہ کھانا نہیں پسند۔تو مطلب کھانے میں کچھ ہے۔اوہ گاڈ۔“سمایا کا سر چکرا گیا۔
”نہیں یار۔“شیروان کو اس کی کہانی ہضم نہیں ہوئی تھی۔“میں بھی وہ کھانا کھاتا رہا ہوں۔مجھے کچھ کیوں نہیں ہوا؟“ وہ مطمئن نہیں ہوا تھا۔
”تم لوگ ہمیشہ ساتھ کھانا کھاتے تھے؟“وہ دونوں اپنے تجربے کے مطابق ہر پہلو پر غور کر رہے تھے اور حیا ان کو موڈریٹ کر رہی تھی۔
”نہیں….وہ پریمیم ممبر تھا وہ اندر بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے اور ہم۔“ اس کی آنکھیں حیرت اور شاک سے پھیلنے لگیں۔ ”ہم باہر بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔“ شیروان بیڈ سے قریباً اچھلا تھا۔
”بھا بھی‘ اگر حمزہ سر کو پتا چلا وہ بہت غصہ کریں گے۔“ سمایا نے اپنے خدشے کا اظہار کیا اور حیا بمشکل مسکرائی۔اب اسے کیا بتاتی کہ تماشہ پہلے ہی ہو چکا ہے۔
”تم دونوں کھانا کھا کر جانا۔“حیا باہر آ گئی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
زرد تھال دور افق میں کب کا الٹ چکا تھا۔صبح سے بنا کھانا یوں ہی دھرا رہ گیا تھا،وہ بھی مغرب پڑھ کر کمرے میں ہی رک گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق ڈرگز اس کے جسم میں اتنی سرایت کر چکی ہے کہ اس کا جسم عادی بن چکا ہے،پہلے وہ اپنے جسم میں ڈرگ کی موجودگی سے بے خبر تھا مگر اب جب کہ وہ جان چکا ہے تو وہ اسے پانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا تھا اور اس سے چھٹکارا قریباً نا ممکن تھا اور اس وقت حیا موبائل پر نشے کے عادی لوگوں پر مختلف آرٹیکل اور کتابیں کھول کر بیٹھی تھی۔تبھی دروازہ کھلا اور سست قدم اٹھاتا حمزہ اندر داخل ہوا۔حیا کو نظر انداز کرتا وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کھڑا ہوا تھا۔اس نے ابھی تک سیاہ شرٹ اور جینز پہن رکھی تھی۔
”شیری نظر نہیں آ رہا۔“ رسٹ واچ اتارتے ہوئے اس نے سر سری سا پوچھا۔
”ہوں…..باہر گیا تھا۔“ حیا نے سر اٹھائے بغیر کہا۔حمزہ نے سیف سے کپڑے نکالے اور واش روم میں گھس گیا۔پانچ منٹ بعد جب وہ نکلا تو بیڈ پر کھانا لگا ہوا تھا۔اسے واقعی بہت بھوک لگی تھی۔اسے یوں اس کے کہے بغیر کھانا رکھ دینا اچھا لگا تھا۔حیا نے کن اکھیوں سے دیکھا وہ سفید وی گلے والی شرٹ اور سیاہ جینز پہنے ہوئے تھا۔شرٹ کو بازؤوں سے کلائیوں تک موڑا ہوا تھا۔
”شیری کچھ کہہ رہا تھا۔“بیڈ پر بیٹھتے وہ دوبارہ حیا سے مخاطب ہوا۔وہ تھکا ہوا نظر آ تا تھا۔”ہاں…یہی کہ وہ ڈرگز نہیں لیتا اور یہ کہ تمہیں اس پر بھروسہ کرنا چاہئیے تھا۔“ حمزہ نے ہونٹ بھینچے۔اس نے منہ میں نوالہ رکھا اور پھر حیا کو دیکھا۔ ”اچھا کھانا بناتی ہو۔“
”ہاں؟“ حیا نے چونک کر سر اٹھایا۔
”میں نے کچھ کہا؟“ وہ حیرت سے پوچھ رہا تھا۔حیا نے اسے خفگی سے دیکھ کر سر جھٹکا۔جب وہ کھانا کھا چکا تو موبائل پر کسی کا نمبر ملاتے کھڑا ہوا۔بیل جاتی رہی مگر کسی نے فون نہیں اٹھایا پھر اس نے دوسرا نمبر ملایا۔
”ہاں شیروان‘شیری تمہارے ساتھ ہے؟“یک دم وہ فکر مند نظر آنے لگ گیا تھا۔ ”میری بات کرواؤ اس سے۔“ دوسری طرف شاید مثبت جواب ملا تھا۔
”اچھا‘جب وہ اٹھے تو اس سے کہنا شرافت سے گھر آجائے۔“ حمزہ نے حتمی کہا اور فون بند کر دیا۔حیا برتن اٹھا چکی تھی اور اب بیڈ کی چادر ٹھیک کر رہی تھی۔حمزہ تھوڑی دیر اسے دیکھتا رہا پھر سر جھٹک کر شیشے کے سامنے کھڑا ہو کر اپنی بڑھتی شیو پر ہاتھ پھیرنے لگا۔شیشے میں حیا کا عکس نظر آ تا تھا تو وہ نرمی مگر سنجیدہ سے لہجے میں گویا ہوا۔
