Haya novel by Fakhra Waheed ep 25 (Last episode)

Haya novel by Fakhra Waheed

”سر‘ابھی تین ہفتے پہلے تک تو میرے تبادلے کی دور تک کوئی خبر نہیں تھی، پھر اچانک سے میرا تبادلہ کیوں کیا جا رہا ہے؟ میں صرف چھٹی پر تھا۔“ تبادلے کی خبر حمزہ کے سر پر پہاڑ بن کر ٹوٹی تھی۔ وہ آئی جی حیات بخش کی رہائش گاہ پر تھااور جو خبر انہوں نے حمزہ کو سنائی تھی وہ اس کے لیے حیرانگی سے زائد پریشانی کی بات تھی۔ اس کا تبادلہ لاہور سے گوجرانوالہ کیا جا رہا تھا‘ یعنی لاہور کے معاملات میں اس کا کوئی اختیار نہ رہتا۔
”کیا تم نہیں جانتے کہ یہ تبادلہ کیوں کیا جا رہا ہے؟“ آئی جی صاحب نے تحمل سے کہا اور اور حمزہ نے لب کاٹا۔
” بیٹا‘ یہاں ایس پی اور ڈی سی عوامی نمائندگان کی مرضی سے تعینات ہوتے ہیں اور ان کی ہی مرضی سے ہٹا دیے جاتے ہیں‘ تم بھی ہٹا دیے گئے۔“
”سر‘ آپ وزیر اعلی صاحب سے بات کریں‘آپ مجھے ریکمینڈ کریں گے تو وہ ضرور اس تجویز پر غور کریں گے۔“ وہ ایس ایس پی لاہور رہنے پر ہی بضد تھا۔
”ثقلین نے وزیر اعلی صاحب سے ہی تمہاری جگہ اپنی مرضی کا افسر لانے کی درخواست کی تھی‘ تو میں نہیں سمجھتا وہ اپنے وزیر پر تمہیں فوقیت دینگے۔“ انسپکٹر جنرل صاحب نے سو فیصد سچ بات کی تھی۔
”تو آپ وزیر اعظم صاحب سے بات کریں‘ وہ ویسے بھی خود مختار پولیس ڈپارٹمنٹ کی بات کرتے ہیں۔“ حمزہ نے پھر درخواست کی اور آئی جی صاحب چند لمحے خاموش بیٹھے رہے۔
”میں کچھ ایسا نہیں کروں گا‘ جس سے کسی عوامی نمائندے کو کوئی نقصان پہنچے۔“ اس وقت وہ کچھ بھی وعدہ کرنے کو تیار تھا۔ اور اس کی بات پر آئی جی صاحب نے قہقہہ لگایا تھا۔
”بات تو میں وزیر اعظم صاحب سے کر لوں گا‘مگر اس شرط پر کہ تم ایسا ہی کرو گے جیسا اپنی چھٹی سے پہلے کر رہے تھے‘ مگردھیان رکھنا اس بار گردن ہاتھ گھما کر پکڑنا۔“ وہ پراسراریت سے بولے اور حمزہ کے ماتھے کی شکنیں یک دم کم ہوئی تھیں اور جو ابھی جھوٹا وعدہ کرنے کا گلٹ تھا وہ اسی وقت ختم ہو گیا۔
”برخوردار‘ جبر کی حکمرانی کو قانون کی حکمرانی ہی ختم کر سکتی ہے اور قانون کی حکمرانی ہماری عوامی قیادت کی ہی مرہون منت ہے، مگر جب قانون شکنی، اور جیل کاٹنے کو ذلت کے بجائے فخر سمجھ لیا جائے، بڑے قانون شکنوں کو سلیوٹ کیے جائیں جبکہ چھوٹے قانون شکن پولیس حراست میں مارے جائیں‘ تو بتاؤ بھلا یہ جبر کی حکمرانی نہیں ہے؟ لیکن تم نے اس بلی کی کہانی سنی ہے جو قیمہ لگی ریتی کو چاٹتی رہی اور مزے لیتی رہی، اور جب قیمہ ختم ہو گیا تو اس کی اپنی زبان کا خون اس ریتی پر آگیا اور وہ اسے بھی چاٹ کر مزے لیتی رہی۔پتاتب چلا جب اس کا اتنا خون بہہ گیا کہ موت نظر آنے لگی۔“ وہ چپ ہوئے اور حمزہ نے سر ہلایا۔
”سر‘اب یہ سب بھی قانون کو اپنی مرضی سے چاٹ رہے ہیں‘ لیکن وقت آئے گا جب قانون ان تمام قانون شکنوں کو نگل جائے گا۔“ وہ مثال کو بخوبی سمجھ گیا تھا‘ آئی جی صاحب نے اس کے کندھا دبایا اور کھڑے ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی حمزہ کھڑا ہوا تھا۔
”امید ہے اچھی خبر ہی سناؤں گا تمہیں۔“ وہ حمزہ سے مصاحفہ کر رہے تھے۔
”انشاء اللہ سر۔“ بیٹھک بر خاست ہو گئی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آئی جی پنجاب حیات بخش نے اگلے دن آفس جاتے ہی وزیر اعظم پاکستان سے رابطہ کی کوشش کی تھی‘مگر ان کی مصروفیات کے باعث ان کو شام پانچ بجے کا وقت دیا گیا تھا‘ اور حمزہ کا یہ پورا دن وقت دیکھتے ہی گزرا تھا۔ اب بھی وہ بیسمنٹ میں بیٹھا پیپر ویٹ میز پر گھما رہا تھا۔ اس نے گھڑی دیکھی‘پانچ بج کر دس منٹ ہوئے تھے۔پھر اس نے میز پر پڑا اپنا فون دیکھا‘ وہ اندھیر تھا۔ اس سے پہلے کہ اس انتظار میں وہ مزید ہلکان ہوتا،اس کا فون بجا، حمزہ نے جھٹ سے فون اٹھایا مگردوسری طرف علی تھا۔
”یہ ہم کیا سن رہے ہیں بھئی‘ ایس ایس پی صاحب لاہور آئے بیٹھے ہیں۔“ اس نے چھوٹتے ہی کہااور حمزہ نے اتنی ہی بے دلی سے جواب دیاتھا۔
”پھر یہ بھی سن لیا ہو گا کہ میرا تبادلہ لاہور سے کر دیا گیا ہے۔“
”پھر اب؟کیا چل رہا ہے؟“
”آدھ گھنٹے تک پتا چل جاتا ہے کیا فیصلہ کرتے ہیں یہ میری قسمت کا۔ اگر میرے تبادلے کا آرڈر منسوخ نہ کیا گیا تو میں رٹائرمنٹ لے لیناہی بہتر سمجھوں گا۔“وہ دو ٹوک انداز میں بولا۔
ادھر وزیر اعظم ہاوس میں گفتگو الگ مرحلے میں داخل ہو گئی تھی۔اپنی ہی پارٹی کے وزیر اعلی کا صادر کردہ حکم منسوخ کرنا ایک بڑا فیصلہ ہوتا، کیونکہ اس کے براہ راست اثرات میں سے ایک، پارٹی قیادت کے فیصلوں پر لگنے والا سوالیہ نشان تھا۔کافی دیر آئی جی صاحب ان کو مختلف دلائل سے قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے اور بالآخر فیصلہ حمزہ کے حق میں ہو ہی گیا تھا۔ اور یہ خبر تو حمزہ کے لیے گویا تریاق تھی۔فون بند کرنے سے پہلے آئی جی حیات بخش نے بڑے راز دانہ انداز میں کہا تھا۔
”اگر قانون عوامی نمائندوں کا فیصلہ کرنے سے قاصر ہو جائے، تو یہ فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہی دے دینا چاہئیے۔“
اب حمزہ یہ فیصلہ کیسے کرواتا ہے‘یہ اس پر تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اگلے دن سب سے پہلے وہ تھانے گیا تھا۔ اس کے کندھوں پردو سٹار اور قومی نشان (ستارہ و ہلال) چمک رہا تھا۔ ایس ایچ او اسے دیکھتے ہی ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہوا تھا‘ یعنی حمزہ کی بحالی پیغام اسے بھی موصول ہو چکا تھا۔ حمزہ نے کافی تلخی سے اسے باہر جانے کا حکم صادر کیا‘ اور وہ ہاتھ ماتھے پر رکھتے‘ دل میں جلتا کڑھتا باہر نکل گیا تھا۔اب اسے اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے‘ مگر حمزہ کے لیے اس وقت اس کا ہونا نہ ہونا اہمیت کا حامل نہیں تھا۔ اسے ایک بیٹی کی عصمت کو روندنے والوں کو انجام تک پہچانا تھا‘ اور اس لڑکی کو اس کا کھویا اعتماد لوٹانا تھا۔ اس کے لیے یہ ایک انسیہ کا کیس نہیں تھا‘کئی انسیہ اس انصاف کی متلاشی تھیں‘ اور پھر کل کو اگر وہ خود ایک بیٹی کا باپ بن گیا تو؟ یہ خیال ہی اس کے رونگٹے کھڑے کر دیتا تھا۔
ایس ایچ اوکی کرسی پر بیٹھا وہ کیس کے بنیادی نقاط نوٹ کر رہا تھا‘ اب اسے کسی پر بھروسہ نہیں تھا۔ اس کے سامنے انسیہ بیٹھی تھی اور اس کے ساتھ لیڈی کانسٹیبل تھی۔وہ اس سے تمام تر تفصیلات لے رہا تھا۔کچھ باتوں پر وہ ہچکچانے لگتی‘ تو حمزہ کانسٹیبل کو آگے بڑھنے کا اشارہ کر دیتا‘وہ کسی طرح بھی انسیہ کو غیر آرام دہ محسوس نہیں کروانا چاہتا تھا‘ اور پھر ویسے بھی اب وہ اس کیس کو الگ زاویے سے دیکھ رہا تھا‘اور کوئی ایسا سرا ڈھونڈ رہا تھا کہ جسے کھینچتے ہی ثقلین اوندھے منہ آ گرے۔ایف آئی آر کٹنے کے بعد پہلی بار انسیہ نے ڈائریکٹ حمزہ کومخاطب کیا تھا۔
” سر وہ وڈیو۔“ کہہ کر اس نے سر جھکالیا اور حمزہ نے دونوں ہاتھ باہم ملا کر میز پر رکھے۔
”بیٹا‘ پہلے تو یہ اپنا سر اٹھا لو‘ سر ان کے جھکنے چاہئیے جو قصور وار ہیں‘ اور میں ان قصور واروں کی گردنیں لٹکتے دیکھنا چاہتا ہوں۔“ لڑکی خاموش رہی تو حمزہ نے بات جاری رکھی۔
”اور دوسرا تم ایسا انصاف دیکھو گی کہ لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے۔“ وہ عجیب چمک آنکھوں میں لیے ہوا تھا،لڑکی نے اثبات میں سر ہلایا‘اور حمزہ کے اشارے پر لیڈی کانسٹیبل اسے باہر لے گئی۔اب وہ شیری کا نمبرملا رہا تھا۔
”آئی وانٹ ایوری باڈی ان بیسمنٹ‘ تمہارے پاس پندرہ منٹ ہیں۔“ گھڑی دیکھتے ہوئے اس نے فون بند کر دیا تھا۔اوپر ہی ثقلین کے میسج کا نوٹیفکیشن تھا۔ ”بحالی مبارک حمزہ۔“ حمزہ نے ناگواری سے فون جیب میں ڈالا اور خود بھی باہر نکل گیا۔
حمزہ کے ساتھ ہی اس کے اسکواڈ کی نوکریاں بھی بحال ہو گئی تھیں۔پندرہ منٹ میں شیری،سمایا،شیروان بیسمنٹ میں موجود تھے۔عنایا اور زویان کی دو سال پہلے شادی ہوئی تھی اور زویان اسے لے کر اپنی فیملی کے پاس دبئی چلا گیا تھا۔سب لوگ کافی بدل چکے تھے۔شادیاں تو سب کی ہی ہو چکی تھی اور جسمانی و ذہنی طور پر بھی وہ اب مچیور دکھتے تھے۔
