Haya novel by Fakhra Waheed ep 23

Haya novel by Fakhra Waheed

حمزہ کو ایس پی سے ایس ایس پی بنے چار سال سے زائد ہو گئے تھے، اور اگلے چند ماہ میں اس کی ڈی۔آئی۔جی کے عہدے پر تقر ری کے امکان واضح تھے۔مگر اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ اپنی ملازمت چھوڑ کر اسلام آباد آبسے گا، مگر اب یہ ہی حقیقت تھی۔ اس نے تین ماہ پہلے اسلام آباد میں گھر لیا تھا اور اس گھر کو حیا نے اپنی مرضی کے مطابق سجایا تھا۔پھر انہوں نے ردابہ اور ہارون کو بھی اپنے پاس بلا لیاتھا۔ پہلے انہوں نے منع کر دیا مگر حیا اور حمزہ کے روز روز کی فون کالز اور خود جا کر کنوینس کرنے کی کوشش کامیاب ہوئی،اور دونوں ان کے پاس ہی آ گئے تھے۔حمزہ اپنی فیملی کو پرانے سایوں سے دور رکھنا چاہتا تھا۔تبھی لاہور چھوڑ کر دارالحکومت میں آ بسایا۔
اور حیا کے بھائی؟ انہوں نے تو پھر مڑ کر دیکھا بھی نہیں تھا۔ دیکھتے بھی کیوں؟ ان کی حیا سے جان چھوٹ گئی تھی، ان کے لیے تو یہ ہی بہت تھا۔
باہر عصر ہو رہی تھی،اور دن ابھی خاصا روشن تھا مگر اس چھ کمروں کے بنگلے میں اندھیرا تھا۔ساری بتیاں بجھائے وہ دونوں لاؤنج میں بیٹھے تھے اور حمزہ کی گود میں ارہاب بیٹھا تھا۔. ردابہ اور ہارون انسٹیٹیوٹ تھے،شیری ان سے ملنے گیا تھا۔
حیا ٹی وی دیکھ رہی تھی،حمزہ کی کلاس وہ گاڑی میں ہی لے چکی تھی اور اب وہ ارہاب سے کھیل رہا تھا۔ٹی وی پر آئس کریم کا کمرشل آیا اور ارہاب نے منہ بنا کر حمزہ کو دیکھا۔اور اپنے خالی ہاتھ دکھائے۔ ” بابا ایکسریم؟ ” حمزہ نے حیا کو دیکھا جو اب ان کو ہی دیکھ رہی تھی، اور مسکراہٹ دباتے ارہاب کے ننھے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر باری باری اس کی ہتھیلیاں چومی۔
” کل بابا اور ارہاب آئسکریم کھانے جائیں گے۔اوکے؟“
”ماما ٹو۔“ اس نے ماں کو دیکھا۔حمزہ نے حیا کو دیکھا،چہرے سے غصہ اب بھی جھلک رہا تھا۔
”اچھا یار بس کرو۔بتایا تو ارہاب ضد کر رہا تھا۔“
”استفراللہ۔“ ارہاب باپ کی گود سے نکل کر ماں کی گود میں چڑھ گیا،اور اس کے کان میں کھسر پھسر کرنے لگا۔
”بابا سیڈ ماما کو نہیں بتائیں گے۔“کہہ کر وہ کھڑا ہوا اور حمزہ نے اسے گھورا۔اور ایک ہاتھ حیا کے گرد پھیلایا۔اس نے ارہاب کو دوبارہ اپنی گود میں لیا۔اس کے کان میں کچھ کہا،اور وہ ہنسنے لگ گیا۔پھر ماں کی طرف دیکھ کر بولا۔
”ماما‘بابا یا اہاب؟“
حمزہ نے توجہ ٹی وی پر مرکوز کر لی،گویا بے خبر ہو۔حیا نے ارہاب کے گال کو چٹکی میں بھرا۔”ماما کی جان،میرا بچہ ارہاب۔“ حمزہ نے پر شکوہ نظروں سے حیا کو دیکھا اور ارہاب نے مزے سے حمزہ کو دیکھا۔
”شی لوز می۔یے ے ے!“ وہ ہنس رہا تھا حمزہ بھی مسکرا دیا اور حیا کے پیچھے سے ہاتھ نکال کر صوفے پر رکھا جس پر حیا نے اپنا ہاتھ رکھ دیا۔اور حمزہ نے انگلیاں بند کر لیں۔نظروں کا تبادلہ ہوا،کتنا ہی پیار،بھروسہ ایک طرف سے دوسری طرف گیا۔دونوں یوں ہی مسکراتے ہاتھ تھامے ٹی وی دیکھنے لگے۔ارہاب دونوں ہاتھ باپ کی ہلکی داڑھی پر رکھ کر کھیل رہا تھا،گویا بال ہاتھوں میں لگنے سے اسے مزا آرہا تھا۔
”ماما!یو نو..۔“ وہ حیا کی طرف مڑا تو نظر ان کے ہاتھوں پر گئی۔حمزہ نے حیا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں جکڑ رکھا تھا۔ارہاب نے مڑ کر باپ کو دیکھا جو ٹی وی دیکھ رہا تھا اس کی گود سے اترا، اور فرش پر دونوں کے بیچ جا کر اس طرح کھڑا ہو گیا کہ اب ان کے ہاتھ اس کے سامنے تھے۔ وہ اب اپنے ننھے ہاتھوں سے حمزہ کی انگلیاں کھول رہا تھا۔دونوں نے چونک کر اسے دیکھا۔ وہ سنجیدہ سے ان کے ہاتھوں پر جھکا ہوا تھا۔ان کو اپنی طرف دیکھتے اس نے سر اٹھایا،اور حمزہ کی طرف ہونٹ نکال کر بولا۔
”یو آر ہرٹنگ ماما۔“ حمزہ نے اچنبھے سے اسے دیکھا۔ حیا فوراً بولی۔“ نہیں بیٹا! بابا نیور ڈو سو۔“مگر وہ اب بھی حمزہ کی انگلیاں کھول رہا تھا، اور بار بار خفا نظر حمزہ پر ڈال رہا تھا۔
”ماما! آئی ایم ٹاکنگ ٹو بابا۔“ اس نے ہاتھ اٹھا کر ماں کو تسلی دی۔”آپ کو درد ہو رہا؟“ حمزہ کے ہاتھ کی گرفت دیکھ کر وہ روہانسا ہو رہا تھا۔تبھی حیا نے اس کے گال کو چھوا۔
”نہیں ارہاب‘بابا از مائی پروٹیکٹر…وہ مجھے ہرٹ نہیں کرتے۔“ وہ اب اس کے بال سہلا رہی تھی۔حمزہ نے اداسی سے مسکراتے حیا کو دیکھا۔
پروٹیکٹر،محافظ،کتنے سال ان الفاظ کے خوف نے اس کی زندگی اجیرن کر کے رکھی تھی۔حیا نے سر ہلا کر اسے بھروسہ دیا۔اور اپنے ہاتھ کی گرفت بڑھا دی۔ہر مرد کو اپریسیشن چاہئیے ہوتی ہے، وہ چاہتا ہے کہ اسے سراہا جائے۔اسی طرح جیسے عورت چاہتی ہے کہ اسے عزت دی جائے۔تبھی حیا اس کے ہر کام کو سراہتی ضرور تھی اور یہ تو پھر بھی حمزہ کا خوف تھا،اپنوں کی حفاظت نہ کر پانے کا خوف۔ ارہاب اب بھی اسکا ہاتھ کھولنے کی کوشش کر رہا تھا۔
”آئی ایم یور پروٹیکٹر۔“ وہ بڑبڑایا،اور حمزہ کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔ اس نے حیا کا ہاتھ چھوڑا اور ارہاب کو گود میں بٹھاتے اس کا سر اپنے سینے سے لگایا۔پھر دوسرا بازو حیا کے گرد پھیلایا اور اس نے نزدیک ہوتے ہوئے اپنا سر حمزہ کے کندھے سے ٹکا دیا۔حمزہ نے دونوں کو اپنے بازؤوں میں سمیٹتے خود میں چھپا لیا اور ارہاب کے پاس سرگوشی کی۔
”میری جان‘بابا از یور پروٹیکٹر‘میں تم دونوں کو کبھی کچھ نہیں ہونے دوں گا۔“اس نے اپنے سینے میں چھپے ارہاب کے گال کو چوما. اور پھر ہونٹ حیا کے بالوں پر رکھے۔
”آئی لو بوتھ آف یو۔“ وہ ان کو خود میں چھپاتا جا رہا تھا۔ ارہاب نے بھی اپنے ننھے بازو اس کے گرد باندھ دیے تھے۔
باہر اندھیرا بڑھتا گیا، اوروہ تینوں یوں ہی بیٹھے رہے۔ ارہاب اب ہل بھی نہیں رہا تھا۔شاید سو گیا تھا۔
”کھانا بنانا ہے۔“حیا آہستہ سے بولی، حمزہ نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔
”باہر سے منگوا لیں گے۔“وہ نہیں چاہتا تھا حیا اٹھ کر جائے۔
”شیری آیا ہوا ہے، اچھا نہیں لگتا باہر سے کھانا منگوانا۔“ وہ اسی نرمی سے بولی۔
”مت جاؤ۔“ حمزہ نے گرفت مضبوط کر دی، اور حیا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔پھر ارہاب کے بال سہلائے۔
”ارہاب؟“ وہ نہیں ہلا۔حمزہ نے تھوڑا ایک طرف کر کے اس کا چہرہ دیکھا اس کی آنکھیں بند تھی۔
”سو گیا ہے۔“ وہ اب حیا کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا۔
”اچھا لاؤ میں اسے اندر کمرے میں لٹا آؤں۔“ وہ اٹھ گئی، اور حمزہ نے دوسرا ہاتھ بھی ارہاب کے گرد باندھ لیا۔
”اونہوں‘ہم ٹھیک ہیں۔“
”اتنا مت کیا کرو حمزہ! چھوڑ دو اسے…تم بھی تھک گئے ہو۔“ پھر مصنوعی خفگی سے اسے گھورا۔ ”آئسکریم کھا کھا کر۔“ وہ ہنسا اور ارہاب کو اٹھانے کے لیے جھکی حیا کے گرتے بالوں کو اس کے کان کے پیچھے اڑیسا۔ایک ہاتھ اس کے گال پر رکھے، وہ اس سے کہہ رہا تھا۔
”میں تم لوگوں کو پیار کرتے کرتے کبھی نہیں تھکتا۔“
”ہائے حمزہ سر‘آپ کتنے بدل گئے ہیں،کبھی آپ میرے سے دور بھاگتے تھے۔“وہ ہنسی، اور حمزہ نے کندھے اچکائے تھے۔تبھی ٹھک کی آواز سے لاؤنج روشن ہو گیا۔
راہداری کے آخر میں شیری کھڑا تھا اور اب ان کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔ حیا سیدھی ہوئی اور حمزہ نے ہاتھ نیچے گرایا۔ شیری مسکراتا ہوا ان کی طرف آیا۔
”بڑے ہوگئے، ایک عدد بچہ ہو گیا۔ جو ماشاء اللہ اب تین سال کا ہے پر آپ لوگوں کی جگہ بے جگہ رومانس کرنے کی عادت نہیں گئی۔“ وہ اب ارہاب کا گال چوم رہا تھا۔
