Haya novel by Fakhra Waheed ep 24

Haya novel by Fakhra Waheed

اسلام آباد میں واقع اس بنگلے کے گیٹ پر لگی تختی پر دو نام لکھے تھے۔
”ڈاکٹر ہارون اور حمزہ فیاض بیگ۔“
گیٹ کے بائیں طرف کھڑکی تھی جس میں سیکیورٹی گارڈ بیٹھا نظر آتا تھا۔اندر جاؤ تو ایک طرف گیراج،دوسری طرف لان تھا،اور سامنے اندر کو کھلتا لکڑی کا خوبصورت دروازہ۔
لاؤنج میں کافی کی مہک پھیلی ہوئی تھی اور فرائی انڈوں کی خوشبو اس میں رچے جا رہی تھی۔اتوار تھا تو مسٹر اینڈ مسز ہارون فرصت سے سو رہے تھے۔ناشتہ شیری کے لیے بن رہا تھا۔ اسے دو گھنٹے بعد لاہور کے لیے نکلنا تھا۔صوفے پر وہ اور ارہاب بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ ارہاب کو اس کی کمپنی پسند آ رہی تھی تبھی وقفے وقفے بعد اس کے کھلکھلانے کی آواز آتی۔ بیرونی دروازہ کھلا اور ٹریک سوٹ میں ملبوس حمزہ اندر داخل ہوا، ارہاب کی آنکھوں میں چمک در آئی تھی۔
”بابا…بابا۔“وہ صوفے سے ہی بازو پھیلا کر حمزہ کی طرف دیکھنے لگا۔حمزہ اسے دیکھ کر مسکراتا اس کے پاس آیا۔
”بابا آئی مش یو۔“ وہ ہونٹ نکالے بیٹھا تھا۔حمزہ نے اس کے بالوں میں ہاتھ مارا۔
”میں شاور لے کر آتا ہوں‘آپ شیری چاچو کے ساتھ باتیں کرو۔“ وہ اٹھ کر کمرے میں چلا گیا اور ارہاب شیری کی طرف مڑ گیا‘ جو اب اس کے کان میں کچھ کہہ رہا تھا۔ پانچ منٹ بعد گیلے بالوں کو ہاتھ سے جھاڑتا وہ باہر آیا‘تو ارہاب اس کی طرف لپکا۔حمزہ نے اسے گود میں اٹھا لیا۔
”تم ایک، دو دن اور رک جاتے۔“حمزہ شیری سے مخاطب تھا۔ارہاب اس کے بالوں پر ہاتھ مار کر خوش ہو رہا تھا۔
”بھائی‘ سمایا اکیلی ہے وہاں‘پھر بزنس بھی دیکھنا ہے۔“ وہ اداس لگ رہا تھا۔ اچانک ہی حمزہ اسلام آباد آگیا تھا اور وہاں گھر پر سمایا اور شیری اکیلے رہ گئے تھے۔حمزہ تو ان کو بھی ساتھ آنے کا کہتا رہا مگر اپنے بزنس کی وجہ سے وہ یہ شفٹ نہیں کر سکے تھے۔حمزہ نے سر ہلایا۔تبھی لینڈ لائن بجی اور وہ میز پر پڑے فون پر جھکا۔
”سر‘آپ سے ملنے کوئی نور بخش آیا ہے۔کہتا ہے بہت ضروری کام ہے آپ سے۔“گارڈ تفصیلات بتا رہا تھا۔ارہاب کو خود سے الگ کر تے اس نے دماغ پر زور دیا‘ اس نے یہ نام کہیں سنا تھا پھر کریڈل رکھنے سے پہلے اس نے کہا۔“ڈرائنگ روم میں بٹھاؤ میں آتا ہوں۔“ چند منٹ بعد اندرونی راہداری سے ہوتاہوا وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تھا،جہاں ایک بوڑھا آدمی پہلے ہی بیٹھا تھا۔اس کی کمر تقریباً جھکی ہوئی تھی‘جسم کمزور تھا،چہرے پر بے پناہ جھریاں تھیں۔حمزہ کو دیکھتے ہی وہ کھڑا ہو گیاتھا، اور آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھاماتھا۔دونوں اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے تو نور بخش بولا۔
”صاب بڑی دور سے امید لے کر آپ کے پاس آیا ہوں۔“ اسکی آواز لرز رہی تھی۔حمزہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے بغور اسے سن رہا تھا۔
”میری سترہ سال کی بچی کے ساتھ کسی نے۔“ اس نے سر جھکا دیا، بوڑھی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔حمزہ مضطرب سا سیدھا ہوا،ٹانگ سے ٹانگ اتاری۔
”چھوڑ دو یہ بات…آگے بولو۔“ وہ شاید سمجھ گیا تھا تبھی اگلے مدعے پر جانے کو کہا،مگر بوڑھے آدمی نے اپنی بات مکمل کی۔
”اس کے ساتھ زیادتی کر کے وڈیو نیٹ پر چڑھا دی ہے۔“ آواز کی لرزش اور نمایاں ہونے لگی، سر اور جھک گیا۔حمزہ کا اضطراب اور بڑھ گیا۔
”تھانے رپورٹ کروائی؟“حمزہ کے دماغ میں یہ ہی خیال آیا تو اس نے فوراً آثبات میں سر ہلایا۔”پر صاب‘وہ آدمی بڑا طاقت ور ہے۔کوئی اس کے خلاف ایکشن نہیں لیتا سب نام سن کر ہی ڈر جاتے ہیں۔“ وہ کہہ رہا تھا اور حمزہ بے چینی سے پہلو بدل رہا تھا۔
”کہاں سے آئے ہو؟“ وہ ابتدائی تفتیش کرنے لگا۔
”جی میں لور سے آیا ہوں۔“ آدمی نے پنجابی لہجے میں بتایا اور حمزہ کا ماتھا ٹھنکا۔”تو آپ اسلام آباد…؟“ اس کا جملہ ادھورا رہ گیا اور آدمی جھٹ سے بولا۔
”صاب‘مجھے کسی نے بتایا کہ آپ میری مدد کر سکتے ہیں۔“ وہ امید سے اسے دیکھ رہا۔حمزہ نے نفی میں گردن ہلائی اور کھڑا ہو گیا۔
”میں پولیس کی نوکری چھوڑ چکا ہوں۔آپ اپنے علاقے کے تھانے والوں سے مدد…“ آدمی نے اسے بات مکمل نہیں کرنے دی اور جھٹ کھڑا ہو گیا۔
”مہربانی کرو صاب!بڑی امید لے کر آیا ہوں۔کوئی میری مدد نہیں کرتا،میری بچی پاگل ہو جائے گی۔خدا کے واسطے میری مدد کر دو۔“وہ ہاتھ جوڑ رہا تھا۔
حمزہ نے نفی میں سر ہلاتے، ہاتھ اٹھا کر کچھ کہنا چاہا مگر وہ بولتا گیا۔
”میں اپنی بیٹی سے وعدہ کر کے آیا ہوں،اس کی حفاظت نہیں کر سکا‘کمزور ہوں صاب۔ایسے بڑے ہاتھیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا پر اپنی بچی کو انصاف تو دلا سکتا ہوں۔آپ کو جتنے پیسے چاہئیے میں دینے کو تیار ہوں۔میں…“ اس نے دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے۔”میں کچھ پیسے لایا ہوں، اپنی ساری جمع پونجی لے آیا ہوں۔“ اب وہ جیب سے مڑے ترڑے دس،بیس، پچاس، سو کے نوٹ میز پر رکھ رہا تھا۔حمزہ کو سمجھ ہی نہیں آیا وہ کیا رد عمل دے۔اس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا۔وہ اس سسٹم کا اب حصہ نہیں تھا کم از کم اپنی طرف سے تو نہیں۔ حمزہ اس کی طرف آیا اور اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے۔
”بابا جی میں پولیس کی نوکری چھوڑ چکا ہوں،میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔مجھے حیرت ہے آپ اتنی دور میرے پاس کیوں آئے ہیں؟کس نے بھیجا ہے آپ کو؟“ وہ آرام سے پوچھ رہا تھا۔بزرگ کی آنکھوں سے آنسو لڑھک رہے تھے۔