حمزہ سر براہی کرسی پر بیٹھا تھا۔اس کے دائیں طرف شیروان اور دوسرے ہاتھ پر سمایا تھے‘ جبکہ شیری اس کے ساتھ کھڑا لیپ ٹاپ پر جھکا ہوا تھا۔
”سر جب اتنے ثبو توں کے ساتھ کچھ نہیں ہوا‘تو اب ہم کیا کر لیں گے۔“ شیروان منہ بنا کر بولا۔شیری نے سر اٹھا کرتاسف سے اسے دیکھا۔ ” یہ کہتے ہوئے تم بالکل ڈائپر لگے ہو۔“ اور وہ دوبارہ لیپ ٹاپ پر جھک گیا۔اب شیروان بھی کہاں رکنے والا تھا؟ تبھی وہ تڑاخ سے بولا تھا۔”خود ہو گا ڈائپر۔“ پھر اس نے ناک پر ہاتھ رکھا۔”ویری سمیلی ڈائپر۔“ سمایا نے دو انگلیاں ہونٹوں پر رکھ کر مسکراہٹ چھپائی‘شیری نے خفت سے اسے دیکھا۔ حمزہ پرسوچ انداز میں پنسل انگلیوں میں گھماتا باری باری ان کو تک رہا تھا۔ شیروان نے غلط تو نہیں کہا تھا‘مگر دوسری بار کے اس موقعے کو وہ جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔تبھی وڈیو پر بحث شروع ہو گئی۔
”وڈیو اتنے لوگوں تک پہنچ چکی ہے کہ ختم کرنا مشکل ہے۔“ شیری نے حمزہ کو خبر دی۔
”سوشل میڈیا پر تو ایک منٹ لگتا ہے وائرل ہونے میں‘ اور ایسی چیزیں تو لوگ ویسے ہی فوراً اپنے دوستوں کے ساتھ شئیر کر دیتے ہیں۔“سمایا نے اپنی رائے دی۔
”یا وڈیو میں منسٹر صاحب کی شکل ہوتی تو شاید کچھ بنتا۔“ شیروان نے کندھے اچکائے اور حمزہ کی گھومتی پنسل رک گئی۔ دماغ کئی مسافتیں طے کرنے لگا۔
”کم از کم اسے صاحب مت کہو۔“ شیری نے جل کر کہا اور سمایا نے حمایت کی۔مگر حمزہ اب نہیں سن رہا تھا۔وہ اپنی کرسی سے اٹھا اورپیچھے دیوار میں لگی الماری پر جھک گیا۔ پیچھے میز پر وہ اب بھی اپنی باتیں کر رہے تھے۔
”جنت کیسی ہے؟“ سمایا‘شیروان سے پوچھ رہی تھی۔ شیروان کو جنت پہلی نظر میں بھائی تھی‘اور اس کا جھکاؤ دیکھتے ہوئے شیری نے بات حمزہ کے کان میں ڈالی، اور پھر بات ردابہ سے ہوتے ہوئے ہارون‘ اور ہارون کے ذریعے جنت کے گھر تک پہنچی تھی۔وہ ویسے ہی ڈاکٹر ہارون کی عزت کرتے تھے اور حمزہ کو بھی جنت کے دوست کی حیثیت سے جانتے تھے۔ ادھر شیروان کے گھر پر بھی کسی کو اعتراض نہیں ہوا کہ حمزہ کے توسط سے یہ رشتہ طے پا رہا تھا اور اسکی کریڈیبیلٹی ہی بہتتھی۔
”اللہ کا شکر ہے،آل فٹ۔“ ایک نظر الماری میں جھکے حمزہ کو دیکھتے ہوئے‘ اس نے انگڑائی لی۔ اب کم از کم وہ حمزہ کو دیکھ کر چپ چاپ نہیں بیٹھتے تھے۔ حمزہ کو مطلوبہ چیز مل گئی تو وہ دوبارہ اپنی کرسی پر آکر بیٹھ گیا‘اس کے ہاتھ میں بٹنوں والا فون تھا‘ جو کافی پرانا اور خستہ حال تھا، اب وہ اسے کھول رہا تھا۔ سب جھک کر اس کے چلتے ہاتھوں کو دیکھ رہے تھے۔فون کھل گیاتواس نے بیٹری نکال کر باہر رکھی اور اندر سے ایک میموری کارڈ نکالا، پھر اپنے فون میں ڈالا اور فون کے ساتھ ڈیٹا کیبل لگاتے ہوئے وہ پر جوش دکھ رہا تھا۔
اب شیری کے ہاتھ سے لیپ ٹاپ لے کر وہ خود بٹن دبا رہا تھا۔ شیری جا کر سمایا کے دوسری طرف بیٹھ گیا۔تبھی اسکرین پر وڈیو ابھری اور حمزہ نے لیپ ٹاپ ان لوگوں کی طرف گھمادیا‘ وہ آگے ہو کر اسکرین دیکھ رہے تھے۔ وہ ثقلین کی وڈیو تھی‘ وڈیو خاصی معیوب تھی‘ سمایا نے ایک نظر دیکھ کر نظر ہٹا لی۔شیروان نے لیپ ٹاپ حمزہ کی طرف گھما دیا۔ وہ اب وڈیو بند کر رہا تھا۔ حمزہ نے گہری سانس خارج کی۔ یہ وہی وڈیو تھی جس کی دھمکی حمزہ ثقلین کو دے کر آیا تھا مگر اس نے جھوٹ بولا تھا کہ وہ وڈیو اپنے دوستوں میں دے چکا ہے۔بلکہ اس نے یہ سوچ کر سنبھالے رکھی کہ اللہ نے پردہ رکھا ہے تو وہ کیوں کسی کو سر عام نشر کرے۔مگر اب جبکہ وہ خود ایک گری ہوئی حرکت کر چکا تھا توکیا پردہ رکھنا۔ سب سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے‘جب اسنے شیری کو اشارہ کیا۔
” فیک آئی ڈی سے اپلوڈ کر دو۔“ شیری اٹھ کردوبارہ حمزہ کے پاس آ کھڑا ہوا‘ہاتھ جلدی جلدی لیپ ٹاپ پر چلنے لگ گئے۔
”سر اس سے کیا ہو گا؟ ہم تو انسیہ کیس پر کام کر رہے ہیں۔“ سمایاکے سوال پرحمزہ نے کنپٹی مسلی۔
”اگر ہم ڈائریکٹ اس پر ہاتھ ڈالیں گے تو وہ ہمیں نقصان پہنچائے گا‘ لیکن اگر عوام اس کے خلاف آواز بلند کرے گی تو میں دیکھ رہا ہوں اس کی پارٹی اس سے ہاتھ اٹھا لے گی‘ الیکشن کے پاس کوئی اس کو بچانے کی کوشش نہیں کرے گا‘ اور پھر میں اس سے نمٹ لوں گا۔“ اب کے ا سکی مسکراہٹ پر اسرار تھی۔
بس سمجھ لو‘ ایک فرعون کا باب ختم ہونے جا رہا ہے۔“ اس نے شیری کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور شیری نے لیپ ٹاپ اس کی طرف گھمایا‘ اپلوڈنگ ایک کلک کی دوری پر تھی۔ حمزہ نے سر کو خم دیا اور یہ وڈیو اپلوڈ ہونے لگی۔حمزہ نے فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ ایک میسج ٹائپ کیاتھا۔
”خیر مبارک ثقلین صاحب۔“ میسج کر کے اس نے حیا کا نمبر ملایا‘فون اسکرین پر حیا کی تصویر ابھری اور وہ فون کان سے لگاتا‘بیسمنٹ کی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حیا اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھی تقریب میں بولنے کے لیے مختلف نقاط کاغذ پر اتار رہی تھی۔ پیچھے بیڈ پر ارہاب بیٹھا بلاکس سے مختلف شکلیں بنا رہا تھا۔تبھی بیڈ پر پڑھا حیا کا فون بجا۔
”ارہاب فون دو مجھے۔“ حیا سر جھکائے ا پنے خیالات کاغذ پر اتار رہی تھی۔
ارہاب نے بلاکس چھوڑ کر فون اٹھایا سامنے حمزہ کی تصویر تھی‘وہ چہکا‘ اور سبز دائرے کو انگلی سے اوپر دھکیلا۔
”اشلاملیکم بابا (اسلام علیکم)۔“ وہ اپنے لاہور والے گھر کے کمرے میں بیڈ پر ٹانگیں پھیلاتا ارہاب سے کہہ رہا تھا۔
”میرا بچہ کیسا ہے؟“ وہ شرمایا۔” میں ٹھیک ہوں۔“
”اور ارہاب کی ماما کیسی ہیں؟“
”ماما بھی ٹھیک۔“
”کیا کر رہے تھے؟“
”کھیل رہا تھا۔“ وہ بلاکس کو دیکھ کر بولا‘ حمزہ مسکرایا۔ ”بابا کو مس نہیں کرتے ہو؟“ اور ارہاب نے ہونٹ نکالے۔
” آئی مش یو۔ آئی آکس (آسک) ماما!لیٹس گو….وہ…کہتی بابا آجائیں گے۔“ وہ روہانسا ہو رہا تھا۔ حمزہ کا دل چاہا وہ ابھی وہاں چلا جائے،مگر ابھی تو اصل کام شروع ہوا تھا‘ تو وہ پیار سے بولا۔ ”بابا مس یو الاٹ…جلدی سے میں اپنے ارہاب کے پاس آجاؤں گا۔“ ارہاب کھلکھلایا۔
” اوکے…ماما شے بات کریں۔“ اس نے ماں کو خون تھمایا اور خود دوبارہ بلاکس کی طرف مڑ گیا۔ حیا بھی فون لے کر کمرے سے باہر آگئی تھی۔
”میں دیکھ رہی ہوں جناب بہت مصروف ہو گئے ہیں‘کہیں واقعی پرانی محبوبہ تو نہیں مل گئی؟“ وہ ایک ٹانگ صوفے پر موڑے بیٹھی تھی۔ حمزہ کا موڈ اچھا تھا تو فوراً بولا۔
” فی الحال تو نہیں ملی لیکن اگر ابھی میسج کر دوں تو ملنے ضرور آ جائے گی۔“ حیا نے دانت پیسے۔
” آئی ہیٹ یو۔“ اور وہ ہنساتھا۔” نہیں…یو لو می۔“ اس کے انداز پر حیا بھی کھلکھلائی تھی۔”دل کے بہلانے کو غالب خیال اچھا ہے۔“
”مطلب یو ڈونٹ لو می؟“ وہ یکدم سنجیدہ ہو گیا اور حیا محظوظ ہوتے ہوئے بولی تھی۔ ”امم! پتا نہیں۔“ وہ اور خفا ہو گیاتھا۔”اوکے! ایٹ لیسٹ ارمینہ از شیور کہ وہ مجھ سے پیار کرتی ہے۔“ اس نے کال کاٹ دی تھی۔فون دوبارہ بجنے لگا‘مگر وہ اسے ہاتھ میں لیے لیٹا رہا۔ رنگ بند ہو گئی اور دوبارہ بجنے لگی۔ دو کالز کے بعد اس نے فون اٹھایا اور خفگی سے بولا۔
”جی بولیں۔“ وہ آگے سے اتنے ہی پیار سے بولی تھی۔ ” آئی مس یو۔“ وہ کچھ نہیں بولا اور منہ بنائے لیٹا رہا۔
”تمہارے ساتھ جینا سیکھا ہے‘ہنسنا سیکھا ہے۔ میں شکر گزار ہوں اللہ کی کہ اس نے مجھے اتنی پریشانیوں میں ڈالا، اس نے مجھے تم سے ملوایا۔میں ہر نماز میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اگر وہ حادثہ نہ ہوتا تو آج میں مسز حیا حمزہ فیض بیگ نہ ہوتی۔“ وہ جذباتی ہو رہی تھی۔حمزہ کے تاثرات ڈھیلے پڑے۔وہ مزید کہہ رہی تھی۔
