Haya novel by Fakhra Waheed ep 7

Haya novel by Fakhra Waheed

کھانا آتے اور پھر کھانے میں گیارہ بج ہی گئے تھے۔سمایا، عنایا، شیروان اور زویان گھر کے لیے نکل گئے تھے جبکہ شیری آج یہیں رکا تھا۔ حیا کافی دیر پہلے اوپر کمرے میں چلی گئی تھی۔ حمزہ اسٹڈی روم میں تھا۔
ساڑھے بارہ کے قریب حمزہ اپنے کمرے میں گیا۔ حیا صوفے پر بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ کمرے میں اندھیرا تھا۔ سامنے حمزہ کی تصویر کے نیچے اور بہت سی تصاویر نائلون کی تار میں ڈال کر لٹکائی ہوئی تھیں اور ان پر ایل ای ڈی لائٹس کو لپیٹا گیا تھا۔ جو مختلف رنگوں میں جل بجھ رہی تھیں۔ حمزہ کو کمرے کا ماحول کافی پر سکون محسوس ہوا تھا۔
”یہ تم نے کیا ہے؟“ حمزہ نے صوفے پر بیٹھی حیا سے پوچھا۔
”م…..میں…..بور ہو رہی تھی تو…“ حیا نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
”اٹس نائس۔“ حمزہ بیڈ کی طرف بڑھا‘ بلیزر اتار کر بیڈ پر گرایا‘ ؎ وہ سیف کی طرف بڑھنے لگا تھا کہ اچانک دیوار پر لگی تصویروں کی طرف مڑا۔ ایک تصویر پر ہاتھ رکھ کر چند لمحے کھڑا رہا۔
”یہ تصویریں۔“ وہ آہستہ سے بڑبڑایا۔ اس کی آنکھون مین سرخ دھاریاں ابھرنے لگی تھیں۔ وہ پانچ چھ مختلف تصویریں تھیں۔ حمزہ نے ایک ہاتھ ماتھے پر رکھتے گہرا سانس لیا۔
”ہاؤ ڈئیر یو؟“ کمرے کی پرسکون خاموشی میں حمزہ کی کرخت آواز نے انتشار پیدا کیا تھا۔ حیا اس کے اچانک چیخنے پر کھڑی ہو گئی تھی۔
”تمہاری ہمت کیسے ہوئی ان تصویروں کو نکال کر یہاں لگانے کی؟“ وہ دوبارہ چلایا۔
”و..وہ….م…میں۔“ حیا ایسے ری ایکشن کے لیے تیار نہیں تھی۔ وہ لمبے ڈگ بھرتا حیا کی طرف بڑھا۔ حیا پیچھے ہونا چاہتی تھی لیکن پیچھے صوفہ تھا۔ حمزہ نے اس کے گالوں کو اپنی انگلیوں کے بیچ دبایا۔
”کیا سوچ کر یہ تصویریں یہاں لگائی تم نے؟ تم دکھانا چاہتی ہو کہ میں ظالم ہوں؟ قاتل ہوں میں؟ یہ ہی دکھانا چاہتی ہو نا تم؟“
”نن…نن۔“حیا کے منہ سے بمشکل دو حرف نکلے۔
”تم مجھے بتانا چاہتی ہو کہ میں نے ان کو مارا ہے….ہاں؟“ وہ اپنی انگلیاں اس کے گالوں پر دباتے سے پیچھے کو دھکیلتا جا رہا تھا۔حیا خود کو چھڑوانے کی کوشش کرتے اس کے ہاتھوں کی گرفت میں مچل رہی تھی۔
”م..میں…“ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر حمزہ آپے سے باہر تھا‘ اس نے حیا کو پیچھے صوفے پر دھکیلا‘ وہ پاگل ہو رہا تھا۔ صوفے کے سامنے میز پر رکھا گلدان حمزہ نے ہاتھ مار کر نیچے گرا دیا تھا۔ رات کے سناٹے میں آواز گونجی تھی اور یہ گونج نیچے شیری تک بھی گئی تھی۔
شیری سونے کی کوشش کر رہا تھا جب وہ کسی چیز کے ٹوٹنے کی آواز سن کر اوپر آیا تھا۔ شیری نے لائٹ آن کر دی تھی۔ سامنے کا منظر اس کے لیے شاکنگ تھا۔ حیا کا بازو ایک بار پھر حمزہ کی گرفت میں تھا۔ آنکھیں غصے سے سرخ پڑتی جا رہی تھیں۔ شیری کو وہ انتہاء خوفناک لگا تھا۔