”میں بڑی امید سے آیا ہوں صاب۔اس کڑی نے کہا تھا کہ آپ میری مدد ضرور کرو گے۔“حمزہ نے ابرو اٹھائی۔کون لڑکی؟ مگرزبان سے نہیں پوچھا۔ پوچھنے کا حال ہی نہیں تھا۔پھر وہ نفی میں سر ہلاتے مڑنے لگا مگر اس سے پہلے وہ آدمی اس کے پیروں میں تھا۔
”ارے۔“ وہ اسے کندھوں سے پکڑ کر اٹھانا چاہتا تھا مگر وہ نہیں اٹھا۔
” خدا کا واسطہ ہے صاب۔خدا کا واسطہ ہے۔میں اپنی زمین بیچ دوں گا۔میری بچی کو انصاف دلا دو۔میں اس کے جہیز کا ایک ایک سامان بیچ کر پیسے دے دوں گا۔بڑی امید لے کر آیا ہوں‘میری بچی مر جائے گی۔میں برا باپ نہیں بننا چاہتا۔صاب‘ میری بچی مر جائے گی۔صاب‘تمہاری بھی تو کوئی بیٹی ہو گی، بہن ہو گی۔صاب خدا کے لیے میری بچی کو بچا لو۔“ وہ روئے جا رہا تھا بولے جا رہا تھا۔حمزہ لب کاٹ رہا تھا ساتھ اسے اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔مگر باپ کی محبت اپنے جسم کی طرح کمزور نہیں تھی، وہ نہیں اٹھا۔منتیں کرتا رہا….گڑگڑاتا رہا۔حمزہ کا سر اب درد کرنے لگا تھا۔جس ادارے سے بھاگ رہا تھا وہ اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔
”میں اپنے دوست سے بات کروں گا۔وہ آپ کا مسئلہ حل کر دے گا۔“ وہ بمشکل کہہ پایا۔بوڑھے آدمی نے سر اٹھایا۔حمزہ نے اس سے نظریں نہیں ملائی۔کس سے بات کرے گا؟ علی اور فریحہ سے؟ اتنے سالوں میں تھانے میں کئی تبدیلیاں ہو چکی تھیں۔علی گجرات اور فریحہ جھنگ تعینات تھی۔مگر وہ بس تسلی دے رہا تھا،جھوٹی تسلی۔بزرگ آدمی کھڑا ہو گیا۔تشکر بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
”بہت شکریہ صاب…بہت شکریہ۔ اللہ تمہیں بہت عزت دے۔تم بہت ترقی کرو۔تمہارے بچے کبھی کسی تکلیف میں نہ پڑیں صاب۔ اللہ ان کی حفاظت کرے۔“ وہ اس کے ہاتھ چوم رہا تھا،دعائیں دے رہا تھا۔حمزہ کا دل چاہا وہ چیخے۔کیا بے بسی تھی۔وہ جھوٹی تسلیاں اس بوڑھے باپ کے ساتھ باندھ رہا تھا۔حلق تک کڑوا تھا۔گلے میں کچھ اٹک گیا تھا۔وہ محض سر ہلا سکا۔وہ اس آدمی کے لیے کچھ نہیں کر سکتا تھا۔
نور بخش جانے کو مڑا دروازے تک پہنچا‘ تو بمشکل حمزہ کہہ پایا۔” یہ اٹھا لیں۔“ اشارہ میز پر رکھے مڑے ترڑے نوٹوں کی طرف تھا‘جس میں اس نے ابھی چند نوٹ جیب سے نکال کر مروڑ تروڑ کر ڈال دیے تھے۔اب کسی طرح تو اپنے آپ کو تسلی دینی تھی۔وہ بھی خود کو مطمئن کرنے کے لیے یہ کر گیا تھا۔آدمی نوٹ جیب میں ڈال کر باہر نکل گیا۔جاتے ہوئے بھی اس کی زبان پر ہزار دعائیں تھی اور اب واقعی اس کا سر درد سے پھٹنے لگا تھا۔وہ ڈرائنگ روم سے باہر نکلا‘راہداری عبور کرتے ہوئے لاؤنج میں آیا سب کھانے کی میز پر موجود تھے۔اسے دیکھ کر ردابہ نے اسے آواز لگائی۔
”کون تھا؟“وہ رکا۔حلق سے آواز نکالنا محال تھا،نظر ارہاب پر پڑی جو حیا کی گود میں بیٹھا جوس پی رہا تھا۔
”صاب! تمہاری بچے کبھی کسی تکلیف میں نہ پڑیں،اللہ ان کی حفاظت کرے۔“ الفاظ گونج گونج کر آ رہے تھے۔وہ ایک باپ کی محبت کا مزاق بنا آیا تھا۔جھوٹی تسلیاں دے آیا تھا،مگر وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا، وہ پولیس کا حصہ نہیں تھا۔یہ تسلی سکون بخش تھی۔گہرا سانس خارج کرتے وہ میز کی طرف آیا سب اسے دیکھ رہے تھے۔اس کا رنگ متغیر تھا۔
”کوئی تھا،غلط جگہ آ گیا تھا۔“ وہ خود کلامی سی کے انداز میں بولا۔جھک کر حیا کی گود میں بیٹھے ارہاب کا گال چوما اور اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر دیا۔اس کی پریشانی حیا سے کب چھپنی تھی۔ وہ ارہاب کو ناشتہ کروانے لگی۔اور پھر سب کے اٹھنے کے بعد برتن سمیٹ کر کچن میں رکھ دیے۔باقی کام اب عشرت کا تھا جو اتوار کو دیر سے ہی آتی تھی۔وہ کمرے میں آئی تو حمزہ اسٹڈی ٹیبل کے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر سر جھکائے بیٹھا تھا۔حیا نے پیچھے سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ چونک کر مڑا اور ساتھ ہی ایک ہاتھ نے لیپ ٹاپ کی اسکرین گرا دی۔
”م..میں جاب کے لیے اشتہار دیکھ رہا تھا۔“ وہ صاف جھوٹ بول گیا۔
”ہاں دیکھ لو…میں تم سے پوچھنے آئی تھی کہ شیری ارہاب کو لے جانا چاہتا ہے تو بھیج دوں؟“ اس نے عام سے انداز میں پوچھا اور حمزہ کرنٹ کھا کر کرسی سے اٹھا۔
”بالکل نہیں،ہم کبھی لاہور نہیں جائیں گے۔“ باپ کا دل فوراً کسی نے مٹھی میں بھینچ لیا۔
”دو دن کی بات ہے حمزہ‘سمایا کو اچھا لگے گا۔ان کے کون سا اپنے بچے ہیں ابھی۔“ وہ دو قدم اس کی طرف آئی اور بغور اس کے چہرے کو دیکھا۔کچھ تھا جو وہ چھپا رہا تھا۔
”نہیں ہیں،تو کر لیں۔“وہ جل کر بولاتھا۔ارہاب کو لاہور بھیجنے کا خیال ہی بھیانک تھا۔وہ اب اس کے سر پر کھڑی بول رہی تھی۔
”حمزہ یہ خدا کے فیصلے ہوتے ہیں،اللہ نے ان کے لیے بہتر وقت سوچ رکھا ہے۔یوں کسی کو کہنا تکلیف دیتا ہے۔“حمزہ خود اس انتظار کی تکلیف سے گزرا تھا مگر اس وقت تکلیف کچھ اور تھی۔”حیا پلیز‘آئی وانٹ ٹو بی الان فار سم ٹائم۔“حیا نے گہرا سانس لیا اور سر ہلاتی دروازے کی طرف آئی تبھی اس نے حمزہ کو کہتے سنا۔”شیری سے کہو سمایا کو یہاں لے آئے کچھ دنوں کے لیے۔“ وہ دروازہ بند کر کے نکل گئی،اور وہ پیچھے دوبارہ لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گیا۔اسکرین پر چند دن پہلے کا نیوز پیپر کھلا پڑا تھا جس کی سرخی تھی۔
”لاہور: سترہ سالہ انسیہ کی وڈیو زیادتی کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل۔باپ انصاف کے لیے در بدر!“
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
شیری لاہور آ گیا تھا‘اور آتے ہی اپنے آفس گیا تھا جہاں سمایا بھی موجود تھی۔ وہ اسے ارہاب کی شرارتوں کے بارے میں بتا رہا تھا,تصویریں دکھا رہا تھا اور وہ اس سے حیا اور حمزہ کی خیریت دریافت کر رہی تھی۔جامنی فراک پر شفون کا جامنی دوپٹہ گلے سے لگائے‘ہلکے جامنی میک اپ کے ساتھ وہ اچھی لگ رہی تھی۔وہ سربراہی کرسی پر بیٹھی تھی اور سامنے شیری۔یہ سمایا کا آفس تھا۔
