Haya novel by Fakhra Waheed ep 8

Haya novel by Fakhra Waheed

کہتے ہیں زندگی حادثہ ہے۔پر یہ کیسا حادثہ تھا اس کا تو کچھ بھی نہیں بچا تھا۔دو بھائیوں کی اکلوتی بہن۔ ماں اس کی پیدائش پر ہی انتقال کر گئی تھی۔ بھائی اپنی اپنی زندگی میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مگن تھے۔ رہ سہہ کر باپ ہی تھا جو اس کا کل سرمایہ تھا۔ وہ بھی اب اسے چھوڑ گیا تھا اور کل رات جس طرح سے حمزہ نے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا, یہ گھر بھی اب اسے تحفظ دینے سے قاصر تھا۔حمزہ نے جب اسے کمرے سے دھکا دیا اسے لگا وہ صحرا میں آ کھڑی ہوئی ہے۔جہان دور تک کوئی آشیانہ نہیں ہے۔بس آسمان پر آگ برساتا سورج اور پیروں کے نیچے ریت…….تپتی اور سلگتی ریت۔
”بابا‘آپ کیوں مجھے چھوڑ کر چلے گئے؟“نیچے کمرے میں لائٹس آف کیے تکیے میں منہ دبائے وہ رو رہی تھی۔
”کیسی زندگی ہے یہ؟ جہاں میرا کوئی نہیں ہے‘زبردستی کی شادی جس میں عزت و احترام بھی نہیں ہے۔“یہ شکوہ تھا۔کس سے؟ پتا نہیں‘ شاید اللہ سے‘ انسان ٹوٹتا ہے تو اسی کی طرف بھاگتا ہے۔
”تم یہ مت سمجھنا کہ تمہارا کوئی نہیں ہے۔“کسی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔
”میں تو تمہارا انتظار کر رہا تھا‘تمہیں پتا ہے نا تمہارے بابا کا تمہارے سوا کوئی نہیں ہے۔“ ہاتھ رکھنے والے کے لہجے میں اطمینان تھا۔
”بابا‘آپ کہاں چلے گئے تھے؟ لوگ ظالم ہیں بابا۔آپ کی……آپ کی گڑیا کو کھا جائیں گے۔ اب آپ مجھے چھوڑ کر کہیں مت جائیے گا۔میں…..میں کبھی آپکو چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔“ خاموش آنسو چیخوں میں بدل گئے۔
”بیٹی تمہارا اللہ مالک ہے۔“آنے والا جا چکا تھا‘مگر وہ چیخ رہی تھی۔
”بابا‘کہاں ہیں آپ بابا؟“ آواز بلند ہوتی جا رہی تھی۔
”بھابھی…بھابھی‘ آپ ٹھیک ہیں؟“ شیری اس کے سر پر کھڑا‘اسے آواز دے رہا تھا۔ وہ گھبرا کر اٹھ گئی تھی‘ وہ سچ میں رو رہی تھی۔ چہرے پر پسینے کے قطرے نمایاں تھے۔ دل تیز گام کی طرح دوڑ رہا تھا۔ یہ خواب تھا؟ نہیں وہ تو جاگ رہی تھی۔ تو؟ کیا واقعی بابا یہاں آئے تھے؟ اس نے دماغ پر زور دیا۔
”بیٹی تیرا اللہ مالک ہے۔“آخری الفاظ حیا نے زیر لب دہرائے۔ شیری نے ا سے پانی کا گلاس تھمایا‘ اس نے دو گھونٹ بھر کر گلاس واپس کر دیا تھا۔
”آپ ٹھیک ہیں؟“شیری نے دوبارہ پوچھا‘ اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
دور کہیں فجر کی آذان ہو رہی تھی۔
شیری دوبارہ لاؤنج میں آ گیا تھا‘ وہ اب تک سویا نہیں تھا۔ وہ حمزہ کو پچھلے تین سال سے جانتا تھا‘ اس نے حمزہ کو قریب سے جانا تھا‘دن رات اس کے ساتھ گزارے تھے۔ وہ جانتا تھا حمزہ ایکسپریسو نہیں ہے لیکن جس طرح سے وہ پورے اسکواڈ کا خیال رکھتا تھا وہ بھی کسی سے چھپا نہیں تھا۔ سمایا اور عنایا کو بزنس سیٹ کرنے میں حمزہ نے ہی مدد کی تھی اور شیری……جس کی کوئی پہچان تک نہیں تھی‘حمزہ اسے گھر لے آیا تھا‘ یہ گھر ہی اس کی پہچان بنا تھا۔ سمایا کو بھی ترکی جانے کے لیے حمزہ نے فورس کیا تھا۔ پھر یہ کون سا روپ تھا حمزہ کا؟ شیری کو وہ اجنبی لگا تھا۔ وہ نہ حمزہ سر تھا، نہ حمزہ بھائی‘ پتا نہیں وہ کون تھا؟ شیری نے اسے کبھی چیختے چلاتے نہیں سنا تھا۔ اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ تھا‘ وہ ہر کام تحمل سے کرتا تھا۔ شیری کا دماغ ماضی کے جھرونکوں میں کھویا ہوا تھا‘ کوئی ایسا وقت جب حمزہکا رویہ ایسا رہا ہو‘ اسے کچھ یاد نہیں آیا۔
”شیری حمزہ سر کو کوئی پریشانی ہے؟“شیری کا دماغ چار ماہ قبل کہیں رک گیا تھا۔ وہ دونوں ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے۔ سمایا اپنی گریجویشن کی ٹریٹ دے رہی تھی۔
”نہیں‘ تم کیوں پوچھ رہی ہو؟“ اس نے پیزا کا سلائس اٹھاتے ہوئے سمایا کو دیکھا۔
”کبھی کبھی وہ عجیب طرح سے ری ایکٹ کرتے ہیں۔“ وہ شیری سے بات کرتے ڈر رہی تھی‘شیری حمزہ کو لے کر بہت ایموشنل تھا۔ مگر اس وقت وہ کھانے میں مگن تھا۔
”شیری یار۔“ وہ کنفیوز سی بولی۔
”تم پہلے میرے کھانے کو گھورنا بند کرو۔ دو دن سے پیٹ میں جگہ بنا رہا ہوں اس ٹریٹ کے لیے۔“ وہ اب بھی سنجیدہ نہیں تھا۔
”شیری مجھے لگتا ہے حمزہ سر کو کسی سائیکالوجسٹ کے ساتھ سٹنگز لینی چاہئیے۔“وہ کہہ تو گئی تھی‘ مگرشیری کا ہاتھ جہاں تھا وہیں رک گیا۔
”واٹ؟ آر یو آؤٹ آف یور مائنڈ؟“ وہ تقریباً چلایا۔ ساتھ والے ٹیبل پر بیٹھے زویان، شیرواناور عنایا نے مڑ کر ان کو دیکھا۔ سمایا خاموش رہی۔ سب دوبارہ اپنی باتوں میں مشغول ہو گئے تھے۔ پیزے کا ادھ کھایا سلائس اس نے پلیٹ میں رکھ دیا تھا۔ سمایا تھوڑا آگے ہوئی۔
”شیری میری بات سمجھو۔“
”کیا سمجھوں‘تم کہنا چاہتی ہو کہ حمزہ سر کو کوئی دماغی مسئلہ ہے‘وہ پاگل ہیں؟“شیری نے دونوں ہاتھ میز پر رکھے۔