”میری زندگی جہنم ہو گئی ہے‘ روز روز ایک ہی چیز……روز یہ ہی تماشہ۔“ وہ چیخے جا رہا تھااور حیا اس کے ہاتھوں میں مچلے جا رہی تھی۔
”تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی ان تصویروں کو ہاتھ لگانے کی، ان کو یہاں…یہاں…اس دیوار پر میرے سامنے لگانے کی۔“ وہ پھولے تنفس کے ساتھ حیا کے بازو نوچتے اسے جسمانی تکلیف پہنچا رہا تھا۔ حیا کی آنکھیں خوف سے پھٹی ہوئی تھیں۔ اب تو وہ کچھ کہنے کو لب بھی نہیں کھول رہی تھی۔ آنسو اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔ شیری کے لیے یہ منظر کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا۔
”حمزہ سر کیا ہو گیا ہے آپکو؟“شیری نے اسے کندھے سے پکڑ کر پیچھے کھینچنا چاہا۔
”پاگل ہو گیا ہوں میں۔“ وہ شیری کو پیچھے دھکیلتے ہوئے چلایااور مڑ کر دیوار پر لگی تصویروں کھینچنے لگا۔ شیری ہونقوں کی طرح حمزہ کو کمرے میں ادھر سے ادھر جاتے دیکھ رہا تھا‘حمزہ سر ایسے نہیں ہے‘ وہ بالکل ایسے نہیں ہے۔ شیری کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔
”دوبارہ اس کمرے میں میں تمہاری شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتا۔“ حمزہ نے حیا کا بازو پکڑ کر باہر کی طرف دھکا دیا۔
”سر آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟“ شیری نے آگے بڑھ کر گرتی حیا کو سہارا دیا۔”بیوی ہیں یہ آپکی۔“ شیری کا لہجہ حمزہ کے ساتھ تلخ ہو گیا تھا۔
”کوئی بیوی نہیں ہے میری…..اتنی تمہیں اس کی پرواہ ہے نا تو جاؤ…..تم بھی جاؤ‘سب جاؤ‘ آئی ڈونٹ وانٹ اینی ون۔“آخری جملے کے ایک ایک لفظ پر زور دیتے وہ چلایا۔ اس کی آنکھوں کی نفرت شعلہ بن کر شیری کی حمزہ کے لیے محبت کو جھلسا رہی تھی۔ وہ حیا کو لے کر نیچے چلا گیا۔ اب ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی ہر شیشی فرش پر بکھری پڑی تھی۔وہ سب کچھ توڑ چکا تھا۔ توڑ رہا تھا۔ پرفیوم کی شیشیاں، سامنے پڑے گلدان سب کچھ ریزہ ریزہ تھا اور ہاں اسی میں کہیں شیری کا دل بھی ٹوٹا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”میری بات تو سنو۔“ وہ پچھلے پندرہ منٹ سے اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
”مجھے نہیں سننی تمہاری کوئی بھی بات۔“وہ خفا تھی۔
”یار میں مصروف تھا۔“ وہ واقعی مصروف تھا۔
”ہاں تو رہو مصروف۔“وہ اسے پیچھے چھوڑ کر آگے چلی گئی تھی۔
”اتنا ہینڈسم لڑکا تمہارے پیچھے پیچھے یوں مال میں پھرے تمہیں اچھا لگے گا؟“ اس نے پیچھے سے ہی آواز لگائی۔ اسے یوں لوگوں میں رانیہ کے پیچھے جانا عجیب لگ رہا تھا۔ سب ان کو ہی دیکھ رہے تھے۔
