Haya novel by Fakhra Waheed ep 19

Haya novel by Fakhra Waheed

رات کے کسی پہر حیا کی آنکھ کھلی، اس نے ایک نظر ساتھ پڑے حمزہ کو دیکھا،سوتے ہوئے بھی ماتھے پر بل پڑے تھے۔حیا نے ایک گہری سانس اندر کو کھینچی۔دھڑکتے دل کے ساتھ انگوٹھا اور شہادت کی انگلی اس کے ماتھے پر اس طرح سے رکھے دونوں ایک ایک آنکھ کے اوپر تھے اور پھر دونوں کو مخالف سمت میں کھینچا۔سلوٹ ختم ہو گئے،وہ مسکرائی۔ہاتھ ہٹایا تو وہ دوبارہ پہلے کی طرح ہو گئے۔یہ کھیل مزے کا تھا۔مگر اس سے ضروری کام اس کے پاس تھا۔وہ اس کے کان کے پاس جھکی اور سرگوشی کی۔”آیا بڑا۔“ ابھی وہ سیدھی بھی نہیں ہوئی تھی کہ حمزہ کروٹ لینے کو مڑا اور وہ ڈر کر دوبارہ لیٹ گئی اور آنکھیں بند کر لیں۔کچھ وقت ایسے ہی گزر گیاپھر اس نے پہلے ایک آنکھ کھولی،حمزہ کو دیکھا وہ سویا پڑا تھا،پھر وہ دبے پاؤں کمرے سے باہر نکل آئی۔اس دن کے بعد دروازہ دوبارہ لاک نہیں ہوا تھا۔
شیری کے کمرے کا دروازہ بند تھا۔حیا نے اسے باہر سے کھولا،اندر جھانکا۔کمرہ روشن تھا اور وہ بیڈ کے کونے میں اوندھے منہ لیٹا تھا۔دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ چونک کر اٹھا۔حیا کو دیکھا اور دوبارہ لیٹ گیا۔
”دیکھنے آئی ہیں کہ میں زندہ ہوں کہ مر گیا۔“ وہ بے زاری سے بولا تو حیا واپس مڑ گئی اب کہ جب آئی تو ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی۔ٹرے کو بیڈ پر رکھ کر وہ خود بھی وہیں بیٹھ گئی۔شیری منہ بنا کر لیٹا رہا۔
”کھانا کھا لو۔“ وہ آہستہ سے بولی۔اور شیری برق رفتار سے اٹھا اور قریباً چیختے ہوئے بولا۔”میں اپنے پیکٹ کے بغیر کھانا نہیں کھاؤں گا۔“ اور حیا تو گویا کرنٹ کھا کر اس کی طرف مڑی۔”آہستہ بولو۔اگر حمزہ نے سن لیا نا تو تمہارے ساتھ مجھے بھی وہ گھر سے نکال پھینکے گا۔“ وہ اسے ڈرا رہی تھی اور وہ ڈر بھی گیا تھا تو اب کہ قدرے آہستہ بولا۔
”مجھے نہیں کھانا یہ۔“
”اچھا میری بات بھی نہیں سنو گے؟“
”مجھے کسی سے بات نہیں کرنی آپ جائیں۔“
”اور اگر میں تمہیں وہ پیکٹ دوں تب بھی نہیں؟“ وہ یاسیت سے اسے دیکھ کر بولی۔اور شیری کی آنکھیں چمکی مگر وہ چمک فوراً ماند پڑ گئی۔
”میں بیوقوف نہیں ہوں‘آپ سب تو چاہتے ہیں میں ڈرگ چھوڑ دوں تو کیوں آپ مجھے وہ دیں گی؟“ وہ خفا سا بولا اور حیا نے اپنے دوپٹے میں سے ہاتھ نکال کر دور سے اسے پیکٹ دکھایا۔شیری کے گلے میں گلٹی ڈوب کر ابھری اس نے پیکٹ جھپٹنے کے لیے ہاتھ بڑھایا مگر حیا نے پیچھے کر لیا۔”میری دو شرطیں ہیں۔“ اور پیاسے کو تو ہر شرط منظور تھی۔اس نے فوراً سر ہلایا۔
”پہلی‘یہ پیکٹ میرے پاس رہیں گے۔میں خود تمہارے کھانے میں یہ ملا دیا کروں گی۔“ شیری اب کہ بھی بس سر ہلاتا رہا۔”اور دوسری صبح ہم واک پر چلیں گے۔“شیری کو دونوں شرطیں منظور تھیں۔
حیا نے کھانے کی ٹرے آگے کی‘پیکٹ میں سے کچھ سفید پاؤڈر کھانے پر چھڑکا اور اسے اچھی طرح مکس کر کے شیری کی طرف بڑھایا۔وہ کھانا کھاتا رہا یہاں تک کہ پلیٹ خالی ہو گئی اور سکون اس کے جسم میں اترنے لگا۔وہ تھوڑی دیر یوں ہی بیٹھا رہا اور پھر اس پر غنودگی چھانے لگی۔
حیا برتن سمیٹتی باہر نکلی اور پھر ٹھٹھکی۔اسکاچہرہ سفید پڑ گیاتھا‘گویا سارا خون نچڑ گیا ہو۔سامنے حمزہ کھڑا تھا۔اس کے چہرے پر کرب سا کرب تھا۔آنکھوں سے آگ کی لپٹیں نکل رہی تھیں۔حیا کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔
”حمزہ میں..وضاحت دے…سکتی ہوں…۔“ اس کے الفاظ ٹوٹ رہے تھے۔حمزہ بس بت بنا کھڑا تھا۔شیری کو ڈرگ پہنچانے والے سہولت کار اس کے اپنے گھر میں ہوں گے یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔اس کا دل چاہا وہ سب تہس نہس کر دے۔وہ غصے میں حیا کی طرف بڑھا‘وہ دو قدم پیچھے ہٹی تھی۔مگر اس سے پہلے ہی حمزہ نے رخ موڑا اور زینے پھلانگتا کمرے میں چلا گیا۔اور اب وہاں سے چیزوں کے ٹوٹنے، گرنے، مارنے کی آوازیں آرہی تھیں۔حیا نے برتن وہیں شیری کے کمرے میں رکھے،شیری نے ڈر کر حیا کو دیکھا۔
”بھابھی‘ یہ آواز۔“ وہ اوپر اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ ”تم سو جاؤ‘میں دیکھتی ہوں۔باہر مت آنا ورنہ حمزہ غصہ کرے گا۔“ اسے تسلی دیتی وہ احتیاطاً اس کا کمرہ باہر سے بند کر کے اوپر آ گئی۔درواز دھکیلا تو منظر واضح ہوا۔آج پھر پورا کمرہ بکھرا پڑا تھا۔حمزہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں بیڈ کی چادر میں دھنسائے بری طرح ہانپ رہا تھا، اس کا تنفس تیز تھا۔آنکھیں سرخ پڑی تھیں۔حیا اپنے پیر بچاتی ٹوٹی شیشیوں گلدانوں سے ہوتی اس کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی۔گو دل اس کا بری طرح دھڑک رہا تھا۔مگر ہمت تو کرنی تھی۔حمزہ نے قہر آلود نظر اس پر ڈالی۔
