Haya Novel By Fakhra Waheed Ep 2

Haya novel by Fakhra Waheed

یہ کشادہ سا آفس تھا، جس میں دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی سامنے ایزی چئیر اور چئیر کے سامنے لکڑی کا میز تھا جس کے اوپر شیشے کی سلیب پڑی تھی۔پیچھے دیوارپر ایک سینری اور دونوں طرف نیچے پاکستان کا اور پولیس کا نیلا اور لال جھنڈا لگا تھا۔وہ پنجاب پولیس کی سبز مائل وردی پہنے اپنی کرسی پر بیٹھا ایک فائل پر جھکا ہوا تھا، کندھوں پردونوں طرف چاند ستارہ اس کا عہدہ واضح کر رہا تھا ور وہیں نیچے کندھے پر سنہری رنگ کا ’پی۔ایس۔پی‘ لکھا تھا۔جبکہ دائیں بازو پر اوپر پاکستان کا سبز سفید جھنڈا اور نیچے پولیس بیج لگا تھا۔میز پر کچھ فائلز،پین لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا جسے وہ وقفے وقفے سے دیکھ لیتا اور پھر فائل پر جھک جاتا۔تبھی اس کے بائیں طرف پیچھے دیوار میں لگا سلور رنگ کا دروازہ کھلا اور لگ بھگ اس کی ہی عمر کا ایک آدمی اندر داخل ہوا۔وہ قد کاٹھ میں حمزہ جیسا ہی تھا مگر رنگ حمزہ سے زیادہ صاف تھااور حمزہ کے بر عکس وہ کلین شیو تھا۔”حمزہ‘یہ کیا کیا تو نے یار۔“دروازہ بند کر کے وہ اس کے سامنے آ بیٹھا۔ حمزہ نے فائل سے سر اٹھایا اور کرسی پر پیچھے کو ہوتے ٹانگ پر ٹانگ دھر کر بیٹھ گیا۔ وہ دوبارہ بولاتھا۔”تو اس کوٹھے سے ایک لڑکی کو گھر کیوں لے آیا؟ تیرا دماغ ٹھیک ہے؟“ وہ واقعی پریشان دکھ رہا تھا۔”یار۔“ وہ کچھ کہنے کو آگے ہوا تبھی ایک طرف پڑا لینڈ لائن بجا۔ علی نے ہاتھ بڑھا کر ریسیور اٹھایا۔”ہیلو‘حمزہ اسپیکنگ۔“ وہ پر اعتماد لہجے میں حمزہ بن کر بولا۔ ساتھ ہی دوسری طرف سے آواز ابھری۔”سر میں حمزہ سر کی اور آپکی آواز پہچان سکتا ہوں۔“علی نے بھی دوسری طرف کی آواز پہچان لی تھی تبھی جھینپ کر مسکراتے ہوئے ریسیور حمزہ کی طرف بڑھایا۔”ہاں‘ سن رہا ہوں۔“ وہ ریسیور کان سے لگاتا یوں بولا جیسے جانتا ہو کس کا فون ہے۔ دوسری طرف کی بات سنی۔ پھر بولا۔”میں گھر آ جاؤں پھر اس بارے میں بات کرتے ہیں۔“ اس نے ریسیور رکھ دیا۔ علی بغور اسے دیکھتا رہا۔ حمزہ نے دوبارہ فائل کھول لی۔”میں نے کچھ غلط کیا کیا؟“ فائل کے کاغذ پلٹتے اس نے عام سے انداز میں پوچھا اور علی نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔”حمزہ‘جب لوگوں کو پتا چلے گا، میڈیا کو پتا چلے گا کہ ایس پی صاحب ایک کوٹھے پر ریڈ کے دوران حراست میں لی گئی لڑکی کو گھر لے آئے ہیں تو…“”اسے ریڈ کے دوران حراست میں نہیں لیا گیا علی! ان فیکٹ ریڈ کے وقت وہ وہاں تھی ہی نہیں۔“ حمزہ نے اس کی تصیح کی اور علی نے سر جھٹکا۔”