”تو کس نے کہا ہے‘اتنے ہینڈسم لڑکے سے کہ وہ میرے پیچھے آئے؟“اس نے مڑے بغیر کہا۔ وہ کاسمیٹکس کی دکان میں داخل ہو گئی تھی۔
”میں کل چلا جاؤں گا۔“ اس نے رانیہ کو منانے کی آخری کوشش کی تھی۔ وہ واپس آئی، اس نے سن لیا تھا۔خفگی بڑھ گئی تھی۔
”اگر تمہیں جانا ہی تھا تو آئے کیوں تھے؟“ وہ اب اس کے سامنے کھڑی تھی۔
”تمہاری یاد آرہی تھی۔“ وہ اسے اب بھی منانے کی کوشش کر رہا تھا۔
”جھوٹ‘ اگر یاد آرہی ہوتی تو تم میرے میسجز کا جواب دیتے۔ میری کالز پک کرتے۔ یوں جا کر مجھے بھول نہیں جاتے۔“وہ بالکل رو دینے کو تھی۔
”یار نیٹ ورک نہیں تھا اس ائیریا میں۔ جب آیا تو میں نے تمہیں کال کی اور آتے ہی تمہیں ملنے آیا۔“ وہ صفائی دے رہا تھا۔
”احسان۔“ وہ بے نیازی سے آگے بڑھ گئی تھی۔
”یار تم سمجھتی نہیں ہو‘ کام ایسا ہے کہ کھانے پینے کا ہوش نہیں ہوتا۔“ وہ اس کے پیچھے باہر آگیا تھا۔
”تو ٹھیک ہے جاؤ کرو کام وہی ڈیوٹی نبھاؤ۔“ اس کی خفگی تھی کم ہونے کہ نہیں آ رہی تھی‘ وہ گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی۔
”ایک ڈیوٹی کر آیا ہوں‘اب دوسری ڈیوٹی کرنے آیا ہوں‘ لیکن یہ باس کھڑوس ہی بہت ہے۔“ حمزہ بھی گاڑی میں آبیٹھا تھا۔
”مجھے پارٹ ٹائم نہیں، فل ٹائم بندہ چاہئیے مسٹر حمزہ۔“رانیہ نے اترا کر کہا اور حمزہ نے بھنویں اٹھائی۔
”تو کسٹمائز کروا لو۔“
”تم بیٹھے رہو یہاں‘میں جا رہی ہوں۔“وہ نکلنے لگی تھی جب حمزہ نے اس کا ہاتھ تھاما۔
”اچھا رکو تو۔“ اس کے لہجے میں پیار بھرا تھا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی رانیہ واپس بیٹھ گئی۔
”چار دن سے میں تمہیں میسج کر رہی ہوں‘ بغیر بتائے، بغیر ملے چلے جاتے ہو پھر میسج کرو تو تم کوئی جواب نہیں دیتے۔ کال کرو تو تمہارا نمبر بند آتا ہے‘جا کر کبھی پوچھا نہیں کیسی ہو‘ کیا کر رہی ہو‘ٹھیک ہو؟ یوں ہی ایک دن میں مر جاؤں گی اور تمہیں وہاں پتا بھی نہیں چلے گا۔“آنسو ٹپ ٹپ اس کی آنکھوں سے گرتے جا رہے تھے۔
”میرے خدایا۔“وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
”آ تو گیا ہوں‘ اب جان لو گی؟“ وہ کچھ نہیں بولی تھی۔
”اچھا ادھر دیکھو‘بتاؤ کیا ہوا ہے؟ کیوں اتنے آنسو ضائع کر رہی ہو؟“اسنے رانیہ کا منہ اپنی طرف پھیرا۔
”حمزہ دو سال ہونے کو ہیں ہمارے نکاح کو، اب مجھے اپنے ساتھ لے جاؤ‘ یہاں میری جان اٹکی رہتی ہے۔ ہر وقت عجیب سا ڈر لگا رہتا ہے۔“اس کی آنکھوں میں واقعی خوف تھا۔
”کیسا ڈر؟“ وہ فکر مند ی سے اسے دیکھنے لگا۔
”مجھے طرح طرح کے خواب آتے ہیں‘ ڈر لگتا ہے، لگتا ہے میں تمہیں کھو دوں گی۔“ اس نے دوبارہ رونا شروع کر دیا تھا۔
”اوئے پاگل۔“ حمزہ نے اپنا بازو اس کے گرد پھیلایا۔