”صبح تم مجھے اس گھر میں نہیں چاہئیے۔“پھر انگلی اٹھائی۔ ”میرے گھر میں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔“
”حمزہ میں وضاحت دے سکتی ہوں۔“ وہ انگلیاں مسلتے ہوئے آگے ہوئی۔
”چپ…بالکل چپ۔“وہ اتنی زور سے دھاڑاکہ حیا سہم کر پیچھے ہوئی اور توازن بر قرار نہ رکھ سکی اور نیچے گر گئی۔اسکا ہاتھ پاس پڑی ٹوٹی شیشی پر لگا اور پورا ہاتھ سرخ ہوتا چلا گیا۔خون بھل بھل نکلتا فرش پر گرنے لگا، حمزہ کے تنے اعصاب یک دم ڈھیلے پڑے۔وہ ایسا نہیں چاہتا تھامگر وہ بیٹھا رہا۔اب خون کے ساتھ آنسو بھی گر رہے تھے۔وہ سسکیاں لے رہی تھی۔حمزہ کا ہاتھ اپنی کنپٹی مسلنے لگا۔کئی منٹ یوں ہی گزر گئے مگر حیا اپنی جگہ سے نہیں ہلی تو حمزہ کو کوفت ہونے لگی۔
”میں تمہیں یوں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا۔یہ بس غلطی سے ہو گیا۔“اس نے وضاحت نہیں مانگی تھی مگر وہ دے رہا تھا۔وہ ننگے پاؤں فرش پر اترا، ڈریسنگ ٹیبل سے فرسٹ ایڈ باکس نکالا اور حیا کی طرف بڑھایا۔”کچھ لگا لو اس پر۔“وہ اسے دیکھے بغیر کہہ رہا تھا۔حیا نے باکس نہیں پکڑا۔وہ تو بس روئے جا رہی تھی۔
”اچھا اٹھو۔“ اس نے جھک کر حیا کا بازو پکڑا اور اسے اوپر کو کھینچا‘وہ سسکیاں لیتی کھڑی ہوئی تھی۔ وہ اس کا بازو پکڑے اسے بیڈ تک لایا۔اسے کراؤن کی طرف بٹھایا اور خود سامنے بیٹھ گیا۔چوٹ والا ہاتھ بیڈ سے نیچے لٹکا رہا۔اب وہ باکس میں سے روئی نکال کر ہاتھ پر رکھ رہا تھا ماتھے کی تیوری اسی طرح چڑھی تھی۔ ”تم دیکھ کر کھڑی نہیں ہو سکتی تھی؟“ بڑی صفائی سے وہ اپنا کیا اس کے سر مل رہا تھا۔حیا بس اپنے ہاتھ کو دیکھتی رہی اور بیچ میں ایک آدھ سسکی لے لیتی۔آنسو اب تھم گئے تھے۔ڈاکٹر من پسند ہو تو ہر مرض خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے۔ وہ سر جھکائے پٹی کس رہا تھا۔”ٹھیک ہو جا ئے گا یہ۔“ وہ خود ہی بولے جا رہا تھا اور حیا اب اس کا جھکا سر دیکھ رہی تھی۔خون حمزہ کے اپنے ہاتھوں پر لگ چکا تھا۔اس سب میں وہ بھول گیا تھا کہ اس کے دراز سے ڈرگ نکال کر شیری کو پہنچانے والی اس کے سامنے بیٹھی یہ لڑکی ہی تھی۔پٹی اچھی طرح کسی گئی تو وہ فرسٹ ایڈ باکس کو ڈریسنگ ٹیبل میں رکھنے کو اٹھا۔وہ واپس مڑا تو حیا اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ اس نے گہری سانس خارج کی۔”یہ سب غلطی سے…“ اس سے پہلے کہ وہ مزید وضاحت دیتا حیا بول پڑی۔
”میں نے اسے ڈرگ نہیں دی تھی۔“
”حیا میڈم‘میں آپکو شکل سے بیوقوف لگتا ہوں؟“ ایک ہاتھ کمر پر رکھے دوسرا اس نے اپنے منہ پر گھمایا۔
”میری دراز سے ڈرگ کی پڑیاں غائب ہیں اور آپ شیری کو کھانا دے رہی تھیں۔وہ پڑیاں آپ کے ہاتھ میں تھی۔اور پھر کہتی ہو ڈرگ نہیں دی۔کمال ہے!“ وہ اب پاؤں سے بکھرے ٹکڑے ایک طرف کر رہا تھا۔
”امریکہ کے ایک پچپن سالہ آدمی کو ایک کالا جادو کرنے والے نے شراپ دیا تھا کہ تم جلد مر جاؤ گے اور تمہیں کوئی بچا نہیں سکے گا۔“وہ بیڈ کو گھورتے ہوئے بولی۔
”مجھے نیند آ رہی ہے۔“ حمزہ نے منہ بنایا اور پیچھے صوفے پر لیٹنے کے سے انداز میں بیٹھ گیا،ٹانگیں آگے کو پھیلائی اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں دھنسائے سر کے نیچے رکھ لی۔حیا نے اسکی عدم دلچسپی کو نظر انداز کیا اور اپنی بات جاری رکھی۔
”دن بدن آدمی کی حالت بگڑتی گئی یہاں تک کہ اس کا تیس کلو وزن کم ہو گیا۔“ وہ کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولے جا رہی تھی۔حمزہ نے آنکھیں بند کر لیں۔
”اسے ہسپتال لے کر گئے،تمام رپورٹس کلئیر تھیں۔جس ڈاکٹر کو اس کا کیس دیا گیا اس نے اس مریض کی بیوی سے علیحدگی میں پوچھا کہ کیا کچھ ایسا ہے جو اس سب کی وجہ ہے؟ اس نے بتایا کہ ایک کالے علم والے نے اسے موت کا شراپ دیا تھا۔ڈاکٹر نے اگلے دن نرس سے ایک انجیکشن لانے کو کہا۔اور مریض کو بتایا کہ میں اس کالا جادو کرنے والے سے ملا ہوں اسے پولیس کی دھمکی دی تو اس نے بتایا کہ اس نے تم پر چھپکلی کے انڈے پھینکے تھے ان میں سے ایک چھپکلی تمہارے جسم میں ہے اور اندر سے تمہیں ختم کر رہی ہے۔اس انجیکشن سے تمہیں الٹی آئے گی اور وہ چھپکلی باہر آجائے گی۔“ حیا نے گردنموڑ کر حمزہ کو دیکھا وہ بد ستور ویسے ہی لیٹا تھا۔ جاگ رہا تھا یا نہیں وہ نہیں جانتی تھی مگر اس نے بات جاری رکھی۔
”آدمی کو الٹی آئی اور ڈاکٹر نے آنکھ بچا کر اس میں چھپکلی ڈال دی۔ اس کے بعد حیرت انگیز طور پر وہ آدمی ٹھیک ہوتا چلا گیا اور لمبی زندگی جیا۔“
”ہم بیماریوں سے نہیں مرتے حمزہ‘ہم اپنے دماغ کے ہاتھوں مرتے ہیں‘یہ ہمیں یقین دلا دیتا ہے کہ اب ہم نہیں بچیں گے۔اسی لیے ایک آدمی جب لیور کینسر سے مرا تو اس کے پوسٹمارٹم میں پتا چلا وہ ٹیومر تو بہت چھوٹا تھا اور پھیل بھی نہیں رہا تھا۔وہ آدمی اس لیے مرا کیونکہ اس نے سمجھ لیا تھا کہ وہ اس کینسر سے جلد مر جائے گا۔“