”تم کہہ رہے تھے ارہاب کو لے آؤ گے۔“ اس نے سر سری سا پوچھا تو شیری نے آگے ہو کر اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔
”تمہیں پتا ہے حمزہ بھائی لاہور کے نام سے ہی اپنی فیملی کو دور رکھتے ہیں‘ تو میں نے فورس نہیں کیا، پر وہ کہہ رہے تھے کہ تمہیں لے آؤں کچھ دن کے لیے۔وہ مسکرائی اور اثبات میں سر ہلایا۔
”بھابھی کی بھی کال آئی تھی۔“ سمایا اسے بتانے لگی۔ ”کہہ رہی تھیں کہ جلد وہ حمزہ اور ارہاب کے ساتھ لاہور آئیں گی۔ان کا کوئی سیشن ہے۔“ شیری نے شانے اچکائے۔
”ان کے آنے سے بہت کچھ بدلا ہے۔ اینڈ آئی ایم شیور اگر وہ کہہ رہی ہیں تو حمزہ بھائی ضرور آئیں گے۔مگر کم از کم بھابھی اور ارہاب کو اکیلے نہیں بھیجیں گئے۔“ وہ حمزہ کی ان سیکیورٹی جانتا تھا تبھی یقین سے بولا اور سمایا نے سر ہلایا۔حیا نے اسے اب تک ایموشنلی سپورٹ کیے رکھا تھا۔ وہ اس کی جیٹھانی سے زیادہ بڑی بہن بنی رہی تھی۔”کیا سوچ رہی ہو؟“ منی فریج سے پانی کی بوتل نکال کر وہ دوبارہ کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔
”حیا بھابھی میں کچھ تو ہے شیری، جو وہ لوگوں کے دل میں جگہ بنا لیتی ہیں۔“ وہ دونوں بازو میز پر رکھتے بولی‘ تو شیری نے اثبات میں سر ہلایا۔
”یو نو…جب میں شادی کر کے آئی تھی اور تم باہر ڈاکٹر ہارون کے پاس بیٹھے تھے تو حیا بھابھی آئی تھیں۔“ آفس شیری کے کمرے میں بدل گیا تھا۔
عروسی جوڑے میں ملبوس وہ بیڈ پر بیٹھی تھی۔ابھی سب اٹھ کر گئے تھے‘ اب وہ اور حیا کمرے میں اکیلی تھیں۔ حیا اس کے سامنے بیڈ پر بیٹھی کہہ رہی تھی۔
”سمایا پہلے تم میری دوست تھی اور اب دیورانی بھی ہو۔سسرال کے رشتے تھوڑے نازک ہوتے ہیں کہ زرا سی بات ہی دوری لے آتی ہے۔ تو پہلی بات کہ تم مجھے حیا یابھابھی جو کہنا چاہو کہہ کر بلا سکتی ہو‘حمزہ پہلے ہی تمہیں کہہ چکا ہے کہ شیری کی طرح تم اسے حمزہ بھائی بلاؤ…اور دوسری بات۔“ وہ سانس لینے کو رکی‘سمایا اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
” دوسری بات یہ کہ۔“ اس نے سمایا کا ایک ہاتھ پکڑا۔
”کبھی تمہیں لگے،میں تمہارے ساتھ جانے انجانے میں کوئی زیادتی کر رہی ہوں‘تو شیری سے کہنے کے بجائے یا دل میں رکھنے کے بجائے تم میرے پاس آ سکتی ہو۔آئی ول لو ٹو لسن یور شکایتیں۔“ انگریزی جملے میں ایک لفظ اردو کا بول کر وہ ہنسی اور سمایا بھی مسکرائی۔
”تو میری پیاری دیورانی صاحبہ ہر رشتے میں بہتر یہ ہی ہوتا ہے کہ جب کوئی بات دل میں آ جائے تو فوراً متعلقہ بندے سے کلئیر کر لی جائے۔ہو سکتا ہے کہنے والے نے کسی اور طرح کہی ہو،تو اگر رشتے بچانا چاہو تو جلد از جلد بات کر لی جائے۔ناراضگی میں کمیونیکیشن کبھی ختم نہ کی جائے۔بات کرنے سے ہی مسئلے حل ہوتے ہیں۔ کیا سمجھی؟“ وہ فرینک ہو کر کہہ رہی تھی اور سمایا سر ہلاتی مسکرائی۔”جو حکم“
اس کمرے کے باہر لاؤنج میں ڈاکٹر ہارون شیری کو لیے بیٹھے تھے۔ پیچھے صوفے پر حمزہ اپنی تئیں فون میں مصروف تھا‘ مگر وہ ڈاکٹر ہارون کی بات بغور سن رہا تھا۔وہ شیری سے مخاطب تھے۔
”بیٹے‘ اگر شوہر بد تمیز، بد کردار اور گالم گلوچ کرتا ہوتو بیوی سے کہا جاتا ہے کہ وہ صبر کرے‘اسے پیار دے۔ لیکن جب عورت میں یہ ہی خامیاں ہوں تو شوہر کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ ایسی بیوی کو چھوڑ دے اور دوسری شادی کر لے، اس سے بہتر بیوی لے آئے۔ شادی کوئی کمپٹیشن نہیں ہوتا، کہ دیکھا جائے وہ میرے ساتھ کیسا سلوک برت رہی ہے۔ یہ برابر کا ساتھ ہوتا ہے۔ کسی ایک نے اس گاڑی کو نہیں چلانا ہوتا، دونوں کا برابر کردار ہونا چاہئیے۔اگر کوئی ایک اس گاڑی کو دھکیلتا رہے گا تو وہ جلد یا بدیر تھک جائے گا۔تھکاوٹ صرف جسمانی نہیں ذہنی بھی ہوتی ہے۔ ہم اپنے رشتوں سے اسی لیے اکتا جاتے ہیں کہ اکیلے کوشش کر کر کے تھک جاتے ہیں۔“ ڈاکٹر ہارون نے بات مکمل کی اور تبھی حمزہ نے ایک لفافہ شیری کی طرف بڑھایا۔
”کیا ہے اس میں؟“ وہ کاغذ کو الٹتے پلٹتے پوچھ رہا تھا۔حمزہ دوبارہ اپنے فون پر جھک گیا اور پھر شیری کے رونے کی آواز پر اس نے سر اٹھایا تھا۔
” حمزہ بھائی‘کیوں کر رہے ہیں آپ میرے ساتھ یوں؟“ حمزہ نے دوبارہ فون پر انگلی پھیرنی شروع کر دی، مگر اس بار وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایک نظر شیری پر بھی ڈال لیتا۔
” ماسی ی ی ی ی…..چاچو و و و‘دیکھیں نا حمزہ بھائی اگلے ہفتے مجھے جرمنی بھیج رہے ہیں۔ابھی میری شادی ہوئی ہے۔“ کچن سے ردابہ نکل آئی اور ہارون نے اچنبھے سے حمزہ کو دیکھا۔
”حمزہ! کیوں بھیج رہے ہو؟ ابھی یہیں انجوائے کرنے دو اسے۔“ردابہ نے شیری کی حمایت کی تو حمزہ نے فون جیب میں ڈالا۔
”ماسی جان۔“ وہ اٹھ کر ردابہ کے پاس آ کھڑا ہوا اور اس کی گردن میں بازو ڈال دیے۔اور اب وہ شیری کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
”پہلی بات…کیا یہ ساری زندگی نکما گھر پر پڑا رہے گا؟اب اس کی بیوی آ گئی ہے‘کل کو بچے بھی ہوں گے تو ان کے اخراجات کون پورے گا؟ تو اب یہ اپنا ماسٹرز کرے اور جاب وغیرہ کرے۔“
”کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو حمزہ۔“ ردابہ بھی اب اس کی حامی تھی۔
”شیری یو مسٹ گو۔“ ڈاکٹر ہارون بھی ا سکا ہاتھ چھوڑ گئے۔
” اور دوسری بات…میں نے کہا تھا شیری ول ریگریٹ۔“ حمزہ کی آنکھوں میں شیطانیت تھی اور شیری کو یہ الفاظ سنے ہوئے لگے تھے۔ ہاں جب اس نے فیس بک پر حمزہ کے لیے پرفیوم پرفیوم والا اسٹیٹس لگایا تھا، اور حمزہ کے کہنے پر بھی ڈیلیٹ نہیں کیا تھا، تب حمزہ نے کہا تھا۔ شیری ول ریگریٹ۔ اور اس وقت وہ واقعی پچھتا رہا تھا۔ حمزہ یوں عین اس کی شادی سے ایک ہفتے بعد اسے اس کی بیوی سے دور کر دے گا اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔حیا کو کمرے سے باہر آتے دیکھ کر شیری اس کی طرف لپکاتھا۔