”ان کو ضرورت ہے ان سٹنگز کی‘ آئی کین ایکسپلین۔“ سمایا نے وضاحت کرنا چاہی مگر شیری کے تو تیور ہی بگڑ گئے تھے۔
”فی الحال مجھے یہ لگ رہا کہ تمہیں میری ضرورت نہیں ہے‘ جب تمہارا اپنا دماغ سیٹ ہو جائے تو بتا دینا۔“وہ اٹھ کر چلا گیا تھا اور آج یوں لگ رہا تھا جس حمزہ کو شیری نہیں جان پایا تھا، اسے سمایا نے جانا تھا۔
”سمایا کوایسا کیوں لگا تھا۔”“شیری کا دماغ ماضی سے نکل کر دوبارہ حال میں آگیا تھا۔اس سے کوئی جواب نہیں بن پایا‘ اس نے سمایا کی پوری بات سنی ہوتی تو ہی وہ کوئی فیصلہ کر پاتا۔ سمایا نے تو اس کے بعد بھی کئی بار اس سلسلے میں اس سے بات کرنے کی کوشش کی تھی لیکن شیری بگڑ گیا تھا۔
”وہ بندہ جس نے تمہارے اور عنایا کے لیے اتنا کچھ کیا تمہیں وہ پاگل لگتا ہے؟“
”شیری میری بات تو سن لو، پھر تم خود فیصلہ کر لینا۔“
”مجھے تمہاری یہ فضولیات بالکل نہیں سننی‘سائیکالوجی کی دو کتابیں کیا پڑھ لی‘تمہیں ہم سب پاگل لگنے لگ گئے ہیں؟“ وہ سمایا پر چلا رہا تھا۔
”ان کو پاگل ثابت کر کے تم کیا کرنا چاہتی ہو؟ اور اگر تمہیں لگتا ہے کہ حمزہ سر کو کوئی دماغی مسئلہ ہے تو جاؤ جا کر اپنا علاج کرواؤ، کیونکہ دماغی مسئلہ تمہیں ہے۔“شیری آپے سے باہر ہو رہا تھا۔ حمزہ کو لے کر آج دونوں دوستوں میں اختلاف پیدا ہو گیا تھا اور پھر اس نے کبھی سمایا سے سیدھے منہ بات نہیں کی۔سمایا دو دن بعد تین ماہ کے لیے ترکی چلی گئی تھی اس بیچ اس نے کافی بار شیری سے کنٹیکٹ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ تو جیسے اس کو بھلا ہی بیٹھا تھا۔
اللہ اکبر… اللہ اکبر….
آذان کی آواز پر وہ چونکا۔ سڑک والی مسجد میں مؤذن لوگوں کو فلاح کی طرف بلا رہا تھا۔ پتا نہیں یہ سب کیا ہو گیا تھا۔ شیری نے گہرا سانس اندر کھینچا اور فون پر جلدی جلدی ٹائپ کرنے لگا۔
”سمایا کین وی ٹاک؟“
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دو سال پہلے حمزہ اور رانیہ کی منگنی ہوئی تھی اور پھر چار ماہ پہلے نکاح۔دونوں بچپن کے دوست تھے اور ان کے والدین نے ان کی رضامندی سے یہ رشتہ طے کیا تھا۔ دوستی کونکاح نے پیار میں بدل دیا تھا۔ سب جلد از جلدرخصتی بھی کر دینا چاہتے تھے،لیکن حمزہ فی الحال شہر سے باہر ہی رہتا تھا اور اس کی زندگی کا کوئی معمول نہیں بن رہا تھا، پچھلے سال ہی اس کا تبادلہ پولیس کے اسپیشل انٹیلیجنس ڈپارٹمنٹ میں ہوا تھا اور اگلے چندماہ اسکی زندگی ایسی ہی بے ترتیبی رہنی تھی۔وہ چاہتا تھا اس کا یہ دورانیہ مکمل ہو جائے پھر وہ رخصتی کریں۔یوں شادی منسوخ ہوتی جا رہی تھی اور رانیہ کا صبر جواب دے رہا تھا۔
اب کے وہ بضد تھی اور حمزہ نے بھی اس کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ اگلے ہفتے ان کی رخصتی طے پائی تھی۔جانے سے پہلے حمزہ نے اس کے لیے ڈنر پلان کیا تھا۔ ڈنر کے بعد حمزہ اسے اپنے لاہور والے گھر لایا تھا جہاں رخصتی کے بعد رانیہ کو آنا تھا۔ وہ حمزہ کے والدین کا گھر نہیں تھا۔ حمزہ کا گھر تھا۔ جس میں وہ پچھلے پانچ سال سے رہ رہا تھا۔
وہ دونوں بالکونی میں نیچے فرش پر دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔
”اپنا وعدہ مت بھول جانا‘قسم اٹھائی ہے تم نے میری۔“رانیہ اسے چوتھی بار یاد دلا رہی تھی۔
”ارے یار‘تم کیوں اتنا سوچتی ہو۔“ حمزہ نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر دبایا۔
”مجھے پتا ہے تم مصروف ہوتے ہو‘دو منٹ میری کال سن لیا کرو‘پلیز۔“ حمزہ کے بازو کے ساتھ سر ٹکاتے اس نے منت کی تھی۔
”اوکے‘ سن لوں گا۔“وہ اب اس کا سر تھپتھپا رہا تھا۔
”اور جب میسج کروں تو بس ہاں، نا کر دینا…مجھے تسلی رہے گی۔“وہ اس سے ساری باتیں منوا رہی تھی۔
”اچھا۔“ وہ بس اتنا کہہ سکا پھر کتنی دیر وہ یوں ہی خاموش بیٹھے رہے۔
”کیا سوچ رہی ہو؟“حمزہ نے خاموشی توڑی۔
”جلدی آجانا۔“حمزہ کے بازو میں اپنا بازو ڈالے اور اسکے بازو پر ٹھوڑی ٹکائے وہ حمزہ کو ہی دیکھ رہی تھی۔
”آجاؤں گا۔“رانیہ کے چہرے سے بال ہٹاتے وہ دھیمے سے مسکرایا۔
”دیر مت کر دینا۔“ وہ اب بھی ویسی ہی باتیں کر رہی تھی۔
”کیا ہو گیا ہے تمہیں رانیہ‘پہلے تو تم ایسی کبھی نہیں تھی۔“
”پہلے تم میرے دل کے اتنے قریب بھی تو نہیں تھے۔“
”کتنا قریب؟“ حمزہ نے اپنی مسکراہٹ دبائی۔
”مان لو‘تمہیں ہمیشہ سے مجھ پر کرش تھا۔“حمزہ نے تفخر سے اسے دیکھا اور وہ ہنسی۔
”تم مان لو کہ تمہیں مجھ سے سیکریٹ محبت تھی۔“ وہ اسی کی بات اس پر ڈال رہی تھی۔
”تم اچھے سے جانتی ہو…مجھے تو کالج میں تھی نا وہ چشمش‘کیا نام تھا اس کا‘آاں ں….نام پتا نہیں کیا تھا بٹ شی واز لو۔“ وہ اسے چھیڑ رہا تھا۔
”کون؟“ وہ اس سے الگ ہو گئی تھی اور اب آنکھیں سکیڑے اسے گھور رہی تھی۔
”تمہیں نہیں پتا؟ جسے میں ڈیٹ پر لے جایا کرتا تھا۔“
”نہیں مجھے نہیں پتا‘ بتاؤکون تھی وہ؟ نام یا ڈیپارٹمنٹ بتاؤ۔“ اب وہ جاننا چاہتی تھی۔