”تم سمجھ نہیں رہے ہو‘مجھے اب تمہاری ضرورت ہے۔“ وہ ضد کر رہی تھی۔
”رانیہ تم ایک ہو‘ اس ملک میں کروڑوں ہیں جن کو میری ضرورت ہے۔“وہ اس کے چہرے سے بال ہٹاتے اسے سمجھا رہا تھا۔
”ان کروڑوں کو بچاتے ہوئے اگر تم نے مجھے کھو دیا تو؟“حمزہ کے بازو کو دونوں ہاتھوں سے تھامے رانیہ نے سر اٹھا کر حمزہ کو دیکھتے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔
”رانیہ۔“ حمزہ نے اسے خود سے الگ کیا اور اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں بھرا۔
”میں اللہ کی راہ میں نکلا ہوں‘ جب میں اس کے بندوں کے ساتھ بھلائی کر رہا ہوں‘ تو وہ میرے ساتھ بھلا کیسے یوں کر سکتا ہے؟“ اس کی آنکھوں میں ایمان کی چمک تھی۔
”اب تم پریشان ہونا چھوڑ دو‘ابھی تو کل میں جا رہا ہوں لیکن جب اگلے ہفتے آؤں گا تو ہم رخصتی کر لیں گے، پھر میں تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔ ٹھیک ہے؟“ اس کی انگلیاں دوبارہ اس کے چہرے پر آئے بالوں سے الجھنے لگی تھیں۔
”پکا؟“ اسے حمزہ کی بات پر یقین نہیں تھا‘ وہ ہر بار یہ ہی کہہ کر جاتا تھا۔
“تمہاری قسم۔“حمزہ نے بھی روایتی طریق پر محبوب کی قسم اٹھائی تھی۔
“میری قسم کا مطلب کہ اگر تم نہیں آئے تو میں مر جاؤں گی۔“ رانیہ نے اپنا سر حمزہ کے بازو پر ٹکا دیا۔
”تم بلا ہوجو مجھ سے چمٹ گئی ہو‘اب ساری زندگی میرا پیچھا نہیں چھوڑو گی۔“ حمزہ ماحول کو خوشگوار کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ رانیہ نے اس کے بازو پر چٹکی بھری۔
”دیکھا کاٹتی بھی ہو۔“ وہ اپنا بازو سہلا رہا تھا۔
”جی نہیں۔“ رانیہ نے اس کے بازو پر اپنی گرفت مضبوط کر دی تھی۔
”میں شہزادی ہوں جو جلد از جلد اپنے شہزادے کے دیس چلے جانا چاہتی ہے۔ اس سے پہلے کہ کوئی دیو آئے اور مجھے پتھر کا کر دے۔“
”ظالم بس کر۔“حمزہ ہنساتھا۔
”اور یہ اپنی بھانجی کی ٹارزن والی کہانیاں اب پڑھنا بند کر دو‘بڑی ہو گئی ہو۔“ اس نے مصنوعی خفگی سے اسے گھورا۔
”تمہاری طرح جنگوں کی کہانیاں نہیں پڑھ سکتی۔“ وہ اب بھی اسے طعنہ دے رہی تھی۔
”اچھا نا بس کرو۔“ حمزہ اس کے سر پر جھکا، ہونٹ اس کے بالوں پر رکھے اور سیدھا ہو گیا۔ ایک رنگ رانیہ کے چہرے پر آکر گزرا۔ رانیہ آنکھیں سختی سے بھینچے شرمندہ سی اس کے بازو میں اپنا چہرہ چھپا رہی تھی۔
”ارے آپ شرماتی بھی ہیں۔“ حمزہ نے اسے چھیڑا اور وہ مصنوعی خفگی سے اسے دیکھتے سیدھی ہو گئی۔
”آگے کا کیا پلان ہے؟“
”امم….ابھی تو میں ایک خوبصورت لڑکی کو ڈیٹ پر لے کر جا رہا ہوں۔“ حمزہ نے آنکھیں گمائیں۔
”اور وہ خوبصورت لڑکی میں ہوں۔“رانیہ کھلکھلائی۔
”ارے یو آر سمارٹ۔“ حمزہ نے گاڑی اسٹارٹ کر دی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!