جو بھی ہے پر وہ وہیں سے آئی ہے، اور جب بات باہر نکلے گی تو نیوز چینلز پر اسپیشل پروگرام چلیں گے۔ تو آگے میڈیا پرسن ہے۔ ٹی وی پر دکھتا رہتا ہے۔ میڈیا میں لوگ تجھے جانتے ہیں۔لوگ ہنسیں گے حمزہ۔ ہنسنے کے ساتھ وہ اس کو ایشو بنا کر اچھالیں گے۔“ وہ ایک ہی سانس میں بولتا گیا۔ حمزہ دوبارہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے، خاموش اس کو دیکھتا رہا۔ پھر علی نے اسے کہتے سنا۔”کچھ پتا چلا اس لڑکی کی فیملی کا؟“ علی نے خفا نظروں سے اسے دیکھا پھر تفصیلات بتانا شروع کی۔”اس کی ماں کو مرے دو سال ہو گئے ہیں‘فیملی میں دو بھائی اور باپ ہے‘ بھائی باہر ہوتے ہیں اور آج کل آئے ہوئے ہیں کیونکہ..“ اس کے عجیب انداز میں کہے ’کیونکہ‘ پر حمزہ نے ٹانگ سے ٹانگ اتاری۔”کیونکہ؟“”کیونکہ بیٹی کے یوں رات بھر گھر سے غائب رہنے پر ان کی طبیعت بگڑ گئی تھی، ان کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا اور وہ دنیا سے سدھار گئے۔“ علی نے اب کہ حمزہ کے تاثرات جاننا چاہے۔حمزہ نے بے اختیار اپنا سر پکڑا اور آہستہ سے بولا۔” اب؟“”اب کیا؟ لڑکی کو اس کے گھر بھیج۔“ علی نے حتمی کہا اور حمزہ نے سر اٹھایا۔”پر اس کی فیملی….وہ اس کو قبول کرے گی؟“”کرے یا نہ کرے تجھے اس سے کیا ہے؟ نہیں کرے گی تو کسی لاوارث عورتوں کے سینٹر چھوڑ آنا۔اسے اپنے گھر سے نکال بس تو۔“ علی اس کے بے وجہ کی تشویش پر جنجھلا گیا تھا، پھر اس نے جیب سے اپنا فون نکالا اور کچھ کھول کر حمزہ کے آگے اپنا فون رکھ دیا،وہ کچھ کہنا بھی چاہتا تھا کہ تبھی حمزہ کا فون بجا۔وہ گھر کا نمبر تھا۔”جی بی اماں۔“ وہ علی کو دیکھتے ہوئے بولا۔”واٹ؟“”آتا ہوں میں‘ آپ جمشید سے کہیں اسے باہر نہ جانے دے۔“ اس نے فون کان سے ہٹاتے کھڑا ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی علی بھی کھڑا ہو ا تھا۔”کیا ہوا سب خیریت ہے؟“”میں تجھ سے بعد میں بات کرتا ہوں۔“”مگر یہ…“ علی نے اپنے فون کی طرف اشارہ کیا مگر حمزہ نے علی کے پاس سے گزرتے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور باہر نکل گیا۔ علی دونوں ہاتھ کمر پر رکھے بند دروازے کو دیکھتا رہا۔”پتا نہیں کیا سوچتا رہتا ہے یہ۔“ وہ واضح نا خوش تھا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭”گیٹ کھولو….کھولو گیٹ۔“گاڑی ابھی باہر ہی تھی اور اسے وہیں حیا کی چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی۔اس کے چہرے پر ناگواری در آئی تھی۔ ایک پولیس افسر کے گھر سے ایسا شور سنائی دینا بلا شبہ اس کی اپنی رپیوٹ کے لیے ٹھیک نہیں تھا۔ حمزہ کی گاڑی سیکیورٹی ونڈو سے دیکھتے ہی گارڈ نے دوڑ کر گیٹ کھولا،مگر حمزہ باہر ہی گاڑی سے اتر گیاتھا۔ گیٹ کے پاس ہی وہ کھڑی نظر آگئی۔ حمزہ کو دیکھ کر اس کی بولتی ایک سیکنڈ کو بند ہو گئی تھی۔ حمزہ نے ایک ترش نظر اس پر ڈالی، بازو پکڑا اور چوکیدار کو گیٹ بند کرنے کا اشارہ کرتے، حیا کو کھینچتے ہوئے اندر لے گیا۔ وہ شور مچاتی رہی۔ بی اماں دروازے میں پریشان سی کھڑی تھیں۔ حمزہ کو دیکھ کر راستہ چھوڑا، حمزہ اسے سیڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے میں لے گیا اور بیڈ کی طرف دھکیلتے دروازہ بند کر دیا۔ حیا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ پہلے وہ ادھر ادھر کمرے میں ٹہلتا رہا پھر یک دم اسے بازو سے دبوچ لیا۔ وہ درد سے کراہی۔آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔”کیا چاہتی تھی لوگ یہاں میرے گھر کے باہر جمع ہو جائیں…ہاں؟“ اس نے گرفت اور مضبوط کر دی اور وہ تڑپی تھی۔”میری عزت ہے یہاں۔“ وہ دھاڑا‘اور وہ سہم گئی۔”تمہیں جہاں سے لایا ہوں اس جگہ کا نام سن کر ہی لوگ نفرت سے دیکھنے لگتے ہیں۔ تم چاہتی ہو یہ لوگ مجھ سے نفرت کریں؟ ہاں بولو…“ وہ بیڈ پر اسے بازؤں سے دبوچے جا رہا تھا۔”مجھے…درد….“آنسو حیا کی آنکھوں سے نکل کر گالوں پر بہنے لگے۔ اس کی آنکھیں زہر اگل رہی تھیں۔ پہلے بھی اس کا غصہ حیا نے دیکھا تھا مگر اس وقت حیا کو ہر لمحہ اپنا آخری لمحہ لگ رہا تھا۔”دیکھو لڑکی۔“ حمزہ نے ایک انگلی حیا کی طرف اٹھائی مگر اس سے پہلے کہ وہ آگے کچھ کہتا اس کی جیب میں پڑا اس کا فون زوں زوں کی آواز سے تھرتھرایا۔حمزہ نے ترش نظر حیا پر ڈالتے انگلی نیچے کی اور فون جیب سے نکلا کر کان سے لگایا۔جوں جوں دوسری طرف سے بات کہی جا رہی تھی، ویسے ہی اس کے تاثرات سخت ہوتے جا رہے تھے، وہ بول کم اور سن زیادہ رہا تھا، حیا کودیکھتی آنکھوں میں بے چینی در آئی تھی۔اور اب وہ دوسری طرف کی بات سننے کے ساتھ ساتھ کمرے میں چکر بھی کاٹ رہا تھا۔ پھر حیا نے اس کو چلاتے سنا۔”ایسے کیسے وہ غلط خبر اپنے چینل پر چلا سکتے ہیں؟“کچھ دیر پہلے وہ جو با رعب لگ رہا تھا اب اس کی آنکھوں میں فکر تھی، حیا کو اپنی پریشانی لا حق تھی اب پتا نہیں حمزہ اس کا کیا کرے گا، وہ اسے کسی صورت بخشے گا تو نہیں۔”ٹھیک ہے میں آتا ہوں۔“ وہ فون بند کر کے صوفے کی طرف آیا اور حیا کے گلے کی گلٹی واضح ہوئی، وہ پیچھے ہونے لگی تھی۔ مگر وہ کچھ کہے بغیر باہر نکل گیا اور حیا نے سکھ کا سانس لیا وہ جتنا اس سے دور رہے اتنا ہی بہتر تھا۔لیکن اس کا یہ سانس چند منٹ کا ہی تھا وہ ابھی بیٹھی بھی نہیں تھی کہ اس نے حمزہ کو دوبارہ کمرے میں آتے دیکھا، اور اب کی بار وہ اس سے ہی مخاطب تھا۔”