”اور تمہاری کسی کے گھر بغیر اجازت گھسنے کی عادت نہیں گئی۔“ حمزہ نے ارہاب کو اس سے پرے کیے، اور حیا ہنستی ہوئی کچن کی طرف بڑھ گئی۔پیچھے ہی انیقہ آتی نظر آئی تھی۔اس کی شادی اسلام آباد میں ہی ڈاکٹر ہارون کے، دوست کے بیٹے سے ہوئی تھی۔
” اسلام علیکم حمزہ بھائی۔“وہ جوش سے آگے آئی اور حمزہ اسے دیکھتے ہی ارہاب کو گود میں لیے کھڑا ہوا تھا۔دونوں نے ایک دسرے کا حال احوال دریافت کیا، تب تک حیا بھی لاؤنج میں آگئی تھی اور اب انیقہ اس سے گلے مل رہی تھی۔پھر اس نے ہاتھ سے آداب شیری کو کیا، جو اسے دیکھ کر سیدھا ہو کر بیٹھا تھا۔
”تمہارا بد قسمت شوہر نہیں آیا؟“ شیری نے اسے چھیڑا اور اس نے چند قدم کے فاصلے سے ہی اپنا ہینڈ بیگ اسے دے کر ماراتھا۔
” ویسے افسوس تو ہوتا ہو گا کہ میرے جیسے ہینڈسم لڑکے سے تمہاری شادی نہیں ہوئی۔“وہ ہر بار اسے یہ ہی کہہ کر تنگ کرتا تھا۔ اور وہ آگے سے ایک ہی جواب دیتی تھی۔
” تم جیسے بدھو کے پلے نہیں پڑی…شکر رررررہے۔“ اب تو پورے گھر کو ان کے یہ ڈائیلاگ یاد ہو گئے تھے۔
”بس کر دو تم دونوں اب۔“ حمزہ نے انہیں ڈانٹا اور وہ دونوں ہنس دیے۔
” تم بیٹھو‘میں کچھ کھانے کو لاتی ہوں۔“حیاکچن کی طرف جاتے ہوئے بولی مگر انیقہ فورا بولی۔
” نہیں بھابھی‘ابھی میں گھر جا رہی ہوں، گزر رہی تھی تو سوچا مل جاؤں۔“ارہاب کا گال چومتے وہ کھڑی ہوگئی تھی۔
”اچھا پانی تو پی لو۔“ حمزہ نے ا سے روکنا چاہا مگر وہ جلدی میں تھی تومعذرت کرتی باہر نکل گئی۔اب لاؤنج میں وہ تینوں ہی رہ گئے تھے۔
”بھائی آپ فون پر پاسورڈ کیوں نہیں لگاتے؟“ شیری کو یاد آیا کہ وہ کتنی آسانی سے اپنی کال کا ریکارڈ مٹا آیا تھا۔حمزہ نے گہری سانس لے کر کچن کے دروازے پر کھڑی حیا کو دیکھا۔
”میری بیوی مجھ پر شک کرتی ہے۔“
شیری نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا،بیوی نے مڑ کر اپنے شوہر کو دیکھا۔دونوں کی آنکھوں میں ماضی جھلملانے لگا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حیا کواگلے دن شام کو ڈنر کے لیے باہرلے جانے کا کہہ کر وہ اگلی رات ایک بجے ہی گھر آیا تھا۔ جب وہ آیا تو حیاایک کتاب ہاتھ میں لیے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔حمزہ کو دیکھ کر بھی وہ بیٹھی ہی رہی۔ وہ اسے دیکھا کر مسکرایا مگر اس کا چہرہ سپاٹ ہی رہا تھا وہ دوبارہ کتاب پر دیکھنے لگ گئی تھی۔ جانتا تھا وہ اس سے ناراض ہو گی۔ اس نے ڈنر باہر کرنے کا وعدہ جو کیا تھا۔ وہ بیڈ کے دوسری طرف بیٹھا ٹانگ پر ٹانگ رکھے اپنے جوتے اتار نے لگا۔
”کام میں ایسا پھنسا کہ آ ہی نہیں سکا۔“ وہ اس کے پوچھے بغیر وضاحت دے رہا تھا۔وہ کچھ نہیں بولی نہ اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔
” اور تمہاری کال بھی نہیں اٹھا سکا۔“ وہ جوتے اتار چکا تو سیدھا ہوتے ہوئے دوبارہ بولا۔
”تم نے مجھے کال کی تھی؟“ وہ اپنا فون دیکھ رہا تھا۔ ”نہیں تم نے کوئی کال نہیں کی۔“ فون پر کال کا کوئی بھی نوٹیفیکیشن نہیں تھا۔
”ساری عمر اب میں تمہاری منتیں تو نہیں کر سکتی۔“ وہ کتاب کا صفحہ پلٹتے بولی اور حمزہ پورا اس کی طرف گھوما تھا۔مگر وہ بد ستور کتاب پر نظریں جمائے رہی۔ حمزہ سیف سے ٹی شرٹ اور ٹراؤزر نکال کر واش روم میں چلا گیا، تھوڑی دیر بعد وہ باہر آیا تو اس کے بال گیلے تھے۔ سنگھار میز کے سامنے کھڑا اپنے بالوں کو ہاتھ سے سیٹ کرتا وہ شیشے میں حیا کا عکس ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ بہت ناراض تھی۔ تبھی تو اس نے کھانا تک نہیں پوچھا تھا اور حمزہ نے صبح ناشتے کے بعد سے کچھ نہیں کھایا تھا۔اور اب اسے بھوک لگی تھی۔
”تم مجھ سے ناراض ہو؟“ وہ پیچھے مڑا اور حیا نے کتاب سے نظر ہٹائے بغیر جواب دیا۔
”کیا مجھے یہ حق ہے؟’“ اور ساتھ ہی اس نے کتاب بند کر دی۔ فی الحال اسے صرف بھوک لگی تھی تووہ چپ ہو گیا۔ جب حیانے اگلے چند منٹ بھی اس سے کھانے کا نہیں پوچھا تو حمزہ نے ڈریسنگ سے اپنا والٹ اٹھایا۔
”باہر جا رہا ہوں کھانا کھانے۔ تم چلو گی؟[‘ ابھی تو وہ باہر سے آیا تھا اور اس کا بالکل موڈ نہیں تھا دوبارہ جانے کا، تبھی وہ حیا کو جتا رہا تھا۔ حیا کچھ بولے بغیر کروٹ لے کر لیٹ گئی تو حمزہ باہر نکل گیا۔حمزہ کو سمجھ نہیں آیا وہ اس قدر غصہ کس بات پر ہے۔ اور ایسی بھی کیا ناراضگی تھی کہ وہ کھانا پوچھنے پر بھی راضی نہیں تھی۔پہلے بھی تو وہ دو دو دن باہر ہوتا تھا تب تو وہ ہمیشہ کھانے پر اس کا انتظار کرتی تھی۔ تو آج؟ وہ آگے مسلسل کل سے جاگا ہوا تھا اور اب حیا کا رویہ…. اس کا سر درد کرنے لگ گیا تھا۔ تقریبا پونے دو گاڑی پورچ میں دوبارہ داخل ہوئی تھی وہ جاتے ہوئے کچن میں دیکھ کر گیا تھا کہ باہر نہ ہی جانا پڑے مگر شاید آج حیا نے کھانابنایا ہی نہیں تھا اور کم از کم حمزہ بریڈ جام پر گزارا نہیں کر سکتا تھا اور اب وہ حیا کے لیے بھی کچھ کھانا پیک کروا لایا تھا۔
”کھانا لایا ہوں تمہارے لیے کھا لو۔“ وہ بیڈ پربیٹھتے ہوئے بولا مگر حیا سوئی بنی رہی۔ سوئے بندے کو جگانا آسان ہے مگر جاگے ہوئے کو اب کون جگائے۔ جب وہ اپنی جگہ ساکن پڑی رہی تو حمزہ بیڈ پر نیچے کو ہو کر لیٹ گیا۔ ایک بازو دوسری طرف کروٹ لیے پڑی حیا کے گرد باندھا اور اپنا گال اس کے گال پر رکھا۔
”جب تک بتاؤ گی نہیں کیسے پتا چلے گا کہ کیوں ناراض ہو؟“ وہ اسے منا رہا تھا۔ دوسری طرف حیا نے آنکھیں اور سختی سے بند کر لیں تھی۔
”اچھا سوری‘آئندہ خیال رکھوں گا، جلدی آ جایا کروں گا۔“ آج پہلی بار حیا اسے اپنی خفگی دکھا رہی تھی اور یہ آدھا گھنٹہ ہی حمزہ پر بھاری گزرا تھاجب کہ حیا کی آنکھوں میں آنسو امڈنے لگے تھے۔ اس انسان کو یہ تک نہیں پتا کہ اس کی کس بات نے حیا کو ہرٹ کیا تھا۔ آنسو اس کی آنکھوں سے گرنے کو بے تاب تھے مگر وہ ڈھیٹ بنے لیٹی رہی۔
”تمہیں پتا ہی ہے میرا کام۔ تم سے کہا تھا نا کہ تم میرا انتظار کرتے کرتے تھک جاؤ گی ایک دن۔“ وہ اسے پرسوں رات اپنے کہے ہوئے الفاظ یاد دلا رہا تھا۔ حیا پھر کچھ نہیں بولی توحمزہ نے اس پر سے اپنا بازو ہٹایا اور دوسری طرف کروٹ لے لی۔ دو دن کا تھکا وہ جلد سو گیا تھا اور حیا کی آنکھ کے کونے سے ایک آنسو پھسل کر بیڈ شیٹ میں جزب ہو گیا تھا۔ وہ بے انتہا تکلیف میں تھی۔ مگر وہ حمزہ کو یہ باور بھی نہیں کروانا چاہتی تھی۔ وہ سوتا رہا مگر حیا کی یہ رات آنکھوں ہی آنکھوں میں کٹی تھی۔ کل صبح وہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ لینے جا رہی تھی۔ حمزہ سے علیحدگی کا فیصلہ!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صبح جب اس کاا لارم بجا تو آٹھ بج رہے تھے۔نہ چاہتے ہوئے بھی وہ بستر چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ دس منٹ میں وہ پنجاب پولیس کی سبز مائل وردی پہنے تیار کھڑا تھا۔حیا کے لیے لایا گیا کھانا ویسے ہی سائڈ میز پر رکھا تھا۔حیا کو اٹھنا ہوتا تو وہ اس سے پہلے اٹھ کر ہی ناشتہ بنا دیتی۔ وہ نہیں اٹھی تو حمزہ نے بھی اسے اٹھانا مناسب نہیں سمجھا۔وہ دروازے کی جانب بڑھا، اپنے فون پر چند کی پریس کیے اور دروازہ اپنے آپ کھل گیا۔ وہ نکل گیا وہ دروازہ پیچھے خود بخود بند ہو گیا تھا۔اس نے دوبارہ چند کیز دبائے تھے۔ پھر سارا دن وہ مصروف رہا تھا۔ آج آئی جی پنجاب نے پنجاب کے تمام اعلی افسران کا اجلاس طلب کیا تھا۔ چونکہ سٹی تھانہ ا س اجلاس کی میزبانی کر رہا تھا تو ایس پی سٹی اسٹیشن ہونے کے ناطے حمزہ کو بالخصوص اپنی نگرانی میں اجلاس کی تیاریاں مکمل کروانی تھیں۔ اجلاس شروع ہوتے ہوتے دو بج گئے تھے اور پھریہ شام چار بجے تک جاری رہا تھا۔جب اجلاس ختم ہو چکا اور ریفریشمنٹ کے بعد تمام لوگ روانہ ہو گئے تو حمزہ اپنے آفس میں آ بیٹھا۔ ابھی اسے بیٹھے چند منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ اس کے دائیں طرف پڑا لینڈ لائن بجا۔
