Haya Novel By Fakhra Waheed ep 9

Haya novel by Fakhra Waheed

رات کے گیارہ بج رہے تھے‘جب بیرونی دروازے کو کسی نے آرام سے کھولا اور قدموں کی چاپ حمزہ کے کمرے میں گم ہو گئی تھی۔ دوپہر کے کھانے کے بعد گھر سے نکلا‘ وہ اب آیا تھا اور آتے ہی وہ بستر پر ڈھے گیا تھا۔ جب وہ آیا تو پورا گھر اندھیر تھا اور روشنی کی ضرورت اسے بھی محسوس نہیں ہوئی تھی کہ روشنی کی بے جان کرنیں اس کے ماضی میں جان بھر دیتی تھیں اور ماضی کے واقعات زندہ انسانوں کی طرح اس کے سامنے گھومنے لگتے تھے۔ اندھیرے میں بھی دیکھا جا سکتا تھا کہ کمرے کی ہر چیز سلیقے سے اپنی جگہ رکھی تھی۔ کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کل رات یہاں کوئی طوفان آیا تھا۔ ردابہ کو حمزہ کے سکون کا اس قدر خیال تھا کہ اس نے حمزہ کے بیسمنٹ سے آنے سے پہلے ہی اسے تکلیف دینے والی ہر چیز ہٹا دی تھی۔ پھر چاہے وہ کمرے میں بکھری پرفیوم کی ٹوٹی شیشیاں ہوں‘بے جان تصویریں ہوں‘یا جیتی جاگتی حیا۔
ابھی اسے آئے پندرہ منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ دروازے کے باہر کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی اور حمزہ نے جھٹ سے آنکھیں بند کر کے بازو سے چہرہ ڈھک لیا۔آنے والے نے دروازہ کھولا اور اندھیرے میں اس کا سر دروازہ سے نکلتا نظر آیا۔
”بھائی‘آپ جاگ رہے ہیں؟“جب چند سیکنڈ حمزہ کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تو دوبارہ آہستہ سے بند ہو گیا۔ حمزہ نے دروازہ بند ہونے کی آواز پر منہ سے بازو ہٹایا، اور دروازے کی طرف دیکھا‘ دروازہ بند دیکھ کرا س نے ایک گہرا سانس بھرا۔
کیا کمی تھی حمزہ کو؟ پیار کرنے والے رشتے تھے جومشکل وقت میں اسے تھام سکیں، اور سبھی اس پر جان نچھاور کرتے تھے مگر وہ سب سے بھاگ رہا تھا۔ اپنی ماسی سے بھاگ رہا تھا، اپنے بھائی سے بھاگ رہا تھا، حتی کہ وہ خود سے بھی بھاگ رہا تھا۔
پہلے زندگی میں مسائل کم تھے کہ اب حیا کی ٹینشن بھی اسی کے سر آن پڑی تھی۔ اگر حیا کو کچھ ہو گیا تو؟ یہ سوچ کر ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے۔ وہ کس کس کو مارے گا؟ شاید سب کی لاشیں دیکھ کر ہی اسے چین آنا تھا۔
کافی دیر وہ چھت کو گھورتارہا‘، پھر اس نے بیڈ پر ہاتھ مار کر اپنا فون ٹٹولا اور علی کا نمبر ملایا۔
”ہاں کچھ پتا چلا؟“سلام دعا کیے بغیر وہ پوچھ رہا تھا۔
”نہیں یار‘ابھی ڈھونڈ رہے ہیں۔“دوسری طرف سے جواب آیاتو حمزہ نے بند مٹھی بیڈ پر ماری تھی۔