”تھی کوئی۔“ حمزہ نے گہرا سانس خارج کرتے آہ بھری اور رانیہ کا منہ پھول گیا۔
”حمزہ سیدھے سے مجھے بتاؤ کون تھی وہ؟“
”بتا دوں؟“
”ہاں۔“
”کان پاس لاؤ۔“ وہ آگے کو کھسکی‘ حمزہ اس کے گال پر جھکا۔اس ایک لمحے نے رانیہ کے دل کی دھڑکن بڑھا دی تھی پھر کئی منٹ وہ یوں ہی بیٹھی رہی۔ اس نے سر اٹھا کر حمزہ کو دیکھا، وہ سنجیدہ تھا۔
”تم بدتمیز ہو۔“رانیہ نے اس کے بازو پر ہاتھ مارا‘حمزہ نے سر کو خم دیا۔
”ویسے تم چاہو تو بدلہ لے سکتی ہو۔“ وہ اپنا گال آگے کر کے بیٹھ گیا۔
”چل اوئے۔“ رانیہ نے ہاتھ سے اس کا گال پیچھے کیا اور دوبارہ اس کے کندھے کا سہارا لے کر بیٹھ گئی۔
”ویسے مجھے نہیں پتا تھا میری بیوی بن کر تم ایسی ہو جاؤ گی۔“اس کا اشارہ رانیہ کا اس کو لے کر ہر وقت پریشان رہنا تھا۔
”اور ایک بات بتاؤ ذرا تم۔“حمزہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے خود سے الگ کیاتھا۔
”جب میں پولیس جوائن کرنے جارہا تھا‘تب تو تم مجھے بڑا موٹیویٹ کرتی تھی، اب تم مجھے روکتی ہو۔“ حمزہ نے اپنی چھوٹی آنکھیں اور سکیڑی تھیں۔
”ہاں کیوں کہ تب مجھے پتا نہیں تھا کہ تم میرے لائف پارٹنر بن جاؤ گے۔“وہ اسی ردھم سے بولی۔
”واہ‘ مطلب دوست مر مک جائے‘ اپنے لائف پارٹنر کی پرواہ ہے….کمال۔“ حمزہ نے دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھائے۔
”نہیں، لیکن تمہیں خود سے دور جاتا دیکھ کر میرا دل ڈوبتا ہے۔“ وہ سر جھکائے اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی۔
”تبھی میں تم سے مل کر نہیں جاتا‘تمہارے آنسو مجھے روکتے ہیں۔“ وہ رانیہ کا گاڑی میں مل کر نہ جانے والا شکوہ دور کر رہا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اور پھر وہ چلا گیا تھا‘پہلی بار وہ رانیہ سے مل کر جا رہا تھا۔
”میری قسم اٹھائی ہے تم نے۔توڑ مت دینا۔“ وہ اب بھی اسے اس کا وعدہ یاد دلانا نہیں بھولی تھی، لیکن وہ کسی وعدے کا بار اٹھا کر لے جا ہی کہاں رہا تھا؟ سارے وعدہ یہیں چھوڑ گیا تھا بس کچھ ساتھ تھا تو اپنے وطن کی مٹی سے کیا گیا وعدہ‘ مرتے دم تک اس کی حفاظت کا وعدہ۔ اس کا فون ڈیڈ تھا‘وہ میسجز کا جواب نہیں دے سکا تھا‘نہ ہی کال اٹھا سکا تھا۔وہ دشمن کے روپ میں دشمن کی ہی صف میں کھڑا تھا۔ اللہ اکبر کے نعرے کے ساتھ دشمن کا قلع قمع کر دیا گیا تھا۔ حمزہ کو بحفاظت راولپنڈی پہنچا دیا گیا تھا۔
وہ اب واپس گھر جا رہا تھا‘ رانیہ کے پاس جا رہا تھا‘رانیہ اس کا انتظار کر رہی تھی۔ راولپنڈی پہنچتے ہی اس نے فون چارج کیا تھا۔ رانیہ کے 61 وائس میسجز، ایک سو چوبیس ٹیکسٹ میسج اور مختلف دنوں میں کی گئی جانے کتنی کالز اس کا انتظار کر رہی تھیں۔ اس نے نہ میسج پڑھے ن اور نہ ہی کال کی‘ وہ اسے سر پرائز دینا چاہتا تھا۔ اسے پتا تھا وہ خفا ہو گی‘ لیکن خود پر یقین تھا کہ وہ ہر بار کی طرح اس بار بھی اسے منا لے گا۔مگر اسے کبمعلوم تھا کہ وہاں وہ اس کے لیے سرپرائز لیے ہوئے تھی‘ ایسا سرپرائز جس کے شاک سے وہ ساری زندگی نہ نکل پاتا۔
وہ ساری رات یوں ہی بالکونی میں بیٹھا رہا تھا‘ اس کے زخم تازہ ہو گئے تھے۔کمرے کی حالت یوں تھی جیسے کوئی طوفان آکر گزر گیا ہو۔ ہر چیز فرش پر تھی، بیڈ کی چادر سمٹی پڑی تھی،پرفیوم کی شیشیاں ٹوٹی ہوئی تھیں‘ دیوار پر جہاں وہ تصویریں لٹکی تھیں اب کچھ مدھم نشان تھے۔ وہ پھر اپنی سوچوں کے کٹہرے میں آ کھڑا ہوا تھا۔ وہ اسے کہتی رہی کہ وہ اسے کھو دے گا، وہ نہ آیا تو وہ مر جائے گی۔ وہ نہیں آیا تھا اور وہ مر گئی تھی۔ حمزہ وہاں دشمن کی تباہی کے منصوبے بنا رہا تھا اور یہاں اس کی اپنی تباہی اس کی منتظر تھی۔ انسان کتنا بھی مضبوط ہو اپنے سے جڑے لوگوں کے لیے وہ موم ہو جاتا ہے۔ حمزہ تو ٹوٹ گیا تھا‘ اس کے وجود کی کرچیاں آج بھی اسے چبھتی تھیں۔
حمزہ نے چند دن پہلے جس ڈرگ سمگلنگ گروہ کو پکڑا تھا۔ وہ اپنا بدلہ لینے آپہنچے تھے۔ رانیہ کے جسم میں ڈرگ کی بھاری مقدار انجیکشنز کے ذریعے بھری گئی تھی اور پھر اسے اپنی حوس کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ حمزہ کی للکار کو رانیہ کی چیخوں میں بدل دیا گیا تھا۔ اس کے جسم پر جگہ جگہ حمزہ کے لیے نفرت بھرے الفاظ گاڑے گئے تھے پھر غضب یہ اس تکلیف دہ عمل کو کیمرے میں ریکارڈ کر کے حمزہ کو بھیجا گیا تھا۔ دیکھنے والوں کی روح کانپ اٹھی تھی۔ حمزہ تو جیسے بولنا ہی بھول گیا تھا۔ وڈیو میں رانیہ کی چیخیں رہے سہے حمزہ پر آخری ضربیں لگا رہی تھیں۔
”تم نہ آئے تو میں مر جاؤں گی۔“ رانیہ کی آواز اس کے کانوں میں گونجتی رہتی۔
”میں نے اپنی قسم توڑ دی۔“ وہ اب اپنا سر ہاتھوں میں گرائے خود کو کوس رہا تھا۔”میں نے ایک میسج کھول کر دیکھا ہوتا۔ ایک کال سنی ہوتی۔“ اس کے پاس اب پچھتاوے تھے۔ بہت سے پچھتاوے!