”سر‘جب آپ اجلاس میں تھے تو آفس میں پڑا آپ کا فون بار بار بج رہا تھا۔“ دوسری طرف سے اطلاع دی گئی۔حمزہ نے ہونٹ گول کر کے افسوس کیا۔ اور فون ریسیور رکھتے ہوئے لیپ ٹاپ کے پاس پڑا اپنا سیل اٹھایا۔ اسکرین اڑتالیس مسڈ کالز اور پچپن میسجزکا نوٹیفیکیشن دکھا رہی تھی۔ حمزہ کا انگوٹھا تیزی سے فون پر چلنے لگا۔ یہ حیا اور شیری کی طرف سے مختلف اوقات میں کی گئی کالز تھی۔ اس نے جلدی سے اپنا انباکس کھولا اور اس کا سر چکرا کر رہ گیا۔ وہ اتنا غافل نہیں تھا پھر یہ کیا کر آیا تھا۔صبح آتے ہوئے وہ بند دروازے کے سینسر ڈی ایکٹیویٹ کر آیا تھا، اور دروازہ تب ہی کھلتا جب سینسر ایکٹیویٹ ہوتے یا وہ کھلے دروازے کے ساتھ سینسر کو آف کر آتا۔ اور حیا اس دروازے کے پیچھے صبح سے بند تھی۔حمزہ نے فورا حیا کو نمبر ملایا مگر کسی نے نہیں اٹھایا اب وہ باہر کی طرف بھاگتا شیری کا نمبر ملا رہا تھا جو تیسری کال پر ہی اٹھا لیا گیا تھا۔
”شیری‘ حیا کہاں ہے؟“ حمزہ نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
”میں کب سے ان کا نمبر ملا رہا ہوں۔ وہ کال پک نہیں کر رہیں۔ اور حمزہ بھائی‘آپ کیسے ان کو یوں بند کر کے جا سکتے ہیں؟ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ آئی تھنک ان کو بخار تھا۔“شیری کو حیا کی آواز سے یہ ہی اندازہ ہوا تھا۔
”یار۔“ حمزہ نے کچھ کہنا چاہا مگر یہ صفائیاں دینے کا وقت بھی نہیں تھا تو اس نے فون کاٹ دیا اور اب وہ جتنا ممکن ہو سکتا تھا اتنی تیز گاڑی سڑک پر دوڑا رہا تھا۔ وہ دروازہ تو حمزہ کی مرضی کے بغیر اب کوئی نہیں کھول سکتا تھا مگر پھر بھی بیرونی دروازے سے اندر داخل وہتے ہی اس نے حیا کو آواز دی تھی۔ اور ساتھ ہی وہ سیڑھیاں پھلانگتا اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا۔ اس نے موبائل پر چند بٹن دبائے اور سینسر ایکٹیویٹ ہو گیا۔ سامنے کسی کی موجودگی محسوس کرتے ہی دروازہ جھٹ سے کھل گیا اور حمزہ کا سانس رک گیا تھا۔ حیا بالکنی کے دروازے سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی ا س کا سر ایک طرف ڈھلکا ہوا تھا۔ حمزہ اس کے پاس اکڑوں جا بیٹھا تھا۔
”حیا۔۔حیا اٹھو۔“
حیا آنکھیں کھولو۔“
”حیا۔“ وہ مسلسل اس کا گال تھپک کر اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر وہ نیم بے ہوش پڑی تھی۔ حمزہ نے حیا کو گود میں اٹھا کر بیڈ پر لٹایا اور ڈاکٹر کو فون کر کے گھر پر بلا لیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ڈاکٹر کو گئے آدھا گھنٹہ گزر گیا تھا۔ حمزہ نے جمشید سے کہہ کر ڈاکٹر کی کہی دوائیاں منگوا لی تھیں اور وہ وہی دوائیاں لینے نیچے آیا تھا۔ ساتھ وہ جمشید کو چند ضروری ہدایات بھی دے رہا تھا۔ ادھر حیا نے ابھی آنکھیں کھولی تھیں۔ اور جیسے ہی وہ زرا ہلنے کے قابل ہوئی وہ اٹھ بیٹھی تھی۔ سامنے کھلا دروازہ دیکھ کر اسے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوا کہ حمزہ گھر آ چکا تھا۔ اس نے کل صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا اور اب بخار کی وجہ سے اس کا حلق کانٹا ہوا پڑا تھا۔ پانی کا جگ حمزہ کی طرف والے سائڈ میز پر پڑا تھا۔ حیا بمشکل آگے ہوئی کے چند گھونٹ اندر اتارے اور تبھی حمزہ کمرے میں داخل ہوا۔
”رکو‘میں دیتا ہوں۔“ وہ جلدی سے آگے بڑھا۔ حیا واپس اپنی جگہ ہو گئی۔ حمزہ کو دیکھ کر اس کا حلق اور کڑوا ہو گیا تھا۔ اس نے حمزہ سے منہ موڑ لیا تھا۔ حمزہ نے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا مگر اس نے وہ بھی نہیں پکڑا۔وہ بیٹھی سامنے ایل ای ڈی کو گھورتی رہی۔
”میں جلدی میں تھا مجھے دھیان ہی نہیں رہا کہ تم کمرے میں ہو۔ میں اپنے معمول کی طرح سیڑھیاں اترتے سینسر ڈی ایکٹیویٹ کر گیا تھا۔“ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر رہا تھا مگر حیا نے تو قسم کھائی ہوئی تھی کہ وہ ایک لفظ نہیں بولے گی۔ جب وہ کچھ نہیں بولی تو وہ اس کے سامنے آ بیٹھا۔
”یار‘میں اس کے لیے تم سے معذرت کرتا ہوں۔ میں یہ سینسر ہمیشہ کے لیے ڈی ایکٹیویٹ کر دوں گا۔“ وہ دل سے معذرت کر رہا تھا۔ حیا منہ پھیرے بیٹھی رہی۔
” فار گاڈ سیک یار۔ کم از کم مجھے بتاؤ تو کہ کیوں ناراض ہو تم؟“ وہ اب اکتا گیا تھا۔تبھی حیا بولی۔
”مجھے ماسی کے پاس بھجوا دو۔میں ان کے پاس جانا چاہتی ہوں۔“ حمزہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا وہ ناراض ہو کر گھر سے جانے کی بات کر رہی تھی۔
”کیا ہو گیا ہے حیا۔ تم مجھ سے بات کرو، ہم آپس میں یہ مسئلہ سلجھا لیں گے۔“ اسے واقعی حیا سے اس بات کی توقع نہیں تھی۔
”حمزہ‘میرے لیے شادی ایک بہت معتبر بندھن ہے۔ اور شادی مہینے دو مہینے کے لیے نہیں ہوتی کہ گزارا کر لیا جائے۔ یہ تمام عمر کا ساتھ ہوتا ہے۔ اس میں گزارا کر لو تو بنتا ہی نہیں ہے۔“ وہ جانے کیا بول رہی تھی حمزہ ایک ہاتھ کی مٹھی بنا کر اپنی ٹانگ پر دھرے اسے دیکھتا رہا۔
”مجھے سمجھ نہیں آتا جب تم کسی کے ساتھ اپنی مرضی سے ریلیشن شپ میں ہو تو تم اسے دھوکہ کیوں دیتے ہو؟ یہاں تک کہ شادی شدہ لوگ ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔ اگر تم اپنے رشتے سے جسمانی یا ذہنی طور پرمطمئن نہیں ہو تو کیوں ہو اس رشتے میں؟ اس لیے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ جب تمہیں اللہ سے ہی ڈر نہیں لگتا تو لوگوں سے کیا ڈرنا۔ تمہاری زندگی ہے تم اپنی زندگی کا فیصلہ لینے کے لیے آزاد ہو۔ اگر تمہارا رشتہ تمہیں سکون نہیں دے رہا تو چھوڑ دو۔ لیکن نہیں اپنی جھوٹی عزت بنائے رکھنے کے لیے ہم دھوکہ دیں گے مگر چھوڑیں گے نہیں۔تم کسی کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہو اور ایکسپوز ہو جاتے ہو، تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ غلطی ہو گئی کیونکہ دھوکہ غلطی نہیں ہوتی یہ چوائس ہوتی ہے۔تم اپنی مرضی سے دھوکہ دیتے ہو۔“ بول بول کر وہ تھک گئی تو خاموش ہو گئی۔ اے سی کی ٹھنڈک میں بھی اسے پسینہ آ رہا تھا۔ حمزہ نے پانی کا گلاس ایک بار پھر اس کی طرف بڑھایا اور اس نے وہ تھام لیا۔ مگر پیا نہیں۔
”مجھے سمجھ نہیں آرہا تم کیا کہنا چاہتی ہو؟“ اسے حیا کی ناراضگی کی وجہ ا ب تک سمجھ نہیں آئی تھی۔
”میں بس اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ اگر تم میرے ساتھ مطمئن نہیں ہو تو مجھے چھوڑ دو۔ لیکن مجھے دھوکہ مت دو۔“ یہ کہتے ہوئے بھی اس کا دل ڈوبا تھا مگر یہ فیصلہ اس نے دو دن لگاتار سوچ بچار کرنے کے بعد ہی لیا تھا۔ حمزہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔
” میں تمہیں دھوکہ دے رہا ہوں؟“ اس کے ماتھے پر سلوٹ ابھر آئے تھے۔
”حمزہ‘میں تم سے ناراض نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی شکایت ہے مجھے تم سے لیکن…“حمزہ نے اس کی بات کاٹ دی۔
”جسٹ لیٹ می نو…..کیا میں تمہیں دھوکہ دے رہا ہوں؟“ ا سنے ایک ایک لفظ پر زور دیا، حیا تھوڑی دیر خاموش رہی اور پھر انگلیاں مروڑتے اس نے آہستہ سے کہا۔