”اس کے گھر دیکھا؟“
”ہاں سب سے پہلے وہیں پتا کیا تھا‘مگر وہاں تالا پڑا ہوا تھا۔“ دوسری طرف بات مکمل کر دی گئی مگر وہ خاموش لیٹا رہا تو دوسری طرف سے دوبارہ علی کی آواز ابھری۔
”تو فکر نہ کر، جیسے ہی کچھ پتا چلتا ہے‘میں تجھے فون کرتا ہوں۔“ اور حمزہ نے بغیر کچھ کہے فون بند کر دیا۔ اب پھر ایک لمبی رات تھی‘جسے سوچوں، پچھتاوں اور اذیت کی کھائی میں اسے تنہا کاٹنا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”ہیلوپیارے آدمی۔“ وہ سو رہا تھا جب اس کا فون بجا۔
”بائے۔“ اس نے فون کو کان پر رکھ کر کروٹ لی۔
”سو رہے تھے؟“
”تقریبا۔“ وہ نیند میں بڑبڑایا۔
”بتاؤ اوپر کیا ہے۔“ اس نے عجیب سوال کیا تھا۔
”اوپر چھت ہے رانیہ۔“
”اچھا بتاؤ 2+2 کتنے ہوتے ہیں۔“وہ شاید اسکی ریاضی کا امتحان لے رہی تھی۔
”تم جیسے لوگوں کے لیے ہی کیلکولیٹر بنایا گیا ہے۔“وہ ابھی سویا تھا اور اس وقت اسے اپنی نیند سے پیارا کچھ نہیں تھا۔ جوابا وہ مسکرائی تھی۔
”بتاؤ ناپلیز۔“اپنے گھر کے اسٹڈی روم میں بیٹھی وہ ضد کر رہی تھی۔
”چار۔“ وہ اسی طرح نیند میں بڑبڑایا۔
”اچھا‘ چاند پر جائیں تو زمین نیچے نظر آتی ہے یا اوپر؟“اب وہ فزکس کاامتحان لے رہی تھی۔
”آپ کا مطلوبہ نمبر سو رہا ہے‘دو گھنٹے بعد وہ خود آپکو کال کر لے گا‘شکریہ۔“کہہ کر حمزہ نے فون رکھ دیا۔ چند سیکنڈ ہی گزرے ہوں گے کہ اسکا فون دوبارہ بجا، اس نے بند آنکھوں سے ہی فون کان سے لگایا تھااور اس کے بولنے کا انتظار کیے بغیر بولاتھا۔
”رانیہ‘ قسم سے ابھی میں دو دن بعد سو رہا ہوں اور….“اس کی بات ادھوری رہ گئی تھی۔ رانیہ نے اس کی بات کاٹ دی تھی۔ حمزہ کے کان میں وہ سرگوشی کر رہی تھی۔
For all those times you stood by me
For all the truth that you made me see
For all the joy you brought to my life
For all the wrong that you made right
For every dream you made come true
found in you For all the love I
I’ll be forever thankful baby
”ہیپی برتھ ڈے……ہیپی برتھ ڈے……ہیپی برتھ ڈ ے ٹو یو۔ ہیپی برتھ ڈے پیارے لڑکے۔“ بے اختیار حمزہ کی نظر وال کلاک پر گئی تھی‘ پورے بارہ بجے تھے‘ وہ مسکرایا۔
”ہیپی برتھ ڈے مائی لو…ہیپی برتھ ڈے ٹو دی بیسٹ ہسبنڈ آف دی ورلڈ….ہیپی برتھ ڈے ٹو مائی بیسٹ فرینڈ….ہیپی برتھ ڈے ٹوڈئیر ایس پی صاحب۔“ رانیہ کی وش اب تک ختم ہونے کو نہیں آئی تھی۔ وہ بولے جا رہی تھی اور حمزہ کی مسکراہٹ گہری ہوتی جا رہی تھی، آنکھیں کھلتی جا رہی تھیں۔
