Haya Novel By Fakhra Waheed Ep 3

Haya novel by Fakhra Waheed

جب وہ واپس آیا تو رات کا ایک بج رہاتھا۔ کھانا کھا کر وہ اوپر چلا آیا تھوڑی دیر وہ اپنے کمرے سے ملحق اسٹڈی روم میں بیٹھا رہا، پھر اٹھ کر باہر آگیاتھا۔ ریلنگ پر بازو ٹکائے، وہ لاؤنج کو دیکھ رہا تھا۔ ایک ہی سوال بار بار اس کے ذہن میں سر اٹھا رہا تھا۔
”میں نے اس لڑکی کے ساتھ غلط تو نہیں کر دیا؟“ وہ کمرے کی طرف مڑا اور ہاتھ بڑھا کر دروازہ اندر کو دھکیلا، منظر واضح ہوا اور حمزہ کاسر چکرا کر رہ گیا۔ یہ وہ کمرہ نہیں تھا جو وہ شام چھوڑ کر گیا تھا، دروازے سے زرا آگے ہی وہ صوفے پر اپنا دوپٹہ تانے لیٹی تھی۔ بی اماں سے اس نے یہ تو سنا تھا کہ وہ کچن سے لال مرچیں اوپر اٹھا لائی تھی۔ مگر جو حشر کمرے کا تھا وہ زیادہ پریشان کن تھا۔ وہ دو قدم اندر آیا۔ صوفے کے چاروں طرف کمرے کے مختلف کونوں سے اٹھائے ڈیکوریشن اسٹینڈ پڑے تھے جن پر بیڈ شیٹ کو باندھ کر باؤنڈری بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ وہ دو قدم اور اندر آیا۔ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے تمام پرفیومز اور لوشن وہاں سے اٹھا کر بیڈ کی چادر سے بنائی گئی باؤنڈری پر اس طرح رکھے گئے تھے کہ اگر کوئی اس باؤنڈری کو عبور کرنے کی کوشش کرے تو ان شیشیوں کے گرنے سے وہ جاگ جائے۔اسے اس لڑکی کی معصومیت پر واقعتا ہنسی آئی تھی۔ سر جھٹکتا وہ بیڈ کے دوسری طرف پڑی سیف کی طرف بڑھا، ٹراؤزر،شرٹ نکالی اور باتھ روم میں گھس گیا، ٹھیک پانچ منٹ بعد وہ سنگھار میز کے سامنے کھڑا بالوں میں ہاتھ مار رہا تھا۔ وہ بد ستور سوئی پڑی تھی، ہاں مگر منہ سے دوپٹہ سرک چکا تھا۔ حمزہ نے سائڈ میز سے لیپ ٹاپ اٹھایا اور بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر، لیپ ٹاپ سینے سے تھوڑا نیچے رکھے ای میل دیکھنے لگا۔آنکھ کے ایک کونے سے اس نے حیا کواس طرف کروٹ لیتے دیکھاتھا۔ لیکن وہ لیپ ٹاپ پر ہی جھکا رہا۔اس کمرے میں اسے اپنے علاوہ کسی اور کی موجودگی کی عادت نہیں تھی، اور اب اسے حیا کی موجودگی کا کچھ زیادہ ہی احساس ہو رہا تھا، ایک کھچاؤ تھا جو اس کے دل کو اس طرف کھینچ رہا تھا۔ اس نے ہاتھ سے جمائی روکی۔ وہ کل رات سے مسلسل جاگ رہا تھا اور اب مزید جاگے رہنا مشکل تھا تبھی اس نے لیپ ٹاپ کی اسکرین گراکر اسے دوبارہ میز پر رکھ دیا،اور بائیں بازو پر کروٹ لے کر لیٹ گیا۔ نیند سے سرخ آنکھیں حیا کے چہرے پر ٹک گئی تھیں، وہ پھر گزرے دن کے بارے میں سوچنے لگاتھا۔
اگر میں اسے بر وقت وہاں سے نکال نہ لاتا تو پتا نہیں اب یہ کہاں ہوتی۔گھروں سے یوں نکلی لڑکیوں کو کب کوئی اپناتا ہے؟ یہ بے چاریاں تو عزت کے نام پر ہی سولی چڑھا دی جاتی ہیں، گر معاف کر بھی دی جائیں تو خود ہی اپنے آپ کو قصور وار گردان کر موت کو گلے لگا لیتی ہیں۔