”اور کچھ کہہ رہا تھا شیری میرے بارے میں۔“
”ہاں کہہ تو رہا تھا۔“وہ چپ ہو گئی۔حمزہ نے اچنبھے سے دیکھا اور واپس مڑا۔”کیا؟“
”یہ ہی کہ تم کتنے غصے والے ہو‘کھڑوس سے انسان ہو۔“ وہ سنجیدہ تھی۔
”شیری نے ایسا کہا؟“ وہ حیران ہوا تھا۔
”بالکل۔“ وہ ڈھٹائی سے بولی تھی۔
”الفاظ تو تمہارے لگتے ہیں۔“ وہ دوبارہ شیشے کی طرف مڑ گیا تھا۔
”اللہ معاف کرے۔“ حیا نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔ ”تمہیں لگتا ہے میں تمہارے بارے میں ایسا سوچتی ہوں؟“وہ معصوم سی شکل بنا کر صوفے سے کھڑی ہو گئی تھی۔
”نہیں۔“ وہ مسکرایا۔”تم مجھ سے بہت پیار کرتی ہو۔“ وہ قدم قدم اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔”اور میں نے تمہیں آج تک بتایا ہی نہیں کہ میں نے تم سے نکاح اس لیے کیاکیونکہ مجھے تمہیں دیکھتے ہی پیار ہو گیا تھا۔“ وہ اب اس کے سامنے کھڑا تھا۔”تم بہت اچھی ہو حیا‘مجھے معاف کر دو۔“ وہ اب اسے اپنے کندھے سے لگا رہا تھا۔حیا کو لگا یہ خواب ہے۔اس نے خود کو چٹکی بھری۔
”آؤچ۔“ وہ حقیقی دنیا میں واپس آگئی تھی۔وہ دور شیشے کے پاس کھڑا تعجب سے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ شرمنہ ہوئی تھی[تبھی دوبارہ صوفے پر بیٹھ گئی۔”تمہیں ایک بار ڈاکٹر سے مل لینا چاہئیے‘شیری کے لیے یہ ڈرگ چھوڑنا آسان نہیں ہے۔“ چہرے پر آئی لٹ کو پیچھے کرتے ہوئے وہ حمزہ سے کہہ رہی تھی۔”مس حیا….“حیا نے دانتوں پر دانت رکھے اور چبا کر کہا۔
”آئی… ایم… مسز۔“ حمزہ نے جواباً ہونٹ گول کیے۔”اوہ اوکے۔“وہ لیپ ٹاپ اٹھاکربیڈ پر بیٹھ گیا۔”میں ڈاکٹر سے مل آیا ہوں اور جنہوں نے شیری کو اس عذاب میں دھکیلا ہے‘ان سے بھی نمٹ آیا ہوں۔“وہ مصروف ہو گیا تھا۔”میں شیری کو کبھی کچھ نہیں ہونے دوں گا۔“
حیا کو دوپہر والا ہنگامہ یاد آیااور وہ مشکوک نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ ”تو اتنا غصہ کیوں کیا بے چارے پر؟“
”تا کہ اب جب وہ جانتا ہے کہ اس کا جسم ڈرگ کا عادی ہے‘ تو وہ اس ڈرگ کو لینا چاہے گا اور جب وہ ایسا کچھ کرے تو اسے یاد رہے کہ وہ مجھے کھو دے گا۔“ اس کی آواز سنگین ہو گئی تھی۔پھر وہ خاموش اپنا کام کرتا رہا،کافی دیر بعد اس نے سر اٹھایا۔حیا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے اسٹول پر بیٹھی تھی۔
”بی اماں کی چھٹی کب تک ہے؟“ لیپ ٹاپ کی اسکرین پر انگلی گھماتے ہوئے اس نے بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائی۔حیا کا رنگ اڑا‘گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔پھر وہ بال چہرے سے پیچھے ہٹاتے ہوئے آہستہ سے بولی۔
”میں نے ان کی پکی چھٹی کر دی ہے۔“حمزہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔
”غصہ مت کرنا اب۔“ وہ بالوں میں برش پھیرتے ہوئے تیزی سے بولی۔سینے پر بازو باندھے حمزہ مسکرایا۔مگر فوراً ماتھے پر سلوٹ آئے۔ ”تم جانتی نہیں ہو‘میں کتنا برا پیش آ سکتا ہوں۔“
”ہاں اور جیسے میں ڈر گئی۔“ اس نے برش والا ہاتھ ہوا میں اٹھایا۔ حمزہ نے سر جھٹکا اور دوبارہ لیپ ٹاپ پر جھک گیا۔