”حمزہ‘شیری کے سامنے میں نے سفید پاؤڈر کھانے میں ملایا مگر وہ ڈرگ نہیں تھی،صرف اس جیسا پاؤڈر تھا اور شیری کے دماغ نے مان لیا کہ وہ ڈرگ ہی ہے تبھی وہ پرسکون ہو گیا تھا۔میں شیری کو اس کے ہی دماغ کے ہاتھوں ٹھیک کرنا چاہتی ہوں۔“وہ اپنی بات کہہ چکی تھی۔
”حمزہ؟“ اس نے حمزہ کو مخاطب کیا مگر جواب ندارد۔
”سن رہے ہو؟“
”حمزہ؟“ وہ کچھ نہیں بولا،شاید سو چکا تھا۔حیا نے گہری سانس باہر دھکیلی اور کروٹ لے کر لیٹ گئی۔
حمزہ نے آنکھیں کھولیں،دونوں ہاتھوں کی دو دو انگلیاں کنپٹی تک لے کر گیا،کنپٹی کو سہلایا، اس کا سر شدید درد سے پھٹ رہا تھا۔
اب نیا سورج‘نیا دن‘نئے منصوبے اس کے منتظر تھے!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”اب تم کیسے ہو؟“ وہ دونوں ابھی گیٹ سے باہر نکلے تھے۔
”مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ آپ نے رات مجھے کچھ اور دیا تھا۔“ وہ خفا سا بولا۔
”اونہوں‘میں اپنی جان پر کھیل کر حمزہ کی دراز سے نکال کر لائی تھی وہ پیکٹ۔“وہ بھی خفا نظر آنے لگی تھی۔
”اور یقیناً یہ۔“ اس نے حیا کے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا جس پر پٹی بندھی تھی۔”اسی بہادری کا صلہ ہے۔“
”نہیں…نہیں‘یہ تو تمہارے بھائی کا پیار ہے‘انوکھا پیار۔“ وہ پٹی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ہنسی اور شیری نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا۔”آپ کی طبیعت مجھے ٹھیک نہیں لگتی۔“ وہ بے زار ہوئی اور بات بدل دی۔
”پتا ہے مجھ سے صبح اٹھا نہیں جاتا۔میں بہت مشکل سے اٹھ کر آئی ہوں‘مجھے اب تک نیند آ رہی ہے۔“ حیا نے مصنوعی جمائی لی اور شیری نے محض سر ہلایا۔
”تم بتاؤ‘میں کیسے اپنی یہ عادت بدلوں۔“ وہ سر اٹھا کر اسے دیکھ رہی تھی۔ ”کچھ دن جلدی اٹھنے کی کوشش کریں‘عادت بن جائے گی۔“ وہ بھی رک گیا تھا۔
”کتنے دن؟“ وہ اپنی لیٹ اٹھنے کی عادت سے بے زار نظر آتی تھی۔”کچھ لوگ کہتے ہیں اکیس دن اور کچھ کے مطابق عادت بدلنے میں ساٹھ دن لگتے ہیں۔“کندھا اچکاتا وہ دوبارہ چلنے لگا۔
”اور مجھے لگتا ہے ہم ایک لمحے میں اپنی عادت بدل سکتے ہیں۔“ وہ رکا اور مڑ کر اچنبھے سے اسے دیکھا۔تو وہ بھی چلتی ہوئی آگے آئی۔
”اگر ول پاور اسٹرانگ ہو تو ہم آج ہی اپنی عادت بدل سکتے ہیں۔“شیری نے دوبارہ سر ہلایاتھا۔
”تو بدل لیں۔“
”ہاں پر آئی نیڈ آ پارٹنر۔جو میرے ساتھ کسی عادت کو چھوڑنے کی کوشش کرے۔“اس نے شیری کو بغور دیکھا۔
”پلیز یہ مت کہنا کہ میں حمزہ کو پارٹنر بنا لوں‘اتنا ضدی اور کھڑوس انسان ہے وہ۔“ دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھا کر وہ خفگی سے بولی۔ اور شیری اب تک اسے ویسے ہی دیکھ رہا تھا۔
”شیری‘ہم دونوں اپنی ول پاور اسٹرانگ کرتے ہیں۔کرنا ہے تو بس کرنا ہے۔لیکن پہلے دیکھنا ہے کہ عادت بدلنے کا کوئی فائدہ بھی ہو گا؟ یا ہم یوں ہی خوار ہوں گے؟“ وہ جان بوجھ کر منہ بنا کر بولی۔
”اگر میں صبح جلدی اٹھوں تو بہت سے کام کر سکتی‘ تمہارے بھائی کے ساتھ کہیں باہر جا سکتی ہوں۔“ وہ انگلیوں پر گنوائے جا رہی تھی۔حیا بھابی ذرا سی بات کو کتنا بڑھا کر بتاتی ہیں‘ شیری زیر لب مسکراتا رہا۔
”تم بتاؤ‘تم بدلنا چاہتے ہو کوئی عادت؟“ وہ اس کی طرف مڑی اور اس کی مسکراہٹ غائب ہوگئی۔
”بھابھی‘نہیں کریں۔“ وہ روڈ کے ایک طرف بنی انتظار گاہ کے بینچ پر بیٹھ گیا. اور وہ ساتھ کھڑی رہی۔
”اچھا بتاؤ اگر… اگر تم یہ عادت چھوڑدو تو کیا فائدہ ہو گا؟“پھر خود ہی بولی۔
”شیری ہر کام کرنے کی وجہ ہوتی ہے‘اگر آپ کے پاس وجہ نہیں ہے نا تو آپکو پڑھائی بورنگ لگتی ہے‘وجہ ہو تو بورنگ ترین سبجیکٹ بھی ہم ہضم کر جاتے ہیں۔تو بتاؤ سب سے بڑی وجہ کیا ہو گی تمہاری یہ نشہ چھوڑنے کی؟“
”حمزہ بھائی میرے ساتھ پہلے کی طرح نارمل ہو جائیں گے۔“ وہ آہستہ سے بولا اور حیا نے چٹکی بجائی۔
”سو لیٹس میک اٹ ہیپن۔“
”یہ اتنا آسان نہیں۔“وہ منہ بناکر بولا۔
”شیری سکندر اعظم نے پوری دنیا فتح کی تھی۔“
”ہوں۔“شیری نے فقط سر ہلایا۔
”واپس آیا تو ایک درویش نے کہا سکندر تم نے کچھ نہیں کیا زندگی میں‘سکندر حیران ہوا کہ میں دنیا فتح کر آیا ہوں اور آپ کہتے ہیں میں نے کچھ نہیں کیا؟ تو درویش بولا سکندر تم میرے غلام کے بھی غلام ہو۔“ حیا نے شیری کو دیکھا وہ اب بینچ پر آگے کو جھکا دونوں ہاتھ باہم ملائے جوتے سے زمین پر پڑے پتھر ادھر ادھر کر رہا تھا۔
”پھر۔“ فاتح عالم کو کسی نے اپنے غلام کا غلام کہا یہ دلچسپ تھا وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔
”درویش نے کہا‘نفس میرا غلام ہے اور تم نفس کے غلام ہو۔“ شیری کو کچھ سمجھ نہیں آیا وہ سر اٹھا کر ساتھ کھڑی حیا کو دیکھنے لگا۔
”مطلب یہ کہ سکندر نے چاہے پوری دنیا فتح کر لی پر اصل جنگ تو انسان کی خود سے ہوتی ہے۔اگر وہ خود سے ہی نہیں جیت پاتا تو اس دنیا کا کیا کرنا؟ جب ہمارا خود پر ہی بس نہیں چلتا تو دوسروں پر معتبر بن کر کیا کرنا؟“ وہ تاسف سے سر ہلا رہی تھی۔شیری نے دوبارہ سر جھکا لیا۔کچھ دیر خاموشی رہی پھر وہ آہستہ سے بولا۔
”بھابھی‘یہ اتنا آسان نہیں ہے۔“ وہ وہیں اٹکا تھا۔
”تو بچے‘دنیا جیتنا آسان تھا؟ اور نفس سے لڑنا مشکل ہے تبھی تو اسے سب سے بہتر جہاد کہتے ہیں۔“ وہ کنوینس نظر آنے لگا تھا۔
”ہم دونوں وعدہ کرتے ہیں کہ ہم ضرور اپنی عادت بدلیں گے۔خود اپنی ول پاور سے۔“ پھر شیری کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
”تو شیری کیا تم بھی میرے ساتھ وعدہ کرو گے؟“ وہ اب بھی پاؤں ہلا رہا تھا۔تھوڑی دیر سوچتا رہا۔پھر ہاتھ اس کے ہاتھ پر مارا اور اداسی مگر قدرے جوش سے بولا۔ ”وعدہ۔“
”دیٹس لائک آ گڈ بوائے۔“ وہ بہت خوش ہوئی تھی‘مگر ضبط کیے رہی۔
”مگر کل سے۔“ شیری کھڑا ہوتے بولا تو حیا نے اسے گھورا۔ ”ہم فیصلہ لے چکے ہیں, Decisionکا لفظ cease سے ہے مطلب ختم۔پیچھے جو ہے اسے ہم اسی لمحے ختم کرتے ہیں۔آخری بار،پہلی بار وغیرہ کچھ نہیں ہوتا۔“ اور وہ ڈھیلا پڑا۔
”لیکن بھابھی۔“
”چپ کرو اب تم۔ہم ایک دوسرے کے وعدے کا خیال رکھیں گے۔“ ‘ وہ اسے اور بھی بہت کچھ بتاتے سمجھاتے گھر کی طرف بڑھ رہی تھی۔وہ دور جاتے جا رہے تھے‘آوازیں مدھم ہوتی جا رہی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سورج کی کرنیں چار سو پھیل چکی تھیں۔کب وہ سو گیا اسے پتا ہی نہیں چلا تھا۔اب وہ صوفے پر اوندھے منہ لیٹا تھا۔اس کا موبائل زوں زوں کی آواز سے بجا وہ بند آنکھوں سے صوفہ ٹٹولنے لگا،پھر اس نے فون اپنے نیچے سے نکالتے کان سے لگایا۔
”اسلام علیکم!“ وہ سوئی ہوئی آواز میں بولا۔
”گڈمارننگ حمزہ‘دن چڑھ گیا ہے یار۔“ دوسری طرف سے بھاری مردانہ آواز سنائی دی۔
”جی ثقلین صاحب۔“ وہ آواز پہچان گیا تھا۔
”بھئی تم نے ملنے کا وعدہ کیا تھا پھر آئے نہیں۔“وہ دوستانہ انداز میں گویا ہوئے۔
”ہاں‘ آج کل میں چکر لگاتا ہوں۔تھوڑا مصروف ہوں۔“ وہ آنکھیں بند کیے بڑبڑایا۔
”انتظار رہے گا۔“
”شیور‘اسلام علیکم۔“ وہ فون بند کر کے دوبارہ لیٹ گیا۔اس کا سر شدید درد کر رہا تھا۔وہ کھڑا ہوا۔فرش پر ٹوٹی شیشیاں اور گلدان اب تک بکھرے پڑے تھے۔وہ فریش ہونے واش روم کی طرف بڑھا،پھر سوچا کیوں نا پہلے کافی کا کہہ دے،باہر نکل کر نیچے دیکھتے ہوئے چلایا۔
”بی اماں کافی بنا دیں‘میں دس منٹ میں نیچے آ رہا ہوں۔“ اور مڑ کر سیف تک گیا‘گرے رنگ کی شرٹ نکالی اور واش روم میں گھس گیا۔ٹھیک دس منٹ بعد وہ باہر نکلا توتازہ شیو بنی ہوئی تھی مگر کلین شیو نہیں تھی۔شیشے کے سامنے کھڑا ہو کر وہ تھوڑی دیر اس تازہ کردہ شیو پر ہاتھ مارتا رہا۔شیشے میں سے نظر بیڈ پر پڑی تو رات کا منظر نظر آنے لگا۔اس نے مڑ کر فرش پر دیکھا خون اب تک وہاں جما پڑا تھا۔دوبارہ شیشے کی طرف مڑ کر اس نے پرفیوم اپنی گردن کے دائیں بائیں چھڑکا‘شرٹ کے بازو کلائیوں تک موڑے اور نیچے آگیا۔
”کوئی کافی دے گا؟“لاؤنج کی طرف بڑھتے ہوئے اس نے آواز لگائی اور پھر ٹی وی آن کر کے بیٹھ گیا۔ اس نے گردن ایک طرف نکال کرکچن ونڈو سے اندر جھانکا مگر وہ وہاں سے نظر نہیں آتی تھی۔سر جھٹک کر وہ دوبارہ ٹی وی کی طرف متوجہ ہو گیا۔پانچ منٹ……دس منٹ یوں ہی گزر گئے مگر کافی نہ آئی تو وہ منہ پر تمام تر بے زاری لیے کچن کی طرف گیا۔
”نہیں کافی دینی تو بتا دو۔“ وہ اب کچن میں داخل ہو رہا تھا۔قدم ایک دم رکے‘وہاں تو کوئی نہیں تھا۔وہ شیری کے کمرے کی طرف آیا وہ باہر سے لاکڈ تھا۔دروازہ کھول کر اندر جھانکا۔وہ سویا پڑا تھا۔وہ زینے پھلانگتا اوپر آیا۔اپنا کمرہ دیکھا‘اسٹڈی روم میں جھانکا۔وہ کہیں نہیں تھی۔دل میں وسوسے سر اٹھانے لگے۔پر اوہوں نہیں،وہ بھلا کہاں جائے گی؟ ” اب وہ واچ مین سے پوچھ رہا تھا کہ کوئی اندر سے باہر تو نہیں گیا؟ اس نے لا علمی کا اظہار کیا تو وہ لان سے ہوتا پچھلے دروازے سے اندر آیا۔اسے یاد آیا رات اس نے خود ہی اسے یہ گھر چھوڑنے کا کہا تھا۔اوہ گاڈ! وہ سر پکڑ کر صوفے پر بیٹھ گیا۔اس نے اپنا فون نکالا اور کانٹیکٹس میں حیا لکھ کر سرچ کیا وہاں اس نام کا کوئی نمبر ہی نہیں تھا۔ اور اسے حیرت و غصہ ایک ساتھ آیا، کم از کم اس کا شوہر ہونے کے ناتے نمبر تو وہ دے سکتی تھی۔سر کا درد اور بڑھ گیا تھا۔کتنی دیر وہ وہیں بیٹھا رہا پھر دوبارہ اپنے کمرے میں گیا سیف کھولی،وہاں حیا کے کپڑے لٹکے تھے۔تو کیا وہ کپڑے بھی لے کر نہیں گئی؟ ماتھے کی تیوریاں واپس آ گئی تھیں۔وہ نیچے آیا اور اب شیری کے کمرے میں کھڑا تھا۔