”اللہ پاک کتنے بے نیاز ہیں نا حمزہ‘ چاہتے تو آج میں اپنے بابا کے ساتھ ہوتی‘کسی اور کی بیوی ہوتی لیکن اللہ نے مجھے ایسے دکھ دیے جو میرے نا قابل برداشت تھے لیکن اب انہی غموں پر خدا کا شکر ادا کرتی ہوں‘ کیونکہ وہی وسیلہ تھا میری تم سے ملاقات کا۔ اللہ نے مجھے بہترین شوہر سے نوازا ہے‘ جو مجھ سے بے انتہا پیار کرتا ہے۔“ آخری الفاظ پر حمزہ کے لب بے ساختہ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔ کچھ دیر پہلے کی ناراضگی ختم ہو چکی تھی۔ ”سن رہے ہو؟“ اس کی طرف سے کوئی آواز نہیں آئی تو وہ رکی تھی۔
” ہوں۔“ وہ بس اتناہی کہہ سکا تھا۔حیا کے منہ سے یک طرفہ پیار کا اظہار اسے ہمیشہ محظوظ کرتا تھا۔ وہ خود ہی حمزہ کے لیے اپنے پیار کا اظہار کرتی اور پھر خود ہی حمزہ کی اپنے لیے محبت کو سراہ دیتی۔وہ کچھ نہیں بولا تو اس کی آواز دوبارہ سنائی دی تھی۔
”تو میری جان‘آئی لو یو الاٹ۔“ وہ کہہ کر چپ ہو گئی۔حمزہ کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی، تھوڑی دیر وہ چپ رہا پھر آہستہ سے بولا۔”استغفراللہ۔“ اورحیا کے تو جیسے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔
”کیا یار‘ ہمیشہ یوں ہی کہتے ہو۔“ وہ واقعتاً ہمیشہ یہ ہی جواب دیتا تھا، حیا کی خفگی بجا تھی۔
”ہاں‘ کیونکہ میں بے حیا نہیں ہوں۔“ اس نے مسکرہٹ دبائی اور حیا نے بے ساختہ اونچی آواز سے کہا تھا۔
” استغفراللہ۔“ اندر بیڈ پر کھیلتا ارہاب ماں کی آواز سن کر کھلکھلایا۔
”استفراللہ۔“
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وڈیو آدھے گھنٹے میں ہی ہر موبائل پر دکھنے لگی تھی‘ میڈیا میں تہلکہ مچ گیا تھا۔ ایک سیاسی جماعت کو چھوڑ کر باقیوں میں خوشی کی لہر تھی۔ ثقلین کے پارٹی سربراہ نے اس رسپانس کو دیکھتے ہوئے فوراً اس سے قطع تعلقی کا اظہار کر دیاتھا۔ سب کو اپنی اپنی پڑ گئی تھی۔ ثقلین کی عزت چلی گئی‘ منسٹری چلی گئی۔ اس وڈیو پر سہاگہ یہ کہ حمزہ نے انسیہ سے پریس کانفرنس کروائی، جہاں اس نے ایم پی اے ثقلین کو اپنے کیس میں نامزد کر دیاتھا۔سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ ’جسٹس فار انسیہ‘ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا تھا۔ اور یہ ہی وقت تھا کہ ثقلین کے اوپر سے ہر طرح کا ہاتھ کھینچ لیا گیا‘ عوام بینر لیے اس کے ڈیرے کے باہر سیلاب کی طرح امڈ آئی تھی اور اس وقت وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑا تھا۔ آنکھیں بد حواسی سے پھٹی ہوئی تھیں۔ حوالات کی گرمی پسینے کی صورت نچڑ رہی تھی۔ حمزہ نے آخری کمرے میں اسے لے جانے کا حکم دیا اور کافی دیر انتظار کروا کرخود اس کمرے میں گیا۔ سامنے ثقلین اسے نفرت سے دیکھ رہا تھا۔
”تم پچھتاؤ گے۔“ وہ ہتھکڑی میں جکڑے ہاتھوں کے ساتھ اسے دھمکی دے رہا تھا۔حمزہ اطمینانسے مسکراتا ہوا کرسی کھینچ کراس کے سامنے بیٹھ گیاتھا۔
”مگر افسوس تم مجھے پچھتاتے ہوئے دیکھ نہیں سکو گے۔“ اس نے ٹانگ پر ٹانگ جمائی۔ ثقلین کو کچھ سمجھ نہیں آیاتو وہ اسے گالیاں بکنے لگا‘ گالیاں نا قابل برداشت تھیں مگر حمزہ نے سب ریشنل دماغ پر چھوڑ دیا اور کچھ دیر بعد جب وہ بول بول کر تھک گیا تو حمزہ نے پیچھے کھڑے آدمی کو اشارہ کیا۔ کچھ دیر بعد وہ اسے عدالت کے لیے لے جا رہے تھے۔ ابھی وہ اسے لے کر تھانے سے باہر آئے ہی تھے۔ ایک بڑا ہجوم گیٹ کے باہر ان کا منتظر تھا۔ وہ ثقلین کو گالیاں دے رہے تھا، اس کے خلاف نعرے لگا رہے تھاِ ہر کوئی اپنے طریقے سے غم و غصے کا اظہار کر رہا تھا۔ میڈیا وہاں موجود لوگوں سے موجودہ حالت پر رائے لے رہے تھے اور ثقلین کو عمارت سے نکلتے دیکھ کر وہ بند گیٹ کے پیچھے بے چین نظر آ رہے تھے۔ حمزہ نے کالی عینک آنکھوں پر لگاتے گیٹ پر کھڑے پولیس اہلکار کو اشارہ کیا، گیٹ میڈیا نمائندوں کے لیے کھول دیا گیا ِ، حمزہ دوبارہ عمارت میں غائب ہو گیا، پیچھے ہجوم بے قابو ہو گیا۔ تھانے کا احاطہ لوگوں سے بھر گیاتھا۔ پولیس بظاہر ان کو روکنے کی کوشش کرتی رہی۔ مگر وہ آگے بڑھتے گئے یہاں تک کہ ثقلین کو جا لیا۔ وہ اس کو گالیاں دے رہے تھے، پیٹ رہے تھے۔ تھپڑ….مکے لاتیں جس میں جتنا دم تھا وہ اتنا زور لگا رہا تھا۔خون اس کے منہ سے بہہ بہہ کر گر رہا تھا۔ ٹانگیں جواب دینے لگی تھیں۔ وہ زمین کی طرف جھکتا جا رہا تھا اور تبھی ہجوم نے کسی کو جگہ دی۔ آنے والی انسیہ تھی۔ انسیہ اب اس کے سر پر کھڑی تھی۔وہ ہاتھ جوڑے رحم کی اپیل کر رہا تھا۔ انسیہ نے سختی سے آنکھیں بند کیں اور اس کے منہ پر تھوکا۔ وہ سرعت سے ہجوم کی طرف موڑی اور چیختے ہوئے بولی۔
”تم سب غلام ہو۔ تم سب غلام ہو…اپنے نفس کے غلام ہو۔ پوری دنیا فتح کر لو مگر رہو گے تم لوگ غلام ہی۔خود کی خواہشات کے غلام اور اپنے بے لگام نفس کے غلام۔“ آنسو اسکی آنکھوں سے گرتے جارہے تھے مگر وہ بولتی رہی۔
”بہن، بیٹیاں اب سانجھی کیوں نہیں رہیں؟ ماں، بہن گالی کیوں بن گئی ہے؟ بیٹیاں اپنے ہی رشتے داروں سے محفوظ کیوں نہیں رہی؟ تم….تم…تم۔“ وہ ہر طرف انگلی اٹھا کر گھوم رہی تھی۔ ”تم سب وحشی درندے ہو‘ تم سب ذمہ دار ہو۔تم سب اپنے نفس کے غلام ہو۔“ کئی سر جھکے تھے، کئی آنکھوں میں تاسف ابھراتھا۔شور کی آواز سن کر حمزہ بھی باہر آگیا تھا‘ سیڑھیوں سے دو انچ نیچے احاطے میں کھڑے وہ بلک بلک کر رو رہی تھی۔
”ہمیں دیکھ کر آوازیں کسنے سے تمہیں کیا ملتا ہے؟ کون سا سکون ہے جو تم ہمیں اذیت دے کر حاصل کرتے ہو؟ کون سا ثواب ہے جو تم ماشا ء اللہ کہہ کر بٹورتے ہو؟ جب تم ہمیں اپنی ہوس بھری نظروں ے دیکھتے ہو تو پتا ہے کیسا محسوس ہوتا ہے؟ لگتا ہے کوئی زہر میں بجھا نشتر کسی نے ہمارے جسم کے پار اتار دیا ہو۔ لگتا ہے کسی نے خنجر ہمارے جسم میں پیوست کر دیا ہو اور…..اور جب تم یوں ہاتھ لگاتے ہو نا تو گھن آتی ہے ہمیں اپنے وجود سے۔ دل چاہتا ہے جسم کا وہ حصہ کاٹ پھینکیں جہاں تم نے ہاتھ رکھا ہے۔“ وہ اپنے ہاتھوں کو جھاڑ رہی تھی اپنے منہ پر بری طرح اپنے ہاتھ مارتے ان پر سے ان دیکھی گندگی صاف کر رہی تھی۔
”وکٹم بھی ہم بنتی ہیں، ظلم بھی ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔ پھر عزت بھی ہماری جاتی ہے، نفرت اور حقارت بھی ہمارے حصے آتی ہے، خاموش رہنے کا بھی ہمیں کہا جاتا ہے۔ تم میں سے جو دوسروں کی بیٹیوں پر بری نظر ڈالتے ہیں سب سے زیادہ اپنی بہنوں کی عزت بھی ان کو ہی پیاری ہوتی ہے۔قانون سے ڈر نہیں لگتا کم از کم خدا سے تو ڈرو۔ کون لوگ ہو تم؟ کون لوگ ہو؟ روز محشر ہم تم لوگوں کا گریبان پکڑ کر تم سے تمہاری ان ذیادتیوں کا بدلہ مانگیں گی۔ میں بدلہ مانگوں گی۔ ہر بیٹی اس دن تمہارا دامن چاک کرے گی اور کہے گی اللہ سے کہ یہ تھا وہ حیوان جس نے اپنی دو لمحوں کی خوشی کے لیے ہماری پوری زندگی اجاڑ دی۔ ہمیں خود سے، اپنے وجود سے متنفر کر دیا۔ تمہارے وقتی سکون کے پیچھے ہم بیٹیاں ساری زندگی خود سے نظر نہیں ملا پاتی۔ ہم کبھی سر اٹھا کر خود کو شیشے میں نہیں دیکھ پاتی۔ کیوں کرتے ہو تم ہمارے ساتھ یہ سلوک؟ کیوں کرتے ہو؟“ وہ چلا چلا کر تھک گئی تو اس کی آواز دھیمی پڑ گئی۔
” اگر تمہیں دیکھ کر کوئی لڑکی اپنا رستہ بدل لے تو سمجھ لینا تم گلی کے وہ کتے ہو، جس کے کاٹنے کے خوف سے رستہ بدل لیا جاتا ہے۔تم…. کتے….ہو۔“ وہ سسکیاں لیتے لیتے چپ ہو گئی۔اس کے دماغ کو لگا وہ مزید تکلیف برداشت نہیں کر سکے گی تو وہ جھٹ سے ماؤف ہو گیا۔ وہ بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ لیڈی کانسٹیبلزنے آگے بڑھ کر اسے اٹھایا اور اندر لے گئیں۔ ہجوم دوبارہ مشتعل ہو کر ثقلین پر ٹوٹ پڑا، حمزہ اپنے ساتھ کھڑے اہلکاروں کے ساتھ پھرتی سے ہجوم کی طرف بڑھا مگر اب دیر ہو چکی تھی‘ فرعون کا باب ختم ہو چکا تھا‘ وہ خون میں لت پت زمین پر پڑا تھا اس کی آنکھیں بے بسی سے اوپر کو اٹھتی اس روح کو دیکھ رہی تھی جسے مٹی کے وجود نے خدا کے عتاب کا حق دار نا دیا تھا۔