”ہاں!“
”حیا تمہارا دماغ ٹھیک ہے؟“ اس کے کردار پر بات آئی تو وہ بپھر گیا تھا۔
”افئیر تو میرے شادی سے پہلے بھی کبھی نہیں تھے اور اب جب کہ میری بیوی ہے تو میں کیوں افئیر چلاؤں گا؟“ وہ کھڑا ہو گیا تھا۔ اس کے یوں چلانے پر حیا کی آنکھوں میں پانی تیرنے لگا تھا۔ مگر روئی تو وہ اسے خود کو چھوڑنے کا کہہ کر بھی نہیں تھی تو اب کیوں روتی؟ وہ سارے آنسو اپنے اندر اتار گئی۔
”مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ تم اس رشتے سے مطمئن نہیں ہو‘یو ڈونٹ فیل فار می اٹس اوکے‘یو کین لیو می۔“ وہ تیزی سے بولی اور حمزہ نے ایک مٹھی بند کر کے کھولی۔
”اگر تم نے فیصلہ لے ہی لیا ہے جانے کا تو میں تمہیں نہیں روکوں گا۔ کل شیری آجائے گا، چھوڑ آئے گا تمہیں……نہیں بلکہ کل کیوں؟ تم آج کی فلائٹ ہی پکڑو۔“ کہہ کر وہ باہر نکل گیا۔ اورحیا کی آنکھوں کے آگے لگا بند ٹوٹ گیا۔ وہ دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر ہچکیوں کے ساتھ رونے لگ گئی تھی۔ حمزہ کو کہہ تو دیا تھا اس نے کہ اسے کوئی شکایت نہیں ہیں مگر وہ یہ نہ بتا سکی کہ اسے کتنا درد ہے۔اس کا دل کتنی بری طرح ٹوٹا تھا۔ حمزہ اسے دھوکہ دے گا یہ تو اس نے کبھی نہیں سوچاتھا۔اور اب کتنی آسانی سے وہ کہہ گیا تھا کہ جاؤ۔حیا کا تو دل مسوس کر رہ گیا تھا۔ حیا نے اپنا فون اٹھایااور پرسوں رات موصول ہونے والا ای میل کھولا۔ اب اسکرین پر حمزہ کی کئی تصویریں تھی، ہر تصویر میں ایک ہی لڑکی اس کے ساتھ کھڑی تھی۔ اگر یہ سادہ تصویریں ہوتی تو وہ اتنا سنجیدہ نہ لیتی مگر ان تصاویر میں وہ اس قدر قریب کھڑے تھے کہ حیا چاہ کر بھی ان کو نظر انداز نہیں کر سکی تھی۔ اس کی انگلیاں حمزہ کے چہرے پر گھوم رہی تھیں، وہ اس لڑکی کے ساتھ خوش نظر آ رہاتھا، ویسا ہی خوش جیسا حیا اسے اپنے ساتھ دیکھنا چاہتی تھی۔اور پھر حیا نے وہ تصویریں حمزہ کو واٹس ایپ کر دی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آفس سے دو گھنٹے پہلے آیا وہ اب تک وردی میں ہی تھا۔ اور اپنے کمرے سے نکل کر وہ اسٹڈی میں پڑے صوفے پرجوتوں سمیت آ لیٹا تھا۔ اس وقت اس کی سوچوں کا مرکز حیا کا یہ رویہ تھا۔پرسوں رات تک تو سب ٹھیک تھا۔ وہ اپنی محبت کا اعتراف کر رہی تھی، اسے کبھی چھوڑ کر نہ جانے کا وعدہ کر رہی تھی۔ پھر یہ اچانک کیا ہو گیا؟کیا وہ صرف اس کے دیر سے آنے پر ناراض تھی؟ یا اسے یوں کمرے میں بند کر جانے پر خفا تھی؟ مگر اس نے ان دونوں میں سے کسی بھی بات کا ذکر نہیں کیا تھا وہ تو شادی، سکون اور دھوکے کی باتیں کر رہی تھی۔
ایسا کیا پتا چل گیا تھا حیا کو کہ وہ اسے ایک رات میں ہی دھوکے باز گردان بیٹھی تھی؟ جب اسے کوئی سرا نہیں ملا تو اس نے آنکھوں پر بازو رکھ لیا۔ اب ایک نئی سوچ اس کے دماغ میں سر اٹھانے لگی تھی۔ وہ خود کیا چاہتا تھا؟ کیا وہ واقعی حیا کو جانے دے گا؟ یا اسے روک لے گا؟ روکے گا تو کس بنا پر؟ اس کا ایک پیر ہلنے لگ گیا تھا۔ اس کا دماغ اور دل کسی فیصلے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ حیا اچھی لڑکی ہے۔ اس کا حمزہ کا خیال رکھنا۔ صبح اس سے پہلے اٹھ کر ناشتہ تیار کرنا، اس کی ہر چھوٹی چیز کا خیال رکھنا، زبردستی اپنا حق جتانا۔ اسے سب اچھا لگتا تھا۔وہ جیسے ہی آفس میں فری ہوتا، سب سے پہلے وہ اپنا فون دیکھتا تھا۔کام کے دوران اسے حیا کا خیال رہتا تھا، حیا کا اس کے آس پاس ہونا اسے ایک خوبصورت احساس گھیرے رہتا۔ اس احساس کووہ کوئی نام نہیں دے سکا۔ کیا اسے بھی حیا اتنی ہی عزیز ہے جتنا کہ وہ حیا کو؟ یہ آخری سوچ تھی جس پر دماغ اور دل بیک وقت پہنچے تھے۔ اورتبھی میز پر پڑے فون کی رنگ نے اس کی سوچوں میں انتشار پیدا کیا۔ اس نے آنکھوں سے بازو ہٹا کر فون کو دیکھا اور دوبارہ بازو آنکھوں پر رکھ لیا۔ تھوڑی دیر وہ حیا اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتا رہا۔ اور پھر جیسے وہ کسی فیصلے پر پہنچ گیا تھا۔ اس نے میز پر رکھے کاغذ اٹھائے اور اسٹڈی روم سے نکل کر اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر چلا گیا۔ وہ اسے جہاں چھوڑ کر گیا تھا وہ اب بھی وہیں بیٹھی تھی۔ حمزہ کو دیکھ کر اس نے اپنے آنسو صاف کیے اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ حمزہ نے ہاتھ میں پکڑے کاغذ اس کی طرف بڑھائے۔
”میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا کہ میں تمہیں زبردستی اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتا۔ اگر تم مجھ سے دور جانے کا فیصلہ لے چکی ہو تو میں تمہیں نہیں روکو ں گا۔ یہ طلا ق کے کاغذ ہیں سائن کر دو۔“ طلاق کا لفظ سنکر ہی حیا کا جسم کپکپانے لگ گیا تھا۔اس نے کاغذ پکڑ لیے مگر دیکھے نہیں۔ اس کی آنکھیں دھندلائی ہوئی تھیں۔اس کے تمام تر خدشات حمزہ کے اس عمل نے سچ ثابت کر دیے تھے۔ وہ واقعی اس کے ساتھ مطمئن نہیں تھا اور اب کی بار وہ چاہ کر بھی اپنے آنسو نہیں روک سکی۔ دو موٹے آنسو اس کے گال پر پھسلے۔ وہ اسے طلاق دینے جا رہا تھا۔ حمزہ اطمینان سے ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
”کرو سائن۔“اس نے کاغذات کی طرف اشارہ کیا۔ اور پھر چونکا۔
”اوہ پین۔“ اس نے پہلے اپنی شرٹ کی جیب پر ہاتھ مارا اور پھر پینٹ کی جیبوں میں ڈھونڈنے لگا۔ پین نہیں ملا تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
”ایک منٹ میں اسٹڈی سے لے کر آتا ہوں۔“ وہ جانے کو مڑا۔
”تم اپنی صفائی بھی نہیں دو گے؟“ اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا تو حمزہ کے قدم رکے۔اور وہ پیچھے مڑا۔
”کس بات کی صفائی دوں؟“ وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر کھڑا ہو گیاتھا۔ حیا بیڈ سے اترنا چاہتی تھی مگر نقاہت کے باعث وہ بیٹھی رہی۔
”وہ……تصویریں.میں نے تمہیں بھیجی تھیں۔“ حیا نے اس کے چہرے سے نظریں ہٹاتے ہوئے کہا۔ حمزہ کو یاد آیا اس کا فون بجا تھا مگراس نے نوٹیفیکیشن دیکھا نہیں تھا۔
”میں نے نہیں دیکھی۔“ وہ اپنا فون بھی اسٹڈی میں ہی چھوڑ آیا تھا۔حیا نے اپنے فون پر اسکی تصویریں کھول کر اس کی طرف فون بڑھایا اور حمزہ نے آگے ہو کر اس کے فون پر جھانکا۔
اور پھر فون اس کے ہاتھ سے لے کر سلائڈ کرنے لگا۔ ایک کے بعد ایک تصویر سامنے آتی جا رہی تھی اور حمزہ کے تاثرات بدلتے جا رہے تھے وہ جو اب تک سنجیدہ تھا اب اس کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلتے جا رہے تھے اور یک دم اس نے ہنسنا شروع کر دیا۔ حیا نے چونک کر سر اٹھایا اسے سمجھ نہیں آیا وہ ہنس کیوں رہا ہے۔ اسے خود کی طرف دیکھتے پا کر حمزہ اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔
”پتا ہے یہ لڑکی کون ہے؟“ حیا کچھ نہیں بولی تو وہ دوبارہ بولا۔
”یہ ارمینہ ہے‘جس کی لپ اسٹک کا نشان میری شرٹ پر تھا۔ ایک کیس کے سلسلے میں میں صرف اس کی مدد لے رہا تھا۔“حیا کو اس کی بات پر یقین نہیں آیا۔
”اس طرح گلے میں بازو ڈال کر؟“ اس کا لہجہ طنزیہ تھا اور حمزہ نے اپنی مسکراہٹ دبائی۔ وہ لوگ واقعی بہت قریب کھڑے تھی۔
”یار‘یہ لڑکی مجھ میں انٹرسٹڈ تھی اور مجھے اس کی مدد چاہئیے تھی‘ تو بس یہ محبت میں اندھی ہوئی پڑی تھی۔ اور میرے لیے یہ کیس اہم تھا۔“’ وہ اسے تمام قصہ تفصیل سے بتانے لگا اور حیا کے دل کو چین آنے لگا۔
”اور اس دن کے بعد میں اس سے کبھی نہیں ملا۔“ حمزہ نے بات مکمل کی اور حیا نے اسے شاکی نظروں سے دیکھا۔