”شیری‘ حیاکدھر ہے؟“وہ اسے ہلا رہا تھا۔مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوا۔ ”شیری اٹھو‘حیا کہاں ہے؟“ اس نے اسے کندھے سے پکڑ کر بیٹھایا اور کچھ دیر تو شیری کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ ہو کیا رہا ہے۔ ”میں نے کوئی ڈرگ نہیں لی۔“حمزہ کو دیکھ کر اسے یہ ہی سمجھ آیا اور بڑبڑاتا وہ دوبارہ لیٹ گیا۔حمزہ نے اسے پکڑ کر دوبارہ بٹھایا۔
”شیری.. میرے بھائی بتا حیا کہاں ہے؟“ وہ اسے پچکار رہا تھا۔شیری نے آنکھیں ملتے خفگی سے اسے دیکھا۔
”بیوی نہیں مل رہی تو میں شیری میرا بھائی ہو گیا؟ کل تک تو بڑے تھپڑ مار رہے تھے۔“ وہ دوبارہ لیٹنے کو جھکا تو حمزہ نے اسے کالر سے پکڑ کر سیدھا کیا۔
”بتاتا ہے کہ ایک تھپڑ اور لگاؤں۔“ وہ دبا دبا غرایا۔ ”بھائی‘ میں آپ کو بس اپنی بیوی کے بارے میں بتا سکتا ہوں وہ کہاں ہے‘دوسروں کی بیویوں کا مجھے نہیں پتا۔“ اس کی طبیعت بہتر تھی تبھی زبان چلے جا رہی تھی۔وہ واقعی پرانا شیری لگا تھا۔
”اور تمہاری بیوی کہاں ہے؟“ اب کہ وہ نرمی سے بولا اور شیری دھپ سے بیڈ پر گرا۔”ابھی پیدا نہیں ہوئی۔“
”سارے ڈنگر میرے پلے پڑے ہیں۔“ اس کے ماتھے کی تیوری واپس آ گئی تھی۔اب وہ حیا کو کہاں ڈھونڈے؟ بڑبڑاتا‘غصہ کرتا وہ ییسمنٹ کی سیڑھیاں اترنے لگا اور سامنے کیا دیکھتا ہے کہ وہ دونوں کہنیاں کانفرنس میز پر ٹکائے،ہاتھوں کو پیالہ بنا کر منہ اس پر دھرے آنکھیں گھما گھما کر بیسمنٹ کا جائزہ لے رہی تھی،اس کی پشت حمزہ کی طرف تھی۔حمزہ کی تیوری غائب ہوئی، لب مسکراہٹ میں ڈھلے اور قدم بڑھاتا اس کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔ حیا کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا کہے تو معصوم شکل بنا کر بیٹھی رہی۔”تمہیں پتا ہے مجھے کتنی فکر ہو رہی تھی؟“وہ غصے سے بولا اور حیا نے پلکیں جھپکی۔ ”مسٹر حمزہ‘آپ کو یہ تو نہیں لگا تھا کہ میں نے آپ کی بات کو سیریس لے لیا اور واقعی گھر چھوڑ کر چلی گئی؟“ حمزہ نے لعنت بھیجی اس وقت پر‘ جب وہ اس لڑکی کے لیے سیڑھیاں پھلانگتا پھر رہا تھا۔پھر چبا کر بولا۔ ”جی نہیں..مجھے فکر ہو رہی تھی کہ کہیں تم میری کسی ضروری چیز کو خراب نہ کر دو۔“ پھراس نے انگلی اٹھائی۔ ”میری کسی چیز کو ہاتھ مت لگانا۔“وہ خفت سے دوبارہ سیڑھیوں کی طرف بڑگیا۔(ٹڈی)
حیا نے گردن موڑ کر اسے جاتا دیکھا‘ بالوں کو جھٹکا دیا اور مسکراتے ہوئے بڑبڑائی۔(آیا بڑا)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بارہ سے اوپر کا وقت تھا۔ عام گھروں میں یہ لنچ کا وقت ہوتا ہے مگر اس حویلی نما گھر میں ابھی کافی کی مہک پھیلنا شروع ہوئی تھی غالباً دن کا آغاز ہو رہا تھا۔
سمایا اور شیروان، شیری کو لینے آئے تھے، وہ جانے کو تیار تو نہیں تھا مگر حیا نے اسے کافی اچھے سے سمجھا دیا کہ ماحول بدلے گا تو وہ بہتر محسوس کرے گا اور کسی کے لیے نہیں اپنے لیے اسے جانا تھا۔ حمزہ اسے یوں شیری کے لیے بھاگ دوڑ کرتے دیکھ کر سرشار تھا۔
کچھ دیر پہلے کی مچی افراتفری اب ختم ہو چکی تھی۔ حمزہ لاؤنج میں بیٹھا اپنے فون پر جھکا کافی کا انتظار کر رہا تھا اور حیا کچن میں کھڑی کافی اور ناشتے کے لیے سینڈوچ بنا رہی تھی۔اور یہ تبھی تھا کہ اسے محسوس ہوا اس کے پیچھے کوئی کھڑا ہے۔ وہ دھیرے سے مڑی، پہلے خوف اور پھر اپنائیت کے تاثر چہرے پر ابھرے، اوروہ دوبارہ سینڈوچ میکر کی طرف مڑی۔
”کیا بات ہے حمزہ سر‘لا رہی ہوں کافی‘تھوڑا انتظار اور کر لیں۔“ وہ مصروف سی بولی اور حمزہ نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف موڑا۔حیا کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا کہے۔ہاں البتہ دل میراتھن کے لیے تیار ہونا شروع ہو گیا تھااور آہستہ آہستہ سپیڈ پکڑ رہا تھا۔ وہ یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔حیا زبردستی مسکرائی۔اس نے کچھ کہنے کو لب کھولے مگر حمزہ اس سے پہلے بول پڑا۔
”تھینک یو حیا۔“ اس نے حیا کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے تھے۔ ”فار واٹ؟“وہ بے نیازی سے بولی، اب اس کا اعتماد بحال ہونے لگا تھا۔حمزہ ایک قدم اور آگے ہوا، ہاتھوں کو تشکر سے دبایا۔
” شیری کے لیے اتنا سب کرنے کے لیے۔ میں جانتا ہوں تم اسے لے کر واک پر جاتی رہی‘اور اب یہ ٹرپ وغیرہ۔تم جانتی نہیں ہو میں کتنا خوش ہوں۔شیری بہتر ہو رہا ہے‘صرف تمہاری وجہ سے۔سو تھینکس ٹو یو۔“ ہاتھ چھوڑنے سے پہلے اس نے ایک بار پھر ان کو دبایا۔وہ ایک قدم پیچھے ہوا تو حیا فوراً بولی۔ ”بس؟“ حمزہ نے کندھے اچکائے۔ ”اور کیا؟“