”آئی لو یو…..آئی لو یو ایس پی صاحب…..“ بالآخر رانیہ چپ ہوئی، حمزہ نے اوپر کو ہو کر بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائی تھی۔ اس کی ساری تھکن اتر چکی تھی اور پھر حمزہ نے لب کھولے۔ اس نے وہیں سے انگریزی گانا پکڑا جہاں سے رانیہ نے چھوڑا تھا۔
You were my strength was weak when I
You were my voice couldn’t speak when I
You were my eyes couldn’t see when I
You saw the best there was in me
Lifted me up couldn’t reach when I
You gave me faith ’cause you believed
I’m everything am I
Because you loved me
”تھینک یو پیاری لڑکی۔“ اس نے رانیہ کے انداز میں ہی اسے شکریہ کہا اور اس کے اس انداز پر رانیہ کے گال سرخ پڑے تھے۔ رانیہ کی حمزہ کے لیے محبت ایسی ہی تھی وہ حمزہ کا ہر دن بڑے دل سے مناتی تھی۔ حمزہ اس کے ساتھ ہوتا یا نہ ہوتا، اس کی برتھ ڈے کے دن عین بارہ بجے کیک ضرور کٹتا تھا‘پھر دوسرا کیک حمزہ کے گھر جانے پر وہ خود کاٹتا اور حمزہ کی ہر سالگرہ پر تحفہ رانیہ کو دیا جاتا تھا۔
”لو یو الاٹ۔“ان دو لفظوں میں رانیہ نے اپنی جان رکھ دی تھی۔
”لو یو ٹو۔“ حمزہ پر دوبارہ غنودگی چھا رہی تھی تبھی وہ آنکھیں بند کیے ہوئے آہستہ سے بولا۔ کافی دیر وہ چپ حمزہ کے بولنے کا انتظار کرتی رہی۔ وہ نہیں بولا تو حمزہ کے کان میں اس کی آواز ابھری۔
”حمزہ؟“ وہ کچھ نہیں بولا، تو وہ دوبارہ قدرے اونچا بولی۔
”حمزہ تم مجھے سن رہے ہو؟“
”حمزہ؟ ڈونٹ ٹیل می تم سو گئے ہو۔“
”حمزہ…..بولو یار۔“
”حمزہ میں تم سے بات نہیں کروں گی پھر۔“
کافی دیر اسے بلانے کے بعد رانیہ نے فون کاٹ دیا تھا۔ پھر کال کی مگر وہ سویا رہا۔ دو تین بار کال کرنے کے بعد رانیہ نے بھی کوشش ترک کر دی اور کوئی بیسیوں میج حمزہ کے لیے چھوڑے تھے۔
”تم سوئے رہو….اب کبھی تمہارا برتھ ڈے سیلیبریٹ نہیں کروں گی۔“
”تم کبھی پرواہ نہیں کرتے…..کیک بھی لے کر آئی تھی وہ بھی نہیں کٹوایا۔“
”بات نہیں کرنا تم مجھ سے اب۔“
”آئی ہیٹ یو۔“
ایسے بہت سے میسج حمزہ نے اٹھ کر دیکھے تھے اور پھر ایک ہفتہ وہ اسے میسج کر کر کے مناتا رہا تھا۔
”اچھا سنو‘اس بار دو گفٹس لاؤں گا…اور وہ بھی تمہاری مرضی کے۔“
”مان جاؤ۔“
”میں سچ میں سو گیا تھا..تھکا ہوا تھا۔“
”یار دو دن بعد سونے کو بیڈ ملا تھا۔“
”اچھا سنو‘ آئی لو یو۔“ اس نے آخری پینترا پھینکا تھا اور جھٹ سے جواب آیا تھا۔