”آپ کا شوہر اتنا ظالم ہے، آ پ کچھ سمجھاتی کیوں نہیں ہیں ان کو؟“حیا باہر ہونے والی کاروائی سے انجان تھی۔
”میں تو خود مظلوم ہوں بھائی…تمہیں کیا بچاؤں۔“ وہ معصومیت سے بولی اور ردابہ نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی اور حمزہ ان مظلوم بھابھی دیور کو دیکھ کر رہ گیا تھا۔
شیری نے مسکرا کر سر ہلایا۔ وہ دوبارہ اپنے آفس میں تھے۔
”حمزہ بھائی نے اچھا بدلہ لیا اپنا۔“ شیری نے اپنا ماتھا کھجایا۔ کتنی ضد کی تھی اس نے نہ جانے کی مگر بالآخر اسے رخت سفر باندھنا ہی پڑھا تھا، پھر وہ چھ چھ ماہ بعد ایک ماہ کے لیے آتا تھا۔اور ہر بار وہ حمزہ کو ا سکے ظالم ہونے کا طعنہ دیتا تھا۔
” حیا بھابھی‘ بہت اچھی ہیں،ان کو انسانی نفسیات سمجھنا آتی ہے۔ وہ نہ فوراً فیصلہ سناتی ہیں،نہ فوراً جج کرتی ہیں۔“ سمایا اب بھی اپنی جیٹھانی کی تعریف کر رہی تھی۔تبھی سمایا کا فون بجا۔
حیا بھابھی کالنگ۔
اسکرین شیری کی طرف گھماکر اس نے فون کان سے لگالیا۔”اسلام علیکم۔“
”وعلیکم اسلام۔“ ٹی وی کی آواز بند کرتے حیا کہہ رہی تھی۔”کیسی ہو پیاری لڑکی؟“
”پہلے اداس تھی اب میرا شوہر آ گیا ہے تو ٹھیک ہوں۔“ وہ ہنسی۔شیری نے اسے اشارہ کیا کہ فون اسپیکر پر ڈالے۔سمایا نے فون اسپیکر پر ڈال کر میز پر رکھا۔
”بھابھی‘ارہاب نے آپ کو کچھ بتایا؟“ مسکراہٹ دباتے وہ پوچھ رہا تھا۔سمایا نے اشارہ کر کے پوچھا کس بارے میں؟تبھی حیا کی آواز آئی۔
”کیا بتانا تھا؟“ وہ ہنسا۔ ” اونہوں…اونہوں کچھ نہیں۔“ اب فون پر ارہاب بول رہا تھا۔
”چاچو!آئی ول کم۔“سمایا فون پر جھکی۔
”ہاب‘چچی کو بھول گئے ہو نا۔“ اس نے ارہاب کے نام کے پہلے دو حروف چھوڑ کر نام لیا۔
”چچی…آئی مش یو۔“ ایک نظر ماں کو دیکھ کر وہ شرما گیا اور سمایا کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
”کب آؤ گے چچی کے پاس؟“ حیا نے اسے بتایا تو وہ جھٹ بولا۔ ” ماما شاتھ آؤں گا۔“ پھر کچھ سوچ کر بولا۔
” آپ بے بی ششٹر کب لاؤ گی؟“ ایک دم سب کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔حیا نے ہاتھ سے اسے اشارہ کیا۔(کیا بول رہے ہو؟) تو وہ آگے بولا۔
”شیری چاچو کہہ رہے تھے کہ..کہ….بے بی ششٹر آ ئے گی۔“ شیری نے سر ہاتھ میں گرایا۔
”اوئے! میں نے کہا تھا اپنے بابا سے کہنا کہ بے بی سسٹر لائیں۔“حیا کو سمجھ آ گیا تھا وہ کچھ دیر پہلے کیا پوچھ رہا تھا‘ تبھی ارہاب سے فون لیتے ڈانٹتے ہوئے بولی۔
”شیری تم بعض آ جاؤ۔“ شیری نے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
سمایا اسے الگ غصہ ہو رہی تھی،حیا الگ اسے سمجھا رہی تھی۔پھر وہ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے اور فون بند ہو گیا۔
شیری اور سمایا کو یہیں آفس میں چھوڑ کر اسلام آباد حمزہ کے کمرے میں آ جاؤ۔وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے فون کان سے لگائے بیٹھا تھا۔
”علی کچھ کر یار۔وہ ایس ایچ او کو کال کر، اسے کہہ اس کیس کو دیکھے۔“ وہ مضطرب سا بول رہا تھا۔دوسری طرف کی بات سن کر وہ دوبارہ بولا۔
”یار کسی اور سے کہہ دے۔فریحہ سے کہہ‘کسی سے بات کرے‘وہ بیچارا دھکے کھاتا پھر رہا ہے۔میں اس سے کہہ چکا ہوں کہ مدد کروں گا۔“
”حمزہ یوں کچھ نہیں ہو سکتا‘وہاں کا جو تھانیدار ہے، اس کے پیچھے بڑے لوگ ہیں۔وہ کیوں ہماری بات سنے گا؟“ حمزہ خاموشی سے اسے سنتا رہا۔
”ہاں… ایک کام ہو سکتا ہے۔اگر تو واقعی سیریس ہے اس کیس کو لے کر۔“ حمزہ جھٹ سے بولا۔
”تو بتا یار..کچھ کر۔“ وہ اس بوجھ کو خود سے جلد ازجلد اتارنا چاہتا تھا۔ وہ اس پریشانی میں زیادہ ہی چڑچڑا ہوتا جا رہا تھا۔
”تو خود آ جا۔“ وہ چپ ہوا پھر دوبارہ بولا۔
” واپس آجا…پھر جیسے مرضی کیس دیکھ۔“
”سیدھی طرح کہہ کہ تو کچھ نہیں کر سکتا۔“ وہ جل کر بولا اور فون بند کر دیا۔جب سے وہ آدمی گیا تھا‘ حمزہ مضطرب،بے انتہا مضطرب تھا۔ایک باپ کے اپنی اولاد کے لیے آنسو تھے‘جو دوسرے باپ کو اپنے دل پر گرتے محسوس ہو رہے تھے۔
” کیا بکواس ہے۔“ وہ بڑبڑاتا ہوا،آنکھیں موند کر لیٹ گیاتھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نئی صبح وہی بے زاری لے کر طلوع ہوئی تھی۔ وہ بستر سے نکلنے کو تیار ہی نہیں تھا۔ ارہاب بار بار کمرے کا چکر لگا رہا تھا اور اب بھی وہ ا سے جگانے آیا تھا‘مگر وہ اوندھے منہ لیٹا رہا تو ارہاب اس کی کمر پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔
”بابا..بابا…ماما از…کالنگ یو.۔“
”آئی ایم ناٹ فیلنگ گڈ۔“ وہ آنکھیں موندھ لیٹا رہا۔ارہاب پریشانی سے اسے دیکھنے لگا، پھر جھک کر اس نے حمزہ کا ماتھا چھوا۔
”آ پکو…آپکو…خار ہے؟“ حمزہ نے آنکھیں کھولی ارہاب اس کے منہ پر جھکا ہوا تھا۔حمزہ اسے پکڑتا ہوا سیدھا ہوا اور اسے اپنے پیٹ پر بٹھایا۔
”بابا اداس ہیں۔“ اس کے ہاتھ میں اپنی انگلی پکڑاتے وہ واقعی اداس نظر آرہا تھا۔
”ماما کہتی ہیں…کہ کہ جب اداش ہوتے ہیں تو تو..‘ ‘ اسے بات بھول گئی، تو مععصومیت سے باپ کو دیکھا۔ ”بھول گیا۔“ حمزہ مسکرایا‘اور اسے خود پر جھکاتے اسکاگال چوما۔ ارہاب کو گود میں لے کر انگڑائی لیتا باہر نکلا۔حیا کچن میں تھی[وہ ٹی وی آن کر کے بیٹھ گیا۔
”ہم آپکو یہ خبر دے رہے ہیں لاہور سے جہاں انسیہ زیادتی کیس میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔انسیہ کے باپ کی طرف سے ایک بڑ ی سیاسی ہستی کا نام لیا جا رہا ہے۔“ حمزہ کا ماتھا ٹھنکا‘سیاسی ہستی.؟.اس کے ماتھے پر تیوریاں در آئی تھیں۔اب نیوز کاسٹر بار بار دہرا رہی تھی۔