” تو پرسوں کس سے ملنے گئے تھے؟“ اس کے سوال پر حمزہ کا ہاتھ بے اختیار اپنے بالوں میں گیا۔
”رعایت کر دیں میڈم‘ اس بات کو چھوڑ دیں۔“ حیا نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے گویا رعایت نہیں ملے گی۔
”وہ اصل میں…“ حمزہ نے تھوڑی دیر سوچا،حیا کا دل پھر ڈوبنے لگاتھا۔
”کوئی نہیں جانتا لیکن تمہیں بتا رہا ہوں وہ بھی اس لیے کہ تمہارا دماغ ٹھیک ہو جائے۔ اب کسی سے کہنا مت۔“اس نے انگلی اٹھا کر حیا کو وارن کیااور حیا نے فورا اثبات میں سر ہلایا۔
”جن لوگوں نے تمہیں اغواہ کیا تھا یہ ایک بہت بڑا گروہ ہے، ان کے لوگ پورے پنجاب میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ لڑکیوں کو باہر اسمگل کرتے ہیں، میں پچھلے چھ ماہ سے اس کیس کو دیکھ رہا ہوں۔ ہم اس کے سرغنہ تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ اور اس سلسلے میں پولیس کا اسپیشل ڈپارٹمنٹ ہماری مدد کر رہا ہے۔“ کہہ کر وہ چپ ہو گیا۔
”تم ملنے کس سے گئے تھے؟ ” حیا نے اپنا سوال دہرایا۔ حمزہ چاہتا تو نہ بتاتا مگربتانے میں حرج بھی نہیں تھا۔
”صرف تمہیں بتا رہا ہوں۔“ اس نے حیا کو تنبیہی نظروں سے دیکھا۔
” علی سے ملنے گیا تھا۔۔علی کا تعلق پولیس کے ا سپیشل ڈپارٹمنٹ سے ہے۔“پھر اس نے تھوڑا توقف کیا۔
”وہ انڈر کور ہے‘مطلب وہ یہاں پر بطور اے ایس پی کام کر رہا ہے مگر اصل میں اس کا اپنا اسٹیشن اوکاڑہ ہے اور وہ سپریٹنڈنٹ پولیس ہے۔اس کے نیچے ایک پوری ٹیم یہاں ایکٹو ہے اس کیس کے پیچھے۔ علی کی اطلاع پر ہی آپ میرے گلے پڑی تھیں۔“ اس نے حیا کو شرارت سے دیکھا۔ اور حیا نے اسے مصنوعی غصے سے گھورا تو اس کی مسکراہٹ اور گہری ہو گئی تھی پھر وہ دوبارہ سنجیدہ ہو ا۔
”تمہارے والد کی موت کی خبر بھی علی نے دی تھی۔ تم چاچو کے انسٹیٹیوٹ میں ہو یہ بھی علی نے ہی مجھے بتایا تھا۔“ اس کی بات سن کر حیا کی جان میں جان آئی۔ تو وہ علی سے ملنے جاتا تھا؟ حیا ڈھیٹ ہوئی تھی۔
”آئی ایم سوری۔“ حیا نے آہستہ سے کہا۔
”ارے نہیں تم معافی مت مانگو‘بس یہ ان طلاق کے کاغذات پر سائن کر د و‘اور ماسی کے پاس جاؤ۔“ حمزہ نے اس کی گود میں پڑے کاغذات کی طرف اشارہ کیا اور حیا نے وہ کاغذاٹھا کر حمزہ کی طرف پھینکے۔
”میں کہیں نہیں جا رہی۔ اور کتنی جلدی تھی نا تمہیں یہ کاغذ بنوانے کی۔“ ‘ وہ یک دم ٹھیک نظر آنے لگی تھی۔حمزہ چپ رہا تو وہ دوبارہ بولی۔
”مجھے کبھی دھوکہ مت دینا۔ میں سچ میں چلی جاؤں گی۔“ وہ کسی ضدی بچے کی طرح ہونٹ نکال کر بولی اور حمزہ کو اس پر پیار آیا تھا۔ اس نے آگے ہوتے ایک ہاتھ اس کے گال پر رکھا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔
”میں تم سے مطمئن ہوں‘میں تمہیں وقت چاہے نہ دوں لیکن کبھی تمہارے پیچھے کسی کے ساتھ ریلیشن نہیں بناؤں گا، اس بات کا یقین رکھو۔“حیا نے اثبات میں سر ہلایا اور حمزہ نے اس کے تپتے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے تھے۔ وہ پیچھے ہوا تو حیا نے اسے خفگی سے دیکھا“۔
”یہ طلاق کے پیپر۔“ اسے اچھا نہیں لگا تھا حمزہ کا یوں اتنا جلدی طلاق کے پیپر لانا۔ حمزہ نے اپنی کنپٹی کھجائی اور ایک نظر طلاق کے کاغذات کو دیکھا۔
”یہ طلاق کے نہیں پراپرٹی کے کاغذ ہیں، جو میں نے شیری کے نام کی ہے۔“
”حمزہ ہ ہ!“ حیا نے اس کے بازو پر ہاتھ مارا اور وہ اپنابازو سہلاتے ہوئے ہنسا۔
“اگر میں دیکھ لیتی تو؟“
”تم اتنی ایموشنل تھی کہ مجھے یقین تھا تم نہیں دیکھو گی۔“ وہ اعتماد سے بولا اور حیا مسکرائی۔
”حمزہ سر‘ بہت تیز ہیں آپ۔“
” پولیس والا ہوں تو تیز تو ہوں گا۔“ اس نے اترا کر کہا تھا۔
” پولیس والے تیز ہوتے ہیں؟“
” مجرم سے تھوڑے زیادہ۔“ اس نے انگوٹھے اور انگشت شہادت کو قریب کرتے ہوئے بتایا اور حیا اس کے انداز پر ہنسی۔
مگر اگلے دن اس نے حمزہ سے ڈیمانڈ کی کہ وہ اپنے فون کا پاسورڈ کھول دے۔ اس لیے نہیں کہ اسے حمزہ پر شک تھا،اس کی منطق یہ تھی کہ اس سے وہ آئندہ اس پر شک نہیں کرے گی۔ اور حمزہ نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے کہا تھا۔
”تمہیں پتا ہے شک رشتے کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے؟“ اور حیا نے جھٹ کہا تھا۔’’اسی لیے تو کہہ رہی ہوں پاسورڈ کھول دو۔“
قہقہہ لگا اور لاہور کے گھر کا لاؤنج اسلام آباد کے لاؤنج میں بدل گیا۔وہ کھانے کی میز پر بیٹھے تھے جہاں حمزہ کے راتعوں کو دیر سے آنے کا قصہ حیا،اور حیا کے شک کا قصہ حمزہ سنا رہا تھا۔سب ہنستے ہوئے چپ ہوئے تو ردابہ بولی۔
”بچے‘شک کا تو کوئی علاج نہیں ہے۔ تھوڑا تھوڑا شک جمع ہوتے بم کی طرح طلاق کی صورت میں پھٹ جاتا ہے۔زندگی کے کسی بھی رشتے میں جب دراڑ آنے لگ جائے کسی وجہ سے تو ہمیں چاہئیے فوراً بیٹھ کر بات کر لیں۔ یہاں تک کہ اگر دوسرا نہ بھی سننا چاہے، تو اپنے رشتے کے مان پر اسے زبردستی پکڑ کر بٹھائیں، اور اپنا رشتہ بچا لیں۔“ وہ چپ ہوئیں تو حمزہ نے فوراً کہا۔
”مطلب میں پاسورڈ لگا لوں؟“ اور حیا جھٹ بولی تھی۔
”سوچنا بھی مت…..سرپرائز انسپیکشن کروں گی میں۔“ حمزہ نے مصنوعی خفگی سے اسے گھورا اور اس کی آنکھوں کے سامنے ہی اپنا فون میز سے اٹھا کر جیب میں ڈال دیا۔وہ مسکراہٹ دبائے بیٹھی رہی۔
سربراہی کرسی پر ڈاکٹر ہارون بیٹھے تھے۔ان کے دائیں طرف حمزہ اور بائیں طرف ردابہ تھی۔پھر ردابہ کے ساتھ حیا اور حمزہ کے ساتھ شیری بیٹھا تھا۔
اور اب حمزہ ڈاکٹر ہارون سے کہہ رہا تھا۔
”آپ مجھے دو تھپڑ لگا کر اس دن سمجھا دیتے تو ہمارا رشتہ اتنے سال ٹوٹا نہ رہتا۔“ سب نے چونک کر اسے دیکھا اور ڈاکٹر ہارون نے ایک نوالہ منہ میں رکھا۔
”ہاں تا کہ میں ظالم چچا بن جاتا اور تم مجھ سے بد ظن ہو جاتے۔ جوان بچوں پر کون ہاتھ اٹھاتا ہے؟ وہ باغی ہو جاتے ہیں۔“
”کم آن چاچو‘باغی اور بد ظن تو میں ویسے بھی ہو گیا تھا۔سوچتا تھا آپ جن ہیں جو ماسی کو چمڑ گئے ہیں اور ان کو مجھ سے دور کوہ قاف لے گئے ہیں۔” وہ اپنی پلیٹ پر جھکا بڑ بڑا رہا تھا۔ردابہ اور ہارون نے قہقہہ لگایا اور شیری نے حیا کو اشارہ کیا۔(دیکھ رہی ہیں؟)
اس نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کندھے اچکائے۔(وہ بدل گیا ہے)
”بائی دی وے حمزہ اب تمہارا جاب کا کیا سین ہے؟“ایک کباب اپنی پلیٹ میں رکھتی ردابہ بولی، تو حمزہ نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے حیا کو دیکھا۔
”اصل میں ماسی، میں مار پیٹ کا اتنا عادی ہو چکا ہوں،کہ مجھے نہیں لگتا میں شریفوں والی کوئی نوکری کر سکتا ہوں،اور پھر میری بیوی ایک سیشن کا اتنا کما لیتی ہے۔مجھے کیا ضرورت ہے۔“ وہ ہونٹ نیپکن سے تھپک رہا تھا۔بیوی نے ابرو اٹھائی۔شیری جھٹ سے بولا۔
”بھائی‘آپ کے یوں چکلے آنے سے بہت لوگ جاب لیس ہو گئے ہیں، چلیں آپ کی بیوی تو کماتی ہے پر میری بیوی آپ کے توسط سے جو کماتی تھی اب وہ بھی نہیں ہے۔ اس کی تنخواہ کے بغیر ہم اتنی مشکل سے گزارا کر تے ہیں۔ ہ روہانسا ہو کر بتا رہا تھا اور ردابہ نے اسے گھورا اور حیا ہنسی۔
”سمایا کا کیٹرنگ کا بزنس بند ہو گیا ہے کیا؟“شیری نے اس کی طرف بائیں آنکھ دبائی۔
” جرمنی سے entrepreneurshپڑھ کر آنے کے بعد میں نے اور اس نے ہاتھ ملا لیا ہے۔اب ہم اس سے تین گنا بڑی کمپنی چلا رہے ہیں۔” دونوں ہنسے اور حمزہ کا دماغ کہیں اپنی ریٹائرمنٹ پر اٹک گیا تھا۔تبھی ہارون بولے۔