حمزہ نے اہلکاروں کو کچھ احکام صادر کیے اور جانے کو مڑا‘لیکن نظر گیٹ پر کھڑی عورت پر رک گئی۔ وہ سیاہ چادر سے منہ چھپائے ہوئے تھی۔ حمزہ کو اپنی طرف دیکھتے پا کر وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ایک طرف چل دی۔ حمزہ اس کے پیچھے بھاگا‘ وہ اور تیز ہو گئی۔ حمزہ نے دیکھا وہ سڑک کنارے کھڑی سیاہ گاڑی مین بیٹھ رہی تھی۔وہ اس کے سر پر جا پہنچاتھا۔اور جیسے ہی دوسری طرف کا دروازہ کھول کر اس نے اندرجھانکا‘ یک دم ہر چیز ساکت ہو گئی تھی۔
اس کے سامنے ارمینہ بیٹھی تھی‘ اور حمزہ کو دیکھ کر اس کا اگنیشن مین چابی گھماتا ہاتھ رک گیا تھا۔اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے تھے اور خلاف معمول میک اپ سے عاری چہرہ ایسا مرجھایا ہوا تھا کہ اسے پہچاننا مشکل تھا۔ حمزہ کو اپنی طرف شاک کی سی کیفیت میں دیکھتے پا کر اس کی آنکھیں بھرانے لگی تھیں‘ ہونٹ لرز رہے تھے۔ حمزہ جانے کو مڑا تو وہ تڑپ کر بولی تھی۔
” پوچھو گے نہیں کیسی ہوں؟“ وہ جس کا سینہ شوخ و چنچل ارمینہ کو اس بھیانک روپ میں دیکھ کر یک دم بھاری ہو گیا تھا ‘کچھ کہے بغیر گاڑی میں بیٹھ گیا۔ارمینہ اپنے لب کاٹتی رہی اور وہ کہنے کو الفاظ ڈھونڈتا رہا۔
”کیسی ہو؟“ کئی لمحوں کی خاموشی کے بعد حمزہ بس اتنا ہی کہہ سکا تھا۔ وہ آنسوؤں میں ہنسی‘ حمزہ نے تعجب سے اس کی جانب دیکھا۔
”ٹھیک ہوں۔ ایک دم ٹھیک ہوں۔“ وہ یک دم اس قدر سنجیدہ ہو گئی گویا کبھی ہنسی ہی نہ ہو۔
”تم خوش ہو؟“ اس نے بغور حمزہ کو دیکھا۔ حمزہ نے جوابا شانے اچکائے تھے۔” الحمدللہ۔“
”ہوں۔“ ارمینہ نے سر جھٹکااور سر سے پھسلتی چادر کو گردن کے سامنے سے مضبوطی سے تھام لیا۔
” تم بتاؤ‘ یہ کیا حالت بنا رکھی ہے؟ وہ میک اپ‘ کاجل لگی آنکھیں‘ گہری لپ اسٹک‘ کہاں گئے سب؟“ ارمینہ زخمی سا مسکرائی اور سر سے چادر اتاردی۔ایک لمبی سانس حمزہ کے لبوں سے خارج ہوئی تھی۔ اس کے سر پر بال نہیں تھے‘ یہ ارمینہ نہیں ہو سکتی تھی‘ وہ اس قدر بھیانک نہیں دکھتی تھی۔ حمزہ کو اپنے رونگھٹے کھڑے ہوتے محسوس ہوئے تھے۔اس نے منہ پھیر لیا توارمینہ نے بھی ہنستے ہوئے چادر دوبارہ سر پر رکھ لی۔ اس کی ہنسی بھی ایسی کربناک تھی کہ حمزہ کا دل چاہا وہ گاڑی کا دروازہ کھولے اور بھاگ جائے۔ چاہے ارمینہ سے دل کا رشتہ نہیں تھا لیکن وہ ارمینہ تھی‘ کبھی اس سے جھوٹی ہی سہی‘ مگر دوستی کا رشتہ تو رہا تھا۔
”یہ کیا ہوا؟“ وہ اسے دیکھے بغیر پوچھ رہا تھا۔وہ سنجیدہ ہوئی تو گاڑی کی فضا مزید سوگوار ہو گئی۔
”تم مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔“ ایک آنسو اس کی آنکھ سے ٹوٹ کر نیچے گرا تھا۔
”میں نے ثقلین کے ساتھ کام کرنے سے منع کر دیا‘ اسے لڑکیاں سپلائی کرنے سے انکار کر دیا‘ تو اس نے….اس نے میر اہی سودا کر دیا۔“ وہ کرب سے حمزہ کی طرف مڑی، اور اب کہ قدرے اونچی آواز میں بولی۔
”میں اس کو لڑکیاں دیتی تھی اور وہ مجھے بیچنے پر تل گیا‘ میرے انکار پر اس نے مجھ پر تشدد کیا‘ اپنے غنڈوں کے آگے ڈال دیا‘ میرے بال کاٹ دیے۔میں نے سب سے مدد مانگی‘ کوئی نہیں آیا۔میں نے تمہیں کتنا بلایا حمزہ‘ تم بھی نہیں آئے۔ تم کیوں نہیں آئے؟“ وہ کچھ نہیں بولا۔
”سارے یار دوست سب نے منہ موڑ لیا‘ میرا شوہر میرا نہیں رہا۔میں اکیلی رہ گئی ہوں حمزہ‘ بالکل اکیلی۔ عزت نہیں ہے، سکون نہیں ہے‘ دوست نہیں ہیں‘ کوئی میرا نہیں ہے‘ میں خالی ہوں‘ حمزہ میں خالی ہوں۔“ وہ بلک بلک کر رو رہی تھی۔حمزہ کا سینہ گھٹتا جا رہا تھا۔اپنے حسن سے دلوں کو لبھانے والی ارمینہ کس قدر قابل ترس بن گئی تھی۔اس کے حسن کو زوال آ گیا تھا۔اس کے دماغ میں جھکڑ چل رہے تھے‘ وہ کب کا یہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا‘ مگر شاید اس کے چند الفاظ اس لڑکی کو دوبارہ جینے کے حوصلہ دے دیں‘تو وہ بیٹھا رہا۔
”مگر آج میں نے اپنا بدلہ لے لیا۔“ ارمینہ نے گردن تان کر پیچھے تھانے کے کالے گیٹ کو دیکھا۔حمزہ کی گتھی بھی سلجھ گئی تھی۔جس لڑکی کا ذکر انسیہ کے والد نے کیا تھا وہ ارمینہ تھی۔
پھر وہ اپنی داستان سناتی رہی۔وہ سنتا رہا یہاں تک کہ الفاظ ختم ہوگئے‘ آنسو تھم گئے پھر اس نے سر اٹھایا۔حمزہ نظریں ڈیش بورڈ پر گاڑے بیٹھا رہا، ا سنے دیکھا وہاں کچھ تصاویر پڑی ہیں۔ اس نے وہ تصویریں اٹھائیں، وہ حمزہ اور حیا کی وہی تصویریں تھی، جو ٹی وی پر حمزہ کی شادی کی جھوٹی خبر کے ساتھ گردش کر رہی تھیں۔حمزہ نے سوالیہ نظروں سے ارمینہ کو دیکھا،وہ اس کی آنکھوں میں اٹھتے سوال سمجھ گئی تھی۔
”مجھے یہ تصاویر میرے گھر میں ملی تھیں، میرے شوہر کے لاکر میں۔میں تم سے جو محبت کرتی تھی، تمہارے ساتھ رہنا چاہتی تھی تو اس نے تمہیں مجھ سے دور کرنے کو یہ تصویریں میڈیا کو دی تھیں، تا کہ میں تمہیں بھول جاؤں۔ بیوقوف…اگر وہ مجھے پہلے دن سے وہ احترام دیتا جس کی میں حقدار تھی تو میں کسی بھی حمزہ کے کواب کیوں دیکھتی؟“ وہ مزید انکشافات کر رہی تھی۔حمزہ نہیں جانتا تھا، ا سکو نا پسند کرنے والے لوگ یوں اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ا سنے وہ تصاویر دوبارہ ڈیش بورڈ میں نہیں رکھی تھی۔
”ارمینہ! آگے بڑھ جاؤ۔“ ارمینہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
”صحیح کہہ رہا ہوں۔ زندگی کا یہ باب یہیں بند کر دو اور ایک نئی زندگی کا آغاز کرو، نئے اور اچھے لوگوں کے ساتھ۔مگر اس کے لیے تمہیں پہلے خود اچھا بننا ہو گا۔ ارمینہ جو لوگ غلط کام کر لیتے ہیں نا ان میں اسپارک ہوتا ہے۔اگر اس انرجی کو وہ صحیح جگہ لگائیں تو ایک دنیا ان کے پیچھے کھڑی ہو گی۔تم میں انرجی ہے مگر تم اسے غلط جگہ لگا رہی ہو۔اب اس انرجی کو مثبت جگہ لگاؤ‘اپنی تکلیف کو اپنی طاقت بنا لو۔ خود کے لیے خود کو معاف کردو‘ان لوگوں کو معاف کردو اور آگے بڑھ جاؤ۔ اللہ تمہیں ہمت دے۔“ کہہ کر وہ جانے کو مڑا‘ مگر ارمینہ کے اگلے الفاظ پر اس کا ہاتھ وہیں رک گیا۔
”اتنا آسان تھوڑی ہوتا ہے‘میں اکیلی رہ گئی ہوں۔اب زندگی سے مجھے کچھ نہیں چاہئیے‘ اب مجھے خاموشی چاہئیے بس۔ بہت ساری خاموشی۔“ پھر اس نے حمزہ کو دیکھا توآواز رند گئی۔
”موت جیسی خاموشی چاہئیے۔ حمزہ مجھے موت ہی چاہئیے۔“
”ارمینہ! ایک جہاز تھا جو لینڈ کرنے والا تھا۔“ حیا جو کہانی ہر روز ارہاب کو سناتی تھی، آج وہ کہانی حمزہ ارمینہ کو سنا رہا تھا۔
”جب وہ لینڈ کرنے لگا تو اس کے پہیے نہیں کھلے اور پائلٹ نے جہاز کو دوبارہ ہوا میں اٹھا لیا‘ مگر اس سے جہاز ایک سو اسی کے زاویے پر الٹ گیاتھا۔ اندر مسافروں کی چیخیں بلند ہونے لگیں‘ کوئی رو رہا تھا‘ کوئی کلمہ پڑھ رہا تھا اور کوئی تسبیح کر رہا تھا۔ ہر کسی کو اپنی موت نظر آرہی تھی۔“ وہ بول رہا تھا اوروہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
”ایسے میں ایک سیٹ کا مسافر کیا دیکھتا ہے کہ اس کے ساتھ والی سیٹ پر ایک چھ سات سال کی بچی بیٹھی کتاب پڑھ رہی ہے۔ وہ ایک جملہ پڑھتی پھر آنکھیں بند کرتی ہے‘ مسکراتی ہے‘ اور پھر آگے پڑھنے لگ جاتی۔ آدمی کو حیرت ہوئی کہ سب کو اپنی جان کی پڑی ہے اور یہ کتاب پڑھ رہی ہے؟ یوں ہی لڑکی کتاب سے لطف اندوز ہوتی رہی‘ یہاں تک کہ وہاں جہاز کی ایمرجنسی لینڈنگ کا اعلان ہوا اور جہاز محفوظ زمین پر اتار لیا گیا۔“ حمزہ کے ذہن میں حیا اور ارہاب کی آواز ابھر رہی تھی اس نے سوچا نہیں تھا کسی دن وہ یہ کہانی کہیں بیٹھا کسی کو سنا رہا ہو گا۔
”اب اس آدمی نے لڑکی کو مخاطب کیا کہ ’بیٹا سب رو رہے تھے‘چلا رہے تھے‘ ہم سب مرنے والے تھے‘ اور آپ بیٹھ کر کتاب پڑھ رہی تھی؟ نہ صرف کتاب پڑھ رہی تھی بلکہ لطف اندوز بھی ہو رہی تھی؟ آپ کو ڈر نہیں لگا؟‘ پتا ہے ارمینہ جواب میں اس بچی نے کیا کہا؟“ حمزہ نے رک کر ارمینہ کو دیکھا اور اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔
”اس بچی نے کہا کہ ’انکل اس جہاز کے پائلٹ میرے بابا ہیں، اور وہ آپ لوگوں کو بچائیں یا نہ بچائیں مگر مجھے یقین تھا کہ وہ مجھے بچا لیں گے۔“