اور پھر وہ جھوٹی خبر…….. اس کا سر ایک بار پھر درد کرنے لگا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کل دن میں ہوئی بارش نے اب تک لاہور میں جل تھل کر رکھا تھا۔رات کی سیاہی بس سرکنے کو تھی۔ پاس مسجد سے فجر کی آذان بلند ہوئی تو حیا کی آنکھ کھلی۔آنکھیں کھل چکی تھیں مگر دماغ ابھی جگہ پہچاننے سے قاصر تھا، آنکھوں کے سامنے بیڈ پر کوئی لیٹا تھا۔ کھلتی، بند ہوتی آنکھوں سے وہ اسے پہچاننے کی کوشش کرتی رہی اور پھر جھپاکے سے کل کا دن کسی فلم کی ریل کی طرح آنکھوں کے سامنے چلنے لگا اور اتنی ہی سرعت سے وہ اٹھ بیٹھی۔ دوپٹے کو گلے میں پھیلایا۔ کشن کے نیچے سے اپنی حفاظت کے لیے بنائی گئی چلی اسپرے نکالی اور حمزہ کو دیکھتے ہوئے سکون کی سانس لی۔ وہ سو رہا تھا، ماتھے پرہلکے سلوٹ نمایاں تھے۔ آنکھوں کے نیچے کام کی زیادتی اور تھکن سے سیاہ ہلکے تھے۔ حیا نے اس سے نظر ہٹا کر اپنے گرد لگی باؤنڈری کو دیکھا اور پھر تفخرسے حمزہ کو دیکھا۔ اتنا سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی اس کا دماغ اتنا برق رفتاری سے چل رہا تھا، حیا کو حیرت ہوئی۔ مگر اسے کون بتائے، گر حمزہ اس تک آنا چاہتا تو یہ کپڑے کی بنی چار دیواری تو کیا وہ خود بھی نہ روک پاتی۔
بھاگنا تو اسے تھا ہی، اور موقع بھی میسر آگیا تھا۔وہ صوفے سے اتری،ایک نظرحمزہ کو دیکھااور دبے پاؤں دروازے کی طرف بڑھی۔ حمزہ کے اٹھ جانے کے خوف سے اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا، پیروں کی لغزش واضح تھی۔ اس نے لب کاٹتے ہوئے ایک بار پھر مڑ کر حمزہ کو دیکھا، وہ سویا پڑا تھا۔ رات کے سناٹے میں گر کچھ سنائی دے رہا تھا تو وہ اس کے اپنے دل کی دھڑکن تھی۔ اور یہ آنکھیں بند کرتے اس نے آہستہ سے ہینڈل پر ہاتھ گھمایا،وہ نہیں کھلا۔ حیا نے جلدی سے مڑ کر حمزہ کو دیکھا، پھر ہاتھ گھمایا، وہ نہیں کھولا۔ایک، دو، تین۔۔ وہ بار بار گھماتی رہی مگر وہ لاک رہا۔ اس نے دروازے کو اچھی طرح سے دیکھا۔ وہاں کوئی کی ہول نہیں تھا، جس سے دروازہ لاک ہو۔ پھر یہ دروازہ کیوں نہیں کھل رہا؟ اس کا دل اب سینے سے باہر آنے کو تھا۔اسے خوف کے مارے ٹھنڈے پسینے آرہے تھے۔ وہ پھنس گئی تھی، اپنی اوور سمارٹنس نے اسے پھنسا دیا تھا، اپنے گرد کپڑے کی چار دیواری بنا کر اسے کیا لگا تھا وہ محفوظ ہے؟ رہ رہ کر اسے اپنے آپ پر غصہ آ رہا تھا۔وہ ایک اجنبی کے گھر اور پھر کمرے میں یوں بے ہوش ہو کر کیسے سو سکتی تھی؟
”حیا کچھ کر، یہ دروازہ کوئی جادوئی تو ہے نہیں کہ منتر سے کھلے گا، کچھ تو ہو گا۔“ اس نے دوبارہ ہینڈل گھما کر دیکھا، پھر دروازے کو دیوار کے پاس سے ناخن ڈال کر کھولنے کی کوشش کی مگر سب بے سود رہا۔ وہ دو قدم پیچھے ہو کر بغور دروازے کو دیکھنے لگی، اس نے سر کو کھجاتے تمام ممکنات پر غور کیا۔ دماغ تو اس کا پہلے ہی عام روٹین سے زیادہ تیز چل رہا تھا اور موجودہ صورت حال کے پیش نظر اب وہ کسی ڈیٹیکٹو کی طرح ٹھوڑی پکڑے دروازے کو گھور رہی تھی۔