”رٹائرمنٹ لینے کی کیا ضرورت ہے تمہیں؟ ابھی تو تمہارا کیریر شروع ہوا تھا، کیوں اپنا مستقبل خراب کر رہے ہو حمزہ۔“ وہ اسے سمجھا رہے تھے۔
”چاچو‘آپ کہہ رہے ہیں کہ میں کیوں رٹائرمنٹ لے رہا ہوں؟ مطلب آپ لوگوں کو ابھی بھی لگتا ہے میرا فیصلہ غلط ہے؟“وہ ڈسٹرب نظر آنے لگ گیا تھا۔
”بیٹا‘ہم بس یہ کہنا چاہتے ہیں کہ تم کوئی اور جاب نہیں کر سکو گے۔پولیس ہی تمہاری فیلڈ ہے۔ تو تم واپس جوائن کرو۔“ ردابہ دو ٹوک بولی تو حمزہ کھڑا ہو گیاتھا۔
”میں اس سسٹم کا حصہ دوبارہ کبھی نہیں بننا چاہتا جو اپنے لوگوں کو اون نہ کریں۔میں نے اپنی زندگی کے اتنے سال اس محکمے کو دے دیے اور یہ میرے گھر کو حفاظت نہیں دے سکے۔ ہم منہ کھول کے کہتے ہیں فوج اتنا بجٹ کھا جاتی ہے، پر کبھی دیکھیں وہ اپنے سپاہی سے لے کر جنرل تک سب کو اون کرتے ہیں۔ ان پر یہ پیسہ لگاتے ہیں۔اور ہمارے ہاں شہید کی ماں کو اس کے بیٹے، اور دوسرے شہداء کے اعزاز میں ہونے والی تقریب میں نیچے بٹھا دیا جاتا ہے….واٹ شٹ مین!“وہ تو چھڑ ہی گیا تھا۔میز پر سنجیدگی چھا گئی تھی۔
”میں نے چھ سال اس ایم پی اے پر کام کیا۔“ اس نے چھ انگلیاں اٹھا کر دکھائیں۔” چھ سال زندگی کے اس کیس کو دے دیے۔کون سا گناہ اور جرم نہیں تھا جس میں وہ وہ ثقلین ملوث نہیں تھا؟یاد ہے دربار پر جو دھماکہ ہوا تھا اس میں بھی یہ سہولت کار رہا۔ زندگی کو ہتھیلی پر رکھ کر میں نکلا تھا۔مگر جب ایکشن کا وقت آیا،گرفتاری کا وقت آیا تو اعلیٰ حکام نے ہاتھ کھینچ لیا۔ وزیر اعلی نے مجھے ہی او۔ایس۔ڈی کرنا چاہا، او۔ ایس۔ڈی (آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی)سمجھتے ہیں نا آپ؟ یہ آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی نہیں بلکہ آفیسر ود نو ڈیوٹی ہونا چاہئیے۔ وہ ثقلین نے تو پورا زور لگایا تھا کہ وہ میرے کیریر پر او۔ایس۔ڈی کا ٹھپہ لگا دے۔اگر چاچو اس سارے معاملے میں نہ پڑتے، ان کی جان پہچان نہ ہوتی، تو میرے ان پندرہ سالوں کے کیریر پر تو دھبہ لگ جاتا۔میں بس نو سے تین دفتر میں حاضری لگوانے جاتا، کوئی کام نہیں، کوئی ڈیوٹی نہیں، کوئی پاور نہیں۔ اگر مجھے او۔ایس۔ڈی کر دیا جاتا تو میں ایک دن وہاں نہ رکتا۔ ذلت کی نوکری سے، عزت کی رٹائرمنٹ بہتر ہے۔ ”وہ ایک سانس میں گزرے سالوں کی روداد سنا گیا تھا۔
”اور پھر مزے کی بات، میرے ہی ہاتھوں سے وہ سارے کیس ختم کروائے گئے۔ آپ لوگ میری تکلیف کا اندازہ کر سکتے ہیں؟ اپنے چھ سالوں کی محنت میں نے پل بھر میں اپنے ہاتھوں اجاڑی تھی۔“ وہ ایک ہاتھ کمر اور دوسرا ماتھے پر رکھے لمبے لمبے سانس لے رہا تھا۔جیسے سب دوبارہ سامنے دکھنے لگا تھا۔حیا نے تاسف سے اسے دیکھا۔اس نے ابھی استعفی نہیں دیا تھا مگر اپنی مرضی سے چند ماہ چھٹی آنے کے باوجود وہ بے سکون تھا۔تھوڑی دیر خاموشی رہی پھر وہ مڑا اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
”اس کیس کے پیچھے میں سارا دن ساری رات گھر نہیں آتا تھا۔کیونکہ وہ لڑکی اسی شرط پر میری مدد کر رہی تھی کہ جب وہ میسج کرے، کال کرے میں وہاں ا سکے پاس پہنچوں۔میری بیوی مجھ پر شک کرنے لگی تھی۔ وہ شرٹ میری بیوی نے دوبارہ مجھے کبھی پہننے نہیں دی۔“ وہ ارمینہ کی لپ اسٹک کے نشان والی شرٹ کا ذکر کر رہا تھا۔حیا نے سر جھکا لیا۔ اسے لگتا تھا حمزہ کو نہیں پتا کہ وہ اس شرٹ کے کیوں خلاف تھی۔ حمزہ کو تو جیسے سکون ہی نہیں آ رہا تھا۔ آج وہ اپنے دل میں رکھی ہر بات کہہ دینا چاہتا تھا۔
”ماسی‘میرے گھر کے باہر سے دو بار دھماکہ خیز مواد ملا۔ میرا بچہ…میری بیوی مر جاتے اگر بر وقت پتا نہ چلتا، اور میں ان کے ٹکڑے جما کرتا رہتا۔“ اس نے جھرجھری لی۔
”حمزہ [تم بہادر آفیسر ہو۔“ حیا نے آہستہ سے کہا تو وہ سرعت سے اس کی طرف مڑا۔
. ” میں نے کہا تھا‘ہم اس بارے میں کبھی بات نہیں کریں گے۔بھاڑ میں جائے یہ بہادری۔میرے میں اتنی ہمت نہیں کہ اور جنازے اٹھا سکوں۔“ اس کے جبڑے حدت جذبات سے ہل رہے تھے۔
” فار گاڈ سیک بھائی۔“ شیری نے اسے روکا اور وہ تو اس وقت اپنے قابو میں نہیں تھا۔نہ چاہتے ہوئے بھی نوکری چھوڑ دینے کی تکلیف اور بے سکونی کی ساری بھڑاس آج نکل رہی تھی۔ تو شیری کیوں بچتا؟
”صحیح صحیح…آپ لوگ چاہتے ہیں میں بہادری دکھاتا،اپنی بیوی اور تین سال کے بچے کو مرنے دیتا۔اگر وہ بچ جاتے تو دھماکہ خیز مواد کے بعد گن ہاتھ میں پکڑ کر اسی طرح سڑکوں پر پھرتا اور ایک دن میری بھی لاش گھر آتی۔“ حیا نے اپنا سر ہاتھوں میں گرا لیا۔کھانا توحرام ہوہی گیا تھا۔مگر وہ چپ نہیں ہوا۔
”پھر میری لاش پر تمغے لگاتے تم لوگ،میڈیا سیشن کرواتے، ہمارا حمزہ اتنا بہادر تھا کہ مر گیا۔“اس نے استہزائیہ ہاتھ ہوا میں اٹھائے۔اب تو ردابہ اور ہارون بھی کچھ نہیں بول رہے تھے۔ اس کی بھڑاس تھی وہ اس کے پرسکون ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔
”مجھے مرنے سے ڈر نہیں لگتا پر اپنے بچے کو میں یوں اکیلے دھکے کھانے کو نہیں چھوڑوں گا۔یہ لوگ میرے بعد میری بیوی اور بچے کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ان کی خون کی پیاس کبھی نہیں بجھتی۔میں ایک پرسکون زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔جہاں مجھے ہر وقت اپنی فیملی کو کھونے کا ڈر نہ لگا رہے۔“ وہ اب گردن اٹھا کر سر کو دائیں بائیں گھما رہا تھا۔سر درد سے پھٹنے لگا تھا۔
”شیری‘ وکیل کو بلواؤ۔میں اپنی پراپرٹی اپنی زندگی میں ہی اپنی بیوی اور بچے کے نام کروانا چاہتا ہوں۔“ وہ دو ٹوک سا کہتا سیدھا ہوا۔حیا کا ہاتھوں پر ٹکا سر تھوڑا اور گر گیا۔ردابہ نے ہارون کو دیکھا جو حمزہ کو ہی دیکھ رہا تھا۔شیری نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔اس وقت وہ زخمی شیر تھا۔اسے کچھ بھی کہنا فضول تھا جو سمجھاتا وہ اسی پر جھپٹ جاتا۔شیری نے حمزہ کو دکھانے کو فون نکالا۔
” یہ تو آج بھی اتنے ہی کھڑوس ہیں۔“ ایک میسج حیا کو کیا۔اور اس نے بدلے میں اینگری ایموجی بھیجا اور ساتھ میسج۔
”وہ پریشان ہے۔“
”بابا۔“ آواز پر سب نے سر اٹھا کر دیکھا‘ اور حمزہ اور شیری پیچھے مڑے۔ننھا ارہاب سفید ٹی شرٹ اور وہی نیلی جینز میں وہاں کھڑا تھا۔حمزہ فوراً سیدھا ہو گیا۔
چہرے کے تاثرات نارمل کیے۔حیا نے ٹھوڑی ہاتھوں پر ٹکائی۔جانتی تھی اب کیا ہو گا۔حمزہ اب جب مڑے گا تو اتنا میٹھا ہو گا کہ ارہاب کو شوگر ہو جائے۔اور یہ ہی ہوا۔اب وہ کرسی سے کھڑا ہو کر ارہاب کے پاس جا رہا تھا۔
”ہمارا بیٹا اٹھ گیا ہے؟“اس نے جھک کر ارہاب کو گود میں اٹھایا اور اس نے بانہیں حمزہ کی گردن میں ڈال دیں۔
”مجھے.. مجھے..شور آ رہا تھا۔“ وہ ہونٹ نکال کر بولا اور حمزہ نے اس کا گال چوما۔ ” سوری بھئی،شیری چاچو کو ڈانٹ پڑ رہی تھی۔“ وہ بات گھما گیا،اور شیری نے ارہاب کی طرف سر کو خم دیا۔(میں ہی کمینہ ہوں اس گھر میں)
ارہاب ہنسا۔ ”چاچو۔“ پھر ہنسا۔” بابا کو ڈانٹ پڑی پھر…پھر….چاچو کو ڈانٹ پڑی۔یے ے ے.“ وہ خوش ہو رہا تھا حیا نے دو انگلیاں ہونٹوں پر رکھ کر مسکراہٹ چھپائی۔اور حمزہ نے اسے گھورا۔پھر ارہاب کے کان میں سرگوشی کی۔
” سب کے سامنے نہیں بتاتے۔“ اور اسنے سمجھتے ہوئے سر ہلایااور اونچی سرگوشی کی۔”آئی ول ناٹ ٹیل دادا اینڈ دادو….ماما نے آپکو ڈانٹا۔“ حمزہ نے بے بسی سے ارہاب کو دیکھا اور ردابہ،ہارون ہنس دیے تھے۔ ارہاب باپ کی گود سے اتر کر ہارون سے ملا پھر ردابہ سے۔ان دونوں کے گال چوم کر کے وہ بھاگ کر شیری کے پاس آیا۔شیری نے دو چاکلیٹس جیب سے نکال کر اسے تھمائی۔ اور اس نے تھینک یو کہتے شیری کے گال کو چوما اور دوبارہ باپ کی گود میں چڑھ گیا۔