”ارمینہ! تمہاری زندگی بھی ایسا ہی ایک جہاز ہے‘ تم مسافر ہو اور اللہ تعالیٰ تمہاری زندگی کے جہاز کے پائلٹ ہیں۔وہ اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔ تمہاری زندگی میں بہت سے مسائل آ ئیں گے، تکلیفیں آئیں گی مگر یاد رکھنا اللہ تعالیٰ ہیں نا….بھروسہ رکھو وہ تمہاری زندگی کے اس جہاز کو کبھی کریش نہیں ہونے دیں گے۔جہاز ہچکولے کھائے گا، ایک سو اسی کے زاویے پر الٹ جائے گا۔ مگر تم یقین رکھنا اللہ پاک ہیں نا وہ سنبھال لیں گے۔“
وہ عجیب کمشکش کا شکار ہو گئی تھی۔ سینے میں جڑا دل الگ کیفیت کا شکار تھا۔بس اتنا ہی تو سمجھنا تھا کہ اللہ پاک ہیں نا….وہ تمہاری زندگی کے جہاز کو کبھی کریش نہیں ہونے دیں گے۔ پوری زندگی گزار دی‘ زندگی کو سمجھے بغیر۔ مگراب اس کا دل قرار پا رہا تھا۔
”اللہ پاک ہیں نا وہ تمہیں سنبھال لیں گے۔“ وہ بڑبڑائی۔ حمزہ نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا، دروازہ کھولا اور لمبے ڈگ بھرتا گاڑی سے دور چلا گیا۔وہ اسٹیئرنگ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی۔ اس کے لفظوں پر غور کرتی رہی، پھر حمزہ کے الفاظ دہرائے۔
”جب تمہیں لگے کہ تمہاری زندگی کا جہاز کریش ہونے لگا ہے تو بس یقین رکھنا اللہ جی ہیں نا! وہ تمہیں سنبھال لیں گے۔“
”ارمینہ! آگے بڑھ جاؤ۔“
ارمینہ نے چابی اگنیشن میں گھمائی اور گاڑی کے ساتھ وہ خود بھی آگے بڑھ گئی۔
اور آگے وہ ہی بڑھ پاتا ہے جو بڑھنا چاہتا ہے، پھر لوگوں کے کہے الفاظ اور دلاسے تو محض بہانہ بن جاتے ہیں!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ایم پی اے کے اس خوفناک حشر سے سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ایک ایم پی اے کی ایسی موت کوئی عام بات نہیں تھی۔ یہاں کسی عوامی نمائندے کے ساتھ تلخ الفاظ کے تبادلے پر بڑے بڑے افسر معطل کر دیے جاتے ہیں، یہ تو پھر بھی ایک ایم پی اے کی موت کا معمہ تھا۔ وہ جو اس قوم کو کئی دہائیوں سے جان ومال کے خوف میں مبتلا کیے ہوئے تھے اب خود خوف سے کپکپا رہے تھے۔ نفسا نفسی کا ایسا دور چل پڑا تھا کہ عوامی نمائندے بھاگ بھاگ کر شاہ وقت کا دروازہ کھٹکھٹا رہے تھے۔اسمبلی ہال میں دھواں دھار تقاریر کی جا رہی تھیں، مگر کوئی بھی کھل کر مرنے والے کی حمایت نہیں کر رہا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو عوام جوش پکڑیں اور ان کے کچے چھٹے بھی کھود نکالیں۔ سیکیورٹی کہاں تھی؟ پولیس کیا کر رہی تھی؟ لوگ کیسے اندر داخل ہو گئے؟ کئی سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ اور ان کے جوابات حاصل کرنے کو تفتیشی کمیٹی بٹھا دی گئی تھی۔میڈیا اور عوام کو بحث کرنے کو نیا موضوع مل گیا تھا۔ عوام میں زیادہ تر اس عوامی فیصلے کے حامی تھے جبکہ میڈیا گروپس اپنی اپنی رائے لیے دھڑا دھڑ پروگرام کر رہے تھے۔جب قانون لا خوف ہو جائے تو وہ درست فیصلے لینے سے پہلے انجام کی پرواہ نہیں کرتا۔ قانون کے ہاتھ تو بندھے تھے، مگر دماغ آزاد تھا اور اس آزادی نے وقت کے فرعونوں کے دل دہلا دیے تھے۔ کاش کہ وہ ضمیر کی آوازپر بھی کوئی پابندی عائد کر سکتے۔آئی جی پنجاب کو معطل کر دیا گیا تھا، ٹی وی پر جب یہ خبر چلی تو حمزہ نے فورا ان کو کال کی تھی، وہ آگے سے ہلکے پھلکے انداز میں گویا ہوئے اور حمزہ کے افسوس کرنے پر انہوں نے کہا تھا۔
” جب قانون کے ہاتھ باندھ دیے جائیں تو عوام کو اپنے حق کے لیے آگے آنا پڑتا ہے۔ میں خوش ہوں کہ مزید ان کی چاکری نہیں کرنی پڑے گی اور مطمئن ہوں کہ تم جیسے پولیس افسر اس ادارے کا حصہ ہیں۔“
”اگر آپکو نہیں چھوڑا گیا تو آپ کو لگتا ہے یہ مجھے ڈپارٹمنٹ کا حصہ رہنے دیں گے؟“
”تم فکر نہیں کرو، میں جو پریس کانفرنس کرنے جا رہا ہوں وہ تمہیں عوام کا ہیرو بنا دے گی، پھر چاہ کربھی کوئی تم پر ہاتھ نہیں ڈال سکے گا۔“ وہ انتہائی اطمینان سے بولے تھے اور حمزہ نے ان کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے فون بند کر دیا تھا۔
دوسرافون اس نے حیا کو کیا تھا، جو مسلسل خود کو ہونے والی پیش رفت سے با خبر رکھے ہوئے تھی۔
”تم فکر مت کرو، اگر تم گھر واپس بھی آگئے تو بھی ہمیں اپنے حمزہ پر فخر ہو گا‘ کیونکہ اس بار تم ہار مان کر نہیں بلکہ لڑ کر آرہے ہو۔“ دوسری طرف حیا کے ساتھ بیٹھی ردابہ اسے حوصلہ دے رہی تھی۔
”ارہاب اور حیا کا خیال رکھیے گا۔“ اس نے آہستہ سے کہا اور حیا مسکرائی۔ پھر دعا سلام کے بعدفون بند ہو گیا تھا۔
حیات بخش کی پریس کانفرنس نے سچ میں تہلکہ مچا دیا تھا۔اپنے بارے میں کیے گئے فیصلے کو لے کر وہ مطمئن تھے۔اس پریس کانفرنس سے ان کو حمزہ کی نوکری بچانا مقصود تھا۔تبھی انہوں نے حمزہ کی چھ سال کی جدو جہد اور پھر اس کے پولیس چھوڑنے کے فیصلے سے لے کر، دوبارہ واپس آنے، اور پھر اپنے ادھورے چھوڑے کیس کو اختتام تک پہنچانے کی روداد سنائی تھی۔وہ جانتے تھے اگر حمزہ کے خلاف انکوائری کی گئی تو نہ صرف اس کی نوکری جائے گی بلکہ ہو سکتا ہے اگلے کچھ برس اسے جیل میں ہی گزارنے پڑیں۔
”پولیس کا مقصد عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے، یہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے قائم کیا گیا محکمہ ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ پولیس ہی عوام کو لوٹنے کے در پر ہے، نہ عوام کی جیبیں سلامت ہیں، نا جان۔ اگر کوئی پولیس اہلکار یا افسر ایمانداری سے اپنے فرائض انجام دینے کی کوشش کرتا بھی ہے تو حکومت اور انتظامیہ کا اتنا دباؤ ہوتا ہے کہ وہ بے چارہ یوں ہی ڈپریشن اور مختلف ذہنی امراض کا شکار ہو جاتا ہے۔“ آئی جی حیات بخش میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
” اب اگر آپ چاہتے ہیں کہ حمزہ جیسے افسراس ادارے کا حصہ رہیں، اور اپنے فرائض عوام کی بھلائی کو مد نظر رکھتے ہوئے سر انجام دیں،تو ضروری ہے کہ ان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ نہ کہ کسی بڑی مچھلی پر ہاتھ ڈالنے کی پاداش میں معطل کر دیا جائے۔یہ جو ہر واقعے کے بعد پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے کی روایت چل پڑی ہے یہ محض لالی پاپ ہے جو ہم عوام کو پکڑا دیتے ہیں کہ ایکشن لیا جا رہا ہے۔ در حقیقت ہم ایک دوسرے کو جھوٹی تسلیاں دے رہے ہوتے ہیں۔“
”اور اگرہم چاہتے ہیں کہ پولیس عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرے، تو ضروری ہے کہ پولیس کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ پولیس پر جو بے جا پریشر حکومت اور انتظامیہ نے ڈال رکھا ہے اسے ختم کریں۔ان کو مکمل اختیارات سونپے جائیں۔“
”آپکو لگتا ہے پولیس والوں کا کام آسان ہے؟ بالکل آسان نہیں ہے۔ جب وہ سارا سارا دن اور رات گئے تک گھر سے باہر رہتے ہیں، بچوں کو وقت نہیں دے پاتے تو ان کے بچے بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ہم کہہ دیتے ہیں حرام مال کی سزا ہے یہ۔زیادتی کام اور اپنے بیوی بچوں سے دور رہنے سے وہ چڑچڑے ہو جاتے ہیں، بلڈ پریشر، ڈپریشن اور ذہنی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں، اور پھر ان کا یہ سارا غصہ بے چاری عوام پر نکلتا ہے۔“
”آپ اختیار مکمل طور پر پولیس کو دے دیں، اس محکمے کے بگڑے بچے یعنی کانسٹیبل کی تربیت اچھے طریق پر کر دیں، تو دیکھیے یہ ادارہ کیسے عوام کی آنکھوں کا تارہ بن جاتا ہے۔ اگر آپ نے پولیس کو آزادی سے کام کرنے کی اجازت دی ہوتی تو ایم۔پی۔اے صاحب کا فیصلہ عدالت کر رہی ہوتی۔ آپ نے پولیس کے ہاتھ باندھ دیے، مگر ایک با ضمیر پولیس افسر نے گوارہ نہیں کیا کہ عوام کے نمائندے عوام سے زیادتی کر کے بھی فرار پھریں…پولیس ان بیٹیوں کی عزت کی محافظ ہے اور آج حمزہ نے ایک بیٹی کے لیے انصاف کی جو جنگ لڑی ہے،وہ آنے والا ہر جوان جاری رکھے گا۔“