”آئی لو یو ٹو۔“ آفس میں فائل کو ایک ہاتھ سے کھولتے ہوئے وہ مسکرایا تھا۔ گہری سانس باہر خارج کی اور پھر رانیہ کو اسکائپ کال ملائی۔ جو پہلی رنگ پر ہی اٹھا لی گئی تھی۔
”تھینک گاڈ تم مانی تو۔“ خوشی حمزہ کے چہرے سے چھلک رہی تھی۔
”پہلے یہ کیک کاٹو۔“ وہ اب مصنوعی خفگی دکھا رہی تھی۔ حمزہ نے اثبات میں سر ہلایا اور رانیہ نے ایک کیک کیمرہ کے سامنے کیا۔ جسے رانیہ نے خود کاٹ کر خود ہی کھایا تھااور حمزہ بس اسے دیکھتا رہا۔
”اب یوں مت دیکھو مجھے‘آئی فیل نروس۔“ کیک کیمرے کے آگے سے ہٹاتی وہ بولی اور حمزہ کرسی پر پیچھے کو ٹیک لگاتے ہوئے ہنسا تھا۔
”اپنی بیوی کو ہی دیکھ رہا ہوں….اور یہ دیکھ رہا ہوں کہ میرے بعد تمہارا کیا ہو گا۔“ انگلی سے کیک چاٹتے اس کا ہاتھ یک دم رکا تھا اور وہ سپاٹ چہرہ لیے حمزہ کو دیکھتی رہی۔حمزہ کو اپنے الفاظ کا اندازہ ہوا تو وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
”میرا مطلب ہے اگر…“
”بس کر دو اب۔“ رانیہ بگڑی گئی تھی۔
”شرافت سے گھر آجانا اس ویک اینڈ پر‘ آئی مس یو الاٹ۔“ وہ سنجیدہ تھی‘حمزہ نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا یا۔
”آجاؤں گا…ا ن شاء اللہ۔“
”اور ہاں ایسی باتیں مت کیا کرو۔“
”جو حکم میڈم کا۔“سر کو خم دیتے ہوئے وہ پھر مسکرایا۔
”ہو از دس ہینڈسم بوائے؟“ وہ چونکا۔ مگر پلٹا نہیں کیونکہ سنگھار میز کے شیشے میں ردابہ کا عکس اسے واضح دکھائی دے رہا تھا۔ وہ آفس کی کرسی کے بجائے اپنے کمرے میں کھڑا تھا۔ اس کے تخیل کا طلسم ٹوٹ گیا تھا‘ مسکراہٹ سمٹ گئی تھی۔ آنکھوں کی شوخی ماند پڑ گئی تھی۔
”ماسی ی ی….یہ سب ضروری ہے؟ آپ کو پتہ ہے مجھے اب یوں برتھ ڈے منانا اچھا نہیں لگتا۔“ اپنے اعصاب پر قابو پاتے ہوئے وہ مڑا۔
”بچے گھر کا ماحول تین دن سے اتنا ٹینس ہے۔ شیری خوش ہو جائے گا اور تمہیں بھی اچھا لگے گا۔“ ردابہ نے پاس آکر اس کے گال پر ہاتھ رکھا اور پھر ردابہ کا اگلا قدم دیکھتے ہوئے حمزہ جھکا۔ ردابہ اس کا گال چوم رہی تھی۔
”بہت پیارا لگ رہا ہے میرا بچہ۔“
”میں نیچے جا رہی ہوں‘ تم بھی جلدی سے آ جاؤ سب انتظار کر رہے ہیں۔“ ردابہ کہہ کر کمرے سے نکل گئی اور حمزہ کھڑا دروازے کو دیکھتا رہا۔
دو دن وہ بے حد مصروف رہا تھا اور اب جب وہ گھر آیا تو پورا اسکواڈ وہاں موجود تھا۔ حمزہ کی سالگرہ تھی۔ لاؤنج کو برتھ ڈے وینیو میں بدل دیا گیا تھا اور ردابہ کے اصرار پر حمزہ چینج کرنے اوپر آیا تھا۔