”اب یہ جاب لیس رہیں گے؟“ شیری نے دوبارہ میسج بھیجا۔حیا نے مسکرا کر اسے دیکھا۔شیری کا فون وائبریٹ ہوا۔
” ہی ول جوائن پولیس اگین۔“ شیری کو مزاق اچھا لگا تبھی اس نے منہ کھول کر ہنستا ایموجی بھیجا۔
”اچھا تھا اور بھیجیں۔“ (لطیفہ)
حیا ہنسی۔ سب نے اسے دیکھا تو وہ ہونٹ دباتی نفی میں سر ہلانے لگی اور میسج ٹائپ کیا۔
”وہ پیدا ہی پولیس کے لیے ہوا ہے۔جلد اسے احساس ہو جائے گا کہ اس کی زندگی کا مقصد وہ وردی ہے۔اس کی بے سکونی اسے دوبارہ تھانے لے جائے گی۔“
شیری نے بس اثبات میں سر ہلایا اور پلیٹ پر جھک گیا۔حمزہ ارہاب کو لے کر دوبارہ اپنی کرسی پر بیٹھ چکا تھا۔اس نے تھوڑے سے چاول پلیٹ مین ڈالے۔
”میرا بیٹا اب کھانا کھائے گا۔ “ اس کے گرد ایک ہاتھ باندھتے،دوسرے ہاتھ کی دو انگلیوں میں تھوڑے سے چاول اٹھا کر اس نے ارہاب کے منہ میں ڈالے، اور وہ چاکلیٹس الٹ پلٹ کر دیکھتا منہ ہلانے لگا۔
”حمزہ‘اس کا منہ تو دھلوا دو پہلے۔“ حیا خفگی سے بولی اور حمزہ نے ارہاب کو دیکھا جو اب اسے ہی دیکھ رہا تھا۔پھر دونوں نے اپنا ایک ایک ہاتھ ہوا میں اٹھایا،گھمایا،گردن آگے کی۔اور اپنی طرف سے شیر کی آواز میں بولے۔” شیر منہ نہیں دھوتے۔“ ارہاب کھلکھلایا،حمزہ نے مسکراتے ہوئے ارہاب کا گال چوما اور دوبارہ اسے چاول کھلانے لگ گیا حیا نے روہانسا ہو کر ردابہ کو دیکھا۔
”اس نے میرا بچہ بگاڑ دیا ہے۔“ ردابہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔” جب وہ نہ ہو تو ارہاب کی پروگرامنگ کر دینا۔“ وہ سرگوشی سی کہ انداز میں بولی اور حیا نے سر ہلایا۔
”ماسی‘کیا میں نے آپ کو بتایا کہ میرا پیارا ہسبنڈ کل میرے ساتھ انسٹیٹیوٹ جا رہا ہے؟“ حیا نے انگلی سے حمزہ کی طرف اشارہ کیا۔حمزہ نے ابرو اٹھا کر اسے دیکھا۔
”میں اسے ڈاکٹر فہمیدہ کے سیشنز میں دلواناچاہتی ہوں۔ کیونکہ کچھ لوگوں کو باقاعدہ علاج کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔“ وہ چبا کر بولی، حمزہ نے ناک سے مکھی اڑائی،ردابہ نے مسکراہٹ دبائی اور شیری چہکا۔
”آپ کیوں نہیں دیتی ان کو سیشنز…..بڑا نام سنا ہے آپ کا۔“
”تمہیں لگتا یہ میرے قابو آنے والی چیز ہے؟“و ہ ہنسی روکتے ہوئے بولی اور حمزہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ ”آپ کا ہی سایہ ہے مجھ پر محترمہ“۔حیا ہارون کو دیکھتی فوراً سیدھی ہوئی۔
”استغفراللہ۔“ ارہاب نے چاول منہ میں لیے اور دہرایا۔
”استفراللہ۔“ لاؤنج میں قہقہے گونجے اور سب کو اب ارہاب پر پیار آ رہا تھا۔مگر اس کا باپ کب کسی کو اس کے پاس آنے دیتا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ انسٹیٹیوٹ کے دوسرے فلور پر واقع کلاس روم تھا۔جس میں پندرہ کرسیاں کمرے کی تین دیواروں کے ساتھ ترتیب سے لگی تھیں، جبکہ وائٹ بورڈ والی دیوار خالی تھی۔تمام کرسیاں بھری ہوئی تھیں، اور دائیں طرف دیوار کے ساتھ چار کرسیاں چھوڑ کر حمزہ وی گلے والی میرون ٹی شرٹ پہنے ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا تھا۔ڈائس کے پاس ڈاکٹر فہمیدہ لیپ ٹاپ پر جھکی کھڑی تھیں۔سیشن شروع ہونے میں پانچ منٹ باقی تھے۔ہلکی سرگوشیاں ہو رہی تھیں۔مگر وہ یہاں کسی کو نہیں جانتا تھا،سو چپ چاپ یہاں بیٹھے لوگوں کا جائزہ لے رہا تھا۔ پھر کبھی لب کاٹنے لگتا اور کبھی فون نکال کر اپنی اور ارہاب کی صبح لی ہوئی تصویریں دیکھنے لگ جاتا۔اس کا کتنا دل تھا کہ ارہاب بھی اس کے ساتھ آ جائے۔مگر حیا نے صاف منع کر دیا تھا۔جانتی تھی اس کا دھیان سیشن سے زیادہ ارہاب پر رہے گا۔ چند ماہ مسلسل گھر رہنے سے اسے ارہاب کی زیادہ ہی عادت ہو گئی تھی۔تبھی وہ ابھی سے اسے مس کرنا لگا تھا۔ابھی بھی وہ تصویریں ہی دیکھ رہا تھا،کہ کلاس کی لائٹس بند کر دی گئیں اور وائٹ بورڈ پر پروجیکٹر کی مدد سے لیپ ٹاپ کی اسکرین نظر آنے لگی،لکھا تھا۔
”ایموشنل انٹیلیجنس،آ کی ٹو سکسیس۔“
حمزہ نے فون جیب میں ڈالا اور زرا سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ڈاکٹر فہمیدہ کی آنکھیں اب ایک لائن سے دوسری اور پھر دوسری سے تیسری لائن تک کا سفر طے کر رہی تھیں۔انہوں نے بات کا آغاز سوال سے کیا۔
”میری ایک کزن ہے وہ اکثر شکایت کرتی تھی کہ اس کا خاوند آفس سے آ کر بہت غصہ کرتا ہے۔ بات بے بات جھگڑتا ہے۔چیزوں میں نقص نکالتا ہے۔“ وہ قدم قدم آگے آنے لگیں۔
”پھر پتا چلا کہ در اصل بھائی کا باس بہت غصے والا ہے،وہ کام کا بوجھ بڑھا کر رکھتا ہے اور زرا سی بات پر بہت بے عزت کرتا ہے۔وہاں وہ کچھ بول نہیں پاتے۔ان کا غصہ پھر گھر آ کر نکالتے ہیں۔” وہ اب کرسیوں کے بیچ میں کھڑی تھیں۔
”اسی طرح اکثر فیس بک پر میٹرک، ایف ایس سی کی لڑکیاں پوسٹ لگاتی ہیں کہ پریکٹیکل کے لیے آئے ایکسٹرنل بد تمیزی کرتے ہیں،بیڈ ٹچ کرتے ہیں،فلرٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر ہم کچھ بولیں تو فیل کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔“ وہ ایک ایک نظر سب پر ڈال رہی تھیں۔
”کوئی بتائے گا یہ کیا وجہ ہے؟ کیوں ہم کسی کا غصہ کسی پر نکال دیتے ہیں؟ یا کیوں ہمارے یہ محترم اساتذہ اپنی بیٹیوں کی عمر کی لڑکیوں کو اکیلا دیکھ کر بد حواس ہو جاتے ہیں؟“ وہ پوچھ رہی تھیں۔سب خاموش رہے،تو وہ آگے بولیں۔حمزہ نے اکتاہٹ سے ادھر ادھر دیکھا،سب توجہ سے سن رہے تھے۔وہ ہی بے زاربیٹھا تھا،ایک بار اسکا دل چاہا فون نکال کر ارہاب کی تصویریں کھول لے،مگر یہ کلاس ایتھکس کے خلاف ہوتا تو جھلا کر اس نے اپنا پیر ہلانا شروع کر دیا۔
فہمیدہ نے ایک نظر اس کی ہلتی ٹانگ کو دیکھا اور پھر مڑ کر ڈائس کے پاس چلی گئی۔
.”سر‘ ایک ریسرچ کے مطابق ستائیس طرح کے مختلف جذبات ہیں۔جن میں غصہ اور پیار سب سے طاقت ور ہیں۔اور اگر ان کا صحیح وقت پر اظہار نہ ہو سکے تو یہ بندے کو تباہ کر دیتے ہیں۔جو غصہ ضبط کرتا جائے گا،اندر انڈیلتا جائے گا اسے کل ہارٹ اٹیک ہو جائے گا۔وہ دل کا مریض بن جائے گا۔جو وقت پر اپنی عمر پر پیار نہیں حاصل کر سکے گا،وہ پھر چاہے بوڑھا بھی ہو جائے اس کا ٹھرک نہیں جائے گا۔” اس لفظ پر کمرے میں بیٹھے لڑکے منہ جھکا جھکا کر مسکراہٹ چھپانے لگے مگر دو لوگ سنجیدہ رہے۔ ایک ڈاکٹر فہمیدہ دوسرا حمزہ۔ وہ اب بھی اپنی ٹانگ ہلا رہا تھا۔ اسے یہاں سے نکلنا تھا۔گھر جانا تھا،مگر وہ بندھا ہوا تھا۔ایک لڑکے نے سوال پوچھنے کو ہاتھ اٹھایا اور حمزہ نے ناگواری سے منہ بنایا(پتا نہیں کب یہ تیس منٹ پورے ہوں گے) اب وہ لڑکا سوال پوچھ رہا تھا۔
”ڈاکٹر فہمیدہ‘قرآن میں ہے کہ اللہ کو غصہ پی جانے والے لوگ پسند ہیں۔مگر آپ کہہ رہی ہیں کہ ہم غصہ نکال دیں؟“ اس نے پوچھا اور کئی سر ہلے جیسے وہ بھی اس آیت سے واقف ہوں۔ڈاکٹر فہمیدہ مسکرائیں۔اس سے پہلے وہ کچھ کہتیں حمزہ کی ہلتی ٹانگ سے وہ ڈسٹریکٹ ہو رہی تھیں تبھی وہ زرا اس کی طرف آئی۔
”آپ مسلسل ٹانگ ہلا رہے ہیں۔ میرا فوکس ڈائیورٹ ہو رہا ہے۔کیا کوئی پریشانی ہے آپ کو؟“ وہ آرام سے پوچھ رہی تھیں۔حمزہ کی ہلتی ٹانگ رکی، اور وہ زرا سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔سب اس کو ہی دیکھ رہے تھے۔اس نے کندھے اچکائے۔
”آئی وانٹ ٹو گو ہوم۔“ سب ہنس دیے۔جیسے وہ اسکول کا بچہ ہو جسے جلدی گھر جانا ہے۔حمزہ نے ان کی پرواہ نہیں کی اور دوبارہ بولا۔