”مگر آ ج یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ آپ حمزہ جیسے افسر کو سراہ کر آنے والے پولیس افسروں کی حو صلہ افزائی کرتے ہیں، یا اس پر معطلی کا ٹھپہ لگا کرجبر کی حکمرانی کو جلا بخشتے ہیں۔“
”پولیس اکیلی کچھ نہیں کر سکتی۔ حکومت، انتطامیہ اور عدلیہ سب کو ایک پیج پر آنا پڑے گا۔۔۔عدل کے پیج پر‘کہ جرم جبر سے نہیں عدل سے ختم ہوتا ہے۔“ وہ خاموش ہو گئے اور سامنے بیٹھے رپورٹرز نے ان پر سوالات کی بچھاڑ کر دی تھی۔
”مطلب ایس ایس پی صاحب نے جان بوجھ کر عوام کو مشتعل کروایا؟“
”جب یہ واقعہ پیش آیا تو حمزہ تھانے میں ہی موجود تھے، ان کی آنکھوں کے سامنے عوام گیٹ سے اندر آئی۔ انہوں نے ان کو روکنے کا حکم کیوں نہیں صادر کیا؟“
”ان کی مرضی سے ثقلین کو قتل کیا گیا؟“
اور ان سب کے جواب میں آئی جی صاحب نے بس اتنا کہا تھا۔
”حمزہ اس قوم کی بیٹیوں کا مسیحا ہے، وہ اس قوم کا ہیرو ہے، اور قومیں اپنے ہیرو کے ساتھ ظلم نہیں ہونے دیتیں۔“
پریس کانفرنس کے ختم ہوتے ہی سوشل میڈیا پر ایک نئی کیمپین چل پڑی تھی۔لڑکیاں حمزہ کی حمایت میں پوسٹ کر رہی تھیں، لڑکے اس کو آئیڈیل مان رہے تھے۔کئی میڈیا گروپس نے حمزہ کا انٹرویو لینے کی کوشش کی تھی مگر اس نے منع کر دیا تھا۔
اگلے دن اس کی قسمت کا بھی فیصلہ آ گیا تھا۔ اسے معطل نہیں کیا گیا تھا مگر اس کا تبادلہ صوبے سے باہر کر دیا گیا تھا،عام الفاظ میں کہا جائے تو اسے صوبے سے باہر پھینک دیا گیا تھا، مگر اب وہ بھی مطمئن تھا۔ اتنا سکون اس نے اپنی سروس کے سو لہ سالوں میں محسوس نہیں کیا تھا جتنا آج تھا۔
وہ آدھ گھنٹہ پہلے ہی اسلام آباد آیا تھا۔اور اب ارہاب کو گود میں لیے ٹی وی کے سامنے بیٹھا تھا۔حمزہ کی تصویر بار بار ٹی وی پر دکھائی جا رہی تھی۔ جتنی بار اس کی تصویر اسکرین پر آتی ارہاب سر اٹھا کراسے دیکھتا اور پھر خوش ہوتا۔حیا کچن سے باہر نکلی تو ارہاب نے دونوں ہاتھ ماں کی طرف اٹھائے۔
”ماما…ماما..وہ بابا ہیں۔“ وہ ٹی وی کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ حمزہ نے اس کے گرد بازو باندھا اور حیا آ کر صوفے پر بیٹھ گئی۔ ”جی میری جان‘ وہ آپ کے بابا ہیں، آپ کے بابا ہیرو ہیں۔“ اس نے ارہاب کا گال تھپتھپایا۔
”میں بھی بابا بنوں گا۔“ ارہاب نے اپنے انداز میں پولیس جوائن کرنے کا عندیہ دیا اور حمزہ نے چونک کر حیا کو دیکھا۔ آج پہلی بار اس نے اپنے مستقبل کے بارے میں بات کی تھی اور وہ اپنے باپ کی طرح بننا چاہتا تھا۔
”بابا کی طرح بن کر کیا کرو گے؟“ حمزہ نے ا س سے پوچھا اور وہ باپ کی گود میں کھڑاہو گیاتھا۔
”میں سب کی پروٹیکشن کروں کا۔“ اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر حمزہ کو سلیوٹ کیا۔حیا نے بے ساختہ ارہاب کا گال چوما اور حمزہ نے اسے اپنے سینے میں چھپا لیا تھا۔ اس کی آنکھیں نم تھیں۔ اس کے بیٹے نے پولیس کا نام سن کر ہاتھوں سے پستول نہیں بنائی تھی،بلکہ وہ اس عمر میں بھی جانتا تھا کہ پولیس کا کام تحفظ فراہم کرنا ہے۔ حیا اور ارہاب کا تو پتا نہیں مگر آج حمزہ کو خود پر فخر ہوا تھا۔ وہ صرف اچھا پولیس افسر ہی نہیں…اچھا باپ بھی تھا۔ وہ اپنے بیٹے کا آئیڈیل بن گیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ ایک بہت بڑا ہال تھا۔ تا حد نگاہ لوگ بیٹھے تھے، یہ عام لوگ نہیں تھے، یہ سب اپنی فیلڈ میں کام کرنے والے دنیا کے ہر کونے سے آئے کامیاب لوگ تھے۔ ہال روشنی میں نہایا ہوا تھا۔ تقریب شروع ہوئے ایک گھنٹہ گزر چکا تھا۔ کئی لوگوں کو اپنی اپنی فیلڈ میں بہترین کام کرنے کا ایوارڈ مل چکا تھا۔اور اب ایک لڑکی روسٹرم کے دوسری طرف کھڑی حاضریں کی تالیاں تھمنے کا انتظار کر رہی تھی۔ اس کے سینے پر بائیں طرف چھوٹا سا سبز، سفید جھنڈا لگا تھا۔وہ سیاہ شلوار قمیص پر سرخ دوپٹہ گلے سے لگائے کھڑی پانچویں قطار کی پہلی نشست پر بیٹھے اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھی۔جو اسی کی طرح سیاہ شلوار قمیص میں ملبوس تھا اور اس کی گود میں اس کا بیٹا باپ کی طرح ہی ڈریسنگ کیے بیٹھا تھا۔دونوں ہاتھ اٹھا اٹھا کر تالیاں بجا رہے تھے۔تالیوں کو شور تھما، لڑکی نے مائیک منہ کے آگے سیٹ کیا۔ یوں لگا جیسے وہ پہلی بار اسٹیج پر کھڑی بول رہی ہے۔سامنے بیٹھے لوگ عام نہیں تھے‘ وہ دنیا کے کامیاب ترین لوگ تھے، اور ان کے رشتے دار تھے۔وہ چائینیز تھے، جاپانی تھے، امریکی، انڈین، انگلش، روسی، غرض ہر نیشنیلٹی کے لوگ تھے۔ دل کی دھڑکن بڑھی تواس نے اللہ کے ہاں سرگوشی کی۔
”اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے۔“ اس نے ہال کا جائزہ لیا۔
”اور میرے کام کو مجھ پر آسان کر دے۔“ وہ بہت لوگ تھے۔
” اور میری زبان کی گرہ بھی کھول دے‘ تا کہ لوگ میری بات اچھی طرح سمجھ سکیں۔“ حیا نے گہرا سانس لیا، مائیک کو ایک بار پھر اپنے سامنے سیٹ کیا اور اب کی بار مسکراتے ہوئے ایک نظر دائیں سے بائیں دور تک لگی کرسیوں پر دوڑائی اور پھر جب وہ بولی تو ہال میں سناٹا چھا تا چلاگیا۔
” میں کوئی سائیکالوجسٹ نہیں تھی..نہ ہوں…اور نہ ہی کوئی مقرر یا رائٹر تھی۔ میں عام لڑکی تھی….ہر لڑکی کی طرح عام۔“ وہ رکی اور مسکرائی۔ ”اور ہر لڑکے کی طرح عام۔“
”مجھے خاص ایک حادثے نے بنایا تھا۔“ پھر اس نے پانچویں قطار کی پہلی نشست پر بیٹھے اپنے ’حادثے‘ کو دیکھا،حادثے نے مسکرا کر سر کو خم دیا، ارہاب نے ماں کو اپنی طرف دیکھتے پا کر ہاتھ ہلایا اور وہ مسکراہٹ سمیٹتے ہوئے دوبارہ حاضرین کی طرف متوجہ ہو گئی۔
”اور آج میں اپنا سیکھا پانچ منٹ میں ان لوگوں تک پہنچاناچاہتی ہوں جو کسی بھی وجہ سے زندگی میں رک گئے ہیں۔ہم سب کی زندگی میں ایسے حادثے ہوتے ہیں کہ وہ بظاہر ہمیں گرا دیتے ہیں، توڑ دیتے ہیں۔وہ تکلیف ایسی ہوتی ہے کہ کسی نے سینے میں چھرا گھونپ دیا ہو، وہ تکلیف ایسی ہوتی ہے کہ آسمان گر گیا ہویا کسی نے دل مٹھی میں بھینچ کر ٹکڑے کر دیا ہو۔“ وہ سانس لیے بغیر انگریزی میں بولے جا رہی تھی۔
”لگتا ہے زندگی ختم ہو گئی ہے۔ہم ختم ہو گئے ہیں۔پھر خود کو دی جانے والی جسمانی اذیتیں بھی تکلیف نہیں دیتیں، پھر ان اذیتوں سے گزرے لوگوں کا بس جب کسی چیز پر نہیں چلتاتو وہ اس اذیت میں تڑپتے ہوئے خود کو مارتے ہیں۔بال نوچتے ہیں‘ چھری سے جسم کاٹتے ہیں کہ اند رسینے میں موجود دل کے کٹنے کی تکلیف بے پناہ ہوتی ہے۔“ ہال میں سنسنی پھیل گئی تھی۔
”میں ان تکلیفوں سے گزری ہوں‘ میرا شوہر ہر اذیت سے گزرا ہے۔“ اس نے اپنے شوہر کو دیکھا تو وہ دم سادھے اسے سن رہا تھا۔مگر آج پچھلے زخم ہرے نہیں ہوئے تھے۔
”ہمیں لگتا ہے ہم برے ہیں‘ ہم بد قسمت ہیں‘ تبھی ہم خود سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔لوگوں سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں۔ خود کو اپنے کمرے میں، گھر میں،اپنے وجود میں قید کر لیتے ہیں‘ ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں‘ زندگی جہنم ہو جاتی ہے‘ موت کی طلب بڑھ جاتی ہے۔“ وہ کہے جا رہی تھی اور لوگ سن رہے تھے۔
”مگر آج میں ہر ٹوٹے دل،ہر کھوئے ہوئے،ہارے ہوئے،تھکے ہوئے سے مخاطب ہوں۔سیلف کے یہ کچھ پوائنٹ میں رکھ رہی ہوں۔انکو اٹھا لو اور خود کو ایک بہترین انسان بنا لو۔“
”سب سے پہلا اصول ہے (identify yourself) خود کو پہچانو۔جانو تم کون ہو‘ تمہارا مقصد کیا ہے۔اللہ نے تمہیں کیوں بھیجا ہے؟ زمین پر موجود ایک درخت،ایک پہاڑ،ایک کیڑا بھی بوجھ نہیں ہے۔تو تم بے مقصد نہیں ہو سکتے۔خود کی تلاش میں نکلو۔کائنات میں دیکھو‘ اپنے دل میں جھانکو‘ سجدوں میں ڈھونڈو‘ رات کے تیسرے پہر ہاتھ اٹھاؤ۔جب تم میں خود کو جاننے کی طلب ہو گی تو اللہ تمہارے دل میں تمہارا مقصدضرور ڈ ال دے گا‘ وہ ضرور تم سے وہ کام لے لے گا جس کے لیے تمہیں پیدا کیا۔“ وہ سانس لینے کو رکی پھر آگے بولی.