”مجھے لگا شیری تمہیں بہت پیارا ہے تو کم از کم اس خوشی میں تم مجھے ہگ ضرور کرو گے۔“ واپس اسٹوو کی طرف مڑتے حیا نے سختی سے آنکھیں بند کیں اور حمزہ ایک قدم اور پیچھے ہٹتے ہوئے بولا۔
”استغفراللہ۔“ حیا کے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہو گئی تھی وہ واپس مڑی تو حمزہ باہر جا رہا تھا۔
”مجھے لگتا ہے تمہارا نام حیا نہیں ہونا چاہئیے تھا۔“کچن ونڈو سے ہاتھ بڑھا کر حیا کے تازہ رکھے سینڈوچ اور کافی کا مگ اٹھاتے ہوئے اس نے تبصرہ کیا۔
”تو کیا ہونا چاہئیے تھا؟“ وہ محظوظ ہوئی تھی۔
”بے حیا۔“ وہ بڑبڑایا۔ اور حیا گرن پیچھے پھینک کر ہنسی تھی۔پھر اس نے دونوں کہنیاں اندر سلیب پر جمائی،اور سامنے کھڑے حمزہ کی طرف جھکی۔
”تمہارے لیے مجھے یہ نام بھی پسند ہے۔“ حمزہ اسے مصنوعی خفگی سے گھورتا جا کر کھانے کی میز پر بیٹھ گیا [مگر پہلے کے برعکس سربراہی کرسی کے بجائے وہ کچن ونڈو کے سامنے والی کرسی پر بیٹھا تھا جہاں سے حیا نظر آتی تھی۔
وہ واپس اسٹوو کی طرف جانے کو مڑی تو باہر سلیب پر رکھا حمزہ کا فون بجا۔اس سے پہلے کہ وہ اٹھ کر آتا حیا نے آگے جھک کر اسکرین دیکھی۔ ثقلین کالنگ۔
حمزہ کافی کا مگ ہاتھ میں لیے کچن ونڈو تک آیا او ر مگ وہاں رکھ کر فون کان سے لگایا۔حیا دونوں کہنیاں فرصت سے سلیب پر ٹکا کر اسے دیکھنے لگی۔
”جی جی…ثقلین صاحب‘میں لگا لوں گا چکر۔“ وہ بار بار کی ان کالز سے تنگ آ گیا تھا۔
”کوئی خاص بات ہے تو آپ فون پر ہی بتا دیں۔“ کافی کا مگ لبوں سے لگاتے اس نے حیا کو دیکھا جو کب سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔اور جیسے ہی آنکھیں ملیں‘ حیا نے دونوں ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھ کر حمزہ کی طرف اچھالے اور حمزہ کے ہاتھ سے کافی کا مگ چھلکا۔
”استغفراللہ۔“ وہ اونچابولا تھا اور پھر دوبارہ فون کی طرف متوجہ ہوا۔
”نہیں…..نہیں آپ کی بات پر نہیں کہہ رہا۔“ وہ خفگی سے حیا کو گھورتے ہوئے‘پنا مگ اٹھا کر دوبارہ جا کر بیٹھ گیا مگر اب کہ اس طرح کہ اس کی پشت حیا کی طرف تھی۔حیا کی ہنسی نہیں رک رہی تھی اور وہ بمشکل خود کو کنٹرول کرتے اسٹوو کی طرف مڑ گئی۔
”اچھا ٹھیک ہے‘میں کل ضرور چکر لگا لوں گا۔“
”ہاں شام چار بجے۔“
”اوکے…اوکے‘اسلام علیکم۔“ کال منقطع ہوئی تو وہ کافی کا گھونٹ بھرتے سوچنے لگا کہ ایسی کیا ضروری بات ہے جو یہ فون پر بھی نہیں بتا رہا۔
”یہ ثقلین‘ تمہارا دوست ہے نا۔“ وہ دوبارہ کچن ونڈو میں آ کر کھڑی ہو گئی۔ وہ خفا سا پیچھے مڑا۔
”تمہارا نام نا….“ بات ادھوری رہ گئی۔
”ہاں پتا ہے بے حیا ہونا چاہئیے تھا۔“ وہ محظوظ ہوتے ہوئے کافی سے گھونٹ بھر رہی تھی۔ اور وہ واپس مڑ گیا۔
”یہ ثقلین تم سے ہاسپٹل میں بھی ملنے آیا تھا نا؟ عجیب سا لگا مجھے۔“ اسے وہ سفید کلف لگے سوٹ والا سیاست دان یاد آیا جو ہسپتال میں ملا تھا۔
”تم کیسے جانتی ہو؟“ اب کہ وہ پورا گھوما۔ ”ہاں اس دن ہسپتال میں ملا تھا۔“
”کیا کہہ رہا تھا؟“ حمزہ کے چہرے سے لگا اسے اس کا حیا سے بات کرنا اچھا نہیں لگا تھا۔
”کہہ رہا تھا خوش رہو‘سدا سہاگن رہا‘ اس کو لگا ہو گا تم بچو گے نہیں۔“ حیا نے ہمیشہ کی طرح پہلی بات درست اور باقی اپنے سے کہی۔
”تم کتنا بولتی ہو۔“ وہ کھڑا ہو گیا تھا۔یکا یک بیل بجی۔
”میں دیکھتی ہوں‘فریحہ کہہ رہی تھی وہ آئے گی۔“ حیا دروازے کی طرف بڑھی اور حمزہ دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا۔حیا دروازہ کھول کر ساکت کھڑی رہی‘اسکے پاؤں شل ہو گئے تھے اوریک دم چہرہ سفید پڑنے لگا۔
”کون ہے؟“حمزہ وہیں سے بولا۔مگر حیا کھڑی رہی۔نہ واپس مڑی نہ کسی کو رستہ دیا۔حمزہ دروازے کی طرف آیا۔اور حیا کے سر کے اوپر سے سامنے دیکھا۔دو لڑکے تھری پیس پہنے سامنے کھڑے تھے۔اور وہ نظریں اٹھا اٹھا کر گھر کا جائزہ لے رہے تھے۔حمزہ کے لیے یہ چہرے انجانے تھے۔
”آپ کو اندر کس نے آنے دیا؟“
”جمشید….جمشید۔“حمزہ نے گارڈ کو آواز دی اور وہ بھاگتا ہوا اس طرف آیا۔ ”جی سر؟“ وہ ہانپ رہا تھا۔
”کوئی انجان بندہ گھر میں آ جاتا ہے اور تم بتانا گوارا نہیں کرتے‘یہ انٹر کام پھر پھینک دو۔“
”سر یہ بی بی جی کے رشتے دار ہیں۔“ گارڈ پریشان نظر آنے لگ گیا تھا۔ حمزہ کے اعصاب ڈھیلے پڑے اور وہ حیا کو پیچھے سے دیکھنے لگا حیا سست قدم اٹھاتی اندر آ گئی۔ اور سامنے لڑکوں کو راستہ دے دیا۔ ”تم جانتی ہو ان کو؟“پھر اسے جیسے یاد آیا۔
”اوہ‘یہ تمہارے بھائی ہیں؟“ حیا نے اثبات میں سر ہلایا۔حمزہ نے بڑھ کر ہاتھ ملایا‘لڑکوں کے تاثرات سخت رہے تھے۔
”اندر آ جائیں۔“ حمزہ نے ہاتھ سے اندر کی طرف اشارہ کیا۔ وہ دو قدم اندر آئے۔
”دیکھو تم جو بھی ہو۔ ہم یہاں اندر بیٹھنے نہیں آئے‘اپنی بہن کو لینے آ ئے ہیں۔ [‘ ان میں سے ایک لڑکا جس کا قد دوسرے سے قدرے چھوٹا تھا وہ سختی سے بولا۔ حمزہ نے ہاتھ سینے پر باندھتے ابرو اٹھائی۔ اور حیا کی گویا رہی سہی جان بھی نکل گئی۔