” میرا بیٹا ہے گھر پر۔ میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا اور میری بیوی نے اسے یہاں آنے نہیں دیا۔“ وہ جنجھلایا ہوا لگ رہا تھا۔ڈاکٹر فہمیدہ نے سینے پر ہاتھ باندھے اور ان کی آنکھوں میں چمک در آئی۔
”گریٹ‘دس سیشن از فار یو۔“ انگلی اس کی طرف اٹھاتی وہ کلاس کی طرف متوجہ ہوئی، اور حمزہ کا پیر دوبارہ ہلنے لگ گیا تھا۔
”تو ہم بات کر رہے تھے قرآن میں غصہ پی جانے کا حکم ہے۔سر ’پی جانا‘ اردو کا لفظ ہے۔اردو کے الفاظ میں جھول ہو سکتا ہے، اس لیے مطلب واضح کرنے کے لیے ہم اسے عربی میں ہی سمجھتے ہیں۔“
”یہ آیت جس کا آپ نے ذکر کیا، اس میں لفظ ہے کاظمین۔ جسے ہم نے اردو میں پی جانا کہا ہے۔یہ لفظ کاظمت سے نکلا ہے۔کاظمت عرب میں اس طریقے کو کہا جاتا ہے جس کے زریعے وہ بھرے ہوئے کنویں کو کاریز (زیر زمین پائپ لائن) کے زریعے خالی کنویں سے جوڑ دیتے تھے۔” وہ دوبارہ کرسیوں کی بیچ خالی جگہ کی طرف آرہی تھیں۔
”اب یہ جو لفظ ہے کاظمت،یہ جو طریقہ ہے اس کے لیے اردو میں کوئی لفظ نہیں ہے۔اس طریقے کو اردو میں کیا کہتے ہیں لغت خاموش ہے۔تو کیا کیا ہم نے کہ اس لفظ سے قریب تر لفظ اٹھا کر ترجمے میں رکھ دیا۔“ وہ ہاتھ ہلاتی بولتی جا رہی تھیں۔
”اور وہ قریبی لفظ ہے ’پی جانا۔‘ اب ہمیں سکھایا بھی یہ ہی جاتا ہے کہ غصہ آئے تو پی جاؤ۔کنٹرول کر لو….اندر رکھ لو…باہرمت نکالنا۔“
”غصہ بری چیز نہیں یے کیونکہ اللہ نے یہ جزبات بھی بغیر وجہ نہیں بنائے. واصف علی واصف کہتے ہیں۔کم ظرف کا غصہ اسے کھا جاتا ہے اور اعلیٰ ظرف کا غصہ اسے بنا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ جو کم ظرف ہو گا نا وہ غصے میں جلتا کڑھتا ختم ہو جائے گا، اور جو اعلیٰ ظرف ہو گا وہ اس غصے کو فیول کے طور پر استعمال کرے گا۔تبھی کچھ لوگ ہوتے ہیں جن کو آپ کہتے ہیں، تم نہیں کر سکتے،تو وہ غصے میں کر کے دکھا دیتے ہیں۔“
”غصہ انرجی ہے…نیگٹو انرجی ہے اسے پازیٹو کام پر لگا دیں غصے کو کاظمت میں لگا دیں۔ اور یہ یوں ہو گا کہ کوئی مقصد ڈھونڈیں زندگی کا کوئی کام ڈھونڈیں اور یہ ساری انرجی وہاں لگا دیں۔ ورنہ جو انرجی مثبت طرف نہیں لگتی وہ پھر ایک دن تباہ کن مواد کی صورت میں آپ کو ختم کر دیتی ہے۔آ پ کو ندامتیں اٹھانی پڑھ جاتی ہیں۔“
”سر‘آپکی زندگی میں آ کیا رہا ہے، وہ اہم نہیں ہے مگر اس کا ری ایکشن آپ کیسا دے رہے ہیں یہ اہم ہے۔“
”ہمارے دماغ کا ایک حصہ ہے جسے ایموشنل برین کہتے ہیں،جب ہمارے ساتھ کوئی حادثہ ہوتا ہے تو یہ فوراً کوئی ری ایکشن دینا چاہتا ہے۔مثال کے طور پر آپکو کسی نے گالی دی۔انفارمیشن ایموشنل برین کو پہنچی اور اس نے فوراً رسپانڈ کیا آپ نے اسے ایک تھپڑ رکھ دیا،یا بدلے میں گالی دے دی،اور بات یہیں ختم ہو گئی۔اس سے اگلا حصہ ہے ریشنل برین،یہ تب کام کرتا ہے جب آپ ایموشنل برین کو قابو کر لیتے ہیں۔“
”اسلام کہتا ہے‘جب تمہیں غصہ آئے تو پانی پی لیا کرو،کھڑے ہو تو بیٹھ جایا کرو،بیٹھے ہو تو لیٹ جایا کرو۔سر! یہ اس لیے ہے تا کہ آپ کو وقت لگے رسپانڈ کرنے میں۔جب آپ فوراً رسپانڈ کرتے ہیں تو وہ جذبات والے حصے سے کرتے ہیں مگر جب آپ تھوڑا رک کر رسپانڈ کرتے ہیں تو ریشنل حصے سے کرتے ہیں۔اور بہتر ری ایکشن دیتے ہیں اور اسی کو ہم ای کیو کہتے ہیں۔“
”آپ آج جا کر اپنے گھر میں کہیں مجھے فلاں سے محبت ہو گئی ہے،آپ کے والد آپ کو رکھ کر تھپڑ دیں گے،اور والدہ دہائیاں دیں گی کہ میری ہی تربیت میں کمی رہ گئی۔ بھئی کوئی ان اللہ لوگوں کو بتائے کہ یہ جزبات ہیں۔ ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ غصہ،پیار،محبت،حزن ان کو کنٹرول نہیں کرنا مینج کرنا ہے۔“
”ہمیں ایموشنل مینجمنٹ کا نہیں پتا۔ ہم نفرت کرتے ہیں بے پناہ کرتے ہیں،محبت کرتے ہیں بے پناہ کرتے ہیں۔“ وہ اب حمزہ کو دیکھ رہی تھی۔
”اپنے جذبات کو مینج کرنا سیکھیں۔“
”امریکہ کی ریسرچ ہے کہ انسان کی کامیابی میں پندرہ فیصد کردار آئی کیو کا،اور پچاسی فیصد کردار ای کیو کا ہے۔ مگر ہم پھربھی اس پندرہ فیصد پر ہی زور دے کر رکھتے ہیں۔یاد کر لو….رٹا لگا لو…یاد کر لو۔مگر یاد رکھیں بل گیٹس وہ ہی بنتا ہے جس کا ای کیو ہے اور ای کیو والے ہی آئی کیو والوں کو لیڈ کر رہے ہوتے ہیں۔“
”ہر رشتے کو ایک جگہ دیں اور اس میں ہی رکھیں۔ ڈونٹ ٹیک اینی ریلیشن فار گرانٹڈ۔ کیونکہ جب ہم کسی چیز کو گرانٹڈ لیتے ہیں نا اللہ پھر حقیقت دکھا دیتا ہے،آپکو یا ان کو آپ سے دور کر دیتا ہے اور پھر بہت تکلیف ہوتی ہے۔“ حمزہ کی ہلتی ٹانگ رک گئی۔تو کیا اسنے اپنے رشتے گرانٹڈلے لیے تھے؟ ہاں! اسے لگتا تھا بھلا وہ لوگ کہاں جائیں گے اسے چھوڑ کر۔وہ یہ ہی سوچتا تھا کہ جب فارغ ہو کر گھر جاؤں گا تو رانیہ کے سارے شکوے ختم کر دوں گا۔وہ آگے بول رہی تھی۔
”لوگوں کو پیار دیں،پر اتنا نہ دیں کہ وہ آپ پر منحصر ہی ہو جائیں۔اتنا مت کریں کہ اگر آپ کو کبھی ان سے دور ہونا پڑے تو آپ زندہ ہی نہ رہ سکیں۔“ حمزہ کے گلے میں گلٹی ڈوب کر ابھری۔ارہاب کے بغیر اسے چند منٹ بھی قیامت لگتے تھے۔ اسنے ٹانگ سے ٹانگ اتار دی۔
”یا آپ نہ ہوں،تو وہ تکلیف برداشت نہ کر سکیں۔کنٹرول مت کریں،جذبات دبائیں مت، ان کومینج کرنا سیکھیں۔پیار کریں،غصہ کریں مگر ایک حد میں آ جائیں۔ ورنہ یہ دونوں جذبات تباہ کن نتیجہ دیتے ہیں۔ نپولین کو غصہ آیا تو کہتا جنگ لڑو، ہزاروں لوگ مرگئے۔پیار کرتے ہیں تو اتنا کہ دوسرا بندہ قید محسوس کرنے لگ جاتا ہے۔“
”اور جب تک آپ اپنے جذبات نہیں سمجھیں گے آپ دوسروں کے جذبات بھی نہیں سمجھ سکتے۔کیا آپ بتا سکتے ہیں آپ آخری وقت اس طرح کیسے ہنسے تھے کہ ٹائیم اینڈ اسپیس سے بے نیاز ہو گئے ہوں؟“ انہوں نے ایک نظرکلاس میں گھمائی۔
”ایک گھنٹہ پہلے۔“ کسی نے کہا۔
” پچھلے ہفتے۔“ ایک اور جواب آیا۔دو چار کے علاوہ سب چپ تھے۔وہ حمزہ کی طرف مڑی۔
”آپ ایسے کب ہنسے تھے؟“ وہ متذبذب سا اسے دیکھنے لگا۔کیا کہتا یاد ہی نہیں آرہا تھا۔اس کی تو ہنسی بھی کھوکھلی ہوتی تھی۔تو محض شانے اچکائے۔وہ مسکرائیں۔
” چلو پھر آج لافٹر تھراپی کرتے ہیں۔“ وہ روسٹرم کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی۔
”ہنسیں۔“ وہ کہہ رہی تھی،سب مسکراہٹوں کا تبادلہ کر رہے تھے۔
”چلیں چلیں ہنسیں سب۔کچھ بھی سوچیں اور ہنسیں۔“ وہ ابھار رہی تھی۔ایک لڑکے نے نقلی ہنسی ہنسنا شروع کیا،مسکراہٹیں گہری ہو گئیں۔
”ہنسیں…. ہنسیں۔“ اور آوازیں بھی مل گئیں۔حمزہ یوں ہی بیٹھا رہا۔(پاگل ہوں میں کیا؟) ڈاکٹر فہمیدہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے بھی ہنسنے کا اشارہ کیا تو منہ بناتا وہ ہنسا اورہنستا گیا۔ پھر یک دم نقلی ہنسی اصل ہنسی میں بدل گئی۔سب ہنس رہے تھے۔ہنستے جا رہے تھے اور آخر میں ڈاکٹر فہمیدہ بھی ضبط نہیں کر پائیں اور وہ خود بھی ہنسنے لگیں۔
سیشن ختم ہو گیا تھا‘ مگروہ کتنی دیر وقفے وقفے سے گزرے لمحوں کا سوچ کر ہنستے رہے۔
اور پھر اس سیشن کا کمال یہ ہوا کہ اب حمزہ ہر وقت ارہاب کو اٹھا کر نہیں رکھتا تھا۔گھر کے دوسرے افراد کو بھی ارہاب کو اٹھانے اور پیار کرنے کا حق مل گیا تھا۔ مشکل رہا تھا مگر جب لائف پارٹنر ہر قدم آپ کا ساتھ دے تو مشکلیں حل ہوتی چلی جاتی ہیں۔وہ بھی حمزہ کو اپنے کاموں کے سلسلے میں مصروف رکھے رکھتی تھی۔اور حمزہ نے اپنے پیار کو مینج کرنا سیکھ لیا تھا۔ارہاب کو اپنے پروں کے نیچے سے نکال دیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!