”بڑی پیش رفت…انسیہ زیادتی کیس….سیاسی ہستی۔“
اس نے ناگواری سے ٹی وی بند کر دیا۔اس دن کے بعد اس نے دوبارہ اس نیوز کو فالو نہیں کیا تھا۔ وہ بے چین ہوجاتا تھااور پھر اوپر سے علی کا اسے بار بار واپس آنے کا کہنا‘سب دماغ میں گچ مچ ہو رہا تھا۔ نیوز پیپر، نیوز چینل سب کو وہ نظر انداز کر رہا تھا مگر اپنے اندر سے آتی آواز بہت بلند تھی۔ اور یہ ہی اس کی بے سکونی تھی۔وہ اتنا خود غرض کب بن گیا تھا؟ کب اس نے اپنی مٹی سے کیے وعدے کو فراموش کر دیا تھا؟
”کیا بات ہے جناب؟ آج کل آپ کچھ زیادہ نہیں سو رہے۔“کافی کا مگ اسے پکڑاتی وہ وہیں بیٹھ گئی۔
”بابا از اپ سیٹ۔“ ارہاب ماں کی گود میں چڑھتا بولا۔ تو حیا نے اس کے گرد بازو باندھے۔
” تو کیا آپ نے بابا کو نہیں بتایا کہ پریشان ہونے کے بجائے وہ اپنے دل کی سنیں؟“حیا اس کے بال سہلا رہی تھی۔حمزہ نے مگ ہونٹوں سے لگایا۔ ”جب زندگی میں کوئی فیصلہ کرنا ہو تو جو دل کہے اسے ایک بار ٹرائی ضرور کرنا چاہئیے۔“ وہ ارہاب سے کہہ رہی تھی مگر الفاظ حمزہ کے لیے تھے۔ ارہاب نے باپ کو دیکھا اور ماں کی گود میں اچھلا۔
”بابا دل کی شنو۔“ اسے خود ماں کی بات سمجھ نہیں آئی تھی مگر باپ کو ماں کے الفاظ پہنچا دیے۔حمزہ اداسی سے مسکراتا اس کے گال پر جھکا‘چوما اور سیدھا ہوا۔
” اپنی ماما سے کہو میں نے دل کی سن لی،وہ میرے کپڑے نکال دیں،میں لاہور جا رہا ہوں۔“ اس نے ‘ لاہور’ کے نام پر حیا کو دیکھا جو اب مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی۔ارہاب کو حمزہ کی گود میں بٹھاتے وہ خود کھڑی ہو گئی۔
”اللہ تمہارے لیے آسانی کرے گا حمزہ۔“ وہ کمرے کی جانب بڑھی اور حمزہ نے اس کے الفاظ دہرائے۔سکون اسے اپنے اندر اترتا محسوس ہوا‘ الفاظ میں بھی کتنی تاثیر ہوتی ہے نا‘دوسرے انسان کی آدھی پریشانی ختم ہو جاتی ہے۔حیا اس کے کپڑے استری کرنے لگ گئی،اور وہ فون پرکسی سے بات کرنے لگا۔یکا یک ڈور بیل بجی تو فون کان اور کندھے کے بیچ رکھے،ارہاب کو اٹھائے اس نے دروازہ کھولا۔سامنے گارڈ کھڑا تھا۔اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت لفافہ تھا۔ لفافہ اس نے حمزہ کے ہاتھ میں تھمایا اور واپس مڑ گیا حمزہ نے فون پر اللہ حافظ کہا اور اسے جیب میں اڑیستہ اندر آگیا ارہاب کو نیچے اتار کر وہ لفافہ کھول کر دیکھنے لگ گیا۔اندر اینویلپ کی طرح کا ہی خوبصورت فولڈر تھا۔وہ اب فولڈر کھول کر پڑھ رہا تھا۔آنکھیں حیرت اور بے یقینی سے چمکی اور اس نے وہیں سے حیا کو آواز دی۔
”حیا…حیا۔“کپڑے استری کرتی حیا نے کمرے سے سر نکالا۔
” سی دس۔“ اس نے دور سے ہی فولڈر اسے دکھایا اور پھر پڑھ کر بتانے لگا۔انگریزی میں لکھا تھا۔
”عالمی ایوارڈ کی تقریب اس سال سات نومبر کو لندن میں منعقد کی جا رہی ہے۔مسز حیا حمزہ فیاض بیگ اور ان کی فیملی کو اس میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔اور…“ اس نے نظر اٹھا کر حیا کو دیکھا جو اب اس کے پاس آ کھڑی ہوئی تھی۔
”اور مسز حمزہ اپنی مینٹل ہیلتھ پر لکھی گئی شاہکار کتاب پر عالمی ایوارڈ وصول کر کے وہاں موجود حاضرین سے اس کے متعلق بات کریں گی۔“ اس نے ایک نظر پھر حیا کو دیکھا جو اب دونوں ہاتھ منہ پر رکھے بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
نیچے تاریخ، وینیو اور دستخط تھے۔ وہ فولڈر صوفے پر رکھنے کو جھکا،مگر حیا نے جھٹ اس کے ہاتھ سے فولڈر پکڑا اور جلدی سے کھول کر دوبارہ پڑھنے لگی۔جیسے یقین نہ آیا ہو، آنسو اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ گر رہے تھے، اس نے تو اتنا دور کا سوچا بھی نہیں تھا۔ بس کوشش کی تھی کہ لوگوں کی زندگی اس کتاب سے سہل ہو جائے۔حمزہ نے فولڈر اس کے ہاتھ سے لے کر صوفے پر گرایا[اور اسے اپنے کندھے سے لگایا۔
”یو ڈیزرو دس ایوارڈ۔“وہ اسے سراہ رہا تھا۔ ارہاب ماں کو روتے دیکھ کر پریشان سا صوفے پر کھڑا ہو گیا۔
”ماما آر یو اپ سیٹ؟“ وہ اس کی قمیص پکڑ کر کھینچنے لگا۔حمزہ نے ہاتھ بڑھا کر اسے گود میں اٹھایا۔تو وہ اب بھی ماں کو دیکھ رہا تھا۔حیا نے آنسو صاف کرتے تھوڑا اونچا ہو کر ارہاب کا گال چوما۔
”آئی ایم بلیسڈ!“
”یور ماما از آ سپر لیڈی۔“ حمزہ ارہاب کو اس کے لفظوں میں سمجھانے لگا اور اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر تالی بجائی۔
” یے ے ے! ماما از آ شپر لیڈی۔“ وہ کھلکھلا رہا تھا تو حیا بھی ہنس دی۔اب حمزہ ردابہ اور ہارون کو کال کر کے بتا رہا تھا‘پھر شیری کو کال کی‘فریحہ،علی وہ سب کو بتا رہا تھا۔یہ اس کی فیملی کے لیے قابل فخر لمحہ تھا۔حیا وضو کر کے جائے نماز پر کھڑی ہو گئی تھی بات اتنی بڑی تھی کہ یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔وہ اب ہاتھ اٹھائے اللہ کا شکر ادا کر رہی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آسمان سے سرمئی بادل بارش برسا رہے تھے اور نیچے وہ کالی گول گلے کی شرٹ پہنے،دونوں ہاتھ جیب میں ڈالے‘ آئی جی پنجاب سکندر حیات کے آفس کی عمارت کے باہر کھڑا تھا۔وہ جہاں سے گیا تھا آج دوبارہ وہیں آ کھڑا ہوا تھا۔گہرا سانس اندر کھینچتے وہ عمارت کی جانب بڑھا اور چند منٹ بعد وہ آئی جی صاحب کے آفس میں ان کے سامنے بیٹھا تھا۔
”حمزہ! ہم حکومت کے پابند ہوتے ہیں۔تمہیں جانتے ہی ہو‘ پولیس کب حکومتی مداخلت سے آزاد ہے؟ بالفرض میں تھانیدار کو ہدایت کروں بھی دوں تو گھر کے بھیدی میری ہی لنکا ڈھا دیں گے۔“ آئی جی صاحب آرام اسے سے سمجھا رہے تھے‘حمزہ نے اضطراب سے پہلو بدلا۔
”سر غریب آدمی کی عزت ہی تو ہوتی ہے۔“ اور یہ کہتے ہوئے اس کے سامنے رانیہ کا جسم لہرایاتھا‘اس نے سر جھٹکا۔اس وقت ماضی کے جھرونکوں میں کھو کر وہ اپنا آپا نہیں کھونا چاہتا تھا‘ تبھی دوبارہ بولا۔