شیشے کے سامنے کھڑا رانیہ کی پسند کی ڈریسنگ کیے وہ ماضی میں چلا گیا تھا۔ دو دن بعد یا دس دن بعد وہ جب گھر جاتا رانیہ اس کی گزری سالگرہ ضرور مناتی تھی۔ رانیہ کے بعد یہ پہلی بار تھا کہ وہ اپنی سالگرہ منا رہا تھا یا کہا جائے ردابہ نے یہ ممکن کر دیا تھا۔
حمزہ کے کمرے سے نکل کر سیڑھیوں سے نیچے لاؤنج تک مختلف پھولوں سے سجاوٹ کی گئی تھی اور سیڑھیوں کے ساتھ کالے غبارے لگے ہوئے تھے۔ لاؤنج کے ایک کونے میں میز لگا تھا‘ جس پر کیک، پیسٹریز، مختلف برتھ ڈے پراپس پڑے تھے۔ میز کے پیچھے دیوار پر گولڈن رنگ کا مصنوعی بیک گراؤنڈ تھا۔ صوفوں کو گھما کر میز کی طرف کر دیا گیا تھا۔
سفید ٹی شرٹ پر بلیو جیکٹ پہنے وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا کمرے سے باہر آیا تھا۔ ایک نظر رک کر لاؤنج کا اور لاؤنج میں کھڑے لوگوں کا جائزہ لیا،یہاں تک کہ شیری کی نظر حمزہ پر پڑی۔
”سو‘دی برتھ ڈے بوائے از ہیئر۔“ حمزہ کو دیکھتے ہوئے اس نے اعلان کیا۔حمزہ سیڑھیاں اترنے لگا۔
”برتھ ڈے بوائے؟ پھرتو تو دودھ پیتا بچہ ہے‘ تو میرے بچے نے تھانا تھایا۔“ شیروان نے لقمہ دیا اورشیری نے آنکھیں گھمائی۔ ”بکواس نہ کر۔“ سب ان کی نوک جھونک سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ حمزہ آخری سیڑھی اتر ا تو علی نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا۔
”کیسا ہے میرا شیر۔“
”مجھے کیا ہونا ہے‘ تو سنا؟ کام کہا تھا‘ کچھ پتا چلا حیا کا؟“ آخری دو الفاظ پر اس نے منہ علی کے کان کے پاس لے جاتے ہوئے کہا۔
”ہو جائے گا کام……تو فکر نہ کر۔“ حمزہ سے الگ ہوتے علی نے اس کا کندھا دبایاتھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
”اسلام علیکم ماں جی۔“
”وعلیکم اسلام۔“ عورت نے اپنی عینک ٹھیک کرتے ہوئے اسے جواب دیا۔و ہ ادھیڑ عمر خاتون تھی جس نے دروازہ کھولا تھا۔
”یہ ساتھ والے گھر میں کوئی نہیں رہتا؟“ حمزہ نے احتیاطاً گھر والوں کا نام نہیں لیا تھا۔
”نہیں‘تم نے خریدنا ہے، تو انتظار کرنا پڑے گا۔ ان کے لڑکے سال بعد باہر سے آتے ہیں ان سے بات کر لینا۔“ عورت نے خود ہی مطلب نکالا تھا۔
”تو یہاں کوئی نہیں رہتا‘ مطلب ان کا کوئی رشتے دار وغیرہ۔“
”رہتا بھی ہو تو تم سے مطلب؟“ ادھیڑ عمر عورت نے اسے گھورا۔
”نہیں مطلب تو کوئی نہیں۔“
”تو؟“ وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
”ماں جی‘ میرا تعلق پولیس سے ہے۔“ وردی میں ہونے کے باوجود اس نے اپنا تعارف کرایا۔
”تو میں کیا کروں؟“ حمزہ کوا س جواب کی توقع نہیں تھی تو وہ گڑبڑایا۔