”حمزہ مجھے کچھ اچھا محسوس نہیں ہوتا‘مجھے عجیب عجیب خواب آتے ہیں۔کوئی مجھے کھینچ رہا ہے، میں چیخ رہی ہوں، تم کھڑے ہو لیکن مجھے بچانے آگے نہیں بڑھ رہے…..حمزہ۔“ وہ پریشان تھی۔
”تم نہیں آئے نا‘توڑ دیا تم نے اپنا وعدہ۔“
”حمزہ یار‘ہر بار کی طرح پھر تم نے دغا ہی کیا ہے میرے ساتھ۔“
”اب تمہیں واپس آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہیں رہنا بس۔“
”میں مر گئی تب بھی مت آنا‘تم کبھی بھی مت آنا۔“
”تم ہمیشہ میرے ساتھ رہنا پلیز۔“ آخری وائس میسج حمزہ نے سنا۔ وہ کسی میسج میں غصہ کرتی، کہیں اس کی آواز میں بے بسی سنائی دیتی، تو کہیں بے انتہا پیار وہ اپنے الفاظ میں پرو کر حمزہ کو بھیجتی۔ کئی دن وہ کمرے سے باہر نہیں نکلا تھا۔ بار بار وہ رانیہ کے میسج پڑھتا، اس کے وائس میسج سنتا، وہ خود کو ذمہ دار سمجھتا تھا۔ وہ اپنے ضمیر کے کٹہرے میں خود کو سزا کا حق دار گردان چکا تھا۔ وہ خود کو اذیت دینا چاہتا تھا اور وہ دے رہا تھا۔ وہ آنکھیں بند کرتا تو رانیہ کا چہرہ اسے سکون نہیں لینے دیتا، وہ آنکھیں کھولتا تو اس کی آواز اسے اپنے کانوں میں گونجتی محسوس ہوتی۔ وہ ہنستا مسکراتا حمزہ اس گلٹ میں خود بھی مارا گیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”بابا آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں؟“ حمزہ کی چھٹی ختم ہو گئی تھی۔ وہ جانے کی تیاری کر رہا تھا جب فیاض بیگ نے ملازم کے ہاتھ اسے بلاوا بھیجا۔ وہ اسے واپس بھیجنے کے لیے راضی نہیں تھے اور حمزہ انکے فیصلے پر حیران تھا۔
”ایسا تمہاری امی چاہتی ہیں اور اس میں کچھ غلط بھی نہیں ہے، ہم اپنے بچے کو لے کر پریشان ہیں۔“ فیاض وضاحت کر رہا تھا۔
”تو بجائے اس کے کہ آپ امی کو سمجھائیں آپ خود مجھے روک رہے ہیں؟“ اسے یقین نہیں آرہا تھا۔
”آج انہوں نے رانیہ کو اذیت دی ہے‘ کل ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے تب تم کیا کرو گے؟“ بولنے والی صوفیہ تھی۔
”حمزہ بیٹا‘ہمیں تمہاری پرواہ ہے‘ہم ڈر ڈر کر تو نہیں جی سکتے نا۔“ فیاض نے صوفیہ کی حمایت کی۔
”ابھی مجھے چار سال ہوئے ہیں پولیس جوائن کیے‘آپ ابھی سے مجھے پیچھے ہٹ جانے کا کہہ رہے ہیں؟“ اس کاانداز استہزائیہ تھا۔
”ابھی چار سال ہوئے ہیں تو اتنا کچھ ہو گیا‘ اگر چار سال اور ہو گئے تو کیا ہو گا‘تمہیں اور کیا انتظار ہے حمزہ؟“
”جب ہماری لاشیں اٹھاؤ گے تب تمہیں چین آئے گا؟“صوفیہ تو برہم ہی ہو گئی تھی۔
”امی…“ ماں کی ایسی دل دہلا دینے والی بات پر وہ بس دیکھ کر رہ گیاتھا۔
”میرا ایک ہی بیٹا ہے‘ اسے بھی آپ نے نکال دیا گھر سے۔“ فیاض سے شکایت کرتے ہوئے وہ باقاعدہ رونے لگ گئی تھیں۔
”حمزہ تم تو سمجھو‘ مجھ میں ہمت نہیں ہے تمہیں کھونے کی۔ سفیان اور زلے کو میں پہلے یوں ہی مرتے دیکھ چکی ہوں۔“ وہ بد ستور رو رہی تھی۔
سفیان صوفیہ کا بھائی تھا جو دہشتگروں کے خلاف ایک مشن میں شہید ہو گیا تھا ور زلے سفیان کا ہی چوبیس سالہ بیٹا تھا جو سفیان کی شہادت کے چار ماہ بعد ہی اسی قسم کے دوسرے مشن میں شہیدہو گیا تھا۔
”صوفیہ وہ شہید ہیں‘ان کا درجہ اللہ کے ہاں بلند ہے۔“ فیاض نے صوفیہ کے اپنے بھائی اور بھتیجے کیااسطرح ذکر پر ٹوکا۔
”امی آپ نے کبھی ٹی وی میں شہیدوں کی ماؤں کو سنا ہے؟ ان کے حوصلے کتنے بلند ہوتے ہیں‘ہر لفظ کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کرتی ہیں وہ۔ اگر میں اللہ کی راہ میں جان دے دیتا ہوں تو آپکو مجھ پر فخر ہونا چاہئیے۔“
”حمزہ‘ رانیہ کا جسم میری آنکھوں کے سامنے سے نہیں جاتا۔“ وہ اٹھ کر حمزہ کے پاس آکر بیٹھ گئیں۔
”کتنی پیاری بچی تھی‘کیا حال کر دیا ظالموں نے اس کا۔“
”اگر تمہیں کچھ ہو گیا تو میں جیتے جی مر جاؤں گی۔“
”امی رانیہ سے کیا وعدہ توڑنے کا انجام میں بھگت چکا ہوں اور بھگت رہا ہوں۔رانیہ کی جتنی تکلیف مجھے ہے اس کا شاید کوئی اندازہ بھی نہیں کر سکتا۔اتنی تکلیف ہے کہ لگا تھا مر جاؤں گا‘ لیکن نہیں مرا۔شاید اللہ نے مجھے اس ملک کے لیے زندہ چھوڑ دیا۔ اب اگر کروڑوں لوگوں سے کیا وعدہ توڑوں گا تو خود بھی جی نہیں سکوں گا‘پھر مجھے اپنے پاس رکھ کر آپ کیا کریں گی؟“
اس کی آواز میں تکلیف تھی اور صوفیہ نے بیٹے کی تکلیف محسوس کی تھی۔ وہ رکنے والا نہیں تھا‘وہ سمجھ گئی تھی۔
”بیٹا‘ جیسے تمہاری مرضی۔ میں دعا کروں گی اللہ میرے بچے کی حفاظت کرے‘ وہ اکیلا سینکڑوں پر حاوی آئے۔“ بیٹے کے جذبے کے آگے ماں ہار گئی تھی۔ وہ بیٹے کا ماتھا چومتے اسے دعائیں دینے لگیں۔
”جب تک آپکی دعائیں میرے ساتھ ہیں،مجھے کچھ نہیں ہو گا۔“حمزہ نے بمشکل مسکراتے ہوئے ماں کے ہاتھ چومے۔
”ماں بیٹا آپس میں ہی پیار کرتے رہیں گے یا باپ کے سینے کو بھی کوئی ٹھنڈا کرے گا؟“ فیاض نے حمزہ کی طرف اپنے بازو پھیلائے وہ اٹھ کر باپ کے گلے لگ گیا۔
”صوفیہ تمہارا بیٹا ہمارا نام روشن کرے گا۔“ فیاض نے حمزہ کا کندھا دبایا‘ صوفیہ کے ہونٹوں پر غمگین مسکراہٹ پھیلی۔
حمزہ کی گاڑی تیار کھڑی تھی‘جب علی کا اسے فون آیا۔
”کدھر ہے؟“