ہو سکتا ہے یہ دروازہ کسی ریموٹ سے کھلتا ہو؟ یا پھر آنکھ سے؟ یا فنگر پرنٹ سے؟ سی آئی ڈی کی تمام قسطیں ایک ساتھ اس کے دماغ میں گھومنے لگی تھیں۔اگر ریموٹ سے کھلتا ہے تو ریموٹ بھی یہیں کہیں ہونا چاہئے۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی حمزہ کے سر پر جا کھڑی ہوئی، کہاں ڈھونڈوں ریموٹ؟تھوک نگلتی وہ بیڈ کے پاس پڑے میز کی دراز پر جھکی۔زرا کی زرا نظر اس نے دوسری طرف کروٹ لیے پڑے حمزہ پر بھی ڈال لی۔دراز میں چند کاغذ پڑے تھے۔ حمزہ اپنی جگہ ہلا اور وہ فورا سیدھی کھڑی ہو گئی۔ تھوڑی دیر وہ سانس روکے کھڑی رہی، جب وہ یوں ہی ساکت سویا رہا تو اس نے دراز کو وہیں چھوڑا اور سنگھار میز کے پاس پڑی سیف کی طرف بڑھی۔ اب یہ لاک نہ ہو، دعا کرتے اس نے سیف کے پٹ کھولے اوروہ کھلتے چلے گئے۔ سکھ کا سانس لیتے اس نے مڑ کر حمزہ کو دیکھاا ور جلدی جلدی سیف میں ہاتھ چلانے لگی، ایک کے بعد ایک پورشن وہ کنگھالتی گئی، مگر وہاں سب کچھ تھا سوائے کسی ریمورٹ کے اور مزے کی بات یہ کہ وہاں سب کھلا پڑا تھا، چاہے وہ ضروری کاغذات ہوں یا کیش، سب کھلا پڑا تھا، گر سب کچھ کھلا پڑا تھا تو یہ دروازے کو لاک کرنے کی کیا موت پڑی تھی؟ اس نے انتہائی بدتمیزی سے مڑ کر حمزہ کو دیکھا۔ اب تو اسے یوں لگنے لگا تھا کہ شاید یہ دروازہ ریمورٹ کے بجائے فنگر پرنٹ یا آنکھ سے ہی کھلتا ہو گا۔ اگرفنگر پرنٹ سے کھلتا ہوا تو وہ حمزہ کی انگلی ہی کاٹ دے گی اور اگر آنکھ سے کھلتا ہوا تو آنکھ ہی نکال دے گی۔ وہ حقیقت سے کتنے پرے کے پلان بنا رہی تھی۔
”یقینا یہ آدمی بہت تیز ہے، اس نے دروازے پر کوئی ایسا لاک لگایا ہے کہ اندر کسی چیز پر لاک لگانے کی ضرورت ہی نہیں۔“ بڑبڑاتی ہوئی وہ بیڈ کی طرف آئی۔ ہو سکتا ہے ریموٹ اس کے تکیے کے نیچے ہو؟ یا ٹراؤزر میں؟ یہ آخری ممکنہ جگہیں تھی جہاں وہ ریموٹ کے ہونے کا سوچ سکتی تھی، تبھی سانس روکے وہ حمزہ کے سر پر جا کھڑی ہوئی۔ گلے میں گلٹی ڈوب کر ابھری۔ اس نے ایک نظر تکیے کو دیکھا، پھر حمزہ کو۔ اس کا ہاتھ اب حمزہ کے تکیے کی طرف بڑھا رہا تھا، وہ اس پر جھکی ہوئی تھی مگراس سے پہلے کے ہاتھ تکیے کو چھوتا،سائڈ ٹیبل پر رکھا الارم اپنے فل والیم پر بجنے لگا، اس اچانک آفت پر وہ ہڑبڑاکر پیچھے ہٹی۔الارم کی آواز پر حمزہ نے کروٹ بدلی اور بند آنکھوں سے ٹیبل پر ہاتھ مارا، مگر ہاتھ الارم کے بجائے کسی نرم چیزسے جا ٹکرایا۔اس نے فورا آنکھیں کھولیں۔اس کا ہاتھ ایک اور ہاتھ پر تھا، یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ حیا کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔جس سائڈ ٹیبل پر ایک ہاتھ رکھ کر وہ تکیہ اٹھانے جھکی تھی وہ ہاتھ اب حمزہ کے ہاتھ کے نیچے تھا۔