”ویسے شکل سے تو تم کوئی مشٹنڈے ہی لگتے ہو۔“عورت نے اب کہ اس کو نیچے سے اوپر تک دیکھتے ہوئے کہا۔کچھ دیر وہ یوں ہی کھڑا اس عورت کو دیکھتا رہا۔
”یہ کیا چیز ہے؟“ حمزہ نے دل میں سوچا۔
”گالیاں نکال رہے ہو مجھے؟“عورت نے اپنی عینک کے اوپر سے اسے دیکھا۔
”گالیاں؟“ حمزہ کو یاد نہیں آیا کبھی اس نے ہوش و حواس میں کوئی گالی دی ہو۔
”بی بی‘ہمارے ساتھ تعاون کریں۔“وہ کس عذاب میں پھنس گیا تھا۔
”میں نہیں کرتی تعاون‘ کر لو جو کرنا ہے۔“
”ہاں؟“ حمزہ اس عورت کی دیدہ دلیری پر حیران تھا۔
”تم جیسے لڑکے یوں ہی آتے ہیں محلے کی عورتوں کو چھیڑنے۔“ حمزہ کو خاموش دیکھ کر اس نے دوبارہ منہ کھولا۔حمزہ کو لگا کسی نے اس کے سر پر کچھ گرا دیا ہو۔
”کہیں تم فوزیہ کی لڑکی کو نکالنے تو نہیں آئے؟ بہتیری بار میں نے اس کو یوں ہی ایسی گاڑی میں آتے جاتے دیکھا ہے۔“ اس نے حمزہ کی گاڑی کی طرف اشارہ کیا۔
”اور شکل سے تو ویسے بھی تم آوارہ ہی لگتے ہو۔“عورت نے منہ بنایا۔حمزہ کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا، ایسا کامپلیمنٹ اسے کبھی کسی نے نہیں دیا تھا۔
”اماں کون ہے؟“ حمزہ نے کچھ کہنے کو منہ کھولا ہی تھا کہ پیچھے سے ایک آدمی نمودار ہوا‘پھر با وردی آدمی کو دیکھ کر وہ ذرا گھبرایا۔
”سر‘ سب خیریت ہے؟“
”یہ آپ کے ساتھ والے بنگلے میں کوئی نہیں رہتا؟“ حمزہ نے مطلب کا سوال کیا۔
”رہتے تھے‘لیکن ایک مہینہ پہلے ان کی لڑکی کہیں غائب ہو گئی تھی۔“آدمی نے کہا۔
”بڑھاپے میں باپ کی کمر توڑ دی منحوس ماری نے‘ بڈھا بھی دو دن بعد چل بسا تھا۔“ ادھیڑ عمر عورت بولی۔
”تو وہ لڑکی واپس نہیں آئی؟“ حمزہ نے عورت کو نظر انداز کرتے ہوئے لڑکے سے پوچھا۔
”ارے کاہے کو آتی؟ کوئی واپس آنے کے لیے تھوڑی نا گھر سے بھاگتا ہے۔“ عورت منہ سے خرافات نکال رہی تھی۔حمزہ کا اندازہ غلط نہیں تھا۔ ایسے کیسز میں پچانوے فیصد لوگ لڑکی کو قصور وار ٹھہرا دیتے ہیں اور قبول کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
”اماں تو اندر جا۔“آدمی جو غالباً اس عورت کا بیٹا تھا، وہ ماں کی ان باتوں سے شرمندہ ہو رہا تھا۔
”ہاں ہاں جا رہی ہوں‘پر یاد رکھیو‘یہ ہی لڑکا فوزیہ کی لڑکی کو بھگائے گا۔“حمزہ کا دل چاہا وہ اپنا سر دیوار میں مار دے۔
”معاف کیجیے گا، ان کا ذہنی توازن تھوڑا ٹھیک نہیں ہے۔“آدمی شرمندہ سا شرمندہ تھا۔ حمزہ تکلفا مسکرایا۔
”تھینک یو۔“ہاتھ ملاتا وہ واپس گاڑی میں آکر بیٹھ گیا تھا اور اب اسکی گاڑی کا رخ تھانے کی طرف تھا۔
…………………………….