دو گھنٹے بعد ہمارا نکاح ہے۔“ وہ عندیہ دے کر جانے کو مڑا۔”کیا؟ کس کا نکاح ہے؟“ اسے لگااس نے غلط سنا ہے یا پھر حمزہ کو کہنے میں غلطی ہوئی ہے۔ حمزہ اطمینان سے پیچھے مڑا اور چند قدم چل کر کمرے میں آیا۔”میں نے کہا جلدی سے تیار ہو اجاؤ…..“ پھر وہ رکا۔ ”اونلی اف یو وانٹ ٹو….“ اس کا اشارہ حیا کے کپڑوں کی طرف تھا۔”وی آر گیٹنگ میریڈ۔“ وہ اپنی بات مکمل کر چکاتھا۔”میں کیوں تم سے شادی کروں گی؟“گلے میں ابھرتی گلٹی کو اندر اتارتے وہ بمشکل کہہ پائی۔”کیونکہ میں کہہ رہا ہوں، اور میرا دماغ مزید خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہے، آئی ایم آل ریڈی ڈن۔“وہ سختی سے کہتا باہر کی جانب بڑھا اور حیا اس کے پیچھے تیزی سے لپکی تھی۔”میں تم سے نکاح نہیں کروں گی۔کبھی بھی نہیں کروں گی، تم مجھے میرے گھر چھوڑکر آؤ، مجھے ابھی جانا ہے۔“ وہ اس کے پیچھے سیڑھیوں تک آ پہنچی تو حمزہ سختی سے آنکھیں بھینچتے پیچھے مڑا اور تمام تر ضبط سے بولا۔”دو گھنٹے ہیں اور بی اماں یہیں ہیں تمہارے پاس اور باہر گیٹ پر گارڈز موجود ہیں تو بھاگنے کا سوچنا بھی مت۔“ وہ اب سیڑھیاں اتر رہا تھا اور اتنی ہی تیزی سے حیا اس کے پیچھے دوڑی تھی۔”میں یہ نکاح نہیں کروں گی….سمجھ گئی ہوں میں، اب سمجھ گئی ہوں.. مجھے چھونے کا صحیح طریقہ نکال لائے ہو…پر یاد رکھنا۔“جب اس نے دیکھا کہ حمزہ نہیں رکا تو وہ حلق کے بل چلائی۔”کبھی بھی نہیں کروں گی، میں تم سے نکاح۔نہیں کروں گی سمجھے تم… مجھے میرے گھر چھوڑ کر آؤ، جانے دو مجھے…“ وہ سیڑھیاں اتر کر اب بیرونی دروازے کی جانب بڑھ رہا تھا، حیا کو اس پر اپنی باتوں کا اثر ہوتا نظر نہیں آیا تو وہ اور بلند آواز سے چلائی۔”میں تم جیسے کمینے سے نکاح نہیں کروں گی، تم سب پولیس والے ایسے ہی کمزور لوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہو۔تم جیسے لوگ ہی پولیس کے نام پر دھبہ ہیں، اور تم…“ اور یہاں حمزہ کا ضبط جواب دے گیا تھا۔وہ دو قدم میں اس کے سامنے تھا اور اب وہ اس کے ہاتھوں میں مچل رہی تھی۔ حمزہ نے اسے سیڑھیوں کی ریلنگ سے لگایا۔”پہلے بھی سمجھایا تھا میرے لیے ایسے الفاظ استعمال مت کرنا۔“ وہ ایک ایک لفظ چبا کر ادا کر رہا تھا۔”مجھے تمہیں ٹچ کرنے میں کوئی انٹرسٹ نہیں۔“حیا نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے اور حمزہ نے ایک ہاتھ ریلنگ پر مارا اور دوسرے کی انگلی حیا کی طرف اٹھائی، وہ ڈر کر ریلنگ میں اور پیچھے ہو گئی تھی۔”ایک لفظ نہیں….ورنہ….دوبارہ بولنے کے قابل نہیں رہو گی۔اور میں بھول جاؤں گا کہ میں نے تمہیں ہاتھ نہ لگانے کے بارے میں کچھ کہا تھا۔