”یہ میرا گھر ہے۔“ وہ پریشانی سے بولی۔ ان کو تو وہ کبکا بھول چکی تھی۔
”اگر وہ جاتی ہے تو لے جائیں۔“ حمزہ سکون سے بولا۔ حیا نے بے یقینی سے اسے دیکھا‘وہ ان لڑکوں کو دیکھ رہا تھا۔
”چاہتی ہے یا نہیں چاہتی ہے‘ہماری بہن ہے ہم لے کر ہی جائیں گے۔“ لڑکے اور اندر آ گئے، حمزہ نے کندھے اچکائے۔
”آپ بہن بھائیوں کا آپس کا مسئلہ ہے۔“ وہ بے نیازی سے قدم اٹھاتا جا کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے ٹانگ پر ٹانگ جمائی‘گویا اگلی کاروائی کا انتظار کر رہا ہو۔
”چلو۔“ ایک لڑکے نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھامنا چاہا اور حیا پیچھے ہو گئی۔
”میں کہیں نہیں جاؤں گی، یہ میرا گھر ہے۔“ لڑکوں کے تاثرات اور سخت پڑ گئے۔
”آرام سے ہمارے ساتھ چلو۔“ لڑکے نے اسے بازو سے پکڑ کر دھکیلا اور حیا نے مڑ کر حمزہ کو دیکھا۔ وہ اب بھی ویسے ہی بیٹھا تھا۔ ہاں البتہ جبڑے بھنچے ہوئے تھے۔
”چھوڑو مجھے۔“
”تم آرام سے چلتی ہو کہ نہیں۔“ ایک نے اسے بازو سے پکڑا۔ اور حیا نے مڑ کر پھر حمزہ کو دیکھا۔ وہ اسی طرف دیکھ رہا تھا۔لڑکے نے اسے زور سے آگے دھکیلا اور حیا نے پوری قوت سے اس کا ہاتھ جھٹکا۔
”تب کہاں تھے تم لوگ جب میں اور بابا اکیلے تھے‘روز تمہارا انتظار کرتے تھے۔“ وہ دو قدم پیچھے ہوئی۔نفرت اور حقارت سے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہوگئی تھی۔
”اب مجھے ہاتھ بھی مت لگانا۔“ وہ انگلی اٹھا کر بولی۔
”پاکستان آتے ہی بہت قصے سنے ہیں ہم نے تمہارے۔“ پھر لڑکے نے صوفے پر بیٹھے حمزہ کی طرف دیکھا۔
”بہت عیاشی کر لی تم نے یہاں‘بے شرم عورت۔“ ایک آنسو حیا کی آنکھ سے ٹوٹتا گال پر پھسلا۔حمزہ کی ٹانگ تیزی سے ہلنے لگی۔
”وہ شوہر ہے میرا۔“ اس کی عزت پر بات آئی تو وہ برداشت نہیں کر سکی۔ ”سنا تم نے….یہ آدمی۔“ حمزہ کی طرف ہاتھ اٹھا کر اشارہ کیا۔ ”یہ میرا شوہر ہے۔“ وہ حلق پھاڑ کر چلائی۔ حمزہ نے ہاتھ کی انگلیاں سختی سے بند کی‘ کھولی‘پھر بند کی پھر کھولیں۔ مگر اپنی جگہ سے ہلا نہیں۔
”یہ آدمی؟ جو مزے سے بیٹھا وہاں تماشہ دیکھ رہا ہے؟“ بھائی نے گویا مذاق اڑایا۔ دونوں نے حیا کو پکڑ کر کھینچا،ان کی طاقت کے سامنے حیا کچھ بھی نہیں تھی۔لیکن پھر بھی وہ اپنا پورا زور لگا رہی تھی۔ اور تبھی کسی نے حیا کا بازو پکڑا، اور ایک لڑکا لڑھکتا جا کر دروازے میں لگ۔ اس لمس اور اس خوشبو کو وہ اب ہزاروں میں پہچان سکتی تھی۔مگر اسے خوشی نہیں ہوئی تھی۔اسے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔ اپنے بھائیوں سے….حمزہ سے…..سب سے۔حمزہ کا ہاتھ اس نے جھٹکا اور دو قدم پیچھے ہو گئی۔دوسرا لڑکا حمزہ کی طرف بڑھا اور حمزہ نے بازو الٹا گھما کر اس کے منہ پر مارا اور وہ پیچھے گرتا گیا۔ پہلے کے منہ سے خون نکلنے لگ گیا تھا۔
”اب تک میں چپ تھا کیونکہ یہ بہن بھائی کا مسئلہ تھا، مگر اب جبکہ تم میری بیوی سے بات کر رہے ہو تو یاد رکھنا۔“ حمزہ نے انگلی ہوا میں اٹھائی۔
”دوبارہ مجھے تم لوگ میرے گھر اور میری بیوی کے آس پاس دکھے‘ تو ایک پولیس افسر کے گھر دھاوا بولنے اور گھر والوں کو ہراس کرنے کے جرم میں نہ صرف جیل میں ڈالوں گا بلکہ اس سے بد تر طریقے سے گھسیٹ گھسیٹ کے ماروں گا‘ناؤ گیٹ لاسٹ۔“آخری تین الفاظ اس نے چلا کر کہے۔
”ہم تم پرہماری بہن کو زبردستی اپنے گھر رکھنے کے لیے کیس کریں گے۔ تم دونوں بھگتو گے۔“ نیلی جینز والے نے انگلی اٹھا کر دھمکی دی۔حمزہ نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے جمشید کو آواز دی جو کب کا جا چکا تھا، اور وہ بھا گتا ہوا آیا۔
”ان دونوں کو اٹھا کر باہر پھینکو۔اور آئندہ اگر کسی کو بھی میری اجازت کے بغیر اس دروازے تک آنے دیا تو اپنی چھٹی سمجھنا۔“ گارڈ ان لڑکوں کو باہر نکالنے لگ گیاتھا۔
”ہم دوبارہ آئیں گے۔“ وہ غصے اور اعانت کے احساس سے گھورتے، گارڈ کا ہاتھ جھٹکتے باہر چلے گئے۔حمزہ نے ایک گہری سانس اندر کھینچی اور واپس مڑا۔حیا وہاں نہیں تھی۔وہ جانتا تھا حیا اس سے خفا ہو گی۔وہ سیڑھیاں چڑھتا، اوپر گیا۔ اپنے کمرے کا دروازہ کھولا‘وہ خالی تھا۔ کنپٹی مسلتے ہوئے اس نے کمرے سے ملحق اسٹڈی روم میں جھانکا۔میز کے گرد پڑی دوسری کرسی پر وہ پشت دروازے کی طرف کیے بیٹھی تھی۔ ہ متوقع ری ایکشن سوچتے اس کے پاس کرسی پر جا بیٹھا تھا۔وہ ایک کتاب پر سر جھکائے بیٹھی تھی۔
”تم ٹھیک ہو؟“ سامنے شیلف پر لگی کتابوں کو دیکھتے اس نے آہستہ سے پوچھا اور حیا نے سر اٹھایا‘گردن موڑ کر حمزہ کی طرف دیکھا۔
”تمہیں کیا لگا میں کہیں پڑی رو رہی ہوں گی؟ اونہوں۔“ نفی میں سر ہلاتی کرسی گھما کر وہ اس کی طرف مڑی۔