حمزہ پولیس اسٹیشن گیا تھا تا کہ وہ فریحہ سے حیا کی گمشدگی کے بارے میں ہوئی جانے والی پیش رفت پوچھ سکے۔ فریحہ وہاں نہیں تھی پھر اس نے سوچا وہ علی سے مل لے لیکن اس کا دل نہیں چاہا اور وہ گھر آگیا تھا۔اس نے کپڑے نہیں بدلے تھے اور وردی پہنے ہی صوفے پر ڈھے گیا تھا۔ بے زاری سے چینل بدلتے اس نے ردابہ کو سامنے کمرے سے نکلتے دیکھا تھا۔
”جلدی آگئے تم؟“ اپنے بال بن کی شکل میں باندھتے ہوئے وہ حمزہ کے قریب آئی۔
”جی۔“ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔
”تم پریشان ہو؟“ وہ حمزہ کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی۔
”نہیں تو۔“ اس نے گردن موڑ کر ردابہ کو دیکھا اور پھر دوبارہ سیدھا ہو گیا۔
”میرا بچہ مجھ سے ناراض ہے؟“ ردابہ نے پیار سے اس کے بالوں کو ہاتھ لگایا۔
”نہیں‘ میں کیوں کسی سے ناراض ہونے گا۔“ اس نے ردابہ کی طرف نہیں دیکھا تھا۔وہ صوفے کی پشت پر کہنی ٹکائے اسے دیکھتی رہی۔حمزہ کافی دیر اس کا دیکھنا نظر اندازکرتا رہااور پھر اسکی برداشت جواب دے گئی۔
”ماسی‘آپ ایک بار مجھ سے پوچھ تو لیتی۔آپ نے حیا کو کیوں گھر سے نکال دیا‘ کیوں؟آپ مجھ سے پوچھتیں….بات کرتیں۔“
”یہ باتیں تم آج کیوں کر رہے ہو‘ اٹس بین آ ویک ناؤ۔“ وہ پر سکون تھی۔
”تو کیا کروں میں؟“وہ بے بس دکھ رہا تھا۔
”تمہیں اس کی پرواہ ہے؟“ ردابہ سنجیدہ تھی۔
”مجھے……اس کی پرواہ نہیں ہے….لیکن میں اس کو وہاں سے نکال کر لایا تھا۔ اس سے نکاح کیا تھا میں نے۔“ اس نے نکاح پر زور دیا تھا۔
”کیا یہ نکاح تمہارے لیے کوئی معنی رکھتا ہے؟“ردابہ نے اسی سنجیدگی سے کہا۔
”ماسی….بات نکاح کی نہیں ہے۔ بات اس تحفظ کی ہے جو اس گھر نے اسے دیااور لوگ کیا کہیں گے؟ میں کیا بتاؤں ان کو میری بیوی کہاں چلی گئی ہے؟“ وہ صفائی دے رہا تھا‘ اپنی پریشانی بتا رہا تھا۔نکاح کے نام پر ردابہ کی نظر حیا کے کمرے کے باہر گئی۔ وہ لاؤنج میں کھڑی ردابہ سے مخاطب تھی۔
”انسان کیسے ہمیشہ بے بس لوگوں کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔مجھے یوں در بدر کے دھکے دلوانے تھے تو وہیں چھوڑ آتا وہ مجھے۔یہاں لا کر نکاح کا تماشہ کرنے کی کیا ضرورت تھی‘ آپ اس کا حساب دیں گی اور آپکا وہ حمزہ اس کا حساب دے گا؟“ ردابہ پر سوچ نظروں سے اسے دیکھتی رہی‘یہاں تک کہ حمزہ کی آواز نے اس کا تخیل توڑا۔
”ماسی….میں آپ سے بات کر رہا ہوں۔“حمزہ نے اسے ہلایا۔
”ہاں؟“ وہ چونکی۔ ردابہ کے آنے سے حمزہ خوش تھا‘لیکن اس کاحیا کو گھر سے نکال دینا اسے بے قرار کر گیا تھا۔
”ماسی اس کا گھر نہیں ہے کوئی۔ اور…..وہ بیوی ہے میری۔“ اس نے آخری الفاظ منہ میں بڑبڑائے۔ ردابہ نے سن لیا تھا۔