”حمزہ تمہیں کیا پسند ہے؟“ وہ شیشے میں اس کا عکس دیکھ رہی تھی۔ ”خاموشی۔“ اس نے لیپ ٹاپ سے سر اٹھائے بغیر کہا تھااور حیا کا پارا ہائی ہو گیا تھا۔مگر وہ ضبط کر گئی۔(بد تمیز)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جب تک انسان اپنے مرض سے بے خبر ہو وہ ٹھیک رہتا ہے مگر مرض کی اطلاع گویا اسے مزید بیمار کر دیتی ہے۔شیری کے جسم میں ڈرگز کے انکشاف نے اسے باور کروا دیا تھا کہ اس کی ضرورت وہ ڈرگ ہے۔اب اس کی حالت اور بگڑنے لگی تھی, چیخنا چلانا،کھانا الٹ دینا۔بد تمیزی کرنا،اسے بس وہ ہی کھانا چاہئیے تھا۔اس کا گزارا جوس اور مختلف ڈرنکس پر ہی تھا, کھانے کے نام سے ہی وہ بد زن ہو گیا تھا۔وہ دن بدن دبلا ہوتا جا رہا تھا،آنکھیں سیاہ حلقوں سے گھری تھیں۔
حمزہ کی تو گویا نیند ہی اڑ گئی تھی۔وہ کبھی اسے سمجھانے لگتا،کبھی غصہ کرتا۔حمزہ کو پریشان دیکھ کر حیا الگ پریشان رہتی،غرض گھر میں عجیب تناؤ کی سی کیفیت تھی۔
حیا کے دن رات مختلف کتابیں پڑھنے اور وڈیوز دیکھنے میں گزر جاتے۔
عصر سے پہلے کا وقت تھا شیری دوائیوں کے زیر اثر سویا پڑا تھا۔حمزہ کو باہر جانا تھا تو وہ شیری کے کمرے کو باہر سے لاک کر گیا تھا اور حیا کو سخت تاکید تھی کہ شیری کو باہر نہ جانے دے۔حمزہ کو گئے آدھا گھنٹہ گزرا تھا جب اچانک اس نے زور زور سے دروازہ پیٹنا شروع کر دیا۔
”دروازہ کھولو‘کس نے بند کیا ہے مجھے؟کھولو دروازہ۔“ دروازہ مسلسل بج رہا تھا اور حیا مضطرب سی کمرے سے باہر آئی تھی۔
”شیری‘کام ڈاؤن‘حمزہ ابھی آتا ہے تو تم باہر آ سکتے ہو۔“ وہ دروازے کے باہر کھڑی تھی۔
”آپ دروازہ کھولیں‘میرا دم گھٹ رہا ہے۔حمزہ بھائی میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟کھولیں دروازہ۔“وہ بے بسی سے بار بار ہاتھ دروازے پر مار تے ہوئے چلا رہا تھا۔حیا کچھ دیر سوچتی رہی اور پھر دروازے کے قریب منہ کر کے بولی۔
”تم ٹھیک ہو؟“
”ہاں میں ٹھیک ہوں۔بے فکر رہیں مجھے نشے کا دورہ نہیں پڑا ہوا۔“وہ بے زاری سے بولا۔حیا نے دروازہ کھول دیا۔
”مجھے یقین نہیں آتا‘حمزہ سر مجھے یوں کمرے میں بند کر دیں گے۔“وہ افسوس سے کہتا صوفے پر آ بیٹھا تھا۔
”شیری‘حمزہ پریشان ہے تمہیں لے کر۔“وہ وضاحت دے رہی تھی۔
”رہنے دیں بھابھی۔“ وہ بے زار سا بے زار تھا۔وہ کھڑی رہی۔پتا نہیں شیری کیسے اس فیز سے نکلے گا؟
”تم بیٹھو‘میں تمہارے لیے شیک لاتی ہوں۔“اسے بیٹھے رہنے کا کہہکر وہ کچن میں چلی گئی۔
تھوڑی دیر بعد شیک کے دو گلاس شیشے کی میز پر پڑے تھے۔حیا اس سے ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہی اور وہ نخوت سے ہاں‘ناں کرتا رہا۔کچھ دیر خاموشی چھائی رہی اور پھر حیا نے اسے نرمی سے مخاطب کیا۔
”شیری تم میرے ساتھ کل صبح واک پر چلو گے؟“شیری نے گلاس منہ سے ہٹاتے ہوئے اچنبھے سے اسے دیکھا۔”کیوں؟“ حیا کو یہ ہاں لگا تو اسے حوصلہ ملا۔
”تازہ ہوا میں سانس لیں گے تو ہم دونوں بہتر محسوس کریں گے۔“
”آپ کو کیا ہوا ہے؟“ اس نے ابرو اٹھائی اور حیا رازداری سے اس کے قریب ہوئی۔
”مجھے بھی عادت پڑ گئی ہے۔“پھر مسکراہٹ دباتے ہوئے شیری کو دیکھا۔”تمہارے بھائی کی۔“ وہ سرگوشی کر کے پیچھے ہوئی اور شیری بے وجہ ہنستا گیا۔
شیری کو اپنی ڈرگ کی عادت سے جان چھڑوانے کے لیے صرف دوائیاں نہیں کچھ اور بھی چاہئیے تھا اور وہ اسے حیا دینے جا رہی تھی۔مگر اس سے پہلے نشے کے عادی اس لڑکے کے گھر والوں کی کاؤنسلنگ ضروری تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!