”آپ تھانیدار بدل دیں‘کوئی نیا آدمی بیٹھا دیں جو اس کیس کو سنجیدگی سے لے۔“
”حمزہ تم سمجھدار ہو یار‘ کوئی بھی کیوں بڑی سیاسی شخصیت سے دشمنی مول لے گا؟ جس طرح تمہیں اپنی فیملی پیاری ہے،سب کو اسی طرح اپنے گھر والے عزیز ہیں۔“ آئی جی صاحب نے میز پر رکھی چائے کی طرف اشارہ کیا۔ اور حمزہ نے سر جھکا لیا۔اپنی فیملی کی حفاظت کے لیے پیچھے ہٹ کر اس نے کچھ غلط نہیں کیا تھا،پھر ہر کوئی اسے یہ کیوں جتاتا تھا؟ یا پھر وہ زیادہ ہی حساس ہو گیا تھا۔
”سر پلیز‘وہ آدمی بڑی امید لے کر میرے پاس آیا تھا‘ آپ ان کے لیے کچھ کریں۔“ اسکی سوئی وہیں اٹکی تھی۔
”تو تم خود کیوں نہیں اس کیس کو دیکھ لیتے؟ پھر جس کا مرضی نام ڈالنا،جسے مرضی پکڑنا۔“ آئی جی صاحب نے حل بتایا اور حمزہ کی گردنہ دائیں بائیں ہلی۔
”دس سسٹم از دی موسٹ کرپٹ ون۔“ وہ بڑبڑایا۔
”تو حمزہ‘ سسٹم کو بدلنے کے لیے سسٹم کا حصہ بننا پڑتا ہے۔ باہر کھڑے ہو کر آپ سسٹم کو نہیں بدل سکتے۔“ وہ اسے سمجھانے لگے۔”تم جب چاہو آ جانا تمہارا عہدہ بحال کردیا جائے گا۔“ حمزہ تھوڑی دیر بیٹھ کر باہر آگیا۔ وہ پہلے سے زیادہ مضطرب تھا۔دل کی سن کر یہاں آیا تھا پر کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔
اس کا رخ تھانے کی طرف تھا۔اس نے سوچا تھا دوبارہ کبھی یہاں نہیں آئے گا مگر اللہ کا فیصلہ کچھ اور ہی تھا۔وہ عمارت کے اندرونی دروازے کی طرف بڑھا۔کئی لوگوں نے رک رک کر اسے سلام کیا۔وہ اب نئے تھانیدار کے سامنے ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا تھا۔
”ایس پی صاحب آپ توپکی توبہ کر کے گئے تھے پھر واپس کیسے آنا ہوا۔“ تھانیدار دانت نکالتے ہوئے بولا۔حمزہ نے اس کے طنزیہ لہجے یکسر نظر انداز کیاتھا۔
”انسیہ کیس کے سلسلے میں آیا ہوں، سنا ہے تم لوگ ایف آئی آر میں سیاسی ہستی کا نام نہیں ڈال رہے۔“ وہ سنجیدہ تھا،اور اس کی بات پر تھانیدار نے قہقہہ لگایا۔
”کیا حمزہ سر‘ آپ جیسے سمجھدار آفیسر۔“ پھر رکا۔
”اونہوں‘ ایکس آفیسر جب بچوں جیسی باتیں کرتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے۔کیا بھول گئے آپ کس وجہ سے گئے تھے؟ میرے یار‘ پیسہ اور طاقت سب خرید لیتی ہے۔“ ‘ وہ اب تمسخرانہ انداز میں اسے دیکھ رہا تھا اور حمزہ کو کب پتا نہیں تھا کہ یہ دولت اور طاقت کتنے انصاف کچل دیتی ہے؟ اس نے سر ہلایا اور دوبارہ بولا۔
”مجھے اس کا نام ایف آئی آر میں چاہئیے۔“ تھانیدار نے نفی میں سر ہلایا۔” نہیں ہو سکتا،اور ویسے بھی غریب کی کیا عزت۔“ اور تب حمزہ دھاڑا تھا۔
” چادر غریب کی ہی تو ہے‘ کتنے بے ضمیر ہو چکے ہو تم لوگ۔“
”میرا سر نہیں کھاؤ۔جا کر اوپر بات کرو،مجھے جتنا کہا گیا میں نے وہ ہی کیا ہے۔“ اس کے اوپر اتنے مضبوط ہاتھ تھے کہ وہ سینئیر، جونئیر کی تمیز بھی بھول گیا تھا۔
”خود ایسے حالات میں بھاگ جاتے ہیں اور پھر آجاتے ہیں انصاف کی رٹ لگا کر۔“ وہ بآواز بلندبڑ بڑا رہا تھا۔حمزہ کے جبڑے بھنچ گئے۔کیا بتاتا اسے اپنی فیملی کے لیے گیا تھا۔کون سمجھتا اس کے جزبات؟ سر ہلاتا وہ کھڑا ہو گیاتھا۔
”میں ہر قیمت یہ کیس چلواؤں گا۔“ دروازہ مارتا وہ باہر نکل گیا۔ پیچھے تھانیدار نے نمبر ملاتے فون کان پر لگایا۔
” حمزہ آیا تھا، اس کی باتوں سے لگا وہ ری جوائن کرنے کا سوچ رہا ہے۔“ پھر ادھر کی بات سنی۔
”کرنے دو جو کرتا ہے‘ دوبارہ بھاگنا پڑے گا تو شرم سے خود ہی کسی بل میں چھپ جائے گا۔“ تھانیدار نے خباثت سے دانت نکالے اور فون رکھ دیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ اینٹوں کا چھوٹا سا ٹوٹا پھوٹا گھر تھا۔جس کے صحن میں بچھی چارپائی کے بان پر وہ ہاتھ رکھے‘ سر جھکائے بیٹھا تھا۔سامنے وہی بزرگ اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھا تھا‘لڑکی نے منہ چادر سے لپیٹ رکھا تھا۔
”صاب! کوئی نہیں سنتا۔میں تو تھک گیا ہوں‘ یہ دو بار خود کشی کی کوشش کر چکی ہے۔“ باپ بے بسی سے کہہ رہا تھا۔لڑکی کی آنکھیں ڈبڈبانے لگیں‘ حمزہ نے لب کاٹا۔
”کیا تم مجھے بتاؤ گی کہ وہ آدمی کون ہے؟ میرا مطلب وہ سیاسی شخصیت۔“ اس کا سر بد ستور جھکا ہوا تھا۔
”وہ…جس کا شہر میں ڈیرہ ہے‘ وہ…۔“ اس کی آواز گیلی تھی۔ ”ثق…ثقلین۔“ وہ اٹکتے ہوئے بولی اور حمزہ نے جھٹکے سے سر اٹھایا تھا۔
”ثقلین؟وہ ایم پی اے ثقلین؟“ لڑکی نے اثبات میں سر ہلایا تو حمزہ کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔اس کا دل چاہا وہ منہ بھر بھر کر اس انسان کو گالیاں دے،کتنوں کی زندگی اجاڑ کر اسے چین آنا تھا؟
”میں چلتا ہوں۔“ وہ کھڑا ہو کرجانے کو مڑا تو پیچھے سے آواز آئی تھی۔
”صاحب میں انصاف کی امید رکھوں یا زہر کھا کر مر جاؤں؟“ حمزہ کے قدم زنجیر ہوئے مگر وہ مڑا نہیں‘ اور کچھ کہے بغیر باہر نکل گیا۔اب اسکی گاڑی سڑک پر بے لگام دوڑ رہی تھی،اور اس سے زیادہ بے لگام اس کا دماغ تھا۔چھ سال میں وہ ثقلین کا کچھ نہیں بگاڑ سکا تھا‘تو اب بغیر وردی کی طاقت کے کیا اکھاڑ لیتا؟ اور پھر ایک جگہ اس نے گاڑی روک دی، اور کتنی دیربلا وجہ روکے رکھی، پھراس نے سر تب اٹھایا‘جب اس کا فون بجا۔
”جی۔“ وہ بے زاری سے بولا‘ اور دوسری طرف سے حیا کی آواز کھنکی۔
”آپ تو لاہور جاتے ہی ہمیں بھول گئے ہیں‘ پرانی محبوبہ تو نہیں مل گئی؟“ وہ اس کا موڈ ٹھیک کر رہی تھی۔
”یار میں پریشان ہوں،اور تنگ نہیں کرو۔“ وہ بے زار سا بے زار تھا‘ وہ بھی سنجیدہ ہو گئی تھی۔
”حمزہ کیس لے لو‘ ری جوائن کر لو۔“ وہ کچھ نہیں بولا‘ اس وقت بولنے سے زیادہ وہ سننا چاہتا تھا۔