”تم یہاں کیا کر رہی ہو؟“ اس نے غصے سے حیا کو گھورا۔جو اب تک اپنا ہاتھ کھینچ چکی تھی۔
”وہ.. میں.. وہ۔“ اس کی زبان لڑکھڑا رہی تھی۔
”کہیں تم بھاگنے کا تونہیں سوچ رہی تھی۔“ حمزہ نے آنکھیں سکیڑی۔
”نن نن…نہیں۔“حمزہ بیڈ سے نیچے اترا،حیا ایک قدم پیچھے ہٹی۔
”تم بھاگنے کا سوچ رہی تھی۔“ وہ اب حیا کی طرف بڑھ رہا تھا۔
”خبردار جو میرے پاس آئے تم‘ میں چلاؤں گی۔“وہ پیچھے ہوتی ہوئی ڈریسنگ ٹیبل سے جا لگی۔
”میں نے تمہیں آرام سے سمجھایا تھا کہ بھاگنے کی کوشش مت کرنا۔ میں ایک بار کہتا ہوں بار بار نہیں۔“ وہ چلایا۔ چلانے کی ضرورت نہیں تھی لیکن وہ اسے ڈرانا چاہتا تھا۔وہ سہم گئی تھی۔ایک آنسو اس کی آنکھ سے نکل کر گال پر پھسلا تھا۔اب حمزہ اس کے سامنے کھڑا تھا۔
”مجھے ہاتھ مت لگانا۔“ آنکھیں زور سے بند کیے اس نے اور پیچھے ہونا چاہا لیکن پیچھے جگہ نہیں تھی،اس کا پاؤں سنگھار میز کے نیچے اٹکا اور وہ آگے کو حمزہ کی طرف گرنے لگی۔ حمزہ نے فورا اس کا کے کندھوں کو تھامتے سہارا دیا۔اب وہ اس کے بازؤں کے حصار میں، اس کے بہت قریب کھڑی تھی۔دونوں کی آنکھیں ایک لمحے کو ملیں، دل کی رفتار تیز ہوئی۔ یہ لڑکی جب اس کے پاس آتی تھی وہ اپنے سینے میں عجیب سی ہل چل محسوس کرتا تھا۔ اور پھر حیا کے وجود سے اٹھتی خوشبو اسے اپنے سحر میں جکڑنے لگتی تھی۔
”میرا…. بازو۔“ نسوانی آواز پر وہ ہوش میں آیا۔
”ہاں؟“
”میرا بازودرد کر رہا ہے۔“وہ منمنائی تو حمزہ ہوش میں آیا۔اس کے بازؤں سے ہاتھ ہٹاتے وہ پیچھے ہواتھا۔ اور انگلی اٹھا کر اسے دھمکی دی۔
”دوبارہ اگر تم نے بھاگنے کی کوشش کی تو خود تمہیں دوبارہ وہیں چھوڑ آؤں گا، سمجھی؟“
”جا کر نماز پڑھو، اور اللہ کا شکر ادا کرو، اس نے تمہیں ان ظالموں کے چنگل سے بچایاہے، ورنہ جانے کیا حشر ہو چکا ہوتا تمہارا۔“ وہ سختی سے کہتے ہوئے پیچھے ہوا تھا۔
اب اسے اپنا حیا کے قریب رکھنا بھی مشکل لگ رہا تھا تبھی وہ اپنا فون بیڈ سے اٹھاتے باہر نکل گیا۔ حیا وہیں ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑی کھلا دروازہ دیکھتی رہی، کچھ بھی تو نہیں کیا تھا اس نے،نہ ریموٹ کا بٹن دبایا۔نہ کہیں فنگر پرنٹ لگایا۔ پھر دروازہ کیسے کھل گیا؟ وہ حیران کھڑی رہی تھی۔
”بیٹی‘ ناشتہ کرلو۔“ وہ ابھی نیچے آئی تھی اور اسے دیکھتے ہی بی اماں نے اسے کھانے کی دعوت دی۔بھوک توا سے لگ رہی تھی، مگر یہاں سے نکلنا زیادہ ضروری تھا، وہ چوکنی سی گھر کا جائزہ لینے لگی۔بیرونی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی دائیں طرف کچن تھا، جو ایک ریکٹینگل کے ذریعے لاونج میں کھل رہا تھا۔ بائیں طرف لاؤنج تھا جس میں نئی طرز کے صوفے لگے تھے۔ سامنے تین کمرے بالترتیب بنے ہوئے تھے۔ اور داہنے کمرے کے ساتھ ہی سیڑھیاں اوپر حمزہ کے کمرے کو جاتی تھیں۔ اسے یوں ادھر ادھر دیکھتے پا کر بی اماں نے اسے مخاطب کیا۔