“ اپنی بے بسی پر حیا کا دل چاہا وہ دھاڑیں مار مار کر روئے اور اس خواہش کے پیش نظر آنسو اس کے آنکھوں سے گالوں پر ڈھلکنے لگے۔”میرے بابا….میرا انتظار…“ اس نے اٹک اٹک کر کچھ کہنا چاہامگر حمزہ نے ایک بار پھر ریلنگ پر ہاتھ مارا اور وہ سہم کر چپ ہو گئی۔مگر آنسوؤں کی رفتار پہلے سے بڑھ گئی تھی۔ وہ جانے کو مڑا چند قدم چلا اور وہ پیچھے سے چلائی۔”میں نکاح نہیں کروں گی۔“ مگر اس بار وہ چلاتی رہ گئی اور حمزہ اسے وہیں سسکتا چھوڑ کرباہر نکل گیا۔…………………….”نہیں نہیں یار‘ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ایسے کیسے؟“ حمزہ کی فون پر جمی آنکھیں پھیلتی جا رہی تھیں، سامنے کھڑا شخص انگلی سے فون پر سلائڈ کرتے ایک ایک تصویر دکھاتا جا رہا تھا۔ حمزہ کے چہرے کے تاثرات سخت ہوتے جا رہے تھے اور اعصاب یک دم تن گئے تھے، اس نے ایسا نہیں سوچا تھا، کبھی نہیں سوچا تھا۔”کس نے کیا یہ؟ کس نے کیا؟ میرا دماغ خراب ہو رہا ہے اب۔“ وہ دو انگلیوں سے اپنے ماتھے کی لکیروں کو پکڑے پیچھے مڑا۔ اورآدمی نے ٹھنڈی آہ بھری۔”وہ تو پتا چل ہی جائے گا کس نے کیا‘پہلے اس مسئلے کا حل سوچیں۔آپ اس خبر کی میڈیا کے سامنے تردید کریں اور حاضر سروس ایس پی کے بارے میں غیر تصدیق شدہ خبر پھیلانے پر ان چینلز پر ہرجانہ کلیم کریں۔“ اس نے حل بتایا اور حمزہ بگڑ کر پیچھے مڑا۔”کیا کلیم کروں؟ ابھی اس ریڈ کو بارہ گھنٹے بھی نہیں ہوئے اور اتنی بڑی خبر میڈیا میں کیسے نکل آئی؟ ان کو کیسے پتا چلا اس ریڈ کا؟ ہم دونوں کے سوا عین آخری لمحے تک کوئی نہیں جانتا تھا اس ریڈ کے بارے میں…پھر یہ خبر کہاں سے نکلی اور تو اور نکاح؟ جو نکاح ہوا ہی نہیں اس کی خبر کہاں سے ملی ان کو؟“ وہ اب اس عمارت کے بیچ و بیچ سیمنٹ کے ڈھیلوں سے بچتا بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ وہ سامنے کھڑے انسان پر شک نہیں کر سکتا تھا، چاہ کر بھی نہیں کر سکتا تھا۔ پھر یہ تیسرا کون تھا جس کی نظر حمزہ کی حرکات و سکنات پر تھی؟ کون تھا جو اسے اس مشکل میں پھانس گیا تھا…کوئی تو رستہ ہو اس آفت سے جان چھروانے کا۔ وہ مسلسل ٹہل رہا تھا۔”مجھے وہ بندہ چاہئیے، رپورٹر یا جو بھی جس نے میرے اور حیا کے نکاح کی خبر میڈیا کو دی۔ مجھے ہر صورت وہ بندہ چاہئیے۔ ہاؤ کین دے پلے ود مائی لائف؟ ایسے ہی کسی سے شادی کر لوں گا میں؟“ حمزہ کا پارہ ہائی ہو رہا تھا، وہ اس نقاب پوش کے کہنے پر حیا کو نکاح کا کہہ تو آیا تھا مگراس کا اپنا دل بے چین تھا۔ حمزہ اور حیا کی چند تصویریں مختلف چینلوں پر گردش کر رہی تھیں اور ساتھ ہی بریکنگ نیوز کے طور پر ان کے نکاح کی خبر تھی۔