”حمزہ‘ اگر کوئی تمہیں تکلیف دے گا‘میں اسے کبھی اس گھر میں برداشت نہیں کروں گی۔ شیری کو تم لائے تھے اورمیں نے ہمیشہ اسے تمہاری طرح چاہا‘کیونکہ تم اس سے پیار کرتے ہو۔“
”رہی بات حیا کی‘ اس نے تمہیں ہرٹ کیا تھا۔تم اسے ڈس لائک کر رہے تھے تو میں کیسے اسے اپنا لیتی؟ میرے بچے کو تکلیف دینے والے کو میں کیسے گھر میں رکھوں؟“ ردابہ کا لہجہ سخت ہو گیا تھا۔
”ماسی…ماسی…ماسی۔“ وہ کھڑا ہو گیا تھا۔
”ہاں میں…..میں ہی ذمہ دار ہوں‘ میرے رویے نے آپ کو مجبور کیا۔ وہ میری ذمہ داری تھی‘میں لایا تھا اسے۔“ اس کا لہجہ معمول سے مختلف تھا۔ردابہ پہلی بار اسے اپنا آپا کھوتے دیکھ رہی تھی۔وہ اپنا اکھڑتا سانس سنبھال رہا تھا۔حمزہ کی اذیت نے ردابہ کو کرب میں مبتلا کر دیا تھا۔
”میں سب کیساتھ غلط کرتا ہوں، میں سب کو مار دیتا ہوں۔“ وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں بالوں میں دھنسائے جا رہا تھا۔ پھر یک دم وہ صوفے پر بیٹھی ردابہ کی طرف جھکااور سر اس کی گود میں رکھ دیا۔ اس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ ردابہ نے دیکھی تھی۔ ردابہ نے اس کے کندھے کو پکڑ کر دبایا اور دباتی گئی، یہاں تک کہ اس کے اعصاب ڈھیلے پڑنے لگ گئے۔ وہ اس کیفیت سے باہر نکلنے لگا اور پھرا س نے سر اٹھا کر ردابہ کو دیکھا، جس کا ہاتھ فورا اپنی آنکھ پر گیا تھا، وہ اپنے آنسوپونچھ رہی تھی۔حمزہ نے آنکھیں بھینچی، لب کاٹے اور دونوں ہاتھ اپنے منہ پر مارے، جیسے اس کے چہرے پر ان دیکھے آنسو ہوں۔
ردابہ سے نظریں ملانا اس کے لیے مشکل ہو گیا تھا۔ ”میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے شاید‘ آئی ایم سوری۔“ وہ اپنے رویے پر شرمندہ تھا۔ ردابہ تڑپ کر آگے کو جھکی اورحمزہ کو گلے سے لگایا۔
”نہیں میرا بچہ‘تم کیوں سوری کر رہے ہو؟ مجھ سے ہی غلطی ہو گئی کہ تمہیں چھوڑ گئی۔“وہ اسے کبھی اپنے سینے سے لگاتی اور کبھی اس کا ماتھا چومتی۔
”ماسی….پتا نہیں وہ کہاں ہو گی‘ وہ گھر نہیں گئی۔ اگر دوبارہ وہ غلط ہاتھوں میں لگ گئی تو؟“ وہ اب بہتر دکھ رہا تھا۔
”میرا بچہ‘سب ٹھیک ہو جائے گا۔“وہ اس کے بال سہلا رہی تھی۔ ایک ہفتے بعد ردابہ نے اسے حیا کو لے کر فکر مند ہوتے دیکھا تھا۔ اس بیچ پتا نہیں وہ کیسے یہ جذبات اپنے دل میں رکھے بیٹھا تھا۔ ردابہ کو اب سمایا کی کہی باتوں پر اور یقین ہو گیا تھا۔وہ ویسا نہیں تھا جیسا سب کو نظر آرہا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

admin

admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

error: Content is protected !!