”بی بی جی‘ آپ کو کچھ چاہئے؟“
”نن….نہیں….نہیں تو۔“ اس نے چائے کا کپ ہونٹوں سے لگایا۔
”آپ گھر پر اکیلی رہتی ہیں؟“ حیا نے براہ راست گھر والوں کے متعلق پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔
”ہاں‘میں اور حمزہ صاحب ہی یہاں رہتے ہیں۔ وہ خود تو زیادہ تر باہر ہی ہوتے ہیں، ہاں! ان کے دوست آ جاتے ہیں تو رونق لگ جاتی ہے۔“ وہ تفصیل سے بتانے لگی۔
”تو اب یہ کب آئے گا؟“
”کون؟“
”یہ…..میرامطلب….حمزہ…….حمزہ صاحب ۔“حیا نے اٹکتے ہوئے پوچھا۔
”وہ ہ ہ……وہ تو اب رات گئے آئیں تو آئیں‘ ورنہ ہفتے بھر تک نہیں آتے۔“
”اوہ۔“ اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ مگر پھر مصنوعی شکل بناتے افسوس کیا۔ ”بہت کام ہوتا ہو گا نا۔“
”بس‘صاحب کی نوکری ہی کچھ ایسی ہے۔“ بی اماں نے وضاحت کی مگر حیا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کا دماغ اب شالیمار ایکسپریس کی سی رفتار سے چل رہا تھا۔ قسمت نے اسے بھاگنے کا ایک اور موقع دیا تھا۔لیکن اس نے سوچ لیا تھا وہ اب جذبات میں آ کر فوراً کوئی قدم نہیں اٹھائے گی بلکہ آج کی رات وہ انتظار کرے گی، اگر حمزہ آج نہیں آیا، تو وہ کل صبح یہاں سے بھاگ نکلے گی۔ کیونکہ اس بار اگر وہ پکڑی گئی، تو حمزہ اسے کسی صورت نہیں بخشے گا۔رہی بات بی اماں کی تو دیکھنے میں تو وہ سیدھی تھیں،لیکنوہ حیا پر پوری نظر رکھے ہوئے تھیں۔ ناشتہ کرتے ہوئے حیا نے سارا منصوبہ بنایا اور تھکاوٹ کا کہہ کر اوپر چلی گئی۔اسے اب تک دروازہ کھولنے کی تکنیک معلوم نہیں تھی،اور وہ کسی قسم کا رسک نہیں لینا چاہتی تھی۔ تبھی اس نے دروازہ احتیاطا کھلا چھوڑ دیاتھا۔کمرہ یوں ہی بے ترتیب پڑا تھا۔حیا نے ایک رات میں ہی کمرے کا حشر بگاڑ دیا تھا۔ کمرے کو دیکھ کر اسے ایک لمحے کو برا لگا مگر پھر آنکھوں میں زہر امڈ آیا۔
”اس نے میرے ساتھ جو کیا ہے نا،اس کے بعد یہ دھوکے بعض یہ ہی ڈیزرو کرتا ہے۔“اسے اپنا اور حمزہ کا نکاح یاد آگیا تھا۔
”میرے بابا میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔“ اس نے خود سے سرگوشی کی، اور پھر یہ سرگوشی سسکیوں میں بدل گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
روتے روتے وہ سو گئی تھی، اور جب اٹھی تو شام کے چار بج رہے تھے۔ یہ شاید ان دنوں کی تھکاوٹ کا نتیجہ تھا کہ وہ سونے کو لیٹتی تو گھنٹوں بے خبر پڑی سوتی رہتی۔فریش ہو کر وہ نیچے گئی۔ابھی اس نے لاؤنج میں قدم رکھا ہی تھاکہ سامنے حمزہ کو ٹی وی ریموٹ سے چینل بدلتے دیکھا۔پہلے تو وہ حیران ہوئی اور پھر حیرانگی غصے میں بدل گئی۔
”ایک دن نہ آتا تو کیا تھا؟ میری زندگی عذاب کر کے خود آرام سے ٹی وی دیکھ رہا ہے۔ کیا اب میں اس قید سے کبھی آزاد نہیں ہو پاؤں گی؟“ وہ اس عالیشان بنگلے کو قید خانہ کہہ رہی تھی۔