”میں نے اسٹڈی پر پڑے تمہارے کاغذ دیکھے‘ حمزہ اس دور میں کون ایسی سچویشن میں اپنی بیٹیوں کے لیے کھڑا ہوتا ہے؟ وہ غریب ہے‘ بوڑھا ہے پر اپنی بیٹی کے لیے کھڑا ہوا ہے۔ لوگ تو ایسی صورتحال میں خود اپنی بیٹیوں کو مار دیتے ہیں‘ مگر وہ ایک اچھا اور مضبوط باپ ہے‘ جو جانتا ہے اس کی بیٹی کا قصور نہیں ہے‘ ورنہ تو بیٹیاں ہی قصور وار ٹھہرا دی جاتی ہیں‘ فیصلہ بھی ان کے خلاف ہوتا ہے، لوگ نفرت بھی انہی سے کرتے ہیں اور سزابھی ان کو ہی ہوتی ہے۔“ وہ خاموش ہوئی تو حمزہ بولا۔
”تمہیں پتا ہے یہ کس نے کیا ہے؟“
”کیا فرق پڑتا ہے کہ کس نے کیا؟“
”فرق پڑتا ہے حیا..مجھے فرق پڑتا ہے۔“ وہ جو اب تک ضبط کیے بیٹھا تھا‘پھٹ پڑا۔
”میں اپنی فیملی کو دوبارہ نہیں کھو سکتا، میں تمہیں اور ارہاب کو نہیں کھو سکتا۔“ اسٹیئرنگ پر ہاتھ رکھے اب اس کے ماتھے پر تیوری چڑھ آئی تھی۔دائیں طرف گاڑیاں زن سے گزرتی جا رہی تھیں، اور وہ اپنے ڈر حیا کے سامنے کھولتا جا رہا تھا۔
”ایک بار اپنی ضد میں سب کو کھو چکا ہوں‘ دوبارہ اپنے کیے کی سزا اپنی بیوی اور بچے کو نہیں بھگتنے دوں گا۔“ دوسری طرف خاموشی تھی۔
”ارہاب..میرے ارہاب کو اگر کچھ ہو گیا‘ یا تمہیں کچھ ہو گیا تومیں کیا کروں گا؟اور ارہاب میرے بارے میں کیا سوچے گا؟ یہ کہ اس کا باپ خود غرض ہے‘جو سب کو مارتا جاتا ہے۔“ آج عرصے بعد وہ دوبارہ اسی کٹہرے میں آ کھڑا ہوا تھا۔
”میں واپس آرہا ہوں‘ لیو پر تو ویسے ہی ہوں، بہتر ہے ریٹائرمنٹ کی درخواست بھی جمع کروا دوں۔“ وہ فیصلہ کن لہجے میں بولا مگر دوسری طرف بد ستور خاموشی تھی‘ وہ اس کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا۔
”میں ریٹائرمنٹ لے لوں؟“ جب وہ کافی دیر نہیں بولی‘ تو حمزہ نے خود کو پرسکون کرتے ہوئے پوچھا اور تب ایک بار پھر حیا کی آواز سنائی دی۔
”تم جو فیصلہ لینا چاہو لے لو‘ مگر واپس آنے سے پہلے یہ سوچ کر آنا کہ تم ارہاب کے لیے کیا لا رہے ہو؟ ایک بہادر پولیس آفیسر باپ جس پر ارہاب کو ساری زندگی فخر رہے گا یا محض ایک باپ۔“ کہہ کر وہ فون بند کر گئی۔ حمزہ نے دونوں ہاتھ اسٹئیرنگ پر ٹکائے اور اس کے الفاظ پر غور کرنے لگا۔ وہ ایک بار پھر الجھ گیا تھا۔
”ایک بہادر پولیس آفیسر باپ یا محض ایک باپ۔“ کیا فرق تھا؟ اس کے سر کا درد اور بڑھ گیا تھا‘ ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں بجنے لگی تھیں۔
ایک انجان آدمی کی بیٹی کے مجرم کو سزا دلوائے‘ جس کے بعد اس کی اپنی فیملی غیر محفوظ ہو جائے گی یا اپنے بیوی بچوں کے پاس واپس لوٹ جائے‘جہاں کوئی خوف نہیں ہو گا۔ فیصلہ بہت آسان تھا مگر سوال اب بدل گیا تھا۔ ارہاب کے لیے اسے کیا لے کر جانا تھا ایک بہادر پولیس آفیسر باپ یا محض ایک باپ؟ سیکنڈ سیٹ پر پڑا اس کا فون تھرتھرایا اور حمزہ نے ایک نظر فون کو دیکھا۔فون اٹھایا تو اسکرین پر واٹس ایپ کے نشان کے پاس حیا کا نام لکھا تھا۔وہ ضرور اس سے ناراض ہے۔ حمزہ نے فون اسکرین پر دیکھتے سوچا‘ اور پھر میسج کھولنے لگا۔ یہ حیا کی طرف سے وائس میسج تھا۔اس نے وائس نوٹ پلے کیا اور گاڑی میں حیا کی آواز گونجی۔
” ایزی ایڈی نامی ایک بہت بڑا وکیل تھا جس کو شکاگو مافیا نے اپنے کیس حل کرنے کے لیے ہائر کر رکھا تھا۔ وہ اتنی خوبصورتی سے چیزوں کا جوڑ توڑ کرتا تھا کہ عدالت اس مافیا کے سربراہ الکپون اور اس کے ساتھیوں کو کبھی جیل نہ بھجوا پاتی اور نہ ہی ان پر کچھ ثابت ہوتا۔ مافیا کے لیے وہ قیمتی تھا تبھی انہوں نے اسے بیش بہا پیسہ دیا۔ ایزی ایڈی کے پاس ایک پورے شہر جتنی پراپرٹی تھی جس میں خوبصورت مینشن بنے ہوئے تھے، اس کے علاوہ اس کے اپنے پرائیویٹ جہاز تھا، اس کے پاس بہترین کاریں تھی۔“ وہ چند سیکنڈ رکی اور پھر بولی۔
” اس کا ایک بیٹا تھا حمزہ‘ جو اس دولت سے جو چاہے خرید سکتا تھا جو چاہے کر سکتا تھا۔“ بیٹے کے نام پر حمزہ نے نظر فون سے ہٹا کر سامنے سڑک پر ٹکا دی‘وہ جان گیا تھا وہ اسے کوئی راہ دکھانے والی ہے، فون سے مسلسل آواز آرہی تھی۔
”ایک دن ایزی ایڈی کو یوں ہی خیال آیا کہ میں نے اپنے بیٹے کو سب کچھ دیا ہے۔ اتنا پیسا ہے کہ وہ جو مرضی خرید سکتا ہے‘ اس کو میں نے ہر چیز بہترین مہیا کی ہے لیکن..“ پھر چند سیکنڈ کا وقفہ آیا۔
”لیکن میں نے اسے ایک مثالی باپ نہیں دیا‘ ایسا باپ جس پر اسے فخر ہو۔“ حمزہ کو اپنا سر بھاری ہوتا محسوس ہوا۔وہ مثالی باپ نہیں ہے؟کیا ارہاب کو اس پر فخر نہیں ہے؟ اس کی سوچوں سے بے نیاز حیا بولتی جا رہی تھی۔
”وہ چند دن اس بارے میں سوچتا رہا اور پھر اس نے فیصلہ لیا کہ وہ اپنے بیٹے کو وراثت میں ایک بہترین باپ کی مثال دے گا‘ ایسا باپ جس پر اسے فخر ہو۔ تبھی اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اس مافیا کو گرفتار کروا دے گا،اور اس نے ایسا ہی کیا۔اس نے ان کو گرفتار کروا دیا۔وہ جانتا تھا اس عمل کے بعد وہ زندہ نہیں بچے گا اور ہوا بھی ایسا ہی،ایک دن جب وہ اپنی گاڑی میں جا رہا تھا اس کے دشمنوں نے اسے گولیوں سے چھلنی کر دیا‘ وہ مر گیا حمزہ۔“ حمزہ نے آنکھیں بند کر لیں۔اسپیکر سے آواز ابھرتی رہی۔
” حمزہ‘ اس آدمی نے بہت بڑی قیمت ادا کی صرف اپنے بیٹے کو ایسا باپ دینے کے لیے جس پر اسے فخر ہو۔قیمت زیادہ تھی بٹ اٹ واز ورتھ فار ایزی ایڈی۔“ آواز بند ہوئی تو حمزہ نے آنکھیں کھولیں۔ اس کا دماغ مزید الجھ چکا تھا۔ فون اسکرین پر ایک اور وائس میسج تھا‘ جسے وہ پلے کر چکا تھا۔
”ایک اور آدمی تھا‘جس کا تعلق امریکی ائیر فورس سے تھا۔“ وہ ایک اور کہانی سنا رہی تھی۔