جب نقاب پوش نے فون پر حمزہ کو یہ خبر دی،اسکا تو دماغ گھوم گیا تھا، وہ چاہ کر بھی خود کو نارمل نہیں رکھ پا رہا تھا اور یہ نارمل تھا بھی نہیں، حاضر سروس ایس پی، جسے لوگ اچھے طور جانتے ہوں اس کے بارے میں گردش کرنے والی خبر بڑی تھی۔ نقاب پوش نے فون پر ہاتھ چلایا اور نیوز کاسٹرچہک چہک کر بتانے لگی۔”ایس پی حمزہ فیاض بیگ نے ریڈ کے دوران ایک کوٹھے سے بازیاب کروائی گئی حیا نامی لڑکی سے نکاح کر لیا۔“”آپ اسکرین پر ان کی تصویریں دیکھ سکتے ہیں۔“ اسکرین پر حمزہ کی حیا کے ساتھ گاڑی میں لی گئی تصویر تھی اسی طرح کوٹھے پر لی گئی چند تصاویر تھی۔ اور تمام تصویریں وہ ہی تھیں جن میں حمزہ نے حیا کا بازو تھام رکھا تھا اور ایسی پرفیکٹ ٹائمنگ پر وہ تصویریں لی گئی تھیں کہ کوئی ان کے پیچھے چھپا سچ جان نہیں سکتا تھا۔ کیونکہ نہ ان تصویروں کو ہلنا تھا اور نہ ہی ان کے پیچھے چھپا سچ دنیا کے سامنے آنا تھا۔اس کاسر درد سے پھٹنے لگا تھا۔ نقاب پوش نے فون جیب میں ڈالا اوردونوں نے نظروں کا تبادلہ کیا۔ اس نے کچھ کہنے کو لب کھولے مگر اس سے پہلے ہی حمزہ بول پڑا تھا۔”بات ہاتھ سے نکل گئی ہے… یہ نہیں ہونا چاہئیے تھا…آخری آپشن یہ ہی ہے کہ اس جھوٹی خبر کو سچ کر دیا جائے۔اگر میرا امیج خراب ہوا کسی طرح بھی تو بلیو می‘ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔“ نقاب پوش نے سمجھنے کے سے انداز میں سر ہلایا اور حمزہ اس نئی فکر کے ساتھ عمارت سے باہر نکل آیا تھا۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭نقاب پوش سے مل کر وہ سیدھا گھر آیا تھا اور اب اس بڑے سے اندھیر کمرے میں کانفرنس میز کے گرد سربراہی کرسی کی پشت پر سر گرائے، ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا۔ وہ حیا کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔وہ اسے کیوں گھر لے آیا تھا؟ وہ اسے کیوں نہیں جانے دے رہا تھا؟ اور اب اس نئے مسئلے کا وہ کرے؟ یوں کسی سے نکاح کر لینا کوئی چھوٹی بات نہیں تھی۔جب سوچ سوچ کر وہ تھک گیا تواس نے میز پر پڑا پانی کا گلاس اپنے اندر انڈیلا اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اس نے میز پر رکھے فون پر کسی کا نمبر ملایا،رنگ جاتی رہی۔ مگر کسی نے فون نہیں اٹھایا، اس نے دوسرا نمبر ملایا۔ پھر رنگ جاتی رہی اور تیسری رنگ پر کسی نے فون اٹھالیاتھا۔”اسلام علیکم ماسی۔“”اوہ سوری‘کیسی ہو انیقہ؟“ دوسری طرف مطلوبہ بندہ نہ پا کر اس نے معذرت کی۔”ماسی کو کال کر رہا تھا‘انہوں نے اٹھایا ہی نہیں۔“”کیا؟ وہ آؤٹ آف کنٹری ہیں؟“”اوکے..اوکے‘ پھر کال کرتا ہوں‘ خیال رکھنا اپنا۔