”رکو۔“ وہ جانے کے لیے واپس مڑی تو حمزہ کی آواز نے اس کے قدم روک لیے، وہ رکی لیکن مڑی نہیں اور جب وہ چند سیکنڈ نہیں مڑی تو وہ پیچھے سے تحکمانہ انداز میں بولا۔
”تمہیں ہی بلا رہا ہوں۔“ حیا منہ بناتے ہوئے پیچھے مڑی،اس کے چہرے پرنا گواری تھی۔
”تمہارے لیے کچھ کپڑے لینے جانا ہے، تیار ہو جاؤ۔“ وہ نظریں ٹی وی پر مذکور کیے بولا۔
”تمہیں مجھ پر مہربان ہونے کی ضرورت نہیں۔میں ان کپڑوں میں ہی ٹھیک ہوں۔“ وہ اسے دیکھنا بھی گوارا نہیں کر رہی تھی۔ حمزہ نے ریمورٹ صوفے پر ایک طرف اچھالا اور اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
”میں نے تمہاری رائے نہیں مانگی،تیار ہو جاؤ ہم جا رہے ہیں۔“
”میں کسی کے ساتھ بھی منہ اٹھا کر نہیں جاؤں گی۔“
”نکاح کے نام پر یہاں قید کر کے رکھا ہوا ہے مجھے۔ میرے بابا کتنا پریشان ہوں گے۔ تم میں اور ان میں کوئی فرق نہیں۔ وہ بغیر نکاح کے مجھے نوچنا چاہتے تھے اور تم نکاح کا سہارا لے کر میرا فائدہ اٹھانا چاہتے ہو۔“ جب حمزہ کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تو وہ پیچھے سے چلائی۔
”حیا‘میں فریش ہو کر آتا ہوں‘تم ریڈی ہو جاؤ‘ کل ہمارا ریسیپشن ہے‘بہت سی تیاریاں کرنی ہیں۔“وہ پرسکون لہجے میں بولا۔
”کس چیز کا ریسیپشن؟“وہ اس کی ڈھٹائی پر تلملا اٹھی تھی۔
”ہماری شادی کا۔“ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے وہ اسی سکون سے بولا تھا۔
”یہ نکاح میری مرضی سے نہیں ہوا۔ تم زبردستی مجھے یہاں نہیں رکھ سکتے۔“ وہ یہاں سے فرار کی راہ ڈھونڈ رہی تھی اور یہ شخص ان کے نکاح کا ڈھول پیٹنا چاہتا تھا۔حیا کو اپنے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہوا۔ حمزہ حیا کی طرف بڑھا، اس نے داہنے ہاتھ سے حیا کا بازو پکڑا۔ گرفت سخت تھی۔ حیا کو اس کی انگلیاں اپنے بازو میں دھنستی محسوس ہوئی۔
”تمہارے لیے یہ ہی بہتر ہے کہ جب میں ایک بار کچھ کہوں تو تم بغیر کسی چوں چراں مان لو۔ مجھے بار بار کہنا بالکل پسند نہیں۔“ اس نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا۔
”تم اگر یہ سمجھتے ہو کہ یہاں اپنے گھر میں رکھ کر مجھ پر احسان کر رہے ہو تو بھول ہے تمہاری۔ مجھے یہاں نہیں رہنا‘مجھے میرے گھر جانا ہے۔“ وہ مسلسل اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔
”تمہارے گھر والے کسی ایسی لڑکی کو کبھی قبول نہیں کریں گے جو ہفتہ گھر سے غائب رہی ہو۔ تمہاری گمشدگی کی کوئی رپورٹ تک درج نہیں کروائی گئی‘ یقیناً بدنامی کے خوف سے۔“ آواز دھیمی مگر لہجہ سخت تھا۔
”میں بھاگ جاؤں گی‘ میرے بابا مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں‘وہ مجھے سمجھیں گے۔“ وہ رو دینے کو تھی۔
”اب کوشش بھی مت کرنا یہاں سے بھاگنے کی اور مارکیٹ میں اگر تم نے کوئی ہوشیاری کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔“ اس نے انگلی اٹھا کر حیا کو تنبیہ کی۔