”بس نکل رہا ہوں۔“ حمزہ کھڑا ہو گیا۔
”خود آئے گا؟“ علی نے دوبارہ سوال کیا۔
”ہاں۔“ وہ مختصر جواب دے رہا تھا۔
”میں ادھر ہی آیا ہوا تھا توسوچا تجھے ساتھ لے چلوں۔“
”ہاں ٹھیک ہے‘انتظار کر رہا ہوں۔“ پندرہ منٹ بعد علی حمزہ کے ماں باپ سے مل رہا تھا۔
”میں اور تمہاری امی بھی رانیہ کی طرف جا رہے تھے‘جاتے ہوئے راستے میں ہمیں بھی چھوڑ دینا‘کیا خیال ہے۔“ فیاض نے علی سے جواب چاہا۔
”بابا‘آپ میری گاڑی لے جائیں‘ میں علی کے ساتھ نکل رہا ہوں۔“ حمزہ نے مشورہ دیا۔
”ڈرائیور بھی تو نہیں ہے۔“ فیاض نے پریشانی بتائی۔
”تو انکل‘آپ کو کون سا ڈرائیو کرنا نہیں آتا۔“
”ہاں یار‘ بس کافی عرصہ ہو گیا ڈرائیو نہیں کیا۔ لیکن تم لوگ خیریت سے جاؤ، ہم چلے جائیں گے۔“
صوفیہ اور فیاض سے مل کر وہ دونوں باہر نکل گئے تھے۔
گاڑی میں بیٹھ کر حمزہ نے ایک بار مڑ کر ماں کو دیکھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو اور حمزہ کو روکنے کی چاہ تھی،لیکن بیٹے کی اپنے فرض سے محبت دیکھ کر الفاظ زبان تک نہیں لائے گئے تھے۔ حمزہ کا اپنا دل بے چین تھا، پتا نہیں کیوں اس کا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ ماں کے چہرے سے نظر ہٹائے۔ بس دیکھتا جائے…دیکھتا جائے کہ اس کا سکون یہیں تھا۔ جب اس کی اپنی ہمت جواب دے گئی تو وہ ماں کو دیکھتے ہوئے زبردستی مسکرایا، ہاتھ اٹھا کر ماں کی طرف ہلایا اور صوفیہ کے ہاتھ ہلانے کا انتظار کیے بغیر منہ پھیر لیا تھا۔
ابھی وہ لوگ شہر سے باہر بھی نہیں نکلے تھے کہ آنے والے فون نے حمزہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ حمزہ کی گاڑی جس میں فیاض اور صوفیہ، رانیہ کی طرف جانے کے لیے نکلے تھے۔ وہ چند میل کا سفر طے کرتے ہی پھٹ گئی تھی۔ اس میں بم فٹ تھا جو حمزہ کے لیے لگایا گیا تھا۔ حمزہ پر تو یہ قیامت کے مصداق تھا۔ وہ ایسے دوسرے سانحے کے لیے تیار نہیں تھا۔
علی کو بھی فون آگیا تھا۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ حمزہ کو کیا کہہ کر تسلی دے۔وہ کچھ کہہ بھی رہا تھا تو اسے یقین نہیں تھا کہ حمزہ سن بھی رہا ہے یا نہیں۔
یکے بعد دیگرے دو سانحوں نے حمزہ کو ختم کر دیا تھا۔
اس کا ذمہ دار بھی حمزہ نے خود کو گردان لیا تھا۔نہ وہ اپنی گاڑی ان کو دیتا، نہ وہ اسے یوں تن تنہا چھوڑ جاتے۔ یہ یہی گلٹ تھا جس کی وجہ سے وہ دوبارہ کبھی اس گھر نہیں گیا تھا۔
”کس کس کے خون کا حساب دوں۔“ بالکنی میں بیٹھے حمزہ نے اپنا سر ہاتھوں میں گرایا۔ اس کی انگلیوں کی سختی بالوں پر بڑھتی جا رہی تھی‘ اس کا دماغ پھٹ رہا تھا۔
”حمزہ دیر مت کردینا۔“
”ہماری لاشیں دیکھو گے تب تمہیں چین آئے گا؟“
”حمزہ میرے ساتھ رہنا ہمیشہ۔“
”باپ کا سینہ بھی کوئی ٹھنڈا کرے گا یا نہیں۔“
”اب تمہیں کس چیز کا انتظا رہے حمزہ۔“
”حمزہ تم نے میری قسم اٹھائی ہے۔“
”اگر تمہیں کچھ ہو گیا تو میں جیتے جی مر جاؤں گی۔“
”ہماری لاشیں دیکھو گے تب تمہیں چین آئے گا۔“
آوازیں بلند ہوتی جا رہی تھی‘ انگلیاں اس کے بال نوچ رہی تھیں۔
اندھیرے میں کوئی چہرہ اسے نظر آیا تھا۔آنے والے کو وہ دیکھ نہیں پا رہا تھا۔اندھیرا کچھ چھٹا تواس نے دیکھا‘ وہ خود اپنے سامنے کھڑا تھا۔کتنے عرصے بعد اس نے خود کو اپنے سامنے دیکھا تھا۔وہ آگے بڑھا، وہ خود کو اپنے گلے لگانا چاہتا تھا، خود کو خود ہی تسلی دینا چاہتا تھا مگر جوں جوں وہ آگے بڑھتا جا رہا تھا‘آنے والا دور ہوتا جا رہا تھا…
”اب چین ہے تمہیں؟ تمہاری ضد نے سب کی جان لے لی‘ جان لے لی تمہاری ضد نے سب کی۔“دور اندھیرے سے اسے اپنی آواز سنائی دی تھی۔
”مار دیا تم نے سب کو۔“
”رانیہ کو۔“
”ماں بابا کو۔“
”قاتل ہو تم۔“
”ظالم ہو۔“
”رانیہ…..ماں……بابا۔“ وہ چیخ رہا تھا، آواز حلق میں دب گئی تھی۔ چاہ کر بھی وہ چیخ نہیں پا رہا تھا۔ اس نے ایک دم آنکھیں کھولی۔ آنکھوں نے یک دم اندھیرے سے روشنی کا سفرطے کیا۔ وہ کہاں تھا؟ اسے سمجھنے میں دیر لگی۔ اس نے آس پاس دیکھا‘ یہ اس کے کمرے سے ملحق بالکونی تھی۔ ماضی کی بھول بھلیوں میں کب اس کی آنکھ لگ گئی اسے پتا ہی نہیں چلا تھا۔ سورج سر پر آگ اگل رہا تھااوراس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا، آنکھیں گزری اذیت کا پتا دے رہی تھیں۔ وہ کمرے میں آ گیا۔ فرش پر پڑا کانچ اس کے پیر میں لگ گیا تھا۔روح پر لگے گھاؤ اتنے گہرے تھے کہ وجود پر لگے زخم نے اسے تکلیف نہیں دی تھی۔ اس نے کانچ پیر سے نکال کر پرے پھینکا اور نہا کر سیدھا نیچے بیسمنٹ میں چلا گیا،جہاں سب آج کی میٹنگ کے لیے اس کے منتظر تھے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”کہاں جاؤں میں‘کس سے مدد مانگوں‘مجھے کوئی تو رستہ دکھا میرے مالک….کوئی مسیحا…..کوئی مدد گار….کوئی تو ہو۔“ وہ جائے نماز پر گڑگڑا رہی تھی۔
بھیڑیوں کی دنیا میں وہ اکیلی تھی‘یہاں ہر کوئی اپنے فائدے کے لیے جی رہا تھا۔ وہ کہاں جائے اسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔ گھر سے باہر نکلتی ہے تو انسان نما بھیڑیے اس پر جھپٹنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ اس گھر میں رہتی ہے تو حمزہ کے احسانوں تلے روندی جارہی تھی۔