”حمزہ‘اللہ نے تم مردوں کو ہم پر حاکم بنایا ہے‘مگر جابر حاکم نہیں بنایا۔“ حمزہ چپ بیٹھا سنتا رہا۔
”اللہ نے مردوں کو حاکم بنایا ہے‘اور ہمیں رعایا۔“ اس نے اپنی طرف انگلی کی۔ ”تم ملک اور ہم ملکیت نہیں ہیں۔ ملکیت کا تصور آقا اور غلام کا ہے۔ اور بیوی، بہن یا بیٹی غلام نہیں ہوتی۔“ پھر وہ حمزہ کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی۔
”رعایا کو اپنے حقوق معلوم ہوں تو وہ کبھی ظلم نہیں سہتی۔“ حمزہ کو سمجھ نہیں آیاوہ کیا کہنا چاہتی ہے۔
”میں جب اس کوٹھے پر لے جائی گئی تھی۔ تو بہت روئی تھی۔بہت شکوے کیے تھے اللہ سے۔ پھر تم لے آئے‘مجھ سے نکاح کیا۔“ نکاح کی بات پر حمزہ نظریں چرا گیا۔
”تب بھی میں بہت روئی تھی۔تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا‘بہت دل ٹوٹا تھا‘ لگا دنیا کی سب سے مظلوم لڑکی میں ہوں، میں نے بہت بد دعائیں دی تمہیں۔“ وہ چپ ہوئی‘ حمزہ اب اس کی طرف مڑ کر کھلی کتاب کو دیکھتا ہوااس کی بات سن رہا تھا۔
”اس گھر سے جانے اور واپس آنے تک میں نے بہت کچھ سیکھا ہے حمزہ‘کوئی اور وقت ہوتا تو شاید میں ٹوٹ چکی ہوتی پر اب میں سمجھ چکی ہوں کہ ہمارے اوپر ایک خدا ہے۔“ اس نے انگلی آسمان کی طرف اٹھائی۔
”جو کبھی غلط فیصلے نہیں کرتا، میں اس کوٹھے پر ان لوگوں کی سازش سے لے جائی گئی تھی۔ان کو لگا ان کا پلان کامیاب ہوا ہے پر حمزہ یہ اللہ کا پلان تھا۔ اللہ نے مجھے تم سے ملوانا تھا۔اس گھر میں لانا تھا، تمہاری منکوحہ بنانا تھا۔“ حمزہ محض سر ہلا سکا۔
”میں یہاں سے چلی گئی تھی‘ پھر واپس آئی اور سوچ لیا اب یہاں سے کبھی نہیں جاؤں گی‘کیونکہ یہ میرا گھر ہے۔جس انسان کو کبھی دیکھا نہیں تھا‘کبھی سوچا نہیں تھا‘اللہ نے اسے میرے لیے چنا تھا۔“ پھر اس نے حمزہ کی طرف انگلی کی۔
”اللہ نے تمہیں میرے لیے چنا ہے‘اور تم میرے محافظ ہو۔تمہیں میری حفاظت کرنی ہے۔“وہ سانس لینے کو رکی۔
محافظ‘حفاظت یہ الفاظ حمزہ کے دماغ میں جا کر لگے تھے۔ رانیہ…….ماما….بابا۔ وہ ان کا بھی محافظ تھا اور حفاظت نہیں کر سکا تھا۔اس کی آنکھوں میں سرخ دھاریاں ابھرنے لگیں تھی‘دل بھاری ہو گیا تھا۔یوں جیسے بہت سا بوجھ کسی نے ا س کے سینے پر رکھ دیا ہو۔ وہ ضبط کیے بیٹھا رہا۔
”ہم اکثر اللہ سے شکوے کرتے ہیں کہ فلاں مجھے چھوڑ گیا‘ فلاں نے مجھے دھوکا دیا‘مجھ پر ظلم کیا‘لیکن حمزہ‘ہمیں چھوڑنے کا فیصلہ اس انسان کا نہیں ہوتا۔اللہ اس کے دل میں ڈالتا ہے۔ اللہ ہمارے لیے وہ مسائل کھڑے کرتا ہے تا کہ ہمیں مضبوط بنا سکے یا اس سے بہتر انسان سے ملوا سکے۔ اگر میں ان لوگوں میں نہ پھنستی تو شاید آج کسی اور کی بیوی ہوتی اور شاید خوش بھی ہوتی مگر جو جینے کا سبق میں نے ڈاکٹر ہارون سے سیکھا ہے۔ اور آج جو میں خود کی تلاش میں‘ اپنے مقصد کی تلاش میں نکلی ہوں‘کبھی یہ سب سمجھ ہی نہ پاتی۔ میں ایک بے مقصد زندگی گزار کر مر جاتی۔“
”حمزہ اللہ نے ہم سے بڑے کام لینے ہوتے ہیں۔تبھی وہ ہمیں چھوٹے چکروں سے نکال لیتا ہے۔ تمہیں رانیہ سے پتا ہے کیوں دور کیا گیا؟“ وہ جانتی تھی تذکرہ تکلیف دہ ہے پر بولتی گئی۔ حمزہ کے دل کا بوجھ اور بڑھ گیا تھا،حمزہ کا وجود گویا جلنے لگا تھا۔
”حفاظت…. محافظ… رانیہ… ماما… بابا….“ الفاظ گونج گونج کر واپس لوٹ رہے تھے۔
اف! کون سے زخموں کو حیا نے کریدا تھا۔
”تا کہ تمہیں مجھ سے ملوا سکے۔اگر وہ تمہاری بیوی ہوتی تو تم مجھ سے کبھی نکاح نہ کرتے۔ میں یہ نہیں کہتی میں رانیہ سے بہتر ہوں پر شاید اللہ نے مجھے ہی تمہارا لکھا تھا۔“ وہ تھوڑی دیر اس کے بدلے تاثرات دیکھتی رہی۔ پھر کتاب وہیں میز پر چھوڑے پر وقار سی قدم اٹھاتی وہ باہر نکل گئی۔ حمزہ کے خود کو رانیہ کی موت کا ذمہ دار سمجھنے والی سوچ کے گھڑے میں حیا نے آج سوراخ کر دیا تھا۔
اب اسٹڈی روم سے باہر آؤ‘ تو حیا کمرہ کھول کر اندر جا رہی تھی، اس نے دروازہ بند کیا۔دوپٹہ صوفے پر پھینکا اور بیڈ پر گر گئی۔ آنسو آنکھوں سے گرتے جا رہے تھے۔کمرے کی خاموشی میں اس کی سسکیاں گھلنے لگی تھیں۔حمزہ کا اسے بے حیا کہنے اور اس کے بھائیوں کے بے شرم کہنے میں کتنا فرق تھا نا۔ حمزہ کا کہنا اچھا لگا تھا مگر بھائی کے یہ لفظ اس کے سینے کو چیر گئے تھے۔
اور جب دل اداس ہو،بھاری ہو،خفا ہو اور کوئی سننے والا نہ ہو تو اس کو چاہئیے اپنے رب کے سامنے جھک جائے اور اپنے دل کی ہر بات اس سے کہہ دے۔ وہ بھی بھاری دل کے ساتھ آنسو پونچھتی۔ وضو کر کے جائے نماز پر بیٹھ گئی
دیوار کے پار دیکھو تو وہ اب تک کرسی پر سر جھکائے بیٹھا تھا۔
”اللہ نے تمہیں مجھ سے ملوانا تھا۔“
”تم میرے محافظ ہو۔“
”تمہیں میری حفاظت کرنی ہے۔“
گونج گونج کر آنے والے الفاظ بدل گئے تھے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!