”پانچ منٹ میں باہر آجاؤ…بس پانچ منٹ۔“ اس نے ہاتھ اٹھا کر پانچ انگلیاں دکھائی اور جھٹکے سے حیا کا بازو چھوڑ کر باہر نکل گیا۔
حیا بہت کچھ کہنا چاہتی تھی‘رونا چاہتی تھی‘ چلانا چاہتی تھی لیکن اسے حمزہ پر بھروسہ نہیں تھا۔ وہ شیر کی کچھار میں رہ کر اسے چھیڑنا نہیں چاہتی تھی۔ وہ اس کے ساتھ اس گھر میں خود کو غیر محفوظ سمجھتی تھی، تبھی نہ چاہتے ہوئے بھی بادل نا خواستہ اس کے ساتھ چلی گئی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
علی کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا یہ شادی کن حالات میں ہوئی۔علی اور حمزہ پولیس اکیڈمی کے زمانے سے دوست تھے۔حمزہ کا تعلق پنجاب، اور علی کا سندھ سے تھا۔اسلام آباد اکیڈمی سے نو ماہ کی ٹریننگ حاصل کرنے کے بعددونوں کی اپنے صوبے کو چھوڑ کر کسی اور صوبے میں تعیناتی ہونی تھی اور حمزہ نے اس کے لیے خیبر پختونخوا کا انتخاب کیا تھا،جبکہ علی کو لاہور دیکھنے کا ہمیشہ سے اشتیاق رہا تھا تو اس نے اپنی خدمات کے لیے لاہور کو چنا تھا۔حمزہ جب پشاور سے ایس پی کا رینک لے کر لاہور آیا تو علی تب بھی یہاں اے ایس پی کی خدمات سر انجام دے آرہا تھا۔اب ایک ہی شہر میں ہونے کی وجہ سے دونوں کی دوستی اور بڑھ گئی تھی، علی کی شادی سے پہلے تک وہ حمزہ کے ساتھ اس کے گھر پر ہی رہتا تھا۔ان تین سالوں میں اس نے حمزہ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو قریب سے جانا تھا۔حمزہ اسے بھائیوں کی طرح عزیز تھا، اور یوں ہی علی حمزہ کے لیے تھا۔
اسی بھائی چارے کے پیش نظر اب ریسیپشن کے تمام تر انتظامات علی ہی کے سپرد تھے۔مہمانوں کی فہرست بنانے سے، ان کو دعوت نامہ بھیجنے تک اور پھر سجاوٹ سے لے کر کھانے کے مینیو تک تمام کام وہ اپنی زیر نگرانی کروا رہا تھا۔لان کولڑکوں نے رنگ برنگے برقی قمقموں سے سجایا تھا۔لان میں ایک طرف گول میز اور کرسیاں لگی تھیں،او ردوسری کھانے کا انتظام تھا۔لان کے اختتام پر، عقبی دروازے سے پہلے زمین سے چند انچ اونچا اسٹیج بنایا گیا تھا۔جسکو گلابی اور کالے رنگ کے بڑے بڑے مصنوعی پھولوں سے سجایا گیا تھا۔
اسٹیج کے وسط میں دلہا، دلہن کے لیے جدید طرز کی د و کرسیاں لگی تھیں جن کے آس پاس مہمانوں کے لیے دو،دو کرسیاں لگائی گئیں تھیں۔
”سر‘ایک بات پوچھوں؟“ اسٹیج پر دلہا دلہن کے لیے قد آور کرسیاں لگاتے ہوئے شیری نے علی کو مخاطب کیاتھا۔
”تم کب سے پوچھ کر بات کرنے لگے، تمہیں تو عادت ہے کہیں بھی کچھ بھی بولنے کی۔“ فوٹو بوتھ پر فریم سیٹ کرتے شیروان نے اس پر آواز کسی،توسب کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ان کی نوک جھونک معمول تھا اور ان سب کے انٹرٹینمنٹ کا سبب بھی۔
”تم چپ رہو۔“ شیری نے شیروان کو مصنوعی غصے سے ڈانٹا۔