”میرے بابا کو بھیج دیں اللہ جی…..پلیز۔“ اس کی التجائیں بڑھتی جا رہی تھی۔
”مجھے میری پہلے والی زندگی لٹا دیں۔“
”میں پھر کبھی اپنے گھر سے نہیں نکلوں گی‘آپ مجھے میری پہلے والی زندگی لٹا دیں۔“
”بابا‘آپکی حیا اکیلی ہے‘ آپ آجائیں۔“ اس کے جسم کی جان نکلتی جا رہی تھی۔ وہ جائے نماز پر نیچے نیچے جاتی جا رہی تھی۔
”مجھ…مجھے میرے بابا….بابا….کے پاس…پاس…جانا ہے۔“سسکیوں میں الفاظ دم توڑ رہے تھے، حواس کھو گئے تھے، آنکھوں کے سامنے گھپ اندھیرا تھا۔اس کے سر پر پھر کسی نے ہاتھ رکھا تھا‘اس نے تڑپ کر آنکھیں کھولی۔
”بابا….بابا…آپ آگئے۔“ اس کی دعا اتنی جلدی سن لی گئی تھی‘ اسے یقین نہیں آرہا تھا۔
”آپ کہاں چلے گئے تھے بابا‘آپکی حیا اکیلی رہ گئی ہے۔ آپ واپس آجائیں…..مجھے اپنے ساتھ لے جائیں۔“ اس نے آنے والے کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔
سفید کپڑوں میں کھڑے شخص کے ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ تھی۔ وہ رو رہی تھی‘وہ مسکرا رہا تھا۔
”ماما تو چلی گئی تھیں‘آپ بھی مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔مجھے…. اپنے اپنے…ساتھ لے….لے….جائیں۔“ آنسوؤں میں اسکا ضبط ٹوٹ رہا تھا۔
”بیٹا‘ وہ جو رب ہے اس نے تیرے لیے بہت بہتر سوچا ہوا ہے۔“آنے والے نے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔
”مجھ…مجھے اپنے ساتھ…ساتھ لے جائیں۔“رو رو کر اسکی ہچکی بندھ چکی تھی۔ آنے والا جانے لگا تو وہ اس کے پیچھے لپکی۔ وہ رکا، مسکرایا اور پھر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولا۔
”بیٹی واپس اپنی دنیا میں چلی جا…..تیرا مسیحا تیرا انتظار کر رہا ہے۔“ جو ذرا سی روشنی اس آدمی کے آنے سے ہوئی تھی اس پر کالا اندھیرا نقطے کی طرح ابھرا اور پھیلتا گیا۔ یہاں تک کہ دوبارہ گھپ اندھیرا ہو گیا۔
”حیا…..حیا۔“
”حیا۔“
”حیا۔“ کوئی اسے آواز دے رہا تھا‘وہ گھبرا کر اٹھی تھی۔
”بابا۔“ رو رو کر اسکی آنکھیں درد کر رہی تھیں۔ آنکھوں کی سفیدی پر سرخ لکیریں واضح تھیں‘اس نے بمشکل آنکھیں کھولیں‘جگانے والے کو بغور دیکھا۔ یہ پینتیس چھتیس سال کی خاتون تھی۔
”باہر آؤ۔“ وہ کہہ کر چلی گئی تھی‘اور اس کے پیچھے ہی حیا باہر آئی تھی۔
”تو تم ہو‘جس سے حمزہ نے نکاح کیا ہے؟“خاتون کا انداز قدرے معیوب تھا۔
”اتنا سب ہو گیا اورتم اب بھی ڈھیٹ بنے یہیں پڑی ہو؟“
”میں خود یہاں نہیں آئی تھی۔“حیا نے وضاحت کی۔
”لے جانے کو تو تم اس کوٹھے پر بھی لے جائی گئی تھی، وہاں کیوں نہیں رہی؟“ اب وہ اس کی تذلیل کر رہی تھی۔ حیا کی سرخ آنکھیں اور چبھنے لگی تھیں۔
”اپنا سامان اٹھاؤ اور نکلو یہاں سے۔“ خاتون نے اس کے جواب کا انتظار نہیں کیا تھا۔
”م…میں کہاں جاؤں گی۔“ وہ یکدم خوفزدہ نظر آنے لگی تھی۔
”جہاں سے آئی ہو وہیں چلی جاؤ۔“ وہ سخت دلی سے بولی تواس کی روح تک کانپ گئی تھی۔ حیا کو اس جہنم میں واپس نہیں جانا تھا۔ وہ یہاں جیسے بھی رہ رہی تھی لیکن باہر کے درندوں سے تو محفوظ تھی۔
”تمہارا مسیحا تمہارا انتظار کر رہا ہے۔“ اسے اپنا خواب یاد آیا۔
”مسیحا۔“ اس نے ادھر ادھر دیکھا‘ شاید وہ مسیحا نظر آجائے، جو اسے روک لے‘مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔
”میں کہاں جاؤں گی۔“ اس نے ڈرتے ہوئے صوفے پر بیٹھی عورت سے کہا۔
”میرے بچے کی زندگی سے دور….بہت دور…“ اس نے ہر لفظ پر زور دیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”ماسی‘حمزہ سر کی آنکھوں میں میرے لیے نفرت تھی۔“ شیری ابھی ردابہ کو ائیرپورٹ سے لے کر آیا تھا۔ وہ صوفے پر بیٹھی تھی‘شیری نیچے کارپیٹ پر اس کے گھٹنے پر سر رکھے بیٹھا تھا۔
”نہیں بچہ‘وہ بس ڈسٹرب ہو گا، بھلا تم سے وہ کیوں نفرت کرے گا۔“ وہ اس کے بال سہلا رہی تھی۔
”وہ مجھ پر چلائے تھے۔“شیری کو یہ ہی دکھ تھا‘ حمزہ اسے بہت لاڈ سے رکھتا تھا۔
”بیٹا‘زندگی میں بہت کچھ ہوتا ہے جس سے انسان ساری عمر بھاگتا ہے۔ اگر وہ تکلیفیں کسی اور رستے سے سامنے آکر کھڑی ہو جائیں تو اسکا ری ایکشن ایسا ہی ہوتا ہے۔ تمہیں تکلیف ہوئی ہے پر بھائی کتنی تکلیف میں ہو گا یہ بھی تو سوچو۔“وہ اس کے بالوں کو سہلاتے اسے سمجھا رہی تھی۔
شیری حمزہ کو لے کر بہت پریشان تھا تبھی اس نے رات ہی ردابہ کو ساری صورتحال کا بتا کر اسلام آباد سے بلوا لیا تھا۔ حمزہ اسکواڈ دو گھنٹے پہلے ہی نکل چکا تھا۔ حمزہ نے فائنل پلان ترتیب دینا تھا جسے مکمل کر کے وہ ابھی بیسمنٹ سے آیا تھا۔ ردابہ کو وہاں دیکھ کر وہ چونکا۔
”ماسی آپ کب آئیں۔“وہ دھیمے قدم اٹھاتا ان کے پاس آیا۔
”میرا بچہ……ماسی کی جان۔“ ردابہ حمزہ کو دیکھتے ہی کھل اٹھی تھی۔ شیری نے ردابہ کے گھٹنے سے سر اٹھایا اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ ردابہ نے حمزہ کو گلے لگایا، اس کے دونوں گال چومے۔ وہ سعادت مند بچے کی طرح کھڑا رہا اور پھر اس کے پاس ہی صوفے پر بیٹھ گیا۔ شیری نے دوبارہ ردابہ کے گھٹنے پر سر رکھ لیاتھا۔