”بی یور سیلف۔“
”جو ہو وہی رہو۔خود کو لوگوں کی دیکھا دیکھی مت بدلو۔ ڈونٹ ٹرائی ٹو بی سم ون ایلس، بکز ایوری باڈی ایلس از آ ل ریڈی ٹیکن۔(کسی اور کی طرح بننے کی کوشش مت کرو کیوں کہ وہ پہلے ہی لیا جا چکا ہے) اگر تمہارا رنگ کالا ہے تو بھی تم خوبصورت ہو‘ کالی رات کی طرح خوبصورت۔“
” اور بی یورسیلف کا اصول ہے کہ خود کا دوسروں سے موازنہ مت کرو۔اگر موٹیویشن چاہئیے تو اوپر والوں کو دیکھو اور اگر احساس کم تری ہو رہا ہے۔تکلیف ہو رہی ہے تو فوراً نیچے والوں سے موازنہ کرو۔ تمہارے پاس گاڑی نہیں ہے تو دیکھو کسی کے پاس سائیکل بھی نہیں ہے،تمہارے پاس بڑا گھر نہیں ہے کوئی فٹ پاتھ پر سو رہا ہے۔تمہارے پاس کھانے کو پیزا، برگر نہیں ہے تو کوئی کچرے سے کھا رہا ہے۔موازنہ کرنا ہی ہے تو نیچے والوں سے کرو تا کہ تم شکر گزار بن سکو۔“ حاضرین نے تالیاں بجائی تو وہ چپ ہو گئی۔ارہاب اب حمزہ کی گود میں اچھل اچھل کر تالیاں بجا رہا تھا۔
”ویلیو یورسیلف‘ خود کی قدر کرو۔“ اس نے تیسرا نقطہ سامنے رکھا۔
”جب تم خود کو جان جاؤ‘ تو اپنے آپ کو اہمیت دو، ویلیو دو…خود پر کام کرو…خود کو اپ گریڈ کرو‘ نئے ہنر سیکھو کہ مستقبل ڈگری کا نہیں‘ ہنر کا ہے۔میں کہتی ہوں، ہر لڑکا اور ہرلڑکی کو ایک ایسا ہنر ضرور آنا چاہئے کہ جب وہ چاہے اس سے پیسے بنا لے‘ پیسہ خوشی نہیں خرید سکتا لیکن پیسہ ضروریات کا سامان خرید سکتا ہے‘ کمانا مرد کا فرض ہے کہ اسے عورت پر فضیلت ہی اسی بنیاد پر دی گئی ہے کہ وہ اس پر اپنا مال خرچ کرتا ہے‘ لیکن میں ہماری بیٹیوں سے کہوں گی کمانا آپ کا بھی حق ہے۔آپ نے بھی ہنر سیکھنا ہے‘ کام کرنا ہے۔ اور میرا بیٹا اس سے اچھا کام کیا ہو گا کہ آپ خود کو ہر اس علم سے آراستہ کر لیں جو آپ کو ایک اچھا انسان اور ایک اچھی ماں بنا دے۔آپ سب نے خود کو بہتر سے بہتر بنانا ہے۔“
”ویلیو دینے کا دوسرا اصول ہے کہ کسی کو بھی اجازت مت دو کہ تم پر انگلی اٹھائے۔وہ تمہیں تکلیف دے،تمہیں ہرٹ کرے۔تمہارا مینٹل پیس خراب کرے۔اپنے گرد ہیلتھی باؤنڈری بنا لو۔ہر کسی کو یہ باؤنڈری پار مت کرنے دو اور زندگی میں ’نہ‘ کہنا سیکھو۔جب کوئی تمہیں تمہاری مرضی کے خلاف یا تمہاری مجبوری کا فائدہ اٹھا کر کوئی کام کروانا چاہتا ہو تو اسے ’نہ‘ کہہ دو۔نہ کہنا سیکھیں‘ کیونکہ دوسروں کو نہ کہہ کر آپ خود کو ہاں کہہ رہے ہوتے ہیں۔“ ہال میں پھر تالیاں گونجی اور آہستہ آہستہ تالیوں کی آواز دم توڑ گئی۔
”ایکسیپٹ یور سیلف۔“
” تم جیسے ہو خود کو قبول کرو۔قد چھوٹا ہے، رنگ کالا ہے،بہت لمبے ہو۔جو بھی ہے جیسے بھی ہے خود کو قبول کرو۔ کیونکہ لوگ تب ہی تمہیں قبول کریں گے۔جب تم خود کو قبول نہیں کرتے‘ تو لوگ تمہارا مزاق اڑاتے ہیں۔تم خود کو آج قبول کر لو۔اس حد تک قبول کر لو کہ جب کوئی تمہاری کسی کمی کا مزاق اڑائے تو اس اعتماد سے سر اٹھائے بیٹھے رہو کہ اسے لگے اس نے کچھ غلط بول دیا ہے۔“
”اور پھر فار گو یور سیلف‘ معاف کر دو خود کو۔“ اس نے معصومیت سے گزارش کی۔
”دوسروں سے معافیاں مانگتے ہو، لیکن کبھی خود کو معاف کیا ہے؟ خود سے معافی مانگی ہے؟ خود سے معافی مانگوہر اس مس ٹریٹمنٹ کے لیے جو تم نے لوگوں کو خود سے کرنے دیا۔ اور خود کو معاف کر دواگر تم نے کبھی کوئی غلط انسان چن لیا تھا‘ اگر تم وقت پر صحیح لوگوں کو ٹائم نہیں دے سکے تھے‘ اگر تم زندگی کا کوئی امتحان پاس نہیں کر سکے‘ اگر تم ڈاکٹر نہیں بن سکے‘ تم انجینیئر نہیں بن سکے‘ تم نے زندگی میں غلط فیصلے لے لیے‘ تم اچھے لوگوں کو نہیں پہچان سکے‘ تم نے کسی کو ہرٹ کر دیا….وقت گزر چکا….اب خود کو معاف کر دو پلیز۔دوسروں کی معافی کے لیے ضروری ہے کہ پہلے تم خود کو معاف کر دو۔ہر پچھتاوا پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ آؤ۔کوئی تمہیں تمہاری تکلیفوں سے نکالنے نہیں آئے گا‘ مگر تم خود اپنا بازو پکڑ خود کو باہر کھینچ لاؤ۔اپنا مسیحا خود بن جاؤ۔اپنا ہیرو خود بن جاؤ…..اپنی ہیرو خود بن جاؤ۔“ وہ سانس روکے بغیر بولتی چلی گئی۔ حاضرین تو گویا کسی اور دنیا میں پہنچ گئے تھے، جہاں ہر غم مٹ چکا تھا‘ زندگی بوجھ نہیں لگ رہی تھی‘ ان کے سینے ہلکے ہو گئی تھے‘ کندھوں پر لدھا فضول بوجھ گر گیا تھا۔
”لو یورسیلف۔“
”لو یور سیلف کا اصول ہے رسپیکٹ یور سیلف۔کوئی تمہاری تب تک عزت نہیں کرے گا جب تک تم اپنی عزت نہیں کرو گے۔وہ انسان کسی سے کیا محبت کرے گا جسے خود سے اپنی ذات سے ہی پیار نہیں ہے؟ ہم دوسروں سے محبت کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں خود کو اس کے آگے رول دیتے ہیں‘ گرا دیتے ہیں‘ تماشہ بنا دیتے ہیں۔پیارے لوگو! خود سے محبت کرو‘ دوسروں کے سامنے گرنا نہیں کھڑا ہونا ہے۔ڈونٹ لیٹ اینی باڈی ڈس رسپیکٹ یو۔ اور ہاں خود سے پیار کرنا خود غرضی نہیں ہوتا بلکہ لو یور سیلف کہتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ ساتھ اپنا بھی سوچو۔ “
”اور جب تم خود کو عزت دینا،ویلیو دینا سیکھ جاؤ گے تو تم دوسروں کو بھی یہ سب دے سکو گے اور پھر جب تم زند گی میں کسی مقام پر پہنچ جاؤ تو اپنے سے نیچے والوں کا ہاتھ تھام کر اوپر کھینچ لینا۔“
”مجھے عہد چاہئیے کہ ہم ہار نہیں مانیں گے‘ اپنے لیے لڑیں گے‘ اپنی پہچان بنائیں۔میں ان لوگوں سے امیوز نہیں ہوتی جو اپنے والد کی دولت، عزت اور شہرت شو آف کرتے ہیں۔اگر تم کچھ ہو تو اپنی کمائی دولت، عزت اور شہرت دکھاؤ۔مجھے بتاؤ تمہارا کیا ہے؟“
”پھر یاد رکھنا ہم وکٹم نہیں ہیں‘ ہم فائٹر ہیں‘ ہم لڑیں گے۔۔۔اپنی تکلیفوں سے، اپنے غموں سے۔“
” پیارے لوگو! وی آل ول رائز۔لیکن ضروری ہے کہ خود کو پہچان لو۔ہم عام نہیں ہیں‘ کوئی بھی عام نہیں ہے۔سب اپنی اپنی پسند کی فیلڈ میں آگے بڑھ آؤ،کچھ کر جاؤ۔تمہاری پہچان تمہارا خاندان،تمہارے ماں باپ،بہن بھائی نہیں ہیں۔اپنی پہچان تم خود ہو۔میں نہیں جانتی تم کس کے بیٹے ہو؟ کس کی بیٹی ہو؟ مجھے بتاؤ تم کون ہو؟ تمہاری کیا پہچان ہے؟ خود کو تلاشو‘ اپنی زندگی کا مقصد ڈھونڈو۔“