”سر اچانک یہ شادی……بھابھی…….ریسیپشن…..کیوں؟“یہ سوال وہاں موجود پورے اسکواڈ کے ذہن میں تھا مگر کوئی بھی حمزہ کی ذاتی زندگی کے بارے میں کھوج لگانے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔تو یہ فریضہ شیری نے ہی ادا کیا۔ علی نے مہمانوں کی فہرست سے سر اٹھا کر شیری کو دیکھا پھر باقی لڑکوں کو، وہ بظاہر انجان بنے ہوئے تھے۔پھر علی نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکائے۔
”بھئی باس کی مرضی۔“ شیری اس کے اس سیاسی بیان پر سر ہلاتے ہوئے مسکرایا۔
”بائی دی وے سر‘ آپکو کیا لگتا ہے؟ حمزہ سر کی یہ ارینج میرج ہے یا لو میرج؟“ شیری نے ایک اور سوال داغا۔علی نے شیری کو یوں دیکھا جیسے وہ کوئی عجوبہ ہو، یہ سوال تو بنتا ہی نہیں تھا، مگر اب وہ پوچھ چکا تھا تو جواب دینا ضروری ٹھہرا۔ لڑکوں نے اپنی مسکراہٹیں چھپاتے ایک دوسرے کواشارہ کیا، کان اب سب کے اسی طرف لگے تھے۔علی نے ایک نظر آس پاس مختلف کام نمٹاتے لڑکوں کو دیکھا۔
”ارینج، پیورلی ارینج۔“ جانتا تھا، سب کو حمزہ کی اس اچانک ہو جانے والی شادی میں دلچسپی ہے تبھی اس نے قدرے اونچا کہا کہ آواز علی کے سامنے اسٹیج پر کھڑے شیری سے لے کر دوسرے کونے میں کھڑے شیروان تک پہنچ جائے۔
”ویسے سر سوچیں اگر یہ لو میرج ہوتی تو حمزہ سر کو بھابھی نے کہاں دیکھا ہو تا؟ کسی فٹ پاتھ پر بھیک مانگتے ہوئے‘ یا پھر کچرہ کنڈی سے کچرہ چنتے‘ یاخواجہ سراؤں کے ساتھ ناچتے ہوئے؟“ شیری نے معصومیت سے گیسٹ لسٹ چیک کرتے علی کو دیکھا۔لان میں قہقہے بلند ہوئے۔لیکن شیری ہمیشہ کی طرح معصوم شکل لیے کھڑا رہا۔بات شیری کی سو فیصد سچ ہی تھی، پچھلے تین سال سے کچھ ایسے ہی حالات تھے کہ وہ زیادہ تر اپنے اصل حلیے کے بجائے دوسروں کا روپ ہی دھارے ہوتے تھے۔لیکن اب حمزہ نے کوئی قدم اٹھا ہی لیا تھا تو اس کا مذاق تھوڑی نہ بنانا تھا،تو علی نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے اسے گھورا۔
”ہو گیا؟ اب جاؤ دیکھو مینیو سب سیٹ ہے۔“
”سر جو بھی ہے، ہم سب حمزہ سر کے لیے بہت خوش ہیں۔“ تقریباً سب کام نمٹ چکا تھا۔ سارے لڑکے وہیں علی کے گرد جمع ہو گئے تھے۔
”بات تو خوشی کی ہی ہے،بس دعا کرنا اللہ اس فیصلے کو حمزہ کے حق میں بہتر کرے۔“
”آمین۔“ سب نے یکے بعد دیگرے کہا۔
علی کو حمزہ کا یہ فیصلہ بھایا تو نہیں تھا، مگر وہ خاموش تھا۔حمزہ پہلے ہی اس فیصلے کو لیکر کنفیوز تھا اور اب علی اسے اور اپ سیٹ نہیں کر نا چاہتا تھا۔
تراب نے علی سے اجازت چاہی،جبکہ شیری، شیروان اور زویان جلدی جلدی اپنا سامان سمیٹنے لگے۔قریبا پندرہ منٹ بعد سجاوٹ کا تمام کام نمٹ چکا تھا۔ اور وہ سب کچرہ سمیٹ کر اندر چلے گئے۔ لان کے تو رنگ ہی بدل گئے تھے۔ اگر یہ دوست مل کر ایک ایونٹ آرگنائزنگ کمپنی کھول لیتے تو بھوکے نہ مرتے!

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!