”کیسا ہے میرا پیارا بچہ؟“ ردابہ حمزہ پر واری جا رہی تھی۔
”بہتر ہوں۔“ حمزہ کا سر ردابہ کے کندھے پر تھا اور وہ ایک ہاتھ اس کے گال پر رکھے ہوئے تھی۔
”آپ مجھے بتا دیتی، میں آپ کو پک کر لیتا۔“حمزہ ردابہ سے کہہ رہا تھا۔
”ارے نہیں‘شیری ہے نا‘ یہ ہی لے آیا تھا مجھے۔“ ردابہ نے حمزہ کو نہیں بتایا کہ اس کو بلانے والا بھی شیری ہی تھا۔ حمزہ نے اس کے کندھے پر سر رکھے ہی لاؤنج مین ادھر ادھر دیکھا، پھر نظر کچن کی طرف اٹھی اور کچن سے ہوتی نیچے بند کمرے پر پڑی جہاں کل رات حیا رکی تھی۔ بند کمرے کو دیکھ کر اس نے یوں ہی گہرا سانس خارج کیا اور آنکھیں موند لیں۔ ردابہ سے اس کی بے چینی چھپی نہیں تھی‘تبھی وہ پیار سے بولی تھی۔
”کیا بات ہے‘کچھ چاہئیے؟“ شیری نے سر اٹھا کر حمزہ کو دیکھا‘ حمزہ نے چونک کر آنکھیں کھولیں اور شیری نے منہ بنا کر دوبارہ ردابہ کے گھٹنے پر سر ٹکا دیا۔
”اونہوں۔“پھر حمزہ نے شیری کو چڑانے کو اس کے سلیقے سے کھڑے بالوں میں ہاتھ مارا۔
”صبح سے کہاں تھے تم؟“ اس کا لہجہ رات کی نسبت کافی بدلہ ہوا تھا۔ شیری نے اسکا ہاتھ پیچھے کیا اور منہ دوسری طرف پھیر لیا‘حمزہ نے بے بسی سے ردابہ کی طرف دیکھا۔ اس نے حمزہ کو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ سمجھ جائے گا۔
”شیری بھائی کچھ کہہ رہا ہے۔“ردابہ نے اسے بلایا۔
”مجھے بات نہیں کرنی۔“ وہ انگلی سے کارپیٹ پر لکیریں کھینچ رہا تھا۔
”شیری ی ی ی…..“ ردابہ نے اسے تنبیہہ کی۔
”ہاں تو ماسی یوں نہیں ہوتا‘ آپ اس وقت ان کو دیکھتیں‘کس طرح سے انہوں نے بھابھی کو جکڑا ہوا تھا۔ وہ تو ہل بھی نہیں پا رہی تھیں‘مجھے ان سے خوف آرہا تھا۔“وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا۔وہ کل رات واقعی آپے سے باہر تھا‘اسے احساس تھا۔تبھی حمزہ اسے بغور سن رہا تھا لیکن شیری نے اس سے نظریں نہیں ملائی۔
”پہلے کبھی اس نے یوں کیا ہے‘نہیں نا؟“ ردابہ نے سنجیدگی سے شیری کو دیکھا۔
”نہیں پر…..اب بھی کیوں؟ ماسی‘مجھے بہت ڈر لگا اس وقت‘ انہوں نے کہا ان کو کسی کی ضرورت نہیں…..میری بھی نہیں۔ میری۔“شیری نے خود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آخری لفظ پر زور دیا۔
”بس میں نے بھی فیصلہ کر لیا ہے اگر ان کو میری ضرورت نہیں‘ تو میں بھی یہاں نہیں رہوں گا۔ آپ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں۔“وہ دوبارہ ردابہ کے گھٹنے پر سر رکھ کر بیٹھ گیا تھا۔ حمزہ کو شیری کے اس کے ساتھ نہ رہنے والے فیصلے نے تکلیف دی تھی۔ سب ہی تو اس کو چھوڑ گئے تھے تو چلو شیری بھی نہ سہی۔
”تم جانا چاہتے ہو تو چلے جاؤ‘میں روکوں گا نہیں۔“ اس نے پتھر دلی سے کہا‘اسکے الفاظ شیری پر سخت گزرے تھے۔ شیری نے سر اٹھا کر حمزہ کو دیکھا جیسے وہ یقین کرنا چاہتا ہو کہ یہ الفاظ حمزہ کے ہی تھے۔ ردابہ نے حمزہ کو قدرے تنبیہی انداز سے دیکھا۔
”چلا جاؤں؟“شیری نے حمزہ کو بغور دیکھا تھا۔
”بھائی کے بغیر رہ سکتا ہے؟“حمزہ نے اس کے سوال کے جواب میں سوال کیا۔ اس کے لہجے میں اعتماد اور شیری کے لیے محبت تھی۔ شیری زیادہ دیر حمزہ سے ناراض نہیں رہ سکتا تھا‘ اس کو چھوڑ کر جانا تو بہت دور کی بات تھی۔ اور ایسا ہی ہوا تھا‘ کافی دیر شیری یوں ہی خاموش بیٹھا رہا پھر وہ اٹھ کر صوفے پر آگیا۔
”حمزہ سر‘آج میں جو ہوں آپ کی وجہ سے ہوں۔ اتنے پیارے رشتے آپ نے ہی مجھے دیے ہیں۔“ وہ ردابہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ حمزہ نے اس کے گال پر ہاتھ رکھا جو جھٹ سے شیری نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا۔
”آپ ویسے ہی اچھے لگتے ہیں سب کا خیال رکھتے ہوئے‘سب سے پیار کرتے ہوئے۔ آپ یوں چیختے چلاتے کسی کو تکلیف دیتے اچھے نہیں لگتے۔“ اس کی آنکھیں جھلملا رہی تھیں۔
”اب تو روئے گا‘سب کو پتا چلے گا تو وہ ہنسیں گے۔“حمزہ نے ا س کا دھیان بٹانا چاہا۔
”آپ بات نہیں بدلیں‘ماسی آپ کہیں ان سے۔“ وہ دوبارہ نیچے آکر بیٹھ گیا۔
”ہاں کہہ دوں گی اور سمجھا بھی دوں گی۔ تم فکر نہیں کرو‘بس بھائی کا خیال رکھو۔“ ردابہ نے شیری کے سر پر پیار دیا۔
”اب چلو شاباش اٹھو اور گلے لگاؤ بھائی کو۔“
”آپ پہلے ان سے کہیں کہ وعدہ کریں‘یہ دوبارہ ایسے نہیں کریں گے اور آپ ڈانٹیں بھی تو…آپ نے ان کو کچھ بھی نہیں کہا۔“ وہ صحیح کہہ رہا تھا۔ ردابہ جب سے آئی تھی وہ شیری کو ہی سمجھائے جا رہی تھی۔ اس نے ایک بار بھی حمزہ سے اس کے رویے کی وجہ جاننا نہیں چاہی۔
”سمجھاؤں گی بھی اور ڈانٹوں گی بھی‘لیکن اچھا تھوڑی لگتا ہے چھوٹے بھائی کے سامنے اسے ڈانٹوں۔ہاں؟“
”اب شاباش اٹھو۔“ وہ شیری کو پچکار رہی تھیں۔حمزہ اس کے بدلتے تاثرات کا جائزہ لے رہا تھا،شیری منہ بنائے بیٹھا تھا اور اب بات کرتے وقت وہ حمزہ کو بھی اپنی خفگی دکھا رہا تھا۔
”مجھے پتا ہے آپ ان کی سائڈ پر ہی ہیں۔“وہ احتجاج کرنے لگا۔
”اب تم کھڑے ہوتے ہو کہ نہیں۔“ردابہ نے اسے ڈانٹا۔