” آخر میں‘میں اپنے بارے میں کہوں گی میں نے اللہ سے مدد مانگی اس نے مجھے رستہ دکھایا‘ میں نے خود کو پہچانا۔میں آج یہاں کھڑی ہوں۔میں حیا نہیں ہوں‘ میں حمزہ کی بیوی نہیں ہوں‘ میں ارہاب کی ماں نہیں ہوں کہ یہ تو میرا نام ہے‘ میرے شوہر اور بیٹے سے میرا رشتہ ہے۔میں تو وہ دیا ہوں کہ جس نے ڈاکٹر ہارون جیسے سورج سے روشنی لی اور پھر کئی بجھتے چراغوں کو روشنی دیتی چلی گئی۔ میں وہ ہوں…جو نکلی ہے لوگوں کی زندگیاں سہل کرنے،ان کو ان سے ملوانے، مگر یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ لوگ بھی اپنے لیے قدم بڑھائیں گے۔میں رستہ دکھا سکتی ہوں منزل کا تعین کر کے قدم آپ کو خود بڑھانا ہے۔اور جو چراغ روشن ہوتے جائیں پھر ان کو عہد کرنا ہے کہ وہ اپنے آس پاس بجھتے اور چراغوں کو اپنی لو سے روشنی دیں گے۔ اور یہ سلسلہ آگے سے آگے چلتا جائے، یہاں تک کہ پوری دنیا پیار، محبت اور خودی کی روشنی سے منور ہو جائے۔“ پھر اس نے گردن تانی‘ نظر نے ایک لمحے میں پہلی کرسی سے آخری کرسی تک مسافت طے کی اور ہال نے اسے کہتے سنا۔
میں اچھی ہوں…میں بری ہوں
میں ولی ہوں…میں گناہگار ہوں
میں ہیرو ہوں….میں ہی ولن ہوں
میں شکست خوردہ ہوں…میں ہی فاتح ہوں
مجھ میں عیب ہیں…..میں غلطیاں کرتی ہوں
لیکن میں….میں ہوں
اور میں خود پر شرمندہ نہیں ہوں
میں تمہاری طرح بننا نہیں چاہتی
کہ تم…تم ہو، میں…..میں ہوں
میں تھک جاتی ہوں
میں ٹوٹ جاتی ہوں
میں بکھر جاتی ہوں
مگر ہر بار میں خود کو پہلے سے زیادہ خوبصورتی سے جوڑتی ہوں
میں کاپی نہیں ہوں، میں اوریجنل ہوں
میں…..میں ہوں
اور مجھے خود پر فخر ہے
ہاں میں…..میں ہوں
میں….میں ہوں
وہ مائیک سے ایک قدم پیچھے ہٹ گئی، بول بول کراس کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا اور پھر تالیاں بجی، ہاتھ اٹھا اٹھا کر تالیاں بجائی گئیں۔ اس نے دیکھا حمزہ ارہاب کو گود میں لیے کھڑا ہوچکا ہے‘ وہ تالیاں بجا رہا تھا‘ ارہاب تالیاں بجا رہا تھا‘ لوگ اب اپنی کرسیوں سے اٹھ کر تالیاں بجا رہے تھے۔وہ ہانپ رہی تھی‘
دل دھڑک رہا تھا‘ زبان شکر کے نغمے خدا کے حضور گنگنا رہی تھی۔کئی لمحے تالیاں بجتی رہیں۔وہ دم بہ خود کھڑی رہی۔
”مسز حیا‘آپکی باتیں سن کر ہم ٹرانس میں چلے گئے تھے‘ اور پتا ہی نہیں چلااتنا وقت گزر گیا۔“ اسٹیج کے دوسرے کونے سے میزبان کی آواز ابھری تو اس نے چونک کر دیکھا‘ مسکرائی اور با وقار سی قدم بڑھاتی ان کی طرف گئی اسے مہمان خصوصی سے اپنا ایوارڈ رسیو کرنا تھا۔ ایوارڈ تھامنے سے پہلے اس نے میزبان کو کچھ کہا تھا‘ مگر اس کا مائیک بند تھا اور حمزہ کو صرف اس کے لب ہلتے نظر آئے تھے۔میزبان حاضرین کو ٹٹولتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
”مسٹر حمزہ‘ آپکی بیوی آپکو اس لمحے اپنے ساتھ دیکھنا چاہتی ہیں‘ پلیز جوائن اس ایٹ دی اسٹیج۔“ مائیک خاموش ہوا اور حمزہ ارہاب کو گود میں لیے اسٹیج کی سیڑھیاں چڑھتا اوپر آگیا۔ارہاب کو گود سے اتار کر اس نے ایک ہاتھ حیا کی کمر میں ڈال کر اس کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔کیمروں کا فوکس یہ کپل تھا۔
یہاں سے دورلاہور میں شیری کے گھر پر دیکھو تو لاؤنج میں لگے ٹی وی کے سامنے شیری اور سمایا بیٹھے تھے۔ انکی آنکھوں میں چمک، خوشی اور فخر تھا۔ وہ حمزہ اور حیا کو دیکھ کر پھولے نہیں سما رہے تھے۔تبھی شیری نے فون نکال کے ایک میسج حمزہ کے لیے چھوڑا تھا۔
آج اس خوشی کے ساتھ، آپکا یہ بھائی ابا اور آپ تایا ابو بننے جا رہے ہیں۔“ ایک ہاتھ سے فون جیب میں ڈالتے ہوئے دوسرا ہاتھ اس نے صوفے پر پڑے سمایا کے ہاتھ پر رکھا۔
”میں اچھی پیرینٹنگ کے بارے میں کتابوں کا پورا سیٹ لایا ہوں‘ تاکہ ہم اپنے بچے کی بہت اچھی تربیت کر سکیں‘ لیکن بس ایک مسئلہ ہے۔“ اس نے توقف دیا، سمایان ے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا اور وہ معصومیت سے بولا۔
”وہ مجھے بابابلائے گا تو مجھے ہنسی آئے گی۔“ سمایا نے مصنوعی خفگی سے اس کے بازو پر ہاتھ مارا اور اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے اس کے کندھے سے سر ٹکا دیا۔ دونوں کی نظریں دوبارہ ٹی وی اسکرین پر تھی۔
یہاں سے چند میل دور ڈاکٹر ہارون لاہور میں اپنے انسٹیٹیوٹ کی کھلنے والی نئی برانچ کا افتتاح کر
رہے تھے اور ان کے پیچھے کھڑی ردابہ کا دھیان اس تقریب سے زیادہ یوٹیوب پر چلتی عالمی ایوارڈ کی تقریب پر تھا۔
وہ ایوارڈ رسیو کر چکی تھی اور اب مائیک حمزہ کے ہاتھ میں تھا۔
”آپ شاید یقین نہیں کریں‘میں نے آج پہلی بار اپنی بیوی کو یوں بولتے دیکھا ہے۔میں نے اسے کبھی سیشن دیتے نہیں دیکھا،مگر آج مجھے لگا میں دوبارہ پیدا ہوا ہوں۔مجھے دوبارہ خود کو پہچاننا ہے۔دوبارہ جینا ہے۔“ اسکی گرفت حیا پر مضبوط ہوتی گئی۔ارہاب دونوں کے آگے کھڑا اتنے لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔
”میں کبھی ڈھنگ سے کہہ نہیں پایا مگر آج کہنا چاہتا ہوں۔حیا تم وہ چراغ ہو جو کئی بجھے چراغوں کو روشنی دینے جا رہی ہو۔کئی زندہ لاشوں میں زندگی کی رمق بھرنے جا رہی ہو، اور حیا…..“ اس نے گردن موڑ کر حیا کو دیکھا جس کا چہرہ اتنی نظروں کی تپش سے سرخ پڑ رہا تھا۔وہ کچھ سیکنڈ اسے دیکھتا رہا، پھر اس نے جھک کر ارہاب کو گود میں اٹھایا۔
”تھینک یو فار گونگ می جونئیر حمزہ‘ تھینک یو فار بینگ ان مائی لائف‘ واقعی کچھ حادثے ہماری زندگی کو خوبصورت بنانے کے لیے رونما ہوتے ہیں اور ایسے حادثے کو ہم خوبصورت حادثہ کہتے ہیں۔“ پہلی بارحمزہ کی زبان اور آنکھوں سے بیک وقت اپنے لیے پیار امڈتا دیکھ کر حیا کی آنکھیں جھلملانے لگی تھیں، ا س سے پہلے کہ اس کی آنکھ سے کوئی آنسو باہر گرتا‘ حمزہ نے رخ حاضرین کی طرف موڑ لیا اور حیا نے جھٹ گرتے آنسو کو انگلی کی پور میں جز ب کر لیا۔ وہ حاضرین سے کہہ رہا تھا۔
”حیا میری زندگی ہے‘ ایک ایسا ساتھ ہے جسے میں کبھی نہیں کھونا چاہتا‘ شی از مائی ایوری تھنگ۔“ وہ رکا اور پھر حیا کی طرف مڑا۔
”حیا آئی لو یو۔“ حیا کا سرخ چہرہ اور دہکنے لگاتھا۔ہاں اسے ہمیشہ شکوہ رہتا تھا کہ حمزہ کے منہ سے وہ یہ تین جادوئی لفظ اس نے کبھی نہیں سنے مگر اس نے یوں بھی کہنے کو تو نہیں کہا تھا‘ وہ اس کے جواب کا منتظر تھا‘ کچھ دیر وہ کھڑی اسے تکتی رہی‘ پھر اپنا مائیک سامنے کیا اور شان نزاکت سے بولی۔ ”استغفراللہ۔“ اس نے پرشکوہ نگاہوں سے حیا کو دیکھا‘ ہال میں بیٹھے مسلمانوں نے قہقہہ لگایاتو وہ خود بھی ہنس دیا۔تبھی ارہاب باپ کہ مائیک پر جھکا۔
” استفراللہ۔“ ٹی وی کے سامنے سب نے قہقہے لگائے۔ہال میں ارہاب کے لیے تالیاں بجیں اور وہ شرمندہ سا باپ کے سینے میں گھس گیا۔
اب تم’حیا‘ کو یہیں چھوڑ کر جاؤ اپنی زندگی میں اور دیکھو کیا رکھا ہے کرنے کو اللہ نے تمہارے لیے!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ختم شد
نوٹ: کمنٹ سیکشن میں اپنا ریویو ضرور شئیر کریں۔
حیا کتاب خریدنے کے لیے ‘یہاں‘ کلک کریں۔

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!