”دوسری عالمی جنگ میں اس نے شپ سے اپنا طیارہ اڑایا۔اس کے ساتھ چھ سے سات اور طیاروں نے اس جنگی بحری جہاز سے پرواز بھری تھی۔ان کو جاپان کے خلاف لڑنا تھا۔تبھی اس آدمی کو اندازہ ہوا کہ شپ پر اس کے ٹینک میں فیول نہیں بھرا گیا۔اس نے اپنی فارمیشن کے لیڈر سے بات کی کہ اسے فیول بھرنے کے لیے واپس جانا ہے۔لیڈرنے کہا ہم نہیں جا سکتے تم جاؤ۔ جب اس نے فیول بھروا کر دوبارہ اڑان بھری تبھی اس نے دیکھا کہ نو جاپانی بمبار جہاز شپ کی جانب بڑھ رہے ہیں اور ان کا ارادہ شپ کو تباہ کرنا اور ڈبونا ہے۔شپ پر ہزاروں لوگ تھے۔وہ اکیلا تھا اور سامنے نو جہاز تھے، مگر تب اس نے فیصلہ کیا کہ اسے ان جاپانی جہازوں کو روکنا ہو گا۔دونوں طرف سے ایک دوسرے پر حملہ ہونے لگا‘یہاں تک کہ اس آدمی نے جاپان کے دو جہاز گرا دیے مگر ساتھ ہی اس کی گولیاں ختم ہو گئیں۔مگر ان بمباروں کو روکنا بھی ضروری تھا اور پھر اس نے اپنے جہاز کو طیاروں کے پروں سے ٹکرانا شروع کر دیا۔وہ بے خوف ہو چکا تھا۔ وہ ان کے طیاروں سے اپنا طیارہ ٹکراتا جا رہا تھا‘یہاں تک کہ نو میں میں سے پانچ جہاز پانی میں گر گئے اور باقی چار اس کے جذبے اور بے خوفی کو دیکھ کر وہاں سے فرار ہو گئے۔“ پھر وقفہ آیا‘حیا سانس لینے کو رکی ہو گی۔
”لوگوں نے دیکھا یہ آدمی کیسے لڑا۔یہ سب سے پہلا انسان تھا جسے دوسری عالمی جنگ میں سب سے بڑا اعزاز یو ایس کانگریشنل میڈل آف آنر دیا گیا۔اس آدمی کا نام بچ او ہئیر تھا،ا سکے نام پر شکاگو میں ایک ائیر پورٹ کا نام او ہئیر ائیرپورٹ رکھا گیا۔حمزہ یہ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا ہیرو تصور کیا جاتا ہے۔کیونکہ یہ دوسروں کے لیے اپنی جان دینے کو تیار تھا۔اور پتا ہے حمزہ یہ کہانی میں نے تمہیں کیوں سنائی ہے؟“ ایک وقفے کے بعد وہ دوبارہ بولی۔
”کیونکہ بچ۔او۔ہئیر اس قابل وکیل ایزی ایڈی کا بیٹا تھا۔“ حمزہ نے ایک لمبا سانس اندر کھنیچا اور وائس میسج چلتا رہا۔
”حمزہ‘ یہ ایک بنیاد تھی جو اس کے باپ نے رکھی تھی‘ ہم اپنے بچوں کے لیے ساری زندگی دولت جمع کرتے گزار دیتے ہیں اور پھر یہ بچے ساری زندگی اس دولت کے لیے لڑتے مرتے رہتے ہیں۔حمزہ‘کیا ہم اس دنیا کو یہ دے کر جائیں گے؟ ایسی دولت جو فساد کروائے؟ کیا یہ وراثت ہے؟ نہیں حمزہ‘ یہ وراثت نہیں ہے۔“ ان کہانیوں کا مقصد اب حمزہ پر عیاں ہو رہا تھا۔
”ورثہ تو اچھی ویلیوز،اچھا کردار،پیار،محبت ہونا چاہئیے کہ جن کو دیکھ کر یہ دنیا مسکرائے۔ہمارے بچے ایک دوسرے کے دشمن نہ بن جائیں یار۔تم نے اس دن کہا تھا نا کہ تم اپنی پراپرٹی اپنی زندگی میں ہی ہمارے نام کر دینا چاہتے ہو۔ یہ وراثت نہیں ہے حمزہ۔ مجھے،ہمارے بیٹے کو یہ وراثت نہیں چاہئے۔مجھے میرا شوہرایک بہترین انسان چاہئے جو دوسروں کے لیے قربانی دینے سے دریغ نہ کرے..اور ارہاب کو ایسا باپ چاہئیے جس پر کل کو اسے فخر ہو۔“
”بس حمزہ ہمیں اتنا ہی چاہئیے۔تم کوشش کرو‘دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرو‘ تا کہ اللہ تمہارے لیے آسانی کرے۔تم اللہ کے بندوں کی حفاظت کرو،اللہ ہماری حفاظت کرے گا۔تم کیوں ہمارے لیے پریشان ہوتے ہو؟ وہ کرو جو تمہیں سکون دیتا ہے، اور تمہارا سکون اس وردی میں ہے۔ ورنہ کچھ دن بعد تم ہم سے بھی تنگ آ جاؤ گے کیونکہ تم وہ نہیں کر رہے جو تم چاہتے ہو۔“
اس کے دل کاغبار ہٹتا جا رہا تھا‘دل بھی تو یہ ہی چاہتا تھا۔ایسا نہیں کہ حیا نے اسے پہلے کبھی یہ سب نہیں کہا تھا‘مگر تب وہ یہ سننا نہیں چاہتا تھا اور آج جب وہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا تو اسے محض بہانہ ہی چاہئیے تھا۔اور یہ بہانہ اسے حیا نے دے دیا تھا۔
”می اینڈ ارہاب لوز یو الاٹ۔“ آواز بند ہو گئی تھی، اور فیصلہ بھی لیا جا چکا تھا۔ اس نے حیا کو ایک میسج بھیجا مگر وہ آف لائن تھی۔اب وہ کانٹینکٹس میں سے حیا کا نمبر نکال رہا تھا۔ دوسری رنگ پر ہی فون اٹھا لیا گیا۔حمزہ نے آہستہ سے کہا۔
” ثقلین نے کیا ہے یہ سب۔“
”شاید تب ثقلین کا وقت نہیں آیا تھا‘اب اللہ نے تمہیں ایک اور موقع دیا ہے۔“ وہ بالکل بھی خفا نہیں لگ رہی تھی۔
”اگر تمہیں اور ارہاب کو کچھ ہو گیا تو؟“
”تم بتاؤ تو کیا ہو گا؟“ حیا نے الٹا اس سے سوال کیا تھا۔
”مجھے بہت تکلیف ہو گی۔“اس نے اسٹئیرنگ پر سر گرا دیا تھا، حیا کچھ نہیں بولی، چند لمحے وہ بھی خاموش رہا اور پھر حیا نے اسے کہتے سنا۔
”لیکن اگر اب کوئی میرے سینے میں چھرا بھی گھونپ دے،تو بھی میں کہوں گا کہ اللہ ظلم نہیں کرتا۔زندگی موت میرے کنٹرول میں نہیں ہے،تو میں اس کے لیے خود کو ذمہ داربھی نہیں ٹھہراؤں گا۔ ہاں تم لوگوں کی حفاظت کا پورا انتظام کرنا میری ذمہ داری ہے وہ میں کر کے رہوں گا‘ باقی اللہ مالک ہے۔“اپنے ماں باپ اور رانیہ کی موت کاقصور وار خود کو قرار دینے والا حمزہ،آج زندگی موت کے خوف سے آزاد ہو گیا تھا۔ اس نے جان لیا تھا کہ جو اس کے کنٹرول میں نہیں، وہی قسمت ہے۔حیا کو لگا آج حمزہ سچ میں اپنے پچھتاووں سے آزاد ہو گیا ہے۔
”تو بس میری جان اللہ کا نام لو اور کیس میں ہاتھ ڈال دو‘ اللہ تمہیں کامیابی دے گا۔مجھے اور ارہاب کو تم پر فخر ہے۔ہم چاہتے ہیں تم ہمیشہ آگے بڑھتے جاؤ‘ ہم تمہارے لیے بیڑیاں بننے کے بجائے وہ ہاتھ بنیں جن پر چڑھ کر تم بلندیوں کو چھوتے رہو۔اور ہاں وی لو یو۔ آخری جملے پر وہ مسکرائی تھی، یہ اندازہ حمزہ نے اسکی آواز سے لگایا تھا۔وہ اسے حوصلہ،ہمت،دعا،پیار،بھروسہ سب ساتھ دے رہی تھی اور یہ ہی وہ لمحہ تھا جب اس نے دل سے فیصلہ لیا۔ اور فون کاٹ کر اس نے ایک اور نمبر ملایا تھا۔
”سر! آئی وانٹ ٹو ری جوائن۔“ دو چار باتیں کر کے اسنے فون ایک طرف رکھا گاڑی اسٹارٹ کی اور دوبارہ فون اٹھا کر ایک میسج حیا کو کیا۔
”کیا تم نے مجھے میری جان کہا تھا؟“ فوراً جواب آیا۔
”استغفراللہ۔“ اور حمزہ نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ فون دوسری سیٹ پر گرا دیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!