”مجھے ڈر لگتا ہے، پہلے آپ ان سے کہیں کہ یہ مسکرائیں۔“ شیری اتنی جلدی کہاں ماننے والا تھا۔
”حمزہ بھئی‘مسکرا دو میرے بچے کے لیے۔“ ردابہ نے حمزہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
”کھڑا ہو‘ڈرامے باز۔“ حمزہ ردابہ سے الگ ہو کر کھڑا ہو گیا تھا اور ہاتھ سے شیری کو بھی کھڑے ہونے کا اشارہ کیا۔
”آئندہ آپ نے یوں کیا‘ تو بات نہیں کروں گا آپ سے میں۔“
وہ بھی کھڑا ہو گیا تھا۔ اب دنوں بھائی ایک دوسرے کے گلے لگے کھڑے تھے۔
”اللہ میرے بچوں کو کسی کی نظر نہ لگائے۔“ ردابہ کھڑی ہو چکی تھی۔ اس نے اپنے فون میں دونوں کی اسی طرح تصویر لی تھی۔
”ایوری باڈی لوز دس حمزہ۔“ حمزہ سے الگ ہوتے ہوئے شیری نے اسے بتایا‘لیکن حمزہ جانتا تھا وہ ایسا نہیں تھا۔ اصل حمزہ وہ ہی تھا جسے وہ رات دیکھ چکا تھا۔جس کی تکلیف اتنی تھی کہ وہ کسی سے ملنا نہیں چاہتا تھا لیکن کام ایسا کہ وہ خود کو کمرے میں بند کر کے نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ لوگوں میں بیٹھا‘ وہ سنجیدہ اور دھیمی طبیعت کا معلوم ہوتا تھا‘لیکن اس کے ماضی کا شور اسے رات کی خاموشی میں ہر رات مارتا تھا اور ہر صبح وہ پر سکون حمزہ بن کر کمرے سے باہر نکلتا۔
”کیا ماسی‘ابھی بھی آپ کو اسی طرح فوٹوگرافی کا شوق ہے۔“ شیری نے اپنی اور حمزہ کی تصویر دیکھتے ہوئے کہا‘تو حمزہ اپنے خیالوں سے باہر آیا۔
”اپنے بچوں کو ایسے ایک دوسرے سے محبت کرتے دیکھ کر کون سی ماں خوش نہیں ہوتی؟“وہ حمزہ کا ماتھا چوم رہی تھی۔
”بچوں کو؟ یہ کہیں صرف حمزہ سر کو۔“وہ منہ بنا ئے کھڑا تھا۔
”ادھر آؤذراتم‘کتنی بار سمجھایا ہے کہ بھائی کہا کرو۔“ردابہ نے شیری کا کان کھینچا۔
”اچھا اچھا‘درد ہو رہا ہے‘ چھوڑ دیں..اب سے حمزہ بھائی ہی کہوں گا۔“ وہ درد سے کراہا۔
”گڈ بوائے۔“ردابہ ہنسی اور شیری کان سہلاتا پیچھے ہو‘ حمزہ کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی۔
ردابہ حمزہ کی ماں کی چھوٹی بہن تھی۔ اس کی عمر لگ بھگ انتالیس چالیس ہو گی۔ لیکن اپنے پہننے اوڑھنے سے وہ تیس پینتیس کی ہی لگتی تھی۔ پیشے سے وہ ڈاکٹر تھی اور شادی بھی انہوں نے ڈاکٹر سے ہی کی تھی۔ حمزہ ہمیشہ سے ہی ردابہ کے قریب رہا تھا۔ وہ اپنی ہر بات حمزہ سے شیئر کرتی،ہر معاملے میں اس سے مشورہ لیتی اور یہ ہی حال حمزہ کا تھا۔ ردابہ اس کے لیے خالہ سے زیادہ اچھی دوست تھی۔تبھی حمزہ کو ایک سوئی بھی چبھ جاتی تو ردابہ سب کچھ چھوڑ کر اس کے پاس آجاتی تھی۔اور اب بھی وہ سب کچھ چھوڑ کر راتوں رات حمزہ کے پاس آگئی تھی۔
ردابہ نے دونوں کے لیے ان کا پسندیدہ کھانا بنایا۔ وہ تینوں اب ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے لنچ کر رہے تھے۔ سامنے کرسی پر حمزہ تھا اور اس کے داہنے طرف شیری اور اس کے سامنے ردابہ بیٹھی تھی۔
”ماسی‘آپ یہیں کیوں نہیں رہ جاتیں؟“کہنے والا شیری تھا۔
”کیوں تم مجھے مس کرتے ہو؟“ردابہ کو اس سے کسی الٹی بات کی ہی توقع تھی۔
”نہیں حمزہ بھائی مس کرتے ہیں آپکو۔ میں بھی کرتا ہوں لیکن جب بی اماں کا بنایا پھیکا کھانا کھانا پڑتا ہے تب۔“اس نے سنجیدگی سے کہااور ردابہ مسکرائی۔
”اس لڑکی کو بھی بلا لیتے۔“وہ حیا سے اس لڑکی پر آگیا تھا۔
”کس کو؟“ ردابہ حیران ہوئی تھی۔ حمزہ نے شیری کی طرف دیکھا‘وہ اپنی پلیٹ پر جھکا رہا۔
”شیری حیا کو بلا لو۔“جب اس نے سر نہیں اٹھایا تو حمزہ نے اسے مخاطب کیا۔
’وہ نہیں آئیں گی۔“شیری نے اوپر دیکھے بغیر کہا۔
”تو اندر ہی دے آؤ۔“ حمزہ نے بظاہر لا پرواہی دکھائی۔
”اندر بھی نہیں کھا سکتیں۔“ شیری بد ستور پلیٹ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ حمزہ نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پہلے ردابہ پھر شیری کو دیکھا۔
”میں نے اسے گھر سے نکال دیا ہے۔“کہنے والی ردابہ تھی اورحمزہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ منہ میں جاتی چمچ رک گئی تھی‘اس نے ہاتھ نیچے گرایا۔
”لیکن کیوں؟“ اس کا لہجہ سخت اور آواز بلند تھی۔
”جو کوئی میرے بچے کو تکلیف دے گا‘ وہ یہاں نہیں رہ سکتا۔“ردابہ نے حمزہ کے گال کو پیار سے چھوا۔
اس کے دماغ میں کئی جھماکے ہوئے تھے، کوئی ہنسا بھی تھا شاید۔ ایک اور زندگی تمہاری وجہ سے تباہ ہو گئی۔ ہنسنے والے کی آواز آئی تھی۔
حمزہ کی چمچ پر گرفت مضبوط ہو گئی تھی۔ اس کے ہاتھ کی رگیں نمایاں ہوتی جا رہی تھیں‘اس کے چہرے کی سختی بڑھ گئی تھی۔
”بھائی؟“ شیری اس کے بدلتے ہوئے تاثر دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا۔
”ہاں۔“ حمزہ نے چونک کر سر اٹھایا۔ ردابہ اور شیری اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ حمزہ کے گلے میں گلٹی ڈوب کر ابھری۔ اس کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا تھا اور حلق کانٹا ہو چکا تھا۔
”آئی تھنک آئی ایم ڈن۔“
وہ کھڑا ہو گیا تھا‘ پلیٹ میں پڑی بریانی سے اب تک دھواں نکل رہا تھا۔ وہ باہر نکل گیا اور پیچھے میز پر بیٹھے لوگوں کا دل بھی بوجھل ہو گیا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!