“”اسلام علیکم۔“فون میز پر ایک طرف دھکیلتے اس نے دو انگلیوں سے کنپٹی مسلی۔ اب کس سے مشورہ لے وہ؟”ماسی کو پھر ٹرائی کروں؟“ اس نے فون اٹھایا، نمبر ملایا مگر پھر ارادہ ترک کیا اور فون جیب میں اڑیستا کھڑا ہو گیا۔ بیسمنٹ کی سیڑھیاں چڑھتا وہ لاؤنج میں آیاتھا ابھی وہ بیسمنٹ کی سیڑھیوں والے کمرے سے نکلا نہیں تھا جب اس کے کان میں یہ آواز پڑھی۔”میں تو حمزہ صاحب کو اچھا آدمی سمجھتی تھی، پر یہ بڑے لوگ ہیں، لے آئے ہیں ایک لڑکی کو اور زبردستی گھر پر رکھا ہوا ہے۔ بے چاری رو چلا رہی تھی۔“ وہ یہ آواز پہچان سکتا تھا۔ یہ بی اماں کے ساتھ ان کے ہی گاؤں سے آئی ایک درمیانی سی عمر کی عورت تھی جسے بی اماں اپنی مدد کو لے آئی تھیں۔ حمزہ نے ہونٹ بھنچے اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ حمزہ کو دیکھ کر عورت نے ہڑبڑا کر فون بند کر دیا۔”وہ جی گاؤں سے میرے شوہر کا فون تھا۔“ وہ نادم سی بولی اور حمزہ اسے دیکھے بغیراوپر اسٹڈی میں چلا گیا اور اس کے ساتھ والے کمرے میں حیا اپنی قسمت کو رورہی تھی۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭دو گھنٹے بعد وہ سر جھکائے لاؤنج میں دھرے صوفوں میں سے ایک پر بیٹھی تھی، اس کے ساتھ فاصلے پر نکاح خوان تھا اور نکاح خوان کے ساتھ گواہ کھڑے تھے، جبکہ حمزہ حیا کے پاس کھڑا تھا، ہاں‘ اس کا حمزہ سے نکاح ہو رہا تھا۔ حمزہ نے چند کاغذات اس کی طرف بڑھائے اور ایک خانے پر انگلی رکھتے بولا۔”یہاں سائن کرو۔“حیا نے اتنی ہی ڈھٹائی سے جواب دیاتھا۔ ”میں کہیں سائن نہیں کروں گی۔“ اس نے زبردستی پین حیا کے ہاتھ میں پکڑایا۔”چپ چاپ یہاں سائن کر دو‘میں مزید انکار برداشت نہیں کروں گا۔“ وہ دبا دبا غرایا۔ حیا نے نہ چاہتے ہوئے بھی پین پکڑ لیاتھااور اس کے دکھائے خانے میں دستخط کرنے لگی۔ آنسو پھر ابل ابل کر زمین پر گرنے لگے تھے۔ آنکھیں اور سرخ ہو گئیں تھیں، آنکھوں کی دھندلاہٹ کے باعث پین اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیااور وہ دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ کر رونے لگی۔ لاؤنج میں اس کی سسکیاں اور ان کا شور ابھرنے لگا،گواہان نے پر تشویش نظروں سے حمزہ کو دیکھا اور وہ زرا آگے کو جھکا۔ پین اٹھا کر حیا کے چہرے پر دھرے ہاتھ میں پکڑانا چاہا مگر اس نے انگلیاں اور سختی سے منہ پر جما لیں۔”سائن کرو۔“ حمزہ اس کے کان کے پاس غرایا۔”میں کسی کی پرواہ نہیں کروں گا اور انجام کی ذمہ دار تم خود ہو گی۔“ وہ آہستہ آہستہ اس کے کان کے پاس سرگوشیاں کر رہا تھا حیا نے آخری بات پر ہاتھ چہرے سے ہٹائے، وہ اسے دھمکا رہا تھا۔ بہت سا تھوک اس نے حلق میں اتارا اور ایک نظر گواہان کو دیکھا اور پھر حمزہ کو اور پھر اور اونچا اونچا رونا شروع کر دیا۔حیا کی سسکیاں اور اونچی ہو گئیں، ہوتی چلی گئیں یہاں تک کہ اس کی آواز کے علاوہ وہاں کوئی آواز باقی نہیں رہی۔ پھر حمزہ نے وہ ہی کیا جو وہ نہیں کرنا چاہتا تھا وہ ایک گھٹنا صوفے پر رکھ کے اس کے اوپر جھکا، اس کا بازو سختی سے پکڑا اور ہلایا۔”سائن کرو یہاں ورنہ واپس جانے کی تیاری پکڑو۔“ وہ اسے واپس چھوڑ آنے کی دھمکی دے رہا تھا۔ حیا نے منہ سے ہاتھ ہٹا کر اپنی زندگی خراب کرنے والے اس بھوری آنکھوں والے لڑکے کو دیکھا۔ جس کی آنکھوں میں اسے غصے کی تپش دکھائی دے رہی تھی۔ اس نے سسکی بھری۔”پلیز مجھے جانے….“ وہ منت کرنے کے سے انداز میں بولنے لگی مگر حمزہ کے بھنچتے جبڑوں اور کھل کر بند ہوتی مٹھی کو دیکھ کر اسکے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے اور دھڑکتے بے ترتیب دل، آنسو برساتی آنکھوں اور بے پناہ خدشوں کے ساتھ اس نے سائن کر دیے۔ نکاح ہو چکا تھا،لاؤنج اب خالی تھا. ” اوپر وہ سامنے میرا کمرہ ہے، جا کر آرام کرو۔“ وہ فون جیب سے نکالتے بولا۔”تم نے یہ اس لیے کیا ہے نا کہ لوگ تم پر انگلی نہ اٹھائیں اور تم جب مرضی چاہو مجھے اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھاؤ؟“ وہ اسے دیکھتے ہوئے صدمے سے بولی اور اس کا فون پر چلتا انگوٹھا یک دم ٹھہر گیا، کشادہ پیشانی پر سلوٹ ابھرے، بھنویں سکڑ آئیں۔”واٹ دی ہیل۔“ وہ اتنا زور سے چلایا کہ حیا کو لگا وہ ابھی اسے مار دے گا اور یہ ایک گھٹنا صوفے پر رکھ کر وہ اس پر جھکا۔ جھکتا چلا گیا‘ یہاں تک کہ دونوں کے بیچ چند انچ کا فاصلہ رہ گیا۔ اس کی غصے سے بے ترتیب ہوتی سانسیں حیا کو اپنے چہرے سے ٹکراتی محسوس ہو رہی تھیں۔ وہ پیچھے صوفے پر گرتی جا رہی تھی مگر حمزہ کا بازو اسے پکڑے ہوئے تھا۔”مجھے ایک منٹ نہیں لگے گا تمہیں یہاں سے اٹھا کر اوپر لے جاتے ہوئے، پھر جو ہو گا اس کی ذمہ دار تم ہو گی۔ اب اگر تم نے میرے لیے ایسے بے ہودہ الفاظ استعمال کیے تو انجام بہت برا ہو گا۔“ وہ انگلی اٹھا کر غرایا۔ وہ اسے ڈرانا چاہتا تھا اور وہ واقعی ڈر گئی تھی۔ کسی روبوٹ کی طرح حیا کی گردن اثبات میں ہلی۔ وہ سیدھا ہوا۔”میں نہیں چاہتا گھر میں ملازم وغیرہ ہمارے رشتے کو لے کر باتیں بنائیں تو تم اوپر میرے کمرے میں ہی رہو گی اور اس ٹاپک پر مزید بحث نہیں ہو گی۔“ وہ فون کان سے لگاتا ایک باہر پھر باہر نکل گیا تھا اور اب وہ اکیلی بیٹھی پھر سے اپنی قسمت پر آنسو بہا رہی تھی۔

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!